دور جدید کا حدیثی ذخیرہ، ایک تعارفی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

حدیث اسلامی شریعت کا دوسرا اساسی ماخذ ہے۔ حدیث اور اس کے متعلقات پر پہلی صد ی ہجری سے لے کر آج تک بلا تعطل کام جاری ہے اور بلا شبہ امت کے بہترین دماغوں نے علم حدیث کے بے شمار پہلووں پر کام کیا ہے۔ علم حدیث کی تاریخ میں دور جدید بعض وجوہ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ امت مسلمہ کے دور زوال میں علم حدیث مسلم اور غیر مسلم مفکرین کی توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ اس مرکزیت کے متعدد اسباب ہیں جنہیں بیان کرنے کے لیے مستقل مضمون درکار ہے ۔اس مضمون میں ہم دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے متنوع کام کا ایک تعارفی جائزہ لیں گے۔ تعارفی جائزے سے پہلے موضوع سے متعلق چند تمہیدی باتیں پیش خدمت ہیں :

۱۔ اس مقالے میں دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دور جدید سے کیا مراد ہے؟اور اس کی زمانی تحدید کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم امت کا دور زوال اور مغرب کی بیداری کا زمانہ عمومی طور پر دور جدید کہلاتا ہے۔ اس کا اوائل مارٹن لوتھر کی تحریک اصلاح ہے ،جس نے آگے چل کر جدیدیت اور اس کے ذیلی فلسفوں کی شکل اختیار کر لی اور بیسیویں صدی کے نصف آخر سے مابعد جدیدیت میں ڈھل چکی ہے۔ اس کو اگر زمانی تحدید کی صورت میں بیان کیا جائے تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ تقریباً آخری تین صدیاں دور جدید کہلاتی ہیں۔

۲۔دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کی متنوع درجہ بندی کی جاسکتی ہے :

(الف) امت مسلمہ کے مختلف مکاتب ،جماعتوں اور فرقوں نے علم حدیث پر جو کام کیا ہے ،ہر مکتب فکر کا کام الگ الگ بیان کیا جائے۔

(ب) عالم اسلام میں ہر ملک میں جو کام ہوا ہے ،اسے ممالک و امصار کی ترتیب سے بیان کیا جائے۔

(ج) دور جدید کے کام کو زمانی ترتیب سے بیان کیا جائے۔

(د) دور جدید کے کام کو الف بائی ترتیب سے موسوعاتی شکل میں بیان کیا جائے۔

(ر) دور جدید کے کام کو اہم جہات میں تقسیم کر کے بیان کیا جائے ،اور جدید حدیثی ذخیرہ جن پہلووں اور جوانب پر مشتمل ہے ،ان جہات کے اعتبار سے بیان کیا جائے۔

۳۔کچھ وجوہ سے موخر الذکر ترتیب کو ترجیح دی گئی ہے، اس لیے جدید ذخیرے کو جہات و جوانب میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات پیش نظر رہے کہ مقصود جدید ذخیرے کا احاطہ و استقصا کرنا نہیں ہے،بلکہ بنیادی مقصدیہ ہے کہ علم حدیث پر ہونے والے کام کی اہم جہات اور ان جہات کی بعض نمائندہ کتب سامنے آجائے۔

۴۔ مقصود چونکہ جہات کی نشاندہی ہے،اس لئے ہر ہر کتاب کا تفصیلی تعارف پیش نہیں کیا گیا ،بلکہ بقدر ضرورت بعض اہم کتب پر تبصرہ کیا گیا ہے۔

۵۔ اس تعارفی جائزے میں بنیادی طور پر اردو اور عربی میں علم حدیث پر ہونے والے کام کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ طوالت کے پیش نظر دیگر السنہ خصوصاً یورپی اورعالم اسلام کی مختلف قومی وعلاقائی زبانوں میں علم حدیث پر ہونے والے کام کو شامل نہیں کیا گیا ہے ،البتہ جن کتب کا اردو یا عربی میں ترجمہ ہوگیا ہے ،اسے بھی تعارفی جائزے کا حصہ بنایا گیا ہے۔نیز تمام جہات کی نشاندہی کے بعد دیگر زبانوں میں ہونے والے کام کی نشاندہی کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی انہی جہات میں سے کسی نہ کسی جہت سے متعلق ہے۔

دور جدید میں علم حدیث پر ہونے والے کام کی اہم جہات یہ ہیں:

۱۔ دفاع حدیث

۲۔ تاریخ حدیث

۳۔ علوم الحدیث

پہلی جہت: دفاع حدیث 

دور جدید میں اسلام پر جو متنوع فکری حملے ہوئے ،ان میں حدیث و سنت کی حجیت اور تشریعی حیثیت میں تشکیک سر فہرست ہے۔ان تشکیکات کا آغاز مستشرقین کی تحریروں سے ہوا اور عالم اسلام کے جدید تعلیم یافتہ اور مغرب کی فکری، علمی اور سائنسی بالا دستی سے مرعوب طبقے تک پہنچ گیا، اور بالآخر عالم اسلام کے بعض اہم مفکرین بھی اس کے لپیٹ میں آگئے اور یوں حدیث و سنت پر تشکیکی گفتگو اہم ترین مباحث میں شامل ہوگئی۔ حدیث و سنت پر جملہ اعتراضات کی اگر ہم درجہ بندی کریں تو تین بڑے دائرے سامنے آتے ہیں : 

۱۔ حدیث و سنت کی تدوین میں تشکیک کہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صدیوں بعد مدون ہوئیں، اس لیے موجودہ ذخیرہ ناقابل اعتبار ہے۔

۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو چیلنج کرنا کہ آپ علیہ السلام کے اقوال و افعال بعد والوں کے لیے قرآن کی طرح حجت نہیں ہیں،بلکہ یہ اسی زمانے کے لوگوں کے لیے تھے۔

۳۔ حدیث و سنت پر مختلف قسم کے اعتراضات جیسے کثیر الروایہ صحابہ کی کردار کشی،فقہی احادیث کی وضعیت کا پروپیگنڈا،محدثین پر مختلف قسم کے اعتراضات وغیرہ

اس لیے دفاع حدیث میں جو لٹریچر سامنے آیا وہ بھی بنیادی طور پر تین قسموں پر مشتمل تھا :

