دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)

مولانا محمد رفیق شنواری

اپنے اہل خانہ کے بعد طالب علم جس شخصیت سے زیادہ متا ثر ہوتا ہے، وہ اس کا استاد ہے۔ طالب علم اپنے استاد سے تہذیبی اقدار اور اخلاقیات کے وہ اسالیب سیکھتا ہے جو اس کی زندگی کا رُخ بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ استاد کی ’’شخصیت‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’شخصیت‘‘ سے مراد اس کا رویہ اور ظاہری تصویر مثلاً لباس، چال ڈھال، لب و لہجہ اور برتاؤ ہے۔ ’’مثالی‘‘ کا سابقہ ساتھ لگا کر استاد یعنی ’’مثالی استادکی شخصیت‘‘ کے مفہوم میں چند دیگر امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ استاد کی شخصیت تب کامل ہوگی جب اعلیٰ اخلاق، حسین ظاہر ی تصویر کے ساتھ تدریسی عمل میں اخلاصِ نیت، ذاتی شوق و دلچسپی اور تدریسی عمل کے ذریعے طالبِ علم کی اصلاح و تربیت کا اور اسی طرح مثالی طلبہ کے ذریعے پورے معاشرے کی تعمیر کا جذبہ شامل ہو۔ دینی مدارس کے اساتذہ کرام کے لیے اپنی شخصیت میں نکھار ، حسن اور شائستگی پیدا کرنے کے لیے بہترین نمونہ تو سیرت طیبہ ہی ہے، اس کے بعد اسلاف کی عظیم تاریخ ہے ۔ جس میں شخصیت کی تکمیل و تحسین کا پورا سامان موجود ہے۔ عصر حاضر کے تناظر میں بات کی جائے تو واضح رہنا چاہیے کہ استاد کا کام طالب علم کو محض چند اسباق یا کتب پڑھا دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل کام اپنے طلبہ میں علم کا شوق پیدا کرنا، مزید جاننے کی لگن پیدا کرنا اور تحقیق و جستجو کے لیے ان کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔

استاد کا ظاہر

استاد جتنی دلکش اور اچھی شخصیت کا مالک ہوتا ہے اس کا اتنا ہی اچھا اور مثبت اثر طالب علم پر پڑتا ہے ۔ طالب علم اپنی شخصیت کی تعمیر میں اس کا اتباع کرتا ہے اور حصول علم میں اس کی زبان سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ پر خصوصیت کے ساتھ توجہ دیتا ہے ۔استاد کا ظاہر کافی وسیع مفہوم رکھتا ہے جس پر مسلمان اہل علم، بالخصوص محدثین کے قدیم ادوار ہی کی تحریر یں موجود ہیں۔ جو عام طور پر ’’سامع و متکلم‘‘ یعنی حدیث لینے والے طالب علم اور حدیث بیان کرنے والے استادکے لیے آداب کے عنوان سے معروف ہیں۔ بطور مثال یہاں چند آداب کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا۔

  • طالب علم کو جھوٹ سے پرہیز اور سچ بولنے کی عادت ڈالنے کے لیے استاد کو جھوٹ بولنے سے اجتناب اور سچ بولنے کا التزام کرنا ہوگا۔
  • استاد کا طلبہ کے ساتھ گفتگو کا انداز اور لب ولہجہ ہمہ وقت نرم و شیریں ہونا چاہیے ۔ زبان کی نرمی اور سختی کے اثرات اور نتائج بہت دور رس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے متبعین اور متعلقین کو شیر یں گفتاری اور خوش کلامی کی بڑی تاکید فرماتے اور بدزبانی اور سخت کلامی سے شدت کے ساتھ منع فرماتے تھے ۔ یہاں تک کہ بری بات کے جواب میں بھی بری بات کہنے کو آپؐ پسند نہیں فرماتے تھے ۔
  • معاشی زندگی میں جو پیشے عرفِ عام میں یا شرعاً ر ذیل اور ناپسند یدہ شمار ہوتے ہیں، اساتذہ کو چاہیے کہ ان سے پرہیز کریں۔ کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے اُن پر کوئی الزام لگنے کا اندیشہ ہو۔ جو کام بظاہر معیوب اور مکروہ ہو اس کے ارتکاب سے بچیں اگرچہ درحقیقت وہ کام جائز اور درست ہو۔ اس لیے کہ ایسے کام کرنے سے نہ صرف ان کی عزت گھٹ سکتی ہے بلکہ خود ان کی شخصیت کا وقار اور اعتماد بھی متاثر ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔
  • مدارس کے اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عادات، اقوال و اعمال،لباس اور وضع قطع کے لحاظ سے ہمیشہ حدِّ جواز کے قریب رہنے کے بجائے مستحبات اور مندوبات کی جانب بڑھیں۔ ایک استاد، جس کو تعلیم و تربیت کی عظیم ذمہ داری اٹھانے پر معمارِ قوم کا خطاب ملا ہے ، اس کے لیے شایاں نہیں کہ مستحسن امر ترک کرکے صرف جائز ہی پر اکتفا کرے۔(۱)

