برصغیر کی صنعتی و تجارتی حالت ۔ انگریز کی آمد سے پہلے اور بعد میں

مولانا محمد انس حسان

کسی بھی ملک کی صنعت و معیشت اس ملک ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔ انگریز سامراج کی آمد سے قبل یہ خطہ صنعتی ومعاشی لحاظ سے اس قدر خوشحال وترقی یافتہ تھا کہ اسے سونے کی چڑیا کہاجاتا تھا۔ گیارہویں صدی سے انیسویں صدی کے وسط تک ہندوستان تجارتی وصنعتی اعتبار سے بہت نمایاں تھا۔ اس دور میں انگلستان سے جاپان تک ہندوستانی مال فروخت ہوتا تھا۔ دورِ حاضر کے بیشتر یورپی ممالک اس خطہ کی صنعتی وتجارتی منڈیاں تھیں۔ بقول باری علیگ ہندوستان کی صنعتی برتری کااندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے ختم کرنے میں سولہ سال صرف ہوئے۔ (1) انگلستان کے لیے تجارتی اور جنگی جہاز ہندوستان میں تیار ہوتے تھے۔ (2) ولیم ڈگبی کے مطابق بمبئی میں جو جہاز بنتے ہیں ، ان پر انگلینڈ کی بہ نسبت پچیس فی صدی کم لاگت لگتی ہے۔ (3) 

یہاں (برصغیر) میں چاروں طرف بڑے بڑے صنعت وحرفت کے کاروبار جاری تھے۔ (4) بڑے بڑے لائق اور کاری گر صناع موجود تھے۔ (5) سوت اور کپڑے اس قدر عمدہ اور باریک ونفیس وخوب صورت بنتے تھے کہ دنیا میں کوئی ملک بھی ان کی برابری نہ کرسکتا تھا۔ (6) ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک روئی اور ریشم کا کپڑا یہاں بکثرت تیار ہوتا تھا۔(7) مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے کپڑے کی صنعت کے حوالے سے لکھا ہے کہ حسن وباریکی میں ان کپڑوں کی حالت یہ ہے کہ ایک انگوٹھی میں پورا تھان سما سکتا ہے۔ (8) لوہا سازی کی صنعت انتہائی عروج پر تھی۔ رناڈلے کے مطابق دہلی کی مشہور لوہے کی لاٹ جو پندرہ سو سال پرانی ہے اس سے لوہا ڈھالنے کی صنعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ (9) لندن میں فولاد ہندوستان کے نام سے فروخت کیاجاتا تھا۔(10) ہندوستان کی صنعت وتجارت پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا حسین احمد مدنیؒ لکھتے ہیں کہ : 

‘‘ہندوستان قدیم زمانے سے صنعتی اور تجارتی ملک تھا۔ یہاں ہر قسم کی اعلیٰ اور ادنیٰ صنعتوں کے بے شمار کارخانے قائم تھے۔ جن سے ملکی ضروریات اور ذرائع ترقیات پوری ہوتی تھیں اور تمام دنیا کے ممالک نفع حاصل کرتے تھے ۔ بیرونی ملکوں سے ہر سال کروڑوں اشرفیاں انہیں مصنوعات کی قیمت میں ہندوستانی تاجر حاصل کرتے تھے ۔ اور ہندوستانی باشندے کروڑوں آدمیوں کی تعداد میں یہاں کی صنائع اور تجارتوں کے ذریعہ سے آرام اور عیش کی زندگی بسر کرتے تھے۔‘‘ (11)

صنعتی میدان میں آج چین ترقی کے جس بامِ عروج پر پہنچا ہوا ہے ایک دور تھا کہ برصغیر کی ترقی کا بھی یہی عالم تھا۔ جس طرح چین کی مصنوعات دنیا کے کسی بھی خطے کی مصنوعات سے کم قیمت پر اس خطے میں دستیاب ہوتی ہیں ، بالکل اسی طرح برصغیر کی مصنوعات بھی اپنے اعلیٰ معیار کے ساتھ ساتھ کم قیمت پر دستیاب ہوتی تھیں۔ ایچ ایچ ولسن لکھتے ہیں کہ: 

’’ہندوستان کے بنے ہوئے سوتی اور ریشمی کپڑے اس وقت تک برطانیہ کے بازاروں میں ولایتی کپڑے سے ارزاں بکتے تھے ۔ ہندوستانی مال کی قیمت ولایتی مال سے پچاس سے لے کر ساٹھ فی صدی تک کم ہوتی تھی ۔ مگر اس پر بھی ہندوستانی کپڑے کی تجارت میں فائدہ رہتا تھا۔‘‘ (12)