۱۔حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت

۲۔حجیت سنت اور آپ علیہ السلام کی تشریعی حیثیت 

۳۔ شبہات متنوعہ اور ا ن کا رد 

اب ہم ان تینوں جہات سے متعلق مواد کا مختصر تعارفی جائزہ لیتے ہیں :

۱۔ حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت

حدیث کی تاریخ تدوین و کتابت پر عالم اسلام میں وسیع پیمانے پر کام ہوا اور مسلم مفکرین نے بڑے ٹھوس اور ناقابل تردید دلائل سے اس بات کو ثابت کیا کہ احادیث کے متعدد مجموعے زمانہ نبوت میں ہی تیار ہوئے تھے۔ پھردور صحابہ وتا بعین میں اس پر مزید کام ہوا اور مصادر حدیث کے مدونین نے انہی صحائف و مجموعوں کو سامنے رکھ کر ا پنی کتب تیار کیں۔ اس سلسلے کے چند اہم کا ملاحظہ ہوں :

۱۔ عربی میں اس پر سب سے تفصیلی اور ٹھوس کام ڈاکٹر مصطفی اعظمی کا پی ایچ ڈی مقالہ ہے جس پر کیمبرج یونیورسٹی سے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔یہ مقالہ Studies in Early Hadith Literature کے نام سے انگریزی زبان میں تھا ،جسے بعد میں مصنف نے خود دراسات فی الحدیث النبوی و تاریخ تدوینہ کے نام سے عربی میں منتقل کیا۔

۲۔ دوسری کتاب ڈاکٹر امتیاز احمد کا ضخیم مقالہ دلائل التوثیق المبکر للسنۃ و الحدیث ہے۔ یہ بھی اصلاً پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ،اور انگریزی زبان میں لکھا گیا، جسے بعد میں عربی میں منتقل کیا گیا۔ ان دو کتب کو اگر اس موضوع پر سب سے بہترین کتب کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔

۲۔ اردو میں اس پر سب سے جامع کام مولانا مناظر احسن گیلانی کی ضخیم کتاب تدوین حدیث ہے جسے اگر اس موضوع پر حرف آخر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

۳۔مذکورہ بالا کتب کے علاوہ بے شمار کام اس موضوع پر سامنے آئے ہیں۔ ذیل میں عربی اور پھر اردو کی اہم کتب کی ایک فہرست پیش کی جاتی ہے :

۱۔ السنۃ قبل التدوین از عجاج الخطیب ،مکتبہ وہبہ قاہرہ 

۲۔ بحوث فی تاریخ السنہ المشرفۃ از ڈاکٹر ضیا العمری، مطبعۃ الارشاد بغداد 

۳۔ مباحث فی تدوین السنۃ المطھرۃ ازعطیہ الجبوری ،المطبعۃ العربیہ الحدیثہ قاہرہ 

۴۔ عبد اللہ بن عمر و بن العاص و الصحیفۃ الصادقۃ از محمد سیف الدین علیش، الہیءۃ المصریہ العامہ للکتاب قاہرہ 

۵۔ صحائف الصحابۃ وتدوین السنۃ النبویہ المشرفۃ از احمد عبد الرحمان الصویان قاہرہ 

۶۔ السنۃ فی عصر النبوۃ از الاحمدی عبد الفتاح خلیل قاہرہ 

۷۔ السنۃ بعد عصر النبوۃ للمصنف المذکور

۸۔ صحیفتا عمر و بن شعیب و بھز بن حکیم عند المحدثین و الفقھاء ازمحمد علی بن الصدیق، وزارۃ الشوون الاسلامیہ و الاوقاف 

۹۔ الصحابۃ وجھودھم فی خدمۃ الحدیث النبوی از محمد نوح دار الوفا مصر 

۱۰۔ مشکلۃ تدوین الحدیث فی العھد النبوی از حسن شا بندر، دار العلم و التحقیق بیروت 

۱۱۔ منھجیۃ تدوین السنۃ وجمع الاناجیل: دراسۃ مقارنۃ ازعزیہ علی طہ مصر 

۱۲۔ السنۃ النبویۃ فی عصر الرسول و الصحابۃ از سعید مصطفی عسکر مصر

۱۳۔ وحی السنۃ الی نبی الامۃ،مراحل حفظ السنۃ النبویۃ از عبد الرحمان الرافعی مصر 

۱۴۔ کتابۃ الحدیث النبوی و جمعہ و تدوینہ از کمال الدین المرسی دار المعرفہ مصر

۱۵۔ تاریخ التدوین السنہ و شبھات المستشرقین از حاکم العبیسا ن المطیری، مجلس النشر العلمی کویت 

۱۶۔ السنۃ النبویہ و علومھا از احمد عمر ہاشم قاہرہ

اردو کتب

۱۔تاریخ تدوین حدیث از ڈاکٹر محمد زبیر صدیقی 

۲۔تاریخ تدوین حدیث از مولانا ہدایت اللہ ندوی 

۳۔تاریخ حفاظت حدیث و اصول حدیث از ڈاکٹر فضل احمد

۴۔حدیث کی تدوین عہد صحابہ و تابعین از حکیم عبد الشکور

۵۔حفاظت و حجیت حدیث از مولانا محمد فہیم عثمانی 

۶۔صحیفہ ہمام بن منبہ، ترجمہ و تشریح از ڈاکٹر حمید اللہ ،اس کا مبسو ط مقدمہ تاریخ تدوین حدیث پر انتہائی قیمتی مباحث پر مشتمل ہے۔

۷۔کتابت حدیث ازمولانا منت اللہ رحمانی 

۸۔کتابت حدیث عہد نبوی میں از مولانا سید ابو بکر غزنوی

۹۔کتابت حدیث عہد رسالت و عہد صحابہ میں از مفتی رفیع عثمانی 

۱۰۔علم حدیث اور اس کا ارتقا از قاری روح اللہ المدنی

۱۱۔روایت و وتدوین حدیث در عہد بنی امیہ از رضیہ سلطانہ (پی ایچ ڈی مقالہ پنجاب یو نیورسٹی )

۱۲۔تاریخ حدیث از ڈاکٹر غلام جیلانی برق

۱۳۔حفاظت حدیث از ڈاکٹر خالد علوی 

۱۴۔عہد بنو امیہ میں محدثین کی خدمات، فنی فکری اور تاریخی مطالعہ از عبدالغفاربخاری