استاد کا جذبِ دروں

ایک استاد مثالی تب کہلاتا ہے جب اس کے عمل تدریس میں ضروری مثالی عوامل و محرکات موجود ہوں۔ مثلاً : نیت کا اخلاص، علمی رسوخ، معاشرے کی تعمیر کا جذبہ وغیرہ۔

خالص نیت

یہ ایک نہایت تاکیدی امر ہے کہ تعلیم و تدریس کا عمل ریا سے خالی ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم ا سے نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن عالم کو اللہ تعالیٰ طلب فرمائیں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ میں نے تجھے علم دیا تھا تونے اس کا کیا حق ادا کیا؟ وہ کہے گا یا رب میں نے آپ کی رضا کے لیے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھا یا تاکہ آپ راضی ہو جائیں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جھوٹ بولتا ہے اور فرشتے بھی اُسے کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ، تونے اس لیے سیکھا اور سکھایا تاکہ تو بڑا عالم کہلائے، سو تجھے دنیا میں وہ کہا جاچکا اور پڑھنے پڑھانے سے جو غرض تھی وہ پوری ہوگئی، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیں گے اور وہ اس کو جہنم کی آگ میں اوندھے منہ پھینک دیں گے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث سناتے ہوئے تین بار غش کھا کھا کر گرے تھے اور پانی کے چھینٹے ڈال کر آپؓ کی طبیعت کو بحال کیا گیا تھا۔(الترغیب و الترہیب)

اپنے مضمون اور اس کی تدریس کے ساتھ شوق اور دلچسپی

کسی بھی استاد کو اپنا عملِ تدریس مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مضمون اور تخصّص کے ساتھ گہری دلچسپی اور شوق رکھتا ہو۔ کیونکہ شوق اور جذبہ وہ بنیادی چیز ہے جس کی بنیاد پر ایک انسان کوئی بھی کام بے لوث ہو کر احساس ذمہ داری کے ساتھ کرسکتا ہے۔ 

معاشرے کی تعمیر کا جذبہ

کوئی بھی عمل تدریس اس وقت تک مفید اور موثر نہیں ہوسکتا جب تک اس کے پیچھے قومی تعمیر نو کا جذبہ نہ ہو۔ استاد کی ذمہ داری صرف اس حد تک نہیں کہ وہ درس گاہ میں آئے، پڑھائے اور بس۔ بلکہ اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تدریس کے ذریعے معاشرے میں مصلحین پیدا کرے۔ تدریس کے لیے ضروری ہے کہ استاد کے اندر خود معاشرے کی تعمیر کا جذبہ ہو، معاشرے کی کمزوریوں اور تقاضوں اور ضروریات کا ادراک ہو۔ وہ انہی کی روشنی میں اہداف کا تعین کرے اور پھر اس کے مطابق اپنی تدریس کی طرف متوجہ ہو۔

سیرت طیبہ اور اسلاف سے مثالیں

جیساکہ اوپر ذکر ہوا، مدارسِ دینیہ میں تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے بہترین نمونہ سیرت طیبہ اور اپنے اسلاف کی تاریخ ہے ۔ استاد کے سامنے اپنے لیے ضابطہ اخلاق کے تعین کا مسئلہ ہو، یا رویے اور برتاؤ کے اصول درکار ہوں، یا تدریس کے لیے آداب و قواعد وضع کرنے کا معاملہ ہو، تدریسی عمل کے تمام پہلوؤ ں کی بنیادیں سیرت طیبہ اور قدیم مسلمان اہل علم و فکر کے یہاں ملتی ہیں۔ اس لیے دینی مدارس کے استاد کے لیے بالخصوص اور اسلامی نظام تعلیم کے ہر استاد کے لیے بالعموم سیرت طیبہ اور تاریخ اسلام کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں ہوسکتی۔ یہ حقیقت بھی ذہنوں میں مستحضر رہے کہ زمانے کے ’’عرف‘‘ بدل جانے اور نئی ایجادات اور مفید انسانی تجربات کو اختیار کرنے سے تدریس کی دنیا میں جو انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، دینی مدرسے کا استاد اس سے اجنبی نہ رہے، بلکہ اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ (حکمت مومن کی گم شدہ متاع ہے۔ ترمذی) کے مصداق نئے مفید طریقوں کو اختیار کرنے کو سیرت پر عمل کا تقاضا ہی سمجھے۔

