مولانا مودودی کا تصّورِ جہاد: ایک تحقیقی جائزہ (۲)

مراد علوی

جاوید احمد غامدی  کاموقف:

عمار خان ناصر صاحب نے ” جہاد ایک مطالعہ“ میں مولانا کی فکرِ جہاد کے بارے میں اگر چہ لکھا ہے  کہ مولانا کی فکرِ جہاد  میں ارتقا  پایا جاتا ہے،1  لیکن  آگے انھوں  نے ” الجہاد فی الاسلام“ اور ” تفہیم القرآن“ کی  تعبیرات  کو تضاد اور پریشان  خیالی سے موسوم کیا  ہے۔2  مولانا نے  ”الجہاد فی الاسلام“ میں ”مصلحانہ جہاد“  کے تصور کو جس اساس کھڑا  کیا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  جو حکومتیں غیر الٰہی بنیادوں پر کھڑی ہیں، ان  کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اس نظریے اور مولانا کی بعد کی تحریروں  میں  عمار صاحب کو  توافق اور یکسوئی نظر نہیں آرہی۔  مولانا کی تحریروں میں قانونی بحث موجود ہے، اس وجہ سے  شوکت ِ کفر  کو مولانا مودودی کا تخیل قرار دے کر ہدفِ تنقید بنا نا  انصاف کے منافی ہے۔ علت القتال کی بحث عموماََتین آرا  میں تقسیم کی جاتی ہے: شوکتِ کفر ، کفر، اور محاربہ ۔ موجودہ دور میں بیشتر لوگ مولانا کو مقدم الذکر رائے کا بانی باور کراتے ہیں۔ فقہ اسلامی میں داراالاسلام کا تصور مسلمانوں کی political theory اورpower theory  کے طور پر موجود ہے لیکن اس کا دوسرا اہم پہلو قانونی ہے، جس کے بغیر  دارالاسلام کا تصور ادھورا   رہ جاتا ہے ۔ مزید برآں اگر قانونی پہلو کو نظر انداز کردیا جائے تو الجھنوں کا  نہ ختم ہونے والا باب کھل جاتا ہے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے مقام پر آرہی ہے، یہاں صرف یہ واضح  کرنا ہے کہ نظری اور قانونی پہلوؤں کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔ مولانا مودودی کے ہاں  بھی جہاں غایت القتال شوکتِ کفر ہے، وہ نظری تناظر میں ہی ہے۔ علاوہ ازیں پچھلی بحث میں واضح کیا گیا تھا کہ بعض دوسرے  علما میں کی بھی یہی رائے ہے۔  اس کی وجہ سے زیرِ نظر حصہ جناب جاوید احمد غامدی (پ: ١٩٥١ء) کی آرا پر مشتمل ہے۔ غامدی صاحب  بھی ایک دور میں اسی نظریے کے حامل رہے ہیں۔ عمار صاحب نے اپنی  فاضلانہ تحقیق میں غامدی صاحب کی رائے نقل کرتے ہوئے ان کی ابتدائی دور کی آرا  کو بالکل نظر انداز کردیا، جب کہ  مولانا  مودودی  کے ابتدائی دور  کو پیشِ نظر  رکھ کر آخر میں اس کو تضاد اور پریشان خیالی سے تعبیر کیا ہے۔ 3

چنانچہ ” جہاد ایک مطالعہ“ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غامدی صاحب روزِ  اول  سے اسی فکر کے حامل ہیں۔   مولانا مودودی پر جو تحقیق کی گئی ہے ، اسی طرح غامدی صاحب پر ایک تحقیقی مطالعہ کی ضرورت  ہے۔  یہ تحریر اس کا  ایک کا آغاز سمجھا جائے، لیکن ایک مشکل در پیش ہے کہ   غامدی صاحب کے دونوں ادوار کی آرا  میں  واضح تضادات کو ان کے ہاں فکر ی ارتقا  سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس ” ارتقا“ کے اصول ابھی تک معلوم نہ ہوسکے کہ کس طرح فکر یکسر تبدیل ہوسکتی ہے4 ۔ مزید یہ کہ غامدی صاحب دونوں ادوار میں  قطعیت کے ساتھ کہتے رہے ہیں کہ  ” میں ہمیشہ سے یہی کہتا آرہا ہوں“۔5  فکر میں اتنی بڑی تبدیلی کے ہوتے ہوئے  یہ اصرار فی الواقع پریشان خیالی ہے۔ تاہم  ”اشراق“ کی پرانی فائلوں سے غامدی صاحب کے بعض اقتباسات پیش کیے جائیں گے، جس میں انھوں نے اسی فکر کا اظہار کیا ہے جو مولانا مودودی نے “الجہاد فی الاسلام“ میں پیش کی ہے۔  غامدی صاحب کے اس دور کی فکر اصلا مولانا مودودی ہی سے  ماخوذ نظر آتی ہے۔6   زیرِ نظر تحریر میں ہمارے پیشِ نظر صرف غامدی صاحب کی فکرِ جہاد  اورتصورِ غلبۂ دین  ہیں، اس لیے بحث  انہی   مباحث تک محدود رکھی جائے گی۔