۱۵۔تاریخ تدوین حدیث از مولانا عبد الرشید نعمانی 

۱۶۔تدوین حدیث کے اسالیب ومناہج آغازِ اسلام سے ۵۷ھ تک از عبد الحمید عباسی 

۱۷۔تدوین حدیث از اطہر بن جعفر 

۲۔حجیت حدیث اور پیغمبر علیہ السلام کی تشریعی حیثیت 

منکرین حدیث کا دوسرا بڑا ہدف نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت تھی، کہ احادیث آپ علیہ السلام کے ذاتی اقوال وآرا ہیں،جو نہ تو وحی پر مبنی ہیں اور نہ قرآن کی رو سے اس کو ماننا لازم ہے، اور وحی الٰہی صرف اور صرف قرآن کی شکل میں ہے۔ مسلم مفکرین نے اس نکتہ پر بڑی تفصیل سے بحث کی اور آپ علیہ السلام کی تشریعی حیثیت کو دلائل نقلیہ و عقلیہ سے ثابت کیا۔ اس پہلو پر درجہ ذیل کام ہوئے ہیں :

۱۔عربی میں اس پر سب سے جاندار کام ڈاکٹر مصطفی السباعی کی ضخیم کتاب السنۃ و مکانتھا فی التشریع الاسلامی ہے جس میں مصنف نے تفصیل سے اس پہلو پر کلام کیا ہے اور اس حوالے سے ہونے والے تمام اہم اشکالات کا جواب دیا ہے ۔ 

۲۔معروف مصری عالم اور جامعہ ازہر کے پروفیسر ڈاکٹر عبد الغنی عبد الخالق کی مفصل کتاب حجیۃ السنۃ دوسرا اہم ترین کام ہے۔ یہ دنوں کتب اپنی اہمیت اور موضوع پر حرف آخر ہونے کی وجہ سے اردو میں بھی ڈھل چکے ہیں۔

۳۔اردو میں بے شمار کا م سامنے آئے ہیں، بالخصوص مولانا مودودی کی ’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘،نعیم صدیقی کی ’’رسول اور سنت رسول‘‘،پیر کرم شاہ الازہری کی ’’سنت خیر الانام‘‘،مولانا محمد ادریس کاندھلوی کی ’’حجیت حدیث‘‘، مولانا فضل احمد غزنوی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’صحیح مقام حدیث‘‘، مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی ’’نصرۃ الحدیث‘‘، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ اور ڈاکٹر مظہر یاسین صدیقی کی کتاب ’’وحی حدیث‘‘ سر فہرست ہیں۔

اس موضوع پر عربی و اردو کی اہم کتب کی فہرست ذیل میں دی جارہی ہے :

عربی کتب

۱۔ السنۃ النبویہ و مکانتھا فی ضوء القرآن الکریم از ڈاکٹر حبیب اللہ مختار 

۲۔ حجیۃ السنہ و وتاریخھا از حسین شواط

۳۔ السنۃ النبویۃ و مکانتھا فی التشریع از عباس دار القومیہ قاہرہ متولی حمادہ 

۴۔ حفظ اللہ السنۃ از احمد بن فارس السلوم، دار البشائر الاسلامیہ بیروت

۵۔ السنۃ النبویۃ جمعا و تدوینا، ازمحمد صالح الغرسی، موسسہ الریان بیروت

۶۔ السنۃ حجۃ علی جمیع الامۃ از محمد بکار زکریا، دا ر البشائر الاسلامیہ بیروت

۷۔ السنۃ النبویۃ المطہرۃ مبینۃ للقران و مثبتۃ للاحکام از محمد بکر اسماعیل، دار النھضہ بیروت

۸۔ مکانۃ السنۃ فی التشریع الاسلامی از ڈاکٹر سلمان سلفی، دار الوعی 

۹۔ حجیۃ السنۃ النبویۃ و دور الاصولیین فی الدفاع عنھا از عبد الحی عزت قاہرہ

۱۰۔ الدرر البھیۃ فی بیان حجیۃ السنۃ النبویۃ ومکانتھا فی الاسلام از عبد الواحد خمیس قاہرہ

۱۱۔ السنۃ النبویۃ المطھرۃ قسم من الوحی الالھی المنزل از محمد علی الصابونی ، رابطۃ العالم الاسلامی مکہ 

۱۲۔ التلازم بین الکتاب و السنۃ من خلال الکتب الستۃ از صالح بن سلیمان البقعاوی، دار المعراج ریاض

۱۳۔ السنۃ النبویۃ وبیا نھا للقرآن الکریم از محمد احمد حسین، دار خضر بیروت 

۱۴۔ مکانۃ السنۃ فی الاسلام از محمد محمد ابو زہو، دار الکتاب بیروت

۱۵۔ السنۃ المطہرۃ و التحدیات از نور الدین عتر، دار الفلاح شام 

۱۶۔ السنۃ مع القرآن از سید احمد رمضان، دار الطباعہ قاہرہ

۱۷۔ الرسول و سنتہ التشریعیۃ از عبد الحلیم محمود، مجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ

۱۸۔ الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد والاحکام از ناصر الدین الالبانی 

۱۹۔ السنۃ النبویۃ: حجیتھا و تدوینھا از عبد الماجد غوری 

ا ردو کتب

۱۔اسلام میں سنت کا مقام از مولانا عبد الغفار حسن 

۲۔بصائر السنہ (دو جلد) از مولانا محمد امین الحق 

۳۔حجیت حدیث از مولانا محمد اسماعیل سلفی 

۴۔حجیت حدیث از مولانا بدر عالم میرٹھی (ترجمان السنہ سے انتخاب ہے )

۵۔حدیث اور قرآن از ابو الاعلیٰ مودودی

۶۔حدیث رسول کا قرآنی معیار از مولانا قاری محمد طیب 

۷۔سنت کا تشریعی مقام از مولانا محمد ادریس میرٹھی

۸۔سنت رسول کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟ از عاصم الحداد