نبی کریم ا کا ارشاد گرامی ہے کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے (تخریج الاحیاء) ۔ آپؐ کی عمر کا آخری تیئس سالہ عہدِ نبوت مکمل تعلیم و تربیت میں گزرا ہے۔ وہ ایسے معلم تھے جن کی تعلیم و تربیت نے اس مختصر مدت میں نہ صرف پورے جزیرہ عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی بلکہ پوری دنیا کے لیے رشد وہدایت کی وہ ابدی قندیلیں بھی روشن کردیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کو عدل و انصاف، امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی۔ یہ آپؐ کی تعلیم و تربیت کا حیرت انگیز کرشمہ تھا کہ تیئس سال کی مختصر مدت میں صحرائے عرب کے جنگجو قبائلی جو علم و معرفت اور تہذیب و تمدن سے بالکل کورے تھے، وہ پوری دنیا میں علم و حکمت اور تہذیب و شائستگی کے چراغ روشن کرنے لگے ۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت کا جو سو فیصدکامیاب نتیجہ دنیا نے دیکھا ہے ، تاریخ انسانیت کے کسی اور معلم کے یہاں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آج کا استاد ذرا غور تو کرے کہ آنحضرت ا کی تعلیم و تربیت کی وہ کیا بنیادی خصوصیات تھیں جنہوں نے دنیا بھر میں یہ حیرت انگیز انقلاب برپا کردیا! (۲)

تدریسی اور فنی مہارتیں

اپنے مضمون پر مکمل عبور

علم وفن کو دوسروں کی طرف منتقل کرنے بلکہ پورے تعلیمی عمل کی کامیابی اور مؤثر حکمت عملی کا انحصار اس پر ہے کہ استاد اعلیٰ استعداد کا مالک ہو اور خود نفسِ مضمون پر عبور رکھتا ہو۔ چنانچہ استاد کا فرض ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور استعداد کو مسلسل مزید جلا بخشے ، اس میں پختگی پیدا کر ے، اپنے مضمون اور شعبۂ علم میں جدید تحقیقات اور نئے علمی کام سے باخبر رہے، کیونکہ آج دنیا میں علم ایک تیز رفتار چشمے کی طرح پھوٹ رہا ہے، جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے یہ پھیلتا چلا جاتاہے ۔آج مسلسل مطالعہ ایک معلم کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کھیتوں اور باغوں کے لیے پانی ۔اس سلسلے میں غفلت برتنے سے علمی پیش رفت رُک جاتی ہے ، سوچیں محدود ہوجاتی ہیں، حال کا اطمینان غارت اور مستقبل کا یقین متزلزل ہوجاتا ہے۔ علم بڑا غیور واقع ہوا ہے۔ اگر اُسے ذوق و شوق ، محنت، قلبی لگاؤ اور رضا کار انہ محنت و مشقت کے جذبے کے بغیر محض مطلب برآری اور کسب معاش کے لیے پڑھا اور پڑھا یا جائے تو اس کی حقیقی روح پر دسترس ممکن نہیں رہتی ۔مشہور عربی کہاوت ہے: اَلْعِلْمُ لَایُعْطِیْکَ بَعْضَہٌ حَتّٰی تُعْطِیْہِ کُلَّکَ (اپنی جان و مال پوری کی پوری علم کے حصول کے لیے استعمال کی جائے تب تھوڑا سال علم حاصل ہو تا ہے ) ۔ مضمون پر دسترس نہ ہوتو معلم علم و فضلیت کے لاکھ لبادے اوڑھے علمی بدذوقی کے داغ نہیں چھپتے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زمین سے ابلنے والا چشمہ اتنی ہی قوت اور رفتار سے ابلتا ہے جتنا زمین کی سطح کے نیچے پانی کا دباؤ ہوتا ہے ۔ اگر ایک معلم علمی لحاظ سے تہی دامن ہے ، دین و دانش کی بنیادی قدروں سے محروم ہے ، اسے صحیح اسلامی عقائد و اعمال، اخلاق و کردار اور تاریخ کا علم نہیں تو وہ کسی بھی صورت اپنے شاگرد کے قلب و نظر میں گیرائی اور گہرائی پیدا نہیں کرسکتا۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ایک اچھا معلم ایک اچھے معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ اس لیے انہیں خود بھی اپنے اندر حصول علم کا ذوق و شوق پیدا کرنا چاہیے، اور یہی ذوق اپنے متعلمین کے اندر پیدا کرنے کا متمنی ہونا چاہیے۔ اپنے مضمون پر مکمل دسترس اور اس کی گہرائیوں تک رسائی جہدو کاوش، محنت و سعی اور طلب و جستجو کی متقاضی ہے۔

دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے تمام علوم۔ تفسیر و اصولِ تفسیر، حدیث و اصولِ حدیث، فقہ و اصول فقہ، عربی ادب ۔ پر دنیا بھر میں کام ہورہا ہے ۔ مختلف علوم میں مختلف زاویوں سے بحث و تحقیق کا عمل جاری ہے۔ ہر علم کے نئے پہلوؤں اور جدید مسائل پر عصری مباحث کے ساتھ ساتھ قدیم کتب کا ذخیرہ بھی ایڈیٹنگ، فہرست سازی اور اصولِ تحقیق پر پورا اترنے والے جدید معیارات کے ساتھ آراستہ کیا جا رہا ہے۔ دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے بھی ان تمام کاوشوں اور محنتوں سے باخبر رہنا ضروری ہے جس کا فائدہ علم میں اضافہ، اس میں وسعت اور گہرائی اور رسوخ حاصل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فائدہ بھی ہے کہ اگر اسلامی علوم میں غلطی سے یا بدنیتی کی بنا ء پر کوئی خلاف حقیقت دخیل سازی اور پیوندکاری کا ارتکاب کرے تو اس کا ادراک بھی ہوگا اور بروقت اس کا راستہ روکنے کے لیے موقع بھی میسر ہوگا۔

طلبہ کی نفسیات سے آگہی

معیاری تدریس کے لیے یہ بات بھی انتہائی ضروری ہے کہ تدریس بچے کی نفسیات کے مطابق ہو۔ اگر تعلیمی عمل میں طلبہ کی نفسیات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو طلبہ کا تعلیم سے متنفر اور بیزار ہونے کا خدشہ رہتا ہے اور ان کی صلاحتیں نکھر کرسامنے نہیں آسکتیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ کلاس میں موجود طلبہ کی فطرت، ضرورت اور صلاحیت کے مطابق تدریسی تقاضوں کو پورا کیا جائے ان کی کسی طور پر حوصلہ شکنی نہ کی جائے ۔ ان کے اندر موجود صلاحیت کی صحیح طور پر راہنمائی کی جائے ۔ پیا ر اور محبت سے ان کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرکے ان کی صلاحیتوں کو مزید جلا مل سکتی ہے ۔

استاد کے لیے تمام طلبہ کی نفسیات کا لحاظ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ طالب علم عمر، علاقہ، ماحول، کلچر اور خاندان وغیرہ کئی پہلوؤں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان اعتبارات کی بنیاد پر اختلاف کے نتیجے میں ان کے احساسات، جذبات، خیالات اور تقاضوں میں بھی بڑا اختلاف موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کرنا جہاں مشکل ہے وہاں یہ صحیح بھی نہیں ہے۔ اس لیے استاد کو تعلیم و تربیت دونوں میں طلبہ کی نفسیات کا خیال رکھنا ہوگا۔

تربیت کے پہلو سے اگر دیکھا جائے تو ہر انسان کے عمل سے پہلے اس کا ارادہ ہوتا ہے۔ ارادے سے پہلے خیالات اور خیالات پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں۔ ترتیب یوں ہو گی: (۱)اسباب، (۲) خیالات، (۳) ارادے، (۴) اعمال، (۵) اور پھر ان اعمال پر مرتب ہونے والے نتائج۔

تعلیم و تربیت کے پہلو سے استاد کو سب سے پہلے شاگردوں کے خیالات کو جنم دینے والے عوامل اور اسباب پر نظر کرنی چاہیے۔ اسباب میں سب سے پہلا طالب علم کی فطرت ہے۔ استاد کے لیے طلبہ کی فطرت کو بالکل بدل دینا تو ممکن نہیں لیکن محنت کے ساتھ اس فطرت کو سنوارا ضرور جاسکتا ہے۔ دوسرا اہم پہلو طلبہ کے ’’مادی مزاج‘‘ سے آگہی ہے۔ جس پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں کھانا پینا اور مختلف لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا شامل ہیں۔ حلال اور کم کھانے اور صالح لوگوں کی صحبت کا اثر اچھا ہوتا ہے ۔ استاد کو ان عوامل پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ تیسرا سبب بعض اتفافات ہوتے ہیں جو اچھے یا بُرے خیالات کا سبب بن جاتے ہیں۔ مثلاً کوئی گناہ کا عادی اتفاقاً کسی نیک مجلس یا اصلاحی موقع پر پہنچ گیا تو فوراً خیال بدل گیا اور گناہ سے تائب ہوگیا۔

تربیت کے پہلو کے ساتھ ساتھ تعلیم کے دوران بھی استاد کو طلبہ کی نفسیات جاننا ضروری ہے۔ تعلیم کی دو صورتیں ہیں: انفرادی اور اجتماعی۔ انفرادی تعلیم کی مثال حفظِ قرآن ہے۔ اس صورت میں استاد کو چاہیے کہ طالب علم کی ذہنی سطح اور شوق معلوم کرکے اس کے مطابق حفظ کرائیں۔ تعلیم کی دوسری صورت اجتماعی تعلیم ہے ۔ جس کا عمومی رواج ہے، یعنی ایک کلاس میں مختلف طلبہ ایک استاد سے ایک وقت میں ایک ہی کتاب پڑھتے ہیں، جبکہ کلاس میں شریک طالب علم عمر، ذاتی شوق اور اپنی فطری صلاحیت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ استاد کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ و ہ کتاب کی تدریس اس طریقہ سے کرے کہ تمام طلبہ اس کو اپنی صلاحیت کے برابر پائیں، کوئی طالبِ علم اسے اپنی سمجھ سے بالاتر محسوس نہ کرے۔ استاد کو چاہیے کہ اپنی پوری کلاس کی نفسیات جان کر تدریس کا فریضہ ادا کرے۔ تدریسی مہارت کے ساتھ جب نفسیاتی مہارت بھی ہوتو پوری جماعت کی تعلیمی ترقی آسان اور بہتر ہوجاتی ہے۔ استاد کی ذمہ داری ہے کہ تدریس کے ساتھ طلبہ کی راہنمائی بھی کریں، مثلاً:مطالعہ کا وقت اور طریقہ بتلائیں، کسی خاص متعلقہ مفید کتا ب کی نشاندہی کریں، طالب کو احساس کمتری سے بچائیں اور خود اعتماد بنائیں۔(۳)

ابلاغ کی صلاحیت

عمل تعلم تمام تعلیمی سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ ہے ۔ تعلم ہی کو مؤثر اور جاندار بنانے کے لیے تعلیمی مقاصد طے کیے جاتے ہیں، نصاب مرتب کیا جاتا ہے ، ماہرین اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے وغیرہ۔ وہ جگہ جہاں طالب علم تعلّم کی شعوری کوششوں کا اصل ہدف ہوتا ہے، کمرۂ جماعت ہے اور در اصل کمرۂ جماعت میں معلم اور متعلم کے درمیان وقوع پذیر ہونے والا ابلاغ تعلّم کی جان ہے ۔ اس عمل ابلاغ کا مقصد معلم اور متعلم کی معلومات اور احساسات میں شراکت پیدا کرنا ہے ۔اس کا براہِ راست اثر متعلم کی ذات پر ہوتا ہے اور یہ اثر سطحی اور وقتی نہیں ہوتا بلکہ اس کا نقش ہمیشہ کے لیے ثبت ہوجاتا ہے ۔ کمرہ جماعت کے اندر استاد اور شاگرد کے تعامل کے نتیجے میں طالب علم کی شخصیت کی پوری عمارت تعمیر ہوتی ہے اور اسی طرح یہ تعامل طالب علم کی ذہنی نشو و نما پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ ’’ابلاغ‘‘ کئی عناصر رکھتا ہے اور وہ سب باہم مل کر ایک مخصوص تسلسل کے ساتھ ابلاغ کا عمل مکمل کرتے ہیں۔

مبدائے پیغام

کمرہ جماعت میں ابلاغ عموماً استاد کی طرف سے شروع کیا جاتا ہے ، عمل ابلاغ کی ابتدا دماغ میں کسی خیال کے آنے سے ہوتی ہے ۔ پس استاد کو متعلقہ مضمون کے بارے میں اپنے افکار و خیالات میں وسعت، گہرائی و گیرائی، جامعیت اور رسوخ پیدا کرنا چاہیے جس کا ایک بہترین طریقہ مسلسل مطالعہ ہے ۔

پیغام کو معانی پہنانے کا عمل

پیغام کو معانی پہنانے کا عمل، ذہن میں موجود خیالات و افکار کو الفاظ یا جسمانی حرکات و سکنات اور یا چہرے کے اتار چڑھاؤ میں بدلنے کا عمل ہے جس کو ’’تعبیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ کمرہ جماعت میں استاد کی مہارت کا یہ بہت بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے پیغام کو عام فہم انداز میں طلبہ تک منتقل کرے۔ اس کے لیے استاد کے پاس اپنے طلبہ کی ذہنی سطح کے بارے میں بھی معلومات ہونی چاہییں۔ نبی اکرم صلی اللہ علہ وسلم کا ایک فرمان بھی اس طرف ہماری راہنمائی کرتا ہے: حَدِّثُوْا النَّاسَ بِمَا یَعْرِفُوْن (لوگوں سے ان کی عقل و فہم کے مطابق بات کیا کرو)۔ (بخاری)

اس لیے استاد کو چاہیے کہ اپنی تعبیر آسان انداز میں اور سادہ لفظوں میں پیش کریں تا کہ طلبہ سہولت کے ساتھ سمجھ سکیں۔

پیغام کا ذریعہ

پیغام کو لفظی یا غیر لفظی صورت میں پیغام وصول کرنے والے تک پہنچانے کے لیے کسی نہ کسی ذریعے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ ذریعہ سمعی یا بصری ہوسکتا ہے ۔ لفظی ابلاغ میں استاد کی تقریر طلبہ تک پہنچتی ہے ، جبکہ غیر لفظی ابلاغ میں آنکھوں کے اشارے ، ہاتھوں کی جنبش، چہرے کا اتار چڑھاؤ اور جسمانی حرکات ہوتی ہیں۔اس کا دارومدار استاد کی شخصیت پر ہوتا ہے۔ استاد کو خوش خلقی اور نرم خوئی کے ساتھ اپنی شخصیت میں سنجیدگی اور متانت برقرار رکھنی چاہیے ۔ 

