قرآن مجید اور نفس انسانی کا تزکیہ

محمد عمار خان ناصر

(فہم قرآن کے اصول ومبادی سے متعلق ایک لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو۔)


قرآن کریم نے انسانی نفس کو اور اس کی پیچیدگیوں اور مسائل کو کیسے بیان کیا ہے؟ نفس انسانی کے میلانات کی صحیح رخ پر تشکیل ہو اور وہ غلط راستے سے محفوظ ہو کر راہ راست پر آسکے، اس کے لیے ہمیں قرآن پاک سے کیا رہنمائی ملتی ہے؟ یہ آج کی گفتگو کا عنوان ہے۔ 

اگر قرآن کریم کی ساری تعلیم کو نفس انسانی کے حوالے سے ہم ملخص کرنا چاہیں تو دو تین نکات کی صورت میں اس کوبیان کیا جا سکتا ہے۔ پورے قرآن کی تعلیم کا خلاصہ کیا ہے؟ ایک تو اس کائنات سے متعلق اور اس کائنات کے مالک سے متعلق اور بطور ایک مخلوق کے خود انسان سے متعلق کچھ ایسے حقائق کی یاد دہانی اور تذکیر جن کو جاننا اور ماننا اور ان کے مطابق عمل کرنا انسان کی نجات کے لیے ضروری ہے۔ الحمد سے لے کر الناس تک آپ قرآن کے سارے مطالب کا خلاصہ نکالیں تو بنیادی نکتہ یہی ہوگا۔ انسان کو یہ بتایا جائے، اس کو یہ رہ نمائی فراہم کی جائے کہ اس دنیا اور اس کائنات سے متعلق اور خود انسان سے متعلق وہ کون سے بنیادی حقائق ہیں جن کی صحیح معرفت انسان کی نجات کے لیے، اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ حقائق جو بیان کیے گئے، ان کا مخاطب نفس انسانی ہے۔ یہ حقائق جس کو سمجھانے کے لیے بیان کیے گئے ہیں، وہ انسان یعنی نفس انسانی ہے۔ اس لیے کہ انسان اصل میں تو اس جسم کا نام نہیں ہے، اصل میں تو انسان وہ نفس ہے جس کے اندر معرفت کی، حقائق کو جاننے کی، ان کو قبول کرنے کی یا نہ کرنے کی استعداد رکھی گئی ہے۔ یہ جسم تو اس نفس کو اس دنیا میں سہولت فراہم کرنے کے لیے یا اس دنیا میں کچھ ذمہ داریاں انجام دلوانے کے لیے اس کو دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن کا بنیادی مخاطب نفس انسانی ہے۔ جتنے بھی حقائق قرآن نے بیان کیے ہیں، وہ اس نفس انسانی کے لیے بیان کیے ہیں۔ کوئی اور ان کا مخاطب نہیں ہے۔ 

دوسرا نکتہ، اگر آپ قرآن کی ساری تعلیم کو ملخص کریں تو یہ ہوگا کہ قرآن کریم میں نفس انسانی کو مخاطب کرتے ہوئے صرف حقائق بیان کرنے پر اکتفا نہیں کی گئی بلکہ ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے، ایسے دلائل و شواہد اور ایسی آیات بیان کی گئی ہیں جن سے نفس انسانی ان حقائق کو جاننے اور ان کو قبول کرنے کی طرف راغب ہو، آمادہ ہو۔ چنانچہ قرآن میں آپ کو طرح طرح کے دلائل ملیں گے، طرح طرح کی آیات ملیں گی، جو انسان کے سامنے اس لیے رکھے گئے ہیں کہ وہ ان حقائق کی طرف متوجہ ہو اور ان کو ماننے اور قبول کرنے کی طرف راغب ہو۔ قرآن نے صرف یہ نہیں بتا دیا کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے بلکہ اس نے اس کے ساتھ بے شمار شواہد، بے شمار توجہ دلانے والی چیزیں بھی انسان کے سامنے رکھی ہیں تاکہ انسان اس حقیقت کو جاننے اور ماننے کے لیے راغب ہو اور زیادہ آسانی کے ساتھ، زیادہ آمادگی کے ساتھ ان کو قبول کرے۔ 

اور تیسری چیز یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن میں نفس انسانی کا ایسا تجزیہ بھی پیش کیا ہے کہ انسان کو قبول حق سے روکنے کے جو اسباب بن جاتے ہیں، جو موانع اس میں حائل ہو جاتے ہیں اور نفس انسانی کو ان حقائق تک پہنچنے سے اور ان کو قبول کرنے سے روک دیتے ہیں، قرآن مجید نے ان موانع کا، ان پیچیدگیوں کا، ان گرہوں کا بھی پورا تجزیہ پیش کیا ہے۔ یعنی وہ کیا اسباب ہیں کہ ایک حقیقت اپنی جگہ ثابت اور برحق ہے، اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنے والے دلائل اور آیات اور شواہد ہر طرف بکھرے ہوئے پڑے ہیں، لیکن انسان پھر بھی اس حقیقت کی طرف متوجہ نہیں ہو رہا یا اس کو قبول نہیں کر رہا؟ اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن کے پیغام کا جو receiver ہے، اس کا مخاطب ہے، اس کے اندر کچھ خرابیاں اور کچھ موانع ہیں۔ تو قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی یہ بہت بڑی عنایت اور اس کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اس پوری بحث کو مکمل کرتے ہوئے اس تیسرے پہلو پر بھی بطور خاص توجہ مبذول کی ہے کہ انسان اگر حق قبول نہیں کرتا یا حق کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھالتا یا راہ راست کے موجود ہوتے ہوئے اس سے بھٹک جاتا ہے تو خود اس کے نفس کے اندر وہ کون سی خرابیاں اور کون سے عوارض اور کمزوریاں ہیں جو اس کا سبب بنتی ہیں۔ اگر انسان ان پر متنبہ ہو جائے، اپنی کمزوریوں کو سمجھ لے اور ان کمزوریوں کا مداوا کر لے تو وہ گمراہ ہونے سے، بھٹکنے سے، جادہ حق سے منحرف ہونے سے بچ جائے گا۔ میری طالب علمانہ رائے کے مطابق اگر ہم قرآن کی تعلیم کو اور اس کے پورے پیغام کو نفس انسانی کے حوالے سے سمجھنا چاہیں اور اس کا خلاصہ نکالنا چاہیں تو وہ یہ تین باتیں ہیں۔ 