غلبۂ دین:

غامدی  صاحب کے تصورِ غلبۂ دین اور بیسویں صدی کی اسلامی تحریکوں کے تصور میں  سرِ مو فرق نہیں، البتہ نصوص سے استدلال  اور بعض نصوص  کی تعبیر اور تشریح میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن بنیاد ی نظریہ کے ساتھ متفق ہیں۔ یعنی غامدی صاحب کو دین غالب کرنے کی تعبیر سے کوئی  اختلاف نہیں لیکن اپنی ہم عصر مسلم فکر کے ساتھ اس بات میں مختلف الخیال نظر آتے ہیں کہ غلبۂ دین کے لیے جن نصوص سے وہ  استدلال کرتے ہیں، وہ درست نہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک اس کے برعکس غلبۂ دین کے لیے دوسری قرآنی آیتیں ہیں، جو غلبۂ دین کا قرآنی مستدل ہے۔ غامدی صاحب نے اس کا اظہار ڈاکٹر اسرار احمد (٢٠١٠ء-١٩٣٢ء) کے تصورِ غلبۂ دین  پر نقد کرتے ہوئے کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

” غلبۂ دین  کے معنی، قرآن مجید کی رو سے یہی ہیں کہ مسلمانوں کا سیاسی اقتدار دینِ خداوندی کی حاکمیت کو پورے شعور اور کامل ارادے کے ساتھ تسلیم کرلے۔ زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کی بالادستی قائم ہوجائے۔ دین کے جو احکام اجتماعی زندگی میں نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں، وہ فی الواقع نافذ ہوں۔ قرآن و سنت کے خلاف ہر چیز کالعدم قرار پائے۔ نظامِ اجتماعی، اصول و فروع، ہر چیز میں نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کا تابع بن جائے اور مسلمان حکومت  اس جہاد و قتال کے لیے تیار ہوجائے جس کی غایت قرآنِ مجید میں یہ بیان کی گئ ہے کہ وہ قومیں جو دینِ حق کو اختیار کرنے سے گریزاں اور فتنہ ور فساد کے درپے ہوں، انھیں منصبِ امامت سے معزول کردیا جائے، ان کی خود مختاری ختم ہوجائے اور وہ اسلام کے پیروکاروں کے زیرِ دست بن کر رہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دین کے اس غلبہ کی جدوجہد، قرآن و سنت کی رو سے، ہر مسلمان پر اس کی استطاعت کے مطابق اور اس کی صلاحیت کے لحاظ سے بہرحال واجب ہے۔ اس حکم  کا  پہلا مرحلہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، خود مسلمان معاشرے میں دین کے نفاذ اور دوسرا مرحلہ دنیا کی قوموں پر اس کا سیاسی غلبہ کا ہے۔ پہلے مرحلے کا حکم سورۃ آلِ عمران میں بیان ہوا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:

وَلْتَكُن مِنكُمْ أُمَۃ يَدْعُونَ إِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (سورۃ آل عمران،آیت ١٠٤)

[اور تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت دے، معروف کا حکم کرے اور منکر سے روکے۔]

اس آیت میں جیسا کہ اس کے ترجمہ سے واضح ہے، مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر سے ایک گروہ کو اس کام کے لیے مقرر کریں کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلائے، برائی سے روکے اور بھلائی کا حکم دے۔ آیت میں اس کے لیے 'امر' اور 'نھی' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ اگر 'یدعون الی الخیر'  پر معطوف نہ ہوتے تو عربیت کی رو سے ان کے معنی محض وعظ و نصیحت کے بھی ہوسکتے تھے۔ لیکن  'یدعون الی الخیر ' کے  بعد 'امر بالمعروف' اور 'نھی عن المنکر' کا منشا یہی ہے کہ یہ کام اختیار و قوت کے ساتھ کیا جائے، جو ظاہر ہے، اس کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ گروہ  امت کی طرف سے سیاسی اقتدار کا حامل ہو۔ چنانچہ نبیﷺ کے بعد مسلمانوں نے اسی ارشاد کی تعمیل میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ  کا  نظام قائم کیا۔  بعد میں جب یہ خلافت منہاجِ نبوت سے ہٹ گئ تو ہمارے علما و صلحا مسلسل اسے اس راستے پر لانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس وقت دنیا کے دسیوں ممالک میں اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ان ممالک میں ان کی خلافت قائم ہے، لیکن بد قسمتی سے منہاجِ نبوت کہیں پر  بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے، قرآنِ مجید کے اس حکم کی رو سے، ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی مساعی کے ذریعے سے اسے اس راستے پر لانے کی جدوجہد کرے۔ دوسرے مرحلے کا حکم سورۃ توبہ میں آیا، قرآن کا ارشاد ہے:

قَاتِلُوا الذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللہ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرمُونَ مَا حَرمَ اللہ وَرَسُولُہ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَق مِنَ الذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتی يُعْطُوا الْجِزْيَۃ عَن يَدٍ وَھمْ صَاغِرُونَ (سورۃ توبہ،آیت  ٢٩)