۹۔شوق حدیث از مولانا محمد سرفراز خان صفدر

۱۰۔ضرب حدیث از حکیم محمد صادق سیالکوٹی 

۱۱۔ضرورت حدیث از قاضی زاہد الحسینی 

۱۲۔علم حدیث از مولانا اشفاق الرحمان کاندھلوی 

۱۳۔عظمت حدیث از مولانا عبد الغفار حسن

۱۴۔فہم حدیث از حافظ عبد القیوم ندوی 

۱۵۔مطالعہ حدیث از مولنا حنیف ندوی 

۱۶۔مقام حدیث از مشتاق احمد چشتی 

۳۔ شبہات متنوعہ اور اس کا رد

مستشرقین اور منکرین حدیث نے حدیث کو مشکوک بنانے اور اس کے ا نکار کی فضا ہموار کرنے کے لیے متعدد دلائل کا سہارا لیا اور حدیث کی ثقاہت پر متنوع پہلوووں سے حملہ کیا ۔حجیت حدیث کے لٹریچر کا تیسرا بڑا دائرہ ان اشکالات واعتراضات کا جواب ہے،اس سلسلے میں درجہ ذیل اہم کام سامنے آئے ہیں:

۱۔عرب دنیا میں حدیث کے ا نکار کی سب سے توانا آواز معروف مصری مفکر ڈاکٹر ابوریہ نے اٹھائی، جس نے اضواء علی السنۃ المحمدیۃ لکھ کر حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات کو نئے انداز سے دہرایا اور خاص طور پرحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ہدف تنقید بنایا۔ اس کے علاوہ ذخیرہ احادیث کو سیاسی ،اعتقادی ،فقہی اور صدر اول کے دیگر اختلافات کا نتیجہ بتانے کی کوشش کی،کتب حدیث سے لے کر جرح و تعدیل تک مختلف پہلوؤں سے حدیث پر اعتراضات کیے۔ ابو ریہ کی کتاب نے علمی حلقوں میں اضطراب کی نئی لہر پیدا کی اور عالم عرب سے ابو ریہ کی کتاب کے متعدد جوابات لکھے گئے،جن میں عبد الرزاق حمزہ کی ظلمات ابی ریۃ امام اضواء السنۃ المحمدیۃ، عبد الرحمان المعلمی کی الانوار الکاشفۃ لما فی کتاب اضواء السنۃ من الزلل والتضلیل والمجازفۃ، عجاج الخطیب کی ابو ہریرہ راویۃ الاسلام، علی احمد سالوس کی قصۃ الھجوم علی السنۃ، محمد ابو شہبہ کی دفاع عن السنۃ اہم کتب ہیں۔

۲۔ برصغیر میں انکار حدیث کو باقاعدہ ایک منہج کے طور پر پروان چڑھانے کے سرخیل غلام احمد پرویز ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے بھی حدیث پر متعدد پہلوؤں سے اعتراض کیا، اگرچہ بعد میں وہ انکار حدیث سے تائب ہوگئے۔ ہر دو حضرات کے کے اشکالات و اعتراضات کے جواب میں عبد الرحمان کیلانی کی ضخیم کتاب ’’آئینہ پرویزیت‘‘، حافظ محمد گوندلوی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ’’دوام حدیث‘‘،مولانا سرفراز خان صفدر صاحب کی ’’انکار حدیث کے نتائج‘‘، جناب مسعود احمد صاحب کی ’’برہان المسلمین‘‘ اور ’’تفہیم اسلام‘‘،محمد خالص راز کی ’’خالص اسلام بجواب دو اسلام‘‘، مولانا عبد الروف رحمانی کی ’’صیانۃ الحدیث‘‘، علامہ ایوب دہلوی کی ’’فتنہ انکار حدیث‘‘ اور افتخار احمد بلخی کی ’’انکار حدیث کا پس منظر اور پیش منظر‘‘ اہم کتب ہیں۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر درجہ ذیل کتب اہم ہیں :

عربی کتب

۱۔ ابو ھریرۃ وعاء العلم از ہاشم عقلیل عزوز دار ارلقبلہ جدہ 

۲۔ السنۃ النبویۃ فی کتابات اعداء الاسلام: مناقشتھا والرد علیھا از عماد سید الشربینی، دار الیقین مصر

۳۔ دفع الشبھات عن السنۃ النبویۃ ازعبد المھدی عبد القادر، قاہرہ

۴۔ شبھات وشطحات منکری السنۃ از ابو اسلام احمد عبد اللہ، المرکز الاسلامی قاہرہ 

۵۔ الشبہات الثلاثون المثارۃ لانکار السنۃ النبویۃ ،عرض وتفنید و نقض از عبد العظیم ابراہیم، مکتبہ وہبہ قاہرہ

۶۔ السنۃ النبویۃ ومطاعن المبتدعین فیھا از مکی شامی، دار عمان اردن

۷۔ موقف المستشرقین من السنۃ از امامہ الحبال، دار الفیحا دمشق

۸۔ المستشرقون و الحدیث النبوی از محمد بہاء الدین، دار النفائس دمشق

۹۔ البرھان فی تبرءۃ ابی ھریرۃ من البھتان ازعبد اللہ بن عبد العزیز، دار النصر قاہرہ

۱۰۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ الحدیثۃ من الحدیث النبوی ازشفیق بن عبد اللہ، المکتب الاسلامی بیروت

۱۱۔ موقف المدرسۃ العقلیۃ من السنۃ النبویۃ از الامین الصادق، مکتبہ الرشد ریاض

۱۲۔ رد شبہ المنکرین لحجیۃ السنۃ از حمدی صبح، دار النہضہ قاہرہ

۱۳۔ زوابع فی السنۃ قدیما وحدیثا از صلاح الدین مقبول احمد، دار عالم الکتب ریاض

۱۴۔ دفاع عن السنۃ النبویۃ الشریفۃ از عزیہ علی طہ، دار القلم کویت

۱۵۔ القرآنیون وشبھاتھم حول السنۃ از منشی الٰہی بخش، مکتبہ الصدیق طائف

۱۶۔ اھتمام المحدثین بنقد الحدیث سندا و متنا ودحض مزاعم المستشرقین واتباعھم از لقمان السلفی، الریاض 

۱۷۔ السنۃ المفتری علیھا از سالم علی البھنساوی، دار البحوث العلمیہ کویت

۱۸۔ دفاع عن ابی ھریرۃ از عبد المنعم صالح، دارالشروق بیروت

۱۹۔ منکرو السنۃ فی میزان العقل والشرع از محمد نعیم ساعی، مکتبہ ام القری قاہرہ

اردو کتب

۱۔ احادیث بخاری و مسلم کو مذہبی داستانیں بنانے کی ناکام کوشش از مولانا ارشاد الحق اثری