وہ حقائق جن کو جاننا اور ماننا انسانی نفس کے لیے ضروری ہے دین کی تمام تعلیم، اخلاق اور شریعت کی سب باتیں ان تین نکات کے اندر آجاتی ہیں۔ یعنی، کچھ کائناتی حقائق کا تعارف قرآن کا مقصد اور موضوع ہے۔ دوسرا یہ کہ انسان ان حقائق کو جانے اور مانے لیکن تحکماً نہیں، زبردستی اور حکم کے تحت نہیں بلکہ اس کے سامنے ایسے شواہد ہوں، ایسی چیزیں ہوں جو اس کو قائل اور آمادہ کریں کہ وہ ان حقائق کو اپنے شعور کا حصہ بنائے۔ قرآن میں آپ کو جگہ جگہ جتنی آیات، جتنے شواہد تاریخ سے، کائنات سے، انسان کے نفس سے ملیں گے، وہ اصل میں اس لیے ہیں کہ نفس انسانی ان حقائق کی طرف متوجہ ہو، ان آیات اور شواہد پر غور کرے۔ اور تیسری چیز جو آپ کو قرآن میں ملے گی، وہ یہ ہوگی کہ قرآن اس پر بھی تبصرہ کرتا ہے اور اس پر اپنا ایک تجزیہ پیش کرتا ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کہ اللہ نے حق کو واضح کرنے کا پورا اہتمام کیا ہے، رسول بھیجے، انسانی فطرت میں وہ چیزیں الہام کیں، انسان کے اردگرد پوری کائنات میں وہ شواہد اور دلائل بکھیر دیے، لیکن اس کے باوجود اگر انسان متوجہ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نفس میں کچھ پیچیدگیاں ہیں، کچھ ایسے عوارض اور موانع ہیں جو اس کو روک دیتے ہیں۔ قرآن نے ان عوارض اور موانع کا ذکر کیا ہے کہ وہ کون سے عوارض ہیں، نفس کی وہ کون سی خرابیاں اور کمزوریاں ہیں جو اس کو ہدایت کی طرف متوجہ ہونے سے روک دیتی ہیں۔ 

اب اس بنیادی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کے اہم پہلوؤں پر قرآن کی روشنی میں بات کریں گے۔ 

پہلی چیز جو قرآن کریم نے بیان کی ہے، وہ یہ کہ اس نے حقائق، حق اور حق کی معرفت اور دوسری طرف نفس انسانی، ان دونوں کا باہمی تعلق واضح کیا ہے۔ نفس انسانی مکلف ہے کچھ حقائق کی معرفت کا اور ان حقائق کو بیان کرنا، ان کی وضاحت کرنا اللہ کے پیغمبروں کا اور اللہ کی کتابوں کا وظیفہ ہے۔ حق کی معرفت اور انسانی نفس یا انسانی فطرت، ان کا باہمی تعلق جو قرآن نے بیان کیا ہے، وہ بہت اہم ہے۔ قرآن کی پوری تعلیم کا اور پیغام کا بنیادی نکتہ ہے۔ اللہ کے پیغمبر یا اللہ کی کتابیں آکر انسان اسے کہتی ہیں کہ خدا کو مانو اور اس کو وحدہ لا شریک تسلیم کرو۔ یہ حقیقت جانو کہ یہ دنیا آزمائش کے لیے بنی ہے اور تم یہاں آزمائش کے لیے بھیجے گئے ہو۔ یہ وقتی مرحلہ ہے، اس کے بعد تمہیں موت آئے گی، پھر تمہیں دوبارہ اٹھایا جائے گا اور اس وقت تمہیں اپنے عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس کو مانو اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو تشکیل دو۔ اس کے ساتھ انسان کی آزادئ عمل پر کچھ پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہ یہ کرنا روا ہے اور یہ ناروا ہے، یہ جائز ہے اور یہ ناجائز ہے، یہ درست ہے اور یہ غلط ہے۔ 

قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ سب باتیں جو انسان کو بتائی جاتی ہیں، ان باتوں کی ایک بنیادی معرفت اور ان کو قبول کرنے کی ایک بنیادی استعداد اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی میں رکھی ہوئی ہے۔ اس کی تخلیق کے وقت سے، اس دنیا میں آنے سے پہلے انسان کے نفس کی اور اس کی فطرت کی ایسی تشکیل اللہ نے کی ہے کہ وہ تمام حقائق جن کی اس دنیا میں آنے کے بعد اس کو یاد دہانی کروائی جاتی ہے، انسان ان ان کی بڑی بنیادی معرفت اپنی فطرت میں ساتھ لے کر آتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم اپنی ساری تعلیم کو جو عنوان دیتا ہے، وہ ’’یاد دہانی‘‘ ہے : ھٰذَا ذِکْر، اِنَّ ھٰذِہِ تَذْکِرَۃ، اِنَّ فِی ذَلِکَ لَذِکْرٰیٰ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے ایسی چیز یاد کروانا جو انسان بھول چکا ہے۔ ایسی چیز جس سے وہ غافل ہو چکا ہے، اس کی طرف اس کو توجہ دلانا۔ تو انبیاء کوئی ایسا مطالبہ یا کوئی ایسی بات انسان کے سامنے نہیں رکھتے جس کی معرفت کی استعداد یا جس کو قبول کرنے کی استعداد بنیادی طور پر انسان کی فطرت میں نہ ہو۔ عہد الست ہمیں اسی حقیقت پر متوجہ کرتا ہے۔ اس دنیا میں آنے سے پہلے اللہ نے انسان سے یہ عہد لے لیا تھا کہ میرا اور تمہارا خالق اور مخلوق کا اور رب اور عبد کا تعلق ہے۔ اس کے تم ماننے والے ہو، معترف ہو۔ اچھائی اور نیکی اور اس کے مقابلے میں بدی اور برائی، اس کا فرق بھی انسانی فطرت میں رکھ دیا گیا۔ وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُورَھَا وَتَقوٰھَا۔سو نفس انسانی کا اور ان حقائق کا باہمی تعلق یہ ہے کہ یہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں ہیں۔ انسان قیامت کے دن اللہ سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ تیرے پیغمبر یا تیری بھیجی ہوئی کتابیں دنیا میں ہمیں کچھ باتیں سناتے تھے، لیکن وہ بڑی اجنبی سی باتیں تھیں۔ ہمارا دل، دماغ، عقل ان کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے۔ ہماری فطرت ان سے وحشت محسوس کرتی تھی، یہ عذر انسان اللہ کے سامنے نہیں پیش کر سکیں گے۔ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں اللہ کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کی طرف سے ملنے والی رہنمائی کو قبول نہیں کرتے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس کی تعلیم اور اس کے دلائل اور آیات میں کوئی نقص ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان کے نفس میں جو عوارض تھے، جو موانع تھے، ان میں سے کچھ عوارض روبہ عمل ہو جاتے ہیں جو اس کو ادھر متوجہ ہونے سے روک دیتے ہیں۔ 

اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ایک دوسری بات بھی بہت اہمیت اور بہت زور کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی کے سامنے حق بات آئے، اس کا دل اس کو قبول کرنے کی طرف راغب ہو، دل سے وہ جانے اور مانے کہ یہ حق ہے اور اس کے بعد وہ اس کو قبول نہ کرے، اس کے بعد اس کی ناقدری کرے تو ایک وہ وقت آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر انسان کے نفس کو قبول حق کی صلاحیت سے ہی محروم کر دیتے ہیں۔ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ اٰمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا فَطُبِعَ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ۔ حق واضح ہوا، اس کے دلائل انسان کے سامنے آئے، فطرت نے اس کے حق میں گواہی دی، نفس اس کو قبول کرنے کی طرف مائل ہوا، لیکن کچھ عارضی مفادات، کچھ تعصبات رکاوٹ بن گئے۔ انسان نے حق واضح ہونے کے بعد ان سے اعراض کیا، قبول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہوئے ایک آدھ دفعہ مزید موقع دیتے ہیں۔ جب انسان بار بار اس اندر رکھی ہوئی ہدایت کی ناقدری کرتا ہے، اپنے ضمیر کے ساتھ خیانت کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بطور سزا ایک وقت میں وہ استعداد ہی چھین لیتے ہیں، اسے ختم کر دیتے ہیں۔ پھر وہ قانون لاگو ہوتا ہے : خَتَمَ اللّٰہُ عَلیٰ قُلُوبِھِمْ وَعَلیٰ سَمْعِھِمْ وَعَلیٰ اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ۔ اب پیغمبر جتنی مرتبہ چاہے انذار کرے، اب اللہ نے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اب ان کے اندر حق جا ہی نہیں سکتا۔ 