[لڑو ان اہلِ کتاب سے جو نہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے، اسے حرام ٹھہراتے اور نہ دینِ حق کی پیروی کرتے ہیں۔ ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہوکر جزیہ ادا کریں اور زیرِ دست بن کر رہیں۔]

یہ آیت اپنے مدعا میں بالکل صریح ہے۔ اس میں صاف بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ دینِ خداوندی کو اپنا دین بنانے اور اس کے قوانین کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اس کا قطعا کوئی حق نہیں رکھتے کہ خدا کی زمین پر کسی جگہ بھی زمامِ اقتدار ان کے ہاتھ میں ہو۔ اہلِ ایمان، اگر اقتدار کی طاقت اور جہاد کی استطاعت رکھتے ہوں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اتمامِ حجت کے بعد ان کے خلاف جنگ کریں اور زمین کے ہر حصے  میں ان کی خود مختاری و بالادستی ختم کرکے انھیں مجبور کردیں کہ وہ نظامِ صالح کے تابع بن کر زندگی بسر کریں۔ یہی آیت ہے، جس کے حکم کی پیروی میں نبیﷺ اور صحابہ کرام نے عرب کے اہلِ کتاب اور روم و ایران کی حکومتوں کے خلاف جہاد کیا اور دینِ خداوندی کو ان کے بحر و بر اور دشت و جبل پر غالب کردیا۔ اس کا حکم، لاریب، آج بھی باقی اور قیامت تک باقی رہے گا۔ مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ہر وقت اس جہاد کے لیے تیار رہے اور اصحابِ امر جب اس کے لیے پکاریں تو زمین کے ذرے ذرے پر دینِ حق کی فرماں روائی قائم کرنے کے لیے نکل کھڑا ہو۔“7 

یہ مقدمہ دراصل غامدی صاحب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے طریقہ کار پر نقد کرتے ہوئے لکھا ہے۔ غامدی صاحب غلبۂ دین کے لیے مذکورہ دو  آیات کو اساس قرار دیتے ہیں جب کہ ڈاکٹر اسرار صاحب دیگر آیات (سورۃ صف: ٩ ، سورۃ شوریٰ: ١٣)  سے استدلال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جن آیات سے استدال کرتے ہیں، ان  کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف یہ ہے کہ یہ رسول اللہﷺ کے مشن  کے ساتھ خاص تھیں، جب کہ سطورِ بالا میں مذکور ہوا کہ غامدی صاحب کے بیان کردہ استدلال کے مطابق یہ حکم  قیامت تک باقی رہے گا۔ مذکورہ دو مراحل  کو مزید واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

” غلبۂ دین کا جو مفہوم ہم نے اوپر اس بحث کے ابتداء میں آلِ عمران آیت ١٠٤ اور توبہ ٢٩ کی رو سے بیان کیا ہے، اس میں یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ کوئی مطلق حکم نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق مسلمانوں کی اس جماعت سے ہے جو اپنے دائرہ عمل میں سیاسی خود مختاری رکھتی ہو۔“8 

ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:

”[دین کو غالب کرنے کا] فرض ہونا، بے شک قرآن و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہے۔ دین کی رو سے اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ انھیں اگر معاشرے میں سیاسی اقتدار حاصل ہو تو وہ نہ صرف یہ  کہ ساری دنیا میں میں دینِ حق کو غالب رکھیں، بلکہ پوری دنیا میں اسے غالب کرنے کی جدوجہد کریں۔“ 9

یہاں پر اصل زور جہاد میں حکمران کی اجازت پر دیا جارہا ہے ، لیکن یہ واضح ہوچکا ہے کہ  غامدی صاحب کو غلبۂ دین  کے اس بنیادی تصور کے ساتھ اتفاق ہے۔مزید برآں غامدی صاحب کو صرف غلبۂ دین کو نصب العین بنانے سے اختلاف ہے۔ غلبۂ دین  کی جدوجہد کو وہ فرض مانتے ہیں، اس کو نصب العین نہیں مانتے، لیکن یہ کوئی اتنا بڑا فرق نہیں ہے۔  غامدی صاحب پر  ایک سوال میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے  کہ آپ حکومت ِالہٰیہ کے قیام کو دین کا نصب العین نہیں سمجھتے اور اس  کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسلامی حکومت قائم کرنا10  آپ نے نزدیک ضروری نہیں ہے۔ جواب میں لکھتے ہیں:

” آپ نے میرے موقف کو بالکل غلط سمجھا۔ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد میرے نزدیک، مسلمان معاشرے کے ہر فرد پر واجب ہے اور ہر اسلامی حکومت کے لیے، میرے نزدیک، ضروری ہے کہ اگر اس کے پاس طاقت ہو تو ساری دنیا پر دین غالب کرنے کی سعی کرے۔11  میں نے صرف اس کے نصب العین ہونے کا انکار کیا ہے۔ واجاب اور نصب العین کا فرق ایسی چیز نہیں، جسے سمجھنے میں کسی کو دقت ہو۔“12 

آگے فلسفہ ہجرت کو یو ں واضح کرتے ہیں:

” قرآن و حدیث کی رو سے ہجرت یہ ہے کہ مسلمان اس مقام کو چھوڑ کر جہاں اس کے لیے دین پر قائم رہنا جان جو کھوں کا کام  بن گیا ہو، ایک ایسے مقام کی طرف منتقل ہوجائے جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل پیرا ہوسکے۔ اس حکم کی رو سے اہلِ ایمان کی جماعت کا اقتدار اگر کسی خطہ ارض میں قائم اور اس کی طرف جانے کی راہ کھلی ہو یا کسی علاقے میں آزاد مسلمان ریاست کا قیام ممکن ہو تو کافر حکومتوں کی عمل داری میں رہنا جائز نہیں ہے۔ کوئی شدید مجبوری  اور کوئی غیر معمولی عذر مانع نہ ہو تو اس صورت میں اہلِ ایمان کے لیے اللہ کا حکم یہی ہے کہ وہ دارالکفر سے ہجرت کر جائیں۔“13

غامدی صاحب نے  جہاد کو تین صورتوں میں جائز قرار دیا ہے: اولا، غیر مسلم حکومتوں کے خلاف، دفاع، انتقام، مسلمانوں کی حفاظت یا  غلبۂ  دین کی غرض سے، ثانیا، باغیوں کی سرکوبی کے لیے، اگر وہ مصالحت کے لیے تیار نہ ہو، ثالثاَ اس مسلمان حکمران کے خلاف جس نے کھلے کفر کا ارتکاب کیا ہو۔ یہاں غامدی صاحب صاحبِ اقتدار امیر کی سرپرستی میں جہاد پر بہت زور دیتے  ہیں۔ اور ان کی یہ تاکید لوگوں کو انوکھی  لگتی ہے، حالانکہ غامدی صاحب نے اسی مضمون میں ڈاکٹر اسرار صاحب پر تنقید کرتے ہوئے فقہاے کرام  ہی کے حوالے پر یہ شرط بیان کی کہ ان کے ہاں جہاد امیر کی اطاعت میں ہی کیا جاسکتا ہے۔14

کافر حکومتوں سے غامدی صاحب کی مراد:

اوپر کے سطور میں غامدی صاحب نے کافر حکومتوں کے خلاف جہاد کو جائز قرار دے چکے ہیں۔ تاہم ان کی تحریروں سے واضح ہے کہ کافر حکومتوں سے مراد کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

” سوال: جو مسلمان یورپ، امریکہ اور دوسرے غیر مسلم ممالک میں مقیم ہیں ان کو اپنے دین کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

جواب: اس سوال میں یہ بات تسلیم کرلی گئی ہے کہ مسلمان کے لیے بغیر کسی عذر کے دارالکفر میں رہنا جائز ہے، میں یہ بات واضح کردینا  چاہتا  ہوں کہ دارالاسلام قائم ہو اور اس کی طرف ہجرت کی راہ کھلی ہو، تو قرآن مجید کی رو سے کسی مسلمان کے لیے دارالکفر میں رہنا جائز نہیں ہے۔ قرآن نے بالصراحت فرمایا ہے کہ اس طرح کے لوگوں کی سزا جہنم ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ نساء کی آیت ٩٧۔ دارالمسلمین کا حکم بھی، ہمارے نزدیک یہی ہے۔ چنانچہ ہم تو ان مسلمانوں سے یہی کہیں گے کہ وہ جلد سے جلد اپنے وطن واپس آئیں۔ جہاں وہ  رہ  رہے ہیں، وہاں ان کی زندگی کا ہر لمحہ  معصیت ہے۔ جو دینی رہنما ہر دوسرے ماہ تبلیغی دورے کے لیے یورپ اور امریکہ جاتے ہیں، ان کی بے خبری پر افسوس ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کو اللہ کا یہ حکم بتانے کے بجائے انھیں دارالکفر میں اسلامی زندگی بسر کرنے کے آداب بتاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی مسلمان کے لیے غیر مسلم ممالک میں دین کی حفاظت، بالخصوص اپنی آئندہ نسل کے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ یہ بات اب وہ لوگ بھی مانتے ہیں جو پہلے اپنے قیام کو تبلیغی مشن قرار دیتے تھے۔“15

ان کے ہاں یہ بالکل واضح ہے کہ موجودہ دور میں غیر مسلم ممالک کی حیثیت دارالکفر ہی  کی ہے۔  اور اس میں رہنا گناہ اور مستوجبِ جہنم ہے۔

پاکستان کی اصولی حیثیت اور غلبۂ  دین کی  جدوجہد:

یہ واضح کیا گیا کہ غامدی صاحب غلبۂ دین کے دو مراحل میں تقسیم کرتے ہیں: دین کا غلبہ مسلم معاشرے میں اور پر پوری دنیا میں ۔ غیر مسلم ممالک میں تبلیغِ دین  کے حوالے سے غامدی صاحب کی رائے میں کافی شدت پائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ پوری دنیا میں  غلبۂ دین کا ذریعہ جہادہی  کو قرار دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

”  سوال: بعض لوگ غیر مسلموں کو دین کی تبلیغ کے لیے ان ممالک کا سفر کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: میرے نزدیک یہ بھی درست نہیں ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ پہلے دارالمسلمین کو جو ان کا وطن ہے دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کریں اور اس میں دینِ حق کا ہر شعبہ زندگی پر غالب کردیں۔ اس کے بعد صحابہ کرام کی طرح کفر کے خلاف جہاد کریں اور دنیا سے اس کا سیاسی غلبہ ختم کردیں۔ پھر دارالکفر میں رہنے والے غیر مسلموں کو اللہ کا دین پہنچائیں۔ وہ دیکھیں گے کہ ید خلون فی دین اللہ افواجا،  کا منظر ایک مرتبہ پھر ان کی نگاہوں میں پھر جائے گا ان شاءاللہ۔ دین کی تبلیغ کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ نبیﷺ اور صحابہ کرام نے اسے ہی اختیار کیا اور عرب و عجم پر دین کو غالب کردیا۔ ہم مسلمانوں کو اسی طریقے پر قائم رہنا چاہیے۔“16

جہاں مسلمانوں کو سیاسی اقتدار حاصل ہوجائے، پہلے مرحلے میں وہاں دین نافذ کریں اور اس کے بعد پوری میں اس کی تنفیذ کریں۔ اس  شرط کے مطابق پاکستان کی اصولی حیثیت واضح کرنے کے لیےذیل میں ایک تحریر نقل کی جارہی ہے جس سے اور بھی مسائل کی تنقیح ہوجاتی ہے۔غلبۂ دین  کے لیے  خطہ زمین پر اقتدار کی شرط پاکستان سے پوری ہوجاتی ہے۔ اس کے اطلاقات  اور  نکلنے والے نتائج پر مزید غور کی ضرورت ہے۔   لکھتےہیں:

”  پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا یا اسے بنانے والے یہاں ایک لادینی جمہوری ریاست قائم کرنا چاہتے تھے؟ ہم نہیں سمجھتے کہ اس بحث کے جاری رہنے سے اب کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ان رہنماؤں کے شکر گزار ہوں جنھوں نے یہ ملک ہمیں لے کردیا۔  ١٩٤٧ء  کے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک خود مختار ریاست کا قیام خود اتنا بڑا کارنامہ ہے کہ اس کے مخالفوں کی سب کاوشوں  کے باوجود مؤرخ  کا قلم  اسے  ہمیشہ خراجِ تحسین پیش کرتا رہے گا۔ رہی یہ بات کہ پھر اس ملک میں نفاذِ دین کا مطالبہ ہم کس بنا پر کریں گے؟ تو اس کے بارے میں ہمارا  نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کے لیے یہ مقدمہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں کہ یہ ملک چوں کہ اسلام کے نام پر بنا تھا، اس لیے یہاں اسلام نافذ ہونا چاہیے۔ ہمارا مقدمہ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ہونا چاہیے کہ ہم چوں کہ مسلمان ہیں اور ہمیں اس ملک میں اللہ کی عنایت اس سیاسی خود مختاری حاصل ہے، اور چوں کہ دین کا قطعی حکم ہے کہ مسلمان اگر کسی سرزمین میں سیاسی طور پر خود مختار ہوں تو وہ وہاں اسلامی قانون نافذ کریں اور اپنی حیاتِ اجتماعی کے ہر شعبہ میں احکامِ دین کو بالاتر رکھیں، اس لیے یہاں اللہ کا دین نافذ ہونا چاہیے۔ اس ملک کے اربابِ اقتدار اور سیاسی زعما  سے ہمارے  مطالبے کی بنیاد درحقیقت یہ ہے۔ ہمارے اس مطالبے کے  جواب میں ہمارے مخاطبین کے سامنے صرف تین راستے رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے مسلمان ہونے کا انکار کردیں۔ دوسرا یہ کہ وہ قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ اسلام ان سے اس بات کا تقاضا نہیں کرتا۔ تیسرا یہ کہ وہ عملا اس تقاضے کو پورا کرنے سے گریز کرتے رہیں۔ پہلی صورت میں ان کی قیادت و سیادت، ان شاءاللہ، لمحوں میں ختم ہوجائے گی۔ دوسری صورت میں ان کی ہزیمت اور بے بسی کا تماشا، اگر اللہ نے چاہا، تو زمین و آسمان دیکھیں گے۔ تیسری صورت میں ہم انہیں بتائیں گے کہ وہ اس طرح، درحقیقت، کفر کا ارتکاب کررہے ہیں۔ ان کا اسلام قیامت میں قبول نہ کیا جائے گا۔ وہ اپنے آپ کو اس آگ سے بچانے کی کوشش کریں جو دلوں تک پہنچے گی اور جس میں مجرم ستونوں کے ساتھ بندھے ہوں گے۔ وہاں ان کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ وہ اس سے نکلنا چاہیں گے، لیکن کوئی راہ نہ پائیں گے۔ وہ اس دن سے ڈریں، جس دن گریز کے سارے راستے بند اور فرار کی سب راہیں مسدود ہوجائیں گی اور قرآن اپنی اس حجت کے ساتھ ان کے سامنے آئے گا کہ:

وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللَہ فَأُوْلَئِكَ ھمُ الْكَافِرُونَ (سورۃ المائدہ، آیت 44)

[اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں، وہی کافر ہیں۔“] 17

        پاکستان کی حیثیت کو مزید واضح کرتے ہیں، جس سے  غلبۂ دین   کی جدوجہد کے لیے بیا ن کی گئی شرط کا اطلاق مزید آسان ہوجاتا ہے کہ اگر کسی خطے پر مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوجائے تو ان  کا فرض ہے کہ ساری دنیا پر دین غالب کردیں۔ یہاں پر بھی ” شہادتِ حق“ کا اعادہ کرتے ہوئے  لکھتے ہیں:

”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریاستِ پاکستان میں سیاسی خود مختاری حاصل کرلینے کے بعد یہ بہ حیثیتِ قوم ہمارا فرض ہے کہ ہم یہاں اپنے نظام پر دینِ حق کی بالادستی قائم کریں۔ اس ملک میں ہر فیصلہ جو کیا جائے اور ہر حکم دیا جائے۔ اس کے بارے میں یہ بات پہلے طے ہونی چاہیے کہ وہ قرآن  و سنت کے مطابق ہے یا نہیں اور ہر وہ فیصلہ اور ہر وہ حکم جو ہمارے لیے قرآن و سنت میں بیان ہوا ہے، اسے یہاں بہرحال نافذ قرار پانا چاہیے۔ اس قوم کی معاشرت، اس کی سیاست، اس کا قانون، اس کی تہذیب، اس کی ثقافت غرض ہر چیز کو لازما ان اصول و ضوابط کا تابع ہونا چاہیے جو اس کے لیے اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے رسول محمدﷺ کی سنت میں بیان ہوئے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو اس سرزمین میں اگر کبھی حاصل ہوگئی تو یہاں وہ انقلاب برپا ہوجائے گا، جسے اس زمانے میں بعض اہلِ علم نے ” اسلامی انقلاب“ کی اصطلاح سے تعبیر کیا ہے۔ یہ انقلاب اس ملک میں بھی برپا ہونا چاہیے اور اس کے بعد اس پوری امت میں بھی جسے ہم امتِ مسلمہ کہتے ہیں تاکہ شہادتِ حق کی جو ذمہ داری بہ حیثیت امت ہم پر عائد کی گئی ہے، وہ فی الواقع پوری ہوجائے اور قیامت  کے دن یہ امت اپنے پرودگار  کے حضور میں سرخ رو قرار پائے۔“18 

” میزان“ کے سلسلہ میں ”دینِ حق“ کے عنوان سے مضمون میں مسلمانوں سے دین کے تقاضوں کو  انفرادی اور اجتماعی کے مابین تقسیم کرتے ہیں۔  ثانی الذکر  تقاضوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

”دوسری قسم کی تقاضے یہ ہیں: ١ التزامِ جماعت ٢ سمع و طاعت ٣ ہجرت ٤ جہاد۔ دین کے یہ تقاضے اہلِ ایمان کی اس حالت سے متعلق ہیں، جب انھیں کسی سر زمین میں سیاسی خود مختاری حاصل ہوجائے۔ اس صورت میں جو پہلا حکم انھیں دیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ منتشر بھیڑ کی صورت میں نہ رہیں، بلکہ ایک منظم جماعت کی حیثیت سے اپنی ریاست کا ایک باقاعدہ نطام قائم کریں جو انھیں ہمہ وقت معروف پر قائم رکھے اور منکر سے روکنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا ارشاد ہے:

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّۃ يَدْعُونَ إِلَی الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنكَر (سورۃ آل عمران، آیت 104)

[اور تمارے اندر ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو تمھیں خیر کی دعوت دے، معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے۔]

اس طرح کی حکومت اگر قائم ہوجائے تو اہلِ ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے ساتھ وابستہ رہیں اور اس سے کسی حال میں الگ نہ ہوں۔ یہی وہ چیز ہے جسے اسلامی اصطلاح میں التزامِ جماعت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔“19

آخری تقاضے، جہاد، کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

” نبیﷺ کے بعد اب ہمارے لیے اس شہادت کا طریقہ یہ ہے کہ اہلِ ایمان پہلے اپنی ریاست میں ایک نظامِ حق عملا قائم کریں تاکہ اس کے ذریعے سے یہ حقیقت دنیا کی ہر قوم پر واضح ہوجائے کہ اسلام کیا ہے اور وہ بنی آدم سے ان کی انفرادی ور اجتماعی زندگی میں کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے عقائد و اعمال اور اس کی معاشرت و سیاست ہر چیز اس طرح لوگوں کے سامنے آجائے کہ وہ اسے آنکھوں سے دیکھ کر یہ معلوم کرلیں کہ اسلام کا باطن و ظاہر کیا ہے اور اسے  یہ حق کیوں حاصل ہے کہ صرف  وہی اس زمین پر دینِ حق قرار پائے۔ اس شہادت کے بعد اگر اہلِ کفر اس دین کو ماننے یا کم سے کم اس کی سیاسی بالادستی قبول کرلینے کے لیے تیار نہ ہوں تو حکم ہے کہ اہلِ ایمان اگر طاقت رکھتے ہوں تو ان کے خلاف جہاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

قَاتِلُوا الذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللہ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرمُونَ مَا حَرمَ اللہ وَرَسُولُہ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَق مِنَ الذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتی يُعْطُوا الْجِزْيَۃ عَن يَدٍ وَھُمْ صَاغِرُونَ (سورۃ توبہ، آیت 29)

[لڑو ان اہلِ کتاب سے جو نہ اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان لاتے، نہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ حرام ٹھہرایا ہے، اسے حرام ٹھہراتے اور نہ دینِ حق کی پیروی کرتے ہیں۔ ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ مغلوب ہوکر جزیہ ادا کریں اور زیرِ دست بن کر رہیں۔]

رسول اللہﷺ کے بعد آپ کے صحابہ نے یہ ذمہ داری اسی طرح ادا کی اور دینِ خداوندی کو اس وقت متمدن دنیا کے  ایک بڑے حصے پر غالب کردیا۔“ 20

             اُس دور کے حالات کے مطابق غامدی صاحب کی پوزیشن واضح ہے۔ اس میں اور مولانا مودودی کی  ”الجہاد فی الاسلام“میں کوئی بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ تاہم یہ واضح کردیا گیا  ہے کہ بعض حضرات کے خیال میں موجودہ دور میں  شوکتِ کفر کو علت القتال قرار دینے کے بانی مولانا مودودی ہیں، ان میں غامدی صاحب کے تلامذہ  بھی  کسی سے پیچھے نہیں۔ یہ حضرات  اپنے استاد گرامی کو مولانا مودودی کے ساتھ موازنہ میں پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ  آپ  کی فکر  درست نہیں ہے،  لیکن غامدی صاحب کو  اس باب میں مکمل طور پر  نظر انداز کردیتے ہیں کہ  کبھی وہ بھی اس فکر کے حامل رہے ہیں۔ 21  ؎

اے خانہ بر اندازِ چمن، کچھ تو اِدھر بھی


حواشی


(۱)   جہاد ایک مطالعہ، محمد عمار خان ناصر  لاہور: المورد ادارہ علم و تحقیق، نومبر ۲۰۱۳ء ص ٣٣٤

(۲)   ایضا، 392

(۳)   عمار صاحب کے علاوہ غامدی صاحب کے دیگر تلامذہ بھی غامدی صاحب کو اس معاملے میں نظر انداز کرتے ہیں کہ پچھلے دور میں ان کی کیا رائے رہی ہے۔ مولانا مودودی کی فکر کا مجموعی قانونی تجزیہ کے بجائے چند تحریروں پر انحصار کرتے ہوئے رائے قائم کی جاتی ہے، جب کہ اپنے استاد گرامی کو اس سے مستثنی قرار دیتے  ہیں۔ مثال کے طور پر آصف افتخار کا غیر مطبوعہ مقالہ  دیکھیے:

Jihad and the Establishment of Islamic Global Order: A Comparative Study of the Worldviews and Interpretative Approaches of Abu al-A'la Mawdudi and Javed Ahmad Ghamidi (MA thesis, Institute of Islamic Studies, McGill University, Montreal, 2004)

نیز دیکھیے:

Abdul Rauf, “Jihadist Ideology in Pakistan and Javed Ahmad Ghamidi’s Counter Narrative”, FWU Journal of Social Sciences, Summer 2017, Vol.11, No.1, 27-33, pp 27-33

(۴)  اگر غامدی صاحب "فکری ارتقا" کے اصول پیش کریں تو بہت ساری الجھنیں دور ہوجائیں گی۔ کسی صاحبِ علم کی آرا  میں تبدیلی آنا انہونی بات نہیں ،  لیکن جو تبدیلی غامدی صاحب کے یہاں پائی جاتی ہے، اس کواصولوں کے تحت واضح کرنا ضروری ہے۔

(۵)  اس کےلیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔ غامدی صاحب کی تقریبا ہر گفتگو میں یہ بات ہوتی ہے۔ افغان جہاد کے بارے میں غامدی صاحب اور ان کے شاگردوں  کا موقف بالکل واضح تھا۔ دیکھیے: ماہنامہ ''اشراق'' لاہور،  (مئی  ١٩٨٦ء)، ص٣١-٣٢۔ جہادِ افغانستان میں  جنرل ضیاءالحق  کی  پالیسی پر ان کی مدح  میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں: ''اشراق''( ستمبر ١٩٨٨ء)، ص ٦-٨؛  خورشید احمد ندیم، آج کا افغانستان، ''اشراق'' (ستمبر ١٩٨٩ء)، ص ٧-١٠۔ اب غامدی صاحب اس کو فساد قرار  دے کر کہتے ہیں کہ اس وقت افغان جہاد کے خلاف تنہا آواز میری تھی۔  اس میں پریشان خیالی یہ ہے کہ ایک جانب ان کے ہاں  فکر میں اتنی بڑی تبدیلی  کو  ارتقا سے موسوم کیا جاتا ہے  لیکن اس کا  اقرار  کرنے کے  بجائے  بالعکس مسلسل اصرار کررہے ہیں کہ جہادِ افغانستان فساد تھا اور  ''میری ہمیشہ سے یہ رائے رہی ہے"۔ سماء ٹی وی، غامدی کے ساتھ، ٢٨ فروری، ٢٠١٤، بہ حوالہ: نادر عقیل انصاری، صدر ضیاء الحق، افغان جہاد، اور غامدی صاحب کا ''بیانیہ، :مشمولہ سہ ماہی ''جی'' لاہور جولائی اکتوبر ٢٠١٣ء ص ١١٧؛ Islam, Jihad and Taliban، یوٹیوب پر دیکھیے، اس میں غامدی صاحب نے یہ جملہ کئی بار دہرایا ہے۔