۲۔انکار حدیث ایک فتنہ ایک سازش از محمد فرمان

۳۔انکار حدیث حق یا باطل از صفی الرحمان الاعظمی

۴۔برق اسلام بجواب طلوع اسلام از مولانا شرف الدین دہلوی 

۵۔پرویز نے کیا سوچا؟ از ڈاکٹر سبطین لکھنوی 

۶۔دلیل الفرقان بجواب اہل الاسلام از مولانا ثنا اللہ امرتسری 

۷۔صحیح قرآنی فیصلے از مولانا فضل احمد غزنوی

۸۔فتنہ انکار حدیث از مفتی ولی حسن خان ٹونکی 

۹۔فتنہ انکار حدیث اور اس کا پس منظر از مولانا عاشق الٰہی

۱۰۔فتنہ پرویزو حقیقت حدیث از منشی عبد الرحمان خان 

۱۱۔قرآنی خرافات بجوا ب پرویزی خرافات از منور حسین سیف الاسلام دہلوی 

۱۲۔قول فیصل از ماہر القادری 

۱۳۔مسئلہ انکار حدیث کا تاریخی و تنقیدی جائزہ از ڈاکٹر فضل احمد 

۱۴۔منکرین حدیث کے مغالطے از جسٹس ملک غلام علی 

۱۵۔نصرۃ الباری فی بیان صحۃ البخاری از مولانا عبد الروف جھنڈا نگری

۱۶۔نصرۃ القرآن از مولانا عبد لحمید ارشد

دوسری جہت: تاریخ حدیث و محدثین

دور جدید میں علم حدیث کی مفصل ،مرحلہ وار اور مرتب تاریخ پر قابل قدر کتب سامنے آئی ہیں۔ ان تاریخی کتب کو تین دائروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

۱۔ علم حدیث کی عمومی تاریخ 

۲۔علم حدیث کی خصوصی تاریخ 

۳۔ائمہ حدیث کی سوانحات

۱۔ علم حدیث کی عمومی تاریخ 

عمومی تاریخ سے مراد علم حدیث کی ابتدا سے لے کر دور حاضر تک کی تاریخ ہے،جس میں دور تدوین سے لے کر دور جدید تک حدیث، اصول حدیث اور اس کے مختلف پہلووں پر ہونے والے کام کا تعارف ہو ۔ اس حوالے سے درج ذیل کام سامنے آئے ہیں :

۱۔علم حدیث کی مفصل تاریخ پر محمد محمد ابوزھو کی الحدیث و المحدثون اہم کتاب ہے ،جس میں علم حدیث کی تاریخ کو سات ادوار میں تقسیم کر کے ان ادوار کے حدیثی ذخیرے کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معروف ہندوستانی محقق عبد الماجد غوری کی ضخیم کتاب مصادر الحدیث و مراجعہ دراسۃ و تعارف، ڈاکٹر محمد المختار کی مفصل کتاب تاریخ علوم الحدیث فی المشرق و المغرب اور عبد العزیز الخولی کی کتاب تاریخ فنون الحدیث بھی تاریخ حدیث کی اہم کتب میں سے ہیں۔

۲۔اصول حدیث کی جامع تاریخ معروف ہندوستانی محقق اور علم حدیث کے حوالے سے عصر حاضر کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر نور الدین عتر کے شاگرد علامہ عبد لماجد غوری کی ضخیم کتاب موسوعۃ علوم الحدیث و فنونہ کا طویل مقدمہ اور علم مصطلح الحدیث نشاتہ ،تطورہ و تکاملہ ہے۔ ہر دو کتب میں مولف نے دور تدوین سے لے کر عصر حاضر تک علم مصطلح الحدیث کی مفصل تاریخ بیان کی ہے اور برصغیر میں علو م الحدیث پر ہونے والے کام کابھی تفصیل سے تعارفی جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ معروف سعودی محقق شیخ حاتم بن عارف کی کتاب المنھج المقترح لفھم المصطلح ایک اچھی کاوش ہے ،جس میں علم مصطلح الحدیث کا ارتقائی جائزہ لیا گیا ہے۔

۳۔ اردو میں علم حدیث کی تاریخ کے حوالے سے ڈاکٹر محمد ابو زھو کی کتاب کا ترجمہ ’’تاریخ حدیث و محدثین‘‘ ہے جو غلام احمد حریری نے کیاہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اقبال احمد بسکوری کی کتاب تاریخ تحفظ سنت اور خدما ت محدثین‘‘ اور قاضی عبد الصمد صارم کی ضخیم کتاب ’’حسنات الاخبار المعروف تاریخ الحدیث‘‘ اہم کتب ہیں۔

۴۔اصول حدیث کی تاریخ پر اردو میں سب سے مفصل اور جامع کتاب عبد لماجد غوری اور سید احمد زکریا غوری کی مشترکہ کتاب ’’علوم الحدیث، تعارف و تاریخ‘‘ ہے۔ علم مصطلح الحدیث کی تاریخ پر اگر اسے اردو میں سب سے ممتاز کام کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر عبد الروف ظفر صاحب کی مفصل کتاب ’’علوم الحدیث فنی ،فکری اور تاریخی مطالعہ‘‘ میں بھی اصول حدیث کی تاریخ پر عمدہ مواد موجود ہے۔

ان کتب کے علاوہ اردو و عربی میں تاریخ حدیث و مصطلح الحدیث پر اہم کتب کی فہرست ذیل میں دی جارہی ہے:

عربی کتب

۱۔ السنۃ عبر العصور از طالب عبد الرحمان، دیوان المطبوعات الجزائر

۲۔ لمحات من تاریخ السنۃ و علوم الحدیث از عبد الفتاح ابو غدہ

۳۔ مصادر السنۃ ومناھج مصنفیھا از حاتم بن عارف العونی 

۴۔ بحوث فی تاریخ السنۃ المشرفۃ از ڈاکٹر اکرم العمری

۵۔ الحدیث النبوی،مصطلحاتہ، بلاغتہ وکتبہ از الدکتور محمد الصباغ 

۶۔ تاریخ السنۃ النبویۃ از عبد المہدی بن عبد القادر، قاہرہ

۷۔ تاملات منھجیۃ فی تاریخ السنۃ واصول الحدیث از موسی ابراہیم، قطر 

۸۔ تاریخ السنۃ وبیا ن حالھا فی جمع عصورھا از عبد العزیز نور، القاہرہ

۹۔ تاریخ الحدیث و مناھج المحدثین از محمود سالم عبیدات، دار المناہج عمان

۱۰۔ علوم السنہ و علوم الحدیث، دراسۃ تاریخیۃ از عبد اللطیف عامر، مکتبہ وہبیہ قاہرہ