محمد تغلق نے دہلی میں سوتی کپڑے کا ایک کارخانہ قائم کیا تھا، جس میں پانچ ہزار کاریگر کام کرتے تھے ۔(13) اورنگ زیب کے عہد میں سورت اور احمد آباد سے جو مال باہر بھیجا جاتا تھا اس سے (اس وقت کے) تیرہ لاکھ اور ایک سو تین روپے سالانہ چنگی کے ذریعے وصول ہوتا تھا۔(14) کپڑا سازی کی صنعت اس درجہ قدیم تھی کہ فراعنہ مصر کے مقبروں میں ان کی نعشیں ہندوستان کے باریک ململ میں لپٹی ہوئی پائی گئیں۔ (15) اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ صنعت کس درجہ قدیم اور کسی قدر ترقی یافتہ تھی ۔ مسٹر بالکفین کے مطابق ہندوستانی کپڑے نے ہمارے اونی کپڑے کا کام تمام کردیا اور اپنے مقابل دیگر ممالک کے کپڑے کی درآمد انگلستان میں روک دی ۔ (16) اس صنعتی ترقی نے انگریز سامراج کو اتنا حواس باختہ کردیا تھا کہ اپنی پارلیمنٹ میں درخواست گزار دی کہ اگر ہندوستانی کپڑا نہ روکا گیا تو یہ صنعت یہاں(انگلستان ) میں بالکل تباہ ہوجائے گی۔(17) اس صورت حال نے انگریز سامراج میں غصہ کی آگ بھڑکائی ۔ 

انگریز مورخین برصغیر کی موجودہ زرعی حالات کو دیکھ کر یہ رائے قائم کرتے ہیں کہ ہندوستان ہمیشہ سے زرعی لحاظ سے ترقی یافتہ تھا۔ یقیناًاس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ خطہ زرعی لحاظ سے بھی ترقی یافتہ تھا مگر اس دلیل سے اس امر کو مشکوک نہیں کیا جاسکتا کہ صنعتی لحاظ سے یہ خطہ غیر ترقی یافتہ تھا۔ چنانچہ حضرت مدنیؒ نے اس دلیل اور اس رائے کا مکمل رد کیا ہے اور اسے انگریز مورخین ومصنفین کا پروپیگنڈا قرار دیتے ہیں۔ (18) باری علیگ نے تو انتہائی واضح طور پر لکھا ہے کہ :

’’آج ہندوستان کو صرف زرعی ملک کہا جاسکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے شروع تک ہندوستان ایک صنعتی ملک تھا۔ دنیا کے ہر ملک کے تاجر ہندوستان سے تجارت کرتے تھے۔‘‘ (19) 

انگریز سامراج کی آمد سے قبل برصغیر مال ودولت سے بھرپور تھا۔ یہاں کے تاجر خوشحال تھے اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اس خوشحالی نے یہاں کے باشندوں میں سرمایہ داری کے مسائل پیدا نہیں کیے تھے۔ بعض تاریخیں بتلاتی ہیں کہ 1772ء میں صرافوں کی دکانوں پر شہروں میں اشرفیوں اور روپیوں کے ڈھیر ایسے لگے ہوتے تھے جیسے منڈیوں میں اناج کے ڈھیر ہوتے ہیں۔ (20) ریاست کا فلاحی کردار انتہائی عمدہ تھا۔ محمد تغلق کے دور میں بیس ہزار آدمی شاہی مہمان خانہ میں کھانا کھایا کرتے تھے۔ (21) صرف دہلی میں ستر شفاخانے عام لوگوں کے لیے دن رات کام کرتے تھے اور دو ہزار مسافر خانے مسافروں کے لیے کھلے رہتیتھے۔(22) مسافروں کے جانوروں کا کھانا بھی سرائے (مسافرخانوں) کے ذمہ تھا۔ (23) برصغیر کے تاجر اپنی مصنوعات دنیا کے ہر کونے میں پہنچاتے تھے۔ بنگال میں صرف دریائے ہگلی سے 50یا 60جہاز مال سے بھرے ہوئے سالانہ تجارت کے لیے بیرون ہند بھیجے جاتے تھے۔ (24)چیزیں اتنی ارزاں اور کم قیمت تھیں کہ آج بھی سن کر حیرت ہوتی ہے۔ مولانا گیلانی نے ابن حوقل (سیاح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ:

