مولانا مودودی کا تصورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (١)

مراد علوی

مولانا مودودی نے سب سے پہلے اپنا نظریہ جہاد ''الجہاد فی الاسلام" [طبع اوّل : دسمبر ١٩٣٠ء]میں پیش کیا تھا۔ جب یہ کتاب  قسطوں کی صورت میں ''الجمعیۃ'' میں شائع ہو رہی تھی، اس وقت مولانا کی عمر  بائیس سال اور پانچ ماہ تھی۔1  جب دارالمصنفین اعظم گڑھ سے کتاب شائع ہوئی، اس وقت مولانا  کی عمر ستائیس سال  کی قریب  تھی۔ تاہم  مولانا کی فکر اس  دور     ہی  سے ایک نامیاتی کل  نظر آتی ہے ۔ اس ضمن میں سب سے ضروری امر یہ ہے کہ جس وقت مولانا  یہ کتاب لکھ رہے تھے، اس دور  کے سیاسی منظر نامے کو ملحوظ  رکھا جائے ۔ مسلمان برطانوی استعمار (١٩٤٧ء-١٨٥٨ء) کی ستم رانیوں  اور سقوطِ خلافت عثمانیہ (١٩٢٣ء) کے باعث قعر مذلت میں گرفتار ہوگئے تھے، اور اس  نے ایک ایسی فضا کو وجود بخشا جس میں مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان حالات میں ایسی فکری جرات کا اظہار وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی order of being  فی الواقع بہت مضبوط اور معتدل ہو۔ تاہم مولانا  باقاعدہ تحریکِ خلافت(١٩٢٤ء-١٩١٩ء) میں بھی متحرک رہے۔2 اسی دور میں انھوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ ١٩١٩ء میں ہفت روز ''تاج'' (جبل پور) کی ذمہ داری مولانا کی سپرد کی گئی۔ ٢٦  جولائی ١٩٢٢ء کو جمعیت علماے ہند کے ہفت روزہ  اخبار ''مسلم''3 کی ادارت سنبھالی۔4  اس کے بعد الجمعیۃ کے مدیر بنے۔  5مولانا  صحافتی  دور ہی سے ایک نظامِ فکر کی تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کے لیے مولانا کے الجمعیۃ کے اداریے دیکھے جاسکتے ہیں۔6   یہ دور مولانا مودودی کی فکر کا تشکیلی دور ہے۔  تاہم اس عرصہ میں مسلمانوں کے جو حالات تھے، انھیں پیشِ نظر رکھے بغیر ''الجہاد فی الاسلام'' کا جائزہ لینا درست نہ ہوگا۔ 

بیشتر لوگ  مولانا کے تصورِ جہاد کے لیے  صرف "الجہاد فی الاسلام " ہی پر انحصار کرتے ہیں اور مولانا کی کسی رائے کے لیے ان کی ایک تحریر کو بنیاد  بنانے کی غلطی اکثر لوگوں سے سرزد ہوتی رہی ہے۔ مولانا  کے ساتھ  فکری نسبت رکھنے والے اور اختلاف رکھنے والے دونوں عموما ''الجہاد فی الاسلام" کو آخری رائے سمجھتے ہیں۔ مثلا ڈاکٹر عنایت اللہ اسد سبحانی(پ: ١٩٤٥ء) باقاعدہ طور پر مولانا کی فکر  سے منسلک  ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سبحانی صاحب کی کتاب'' جہاد اور روح جہاد''شائع ہوئی جس میں انھوں نے تین نقطہ ہائے نظر کا ذکر کیا ہے۔ پہلے نقطۂ نظر کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد کی علت کفر اور شرک ہے۔ انھوں نے  اس نقطۂ نظر کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی جرح کرکے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ رائے درست نہیں ہے۔  دوسرے نقطہ نظر کے مطابق کافر حکومتوں کا استیصال ضروری ٹھہرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اہل علم کا ذکر فرضی ناموں سے  کرتے ہیں، مثلا: ایک معروف عالم دین فرماتے ہیں، ایک بزرگ عالم دین فرماتے ہیں، اردو دنیا کے ایک بڑے دانشور فرماتے ہیں۔ تاہم  دوسرے نقطۂ نظر میں “بزرگ عالمِ دین” سے مراد مولانا مودودی ہیں۔  سبحانی صاحب نے مولانا کے موقف پر کافی شدت سے گرفت کی ہے، لیکن مولانا کی اکثر آرا ''الجہاد فی الاسلام" ہی سے نقل کی ہیں۔7   انھوں نے جس نقطۂ نظر سے اتفاق ظاہر کیا ہے، اس کو تیسرے نقطۂ نظر کے تحت بیان کیا ہے۔ تاہم مولانا مودودی کے بارے میں  ایک کتاب پر مقدمہ قائم کرنا  اس لیے درست نہیں کہ اس موضوع پر انھوں نے بعد میں بھی بہت کچھ لکھا ہے جس سے مولانا کے تصور کی تفہیم میں بہت مدد ملتی ہے۔ تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ ان تمام تحریروں کو ملاکر  ان کا در و بست پیشِ نظر  رکھ  کر کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے،اور جو نتیجہ اخذ ہوگا، وہی مولانا   کا    درست نقطۂ نظر  قرار پائے گا۔  اس سلسلے میں ڈاکٹر یوسف القرضاوی  کی نصیحت بہت اہم ہے۔ لکھتے ہیں:

"میں ہمیشہ اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ مولانا مودودی کی کسی ایک تحریر کی بنیاد پر ان کے سلسلے میں کوئی بات نہ کہی جائے،  ہم اس وقت تک ان پر کوئی حکم نہ لگائیں جب تک ان کی تمام تحریروں کو نہ دیکھ لیں۔ کیوں کہ جس بات وہ ایک جگہ مطلق انداز میں لکھتے ہیں، اسی بات کو دوسری جگہ کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط کردیتے ہیں۔ جس بات کو  وہ ایک جگہ عموم کے ساتھ لکھتے ہیں، اسی بات کو دوسری جگہ خاص کردیتے ہیں۔ جس بات کو وہ ایک خطاب میں مجمل طور پر کہتے ہیں، اسی بات کو  وہ  دوسری کتاب یا خطاب یا  تحریر میں مفصل انداز میں بیان کرتے ہیں۔8