تو یہ دونوں باتیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ انسان کے نفس میں اور فطرت انسانی میں اس دعوت کو قبول کرنے کی طرف ایک بنیادی رغبت اور میلان اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے۔ جب اللہ کے پیغمبر، اس کی کتابیں، یا اس کے نیک بندے دعوت دیتے ہیں تو انسان فطری طور پر اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بعض دفعہ کچھ عوارض و موانع رکاوٹ بھی بن جاتے ہیں، لیکن اب اس کے لحاظ سے انسانوں میں فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا کہ کون ہیں جنہوں نے اپنی فطرت کے ساتھ وفاداری کی اور حق کی طرف راغب ہوئے اور اس کو قبول کیا۔ کون ہیں جنہوں نے اس کے ساتھ خیانت کی، حق کے ساتھ وفاداری نہیں کی اور دوسرے راستے کی طرف چل دیے۔ 

ہم نے قرآن مجید کی روشنی میں یہ سمجھا کہ انسان نفس میں اللہ نے تقویٰ بھی رکھا ہے اور فجور بھی رکھا ہے۔ انسان کے نفس میں وہ صلاحیت بھی رکھی ہے جو اس کو حق کے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور کچھ ایسی خامیاں اور کمزوریاں بھی اس کی فطرت کا حصہ ہیں کہ جو اس میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ ان موانع اور ان عوارض کی پوری ایک فہرست ہے جو انسان کی فطرت کا حصہ ہیں۔ کسی انسان میں ایک رکاوٹ ظہور پذیر ہوتی ہے، تو دوسرے انسان میں دوسری رکاوٹ رو بہ عمل ہوتی ہے۔ ایک گروہ میں نفس کی ایک بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے، تو کسی دوسرے گروہ میں نفس کی دوسری بیماری زیادہ غالب آجاتی ہے۔ اور یہ جو نفس کی کمزوریاں ہیں، یہ دنیا میں انسانوں کو، افراد کو بھی اور مختلف گروہوں کو بھی، یا تو حق کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتیں یا حق ملنے کے بعد اور حق کو پا لینے کے بعد اس سے بہک جانے یا اس سے بھٹک جانے کا سبب بن جاتی ہیں۔ قرآن مجید میں ان سب عوارض اور موانع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چند جو بہت نمایاں عوارض ہیں، ان کا ایک مختصر تذکرہ کر لیتے ہیں۔ 

سب سے بڑی چیز جو اللہ نے نمایاں کی ہے، وہ ہے کبر، تکبر، اپنی بڑائی کا ایسا احساس جو انسان کو حق قبول کرنے سے روک دے۔ کبر، نفس کی ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ جس میں انسان کو کوئی بات قبول کرتے ہوئے اپنی خفت کا احساس ہوتا ہے۔ نفس یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ بات مان لینے سے میرا جو بڑائی کا تصور ہے یا لوگوں کی نظروں میں جو میرا بڑائی کا احساس ہے، وہ کم ہو جائے گا۔ نفس کی یہ کیفیت اس کو اس بات کی طرف متوجہ ہونے سے یا پہچان لینے کے بعد اس کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔ تکبر نفس کی وہ کیفیت ہے جس کو قرآن مجید نے سب سے زیادہ نمایاں کیا ہے۔ شیطان کا واقعہ بار بار بیان ہوا ہے، اس میں سب سے نمایاں حقیقت یہی ہے۔ شیطان کا بھی نفس ہے جیسے انسان کا نفس ہے۔ شیطان کو جو انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے، بلکہ اس کائنات میں اللہ کا سب سے بڑا مخالف ہے، اس کی گمراہی کی اور اس کے بھٹکنے کی بڑی وجہ کیا تھی؟ نفس کے اندر یہ احساس کہ خدا مجھے کہہ رہا ہے کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو، یہ تو میری شان سے فروتر ہے۔ یہی مرض اللہ تعالیٰ نے یہود کے اندر نمایاں کیا ہے۔ یہود جن کا قرآن مجید میں سب سے زیادہ تفصیلی تذکرہ ہوا ہے، ان کے اندر بھی یہ مرض سب سے زیادہ قوی اور نمایاں تھا۔ ان کے لیے یہ بات توہین کے ہم معنی تھی کہ بنی اسرائیل سے اللہ نے نبوت لے کر بنی اسماعیل کو دے دی۔ پڑھے لکھے اہل کتاب سے لے کر امیوں کو دے دی۔ ان کے تکبر نے، ان کے احساس برتری نے اس طرف آنے سے روک دیا۔ باقی بھی جتنے انبیاء کی قوموں کا اللہ نے ذکر کیا ہے، آپ دیکھیں گے کہ بڑی نمایاں بیماری ان کی یہی کبر تھا۔ انھوں نے پیغمبروں سے کہا کہ تم غریب آدمی ہو، ہم مالدار لوگ ہیں۔ اللہ کو پیغمبری اور نبوت کے لیے کیا یہی ملا تھا : لَولاَ نُزِّلَ ھٰذَا القُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَینِ عَظِیمٍ۔ مکہ اور طائف کے کسی سردار پر قرآن نازل ہونا چاہیے تھا۔ تو کبر انسانی نفس کی وہ بیماری ہے کہ حق سامنے ہوگا، روز روشن کی طرح واضح ہوگا اور اندھے کو بھی دکھائی دے رہا ہوگا، لیکن جو گروہ یا فرد اس بیماری میں مبتلا ہوگا، وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھے گا، وہ سنتے ہوئے نہیں سنے گا، اس کی عقل پر پردے پڑ جائیں گے۔ اس لیے کہ نفس نے قبول حق کی جو استعداد تھی، اس کے اوپر تکبر کا پردہ ڈال دیا ہے۔ 

دوسری چیز جس کو قرآن نے بیان کیا ہے، وہ حسد ہے۔ یہ تکبر کے ساتھ کچھ ملتی بھی ہے، لیکن اس سے کچھ مختلف پہلو بھی رکھتی ہے۔ حسد میں بھی تکبر ایک بہت بڑا نمایاں عنصر ہوتا ہے۔ حسد میں یہ چیز شامل ہوتی ہے کہ یہ چیز اصل میں تو مجھے ملنی چاہیے تھی۔ مجھے نہیں ملی اور اسے کیوں مل گئی ہے۔ تو حسد کی کیفیت انسان کے لیے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ 

ایک اور بڑی اہم چیز جو تکبر سے ہی پھوٹتی ہے، اس سے پیدا ہوتی ہے، اس کو قرآن نے بَغیًا بَیْنَھُمْ کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ انسانوں میں، افراد کے درمیان بھی اور گروہوں کے مابین بھی مسابقت ہوتی ہے، اس بات کی کہ انہیں دوسروں پر برتری حاصل ہو۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عزت، سرفرازی سے بہرہ ور ہوں۔ یہ جو چیز ہے، یہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر سرکشی کریں، ایک دوسرے پر زیادتی کریں، اور یہ چیز جب دین کے معاملے میں آجاتی ہے تو پھر فرقہ بندی اور گروہ بندی پیدا ہوتی ہے جس کا سب سے زیادہ شکار بنی اسرائیل ہوئے۔ قرآن یہ بیان کرتا ہے کہ بغیًا بینھم کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے غیر شعوری طور پر حق کی اطاعت قبول کرنے کی بجائے اپنے اپنے گروہی احساس تفاخر کو زیادہ اہمیت دی۔ ایک دوسرے کے مقابلے میں برتری جتانے کے لیے ایسی ایسی چیزیں، ایسے ایسے مسائل، ایسے ایسے مباحث ایجاد کیے اور ان کی بنیاد پر مجادلوں اور مباحثوں کا طریقہ اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں پوری امت گروہوں کے اندر تقسیم ہوگئی۔ تو بَغیًا بَیْنَھُمْ یہ انسانی نفس کی ایک اور بڑی بیماری ہے۔ 

ایک چیز جو قرآن نے خاص طور پر نصاریٰ کے حوالے سے نمایاں کی، وہ ہے غلو۔ غلو کا مطلب ہے کسی چیز کو اس کے درجے اور اس کی حیثیت سے بہت زیادہ بڑھا کر پیش کرنا یا تصور کرنا۔ جتنے بھی انحرافات اور جتنی بھی گمراہیاں دین و مذہب کے معاملے میں انسانوں نے اختیار کی ہیں، قرآن ان کی اصل نفس انسانی کے اندر پائی جانے والی کسی بیماری کو قرار دیتا ہے۔ جو بھی گمراہی پیدا ہوئی، اس کا منبع نفس انسانی کی خرابی ہے۔ یا وہ بَغیًا بَیْنَھُمْ ہوگا یا وہ تکبر کا احساس ہوگا یا وہ اور اس طرح کی کوئی چیز ہوگی۔ اس کا منبع اور اس کا سرا نفس انسانی کے کسی انحراف یا اس کے بگاڑ کے ساتھ جا ملے گا۔نصاریٰ میں جو گمراہی پیدا ہوئی، اور انھوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں جو عقائد اختیار کیے ہیں ، اس کا منبع غلو ہے۔ غلو نفس انسانی کی ایک کمزوری ہے کہ جب اس کو کسی چیز سے محبت اور عقیدت ہو، تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے درجے کو، اس کے مقام کو اس سے زیادہ بڑھا کر دکھائے، اس سے زیادہ بلند کر کے دکھائے جتنا کہ وہ ہے۔ نصاریٰ کو اسی کیفیت نفسانی کے تحت یہ بات حضرت مسیح کی شان سے فروتر محسوس ہوئی کہ لگا کہ ہم بھی اللہ کے بندے ہیں اور حضرت مسیح بھی اللہ کے بندے ہی ہیں۔ نہیں، ان کا درجہ تو زیادہ ہونا چاہیے۔ یعنی اگر ہمارے جیسے انسان ہوں تو یہ ان کی شان سے کمتر بات ہوگی۔ ان کی اس عقیدت کا یا عقیدت میں افراط کا جو نتیجہ نکلا، وہ یہ تھا کہ یہ انسان اچھے نہیں لگتے۔ ان کا الوہیت کے درجے میں کہیں کوئی مقام ہونا چاہیے۔ تو انہوں نے الوہیتِ مسیح کا عقیدہ اختیار کر لیا۔ قرآن ان کو مخاطب کر کے کہتا ہے: لاَ تَغْلُوا فِی دِینِکُمْ۔ محبت، عقیدت، اللہ کے بندوں کا احترام، ان کو جو اعزاز، شرف اللہ نے دیا ہے، اس کا اعتراف، یہ تو عین دین اور دین کی روح ہے، لیکن جب وہ عقیدت اور تعظیم حد سے آگے بڑھے گی تو غلو ہوگا۔ تو پیغمبر کو آپ اللہ کی الوہیت میں شریک کریں گے، اس ذات کو جس کی بیٹی بیٹا کچھ بھی نہیں ہے، ماں باپ کے رشتوں میں باندھیں گے اور یوں انسان کی قدر بڑھاتے بڑھاتے خدا کی عظمت اور کبریائی کو مجروح کر دیں گے۔ تَعَالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُولُ الظَّالِمُونَ عُلُوًّا کَبِیْرًا۔

اسی طریقے سے کئی اور موانع اور امراض ہیں جو انسانوں میں بہت عام ہیں۔ قرآن بھی ان کا جگہ جگہ ذکر کرتا ہے۔ مثلاً حب دنیا، حب شہوات، حب عاجلہ، یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف عنوان ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو: کَلاَّ بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَۃَ، جو فوری اور نقد کچھ فائدہ یا کچھ آسائش ملی ہوئی ہے، اس سے محبت کرتے ہو۔ زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ ۔۔۔۔ عنوان مختلف ہیں، حقیقت ایک ہی ہے کہ انسان کو جو چیز فوری اور نقد یہاں پر ملی ہوئی ہے، اس کی کشش اتنی ہے، اس کی محبت میں انسان اتنا گرفتار ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے لیے اصل فائدے کو، ابدی فائدے کو قربان کرنے پر تیار ہو جاتا ہے کہ یہ ہاتھ سے نہ جائے۔ یہ جو ملا ہوا ہے، یہ ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ اور اگر اس کے لیے اس کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جائے کہ بھئی اس کو چھوڑنا یا اس کی قربانی دینا تو اللہ کا تقاضا ہے تو وہ اس تقاضے سے جان چھڑانے کے لیے حق کا انکار کرنے پر بھی آمادہ ہو جاتا ہے۔ یہود کے جو امراض قرآن نے نمایاں کیے، ان میں ایک بہت بڑا مرض یہ بھی ہے کہ دنیا کی محبت، مال کی محبت، سیادت اور قیادت کی محبت، یہ ایسے ان کے اندر سرایت کیے ہوئے ہے کہ وہ اس کی قربانی دے کر اللہ کے رسول کی اطاعت اختیار نہیں کر، سکتے اس لیے کہ اس کے بعد مذہبی سیادت سے محروم ہونا پڑے گا۔ اور جو مذہب اور اعزاز ان کا سمجھا جا رہا تھا، اس میں انہیں دوسری صف میں آنا پڑے گا۔ کیونکہ نئی امت جو اللہ نے کھڑی کی ہے وہ تو بنی اسرائیل نہیں بلکہ بنی اسماعیل ہے۔ بنیاد دنیا کی محبت ہے اور دنیا کی محبت میں وہ ساری چیزیں یہود کے رویے میں ظاہر ہوئیں جن کا ذکر ہوا۔ 

قرآن نفس انسانی پر تبصرہ کرتے ہوئے اس طرح کے بہت سے امراض کو، اور مختلف موانع کو نمایاں کرتا ہے۔ اگر آپ ایک فہرست بنائیں تو کافی وسیع بن جائے گی۔ میں نے اختصار کے ساتھ چند پہلو آپ کے سامنے رکھے ہیں۔ 

اس ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ انسان اگر حق کا انکار کرتا ہے یا حق ملنے کے بعد اس سے منحرف ہوتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ انسانی نفس کے اندر آنے والی کوئی آلائش یا نفس کا کوئی بگاڑ یا نفس کی کوئی بے اعتدالی ہوتی ہے جس سے مغلوب ہو کر انسان نے حق کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ راستہ اختیار کر لیا جو اس خاص کیفیت میں نفس کو زیادہ پسند ہے۔ اس کیفیت سے اگر انسان کو الگ کر دیا جائے، وہ کیفیت اگر دور کر دی جائے تو وہی نفس قبول حق کے لیے تیار ہو جائے گا۔ یہ جو آلائشیں ہیں، جو امراض اور عوارض ہیں، یہ چند در چند ہیں، ان کی شکلیں مختلف ہیں۔ قرآن مجید کی ایک بڑی عنایت ہدایت کے پہلو سے یہ ہے کہ اس نے انسانی نفس کا بھی ایک گہرا اور حقیقی تجزیہ ہمارے سامنے رکھا ہے کہ اگر انسان اس پر غور کر کے اس سے رہنمائی لے تو وہ گمراہیوں سے اور ضلالتوں سے بچ سکتا ہے۔ 

ایک اور پہلو اس ضمن میں یہ ہے کہ قرآن جب انسانی نفس کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتا ہے تو نفس کو ترغیب دینے کے لیے، اس کو راغب کرنے کے لیے وہ کئی اسالیب اختیار کرتا ہے۔ ایک طرف وہ ان موانع پر روشنی ڈالتا ہے جو انسان کے نفس کو حق کی طرف متوجہ ہونے سے روک دیتے ہیں، اور دوسری طرف وہ انسانی نفس کی کچھ خصوصیات کو اور انسانی نفس کے جو کچھ امتیازات ہیں، ان کو استعمال کرتے ہوئے ان کو اپنی دعوت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ 

مثلاً یہ دیکھیں کہ انسان کا نفس جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوگا یا اس کی طرف راغب ہوگا تو بنیادی طور پر اپنی کچھ رغبتوں اور اپنی کچھ ضرورتوں کی بنیاد پر ہوگا۔ نفس انسانی بنیادی طور پر احتیاج سے عبارت ہے۔ انسان اس دنیا میں محتاج ہے۔ انسان کی پوری نفسیات کا اگر آپ تجزیہ کریں تو وہ اصل میں کچھ احتیاجات سے اور کچھ رغبات اور خواہشات سے عبارت ہے۔ انسان کو اِس چیز کی خواہش ہے، اُس چیز کی ضرورت ہے۔ پوری انسانی شخصیت، پوری انسانی نفسیات رغبتوں، احتیاجات اور خواہشات سے عبارت ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہی ایسا ہے کہ وہ محتاج اور مخلوق ہے۔ غیر محتاج تو صرف خدا کی ذات ہے۔ ایک محتاج مخلوق اپنی احتیاجات کے لحاظ سے بہت سی چیزوں کی طرف حاجت یا رغبت محسوس کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی نفس کی ان خصوصیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جب اسے دین کی دعوت پیش کی ہے، ہدایت کا راستہ دکھایا ہے تو اس دعوت اور اس تعلیم کو بھی انسان کی فطری رغبات کے ساتھ جوڑا ہے، نتھی کیا ہے۔ اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو طمع دی ہے، اس کو لالچ دیا ہے کہ اگر تم یہ راستہ اختیار کر لو گے تو اس کے نتیجے میں وہ تمہیں ساری چیزیں ملیں گی جن کی طرف تمہیں فطری طور پر رغبت ہے۔ 

منکرین مذہب اور ملحدین جو یہ کہتے ہیں کہ مذہب، خدا اور وحی، یہ چیزیں انسان کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں، وہ اس بات کو مذہب کے خلاف اپنا مقدمہ دائر کرتے ہوئے بطور دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مذہب کیا ہے؟ وہ انسان کی کمزور نفسیات کو تسکین دینے کا ایک حیلہ ہے۔ انسان کی اس دنیا میں بے شمار خواہشات پوری نہیں ہوتیں، انسان کی بے شمار رغبات ہیں جن کا اس دنیا میں پورے ہونے کا کوئی وسیلہ نہیں تو مذہب نے بڑی چالاکی سے انسان کو کہا کہ ہمارے پاس آجاؤ، ہم تمہاری تمناؤں کی تسکین کا بندوبست کر دیں گے۔ یہاں ہماری باتیں مان لو، مرنے کے بعد تمہاری یہ ساری خواہشیں پوری ہو جائیں گی۔ ہمیشہ کی زندگی چاہیے تو ہم دلوائیں گے۔ اگر بڑے بڑے محلات چاہییں تو ان کی ضمانت ہمارے پاس ہے۔ خوبصورت بیویاں اور عورتیں اور حوریں چاہییں تو ہماری طرف آجاؤ۔ تو یہ مذہب کے خلاف ایک مقدمہ بھی قائم کیا جاتا ہے کہ مذہب کی حقیقت کچھ بھی نہیں ہے۔ اصل میں انسان کی نفسیات میں جو کچھ خلا اور کمزوریاں ہیں جن کی وہ تسکین چاہتا ہے تو مذہبی لوگوں نے بڑی ہشیاری اور چالاکی سے ان ساری نفسیاتی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر ایک پورا تصور بنا دیا اور اس کے بدلے میں وہ انسان کو خرید لیتے ہیں۔ وہ اس کو تسلی اور تسکین دیتے ہیں اور ایک تصوراتی اور تخیلاتی دنیا کا تصور اس کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر اس دنیا میں انسان کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں کہ جو پابندیاں، جو قاعدے، جو ضابطے ہم بنائیں، وہ یہاں مانو، یہاں ہمارے غلام بنو، تو مرنے کے بعد تمہاری جتنی بھی خواہشات ہیں وہ، ہم پوری کر دیں گے۔ تو یہ مذہب پر ملحدین کا ایک اعتراض بھی ہے۔

بہرحال قرآن مجید انسان کو دعوت دیتے ہوئے ترغیب و ترہیب کے یہ طریقے استعمال کرتا ہے۔ جب وہ دعوت ہے دیتا ہے اللہ کے پیغمبروں کی اطاعت قبول کرنے کی، دین کو قبول کرنے کی تو سب سے بڑی ترغیب کیا بیان کرتاہے؟ جنت۔ جنت کیا ہے؟ انسان کی تمام خواہشات کا مجموعہ۔ اور ترہیب سے جب کام لیتا ہے تو کس چیز سے ڈراتا ہے؟ جہنم سے۔ جہنم کیا ہے؟ ان تمام چیزوں کا مجموعہ جن سے انسان نفرت کرتا ہے، جن سے دور ہونا چاہتا ہے۔ تو قرآن انسان کو دعوت دیتے ہوئے، نفس انسانی کو راغب کرتے ہوئے ترغیب و ترہیب کے یہ طریقے بھی استعمال کرتا ہے۔ ابدی راحتیں، ابدی نعمتیں، کبھی نہ ختم ہونے والی آسائشیں ، انسان کو اِن کی خواہش ہے، انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے۔ تو قرآن ان کے سامنے یہ تصور پیش کرتا ہے کہ یہ دعوت قبول کرو تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں مرنے کے بعد جو نئی زندگی دے گا، اس میں یہ سب راحتیں عطا کرے گا۔ 

ایک اور چیز جو آپ کو قرآن میں ترغیب کے پہلو سے بہت نمایاں ملے گی، وہ یہ ہے کہ قرآن کئی جگہ پر یہ کہتا ہے کہ یہ چیز، یہ ذمہ داری، یہ پابندی جو تمہیں بتائی گئی ہے، اس کو قبول کرو، اس کو اختیار کرو، یہ طریقہ اختیار کرو، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کے شایان ہے جن کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔ تمہیں اللہ نے اگر فضل اور برتری دی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کو اختیار کرو۔ اب دیکھیں، نفسیاتی تجزیہ آپ کریں تو انسان کے اندر اپنی برتری یا اپنی فضیلت کا احساس ایک فطری چیز ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ چیزوں میں وہ دوسروں سے برتر سمجھا جائے یا اس کو فضیلت حاصل ہو۔ یہ انسان کا فطری، نفسیاتی احساس ہے۔ قرآن مجید اس احساس کی کلی نفی نہیں کرتا۔ وہاں نفی کرتا ہے جہاں اس کے نتیجے میں کوئی غلط عمل ہو رہا ہو۔ نفی کرنے کے بجائے قرآن اسی برتری اور فضیلت کے احساس کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ تمہیں اللہ نے جو برتری دی ہے، اس کے مطابق رویہ اپناؤ۔ مثلاً دیکھیں، میاں بیوی کے باہمی حقوق وفرائض ہیں۔ میاں بیوی میں جب کوئی کشاکش ہو، نزاع ہو، کوئی لڑائی جھگڑا ہو تو قرآن مردوں سے کہتا ہے کہ تمہیں اللہ نے ایک درجہ زیادہ دیا ہے، اس درجے اور فضیلت کا تقاضا ہے کہ تمہارا برتاؤ زیادہ فراخدلی پر مبنی ہو۔ تمہارا برتاؤ زیادہ وسعت ظرفی پر مبنی ہو۔ وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ۔ اگر ایسی صورت ہے کہ آدھا مہر دینا واجب ہے تو دونوں طریقے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت اپنا حق چھوڑ دے کہ میں نہیں لیتی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرد آدھا دینے کی بجائے پورا ہی دے دے۔ قرآن اس موقع پر یہ فرماتا ہے : وَلاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ کہ یہ قربانی مردوں کو دینی چاہیے۔ آدھا بنتا ہے، لیکن پورا دے دو، کیونکہ تمہیں اللہ نے اس رشتے میں زیادہ درجہ دیا ہے۔ ویسے بھی مرد کو عورتوں پر کچھ فضیلتیں دی گئی ہیں تو برتاؤ کرتے ہوئے اس کا لحاظ کرنا چاہیے۔ اس سے قرآن کے اسلوب دعوت کا جو پہلو نمایاں ہوتا ہے ، اور یہ بڑا قیمتی اور کارآمد اصول ہے، کہ جہاں افراد کو یا گروہوں کو دوسروں کے مقابلے میں کوئی امتیاز حاصل ہو یا کسی چیز میں کوئی برتری حاصل ہو تو آپ اس برتری کو اچھے اور مثبت مقصد کے لیے موثر طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ 

انسان کے اندر جو فطری جذبات اللہ نے رکھے ہیں، دوسرے انسانوں کے ساتھ محبت ومودت کے، رشتہ داری کے، ماں باپ کے ساتھ ترحم کے، اور احترام کے، آپ دیکھیں گے کہ خاندانی معاملات سے متعلق جو شریعت ہے، اس میں اللہ تعالیٰ جگہ جگہ احکام دیتے ہوئے، ہدایات دیتے ہوئے اس فطری جذبے کو ابھاریں گے، اس کو تحریک دیں گے۔ یتیموں کے حقوق کا خیال کرو، اس لیے کہ اللہ نے تمہارے مابین رشتہ داریاں بنائی ہوئی ہیں اور وہ مقدس ہیں اور قابل احترام ہیں: وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِی تَسَآءَ لُونَ بِہِ وَالاَرْحَامَ۔ رشتے اللہ کے بنائے ہوئے ہیں، ان کا تقدس ملحوظ رکھو، حقوق کی پاسداری کرو، ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، بڑھاپے میں ان کی سختی اور تلخی کو گوارا کرو۔ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیْرًا۔ تو یہ جو انسان کے اندر دوسرے انسانوں کے لیے، خاص طور پر اپنے ماں باپ کے لیے، بہن بھائیوں کے لیے، اقرباء کے لیے فطری جذبات ہیں، قرآن دعوت دیتے ہوئے، احکام دیتے ہوئے، پابندیاں عائد کرتے ہوئے انسان کو راغب کرنے کے لیے ان جذبات سے بھی کام لیتا ہے۔ آپ اپنی زندگی میں اس کا مشاہدہ کریں۔ ہو سکتا ہے کبھی دو بھائیوں میں ایسا سخت جھگڑا ہو کہ انصاف کے اصول پر یا قانون ضابطے کے تحت صلح کا کوئی امکان ہی نہ ہو، لیکن کوئی اللہ کا بندہ، کوئی حکیم آدمی اگر ان کے رشتے کی جو نزاکت ہے، ذرا اس کی طرف متوجہ کر کے انہیں یاد دلوائے کہ تمہارا رشتہ آپس میں کیا ہے۔، تو آپ دیکھیں گے کہ رشتہ داری کا احساس اجاگر ہوا، دل تھوڑے نرم ہوئے اور لوگ بڑے سے بڑا حق بھی چھوڑ دینے پر آمادہ ہوگئے۔ تو قرآن کا سکھایا ہوا یہ اسلوب ہے۔

مدح، ثنا، اچھی تعریف انسان کو مرغوب ہے اور پسند ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن جگہ جگہ جہاں اعمال خیر کی دعوت دیتا ہے، اعمال خیر کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحِسِنِینَ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمَتَّقِینَ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ کے الفاظ میں ایسے لوگوں کی تعریف بیان کرتا ہے۔ خدا کی ابدی رضا کا حصول، اسی طرح عزت و سرفرازی کا حصول، دنیا میں اچھ رتبہ ملنا، یہ فرد کو بھی پسند ہے اور گروہوں کو بھی پسند ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ جب قرآن کریم اہل ایمان کو مشکل حالات میں ثابت قدمی کی تلقین کرتا ہے تو ان کو کہتا ہے کہ اس مرحلے کا ثابت قدمی کے ساتھ سامنا کرو۔ یسے موقع پر وہ صرف نصیحتیں نہیں کرتا بلکہ اس کے بعد انسان کو ملنے والے جو فوائد ہیں، ان کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس مرحلے سے ثابت قدمی سے گزر جاؤ تو آئندہ تمہارے لیے عزت و سرفرازی ہے۔ حکومت اور اقتدار ملے گا، آج تم مغلوب ہو تو کل غالب ہو جاؤ گے، آج تم پست ہو تو کل عزیز اور سرفراز ہو جاؤ گے۔ 

میں نے یہ چند چیزیں مثال کے طور پر ذکر کیں کہ نفس انسانی کو متوجہ کرنے کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کی جو فطری احتیاجات، ضروریات، اور خواہشات ہیں، جو جائز ہیں اور اللہ کی رکھی ہوئی ہیں، ان کو بھی اپیل کرتا ہے۔ انسان کو ترغیب دینے کے لیے ان احساسات وجذبات سے بھی کام لیتا ہے۔ میں نے بطور مثال چند باتیں ذکر کیں۔ قرآن مجید میں آپ دیکھیں گے تو بے شمار پہلو آپ کے سامنے آئیں گے۔

جو نکتہ ابھی عرض کیا گیا، اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جیسے قرآن قبول حق پر مرتب ہونے والے فوائد کا ذکر کرتا ہے، چاہے اس دنیا میں ہوں یا آخرت میں، اسی طرح قبول نہ کرنے کی صورت میں جو نقصانات آنے والے ہیں، قرآن ان کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ جہنم اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ اگر یہ نہیں کرو گے تو کتنے دن جی لو گے؟ اس کے بعد ہمیشہ کی آگ اور دوزخ ہے، اور اس دنیا میں بھی ضرر اور نقصان وابستہ ہے۔ قبول حق سے اعراض پر انسان کو اس دنیا میں بھی جو خسارہ اور نقصان ہونے والا ہے، قرآن اس بھی اس کو جگہ جگہ نمایاں کرتا ہے۔ 

آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں اہل ایمان کو ایمان اور عمل صالح کے تقاضے پورے کرنے کے لیے جو ایک بڑی آزمائش درپیش تھی، وہ یہ تھی کہ اسلام کے آنے سے پہلے ان کے مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ بڑے قریبی تعلقات اور روابط قائم تھے۔ مشرکین کے ساتھ، یہود و نصاریٰ کے ساتھ، مدینہ کے منافقین کے ساتھ ان کی دوستیاں تھیں۔ اب اس نئی صورت حال میں ایمان یہ تقاضا کر رہا تھا کہ مسلمان ان تعلقات کو ختم کریں، ان تعلقات پر نظر ثانی کریں اور معاشرتی وگروہی تعلقات کو ایک نئی بنیاد پر استوار کریں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ تھا کہ قرآن کی کئی سورتیں آپ کو اس موضوع پر ملیں گی۔ کہیں منافقین کا مسئلہ زیر بحث ہے، کہیں یہود و نصاریٰ زیر بحث ہیں، کہیں مشرکین زیر بحث ہیں۔ قرآن بتا رہا ہے، سمجھا رہا ہے، آمادہ کر رہا ہے کہ ان کے ساتھ دوستیاں قائم نہ کرو، یہ ایمان کے منافی ہے، عمل صالح کے منافی ہے۔ اب یہاں آپ دیکھیں گے کہ قرآن اس بات کو جہاں خدا کے ایک مطالبے کے طور پر بیان کر رہا ہے، وہاں اہل ایمان کو اس طرح بھی متنبہ کرتا ہے کہ دیکھو، تمہیں ان کی دوستی کا شوق چڑھا ہوا ہے، لیکن یہ تمہارے دوست نہیں ہیں۔ ان کو جب موقع ملے گا، تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ لاَ یَألُونَکُمْ خَبَالًا، وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ اور بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ۔ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں، تمہارے دوست نہیں ہیں۔ اِنَّ مِنْ اَزْوَاجکُمْ وَاَولَادِکُمْ عَدُوًّا لَّکُمْ۔ تم جنہیں دوست اور رشتہ دار سمجھتے ہو، حقیقت میں تمہارے دشمن ثابت ہوں گے۔ تو یہ بھی اسی نکتے کا ایک پہلو ہے جو میں نے عرض کیا کہ قرآن جب انسان کو دعوت دیتا ہے تو ترغیب و ترہیب میں ان سب چیزوں سے وہ فائدہ اٹھاتا ہے، ان سے کام لیتا ہے جو انسان کو اور نفس انسانی کو کسی راستے پر لانے کے لیے یا کسی راستے سے دور ہٹانے کے لیے موثر اور مددگار ہو سکتی ہیں۔

قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک طالب علم کے طور پر ایک نکتہ یہ بھی آپ کے سامنے ہونا چاہیے کہ نفس انسانی کو دو الگ الگ سطحوں پر عوارض لاحق ہوتے ہیں اور قرآن ان دونوں کو موضوع بناتا ہےؒ نفس انسانی کے تزکیہ یعنی اس کو پاک صاف بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس کی حق کی معرفت اور اس کو قبول کرنے کی استعداد زنگ آلود نہ ہو اور دوسرا یہ کہ حق کی معرفت کے بعد اپنے عمل کو اس کے مطابق ڈھالنے کے لیے بھی وہ پوری طرح تیار ہو۔ تزکیہ نفس یہی ہے کہ انسان صحیح حقائق کو جانے اور جاننے کے بعد اپنے عمل کو، اپنے رویے کو، اپنی روز مرہ زندگی کو، اپنے معاملات کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ صرف ایمان لے آنا کافی نہیں، عمل صالح بھی ضروری ہے۔ جو انسان یہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں ، وہ کامیاب ہیں۔ اب نفس انسانی کو ان دونوں سطحوں پر عوارض سے واسطہ پیش آتا ہے۔ یا تو نفس پر آلائشوں کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انسان قبول حق سے ہی محروم رہ جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن نے اپنی تعلیم کا اور اپنی گفتگو کا ایک بہت بڑا حصہ ایسے لوگوں پر مرکوز کیا ہے جن کے لیے نفسانی خواہشات یا نفسانی آلائشیں سرے سے حق کی معرفت میں ہی رکاوٹ بن جاتی ہیں، قبول حق کے لیے ہی مانع بن جاتی ہیں۔ اس کے بعد جو دوسری بڑی آزمائش نفس انسانی کو درپیش ہوتی ہے، وہ یہ کہ حق کو شعوری طور پر قبول تو کر لیتا ہے، لیکن ایمان لے آنے کے بعد عمل صالح اختیار کرنے میں بھی انہی تمام عوارض کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی کلام کا اور اپنی تعلیم کا ایک بہت بڑا حصہ اس دوسرے گروہ کے لیے بھی خاص کیا ہے جو ایمان لے آئیں اور فرمانبرداری قبول کر لیں۔ تزکیہ نفس کا ایک امتحان ان کو بھی درپیش ہے۔ اب زندگی کو منشائے خداوندی کے مطابق ڈھالنے کے لیے انہیں مزید کچھ قربانیاں دینی ہیں، کچھ پابندیاں اختیار کرنی ہیں اور اس میں جو نفسانی مشکلات ہیں، جو نفس کے عوارض ہیں، ان سے نبرد آزما ہونا ہے۔ ان کے لیے بھی تزکیہ نفس کا ایک پورا نصاب اور ایک پورا ضابطہ اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ 