پیغام میں مداخلت

ابلاغ میں عموماً کسی نہ کسی طرف سے مداخلت ہورہی ہوتی ہے جس کا نتیجہ ابلاغ میں رکاوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ مداخلت یا رکاوٹ فرد کے اندر سے بھی ہوسکتی ہے، مثلاً تھکاوٹ، بیماری وغیرہ اور باہر سے بھی مثلاً کمرۂ جماعت میں شور پہنچ رہا ہے، طلبہ آپس میں غیرضروری گفتگو میں مشغول ہیں یا تختہ تحریر پر غیر ضروری مواد لکھا ہوا ہے جس کا سبق سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کل موبائل بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ استاد جب بھی محسوس کرے کہ ان میں سے کسی قسم کی مداخلت ہورہی ہے تو اُسے اس کا تدارک کرنا چاہیے۔

پیغام کی ترسیل

کمرۂ جماعت کے اندر ابلاغ کا عمل جاری رہتا ہے۔ استاد اپنی استعداد کے مطابق پیغام رسانی کررہا ہوتا ہے اور طلبہ اپنی اپنی بساط کے مطابق اس کو وصول کررہے ہوتے ہیں۔ اس عمل ابلاغ کے اندر جو الفاظ یا اشارے مل رہے ہوتے ہیں ہر طالب علم اُنہیں اپنی فطری صلاحیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔استاد کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے شاگردوں تک جو پیغام پہنچانا چاہتا ہے، وہ درست طور پر ان تک پہنچ سکے۔

جدید و سائل تعلیم کا استعمال

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں تعلیم دینے کے عمل پر نظر ڈالی جائے تو اس میں خطبات، تمثیلات، زمین پر بنائے گئے اشارات اور متعدد دیگر اشیاء کے استعمال کا ذکر ملتا ہے ۔ ان سب سے مقصود جناب نبی کریم ا کے پیشِ نظر یہ تھا کہ امت ان ارشادات کو آسانی کے ساتھ اور اچھی طرح سمجھ سکے۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ’’تعلیمی سنتیں‘‘ امت کے اساتذہ کے تعلیمی و تربیتی عمل میں مشعل راہ ہیں۔ہر استاد کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے اس کے طلبہ اچھی طرح سبق سمجھیں اور تعلیم کے عمل میں ان کے ذوق و شوق میں اضافہ ہو۔ اساتذہ کو اُن تمام وسائل اور مواد پر غور کرنا چاہیے جو تدریسی عمل میں جدّت اور بہتری پیدا کرے اور ان کی تعلیمی و تدریسی سرگرمی کو اعلیٰ معیار کی طرف لے کر جائے۔ ان وسائل سے واقفیت ابتدائی درجہ ہے، اس سے بڑھ کر انہیں مفید اور موثر طریقے سے استعمال کرنے کا سلیقہ بھی آنا چاہیے ۔ قرآن کریم کی تحفیظ و تجوید کے دوران میں اگر استاد کمپیوٹر، موبائل فون یا سی ڈی سے مدد لیں اورطلبہ کو سنوائیں اور پھر طلبہ کو ان معروف قراء کی طرح تجوید کے قواعد کے التزام اور لب ولہجہ کے ساتھ ترتیل کی مشق کرائیں تو طلبہ کی حفظ اور قرآن خوانی کی صلاحیت میں خاطر خواہ بہتری پیدا کی جاسکتی ہے ۔ کئی مدارس میں یہ طریقہ آزمودہ ہے جس کی افادیت اور تاثیر واضح ہے۔اسی طرح عربی زبان کی تعلیم میں اگر انگریزی زبان کی تعلیم کا مروجہ طریقہ اختیار کیا جائے، مختصر جملوں پر مشتمل چھوٹی چھوٹی کہانیاں طلبہ کو ویڈیو کے ذریعے سکھائی جائیں، جس میں سکرین پر آواز کے ساتھ ساتھ وہی بولے جانے والے الفاظ تحریر شدہ بھی دکھائے جاتے ہیں۔ ان ویڈیوز کو دیکھ کر طالبِ علم صحیح اور درست لہجوں کو سیکھ سکتا ہے۔ نیز وہ یہ بھی جان سکتا ہے کہ اہلِ زبان خوشی، رنج، تعجب یا غصے کی حالت میں اپنے جذبات کا اظہار کن اشاروں یا چہرے کے تأثرات کے ساتھ کرتے ہیں۔ انگریزی زبان کی تعلیم میں یہ طریقہ رائج ہے جو مفید اور موثر ہونے کی وجہ سے مقبول بھی ہے۔ اہل مدارس کو بھی عربی زبان کی تعلیم کے لیے یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور ماہرینِ لسانیات نے عربی کی تعلیم کے لیے جو بھی ایسی ویڈیوز وغیرہ بنائی ہوئی ہیں ان سے استفادہ کرنا چاہیے۔