’’شہد، گھی ، من ،اخروٹ، کشمش، الغرض کھانے پینے کی ساری چیزیں اتنی ارزاں ہیں کہ گویا مفت مل جاتی ہیں۔‘‘ (25)

برصغیر کے حکمرانوں کی معاشی خوشحالی کا ذکر تو کتابوں میں ملتا ہے مگر اس عہد کے عام تاجروں کے مالی گوشواروں کا علم زیادہ تر لوگوں کو نہیں ہے ۔ صاحب مآثر الامراء کے مطابق سورت کے تاجر ملا عبدالغفور جو عالمگیری عہد کے تاجر ہیں، ان کا سرمایہ کروڑوں روپیہ سے متجاوز تھا۔ عالمگیر کا بیٹا مرادبخش جو گجرات کا گورنر تھا اس کے حالات میں بھی لکھا ہے کہ حاجی پیر محمد زاہد علی سے ایک دفعہ چھ لاکھ قرض شہزادے نے لیا۔ (26)

زرعی لحاظ سے بھی یہ خطہ خوشحال اور زرخیز تھا۔ مغلوں کے دور میں ساری زمین ریاست کی ہوتی تھی اور اسے مختلف افراد کو مقررہ مقاصد کے تحت دیاجاتا تھا۔ کارل مارکس نے بھی اپنی کتاب داس کیپٹل میں برصغیر کی زمینوں کی قومی ملکیت کو اپنے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے۔(27) خاندان مغلیہ کے سربراہوں نے برصغیر کی زراعت کو تیزی کے ساتھ فروغ دینے کے لیے ایسے زرعی قوانین وضع کیے کہ ترقی کی راہ پر گامزن صنعت کے لیے خام مال اور عوام کے لیے خوراک کی بہم رسانی نہایت ہی آسان ہوگئی۔(28) کسی قسم کا مالیہ اور محصول ادا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ سرکاری زمین ہونے کی وجہ سے انتہائی معمولی لگان جو پیداوار کا بہت تھوڑا حصہ ہوتا تھا ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس خوشحالی کی وجہ سے کسان میں تجربات اور اختراعات کی سوچ پیدا ہوتی۔ (29) مولانا گیلانی نے شیخ مبارک (سیاح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

’’اس ملک (برصغیر ) میں چاول ہی صرف اکیس قسموں کا پیدا ہوتا ہے۔‘‘ (30)

برصغیر کا کسان خوشحال ، باشعور اور انتہائی اچھے حالات میں تھا۔ جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کا نام ونشان نہ تھا۔ کسان اپنی خوشحالی اور فارغ البالی کی وجہ سے زمین کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی پوری کوشش کرتا تھا۔ اس سے جہاں اس کے اپنے حالات بہتر ہوتے وہیں خطے کی اقتصادی ومعاشی صورت حال بھی بہتر ہوتی تھی۔ اجناس کی فراوانی نے عوام میں مہنگائی اور غربت کے خدشات ختم کردیئے تھے۔ 

لیکن انگریز سامراج کے آنے کے بعد اس خطے کی صنعتی ، معاشی ، تجارتی اور زرعی صورت حال یکسر تبدیل ہوکر رہ گئی۔ وہ انگریز سامراج جو 1601ء میں محض تیس ہزار پاؤنڈ سے تجارت شروع کرتا ہے تقریباًساٹھ برس تجارت کرنے کے بعد اس قدر دولت مند ہوجاتا ہے کہ انگلستان کے بادشاہ کو تین چار لاکھ پاؤنڈ بطور نذرانہ پیش کرتا ہے۔(31) جب نذرانہ ہی لاکھوں پاؤنڈ ہو تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوٹ کھسوٹ کتنی کی گئی ہوگی ۔ انگریز سامراج نے ’’ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ کے نام سے اس خطے میں پہلی مرتبہ صنعتی اداروں میں مزدور اور مالک کے مروجہ ظالمانہ نظام کو متعارف کروایا۔ مزدوروں کوقلیل تنخواہیں اور مالکان کو بڑی تنخواہوں پر رکھ کر ان میں رقابت اور نفرت کے جذبات پیدا کیے گئے ۔ مولانا مدنیؒ اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’کمپنی کے وہ ملازم جو ہندوستان میں خرید وفروخت پر مقرر تھے چھوٹی چھوٹی تنخواہیں پاتے تھے۔ فیکٹری کے صدر کو تین سو پونڈ سالانہ ملتے تھے جو کہ سب سے اونچی تنخواہ تھی ۔ محرروں اور دوسرے ملازمین کو دس سے لے کر چالیس پونڈ سالانہ تک دیے جاتے تھے ۔۔۔ ان تنخواہوں پربھلے بانس اور شریف لوگ تو کاہے کو اپنے گھر بار چھوڑ کر آتے تھے۔‘‘ (32)

اے۔ جی ولسن کی ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 1882ء تک آتے آتے یہاں کے باشندوں کی اوسط آمدنی پانچ پاؤنڈ سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ (33) نیز تین کروڑ پاؤنڈ سالانہ اس خطے سے انگلستان منتقل کیا جاتا رہا۔ انگریز سامراج نے اس خطے کی معیشت وتجارت کو برباد کردیا۔ یہاں کے باشندوں کے تمام کاروبار بند ہوگئے ۔ محصولات اور ٹیکس کے بوجھ نے کاروباری سرگرمیوں کو معطل کرکے رکھ دیا۔ سرمایہ داریت کو فروغ دیا گیا اور غربت وافلاس نے یہاں کی عوام کو ایڑیاں رگڑنے پر مجبور کردیا ۔ قانون وآئین ایسے بنائے گئے جن سے انسانیت سوز مظالم کو سند جواز فراہم ہوسکے۔ تاجرانہ ہوس اور خود غرضانہ لالچ کی وجہ سے بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے۔ لالہ لاجپت رائے کے مطابق جنوبی ہندوستان میں تو غربت وافلاس کی وجہ سے لوگ مُردار گوشت کھاکر زندگی گزارتے ہیں ۔(34) وہ ہندوستان جس کی خوشحالی مثالی تھی، اے ۔ اے برسل (ممبر پارلیمنٹ) کے مطابق اب اس حال میں تھا کہ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے اپنی پیدائش سے لے کر اپنی وفات تک کبھی پیٹ بھر کر کھانے کو نہیں ملتا۔ (35) اخبار مدینہ (بجنور) کے مطابق مسلسل فاقہ کرنے والوں کی تعداد چار کروڑ سے لے کر سات کروڑ تک ہے۔ (36)

یہ خطہ زیادہ پیداوار والا سستا ملک تھا۔ انگریز سامراج نے اس کو قحط اور غربت کا مرکز بنادیا۔ یہاں کی پیداواری صلاحیت کو کم کرکے مہنگائی اور افلاس میں اضافہ کردیا گیا۔ اس مہنگائی اور گرانی کے درج ذیل اسباب مولانا مدنی نے بتائے ہیں: 

  • یہاں کے نقود اور سونے چاندی سے جن کو لوٹ کھسوٹ کر انگریزوں نے انگلستان پہنچایا وہاں ان سے بڑے بڑے بینک کھولے گئے۔ تجارت کی انتہائی گرم بازاری کی گئی۔ ملیں اور مشینیں قائم کی گئیں اور ہندوستان سے خام اشیاء کو کھینچ کر انگلستان پہنچایا گیا۔ 
  • انگلستان میں ہندوستان مال پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس اور قانونی پابندیاں قائم کی گئیں اور ہندوستانی مال کو انگلستان سے نکال باہر کیا گیا ۔ 
  • ہندوستان کی صنعت اور تجارت کو مٹایا گیا۔ 
  • ہندوستان کی صنعت اور تجارت کے بند اور قریب المرگ ہوجاتے ہی فری ٹریڈ (آزاد تجارت) کی پالیسی کا اعلان کیا گیا اور ہر قسم کے مصنوعات اور تجارتی اشیاء کو نہایت معمولی اور کم سے کم ٹیکس کے ساتھ ہندوستان میں داخل کرکے ہندوستان کو یورپین بالخصوص انگریزی مال کی منڈی بنادیا گیا۔ 
  • ہندوستان سے غلہ نہایت فراوانی اور کثرت سے جہازوں میں بھر بھر کر انگلستان اور دیگر ممالک بھیجا گیا۔ (37)

ان تمام تر وجوہات کی بناء پر برصغیر کی صنعت کو شدید دھچکا لگا۔ شمس القمر قاسمی کے مطابق:

’’سنگ دل اور خود غرض انگریز نے انتہائی جابرانہ طریقوں سے صنعت وحرفت کو مٹانے کے لیے وحشیانہ مظالم ڈھائے اور آخر ایک دن وہ آیا کہ برصغیر کی صنعتی حالت بالکل پست ہوکر رہ گئی۔‘‘(38) 

برصغیر کی صنعت وحرفت کو جس دور میں تباہ کیا جارہا تھا یاد رہے کہ یہ وہی دور ہے جب انگلستان میں صنعت ومعیشت ترقی کر رہی تھی۔ کپڑے کی صنعت جس نے ایک دور میں انگریز تاجروں کو مفلسی کے غم میں مبتلا کر رکھا تھا۔(39) سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت اس کا استحصال کیا گیا۔ (40) اس حوالے سے طریقہ کار یہ اپنایا گیا کہ اس خطہ سے خام مال باہر لے جا کر تیار کیا گیا۔ (41) اس خام مال سے نہایت عمدہ اشیاء تیار کی جاتیں جو اطرافِ عالم میں مقبولیت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھیں۔

انگریز سامراج نے برصغیر کو جس دور میں صنعتی زوال کا شکار کیا اس دور میں یورپ میں صنعتی انقلاب کا عمل شروع ہوا۔ اس خطے کی لوٹی ہوئی دولت سے انگریز سامراج نے اپنے ملک میں صنعت اور مشینی ترقی کو فروغ دیا۔ چنانچہ باری علیگ لکھتے ہیں کہ:

’’وہ سرمایہ جو ایسٹ انڈیاکمپنی نے ہندوستان کی تجارت سے پیدا کیا تھا، انگلستان میں صنعتی انقلاب کا سبب بنا۔‘‘(42)

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انگریز سامراج نے مشین کی ایجاد میں سرمایہ کاری انسانیت کی فلاح وبہبود کے پیشِ نظر نہیں کی تھی بلکہ اس عمل کے پیچھے نو آبادیاتی دور کے وہ سرمایہ دارانہ عوامل شامل تھے جس نے ہوس، لالچ اور خود غرضی کو فروغ دیا۔ چنانچہ مشین کی ایجاد نے مزدور کا استحصال کیا اور سرمایہ کے حصول کے ناجائز طریقوں میں اضافہ کیا۔ اگر مشین ابتداء ہی میں کسی صالح نظام کے تابع ہوتی تو اس سے انسانی فلاح وبہبود اور ترقی کا کام لیا جاسکتا تھامگر بدقسمتی سے اس کا آغاز انگریز سامراج کے سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہوا جس نے غریب مزدور کے خون سے اپنی آبیاری کی ۔ 

یہ خطہ جو صنعت وتجارت کے حوالے سے شہرت رکھتا تھا انگریزوں کی ڈپلومیسی اور خود غرضی سے محض زراعتی ملک بنادیا گیا۔(43) چونکہ صنعت وحرفت کے تمام راستے مسدود کردیے گئے اس لیے لوگ زراعت کی طرف متوجہ ہوئے۔لیکن شومئی قسمت کہ اس میدان کے حالات بھی سازگار نہیں تھے۔ چنانچہ زراعت کے حوالے سے بھی انگریز سامراج کی پالیسی نہایت اندوہناک اور دلخراش رہی اس خطے کو زراعت کا خطہ کہہ کر اس قدر پروپیگنڈا کیا گیا کہ اس کا صنعتی کردار مشکوک ہو کر رہ گیا۔ پاکستان کے معروضی حالات میں یہ پروپیگنڈا اب تک جاری ہے اور اس کے پس پردہ استحصالی قوتیں اپنی زرعی مصنوعات کو فروغ دے رہی ہیں۔ اس خطے میں جاگیر داری کو فروغ دیا گیا، جس کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انگریز سامراج نے اپنے وفاداروں کو بڑی بڑی جاگیریں نواز کر خطے میں طبقاتی کشمکش پیدا کی۔ محاصل اور زرعی ٹیکسوں کی بھرمار کی ۔ پیداوار کم ہونے کے باوجود لگان کی شرح میں بتدریج اضافہ کیا جاتا رہا جس سے کسان کی زندگی دو بھر ہو کر رہ گئی ۔ جی کرہارڈی کے مطابق 1817ء میں جبری لگان کا طریقہ رائج کیا گیا۔ (44) حالانکہ یہ سلسلہ اس سے بہت پہلے شروع ہوچکا تھا۔ مولانا مدنی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’لگان کے ثقیل بوجھ اور وصولی کے انتہائی جابرانہ طریقہ کی وجہ سے کسان ہر سال زمین جوتنے پر مجبور تھا، زمین کو لگاتار بوتا تھا اور اپنی گلوخلاصی کی فکر کرتا تھا جس کی وجہ سے ہندوستان کی زمین انتہائی درجہ کمزور ہوگئی اور پیداوار میں نہایت زیادہ کمی ہوگئی ۔‘‘ (45) 

اس صورت حال نے عام کاشت کار کو اس قدر تنگ اور پریشان کردیا کہ آسام کے کمشنر چارلس ایلیٹ کو لکھنا پڑا کہ : 

’’میں بلاتامل کہہ سکتا ہوں کہ کاشتکاروں کی نصف تعداد ایسی ہے جو سال بھر تک نہیں جانتی کہ ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا کسے کہتے ہیں۔‘‘ (46)

اس اقتصادی پریشانی اور معاشی الجھنوں کی وجہ سے اس خطے کے عوام کی اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں اور فکرو شعور ختم ہوتا چلا گیا ۔ تنگئِ معیشت کے سبب سماجی بگاڑ اور جرائم نے جنم لیا۔ایجادات واکتشافات کی جگہ پیٹ بھرنے کی فکر پروان چڑھی ۔ سوسائٹی کی اجتماعی ترقی کی جگہ انفرادیت پسندی اور خود غرضی نے سنبھال لی ۔ تاجرانہ سرگرمیوں کے خاتمے، صنعتی تباہ حالی اور زرعی استحصال نے اس خطے کے لوگوں میں بداخلاقی ، دوعملی اور منفی اقدار کو فروغ دیا، جس نے انگریز سامراج کے نوآبادیاتی نظام کو استحکام بخشا۔ 


حوالہ جات

(1) باری علیگ کمپنی کی حکومت ،ص 46

(2) مدنی، حسین احمد ، نقشِ حیات ، ج1، ص 252

(3) قاسمی، شمس القمر، رودادِ برصغیر ، ص 64

(4) رسالہ مظلوم کسان، ص 13 

(5) ایضاً

(6) مدنی ، حسین احمد، نقش حیات ، ج1 ، ص 246

(7) ایضاً، ص 248

(8) گیلانی ، مناظراحسن ، مولانا، ہزارسال پہلے ، ص 94بیت العلم ، کراچی ، 2004

(9) مدنی ، حسین احمد، نقش حیات ، ج1، ص 253

(10) قاسمی، شمس القمر ، رودادِ برصغیر ، ص 66

(11) مدنی ، حسین احمد نقشِ حیات ، ج 1، ص253-254

(12) ایضاً، ص276-277

(13) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت ، ص 45

(14) ایضاً، ص46

(15) ایضاً، ص 45

(16) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 269

(17) ایضاً، ص266

(18) ایضاً ، ص247

(19) باری علیگ، کمپنی کی حکومت ، ص 45

(20) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص196-197

(21) ایضاً، ص197

(22) ایضاً

(23) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے ، ص 213

(24) قاسمی، شمس القمر، رودادِ برصغیر ، ص55

(25) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے، ص 173

(26) ایضاً، ص176

(27) غلام کبریا، آزادی سے پہلے مسلمانوں کا ذہنی رویہ ، ص42

(28) کارل مارکس ، داس کیپٹل (مترجم :سید محمد تقی) ج1، ص91، دارالشعور، لاہور، 2004

(29) رسالہ مظلوم کسان ، ص 13

(30) گیلانی ، مناظر احسن ، ہزار سال پہلے، ص 116

(31) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 204

(32) ایضاً، ص206

(33) ایضاً، ص 220

(34) ایضاً، ص 226

(35) اخبار سچ، لکھنؤ ، 13 جولائی 1928ء 

(36) اخبار مدینہ، بجنور، 25، مارچ ، 1930ء 

(37) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1 ص 236-237

(38) قاسمی ،شمس القمر ، رودادِ برصغیر، ص 72

(39) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت ، ص 96

(40) انگلستان کی حکومت نے 1700ء میں ایک قانون کے تحت انگلستان میں ہندوستان کے کپڑے کی درآمد کو ممنوع کردیا تھا۔ 

(41) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص 245

(42) باری علیگ ، کمپنی کی حکومت، ص 96

(43) مدنی ، حسین احمد، نقشِ حیات ، ج 1، ص، 288

(44) ایضاً، ص 289

(45) ایضاً ، ص 292

(46) ایضاً ، ص 296

حالات و مشاہدات