۱۱۔ لمحات فی اصول الحدیث از محمد ادیب صالح، المکتب الاسلامی بیروت

۱۲۔ اصول الحدیث: علومہ ومصطلحہ از عجاج الخطیب 

۱۳۔ علم الرجال: نشاتہ و تطورہ از محمد بن مطر الزہرانی، دارالہجرہ ریاض

۱۴۔ علم الرجال: تعریفہ و کتبہ از عبد الماجد غوری

۱۵۔ الحدیث النبوی: تاریخہ و علومہ و مصطلحہ از محمد عمر الحاجی دار الحافظ دمشق

اردو کتب

۱۔تاریخ حدیث از غلام جیلانی برق

۲۔تاریخ حدیث و اصول حدیث ڈاکٹر مصطفی طاہر

۳۔ابحیثیتِ فن، اصولِ حدیث کا ارتقائی وتحقیقی مطالعہ از ارشاد علی، کلیہ معارف اسلامیہ کراچی یونیورسٹی 

۲۔علم حدیث کی خصوصی تاریخ 

خصوصی تاریخ سے مراد کسی خاص صدی، ملک یا طبقے کی خدمات حدیث کی تاریخ ہے۔ یہ چونکہ وسیع الاطراف موضوع ہے، اس لیے اس کا احاطہ تو نہیں کیا جاسکتا،البتہ چند اہم کاوشوں کی نشاندہی کی جاتی ہے :

۱۔خصوصی تاریخ میں خاص طور پر علم حدیث پر ہونے والے جدید تصنیفات کا تعارفی مواد زیادہ ہے ،اس حوالے سے ڈاکٹر خلدون احدب کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب التصنیف فی السنۃ النبویۃ وعلومھا قابل ذکر ہے ،جس میں مصنف نے ۱۳۵۱ھ سے لے کر ۱۴۲۵ھ تک علم حدیث پر ہونے والے کاموں کی فہرست دی ہے۔اس کے علاوہ محمد عبد اللہ صعیلیک کی جھود المعاصرین فی خدمۃ السنۃ المشرفۃ، فاروق حمادہ کی تطور دراسات السنۃ النبویۃ و نھضتھا المعاصرۃ وآفاقھا قابل ذکر کتب ہیں۔

۲۔ ہندوستان میں علم حدیث کی تاریخ کے حوالے سے عبد الرحمان عبد الجبار الفریوائی کی کتاب جھود مخلصۃ فی خدمۃ السنۃ المطھرۃ اہم کتاب ہے ،جس میں فتح ہند سے لے کر دور جدید تک علم حدیث کی جامع و مختصر تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر سہیل حسن کی جھود محدثی شبہ القارۃ الھندیۃ فی خدمۃ الکتب المسندۃ المشھورۃ فی القرن الرابع عشر الھجری، ڈاکٹر تقی الدین ندوی کی اعلام المحدثین فی الھند، ڈاکٹر عبد الماجد غوری کی اعلام المحدثین فی الھند فی القرن الرابع عشر الھجری وآثارھم فی الحدیث وعلومہ اور مساھمۃ علماء الھند فی الحدیث النبوی فی القرنین الرابع والخامس عشر الھجریین: دراسۃ استقرائیۃ نقدیۃ، خالدہ ریحانہ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ تطور علم الحدیث فی الھند اور ڈاکٹر ولی اللہ کا پی ایچ ڈی مقالہ علماء الحدیث فی بلاد الھند وجھودھم فی الحدیث فی القرن الثالث عشر والرابع عشر الھجریین اہم کتب ہیں۔

۳۔ اردو میں اس حوالے سے قاضی اطہر مبارک پوری کی ’’ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت‘‘، مولانا ارشاد الحق اثری کی ’’پاک وہند میں علمائے ہل الحدیث کی خدمات حدیث‘‘، ڈاکٹرمحمداسحاق کی ’’علم حدیث میں پاک وہند کا حصہ‘‘ (یہ کتاب اصلاً انگریز میں لکھی گئی ہے)، ڈاکٹر سعد صدیقی کی ’’علم حدیث اور پاکستان میں اس کی خدمت‘‘، عبد الرشید عراقی کی ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ اہم کتب ہیں۔

۴۔ عورتوں کی علم حدیث میں خدمات اور اس کی مفصل تاریخ پر معاصر سطح پر قابل قدر کتب لکھی گئی ہیں۔ آما ل حسین کی دور المراۃ فی خدمۃ الحدیث فی القرون الثلاثۃ الاولی، محمد بن عزوز کی صفحات مشرقۃ من عنایۃ المراۃ بصحیح البخاری، صالح یوسف کی جہود المراۃ فی روایۃ الحدیث فی القرن الثامن الھجری، عبد العزیز الاہل کی طبقات النساء المحدثات اور مشہور حسن آل سلمان کی عنایۃ النساء بالحدیث النبوی اہم کتب ہیں۔

۵۔خاص خطوں اور مخصوص ادوار میں اہل علم کی خدمات حدیث اور ذخیرہ حدیث کی تاریخ پر مشتمل کتب سامنے آئی ہیں، جیسے مصطفی بیسونی کی ضخیم کتاب مدرسۃ الحدیث فی مصر،حسین شواط کی قابل قدر کتاب مدرسۃ الحدیث فی القیروان من الفتح الاسلامی الی منتصف القرن الخامس الھجری، مصطفی الاعظمی کی المحدثون من الیمامۃ الی ۲۵۰ھ، امین القضاۃ کی مدرسۃ الحدیث فی البصرۃ حتی القرن الثالث الھجری، عبد اللہ الحمیری کی الحدیث و المحدثون فی الیمن فی عصر الصحابۃ، محمد بن عزوز کی مدرسۃ الحدیث فی بلاد الشام خلال القرن الثامن الھجری، یوسف الکتان کی مدرسۃ الامام البخاری فی المغرب اور عبد الہادی احمد الحسین کی مظاھر النھضۃ الحدیثیۃ فی عھد یعقوب المنصور الموحدی جیسی کتب ہیں۔ اس طرز پر دنیا کے مختلف خطوں اور اسلامی تاریخ کے اہم ادوار کے ذخیرہ حدیث کی تاریخ لکھی گئی ہے ۔ اس طرز کی تاریخی کتب عام طور پر جامعات کی سطح پر پی ایچ ڈی و ایم فل مقالات کی شکل میں سامنے آئی ہیں۔