اس کا سب سے بڑا حصہ وہ ہے جس کو ہم ’’شریعت‘‘ کہتے ہیں۔ شریعت ساری کی ساری انسان کے نفس کا تزکیہ ہے۔ وہ اگر عبادات کی صورت میں ہے تو انسان کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر خاندانی معاملات کی صورت میں ہے تو وہاں انسان کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر تجارت، معیشت اور مالی معاملات سے متعلق ہے تو وہاں انسان کا تزکیہ کرتی ہے۔ وہ اگر معاشرے میں عدل، انصاف اور اس طرح کے معاملات سے متعلق ہے تو وہاں انسان کا تزکیہ کرتی ہے۔ اس لیے کہ ساری شریعت دراصل آپ کے سامنے وہ طریقہ رکھ رہی ہے جس کو اختیار کرنا اچھے اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں کا تقاضا ہے، اور جن کو انسان اپنی کسی نفسانی خواہش کے زیر اثر پامال کردیتا ہے۔ بیوی سے بدسلوکی، بچوں سے بدسلوکی، ماں باپ سے بدسلوکی، یا ماں باپ کی حق تلفی، یہ ساری چیزیں کیوں وقوع پذیر ہوں گی؟ کیونکہ انسان کا نفس عدل پر، انصاف پر اور حقوق کی ادائیگی پر آمادہ نہیں ہوگا۔ معاملات میں کمی بیش کیوں ہوتی ہے؟ جب مال کی محبت میں انسان دوسرے کی حق تلفی کرے گا، دوسرے کا حق چھینے گا، دھوکہ دے گا، خیانت کرے گا۔ تو شریعت آکر پوری ضابطہ بندی کرتی ہے اور ساتھ ساتھ انسان کو متوجہ کرتی جاتی ہے کہ اگر تم اللہ کی نظر میں پسندیدہ انسان بننا چاہتے ہو، اچھے اور با اخلاق انسان بننا چاہتے ہو تو اس لائحہ عمل کی پابندی کرو۔ اسی طرح عبادات کے متعلق ہم جانتے ہی ہیں کہ نماز کیسے انسان کا تزکیہ کرتی ہے، زکوٰۃ انسان کے مال کو پاکیزہ بناتی ہے، روزہ کیسے انسان کی خواہشات کو اور ان کا جو بے قابو ہونا ہے، کیسے اس کو اعتدال کے اندر لاتا ہے۔ تو شریعت تمام دائروں میں انسان کی تہذیب نفس کا، اس کے تزکیہ نفس کا ایک بہت بڑا اور بنیادی ذریعہ ہے۔ 

نفس انسانی کے تزکیے کا ایک اور پہلو بھی اللہ نے قرآن میں واضح کیا ہے جس کا بندوبست اللہ نے تکوینی طور پر کیا ہوا ہے، اور وہ ہے انسانی زندگی میں مصائب ، آزمائشوں اور مشکلات کا آنا۔ یہ انسان کے تزکیے کا ایک مستقل ذریعہ ہے جو اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ شریعت کی پابندی کرنے یا نہ کرنے میں تو ہم مختار ہیں۔ ہم چاہتے ہیں تو توڑ بھی دیتے ہیں، چاہتے ہیں تو پامال بھی کر دیتے ہیں، لیکن ایک تزکیہ ایسا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی انسان کا کرتے رہتے ہیں، اور وہ ہے انسان کو زندگی کے مختلف مراحل میں، مختلف آزمائشوں سے دوچار کرنا، مشکلات سے دوچار کرنا، اور ان میں سے گزار کر انسان کے مزاج، اس کی طبیعت اور اس کے نفس کی کچھ ناہمواریوں کو دور کرنا۔ یہ گویا انسان کی تربیت کا ایک عمل ہے۔ آسائش میں انسان تربیت نہیں پاتا۔ مشکل میں، تکلیف میں، رنج میں تربیت پاتا ہے اور اسے کچھ حقائق کا ادراک ہوتا ہے۔ نفس کی جو بعض منہ زو رخواہشات ہوتی ہیں، مشکل میں، رنج میں اور مصیبت میں ان پر قابو پانا انسان سیکھتا ہے۔ تو یہ جو آزمائش اور مشکل ہے، یہ بھی انسان کے تزکیے کا ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے، بشرطیکہ انسان اس سے سیکھنے والا ہو۔ انسان اگر آزمائش اور مشکلات سے سیکھنے والا ہو، ان کی حکمت پر اس کی نظر ہو تو بجائے خود انسان کے نفس کی تربیت کا یہ بہت بڑا ذریعہ ہے۔ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الاَمْوَالِ وَالاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ۔ ہر طرح کی آزمائش انسان پر آتی ہے، اور یہ اس طرح کی چیز ہے کہ اس سے اللہ کے نبی بھی مستثنیٰ نہیں، بلکہ حدیث کے مطابق تو جو اللہ کے زیادہ مقرب ہوتے ہیں، ان کے لیے آزمائش کا نصاب بھی زیادہ سخت ہوتا ہے، مشکلات بھی زیادہ آتی ہیں۔ 

خلاصہ ان سب باتوں کا وہی ہے جو میں نے شروع میں آپ کے سامنے رکھا کہ قرآن کی ساری تعلیم، قرآن کی ساری گفتگو انسانی نفس کے گرد گھومتی ہے، اس لیے کہ قرآن کا مخاطب نفس انسانی ہے۔ قرآن کا پیغام، اس کی تعلیم یا اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس انسانی کو ان حقائق کی یاد دہانی کرائی جائے جن کو ماننا اس کی نجات کے لیے ضروری ہے، اور نہ صرف ان حقائق کو اس کے سامنے رکھا جائے بلکہ ان حقائق کو ماننے کی طرف اس کو آمادہ اور راغب کیا جائے، بڑی حکمت اور محبت سے اس کو قائل اور متوجہ کیا جائے کہ وہ اس راستے پر آ جائے۔ تاہم انسان کے نفس کی کچھ کمزوریاں ایسی ہیں جو اس کو اس راستے پر آنے سے روک دیتی ہیں۔ تو قرآن مجید اپنی تعلیم میں ان حقائق کی تذکیر کے ساتھ ساتھ وہ آیات و شواہد بھی جمع کرتا جاتا ہے جن پر غور کر کے انسان اس طرف متوجہ ہو سکتا ہے اور ان موانع کی بھی نشاندہی اور ان پر تبصرہ کرتا جاتا ہے۔ انسان کو گویا آئینہ دکھاتا جاتا ہے کہ اس آئینے میں اپنی کمزوریاں بھی دیکھ لو۔ یہ بڑا موثر طریقہ ہے۔ جدید نفسیات میں بھی آپ دیکھیں، جو نفسیاتی عوارض ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریاں ہوتی ہیں، ان کے علاج کا سب سے موثر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ماہر نفسیات اور معالج مسلسل عمل کے ذریعے سے خود انسان کو اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ اپنی اس بیماری یا کمزوری پر متوجہ ہو، اس کی علامتوں اور اس کے ساتھ وابستہ جو چیزیں ہیں، ان پر نظر رکھے اور اپنی قوت ارادی سے ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے۔ جدید طریقہ علاج میں بھی یہ بڑی اہم چیز ہے۔ قرآن مجیدنے ہمیں وہی چیز روحانی واعتقادی امراض کے علاج کے لیے فراہم کر دی۔ ہم اگر اپنی اصلاح چاہتے ہیں، اپنے آپ کو آلائشوں سے بچانا چاہتے ہیں تو قرآن وہ ایک ایک مرض، وہ ایک ایک عارضہ، وہ ایک ایک مانع جو انسان کو مختلف راستوں سے بہکا دیتا ہے، بھٹکا دیتا ہے، اس کو پوری طرح واضح کر کے آئینہ ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے۔ اگر انسان اس سے سیکھنا چاہے تو اس سے زیادہ موثر چیز نہیں ہو سکتی۔

قرآن / علوم قرآن

Flag Counter