بعض اہل علم  جو مولانا کی فکر سے متعلق ہیں  اور جنھیں مولانا سے اختلاف ہے،  بالعموم یہ غلطی کرتے ہیں ۔ ان کے بارے یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حضرات پوری فکر سے بوجوہ واقف نہیں ہوتے، لیکن  بعض اہلِ علم مولانا کی پوری فکر سے  واقفیت رکھتے ہوئے بھی صرف ایک تحریر کو بنیاد بنا کر رائے قائم کرتے ہیں۔ ان کے لیے  ڈاکٹر  یوسف القرضاوی(پ: ١٩٢٦ء) کی یہ نصیحت بھی بہت اہمیت کی حامل ہے:

"انصاف پسند قاری کا فرض یہ کہ وہ مولانا مودودی کی تحریروں کو آپس میں ملا کر  دیکھے،  اور کسی ایک تحریر یا کسی ایک زمانے کی گفتگو پر اکتفا نہ کر بیٹھے کیوں کہ بہت سی کتابیں انھوں نے تقسیم ہند سے پہلے لکھی ہیں، جب کہ پاکستان کی اسلامی ریاست وجود میں نہیں آئی تھی۔ اور مولانا بھی ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ اس وقت علامہ مودودی کی ابھرتی ہوئی جوانی تھی، جو کہ جذبات کی شدت کا زمانہ ہوتا ہے۔" 9

مغربی دنیا میں بھی مولانا  chain of terror 10 کی اہم کڑی تصور کیے جاتے ہیں۔ بعض محققین کی نظر میں مولانا کی فکرِ جہاد میں تناقض  پایا جاتا ہے۔11 علاوہ ازیں  بعض اہلِ علم کی نظر میں  مولانا کی فکرِ جہاد میں ارتقا ہوا ہے۔12 تاہم یہ بات مسلّم ہے کہ کسی مصنف کے بارے میں ایک تحریر پر بنا  کرنا  اہلِ علم کا شیوہ نہیں ہے۔  زیر نظر  تحریر میں اس تناظر میں مولانا مودودی کی فکرِ جہاد کا جائزہ لینے کی ایک نئی کوشش کی جائے گی۔  

''الجہاد فی الاسلام'' کے متعلق یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ یہ مولانا کے ابتدائی دور کی تصنیف ہے۔  چنانچہ مولانا نے خود ایک مقام پر یہ ذکر کیا ہے کہ ''الجہاد فی الاسلام'' میری ابتدائی دور کی تصنیف ہے اور بعد میں مجھے اس پر نظر ڈالنے کا موقع نہیں ملا۔ ایک ہندو نے مولانا کو لکھا کہ آپ نے ''الجہاد فی الاسلام'' میں ہندو مذہب کے بارے میں ترجموں پر انحصار کیا ہے۔ مولانا جواب میں لکھتے ہیں:

"آپ کا یہ اعتراض صحیح ہے کہ میں نے سنسکرت زبان اور ہندوؤں کی مذہبی کتابوں سے براہِ راست واقفیت کے بغیر محض یورپین ترجموں کے اعتماد پر اپنی کتاب میں ویدوں سے کیوں بحث کی۔ لیکن آپ نے اس بات کا خیال نہیں کیا  کہ ''الجہاد فی الاسلام'' بالکل میرے ابتدائی عہد کی تصنیف ہے جب مذاہب کے معاملے میں میرا رویہ پوری طرح پختہ نہیں ہوا تھا اور نہ  وہ احتیا ط طبیعت میں پیدا ہوئی تھی جو تحقیق کے لیے ضروری ہے۔ اب اگر میں اس کتاب کو دوبارہ لکھوں گا تو ہر اس چیز کی جس براہِ راست واقفیت کا موقع مجھے نہیں ہے،  از سرِ نو تحقیق کروں گا۔"13

یہی عذر پوری کتاب کے بارے میں بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ مزید یہ کہ مولانا نے جہاد پر اپنی دیگر تحریروں میں جو کچھ لکھا ہے، اس  سے بھی معلوم  ہوتا کہ مولانا  نے جس جگہ بالعموم کوئی بات لکھی ہے، دوسرے مقامات پر  اس کی تخصیص بھی کی ہے ۔ زیرِ نظر جائزے میں ہمارے پیشِ نظر سب سے اہم تحریر مولانا مودودی کی کتاب '' سود'' کا تیسرا ضمیمہ ہے جو دارالاسلام اور دارالحرب سے متعلق ہے۔  اس کے علاوہ دیگر بے شمار تحریریں ہیں جن کی روشنی میں مولانا کا تصور متعین کیا جائے گا۔

علت القتال،   بعض دیگر علما کی نظر میں

''الجہاد فی الاسلام'' میں مولانا کی فکر سے جو نتیجہ نکلتا ہے، اس کے مطابق علت القتال شوکتِ کفر ہے۔ مذکورہ کتاب میں مولانا کی نظر میں  جہاد کی غایت کفر کو نظمِ اقتدار کی سطح پر دنیا سے مکمل طور پر بے دخل کردینا ہے۔14 بیسویں صدی میں بعض اہل علم نے بھی یہی رائے  ظاہر کی ہے کہ جہاد کی علت شوکتِ کفر ہے۔ یہاں پر ہم بعض اہلِ علم کی آرا نقل کرتے ہیں۔  مولانا شبیر احمد عثمانی (١٩٤٩ء-١٨٨٧ء) سورت انفال میں مقاصدِ جہاد  کے تحت لکھتے ہیں:

یعنی کافروں کا  زور نہ رہے کہ ایمان سے روک سکیں یا مذہب حق کو دھمکی دے سکیں۔ جیسا کہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی کفار کو  غلبہ ہوا، مسلمانوں کا ایمان اور مذہب خطرہ میں پڑ گیا۔ اسپین کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ کسی طرح قوت اور موقع ہاتھ آنے پر مسلمانوں کو تباہ کیا گیا یا مرتد بنا دیا گیا۔ بہرحال جہاد وقتال کا اولین مقصد یہ ہے کہ اہلِ اسلام مامون و مطمئن ہوکر خدا کی عبادت کرسکیں اور دولت ِایمان و توحید کفار کے ہاتھوں  سے محفوظ ہو (چنانچہ فتنہ کی یہی تفسیر ابن عمر وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کتب حدیث میں منقول ہے۔15 یہ جہاد کا آخری مقصد ہے کہ کفر کی شوکت نہ رہے۔ حکم اکیلے خدا کا چلے۔ دین حق سب ادیان پر غالب آجائے۔ (ليظہرہ علی الدين كلہ) 16  خواہ دوسرے باطل ادیان کی موجودگی میں جیسے خلفائے راشدین وغیرہم کے عہد میں ہوا، یا سب باطل مذاہب کو ختم کرکے، جیسے نزول مسیح کے وقت ہوگا۔ بہرحال یہ آیت اس کی واضح دلیل ہے کہ جہاد اور قتال خواہ ہجومی ہو یا دفاعی مسلمانوں کے حق میں اس وقت تک برابر مشروع ہے جب تک یہ دو مقاصد حاصل نہ ہوجائیں۔ اسی لیے حدیث میں آگیا۔ الجہاد ماض إلی يوم القيامۃ ( جہاد کے احکام و شرائط وغیرہ کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کی جائے)۔"17

مفتی محمد تقی عثمانی (پ: ١٩٤٣ء) نے بھی بعض مقامات پر  شوکتِ کفر کو جہاد کی غایت قرار دیا ہے۔ مولانا مودودی نے "الجہاد فی الاسلام" میں ''اشاعتِ اسلام ور تلوار'' کے عنوان سے ایک باب    باندھا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو صرف دو صورتوں میں قتل کیا گیا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ اس نے کسی دوسرے انسان کو ناحق قتل کیا ہو، اور دوسرے یہ کہ اس نے زمین میں فساد پھیلایا ہو۔18 فتنہ مولانا نے ہاں بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے جس کا اصل سرچشمہ کافر حکومتیں ہیں۔ کم و بیش مفتی تقی عثمانی نے بھی یہی رائے دی ہے۔ ان کے ہاں اشاعتِ اسلام تو  بہ زور شمشیر نہیں ہوا لیکن پھر مشروعیت جہاد اور مقصدِ جہاد کا سوال اٹھتا ہے۔ تقی صاحب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جہاد کا مقصد کفر کی شوکت توڑنا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"انھوں (صلیبیوں) نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ مسلمانوں میں جہاد اس لیے مشروع کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کو زبردستی بہ زورِ شمشیر مسلمان بنایا جائے کہ یا تو مسلمان ہوجاؤ ورنہ تمھیں  ماردیں گے۔ اور یہ جہاد در حقیقت اسلام کو پھیلانے کے لیے ایک زبردستی کا ذریعہ ہے۔ اور اسی بات کو یہ کہہ کر تعبیر کیا گیا کہ " اسلام تلوار کے زور سے پھیلا'' ورنہ عقیدہ  مان کر لوگ مسلمان نہیں ہوئے۔ بڑی شدومد سے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا گیا۔ حالاں کہ اس پروپیگنڈے کی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ خود قرآن کریم کا ارشاد ہے: لا اكراہ فی الدين۔ دوسری جگہ فرمایا : فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر جہاد کا منشا لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا ہوتا تو پھر جزیہ ادا کرنے اور غلام بنانے کی شق کیوں ہوتی؟ کہ اگر مسلمان نہیں ہوتے تو جزیہ ادا کرنے کی شق خود ظاہر کررہی ہے کہ جہاد کے ذریعہ لوگوں  کو زبردستی مسلمان بنانا مقصود نہیں۔ اور مسلمانوں کی پوری تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی کہ مسلمانوں نے کسی علاقے کو فتح کرنے بعد وہاں کے لوگوں کو زبردستی مسلمان بننے پر مجبور کیا ہو بلکہ ان کو ان کے دین پر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد ان کو اسلام کی دعوت دی گئ، جو لوگ مسلمان ہوئے وہ اسی دعوت کے نتیجے میں مسلمان ہوئے اور جو مسلمان نہیں ہوئے ان کو بھی وہی حقوق دیے گئے جو ایک مسلمان کو دیے گئے۔ اس لیے یہ کہنا کہ تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلا، یا یہ کہنا کہ جہاد کا مقصد زبردستی لوگوں کو مسلمان بنانا ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔"19

اس کے بعد تقی صاحب خود سوال اٹھاتے ہیں کہ جہاد کا مقصد کیا ہے۔ ان کے ہاں بھی تقریبا وہی مقصد ہے جو مولانا شبیر احمد عثمانی نے بیان کیا۔ لکھتے ہیں:

"سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر جہاد کا مقصد کیا ہے؟ خوب سمجھ لیں جہاد کا مقصد یہ ہے کہ کفر کی شوکت کو توڑا جائے اور اسلام کی شوکت قائم کی جائے اور اللہ کا کلمہ بلند کیا جائے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس بات کو تو برداشت کرلیں گے کہ اگر تم اسلام نہیں لاتے ٹھیک ہے اسلام قبول نہ کرو، تم جانو اور تمھارا  اللہ جانے۔ آخرت میں تم سزا بھگتنا۔ لیکن تم اپنے کفر اور ظلم کے قوانین کو اللہ کی زمین پر نافذ کرو اور اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بناؤ اور ان کو اپنے ظلم اور ستم کا نشانہ بناؤ اور ان پر ایسے قوانین نافذ کرو جو اللہ کے قوانین کے خلاف ہیں اور کن قوانین کے ذریعہ فساد پھیلتا ہے۔ تو اس کی ہم تمہیں اجازت نہیں دیں گے۔ لہذا یا تو تم اسلام لے آؤ اور اگر اسلام نہیں لاتے تو پھر اپنے دین پر رہو لیکن جزیہ ادا کرو۔ اور یہ جزیہ ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اور ہمارے قانون کی بالادستی تسلیم کرو۔ اس لیے جو قانون تم نے جاری کیا ہوا ہے وہ بندوں کو بندوں کا غلام بنانے والا قانون ہے۔ ہم ایسے قانون کو جاری نہیں رہنے دیں گے۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا قانون نافذ ہوگا اور اللہ ہی کا کلمہ بلند ہوگا۔ یہ ہے جہاد کا مقصود۔"20

مولانا مودودی کے ہاں بھی ''الجہاد فی الاسلام "میں جہاد کی غایت یہی ہے۔21 تاہم مفتی  صاحب اس قسم کے خیالات کا اظہار ''فقہی مقالات'' میں بھی کیا ہے۔ یہ مقالہ دراصل ایک سوال کے جواب میں تحریر کیا گیا ہے۔  سوال کا خلاصہ مفتی صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

"آپ نےجہاد کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے، اس کا حاصل میں یہ سمجھا ہوں کہ اگر  کوئی غیر مسلم  حکومت اپنے ملک میں تبلیغ کی اجازت دے دے تو اس کے بعد اس سے جہاد کرنا جائز نہیں رہتا۔"22

اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

"اگر یہی آپ کا مقصد ہے تو احقر کو اس سے اتفاق نہیں، تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ صرف اسی کا  نام نہیں کہ غیر مسلم حکومت تبلیغ پر قانونی پابندی عائد کردے، بلکہ کسی غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پر شوکت ہونا  بہ ذات  خود دین حق کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آج دنیا میں ان کی شوکت اور دبدبہ قائم ہے، اس لیے اسی شوکت اور دبدبے کی وجہ سے ایک ایسی عالمگیر ذہنیت پیدا ہوگئ ہے جو قبول حق کے راستے میں تبلیغ  پر قانونی پابندی لگانے سے زیادہ بڑی رکاوٹ ہے۔"23

آگے شوکتِ کفر توڑنے کو جہاد کی  غایت قرار دیتے  ہیں، جس طرح ''تقریر ترمذی'' میں اسی کو جہاد کا مقصد قرار دیا تھا۔ لکھتے ہیں:

لہذا کفار کی اس شوکت کی بنا پر جو نفسیاتی مرعوبیت لوگوں میں پیدا ہوگئی ہے، وہ ٹوٹے ، قبول حق کی راہ ہم وار ہوجائے، جب تک یہ شوکت و غلبہ باقی رہے گا، لوگوں کے دل اسی سے مرعوب رہیں گے، اور دین حق کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ نہ ہوسکیں  گے۔ لہذا جہاد جاری رہے گا۔قرآن کریم کا ارشاد ہے: 

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّہ وَرَسُولُہ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّی يُعْطُوا الْجِزْيَۃ عَن يَدٍ وَہمْ صَاغِرُونَ (توبہ: ٢٩)

یہاں قتال اس وقت تک جاری رکھنے کو کہا گیا ہے جب تک کفار '' چھوٹے'' یا '' ماتحت" ہوکر جزیہ ادا نہ کریں، اگر قتال کا مقصد صرف تبلیغ کی قانونی آزادی حاصل کرنا ہوتا تو یہ فرمایا جاتا کہ "جب تک وہ تبلیغ کی اجازت نہ دے دیں" لیکن جزیہ واجب کرنا اور اس کے ساتھ ان کے صغر (زیرِ دست، ذلیل) ہونے کا ذکر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مقصد ان کی شوکت کو توڑنا ہے، تاکہ کفر کے سیاسی غلبے سے ذہن و دل پر مرعوبیت کے جو پردے پڑ جاتے ہیں، وہ انھیں اور اس کے بعد اسلام کے محاسن پر لوگوں کو کھلے دل سے غور کرنے کا موقع ملے۔" 24

مفتی صاحب کی نظر میں عہد رسالتﷺ اور عہد صحابہ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ یا صحابہ نے دوسرے ملکوں جہاد کرنے سے پہلے کوئی تبلیغی مشن بھیجا ہو اور اس بات انتظار کیا ہو کہ یہ لوگ تبلیغی کام کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔  تاہم یہاں مفتی صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی جنگوں کا خاص پہلو نظر انداز کردیا ہے، اس پر آگے تفصیل آرہی ہے۔ مزید برآں  ان کی  یہ رائے بھی درست معلوم نہیں ہوتی کہ رسول اللہ ﷺ یا صحابہ  نے دوسروں ملکوں پر جہاد کرنے سے قبل  کوئی تبلیغی مشن بھیجا ہو۔اس سلسلے میں مفتی صاحب  اپنے والد گرامی مفتی محمد شفیع (١٩٧٦ء-١٨٩٧ء)  اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی (١٩٧٤ء-١٨٩٩ء)  سے بھی دلیل پکڑتے ہیں ۔ وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لا تَكُونَ فِتْنَۃٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّہُ لِلَّهِ کی تفسیر میں مفتی شفیع صاحب نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس اور سیدنا عبداللہ ابن عمر کی آرا نقل کی ہیں،مفتی صاحب  ثانی الذکر رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔  لکھتے ہیں:

" دین کے معنی قہر و غلبہ کے ہیں، اس صورت میں تفسیر آیت کی یہ ہوگی کہ مسلمانوں کو کفار سے اس وقت تک قتال کرتے رہنا چاہیے جب تک کہ مسلمان ان کے مظالم سے محفوظ نہ ہوجائیں، اور دین اسلام کا غلبہ25 نہ ہوجائے کہ وہ غیروں کے مظالم سے مسلمانوں کی حفاظت کرسکے۔"26

مزید لکھتے ہیں:

خلاصہ اس تفسیر کا یہ ہے کہ مسلمانوں پر اعداء اسلام کے خلاف جہاد و قتال اس وقت تک واجب ہے جب تک کہ مسلمانوں پر ان کے مظالم کا فتنہ ختم نہ ہوجائے، اور اسلام کو سب ادیان پر غلبہ حاصل نہ ہوجائے ، اور یہ صورت صرف قریب قیامت میں ہوگی، اس لیے جہاد کا حکم قیامت تک جاری اور باقی رہے گا۔"27

مولانا محمد ادریس کاندھلوی بھی اسی رائے کے قائل نظر آتے ہیں، مفتی صاحب نے اپنی رائے قوی بنانے کے لیے مولانا ادریس سے بھی دلیل پکڑی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

حق جل شانہ کے اس ارشاد  وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لا تَكُونَ فِتْنَۃ  میں اسی قسم کا جہاد مراد ہے، یعنی اے مسلمانو! تم کافروں سے یہاں تک جہاد و  قتال کرو کہ کفر کا فتنہ باقی نہ رہے،  اور اللہ کے دین کو پورا غلبہ حاصل ہوجائے۔ اس آیت میں فتنہ سے کفر کی قوت اور  غلبہ مراد ہے، جب کہ دوسری آیت میں ہے: لیظھرہ علی الدین کلہ، یعنی دین کو اتنا غلبہ اور قوت حاصل ہوجائے کہ کفر کی طاقت  سے اس کے مغلوب ہونے کا احتمال باقی نہ  رہے اور دین اسلام کا کفر کے فتنہ اور خطرہ سے بالکلیہ اطمینان حاصل ہوجائے۔''28

"جہاد کی غرض و غایت'' کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:

"جہاد کے حکم سے خدا وند قدوس کا یہ ارادہ نہیں کہ یک لخت کافروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اللہ کا دین دنیا میں حاکم بن کر رہے، اور مسلمان عزت کے ساتھ زندگی بسر کریں، اور امن و عافیت کے ساتھ خدا کی عبادت اور اطاعت کرسکیں، کافروں سے کوئی خطرہ نہ رہے کہ ان کے دین میں خلل انداز ہوسکی۔  اسلام اپنے دشمنوں کے نفس وجود کا دمشن نہیں،بلکہ ان کی ایسی شوکت و حشمت کا دشمن ہے کہ جو اسلام اور اہل اسلام کے لیے خطرے کا باعث ہو۔" 29

مفتی صاحب اس تحریر میں نہایت قطعیت کے ساتھ شوکتِ کفر توڑنے کو جہاد کی غایت قرار دیتے ہیں اور تمام اکابر دیوبند کو اسی رائے کے قائل مانتے ہیں۔ اگر چہ انھوں نے استطاعت30 پر بحث کی ہے لیکن یہ زیرِ بحث علت القتال ہے، جس کے بارے میں مفتی صاحب کی رائے بالکل واضح ہے۔ پوری بحث کا خلاصہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں:

" احقر کی فہم ناقص کی حد تک جہاد کا مقصد صرف تبلیغ کی قانونی آزادی حاصل کرلینا نہیں نلکہ کفار کی شوکت توڑنا اور مسلمانوں کی شوکت قائم کرنا ہے، تاکہ ایک طرف کسی کو مسلمانوں پر بری نگاہ ڈالنے کی جرات نہ ہو، اور دوسری طرف کفار کی شوکت سے مرعوب انسان اس مرعوبیت سے آزاد ہوکرکھلے دل سے اسلام کے محاسن کو سمجھنے پر آمادہ ہوسکیں۔ یہ حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ "حفاظت اسلام" ہی کی غرض سے ہے، اس لیے بعض علما جنھوں نے جہاد کے لیے ''حفاظت '' کی تعبیر اختیار کی ہے اسی سیاق میں کی ہے، لیکن کفر کی شوکت کو توڑنا اور اسلام کی شوکت کو قائم کرنا اس "حفاظت'' کا بنیادی عنصر ہے، لہذا اس بنیادی عنصر کو اس سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ میرا خیال ہے کہ تمام اکابر علما نے جہاد کی غرض و غایت اسی کو قرار دیا ہے۔"31

تقی عثمانی صاحب نے انھی آرا  کا اظہار مولانا عبد الشکور لکھنوی کی کتاب “مختصر سیرت نبویہﷺ” پر  تبصرہ کرتے ہوئے بھی کیا ہے۔ "فقہی مقالات" میں جہاد والا مضمون  در اصل اس کتاب پر تبصرے کی ضمن میں چند سوالات کے جواب میں تحریر کیا گیا تھا۔ مولانا لکھنوی نے رسول اللہﷺ کے غزوات کو مدافعانہ قرار دیا تھا۔ مزید انھوں نے  جہاد کی مشروعیت صرف دفعِ ظلم اور حفاظت تک محدود رکھا۔ اس پر تقی عثمانی صاحب تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ان جملوں سے متشرح ہوتا ہے کہ صرف دفاعی جہاد جائز ہے، حالاں کہ جہاد کا اصل مقصد “اعلاءِ کلمۃ اللہ” ہے جس کا حاصل اسلام کا غلبہ قائم کرنا اور کفر کی شوکت کو توڑنا ہے، اس غرض کے لیے اقدامی جہاد بھی نہ صرف جائز بلکہ بسا اوقات واجب اور باعث اجر و ثواب ہے، قرآن و سنت کے علاوہ پوری تاریخِ اسلام اس قسم کے جہاد کے واقعات سے بھر پڑی ہے، غیر مسلموں کے اعتراضات سے مرعوب ہوکر خواہ مخواہ ان حقائق کا انکار یا ان میں معذرت آمیز تاویلیں کرنے سے ہمیں چنداں ضرورت نہیں، کسی فردِ واحد کو بلاشبہ کبھی بہ زورِ شمشیر مسلمان نہیں بنایا گیا اور نہ اس کی اجازت ہے، ورنہ جزیہ کا ادارہ بالکل بے معنیٰ ہوجاتا، لیکن اسلام کی شوکت قائم کرنے کے لیے تلوار اٹھائی گئی ہے، کوئی شخص کفر کی گمراہی پر قائم رہنا چاہتا ہے تو  رہے، لیکن اللہ کی بنائی ہوئی دنیا میں حکم اسی کا چلنا چاہیے، اور ایک مسلمان اسی کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے باغیوں کی شوکت توڑنے کے یے جہاد کرتا ہے۔ ہم اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے ان لوگوں کے سامنے آخر کیوں شرمائیں جن کی پوری تاریخ ملک گیری کے لیے خون ریزیوں کی تاریخ ہے، اور جنھوں نے محض اپنی خواہشات کا جہنم بھرنے کے لیے کروڑوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔"32 

اس حوالے سے "تكملۃ فتح الملہم "بھی اہم ہے۔ اس میں بھی مفتی صاحب نے سطور بالا میں ذکر کیے گئے  دلائل کا اعادہ کیا ہے۔یہ کتاب مفتی صاحب کی اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے، اس لیے اس کے مندرجات درج کرنا خالی از فائدہ نہ ہوگا۔  جہاد کے اغراض اور اہداف کے بارے میں لکھتے ہیں:

"قد ذكر العلماء للجہاد أغراضا و أہدافا. جزئيۃ كثيرۃ، نسطيع أن نضيف إليہا أغراضا جزئيۃ أخری، حسب الظروف والأحوال، ولكن الہدف الأساسي وراء تشريع الجہاد، حسب ما تدل عليہ النصوص الشرعيۃ، ہو إعزاز الإسلام، واعلاء كلمۃ اللہ، وكسر شوكۃ الكفر.''33

[ علمائے کرام نے جزوی طور پر جہاد کی مشروعیت کے کئی اغراض و اہداف ذکر کیے ہیں۔ جن میں مختلف حالات کے مطابق چند مزید جزوی اہداف و اغراض کے اضافے کی گنجائش بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن جہاد کی مشروعیت کے لیے شرعی نصوص کی روشنی میں جو بنیادی اہداف و مقاصد معلوم ہوتے ہیں، وہ اعزاز اسلام، اعلائے کلمۃ اللہ اور کفر کی شان و شوکت کا توڑ ہے۔]

بعد ازاں ان اعتراضات کا اعادہ کرتے ہیں جس کا پہلے “تقریرِ ترمذی” میں ذکر ہوچکا ہے کہ اسلام بہ زورِ شمشیر پھیلا ہے اور بہ روزِ طاقت لوگوں کو مسلمان کراتا ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں:

"والواقع أن الجہاد لم يشرع لإكراہ الناس علی قبول الإسلام، و لكنہ انما شرع لإقامۃ حكم اللہ فی الأرض ولكسر  شوكۃ الكفر والكفار، التی لم تزل فی التاریخ أقوی سبب  لشيوع الظلم، والفتنۃ والفساد، وأكبر مانع عن قبول الحق، والإصغاء إلی الدعوۃ الإسلاميۃ. ولو كان الجہاد ہدفہ الإكراہ علی الدین لما شرعت الجزيۃ لإنہاء الحرب، وإن مشروعيۃ الجزيۃ من اوضح الدلائل علی أنہ ليس إكراہا علی قبول الدين، ولم يرو فی شئ من حروب الجہاد ــــ علی كثرتہ عبر التاريخ ــــ أن أحد من الكفار  أكرہ علی قبول الإسلام بعد م افتتح المسلمون بلدا  من البلاد، وانما ترك الكفار وما يدينون بكل رحابۃ صدور، ثم جاءت الدعوۃ الإسلاميۃ  مصحوبۃ بالحجۃ والبرہان، وبالسير الفاضلۃ، والأخلاق الكريمۃ، والأعمال الجاذبۃ، فتسارع الكفار إلی الإسلام بعد اقتناعہم بحقيقتہ واستيقانہم بحسن تعليمہ، دون أن يكرھہم أحد علی ذالك. وانما شرع الجہاد لتعلو كلمۃ اللہ علی أرض اللہ، ويكون لہا العز والمنعۃ، وليكسر شوكۃ الجبارين يستعبدون عباد اللہ بأحكامہم، وقوانينہم المنبثقۃ من اراءہم، ويأبون أن يقام حكم اللہ تعالی فی أرضہ، ويشيعون بقوۃ حكمہم كل ظلم، ومنكر، وفساد." 34

[در حقیقت جہاد کی مشروعیت لوگوں سے اسلام قبول کرانے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی مشروعیت کا سبب زمین پر اللہ کے دین  کا نفاذ اور کفر کی شان و شوکت کو توڑنا کے لیے ہے، اور یہی کفر کی شان و شوکت ہی زمین میں ظلم، فتنہ اور فساد کی جڑ اور بنیادی سبب ہے۔ اسی طرح یہی کفر کا دبدبہ قبول حق میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی  ہے۔ اگر جہاد کی مشروعیت کا مقصد لوگوں کو قبول اسلام پر مجبور کرنا ہوتا، تو جنگ کے خاتمے کے لیے جزیہ کیوں جائز رکھا گیا؟ جزیہ کی مشروعیت سے صاف طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس کا  بنیادی غرض قبول اسلام پر مجبور کرنا نہیں۔ مزید یہ کہ پوری تاریخ کے اندر کبھی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں کسی شہر کو فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے کسی کافر کو زبردستی اسلام قبول کروایا ہو۔ بلکہ ہمیشہ یہی طرز عمل رہا کہ وہاں کے کافروں کو ان کے اپنے دین پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل کرنے دیا گیا ہے۔ اس کے بعد دلیل و حجت کی بنیاد پر اور کریمانہ اخلاق کے ساتھ ہی دین اسلام کی طرف دعوت کا مرحلہ آیا ہے، اور کافروں نے بغیر کسی زبردستی اور مجبوری کے محض اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اور اپنے بھر پور اطمینان کے بعد ہی اسلام کو قبول کیا ہے۔ جہاد کی مشروعیت کی اصل غرض یہی ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کا نام و نظام ہی غالب رہے، اور  اپنی ذاتی فکر نظر کی بنیاد پر قوانین بنا کر انسانوں کو اپنے جبر و تحکم کے ساتھ محکوم و مظلوم رکھنے والوں، خدا کی شریعت کا انکار کرنے اور اپنی حکمرانی کے بل بوتے پر زمین میں ظلم اور فتنہ و فساد برپا کرنے والوں کی شان و شوکت ٹوٹ جائے۔]


حواشی

  1. مولانا  کی تاریخ ِ  پیدائش ٢٥ ستمبر ١٩٠٣ء  ہے، اور ''الجمعیۃ'' میں '' الجہاد فی الاسلام'' کا پہلا مضمون ٢  فروری ١٩٢٧ء کو شائع ہوا تھا۔
  2.  خود نوشت، سید ابو الاعلیٰ مودودی، مشمولہ: نقوش آب بیتی نمبر ]مدیر: محمد طفیل، ١٩٢٣ءء- ٤ جولائی ١٩٨٦ء[( لاہور: ادارہ فروغِ اردو، جون ١٩٦٤ء)، ص ١٢٨٩
  3. ''مسلم'' میں شائع ہونے والے مضامین   ڈاکٹر محمد رفیع الدین نے مرتب کرکے پہلی جلد شائع کی ہے، جس میں ٢٦ستمبر ١٩٢٦ء تک کی تحریریں شامل  ہیں: ڈاکٹر محمد رفیع الدین فاروقی، مقالاتِ مسلم دہلی، (حیدر آباد: شان پبلی کیشنز، ٢٠١٦ء)
  4. تذکرہ  سیّد مودودی، تدوین و ترتیب: جمیل احمد رانا، سلیم منصور خالد ( لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، اپریل ٢٠٠٠ء)، ج ١، ص -١٨٣
  5. تفصیل کے لیے دیکھیے:
    مراد علوی، الجہاد فی الاسلام کے پس منظر میں!،  ماہنامہ ترجمان القرآن لاہور، ( اپریل، ٢٠١٩ء)،  ص ٨٣-٩٧
  6. ان اداریوں کو جناب خلیل احمد حامدی(١٩٩٤ء-١٩٢٩ء) نے چار مجموعوں میں مرتب کیا ہے: سیّد ابولاعلیٰ مودودی، آفتابِ تازہ (لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، ١٩٩٣ء)؛ سیّد ابولاعلیٰ مودودی، بانگِ سحر، (لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، ١٩٩٣ء)؛ سیّد ابولاعلیٰ مودودی، جلوۀ نور، (لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، ١٩٩٣ء)؛ سیّد ابولاعلیٰ مودودی، صدائے رستاخیز (لاہور: ادارہ معارفِ اسلامی، ١٩٩٣ء)
  7. محمد عنایت اللہ اسد سبحانی، جہاد اور روحِ جہاد (نئ دہلی: ہدایت پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس، ٢٠١٧ء)، ص ٧٧-٨٥
  8. یوسف القرضاوی، سیّد مودودی: مُفّکر، مُجدّد، مُصلح (منصورہ  لاہور: منشورات، اکتوبر ٢٠١٦ء) ص ١١٩
  9. ایضاََ،  ص١٣١
  10.   مغربی دنیا میں یہ تاثر عام ہے  کہ موجودہ  دور کے مسلح تحریکات کا  mater architect امام ابن تیمیہ ہیں۔ نائن الیون کمیشن رپورٹ میں بھی chain of terror میں سب سے پہلے امام ابن تیمیہ کا نام درج  ہے۔ مغربی محققین  کی دلائل کی کل کائنات یہی ہے کہ مسلح تحریکیں امام ابن تیمیہ    سے دلائل پکڑتے ہیں۔ دیکھیے:
    The 9/11 Commission report: Final report of the National Commission on Terrorist Attacks upon the United States (Washington, D.C.: National Commission on Terrorist Attacks upon the United States, 2004),  p. 50
    اس chain میں بالترتیب   ابن تیمیہ(١٣٢٨ء-١٢٦٣ء)، محمد بن عبدالوہاب(١٧٩٢ء-١٧٠٣ء)، حسن البنا(١٩٤٩ء-١٩٠٦)، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی(١٩٧٩ء-١٩٠٣ء)، سیّد قطب(١٩٦٦ء-١٩٠٦ء)، محمد عبدالسلام الفرج(١٩٨٢ء-١٩٥٤)،     عبد اللہ یوسف عزام(١٩٨٩ء-١٩٤١ء)، ایمن الزواہری(پ: ١٩٥١ء) کے نام آتے ہیں۔ تفصیل کے لیے  رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ دیکھیے:
     In Their Own Words: Voices of Jihad, Compilation and Commentary:  David Aaron, )RAND Corporation 2008(, pp. 37-70
    موجودہ دور کی مسلح تحریکیں اپنی کاروائیوں کے لیے  امام ابن تیمیہ کا فتویٰ  ماردین سے استدال کرتے ہیں۔ تاہم  یہ مختصر مضمون اس کا متحمل نہیں ہوسکتا  ،  لیکن امام ابن تیمیہ کے ساتھ مؤیدین اور مخالفین دونوں نے دیانت  دارانہ سلوک نہیں کیا۔ فتویٰ ماردین اور امام کے بعض دیگر فتاویٰ پر مزید تحقیق کے لیے دیکھیے:
    Yahya Michot, Muslims Under Non-Muslim Rule: Ibn Taymiyya (Oxford, UK: Interface Publications, 2006)
    تاہم اگرچہ یحیٰ میشو کی تحقیق میں بھی بعض سنگین مسائل موجود ہیں، لیکن مجموعی  لحاظ  اس موضوع پر اچھی کاوش ہے۔ کسی اور موقع پر اس کا بھی تنقیدی جائزہ  پیش کیا جائے گا۔
  11.   Muhammad Munr, The Law of  War and Peace in Islam: Causes and Conduct of Jihad and Non-State Actors under Islamic Law,( New York: Edwin Mellen Press,  2018), p. 100