(۶)   تقریباََ چوبیس سال کی عمر ] ١٩٧٥ء میں [میں غامدی صاحب نے ڈاکٹر ممتاز احمدکو انٹرویو د یتے ہوئے کہا  تھا کہ میں نے  تعبیرِ دین مولانا مودودی سے سیکھی نہیں ہے، لیکن مجھے اس سے اتفاق ہے۔ اگر وہ بعد میں مولانا سے الگ بھی ہوگئے لیکن شعور ی یا غیر شعوری طور پر مولانا مودودی کی فکر ہی کے زیرِ اثر رہے۔  لکھتے ہیں:

” مجھے مولانا مودودی کی تعبیرِ دین سے اتفاق ہے لیکن یہ تعبیرِ دین میں نے مولانا مودودی سے نہیں سیکھی بلکہ قرآن و حدیث کے آزادانہ مطالعہ سے براہِ راست حاصل کی ہے۔ بعد میں مولانا مودودی کی تصنیفات پڑھیں تو معلوم ہوا کہ مولانا بھی تو اسی طرح سمجھتے ہیں جیسا کہ میں نے سمجھا  ہے۔ پھر جب ان میں بھی وہی بات  دیکھی جو میں نے سمجھی تھی تو ان کے ساتھ شامل ہوگیا لیکن بعص مسائل پر مجھے مودودی صاحب سے اختلاف بھی ہے اگر چہ وہ بنیادی مسائل نہیں ہیں۔“

ممتاز احمد، دینی مدارس: روایت اور تجدید علما کی نظر میں (اسلام آباد: ایمل مطبوعات، ٢٠١٢ء) ص ٧٣

(۷)   جاوید احمد غامدی، غلبہ دین کی جدّوجہدـــ اہم مباحث، ماہنامہ اشراق لاہور، ستمبر ١٩٨٥ء، ص ٨-٩

(۸)   ایضا، ٢٣ 

(۹)   اشراق، جنوری 1988، ص 55

(۱۰)   یہ بات ذہن نشین کریں کہ غامدی صاحب جن چیزوں کو آج شریعت کہتے ہیں اس دور میں ایسا نہیں تھا، ان کی تحریروں سے واضح ہے کہ دین کے بارے میں ان کا نقطۂنظر شعوری یا غیر شعوری طور پر مولانا مودودی کے زیر اثر رہا۔

(۱۱)   استطاعت کی یہ بحث مولانا مودودی نے بالکل اسی تناظر میں اٹھائی ہے۔ دیکھیے:

سیّد ابولاعلیٰ مودودی، الجہاد فی الاسلام لاہور: ادارہ ترجمان القرآن، جون ١٩٩٦ء، ص ١٠٤

(۱۲)   ماہنامہ "اشراق " لاہورجولائی ١٩٨٦ء، ص ١٤-٢٣

(۱۳)   ماہنامہ "اشراق" لاہور ستمبر ١٩٨٥ء، ص ٢٩-٣٠

(۱۴)   ایضا، ٣٢-٣٥

(۱۵)   ماہنامہ "اشراق " لاہور  جون ١٩٨٦ء، ص ٣٢

(۱۶)   ماہنامہ اشراق، جون 1986، ص 32-33

(۱۷)  جاوید احمد غامدی، اسلام اور پاکستان،  مشمولہ       ماہنامہ اشراق لاہور اکتوبر، ١٩٨٧ء، ص ٨-٩

(۱۸)   ماہنامہ اشراق  لاہور، دسمبر ١٩٨٨ء، ص ٤

(۱۹)   جاوید احمد غامدی " حقیقتِ دین" ''مشمولہ اشراق، اکتوبر ١٩٨٨، ص ٣٠-٣١

(۲۰)   ایضاََ  ص،  ٣٤-٣٥

(۲۱)   ارتقا پر کیے گئے سوالات اپنی جگہ قائم ہیں، اگر غامدی صاحب ان کے  جوابات پیش کریں تو ان کے لیے بھی کافی آسانی ہوجائے گی، لوگ "ارتقا" کو تضاد یا پریشان خیالی کا نام نہیں دیں گے۔


شخصیات

(جون ۲۰۱۹ء)

Flag Counter