دینی مدارس میں باہمی تعلقات

عربی کہاوت ہے ’’اَلْمُعَاصَرَۃُ اَصْلُ الْمَنَافَرَۃُ‘‘ یعنی ( ہم زمانہ ہونا باہمی نفرت کی جڑ ہے)۔ ماضی کی شخصیات کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے میں کوئی مشکل محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اچھے لفظوں میں ان کے تذکرے آسان ہوتے ہیں۔ تاہم کسی معاصر کو قبول کرنا اور ایک بڑے مقام پر اس کو تسلیم کرنے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔ اس لیے آپس میں مباحثے اور علمی نوک جھونک بھی رہتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی کے ایک بزرگ عالمِ دین جب ایک معاصر عالم سے مناظرہ ہار گئے تو شدتِ غم سے نڈھال ہو کر انتقال کر گئے، واللہ اعلم ۔معاصرانہ چشمک کی مثالوں سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ ایسی مثالیں ہمیں اپنے ارد گرد بھی نظر آجاتی ہیں، جو بہرحال اچھی مثالیں نہیں ہیں۔ غور کیا جائے تو اس کیفیت کی بنیاد دل میں پیدا ہونے والی حسد کی بیماری ہے، جس کی پیدائش تو غیرفطری نہیں ہے، لیکن اس کی افزائش انسان خود کرتا ہے۔ یاد رہے کہ حسد کی کیفیات کو دل سے نکال پھینکنا ہی تقویٰ کا اعلیٰ مقام ہے۔ تاہم یہ بھی یاد رہے کہ شریعت کی رو سے فقط اس فطری حسد پرکوئی مؤاخذہ نہیں، لیکن اس فطری حسد کی بنیاد پر ایک دوسرے کی غیبت کرنا، کسی بھی اعتبار سے کسی کی شخصیت کو مجروح کرنا یا کسی کے متعلق بے جا تبصروں اور تذکروں میں اس کی توہین کی حد تک پہنچنا وغیرہ یہ سب امور مستوجبِ گناہ ہیں اور اس کا طلبہ پر منفی اثر پڑنا ایک ناگزیر نتیجہ ہے۔ مثبت سوچ کا زاویۂ نظر یہ ہے کہ جب تمام دینی تعلیمی اداروں کا اور ایک ادارے کے اندر موجود تمام اساتذہ کا مقصد ایک ہی ہے اور وہ سب مل کر ایک ہی ہدف کی طرف پیش رفت کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصل فریضہ بھی ان سب کا ایک ہی ہے۔ تو مشترک کام میں جو بھی شریک جتنا زیادہ کام کرے دیگر شرکاء کو خوش ہونا چاہیے اور اس کام کو کرنے والے رفیق کا رکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ اس کی محنت کی وجہ سے ان سب کا کام آسان ہو جاتا ہے اور اس طرح ان کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ قرآن و سنت نے ویسے بھی ایک دوسرے کی غیبت اورایک دوسرے کی بے جا تنقیص سے بصراحت منع کیا ہے۔ اگر اساتذہ ایک دوسرے کا احترام کریں، ان کا آپس میں حوصلہ افزائی اور مساعدت و معاونت کا جذبہ ہو تو طلبہ کے ذہن و قلب پر بھی اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور وہ بھی تمام اساتذہ کا یکساں طور پر احترام کریں گے۔ اس باہمی احترام اور تعاون کی مدد سے تعلیم و تربیت کا عمل مؤثر اور صحیح سمت میں جاری رہے گا۔

طلبہ کے ساتھ شفقت کا برتاؤ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ تو سراسر تعلیم و تربیت سے عبارت ہے جو بے پناہ خصوصیات کی حامل ہونے میں اپنی نظیر آپ ہے۔ ان میں ایک خصو صیت جس نے شاید ان نبوی تعلیم و تربیت میں معجزانہ تاثیر رکھی وہ آپ ا کی شفقت و رحم دلی، دل سوزی اور خیر خواہی اور نرم خوئی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے آپؐ کی اس خصوصیت کا ذکر فرما کر اسے آپؐ کی کامیابی کا بہت بڑا سبب قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَھُمْ وَلَوْکُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ۔

پس یہ اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا ء پر آپؐ لوگوں کے لیے نرم خو ہو گئے اور اگر درشت مزاج و سخت دل ہوتے تو یہ لوگ آپؐ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ (آل عمران:۱۵۹)

سیرت کا طالب علم بخوبی جانتا ہے کہ آپؐ کو کس قدر اذیتیں پہنچائی گئیں، آپؐپر مصائب و آلام کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی تھی لیکن آپؐ ان لوگوں پر غضب ناک ہونے کے بجائے ان پر ترس کھاتے تھے۔ اور آپؐ کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ وہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے حق بات ان کے دل میں اتر جائے اور یہ ہدایت کے راستے پر آجائیں۔(۴)

نبوی تعلیم و تربیت کی خصوصیت اگر آج کے مدرسین و معلمین اپنے سامنے اصول کے طور پر رکھیں اور ہر طالب علم کے ساتھ اپنی اولاد کی طرح مشفقانہ رویہ رکھیں، کتاب کی تدریس سے بڑھ کر ان کے دکھ درد میں شریک اور ہر لمحے ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند ہوں تو تدریس و تعلیم کا یہ عمل محض ایک وقتی مشغلہ نہیں رہے گا بلکہ طلبہ کی علمی و فکری ترقی، ان کی صلاحیتوں میں نکھار اور ان کی شخصیت میں حسن و جاذ بیت پیدا کرے گا۔ مشاہدہ ہے کہ طلبہ نرم خو اور مشفق استاد سے زیادہ قربت محسوس کرتے ہیں۔ شخصیت عالمانہ ہوتو طلبہ اُس کی اداؤں کو اپناتے ہیں اور اس استاد کے اثرات جلدی ان پر ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ استاد اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ طالبِ علم سے لغزش صادر ہونے پر تنبیہ بھی کریں لیکن ایسے کسی بھی موقع پر زیادہ غیظ و غضب اور ڈانٹ ڈپٹ سے اپنے مشتعل جذبات کی تسکین نہ کریں بلکہ تنبیہ میں بھی طالبِ علم کی عزتِ نفس کا خیال رکھیں اور آئندہ کے لیے اس کے حق میں اس قسم کے لغرشوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگیں۔

طالب علم کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت تیار

طلبہ کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں استاد کی ذمہ داری محض کمرۂ جماعت تک محدود نہیں بلکہ درسی امور کے علاوہ ان کے شب و روز کے معمولات پربھی نظر رکھنی چاہیے ۔ طلبہ جب گھر بار چھوڑ کر مدرسے میں آکر مسافر بنتے ہیں تو استاد کی ذمہ داریوں میں تدریسی ذمہ داری کے ساتھ تربیتی ذمہ داری بھی لازماً شامل ہوجاتی ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان پڑھنے اور پڑھانے والے سے بڑھ کر باپ اور بیٹے کا روحانی رشتہ بھی قائم ہوتا ہے۔ اس مقدس رشتے کے ناطے استاد پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ طالبِ علم کی زندگی کے ہر شعبے میں اس کے قول و فعل اور نقل و حرکت کی خبر لیں اور اس طرح وہ ہمہ وقت طلبہ کی تربیت اور رہنمائی کے عمل میں مصروف ہوں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر اگر غور کیا جائے تو آپؐ اس قسم کے معلم نہ تھے کہ محض کوئی کتاب پڑھا کر یا درس دے کر فارغ بیٹھتے ہوں اور یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کردیا بلکہ اس کے بجائے آپؐ اپنے زیر تربیت افراد کی زندگی کے ایک ایک شعبے کے بارے میں متوجہ رہتے تھے ۔ ان کے ہر دکھ درد اور غمی خوشی میں حصہ لیتے اور اس کے ساتھ ہر لمحے ان کی فلاح و بہبود کے لیے فکر مند رہتے تھے ۔ آپؐ کے اس وصف کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوْل’‘ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْز’‘ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْص’‘ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْف’‘ رَّحِیْم’‘

بلاشبہ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جس پر تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے اور جو تمہاری بھلائی کی لیے بے حد حریص ہے اور مسلمانوں پر بے حد مہربان ہے۔ (سورۃ التوبہ:۱۲۸)


حواشی

۱۔ اس موضوع پر تفصیلی مصادر کی طرف مراجعت کی جائے تو دیگر آداب کا ذکر بھی ملتا ہے مثلاً خطیب بغدادی کی معروف کتاب الجامع لأخلاق الراوی و آداب السامع دو جلدوں میں، اور ابن جماعہ الکنانی کی تذکرۃ السامع و المتکلم فی آداب العالم و المتعلم اور ابن عبد البر کی جامع بیان العلم وفضلہ وغیرہ۔ ثانی الذکر کتاب کا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔

۲۔ مزید مطالعہ کے لیے دیکھیے: محمد حنیف عبدالمجید، ’’مثالی استاد‘‘، (ص ۱۷۔۱۸)

۳۔ مزید مطالعہ کے لیے دیکھیے، ’’رہنمائے معلمین‘‘، مولانا مفتی ذاکر حسن نعمانی، حذف و اضافے اور ترمیم کے ساتھ۔

۴۔ مزید مطالعے کے لیے دیکھیے، ’’مثالی استاد‘‘ (ص ۱۸۔۱۹، بحوالہ ’ہمارا تعلیمی نظام‘)۔

(جاری)

تعلیم و تعلم / دینی مدارس