  12. ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، اشاعتِ خاص: جہاد، کلاسیکی اور عصری تناضر میں، مارج ٢٠١٣ء، ص ٣٠٥؛ جہاد ایک مطالعہ، محمد عمار خان ناصر، لاہور: المورد ادارہ علم و تحقیق، نومبر ۲۰۱۳، ص ٣٣٤۔ عمار صاحب کی تحقیق پر آگے بحث آرہی ہے۔  
  13. سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، رسائل و مسائل (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز، نومبر ٢٠٠٢ء)، ج١، ص٢١٥
  14. سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، الجہاد فی الاسلام (لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، جون ١٩٩٦ء)، ص١١٧-١٢١
  15. مولانا مودودی کے ہاں پہلے مدافعانہ جہاد کے تحت اپنا دفاع اصل مقصود ہے لیکن اس کے بعد کہتے ہیں کہ آیا دفاع مقصود بالذات ہے یا کسی اور مقصد کے لیے۔ یہاں مولانا عثمانی کی رائے بھی کم و بیش یہی بنتی ہے کہ پہلے دین کی حفاظت اور پھر شوکتِ کفر کو پیوندِ خاک کرنا جہاد کا مقصد ہے۔
  16. اس آیت کی تفسیر میں مولانا عثمانی لکھتے ہیں:" اسلام کا غلبہ باقی ادیان پر معقولیت اور حجت و دلیل کے اعتبار سے، یہ تو ہر زمانہ میں بحمد اللہ نمایاں طور پر حاصل رہا ہے۔ باقی حکومت و سلطنت کے اعتبار سے وہ اس وقت حاصل ہوگا، جبکہ مسلمان اصول اسلام کے پوری طرح پابند اور ایمان و تقویٰ کے راہوں میں مضبوط اور جہاد فی سبیل اللہ میں چابت قدم تھے یا آئندہ ہوں گے۔ اور دین حق کا ایسا غلبہ کے باطل ادیان کو مغلوب کرکے بالکل صفحہ ہستی سے محو کردے۔ یہ نزول مسیح علیہ السلام کے بعد قرب قیامت کے ہونے والا ہے۔" (مولانا شبیر احمد عثمانی، تفسیر عثمانی (کراچی: دارالاشاعت، فروری ٢٠٠٧ء)، ج ١، ص ٨٦٥)
    اصول و فرع  اور عقائد کے اعتبار سے یہی دین سچا اور یہی راہ سیدھی ہے جو محمدﷺ لے کر آئے۔ اس دین کو اللہ نے ظاہر میں بھی سینکڑوں برس تک مذاہب پر غالب کیا اور مسلمانوں نے تمام مذاہب والوں پر صدیوں تک بڑی شان و شکوہ سے حکومت کی۔ اور آئندہ بھی دنیا کے خاتمہ کے قریب ایک وقت آنے والا ہے جب ہر طرف چہار طرف دین برحق کی حکومت ہوگی۔ باقی حجت و دلیل کے اعتبار تو دین اسلام ہمیشہ ہی غالب رہا کیا اور رہے گا۔" (تفسیر عثمانی ، ج، ٣، ص ٥١٩)
  17. تفسیر عثمانی، ج١، ص ٨١٩
  18. الجہاد فی الاسلام، ص ١٥٤
  19. مفتی محمد تقی عثمانی، تقریرِ ترمذی (کراچی: میمن اسلامک بُکس، اپریل ١٩٩٩ء)، ج٢، ص ٢٠٢
  20. ایضاََ، ص ٢٠٢-٣
  21. تفصیل کے لیے دیکھیے: الجہاد فی الاسلام، ص ٨٥-١٧٥
  22. مفتی محمد تقی عثمانی: فقہی مقالات (کراچی: میمن اسلامک پبلشرز، جنوری ١٩٩٩ء)، ج ٣، ص ٢٩٥ 
  23. ایضاََ
  24. ایضاََ، ص ٢٩٦
  25. تقی صاحب کی رائے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کفر کا غلبہ باقی رہے گا مسلمان غلبہ نہیں پاسکتے۔ دیکھیے: فقہی مقالات، ج ٣، ص ٢٩٥
  26. معارف القرآن، مفتی محمد شفیع، (کراچی: ادارۃ المعارف، اپریل ٢٠٠٨ء)،  ج ٣، ص  ٢٣٣
  27. ایضا َ ص ٢٣٤
  28. مولانا محمد ادریس کاندھلوی، سیرۃ النبیﷺ، (لاہور: مکتنہ عثمانیہ، ١٩٩٢ء)، ج ٢، ص ٤٦٨
  29. ایضاََ، ص ٤٧٠
  30. استطاعت میں بھی مفتی صاحب اور مولانا کی آرا میں  مماثلت پائی جاتی ہے۔ (الجہاد فی الاسلام، ص١٠٤۔  فقہی مقالات، ج  ٣،  ص  ٣٠١
  31. فقہی مقالات، ج  ٣،  ص  ٢٩٩
  32. ماہنامہ البلاغ، ( جون 1971ء)؛  تبصرہ بر مختصر سیرتِ نبویہﷺ از مولانا عبدالشکور لکھنوی، مفتی محمد تقی عثمانی، مشمولہ:  تبصرے، محمد تقی عثمانی، مرتب:  مولانا محمد حنیف خالدؔ  (کراچی: مکتبہ معارف القرآن، مئ 2015ء)، ص 417-18
  33. محمد تقی عثمانی، تكملة فتح الملہم بشرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج القشیري (کراچی: مکتبہ دارالعلوم کراچی، 1419ھ)، کتاب الجھاد والسیر، ج 3، ص 4
  34. ایضاََ، ص 4-5

    (باقی)

شخصیات