۳۔ ائمہ حدیث کی سوانح 

علم حدیث کی تاریخ کا تیسرا دائرہ نامور محدثین کی سوانح اور ان کی خدمات حدیث پر مشتمل کتب ہیں۔ صحاح ستہ سے لے کر دیگر محدثین اور رواۃ کی مفصل سوانح لکھی گئی ہیں ،جن میں صاحب سوانح کے مفصل حالات ،اساتذہ ،کتاب حدیث ،منہج اور اس کی کتاب کی خصوصیات کا تذکرہ شامل ہے۔چند کتب کے نام پیش خدمت ہیں :

۱۔ ابو جعفر الطحاوی و اثرہ فی الحدیث از عبد المجید محمود، الہیءۃ المصریہ قاہرہ

۲۔ الحافظ الخطیب البغدادی و اثرہ فی علوم الحدیث از محمود طحان، دار القرآن الکریم بیروت

۳۔ معمر بن راشد الصنعانی: مصادرہ و منھجہ واثرہ فی روایۃ الحدیث از محمد رافت سعید، عالم الکتب ریاض 

۴۔ الامام الزہری و اثرہ فی السنۃ از حارث سلیمان الضاری، مکتبہ البسام عراق

۵۔ الحافظ ابن حجر العسقلانی، امیر المومنین فی الحدیث از عبد الستار شیخ، دار القلم دمشق

۶۔ الامام النووی و اثرہ فی الحدیث و علومہ از احمد عبد العزیز الحداد، دار البشائر الاسلامیہ بیروت

۷۔ مکانۃ الامام ابی حنیفہ فی الحدیث از عبد الرشید النعمانی، مکتب المطبوعات الاسلامیہ حلب 

۸۔ الا مام البخاری فقیہ المحدثین ومحدث الفقھاء: سیرتہ، صحیحہ، فقھہ از نزار بن عبد الکریم جامعہ ام القری مکہ 

۹۔ الامام البخاری سید الحفاظ و المحدثین از تقی الدین ندوی، دار القلم دمشق

۱۰۔ ابو داود الامام الحافظ الفقیہ از تقی الدین ندوی، دار القلم دمشق

۱۱۔ الامام مسلم بن الحجاج صاحب المسند الصحیح و محدث الاسلام الکبیر از مشہور حسن ال سلیمان، دار لقلم دمشق

۱۲۔ ائمۃ الحدیث الشریف البخاری ،مسلم ،ابو داود ،الترمذی، النسائی ،ابن ماجہ از محمد علی قطب دار القلم بیروت (مزید التصنیف فی السنۃ النبویہ ص ۲۳۸ تا ۲۴۰)

۱۳۔ امام ابو حنیفہ امام الائمہ فی الحدیث از طاہر القادری 

۱۴۔ امام دار قطنی از مولانا ارشاد الحق اثری

۱۵۔سیرہ البخاری از مولانا عبد السلام مبارکپوری 

۱۶۔مشہور محدثین کرام از رفیق بلند شہری 

تیسری جہت: علوم الحدیث 

مصطلح الحدیث پر معاصر سطح پر متنوع کام ہوا ہے اور بلا شبہ کمیت و کیفیت میں قابل قدر اور قابل ذکر تصانیف لکھی گئی ہیں۔ علم اصول حدیث پر ہو نے والے جدید کام کو چار جہات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

۱۔علم اصول حدیث کی جدید ترتیب و تدوین 

۲۔ متون قدیمہ کی تشریح و توضیح 

۳۔اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات

۴۔مصطلح الحدیث پر تطبیقی کام 

۱۔ علم اصول حدیث کی جدید ترتیب و تدوین 

دور جدید میں علو م اسلامیہ کی تجدید اور نئے طرز پر ترتیب و تدوین کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں ،اور ہر علم و فن میں اس حوالے سے متعدد کاوشیں منظر عام پر آئی ہیں۔ اصو ل حدیث کے مباحث کی ترتیب جدید اور تہذیب وتنقیح پر بھی معاصر سطح پر قابل قدر کام ہوا ہے ۔چند اہم کاوشو ں کی نشان دہی کی جاتی ہے :

۱۔ معروف شامی عالم ڈاکٹر نور الدین عتر کی کتاب منہج النقد فی علوم الحدیث بلا شبہ مصطلح الحدیث کی ترتیب جدید کی نمائندہ کتا ب ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اصول حدیث کے جملہ مباحث کو اولاً بڑے دائروں میں تقسیم کر کے پھر ہر ایک دائرے کی ذیلی شاخیں اور فروعات نکالی ہیں ،اس طرح سے مکمل علم کو ایک مرتب و مربوط شکل دی ہے۔

۲۔معروف مصری محقق ڈاکٹر محمد محمد السماحی نے اصول حدیث کو بسط و تفصیل کے ساتھ موسوعاتی شکل میں بیان کرنے کے لیے کئی جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب المنہج الحدیث فی علو م الحدیث لکھی ہے جس میں تفصیل کے ساتھ مصطلح الحدیث کو بیان کیا ہے۔

۳۔ شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب کی کتاب قواعد فی علوم الحدیث، مصطلح الحدیث کی کتب میں بیا ن کردہ قواعد و اصول کی تنقیح و تہذیب کے اعتبار سے ایک تجدیدی کاوش ہے۔ یہ کتاب در اصل اعلاء السنن کا طویل مقدمہ ہے جس میں مصنف نے خاص طور پر فقہا کے طرز پر قواعد حدیث کو بیان کیا ہے اور حدیث کے قبول و رد میں فقہا و محدثین کے مناہج کے فرق کو واضح کیا ہے۔

ان کے علاوہ اس موضوع پر بے شمار کام سامنے آئے ہیں ،اور اصول حدیث پر جدید ترتیب ،تسہیل اور تدوین کے ساتھ مختصر و ضخیم کتب لکھی گئیں ہیں۔ چند اہم کتب کی فہرست دی جاتی ہے :

۱۔ قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث از جمال الدین القاسمی، موسسہ الرسالہ بیروت 

۲۔ المصباح فی اصول الحدیث از سید قاسم الترکی ،مکتبہ الزمان المدینہ المنورہ 

۳۔ توجیہ النظر الی اصول الاثر از شیخ طاہر الجزائری، مکتب المطبوعات حلب

۴۔ الوسیط فی علوم الحدیث از ڈاکٹر محمد ابو شہبہ، دار المعرفہ جدہ 

۵۔ علوم الحدیث و مصطلحہ از ڈاکٹر صبحی صالح، دار العلم بیروت

۶۔ لمحات فی اصول الحدیث از محمد ادیب صالح، دار العلم بیروت 

۷۔ تیسیر مصطلح الحدیث از محمود الطحان 

۸۔ الایضاح فی علوم الحدیث و الاصطلاح از مصطفی سعید الخن و الدکتور سید اللحام، دار الکلم الطیب دمشق

۹۔ تحریر علوم الحدیث از عبد اللہ بن یوسف الجدیع، دار الریان بیروت

۱۰۔ المنہاج الحدیث فی علوم الحدیث از الدکتور شرف القضاۃ، الاکادیمیون للنشر و التوزیع عمان 

۱۱۔ المنہج الحدیث فی تسہیل علوم الحدیث از الدکتور علی نائف البقاعی، دار البشائر الاسلامیہ بیروت (موسوعہ علوم احدیث و فنونہ از عبد الماجد غوری ۸۶ تا ۲۸)

۱۲۔ الموجز فی علوم الحدیث از محمد علی احمدین، قاہرہ

۱۳۔ الاسلوب الحدیث فی علوم الحدیث از محمد امین، قاہرہ

۱۴۔ تبسیط علوم الحدیث وادب الروایۃ از محمد نجیب المطیعی، مطبعہ حسان قاہرہ

۱۵۔ علوم الحدیث از عبد الکریم زیدان و عبد القہار داود عبد اللہ، مکتبہ جامعہ بغداد

۱۶۔ منھج التحدیث فی علوم الحدیث از رجب ابراہیم صقر، دار الطباعہ قاہرہ

۱۷۔ النھج الحدیث فی مختصر علوم الحدیث از علی محمد نصر، رابطہ العالم الاسلامی مکہ مکرمہ 

۱۸۔ المختصر الوجیز فی علوم الحدیث از محمد عجاج الخطیب، موسسہ الرسالہ بیروت

۱۹۔ اصول الحدیث النبوی، علومہ ومقاییسہ از عبد المجید ہاشم، دار الشروق قاہرہ

۲۰۔ قواعد مصطلح الحدیث از محمود عمر ہاشم قاہرہ 

۲۱۔ النھج المعتبر فی مصطلح اھل الاثر از عبد الموجود عبد اللطیف، دار الطباعہ قاہرہ

۲۲۔ علوم السنۃ وعلوم الحدیث، دراسۃ تاریخیۃ حدیثیۃ اصولیۃ از عبد اللطیف محمد عامر، مکتبہ وہبہ قاہرہ

۲۳۔ مھمات علوم الحدیث از ابراہیم آل کلیب ،دار الوراق ریاض

۲۴۔ قطف الثمر من علم الاثر از محمد احمد سالم قاہرہ 

۲۵۔ المنھل الحدیث فی علوم الحدیث از تو فیق احمد سالمان قاہرہ 

اردو کتب

۱۔ التحدیث فی علوم الحدیث از ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر 

۲۔ علوم الحدیث مطالعہ و تعارف از رفیق احمد سلفی 

۳۔علوم الحدیث ایک تعارف از مبشر نذیر

۴۔علوم حدیث رسول از ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

۵۔ آسان اصول حدیث از خالد سیف اللہ رحمانی 

۶۔علوم الحدیث مصطلحات و علوم از ڈاکٹر خالد علوی 

۷۔فوائد جامعہ بر عجالہ نافعہ از ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی

۲۔ متون اصول حدیث کی تشریح و توضیح 

مصطلح الحدیث پر دور جدید میں ہونے والے کام کا بڑا حصہ اصول حدیث کی بنیادی کتب کی تشریح ،تو ضیح اور ان پر تعلیقات ہیں۔اس سلسلے میں مصطلح الحدیث کی جملہ بنیادی کتب پر شروحات لکھی گئی ہیں ، الرامہرمزی کی المحدث الفاصل، حاکم نیسابوری کی معرفہ علوم الحدیث ،خطیب بغدادی کی کفایہ ،قاضی عیاض کی الالماع،ابن الصلاح کا مقدمہ، ابن کثیر کی اختصار علوم الحدیث ،ابن دقیق العید کی الاقتراح ،علامہ ذہبی کی الموقظہ ،جرجانی کی المختصر حافظ الدنیا حافظ ابن حجر کی نخبہ ،عراقی کی الفیہ اور علامہ سیوطی کی تدریب الراوی سمیت اصول حدیث کی جملہ بنیادی کتب، متون و منظومات کی شروحات و تعلیقات منظر عام پر آئی ہیں،چند اہم کاوشو ں کی فہرست دی جارہی ہے :

۱۔ شرح اختصار علوم الحدیث از احمد محمد شاکر، دار العاصمہ ریاض

۲۔ تسھیل شرح نخبۃ الفکر از محمد انور البدخشانی، ادارۃ القرآن کراتشی

۳۔ تقریب التدریب از صلاح محمد عویضہ، دار الکتب العلمیہ بیروت

۴۔ السعی الحثیث الی شرح اختصار علوم الحدیث از عبد العزیز بن الصغیر دخان، موسسہ الرسالہ بیروت

۵۔ اسعاف ذوی الوطر بشرح نظم الدرر فی علم الاثر للسیوطی از محمد بن علی الاثیوبی، مکتبہ ابن تیمیہ جدہ

۶۔ شرح البیقونیہ فی مصطلح الحدیث از محمد بن صالح عثیمین، مکتبہ السنہ قاہرہ

۷۔ ظفر الامانی بشرح مختصر السید شریف الجرجانی از عبد الحی اللکنوی، دار الکتب العلمیہ بیروت

۸۔ المنھل الروی من تقریب النووی از سعید مصطفی الخن دار الملاح دمشق

۹۔ کفایۃ الحفظۃ شرح المقدمۃ الموقظۃ از سلیم بن عید الھلالی

۱۰۔ شرح نزھۃ النظر از محمد بن صالح العثمین، مکتبہ السنہ، قاہرہ

۱۱۔ منحۃ المغیث شرح الفیۃ الحدیث از مولانا محمد ادریس کاندھلوی 

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث