مئی ۲۰۱۹ء

جنسی ہراسانی، صنفی مساوات اور مذہبی اخلاقیات

― محمد عمار خان ناصر

’’خواتین کو گڈ مارننگ کے مسیج بھیجنا ہراسمنٹ ہے”، یہ بات ہمارے کلچر میں درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی خاتون سے بلا ضرورت بے تکلف ہونے کی خواہش کا آئینہ دار ہے جس میں مستور جنسی کشش کے پیغام کا خاتون محسوس کر لیتی ہے اور یوں یہ ایک ابتدائی نوعیت کی ’’ہراسمنٹ ” بن جاتی ہے۔ ظاہر ہے، اس میں تعلق کی نوعیت اور دیگر فوارق کے شامل ہونے سے صورت حال مختلف بھی ہو سکتی ہے، لیکن اپنے اصل سیاق وسباق میں یہ شکایت درست ہے۔ البتہ یہ بات جو ہمارے ہاں صرف حقوق نسواں کے پہلو سے کہی جا رہی ہے، مذہبی اخلاقیات میں وہی بات حیا اور طہارت نفس کے پہلو سے کہی جاتی...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۵۳)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

لغت میں کلا کا مشہور مفہوم تو شدید نفی اور زجر وردع کا ہے، اردو میں اس کے لیے ہرگز نہیں اور نہیں نہیں کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے۔ عام طور سے اس سے پہلے ایسی کوئی بات سیاق کلام میں موجود ہوتی ہے جس کی شدت کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ تاہم قرآن مجید میں بہت سے مواقع ایسے ہیں جہاں موقع کلام’’ ہرگز نہیں‘‘ کے بجائے کسی دیگر مفہوم کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ سیاق کلام میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی ہے جس کی نفی کرنے کا محل ہو۔ اس دیگر مفہوم کے بارے میں بعض ائمہ نحو کا خیال ہے کہ حقا یعنی بیشک کا مفہوم ہے، بعض کا خیال ہے کہ ای ونعم یعنی ہاں ہاں کا مفہوم ہے، اور...

قومیت بطور مذہب

― ڈاکٹر عرفان شہزاد

زیر نظر مضمون کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے آرٹیکل، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن ایک امریکی مورخ تھا۔ ایک وقت میں وہ تصورقومیت کا حامی رہا،پھر اس کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ قومیت کا تعارف: اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق...

بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی

― محمد یونس قاسمی

ماہ اپریل کے دوسرے عشرے میں امام حرم مکی الشیخ عبداللہ عواد الجہنی نے پاکستان کا دورہ کیا اور صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتوں کے علاوہ پیغام اسلام کانفرنس سمیت بعض دیگر کانفرنسوں سے خطاب کیا اورملک بھر کے مختلف علماء سے ملاقاتیں بھی کی۔ امام حرم نے۱۲ اپریل کو فیصل مسجد اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت کروائی ۔ نماز جمعہ کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام قائد اعظم آڈیٹوریم میں ’’نوجوانان امت اور عصر حاضر کے چیلنجز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔ امام حرم نے کہا کہ’’ نوجوان...

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ جنگ ملتان میں ۲۱، مارچ ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (جنگ رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے ایک ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کی تعریف کے تعین کے لیے ۷ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل بینچ نے بدھ کے روز ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کی تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ۱۹۹۷ء سے آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کون سا کیس دہشت گردی کے زمرہ میں...

تعلیمی نظام کے حوالے سے چیف جسٹس کے ارشادات

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں اضافہ کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ۷۰ سال ہو گئے ہیں لیکن وطن عزیز میں تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو دینی چاہیے تھی، ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، پاکستان میں تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم کے حوالہ سے آگاہی کی مہم چلائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پرائیویٹ اسکولوں کے معاملہ کو سن لیں اس کے بعد معاملہ حکومت کے ساتھ ہوگا۔ سرسید احمد خان کو بھی یقین تھا کہ پڑھو گے نہیں تو پیچھے رہ جاؤ گے، ہمیں تعلیم پر توجہ دینی چاہیے، تعلیم ترقی دیتی ہے...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۵)

― محمد عمار خان ناصر

حنفی اصولیین کا موقف۔ قرآن وسنت کے باہمی تعلق اور اس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ائمہ احناف کے نظریے پر خود ان کی زبانی کوئی تفصیلی بحث دستیاب ذخیرے میں امام ابوبکر الجصاص کی ’’الفصول فی الاصول‘‘ اور ’’احکام القرآن‘‘ سے پہلے نہیں ملتی۔ ائمہ احناف سے اس موضوع پر حنفی مآخذ میں جو کچھ منقول ہے، ان کی نوعیت متفرق اقوال یا مختصر تبصروں کی ہے جن سے ان کا پورا اصولی تصور اور اس کا استدلال واضح نہیں ہوتا۔ تاہم تاریخی اہمیت کے پہلو سے ان کا ذکر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ابو مقاتل حفص بن سلم السمرقندی نے امام ابو حنیفہ کا یہ قول روایت کیا ہے کہ:...

مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (١)

― مراد علوی

مولانا مودودی نے سب سے پہلے اپنا نظریہ جہاد ''الجہاد فی الاسلام" [طبع اوّل : دسمبر ١٩٣٠ء]میں پیش کیا تھا۔ جب یہ کتاب قسطوں کی صورت میں ''الجمعیۃ'' میں شائع ہو رہی تھی، اس وقت مولانا کی عمر بائیس سال اور پانچ ماہ تھی۔1 جب دارالمصنفین اعظم گڑھ سے کتاب شائع ہوئی، اس وقت مولانا کی عمر ستائیس سال کی قریب تھی۔ تاہم مولانا کی فکر اس دور ہی سے ایک نامیاتی کل نظر آتی ہے ۔ اس ضمن میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ جس وقت مولانا یہ کتاب لکھ رہے تھے، اس دور کے سیاسی منظر نامے کو ملحوظ رکھا جائے ۔ مسلمان برطانوی استعمار (١٩٤٧ء-١٨٥٨ء) کی ستم رانیوں اور سقوطِ...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter