مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمات

بندہ نے شعور و آگہی کی عمر میں قدم رکھتے ہی دیکھا کہ پچاس سال سے زائد عمر کے ایک بزرگ صبح ہی صبح آ کر ہمارے گھر کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور پھر اندر آ کر زور دار طریقے سے سب کو السلام علیکم کہتے ہیں۔ پھر والد صاحبؒ کے کمرے میں چلے جاتے ہیں، تھوڑی دیر دونوں آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں اور پھر وہ آنے والے بزرگ ایک کاپی اٹھا کر سلام کرتے ہوئے گھر سے باہر چلے جاتے ہیں۔

گرمی ہو یا سردی، ان کا یہی معمول ہے۔ ہاں! اتنا فرق ضرور ہے کہ گرمی کے موسم میں وہ سفید لباس، سفید رنگ کی گول ٹوپی اور سیاہ بوٹ زیب تن کرتے ہیں اور سردی کے موسم میں سر پر سیاہ دھاری دار یا سفید پگڑی، پاؤں میں جرابیں اور بوٹ، سفید کپڑوں کے اوپر جرسی یا واسکٹ اور اکثر کالی شیروانی، اوپر سواتی شال اوڑھے، ہاتھ میں چھتری، آنکھوں پہ چشمہ، شلوار نصف پنڈلیوں تک اٹھائی ہوئی، سفید و سیاہ ملی جلی گھنی اور مختصر داڑھی، نہایت تنومند، متوسط قد، موٹی سفید اور بھاری پنڈلیاں، چلتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو ہلاتے تو کسی پہلوان کا نمونہ پیش کرتے۔ ہر موسم میں سر پر حلق، مونچھوں پر استرا اور کندھے پر رومال ان کا جزو لاینفک ہوتا۔ سامنے کی جیب میں قلم، زنجیر والی گھڑی، بٹوا اور دیگر کئی اشیاء جیب کے بھاری بھرکم ہونے کا عندیہ دیتیں۔ ہنستے تو سامنے کے دانت چمکتے، غصہ میں آتے تو رنگ سرخ ہو جاتا۔ کسی کو کچھ بھی نہ کہتے، لیکن قدرتی طور پر دبدبہ اور رعب نمایاں ہوتا۔

ان کی آمد سے پہلے ہی سارے گھر میں سناٹا چھا جاتا اور آواز بلند ہوتی کہ ’’مولوی صاحب آ رہے ہیں‘‘ کیونکہ گھر میں آتے ہی ان کا سب سے پہلا ہدف ہم بچے ہوتے۔ خصوصاً‌ موسم سرما میں اگر کسی بچے نے موٹے کپڑے، جرسی، کوٹ اور جرابیں وغیرہ نہ پہنی ہوتیں تو بچوں کو کم اور بڑوں کو زیادہ ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا، کیونکہ وہ اکثر کہتے تھے کہ ’’مجھے صوفی کے بچوں سے بہت محبت ہے‘‘۔ آہستہ آہستہ پتہ چلا کہ یہ ہمارے تایا جان ہیں، ہمارے ابو کے بڑے بھائی ہیں۔ ہم انہیں بڑے ابو کہنے لگے۔ روزانہ گکھڑ سے آتے ہیں اور مدرسہ میں سبق پڑھا کر پھر واپس چلے جاتے ہیں۔ جاتے وقت بھی ہمارے گھر میں آتے ہیں، اپنی کاپی رکھ کر خواتین کو تعویذ، دم درود کرتے ہیں اور پیشاب وضو سے فارغ ہو کر نکل جاتے ہیں۔

جمعہ کے دن کے علاوہ ان کی مذکورہ روٹین میں کوئی فرق نہیں آتا۔ وہ صبح تہجد کے وقت اٹھتے۔ گرمی ہو یا سردی، ٹھنڈے پانی سے نہاتے، خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتے، مصلیٰ پر قبلہ رو ہو کر نوافل ادا کرتے، دعا و مناجات کرتے۔ تہجد کے وقت ہی وہ ناشتہ کر لیتے۔ پھر بوہڑ والی مسجد میں جا کر نماز پڑھاتے اور درسِ قرآن و حدیث دیتے۔ وہاں سے فارغ ہو کر گکھڑ ریلوے اسٹیشن جاتے اور گاڑی پر سوار ہو کر گوجرانوالہ آتے۔ ریلوے اسٹیشن سے مدرسہ پیدل چل کر آتے۔ کبھی بس، ویگن یا کسی دوسری سواری کے ذریعے بھی آتے اور لاری اڈہ سے مدرسہ پیدل ہی آتے۔ یہی معمول واپسی کا بھی تھا کہ اسباق سے فراغت کے بعد لاری اڈہ یا ریلوے اسٹیشن پیدل جاتے۔ ۱۹۵۵ء کے اواخر سے اوائل ۱۹۷۶ء تک تقریباً‌ بیس سال مسلسل یہی معمول رہا۔ میرے ناقص خیال کے مطابق ان کی یہ آمد و رفت جس عزم و استقلال سے بدستور جاری رہی کہ اس میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے، اسے مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے ان کی بنیادی اور اہم ترین خدمات میں شمار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ باقی ساری کی ساری خدمات اس جہدِ پیہم ہی کی مرہونِ منت ہیں۔

ان کا یہ معمول دنیا بھر کے اساتذہ کے لیے ایک نمونہ کی حیثیت بھی رکھتا ہے کہ گرمی ہو یا سردی، خزاں ہو یا بہار، خشکی ہو یا برسات، وہ اپنے مقررہ وقت پر اپنی مسند پر موجود ہوتے۔ اس حوالے سے ایک عجیب واقعہ ہے جسے لطیفہ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک بار ملک میں پہیہ جام ہڑتال ہوئی۔ صبح کی نماز پڑھ کر سارے طالب علم اس خیال کے ساتھ چادریں تان کر سو گئے کہ آج حضرت شیخ صاحب تشریف نہیں لائیں گے۔ اور بظاہر اس کا کوئی امکان بھی نہ تھا، لیکن جب ان کے پیریڈ کا ٹائم ہوا تو اچانک گھنٹی کی آواز نے پورے مدرسہ میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا۔ ہر طالب علم سوالیہ انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ بعض نے کہا کہ کسی نے شرارت کی ہے۔ بعض نے کہا کہ چاول وغیرہ آئے ہوں گے، انہیں تقسیم کرنے کے لیے گھنٹی بجائی گئی ہے۔ طرح طرح کے تخمینے اور تجزیے ہوئے، لیکن سب کی امیدوں پر اس وقت اوس پڑ گئی جب ایک طالب علم بھاگتا ہوا آیا اور اس نے طلبہ کو آگاہ کیا کہ حضرت شیخ صاحب تشریف لے آئے ہیں اور گھنٹی بھی انہوں نے خود ماری ہے اور سبق کے لیے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ بھاگم بھاگ وضو کے بعد سب ترجمہ کے سبق میں حاضر ہوئے، کیونکہ جنرل حاضری اس کے بعد حضرت شیخ صاحب خود ہی لگاتے تھے۔

ترجمہ کی کلاس کے بعد حاضری لگانے سے پہلے انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ میں حسبِ معمول گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر گیا۔ پہیہ جام کی وجہ سے امکان تو نہیں تھا کہ سواری مل سکے، لیکن اپنی ڈیوٹی کے لیے حاضری دینے میں انسانی کوشش کی حد تک میں نے سوچا کہ قسمت آزمائی کر لی جائے تاکہ عند اللہ وعند الناس مواخذہ نہ ہو۔ اسٹیشن پر کھڑا تھا کہ اچانک وزیر آباد سے گوجرانوالہ کی طرف جاتا ہوا ریل گاڑی کا ایک خالی انجن گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر رکا تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ بھائی! مجھے گوجرانوالہ میں ایک انتہائی ضروری کام ہے، مجھے بھی اپنے ساتھ انجن پر کھڑا کر لو۔ کچھ پس و پیش کے بعد اس نے کہا، آؤ مولوی صاحب! میرے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ اس طرح حضرت اس کے ساتھ سوار ہو کر گوجرانوالہ آ گئے اور مدرسہ پہنچ کر سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور ساتھ ہی آنے والی نسلوں کو یہ سبق بھی دے گئے کہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی ہرگز روا نہیں، انسان کو اپنی طرف سے پوری کوشش کرنی چاہیے۔ اخلاص کے ساتھ سعی کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی تائید بھی شاملِ حال ہو جاتی ہے جس کا عملی نمونہ خود حضرت شیخ کا یہ واقعہ ہے۔

اہلِ بدعت کا حملہ

۱۹۷۶ء میں اڈہ سے مدرسہ پیدل آتے ہوئے محلہ اسلام آباد کے قریب اہلِ بدعت میں سے کچھ شرپسندوں نے آپ پر حملہ کیا اور دھکے دیے جس سے آپ گر گئے۔ اس حادثہ نامرضیہ پر اہلِ حق کو بے حد تشویش ہوئی، خصوصاً‌ مدرسہ نصرۃ العلوم کی مجلس منتظمہ کو اس واقعہ سے بڑا ہی صدمہ ہوا جس پر مہتمم صاحب نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ فورً‌ا موٹر کار کا بندوبست کریں۔ چنانچہ اس وقت سے ۲۰۰۱ء تک پھر وہ موٹر کار پر ہی گکھڑ سے مدرسہ آتے جاتے رہے۔ وہ منظر اب بھی میری نظر میں گردش کر رہا ہے کہ مدرسہ کے خزانچی نے تین گاڑیاں لا کر مدرسہ کے صحن میں کھڑی کیں اور حضرت صوفی صاحبؒ سے کہا کہ جس پر آپ ہاتھ رکھیں گے وہی گاڑی ہم مدرسہ کے لیے خرید لیں گے۔ تو حضرتؒ نے ان میں سے سب سے بڑی گاڑی، گہرے آسمانی رنگ والی ٹویوٹا پر ہاتھ رکھا اور وہ مدرسہ کے لیے خرید لی گئی، لیکن گوجرانوالہ کے بازار اور سڑکیں تنگ ہونے کی وجہ سے آمد و رفت میں مشکل پیدا ہونے لگی تو تیسرے ہی دن اس گاڑی کو فروخت کر کے اس کی جگہ دوسری چھوٹے سائز کی کلیجی کلر کی ٹویوٹا خرید لی گئی۔ 

مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے حضرت شیخ کی خدمات اس قدر وسیع ہیں کہ انہیں کسی مضمون میں سمیٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور ہمارے کوتاہ قلم سے ان کا حق ادا بھی نہیں ہو سکتا، تاہم چند اہم ترین باتوں پر قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ یہ چونکہ ایک خاص موضوع ہے، اس لیے یہ تحریر اس کے دائرہ میں لکھی گئی ہے۔ باقی موضوعات پر دیگر احباب خامہ فرسائی کریں گے۔

مدرسہ نصرۃ العلوم کے ابتدائی حالات

۱۹۵۲ء میں جب مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتیؒ نے مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامع مسجد نور کی بنیاد رکھی تو پہلے سال صرف چند بیرونی طلبہ تھے اور درس نظامی میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے وہ اکیلے ہی استاد تھے۔ آہستہ آہستہ طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور اساتذہ کی مزید ضرورت محسوس ہوتی گئی تو اساتذہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ۱۹۵۵ء تک بیرونی طلبہ کی تعداد چودہ تک ہو گئی اور مقامی بچے بچیاں ناظرہ قرآن کریم کی تعلیم کے لیے کافی آنے لگے تو قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم مولانا صوفی حسن محمد صاحب مرحوم اعزازی طور پر دینے لگے۔ درس نظامی کے طلبہ کو انگریزی، حساب اور اردو وغیرہ کی تعلیم دینے کے لیے پچپن روپے ماہانہ پر ڈاکٹر عبد الکریم مرحوم (ایف اے) کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔

۱۹۵۴ء کے اوائل میں درس نظامی کے شعبہ میں حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی زید مجدہ کا ستر روپے مشاہرہ پر تقرر ہوا۔ ۱۹۵۵ء کے اواخر میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اور پھر ۱۹۵۶ء میں مولانا قاضی شمس الدین مرحوم کا تقرر ہوا۔ اس طرح یہ کاروانِ علم بڑھتا چلا گیا اور مدرسہ ترقی کی منازل کی طرف رواں دواں ہو گیا۔

امتحانات کا سلسلہ شروع ہوا تو ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۵ء تک ابتدائی چار سال دو شخصیات سالانہ امتحان کے لیے بطور ممتحن تشریف لاتی رہیں، ایک مولانا قاضی شمس الدین مرحوم اور دوسرے مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ۔ ان حضرات نے طلبہ کرام کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں جو رپورٹ لکھی، وہ مدرسہ نصرۃ العلوم کی سب سے پہلی روئیداد میں مطبوعہ ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے یہاں نقل کر کے تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر دیا جائے۔

’’حضرت مولانا سرفراز خان صفدر خطیب جامع مسجد گکھڑ کی رائے:
طلبہ کے مختلف اسباق کے نتائج کافی اچھے اور حوصلہ افزا رہے ہیں اور خلافِ توقع (جب کہ اس دور میں دین کی طرف بالکل ہی رغبت نہیں رہی) طلبہ نے محنت و مشقت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ ارباب بست و کشاد طلبہ اور ان کے اساتذہ کی رعایت ملحوظ رکھیں اور ان کی حتی المقدور ہمت افزائی کریں۔‘‘ (روئیداد سالانہ مدرسہ نصرۃ العلوم، ج ۱، ص ۸، مطبوعہ ۲/۹/۵۲ تا ۱۳/۳/۵۵)

حضرت شیخؒ کی متنوع خدمات

مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے حضرت شیخؒ کی خدمات کو کئی دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مثلا: مدرس، صدر مدرس و ناظم تعلیمات، شیخ الحدیث، شیخ التفسیر، صدر مفتی، مصنف، معاون اور سرپرست وغیرہ۔ ذیل میں ان پہلوؤں کا تاریخی و واقعاتی جائزہ لیا جاتا ہے۔

مدرس

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد آپ ۱۹۴۲ء میں مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں پندرہ روپے مشاہرہ پر مدرس مقرر ہوئے۔ پھر ۱۹۴۳ء میں جامع مسجد بوہڑ والی گکھڑ کے امام و خطیب مقرر ہوئے اور وہیں مدرسہ میں تدریس بھی فرمانے لگے۔ پھر ۱۹۵۵ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں حدیث کے لیے ایک مدرس کی ضرورت محسوس ہوئی تو انجمن نصرۃ الاسلام مدرسہ نصرۃ العلوم نے انجمن اسلامیہ گکھڑ کے توسط سے آپ کے ساتھ تدریس کے لیے بات کی جس کے لیے آپ نے بخوشی آمادگی کا اظہار فرمایا، چنانچہ انجمن نصرۃ الاسلام کے رجسٹر کارروائی میں اس کو نقل کیا گیا ہے۔ اس کی عبارت ذیل میں درج کی جا رہی ہے جس سے کئی اور باتوں پر بھی روشنی پڑے گی:

’’۲۴/۶/۵۵۔ آج اجلاس عام زیر صدارت جمعدار فضل کریم صدر منعقد ہو کر مندرجہ ذیل کارروائی عمل میں آئی:
(۱) ………
(۲) تقرر اساتذہ و دیگر امور:
(i) حدیث شریف کے معلم کے لیے معاملہ تعلیمی کمیٹی کے زیر غور رہا جنہوں نے حضرت قاضی شمس الدین صاحب کی (جو جامع مسجد شیرانوالہ باغ سے مستعفی ہو گئے تھے) خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر گفتگو ناکام رہی۔ اس کے بعد مولانا عبد الرؤف صاحب محدث آف سیریاں ہری پور کے بارے میں سوچ بچار کیا گیا جن کے لیے مکان رہائشی، خوراک اور وظیفہ کا مدرسہ حامل نہ ہو سکتا تھا۔ اس لیے کمیٹی مذکور نے طے کیا کہ مولانا سرفراز خان صاحب خطیب جامع مسجد گکھڑ منڈی کو یہاں لایا جاوے، مگر اس میں انجمن اسلامیہ گکھڑ کی، جس کے تحت مولانا مذکور کام کر رہے ہیں، رضامندی ضروری تھی، چنانچہ انجمن ہذا نے کمیٹی مذکور کی درخواست پر کہا کہ اگر ہمارے معمولات میں فرق نہ آئے تو ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ اس پر مولانا مذکور کی خدمات ۲ شوال سے باقاعدہ حاصل کر لی گئیں، جن سے طے پایا کہ وہ باقاعدہ صبح ۸ بجے سے ۲ بجے تک مدرسہ میں حدیث شریف کی تعلیم دیا کریں گے اور ان کے عوض مدرسہ نصرۃ العلوم کی طرف سے مبلغ ایک صد روپیہ ماہانہ بطور وظیفہ دیا جائے گا۔ اجلاس نے متفقہ طور پر اس حسنِ انتظام کو منظور کیا۔
……
دستخط: غلام محمد۔ محمد عبد اللہ بقلم خود۔ علم الدین بقلم خود۔ محمد صدیق۔ محمد صدیق بقلم خود۔ شفیق الرحمٰن بقلم خود۔ عبد الحمید سواتی۔ نور محمد بقلم خود۔ عزیز الدین۔ جمعدار فضل کریم۔‘‘

یوں ۱۹۵۵ء بمطابق شوال ۱۳۷۴ھ میں آپ مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے مدرس حدیث مقرر ہوئے اور ۱۹۶۰ء تک موقوف علیہ تک کی اہم کتابیں پڑھانے لگے جن میں تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، اصولِ تفسیر، عقائد اور دیگر کئی فنون بطور خاص پڑھاتے رہے۔ آپ کا اندازِ تدریس کیا تھا، یہ ایک علیحدہ مستقل موضوع ہے۔ یہاں اتنا لکھنا بے جا نہ ہو گا کہ آپ ہی کے مخصوص اندازِ تدریس نے مدرسہ نصرۃ العلوم کو علمی دنیا میں بامِ عروج تک پہنچایا۔ تفہیم، اختصار، معلومات کی فراوانی، کتاب اور فن کو بیک وقت حل کرنے میں آپ کی تدریس جادوئی تاثیر رکھتی تھی۔ یہ خاصہ اللہ رب العزت کسی کسی کو عطا فرماتا ہے جس سے حظ وافر آپ کو عطا ہوا تھا۔

صدر مدرس و ناظم تعلیمات

۱۹۵۶ء کے وسط میں مولانا قاضی شمس الدین مرحوم مدرسہ نصرۃ العلوم میں بحیثیت صدر مدرس اور شیخ الحدیث منتخب ہوئے اور مدرسہ میں دورۂ حدیث کا آغاز ہو گیا۔ دورۂ حدیث کے سارے اسباق قاضی صاحب مرحوم ہی پڑھاتے تھے۔ دو سال انہوں نے اس منصب پر کام کیا اور پھر مدرسہ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ان کے جانے کے بعد دو سال تک مدرسہ میں دورۂ حدیث منقطع رہا۔ تاہم ان کے جانے کے بعد حضرت شیخؒ ۱۹۵۸ء کے اواخر میں صدر مدرس اور ناظمِ تعلیمات کے منصب پر فائز ہوئے اور ۱۹۶۰ء میں دوبارہ دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہو گیا اور آپ شیخ الحدیث و التفسیر کے منصب پر بھی فائز ہو گئے۔ 

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے رجسٹرڈ مطبوعہ قواعد و ضوابط میں سے اس منصب کا تعارف اور اس کی ذمہ داریوں کو من و عن نقل کر دیا جائے جس سے یہ بات بخوبی نمایاں ہو جائے گی کہ حضرت شیخؒ اس حوالہ سے کیا کیا خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

’’صدر المدرسین (و ناظم تعلیمات):
ناظم تعلیمات کا عہدہ اگرچہ الگ بھی ہو سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ عہدہ صدر المدرسین شیخ الحدیث کے پاس ہو جس کے فرائض و اختیارات حسبِ ذیل ہوں گے:
(۱) طلبہ و مدرسین کی حاضری کے رجسٹر ہر ماہ کی آخری تاریخوں میں، یا جب بھی مناسب خیال کرے، جانچ پڑتال کرنا اور مناسب ہدایات دینا۔
(۲) مقدار نصاب و خواندگی کی پڑتال کرنا۔
(۳) کسی مضمون یا کتاب و سبق میں رد و بدل (ترمیم نصاب) کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۴) طلبہ کی غیر حاضری کی صورت میں جرمانہ یا مناسب کارروائی کرنے کا اختیار ہو گا۔
(۵) طلبہ کی عمومی اصلاح کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنا، وعظ و نصیحت اور زجر و توبیخ کے ذریعہ۔
(۶) مسلک کے لیے ضروری مسائل کے سلسلہ میں مدرسین و طلبہ کی رہنمائی کرنا۔
(۷) ابتداء سال میں اسباق و کتب (مضامین) کی تقسیم کا انتظام کرنا۔
(۸) مدرسین کو ادائے فرائض میں کوتاہی پر تنبیہ کرنا اور ان کی نگرانی کرنا۔
(۹) تعلیمی معاملات میں مہتمم، ناظم اور مدرسین سے صلاح و مشورہ کرنا۔
(قواعد و ضوابط مدرسہ نصرۃ العلوم ص ۱۰، ۱۱)

ان کے علاوہ بعض دیگر باتوں کا بھی قواعد و ضوابط میں ذکر ہے، مثلاً‌:

(۱) کوئی کتاب یا سبق ناظم تعلیمات یا مہتمم کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کرایا جا سکتا اور نہ کسی طالب علم کا شروع کیا ہوا سبق چھڑایا جا سکتا ہے۔ (ص ۱۱، ۱۲)
(۲) جو طالب علم بلا عذر کسی سبق میں شریک نہ ہو تو اس کو ایک دو دفعہ تنبیہ کرنے کے بعد ناظم تعلیمات کے سامنے پیش کرنا ہو گا۔ (ص ۱۲)
(۳) مدرسہ کا وقت برائے مدرسین حضرات اور ناظم اور مفتی چھ گھنٹے ہو گا، بجز صدر مدرس کے کہ ان کے لیے چار گھنٹے ہو گا۔ (ص ۱۲)
(۴) اہم فتاویٰ میں (مفتی کے لیے) صدر مدرس، مہتمم یا کسی اور عالم سے اگر ضروری ہو تو مشورہ ضروری ہو گا۔
(۵) نصابِ تعلیم کے بارہ میں مناسب ہو گا کہ اس پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی مقرر ہو جس کے رکن مدرسہ کے ناظم تعلیمات، صدر المدرسین، مہتمم، ناظم اور مدرسین حضرات ہوں اور ان کے علاوہ بھی اگر کوئی شخص مناسب و موزوں ہو تو وہ بھی اس کا رکن ہو سکے گا۔ (ص ۳۲)

بحمد اللہ تعالیٰ یہ تمام فرائض حضرت شیخ ۲۰۰۱ء تک انجام دیتے رہے۔ اتنے مصروف ترین انسان کا مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے مسلسل چھیالیس سال تک ان امور کو انجام دینا یقیناً‌ ان کی کرامت ہی ہے۔ آپ کی صدارتِ تدریس کے زمانہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم نے ترقی کی وہ گھاٹیاں عبور کی ہیں جنہیں آنے والا مؤرخ سنہری حروف سے لکھتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پائے گا۔

حضرتؒ کا یہ خاصہ تھا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو اپنے ذاتی امور سے بھی زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بڑی مستعدی سے اسے انجام تک پہنچاتے تھے۔ اس بات کا اندازہ ان تحریرات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو احقر کے پاس ابھی تک محفوظ ہیں۔ احقر کو حضرت شیخؒ کے ساتھ دس سال سے زیادہ عرصہ تک مدرسہ کے اہتمام کی ذمہ داری انجام دینے کی سعادت عظمیٰ حاصل ہوئی ہے۔ وہ میرے تایا، استاد، شیخ اور مربی بھی تھے۔ میں ان کے اکثر بچوں سے بھی عمر میں چھوٹا ہوں۔ میرے سر پر ۱۹۹۱ء میں اہتمام کی دستار بھی انہوں نے ہی جامع مسجد نور میں خطبۂ جمعہ کے موقع پر رکھی تھی؛ لیکن ان کی ذمہ داری کے بارے میں عرض کرتا ہوں کہ ایک مرتبہ مدرسہ کے طلبہ نے انہیں بحیثیت صدر مدرس و ناظم تعلیمات ایک درخواست دی کہ:

’’بخدمت جناب شیخ الحدیث صاحب دامت برکاتہم العالیہ
السلام علیکم!
مؤدبانہ گزارش ہے کہ جملہ کلاس درجہ موقوف علیہ کی مشکوٰۃ شریف جلد ثانی حضرت …… صاحب کے پاس ہے۔ حضرت استاد محترم صحیح نہیں پڑھاتے جو کہ بالکل سمجھ نہیں آتی، لہٰذا بذریعہ درخواست اپیل ہے کہ مشکوٰۃ ثانی کے بارے میں کچھ حل نکالا جائے۔ جناب کی عین نوازش ہو گی۔‘‘
منجانب جملہ طلبہ درجہ موقوف علیہ
حضرت شیخؒ نے اس درخواست کے نیچے یہ تحریر لکھ کر دفتر اہتمام میں جمع کرائی۔ آپ نے لکھا:
’’یہ درخواست مجھے ملی اور میں نے طرفین کو واضح تنبیہ کر دی ہے۔‘‘
ابو الزاہد محمد سرفراز، ۹ ربیع الثانی ۱۴۱۷ھ / ۲۵ اگست ۱۹۹۶ء

حضرت مدنی رحمہ اللہ کے بارے میں سنا تھا کہ قاری محمد طیب رحمہ اللہ کو انہوں نے اپنی گود میں کھلایا تھا، لیکن جب وہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم بنے تو حضرت مدنیؒ ان کی اتنی تعظیم فرماتے تھے کہ جب قاری صاحبؒ آتے تو حضرت مدنیؒ اٹھ کر کھڑے ہو جاتے۔ اس کا عملی نمونہ میں نے حضرات شیخین کریمینؒ کے سلوک میں پایا۔ بسا اوقات وہ اتنی عزت دیتے کہ میرے ماتھے پر پسینہ آ جاتا۔ مجھے وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتا جب دفتر اہتمام میں مدرسہ کے اساتذۂ کرام کی میٹنگ تھی اور ان میں سے سب سے کم عمر میں تھا۔ بعض طلبہ کے امتحانات میں عدمِ شرکت اور غیر حاضری کی بنا پر انہیں سالانہ امتحان میں شریک کرنے اور اجرائے اسناد کا مسئلہ زیر بحث تھا۔ تمام اساتذہ نے اپنی اپنی رائے کا اظہار فرمایا۔ آخر میں احقر نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا تو حضرت شیخؒ فورً‌ا متوجہ ہوئے اور فرمایا: فیاض ٹھیک کہہ رہا ہے، اس کی بات قابلِ لحاظ اور قابلِ غور ہے۔ چنانچہ اسی کے مطابق پالیسی طے ہوئی۔

حضرت شیخؒ میرے ساتھ دل لگی بھی فرمایا کرتے تھے اور اسی ضمن میں وہ مدرسہ کے حالات بھی معلوم کر لیتے تھے۔ خصوصاً‌ جب عید کی چھٹیوں کے بعد تعلیم شروع ہوتی تو سبق پڑھانے کے بعد دفتر اہتمام کے سامنے کھڑے ہو کر پنجابی میں مجھے مخاطب فرماتے: ’’کنیاں چمڑیاں کھچیاں نیں، ایس صندوکڑی وچ کنے پیسے اکٹھے کیتے نیں؟‘‘ (قربانی کی کتنی کھالیں جمع کی ہیں، اس ڈیسک میں کتنے پیسے اکٹھے کیے ہیں؟) احقر انہیں تفصیل بتاتا کہ اتنی کھالیں جمع ہوئی ہیں، اتنی رقم ہوئی ہے۔ اور ساتھ یہ بھی کہتا کہ آپ دعا فرماتے رہیں، اللہ فضل فرمائے گا، تو آپ مسکراتے ہوئے چلے جاتے۔

بحیثیت صدر مدرس اساتذہ کی میٹنگ میں وہ اکثر اساتذہ کرام کو اس طرح سمجھایا کرتے تھے کہ ’’بھائی! طالب علم کو خود کچھ آتا ہے یا نہیں، لیکن اسے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ استاد کو آتا ہے یا نہیں آتا، اس لیے مطالعہ کے بغیر کبھی سبق نہیں پڑھانا چاہیے۔ میں نے زندگی میں کبھی بغیر مطالعہ کے سبق نہیں پڑھایا۔‘‘

بحیثیت صدر مدرس تمام طلبۂ مدرسہ کی جنرل حاضری صبح ترجمہ کی کلاس کے بعد خود ہی لگاتے تھے۔ اس ضمن میں بسا اوقات بڑے لطائف بھی رونما ہوتے۔ تین دن بغیر اہتمام کی منظوری کے اگر کوئی طالب علم چھٹی کرتا تو آپ باضابطہ اس کا نام کاٹ دیتے، چنانچہ طلبہ کو حاضری کی بے حد فکر ہوتی تھی۔

ایک مرتبہ ایک طالب علم کا نام بولا گیا، وہ لیٹ تھا، اس نے مدرسہ کے گیٹ کے پاس سے ہی ’’لبیک‘‘ کی صدا بلند کی تو حضرت مسکرانے لگے۔

ایک طالب علم اپنے نام کے ساتھ ہر سال اضافہ کرتا جا رہا تھا۔ پہلے سال محمد عرفان، دوسرے سال حافظ محمد عرفان، تیسرے سال حافظ قاری سید محمد عرفان شاہ۔ آپ نے فرمایا، کچھ عرصہ کے بعد رجسٹر کا ایک صفحہ صرف تیرے نام کے لیے مخصوص کرنا پڑے گا۔

ایک طالب علم کی آپ نے حاضری لگائی، نعم العبد، وہ متوجہ نہیں تھا، اچانک اس نے لبیک کے بجائے ’’زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگا دیا اور ساری مجلس کشتِ زعفران بن گئی۔ حضرت نے اس کا نام تبدیل کر کے عبید اللہ رکھ دیا۔ آپ کی عادت تھی کہ اگر کسی کا نام صحیح نہ ہوتا تو اس کا نام تبدیل فرما دیتے تھے۔ اس کی بیسیوں مثالیں موجود ہیں۔ خود ہماری دورہ حدیث کی کلاس میں ایک طالب علم کا نام غفور الرحمٰن تھا جو آپ نے تبدیل کر کے مغفور الرحمٰن رکھ دیا۔ مدرسہ کے فاضل و استاد مولانا نیامت علی کا نام نعمت اللہ رکھا۔

ایک مرتبہ آپ تیزی سے حاضری لگا رہے تھے۔ علی پور ضلع گوجرانوالہ کے ایک طالب علم اسلام الدین کا نام آیا تو آپ کے منہ سے یوں ادا ہوا: ’’ اسلام آباد گوجرانوالہ‘‘۔ اس پر کافی دیر آپ اور طلبہ ہنستے رہے۔

آپ طلبہ کی چھٹیوں کے بارے میں بڑے حساس تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ جیسے میں چھٹی نہیں کرتا، اسی طرح طلبہ بھی چھٹی کم سے کم کریں۔ ایک بار بڑا عجیب لطیفہ ہوا۔ عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے سلسلے میں طلبہ کا نظریہ تھا کہ سوموار کے دن سبق پڑھا کر شیخ صاحبؒ چھٹیوں کا اعلان فرما دیں، چنانچہ انہوں نے درخواست دی کہ آج آپ چھٹیوں کا مژدہ سنائیں، لیکن شیخؒ چاہتے تھے کہ جمعرات کو اسباق کے بعد چھٹیاں ہوں۔ طلبہ کو مایوسی ہوئی اور انہوں نے مہتمم صاحب کو درخواست دی تو حضرت صوفی صاحبؒ نے چھٹی کا اعلان فرما دیا۔ اگلے دن جب شیخؒ تشریف لائے اور انہیں اس بات کا پتہ چلا تو ترجمہ و تفسیر کا سبق پڑھانے کے بعد جو چند طلبہ موجود تھے، ان میں احقر بھی موجود تھا، آپ نے مسکراتے ہوئے یہ اعلان فرمایا کہ ’’بھائی! میں بوڑھا ہوں، صوفی جوان ہے، اس نے مجھے ڈھالیا ہے، چلو موج کرو‘‘۔ چنانچہ چھٹیوں کا اعلان فرما دیا۔

آپ طلبہ کرام کو اپنی ذاتی جیب سے انعام بھی عنایت فرماتے تھے۔ کئی مرتبہ امتحانات کے بعد انہوں نے طلبہ کو اپنی کتب اور نقد رقم بھی انعام میں دی جن میں بندہ فقیر بھی شامل ہے۔ کئی امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے پر انہوں نے مجھے خصوصی انعام سے نوازا۔ میرے لیے سب سے اہم ان کا وہ انعام ہے جو انہوں نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحان میں دورۂ حدیث شریف کی پوری کلاس میں اول آنے پر مجھے دیا تھا: ایک جوڑا، جرسی، رومال، ٹوپی، خوشبو اور نقدی، ’’وکفیٰ بذالک فخرً‌ا‘‘۔

شیخ الحدیث

۱۹۶۰ء میں آپ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہوئے۔ مدرسہ کے اجرائے اسناد کے رجسٹر کے ریکارڈ کے مطابق جن طلبہ نے آپ سے پہلے سال دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کی، انہیں ۱۹۶۱ء میں اسناد جاری ہوئیں۔ یوں آپ نے ۲۰۰۱ء تک مسلسل چالیس سال دورۂ حدیث کے طلبۂ کرام کو پڑھایا۔

آپ کا معمول یہ تھا کہ سب سے پہلے ترجمہ و تفسیر قرآن کریم پندرہ پندرہ پارے ہر سال پڑھاتے۔ یوں دو سال میں ترجمہ و تفسیر مکمل ہوتی۔ یہ سلسلہ ۲۰۰۱ء تک مسلسل جاری رہا۔ شروع میں آپ بخاری شریف کی دونوں جلدیں خود ہی پڑھاتے تھے، پھر ۱۹۸۰ء کے بعد ایک جلد چھوڑ دی اور صرف پہلی جلد پڑھانے لگے۔ یہ سلسلہ بھی ۲۰۰۱ء تک جاری رہا۔ آخری بار آپ نے بخاری شریف جلد ثانی پڑھائی اور دوران تدریس ہی علیل ہو گئے۔

ترمذی شریف جلد اول ابواب البیوع تک پڑھانے کا معمول تھا۔ ۱۹۹۰ء کے بعد آپ نے علالت کے باعث ترمذی شریف چھوڑ دی تھی۔ ابتدائی دور میں آپ اِن کے ساتھ دورۂ حدیث کی دیگر کتابیں بھی پڑھاتے رہے، بلکہ نچلے درجوں کی کتابیں مثلاً‌: نور الایضاح، ہدایۃ النحو، شرح العقائد، شرح نخبۃ الفکر، ہدایہ، سراجی وغیرہ بھی زیر تدریس رہیں۔ احقر کو بھی آپ سے نور الایضاح، ترمذی شریف، بخاری شریف اور ترجمہ و تفسیر قرآن مکمل پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔

آپ سہ ماہی اور شش ماہی تحریری و تقریری امتحان بھی لیتے تھے۔ آپ کا امتحان تحریری طور پر اتنا دشوار نہ ہوتا تھا جتنا کہ تقریری۔ آپ کے رعب و دبدبہ سے بعض طلبہ امتحان دیتے ہوئے کانپتے اور پسینے سے شرابور ہو جاتے۔ اہلِ علم کے ہاں آپ کے امتحان کے بارے میں یہ شہرت تھی کہ آپ سے کوئی سو نمبر حاصل نہیں کر سکتا۔ احقر بطور تحدیثِ نعمت عرض کرتا ہے کہ علم نحو جیسے مشکل اور دقیق فن میں حضرت شیخ رحمہ اللہ سے امتحان میں مکمل سو نمبر حاصل کرنے کی بندہ حقیر کو سعادت عظمیٰ حاصل ہوئی ہے جسے میں نے بطور فخر کے اس وقت اپنی نحو کی کاپی پر درج کیا تھا اور مدرسہ کے امتحانی ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔

جب ہم ان سے نور الایضاح پڑھا کرتے تھے تو ہمارا سبق دورۂ حدیث والوں کے سبق کے بعد ہوا کرتا تھا۔ آپ روزانہ ہم سے سبق سنا کرتے تھے اور ہر جمعرات کو ایک ہفتہ میں جو پڑھا ہوتا، وہ سنتے۔ انہوں نے ہمیں ’’زلۃ القاری‘‘ کا باب بھی پڑھا دیا تھا جو اس دور میں عموماً‌ اساتذۂ کرام مشکل ہونے کی وجہ سے ترک کر دیتے تھے۔ ہمارے ننھے منے ذہنوں میں انہوں نے اسی دور میں ایسی باتیں ڈال دی تھیں جو آج تک اسی طرح یاد ہیں۔ مثلاً‌: حیلہ کے مسئلہ میں انہوں نے اس وقت یہ حوالہ دیا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کتاب الخراج ص ۸۰ میں اس کی تردید کی ہے۔

اذانِ مغرب کے بعد درود شریف، دعائے وسیلہ اور یہ دعا انہوں نے ہمیں اسی وقت یاد کرا دی تھی: ’’اللہم ہذا اقبال لیلک وادبار نہارک واصوات دعاتک فاغفر لی‘‘۔ یہ دعا اسی وقت سے بندہ کے معمولات میں ہے اور گزشتہ ۳۰ سال میں اسے کبھی ترک نہیں کیا جو یقیناً‌ حضرت شیخ کے لیے صدقۂ جاریہ ہے۔

حدیث پڑھاتے ہوئے آپ بہت سے مقامات پر بخاری شریف کا حاشیہ بھی حل کرا دیتے تھے۔ آپ کا سبق شروع سے آخر سال تک بالکل متوازن رہتا تھا، صفحات میں کمی بیشی نہ ہوتی تھی۔ ترمذی شریف آپ کاپی کے ساتھ پڑھاتے تھے جو اب ’’خزائن السنن‘‘ کے نام سے طبع ہو گئی ہے۔

تدریس میں آپ کو بے حد کمال حاصل تھا۔ ایک بار انہوں نے بخاری شریف کے سبق میں یہ واقعہ سنایا کہ ’’مجھ سے ایک غیر مقلد ہدایہ پڑھا کرتا تھا، وہ ایک دن مجھے کہنے لگا، استاد جی! جیسے آپ کو ہدایہ آتا ہے، اگر مجھے ایسا آتا ہو تو میں مجتہد ہونے کا دعویٰ کر دوں۔ میں نے اسے کہا، اللہ گنجے کو ناخن نہ دے کہ وہ خارش کر کر کے اپنا ہی سر زخمی کر لے۔‘‘

آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’بسا اوقات کسی مسئلہ میں میرے ذہن کے اندر ایسے ایسے دلائل آتے ہیں جن کو ذہن بھی قبول کرتا ہے، لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے اکابر کی تحریرات میں وہ نہیں ہیں تو میں بھی ان کو ترک کر دیتا ہوں‘‘۔ آپ کی یہ نصیحت تو ہر خاص و عام ہی جانتا ہے کہ ’’اکابر کا دامن کبھی نہ چھوڑنا‘‘۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ’’ہمارے اکابر نے کوئی ایسا موضوع نہیں چھوڑا جس پر انہوں نے کچھ نہ کچھ لکھا نہ ہو‘‘۔ فرمایا کہ ’’ایک مسئلہ میں، میں بڑا متردد تھا، کہیں سے مل نہیں رہا تھا، اچانک حضرت تھانویؒ کے ملفوظات دیکھتے ہوئے مل گیا‘‘۔ اسی لیے فرمایا کرتے تھے کہ ’’ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں، ہمارے لیے ہمارے اکابر ہی کافی ہیں‘‘۔

آپ طلبہ کے ساتھ اسبا ق میں دل لگی بھی فرماتے تھے جو بظاہر مزاح ہوتا لیکن حقیقت میں اس کے اندر کوئی نہ کوئی نصیحت ہوتی۔ ایک بار بخاری شریف کی عبارت پڑھاتے ہوئے ایک طالب علم بار بار غلطی کر رہا تھا۔ آپ کی عادت مبارکہ تھی کہ عبارت کی کوئی غلطی جانے نہیں دیتے تھے۔ غلطیوں کی جب کثرت ہوئی تو آپ نے تنگ آ کر اسے مزاح کے انداز میں نصیحت فرما دی کہ: ’’مولانا! معلوم ہوتا ہے آج حلوہ نہیں کھایا‘‘۔ یعنی آج عبارت کی تیاری نہیں کی۔ ساری کلاس ہنسنے لگی اور وہ طالب علم خجالت سے سر جھکا کر بیٹھ گیا۔

آپ طلبہ کو علم میں پختگی اور مطالعہ کا شوق دلاتے ہوئے عموماً‌ فرمایا کرتے تھے کہ ’’علم ایک سیال چیز ہے، جامد نہیں ہے، اس میں جتنا انہاک رکھو گے، وسعت پیدا ہوتی چلی جائے گی‘‘۔ اور پھر اس پر ایک عربی و پنجابی مکس جملہ ارشاد فرماتے جو مزاح بھی ہوتا اور نصیحت بھی کہ ’’العلم چھیچھڑۃ فکھچوہا‘‘ علم ایک چھیچھڑے کی طرح ہے، اسے کھینچتے چلے جاؤ، جتنا اسے کھینچو گے، اتنا ہی علم بھی بڑھتا چلا جائے گا۔

صدر مفتی

مدرسہ نصرۃ العلوم کے دارالافتاء میں ابتداءً‌ آپ فتاویٰ بھی لکھتے رہے اور دیگر فتاویٰ کی تصدیق ’’الجواب صحیح‘‘ کے ساتھ بھی فرماتے رہے۔ ان فتاویٰ کی تعداد بے شمار ہے، البتہ ابتدائی دور میں فتاویٰ لکھ کر بھیج دیے جاتے تھے اور نقل محفوظ رکھنے کا خاص انتظام نہ تھا۔ تاہم کچھ فتاویٰ جات آپ کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ بطور تبرک کے آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے دو تائیدی فتاویٰ یہاں نقل کیے جاتے ہیں جن سے آپ کے فتاویٰ نویسی کا اسلوب بھی نمایاں ہو گا۔

(۱) بینک کی طرف سے زکوٰۃ کی کٹوتی اور اس کے مصارف کے متعلق ایک استفتاء کا جواب لکھتے ہیں:

’’مبسملًا و محمدلًا و مصلیًا، اما بعد!
زکوٰۃ اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اور عبادت ہے۔ اس کے لیے شریعت میں وجوب، اداء اور مالک کی نیت اور مرضی اور مصارف وغیرہا کی کئی شرطیں ہیں۔ جب تک وہ پوری نہ ہوں، مکلف کا ذمہ فارغ نہیں ہو سکتا۔ مثلاً‌ حولان حول کی شرط اور مالک کی رضا وغیرہ کو نظر انداز کر دیا جائے یا زکوٰۃ کی رقم سے نالیاں، سڑکیں اور ہسپتال کی عمارتیں تعمیر ہونے لگیں وغیرہ وغیرہ، تو زکوٰۃ کیسے ادا ہو گی؟ اس سلسلہ میں ہم نے اپنی قدرے تفصیلی رائے علماء کراچی و علماء کلاچی کو باحوالہ عرض کر دی ہے۔ اموالِ ظاہرہ و باطنہ کی جو فقہی تعریف، تعبیر اور حکم حضرت مولانا مفتی محمد عبد الستار خان صاحب دام مجدہم نے باحوالہ نقل کیا ہے، راقم اثیم اس سے کلی اتفاق کرتا ہے اور موضوع سے غیر متعلق حوالوں کی بھرمار سے فضول بھرتی کرنے والوں کے دلائل بلکہ شبہات سے مطمئن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب دام مجدہم کو جزائے خیر مرحمت فرمائے کہ انہوں نے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ واللہ الہادی والموفق، واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
احقر ابو الزاہد محمد سرفراز، خطیب جامع مسجد گکھڑ
و صدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ
۱۹ ربیع الثانی ۱۴۰۴ھ / ۲۴ جنوری ۱۹۸۴ء‘‘

(۲) عذاب و ثواب قبر کے بارے میں ایک استفتاء کا جواب تحریر فرماتے ہیں:

’’مبسملًا و محمدلًا و مصلیًا، اما بعد!

ثواب و عذابِ قبر احادیثِ متواترہ اور اتفاقِ امت سے ثابت ہے۔ تواتر کے انکار سے کفر لازم آتا ہے اور جمہور سلفؒ و خلفؒ کی تحقیق سے ثواب و عذاب جسم عنصری اور روح دونوں کی مشارکت سے ہوتا ہے، گو جسم ریزہ ریزہ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ جو لوگ ثواب و عذابِ قبر صرف روح سے متعلق مانتے ہیں یا جسمِ مثالی سے تسلیم کرتے ہیں، وہ نصوصِ قطعیہ، احادیثِ صحیحہ اور اتفاقِ امت کی تصریحات کے منکر ہیں۔ کسی صحیح حدیث، کتابِ فقہ و عقائد سے ثواب و عذاب کے سلسلہ میں جسم مثالی کا ثبوت نہیں ہے۔ ویسے اجسامِ مثالیہ کا کوئی منکر نہیں اور جو بعض صوفیاء کرامؒ جسم مثالی کا تذکرہ کرتے ہیں تو وہ جسم عنصری کا ذکر بھی کرتے ہیں، جیسا کہ ’’تسکین الصدور‘‘ میں اس پر بحث موجود ہے۔

حضرت مولانا مفتی محمد عبد الشکور صاحب دام مجدہم، نائب مفتی دارالافتاء مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا فتویٰ بجا ہے جو انہوں نے حضرت مولانا مفتی سید عبد الشکور صاحب ترمذی دام مجدہم کی تائید میں لکھا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

احقر ابو الزاہد محمد سرفراز

صدر مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ

۶ رجب ۱۴۰۷ھ / ۷ مارچ ۱۹۸۷ء‘‘

ان کے علاوہ رؤیتِ ہلال کے بارے میں آپ کا تفصیلی فتویٰ، عورت کی سربراہی کے متعلق تفصیلی فتویٰ، حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم، عقائد و رسومات اور دیگر مسائل کے بارے میں بھی آپ کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے چند فتاویٰ دار الافتاء مدرسہ نصرۃ العلوم کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔

شیخ التفسیر

شیخ التفسیر کے حوالہ سے مدرسہ نصرۃ العلوم میں آپ نے دو طرح کی خدمات انجام دیں:

(۱) ۱۹۵۸ء سے آپ نے ترجمہ و تفسیر قرآن کریم کا آغاز فرمایا۔ گکھڑ سے آتے ہی پہلے ترجمہ و تفسیر کا سبق ہوتا جس میں شرکت ’’کافیہ‘‘ سے اوپر کے تمام درجوں کے لیے مدرسہ کی طرف سے ضروری اور باقی درجوں کے لیے اعزازی تھی، تاہم تمام طلبہ کرام اس ترجمہ و تفسیر میں شریک ہوتے تھے کیونکہ اس کے متصل بعد شیخ رحمہ اللہ مدرسہ کے تمام طلبہ کی جنرل حاضری لیتے تھے اور پھر اسباق کا آغاز ہوتا تھا۔ یہ سلسلہ بحمد اللہ اب بھی اسی طرح چل رہا ہے۔

اس ترجمہ و تفسیر کا طریقہ کار یہ تھا کہ پینتالیس منٹ کا پیریڈ ہوتا جس میں پندرہ پندرہ پارے ایک ایک سال میں پڑھائے جاتے اور دو سال میں یہ ترجمہ و تفسیر مکمل ہوتا۔ یوں اگر کوئی طالب علم مدرسہ نصرۃ العلوم میں آٹھ سال مکمل تعلیم حاصل کرتا تو اسے چار بار ترجمہ و تفسیر قرآن کریم مکمل پڑھنے کی سعادت حاصل ہو جاتی۔ اس درس میں چونکہ روزانہ ایک آدھ رکوع ہی پڑھایا جاتا، اس لیے حضرت شیخؒ بڑی تفصیل سے بیان فرماتےے۔ اس نوعیت کا ترجمہ و تفسیر صرف مدرسہ نصرۃ العلوم ہی کا طرۂ امتیاز ہے کہ اسے باقاعدہ نصابِ تعلیم میں داخل کر کے اتنی اہمیت کے ساتھ علیحدہ طور پر پڑھایا جاتا ہے، وگرنہ دیگر مدارس میں صرف وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نصابِ تعلیم میں جو ترجمہ و تفسیر شامل ہے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ حضرت شیخؒ نے باوجود علالت و ضعف کے ۲۰۰۱ء تک مسلسل بیالیس سال یہ خدمت انجام دی۔

(۲) تفسیر قرآن کے حوالے سے آپ کی دوسری بڑی خدمت مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ تفسیر قرآن کریم کی ہے۔ ۱۹۷۵ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم جامع مسجد نور میں سہ روزہ کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام اکابرین نے شرکت کی اور پاکستان کے مختلف اطراف سے ہزاروں کارکنوں نے بھی اس میں شرکت کی۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جسے یہ برداشت نہ ہوا اور محکمۂ اوقاف کی طرف سے مدرسہ و مسجد کو سرکاری تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا۔ اس پر ’’تحریک جامع مسجد نور‘‘ کے نام سے ایک تحریک چلی جس کی تفصیلات احقر کی کتاب ’’تحریک جامع مسجد نور‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

جب سرکاری قبضہ کے لیے نوٹس جاری ہوا تو اس کے بعد مدرسہ کی سالانہ تعطیلات آ گئیں اور مدرسہ طلبہ سے خالی ہو گیا تو بزرگوں کی مشاورت سے یہ بات طے ہوئی کہ چھٹیوں میں مدرسہ کو خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ چنانچہ ۱۹۷۶ء میں ہنگامی طور پر دورۂ تفسیر قرآن کا اعلان کر دیا گیا۔ اس کے لیے وقت یکم شعبان تا ۲۵ رمضان المبارک طے ہوا اور تفسیر قرآن پڑھانے کی ذمہ داری بھی حضرت شیخؒ کے لیے طے ہوئی اور یوں تعطیلات میں دورۂ تفسیر قرآن کریم عبوری دور کے لیے شروع ہو گیا جو بعد ازاں ۱۹۹۶ء تک مسلسل بیس سال جاری رہا۔ حضرت شیخؒ صبح گکھڑ سے تشریف لاتے اور ایک ہی نشست میں مسلسل پانچ سے چھ گھنٹے قرآن کریم کی تفسیر پڑھاتے۔ یوں روزانہ پون پارہ، ایک پارہ، سوا پارہ سبق ہوتا۔

یہ دورۂ تفسیر چونکہ محدود وقت میں ہوتا تھا، اس لیے اس میں وہ تفصیلات بیان نہ ہو سکتیں جو دورانِ سال حضرت شیخؒ بیان فرماتے تھے۔ تاہم اس دورۂ تفسیر سے بھی ہزاروں علماء و طلبہ نے استفادہ کیا۔ یہ سلسلہ ابتداءً‌ تو ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے شروع ہوا تھا، لیکن بعد ازاں اس کو جاری رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ تفسیر قرآن کریم اور حدیث کے حوالے سے حضرت شیخ رحمہ اللہ جیسی عالی سند کا کوئی مفسر و محدث پاکستان میں موجود نہ تھا۔ چنانچہ اس تبرک کے لیے بعد ازاں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر جب انہوں نے ضعف کی وجہ سے ۱۹۹۷ء کی تعطیلات میں دورۂ تفسیر پڑھانے سے معذوری کا اظہار فرمایا تو یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔

حضرت شیخؒ نے جولائی ۱۹۹۵ء میں جنوبی افریقہ کا دورہ کیا۔ وہاں ایک جگہ خطاب فرماتے ہوئے انہوں نے اپنی عالی سند کا اظہار یوں فرمایا:

’’میری حدیث شریف کی دو سندیں ہیں۔ ایک تو دارالعلوم دیوبند کے اساتذۂ کرام کے واسطے سے … دوسری سند حضرت مولانا حسین علیؒ کے واسطے سے ہے جو کہ بہت اونچی سند ہے۔ حضرت مولانا حسین علیؒ نے حدیث شریف کی تعلیم فقیہ ملت حضرت مولانا مفتی رشید احمد گنگوہیؒ سے حاصل کی اور تفسیر قرآن کریم کی تعلیم بانی مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور حضرت مولانا محمد مظہر نانوتویؒ سے حاصل کی۔ اس طرح دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور دونوں کے بانی سے فیض یافتہ تھے۔ اس سند کے اعتبار سے میرے اور حضرت گنگوہیؒ کے درمیان صرف ایک واسطہ ہے اور غالباً‌ اس وقت برصغیر پاک و ہند اور اساتذۂ دیوبند میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جس کی سند میں حضرت گنگوہیؒ اور اس کے درمیان صرف ایک واسطہ ہو۔‘‘ (ماہنامہ نصرۃ العلوم، اپریل ۱۹۹۶ء، ص ۵، ۶)

مصنف

آپ کے قلم سے تقریباً‌ پچاس سے زائد ہر موضوع پر کتب منصۂ شہود پر آئی ہیں جن میں سے چند کتب آپ نے مدرسہ نصرۃ العلوم کے شعبۂ تدریس سے منسلک ہونے سے قبل تحریر فرمائی تھیں اور اکثر کتب آپ نے اسی دوران میں لکھی ہیں۔ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم کو آپ کی اکثر کتب کا ابتدائی ایڈیشن شائع کرنے کی سعادت عظمیٰ حاصل ہوئی۔ چند کتب انجمن اسلامیہ گکھڑ نے بھی شائع کی ہیں۔

۱۹۹۲ء تک آپ کی اکثر کتب ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم سے ہی شائع ہوتی رہیں، پھر آپ نے اپنا ذاتی مکتبہ صفدریہ قائم فرمایا۔ بعد ازاں اس سے ساری کتابیں طبع ہوتی رہیں۔ اس لیے جیسے یہ لکھنا غلط نہیں کہ آپ کی اکثر کتب کو ابتداءً‌ ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم نے متعارف کرایا تو یہ لکھنا بھی بجا ہے کہ آپ کی تصنیفات ہی کی وجہ سے ’’ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم‘‘ کو پورے عالم میں شہرت حاصل ہوئی ہے۔

آپ کس پائے کے مصنف ہیں؟ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دارالعلوم دیوبند کے صدر مفتی حضرت مولانا سید مہدی حسنؒ کی تحریر کا ایک اقتباس نقل کیا جائے جو انہوں نے ’’راہِ سنت‘‘ پر بطور تقریظ تحریر فرمایا:

’’میں نے المنہاج الواضح یعنی راہِ سنت، مؤلفہ محترم مولانا ابو الزاہد محمد سرفراز خان صاحب صفدر، اطال اللہ بقاءہ، کو پڑھا۔ زبان شستہ و صاف، لہجہ دل آویز، جدال و رنگِ مناظرانہ سے دور اور مضامین کی جامع کتاب ہے۔ بدعات کے سلسلہ کی اپنے رنگ کی یہ پہلی کتاب ہے جس میں بدعات کا رد نئے اسلوب سے کیا گیا ہے اور اتباعِ سنت کو بطریق احسن ثابت کیا گیا ہے۔‘‘ (تقریظ راہِ سنت، ص ۱)

مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا قاری محمد طیب رحمہ اللہ آپ کے اندازِ تحریر کے متعلق لکھتے ہیں:

’’مصنف کی اور دوسری لطیف تصانیف بھی جہاں تک نظر سے گزریں، محققانہ، منصفانہ اور متین اندازِ بیان کی حامل ہیں جو سنت و بدعت اور دین و غیر دین کی تفریق کے سلسلہ میں مجادلہ و جدال کی دعوت نہیں دیتیں بلکہ شرحِ صدر، قوتِ یقین اور عمل میں طمانیت و قناعت کی طرف لے آتی ہیں۔ یہ اسم بامسمیٰ کتاب ’’راہِ سنت‘‘ بھی حقیقتاً‌ راہِ سنت کی داعی ہے۔‘‘ (تقریظ راہِ سنت، ص ز)

آپ ایک ایسے مصنف تھے کہ معاصر تو کجا اکابر بلکہ آپ کے اساتذۂ کرام کی تائید و اعتماد بھی آپ کی تحریر کو حاصل تھا۔ آپ کے اساتذہ میں سے شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ کی تقریظات و تصدیقات بھی آپ کی کتب پر موجود ہیں۔ اگر آپ کی کتب پر لکھی ہوئی تقریظات کو علیحدہ کیا جائے تو ایک مستقل رسالہ منصۂ شہود پر آ سکتا ہے۔

نومبر ۱۹۹۵ء میں جب ماہنامہ نصرۃ العلوم کا آغاز ہوا تو احقر کی فرمائش پر آپ نے اس کا سب سے پہلا مضمون لکھا جو ’’دعوت الی اللہ کی ضرورت و اہمیت اور چند اصول‘‘ کے عنوان سے اس کے پہلے شمارے میں طبع ہوا۔ یہ اس قدر اہم مضمون ہے کہ ہر مسلمان کو عموماً‌ اور اہلِ علم کو خصوصاً‌ اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ پھر ۱۹۹۶ء میں احقر نے دوبارہ حضرت سے کسی بھی موضوع پر مضمون لکھنے کی فرمائش کی تو آپ نے باوجود علالت و ضعف کے ایک شاندار اور مفصل مضمون بعنوان ’’بعض اشراط الساعۃ‘‘ (قیامت کی کچھ نشانیاں) تحریر فرمایا جو ماہنامہ نصرۃ العلوم جلد اول شمارہ ۱۰ میں شائع ہوا۔ اس مضمون کے ساتھ حضرتؒ نے میرے نام ایک خط بھی لکھا جو درج ذیل ہے:

’’باسمہ سبحانہ
من ابی الزاہد
الیٰ عزیز القدر عزیزم محمد فیاض سلّمہ اللہ تعالیٰ
ہدیہ مسنونہ کے بعد۔ دماغ کے منتشر ہونے، ہاتھوں کی لغزش اور آمد و رفت والوں کی بہتات سے مضمون لیٹ بھی ہو گیا ہے اور شاید پورا مربوط بھی نہ ہو، تاہم اس کو غور سے دیکھ کر مناسب ہو تو رسالہ میں طبع کرا دو۔ ص ۹ میں علامہ محمد طاہرؒ کی سن وفات درج کر دینا۔ میری ہی کتابوں سے مل جائے گا، اب یاد نہیں۔ 

والسلام

ابو الزاہد محمد سرفراز

۲۹ محرم ۱۴۱۷ھ / ۱۵ جون ۱۹۹۶ء، بعد از مغرب

ان کے علاوہ آپ نے کئی اہم ترین مضامین ماہنامہ نصرۃ العلوم میں وقتاً‌ فوقتاً‌ تحریر فرمائے جو ماہنامہ نصرۃ العلوم کی فائل میں موجود ہیں۔ 

مدرسہ نصرۃ العلوم کی کارکردگی، ادارہ نشر و اشاعت اور اپنے چھوٹے بھائی کی خدمات کے متعلق ۱۹۷۱ء میں آپ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا:

’’عزیزم (عبد الحمید) نے دار المبلغین لکھنؤ میں امام اہلِ سنت حضرت مولانا عبد الشکور صاحبؒ کی سرپرستی میں باطل فرقوں کے ساتھ مناظرہ کے فن کی تکمیل کر کے سند حاصل کی۔ اس کے بعد راقم کی مرضی کے خلاف طبیہ کالج حیدرآباد دکن میں چار سال کا کورس مکمل کر کے طبیب مستند کی سند حاصل کی اور پھر گوجرانوالہ میں کچھ عرصہ حکمت کی دکان بھی کرتا رہا، لیکن راقم جس چیز کو پسند کرتا تھا یعنی تعلیم و تدریس، اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اس کا رجحان و میلان کر دیا اور مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد و اجراء کے بعد وہ اس کا مہتمم مقرر ہوا اور جامع مسجد نور کا خطیب، اور بفضل اللہ تعالیٰ درس و جمعہ پر مؤثر تبلیغ کی برکت سے بہت لوگوں کی اصلاح ہوئی ہے اور مدرسہ کا کام بھی بحمد اللہ تعالیٰ بہت عمدہ پیرایہ سے ہو رہا ہے اور خصوصی و عمومی درس اور طلبہ کے اسباق کے علاوہ اس کی کوشش سے حضرت شاہ ولی اللہ صاحبؒ اور شاہ رفیع الدین صاحبؒ کی نادر کتابیں بڑی صحت کے ساتھ طبع ہوئی ہیں، مثلاً‌ الطاف القدس، تکمیل الاذہان، مجموعہ رسائل، اسرار المحبۃ اور تفسیر آیت النور وغیرہ، اور فیوضات حسینیہ کا ترجمہ اور مقدمہ اس کے علاوہ ہے۔‘‘ (ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، مفسر قرآن نمبر، ص ۴۳)

مدرسہ نصرۃ العلوم کے لیے آپ نے بحیثیت مصنف کتابیں لکھیں، مضامین تحریر کیے، فتاویٰ نویسی کی اور اس کے تعارف اور کارکردگی کے بارے میں خطوط کے جوابات دیے۔ مدرسہ کی خیر خواہی ہر وقت آپ کے پیش نظر ہوتی تھی۔ ایک دفعہ ایسے ہوا کہ والد محترم حضرت صوفی صاحبؒ کے ’’دروس الحدیث‘‘ جو چار جلدوں میں شائع ہوئے ہیں، جب اس کی چوتھی جلد طبع ہوئی تو حضرت شیخؒ نے سمجھا کہ یہ ’’ادارہ نشر و اشاعت مدرسہ نصرۃ العلوم‘‘ نے شائع کی ہے، حالانکہ وہ ’’مکتبہ دروس القرآن فاروق گنج‘‘ سے طبع ہوئی تھی، اور اس وقت اہل مکتبہ کتاب پر اصل لاگت سے زیادہ قیمت نہ رکھتے تھے، لیکن چونکہ کاتب نے اس میں مضمون کو خواہ مخواہ پھیلا دیا تھا، اس لیے آپ نے بڑے خیر خواہانہ اور ناصحانہ انداز میں بحیثیت مہتمم مدرسہ میرے نام مندرجہ ذیل خط لکھا:

’’باسمہ سبحانہ

من ابی الزاہد

الیٰ عزیز القدر! حاجی محمد فیاض سلّمہ اللہ تعالیٰ

ہدیہ مسنونہ کے بعد عرض ہے کہ راقم اثیم نے دروس الحدیث جلد چہارم کو مختلف جگہوں سے دیکھا مگر صد افسوس ہوا کہ کتابت، کاغذ اور طباعت و تجلید وغیرہ کی بے حد گرانی کے دور میں کاتب صاحب نے محض اپنے فائدے اور سہولت کی خاطر صرف تقریباً‌ ۱۴۸ صفحات کے مضمون کو پھیلا پھیلا کر ۳۹۲ صفحات کر دیے جس کی قیمت بھی بڑھ گئی۔ اس بات کو ضرور پیش نظر رکھنا کہ آئندہ ایسا نہ ہو اور اس کو بھی کم صفحات میں کتابت کراؤ۔ یہ خرچہ بہ نسبت کاغذ اور طباعت کے خرچے کے مقابلہ میں بہت کم ہو گا۔ 

والسلام

ابو الزاہد محمد سرفراز

۱۱ ربیع الثانی ۱۴۱۶ھ / ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء

معاون

حضرت شیخؒ مدرسہ نصرۃ العلوم کے ذاتی معاون بھی تھے اور دیگر حضرات کو بھی انفرادی طور پر یا تحریری طور پر اس طرف توجہ دلاتے رہتے تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ اپنے وظیفے میں سے مدرسہ کو ماہانہ چندہ دیتے تھے۔ آپ نے اپنا آخری ماہانہ چندہ جو مدرسہ میں جمع کرایا، وہ دو سو روپے تھا۔ ایک مرتبہ گکھڑ سے کسی زمیندار نے ان کے ہاتھ اپنی زکوٰۃ و عشر کی رقم مدرسہ کے لیے بھیجی تو احقر نے بیس ہزار روپے کی رسید بنا کر انہیں دی۔ اسی مضمون کی ابتدا میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرتؒ جب ابتدائی دور میں مدرسہ نصرۃ العلوم کا سالانہ امتحان لینے کے لیے تشریف لائے تھے تو امتحانی رپورٹ کے آخر میں بھی انہوں نے اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ’’اربابِ بست و کشاد طلبہ اور ان کے اساتذہ کی رعایت ملحوظ رکھیں اور ان کی حتی المقدور ہمت افزائی کریں‘‘۔ (مطبوعہ روئیداد مدرسہ نصرۃ العلوم، ج ۱، ص ۸)

۱۹۸۶ء میں جب برطانیہ کے بائیس روزہ دورے پر تشریف لے گئے تو وہاں بعض واقف حال لوگوں نے آپ کے ہاتھ مدرسہ کے لیے کچھ رقم بھجوانا چاہی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ ’’براہ راست مدرسہ بھیجیں‘‘۔ گویا آپ نے یہ چاہا کہ ان کا تعلق مدرسہ سے براہ راست قائم ہو جائے اور ایسا ہی ہوا۔ ویسے بھی آپ مالی معاملات میں انتہائی محتاط تھے۔ آپ کی کوشش ہوتی تھی کہ مدرسہ کی رقم کو ہاتھ نہ لگائیں۔ اس کا اندازہ میرے نام ایک خط سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ جب ۱۹۹۵ء میں آپ جنوبی افریقہ کے دورے پر تشریف لے گئے تو ایک صاحب نے انہیں مدرسہ کے لیے کچھ رقم دی اور ذاتی طور پر ہدیہ بھی دیا۔ درمیان میں ایجنٹ نے کچھ گڑبڑ کر دی تو آپ نے لکھا:

’’باسمہ سبحانہ
من ابی الزاہد
الیٰ عزیز القدر! محمد فیاض سلّمہ اللہ تعالیٰ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ                  مزاج؟
الحاج محمود موسیٰ میاں صاحب نے دس ہزار رینڈ تو بمد زکوٰۃ دیے تھے اور یہ کہا تھا کہ یہ اَسی ہزار روپے پاکستانی ہیں۔ ایجنٹ نے رقم ڈالر میں بدل دی۔ مجھے ہدیہ تین ہزار رینڈ حاجی صاحب نے اور دو ہزار ان کے بھائی حاجی نذیر صاحب نے، کل پانچ ہزار رینڈ بواسطہ ایجنٹ دیے جن کی مالیت چالیس ہزار ہوتی ہے، مگر مجھے جو رقم ملی ۲۳۹۷۰ ہے، باقی نہیں ملی۔ اپنا حساب چیک کر لو تاکہ میں ان سے رابطہ قائم کروں۔
والسلام
ابو الزاہد محمد سرفراز
۲۶ ربیع الاول ۱۴۱۶ھ

حضرت شیخؒ نے مدرسہ کے اَسی ہزار روپے زکوٰۃ کے تو جمع کرا دیے۔ بندۂ فقیر نے ہی اس کی رسید بنا کر انہیں دی، لیکن ان کے ذاتی ہدیے کا نصف غالباً‌ ایجنٹ ہی ہڑپ کر گیا۔ اس موقع پر بھی انہوں نے ذاتی نقصان تو برداشت کر لیا لیکن مدرسہ کو نقصان نہیں پہنچنے دیا۔

سرپرست

آپ مدرسہ نصرۃ العلوم اور ہمارے سواتی خاندان کے سرپرست اور سربراہ تھے۔ مدرسہ کے تمام شعبہ جات پر آپ کی بڑی گہری نظر ہوتی تھی۔ خصوصاً‌ تعلیمی و تحریری معاملات میں باریک بینی سے سرپرستی فرماتے تھے اور وقتاً‌ فوقتاً‌ ان معاملات میں ہدایات بھی جاری فرماتے رہتے تھے۔ اساتذہ و طلبہ کو وعظ و نصیحت بھی فرماتے۔ بندہ سے مدرسہ کے انتظامی معاملات میں بھی پوچھ گچھ کر کے باخبر رہتے تھے۔ ۲۰۰۱ء تک تو وہ پڑھانے کے لیے مدرسہ تشریف لاتے رہے اور ہر روز ہی ان کی زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوتا، لیکن بعد ازاں بھی وہ گاہے بگاہے مدرسہ تشریف لاتے رہے۔ ہم بھی ان کی ملاقات کے لیے گھر حاضر ہوتے۔

جب بھی میں ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوتا تو وہ دروازے سے داخل ہوتے ہی پہچان لیتے اور خود ہی فرماتے کہ ’’فیاض ہے؟‘‘ سلام و دعا کے بعد سب سے پہلا سوال ان کا یہ ہوتا کہ ’’صوفی ٹھیک ہے؟‘‘ حضرت والد ماجدؒ کی حیات تک ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا۔ پھر دیگر گھر والوں کا حال احوال پوچھتے۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کسی بھی ملاقات میں اس ترتیب کو بدلا ہو۔ اس کے بعد وہ مدرسہ کے حالات کے بارے میں سوال کرتے: کتنے طالب علم ہیں؟ دورۂ حدیث میں کتنے طلبہ ہیں؟ فلاں شعبہ میں کتنی تعداد ہے؟ فنڈ کا کیا حال ہے؟ تم کون کون سے سبق پڑھاتے ہو؟ یہ سلسلہ آخر تک بدستور قائم رہا۔

حضرت صوفی صاحبؒ کی وفات کے تیسرے دن جب میں انہیں ملنے کے لیے گیا تو واپسی پر میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر غمگین انداز میں اس پر بوسہ دیا اور آبدیدہ ہو گئے۔ آخری ایک ہفتے میں آپ کی بول چال اور کھانا پینا تقریباً‌ بند ہو گیا تھا۔ اس دوران میں ان سے ملنے کے لیے گیا تو وہ خاموش تھے۔ میں نے اپنا منہ ان کے بالکل قریب کیا تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو ہلایا، لیکن بات سمجھ میں نہ آئی۔ مجھے ایسا ہی محسوس ہوا کہ وہ اپنی روٹین کے مطابق فرما رہے ہیں: ’’فیاض ہے؟‘‘ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔

آپ کا حافظہ اور نظر آخر تک صحیح کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی وفات سے تقریباً‌ ایک ماہ قبل میں اپنے بیوی بچوں سمیت ان سے ملنے گیا تو اس دن طبیعت میں بے حد بشاشت تھی۔ اس دن بڑی ظرافت فرمائی اور ہمیں واپس نہیں آنے دیتے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ رات یہیں ٹھہرو، لیکن بچوں نے اسکول و مدرسہ پڑھنے کے لیے جانا تھا اور رات وہاں قیام ممکن نہ تھا، لہٰذا انہوں نے اجازت دے دی۔ میری اہلیہ، جو اُن کی سب سے بڑی پوتی ہیں، انہوں نے اسی مجلس میں ان سے پوچھا: ’’ابا جی! یہ سامنے دیوار پر جو کلاک لگا ہوا ہے، آپ کو نظر آتا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں‘‘۔ پھر پوچھا: ’’اچھا بتائیں اس وقت ٹائم کیا ہوا ہے؟‘‘ اس وقت رات کے پونے نو بجے تھے۔ لیٹے لیٹے غور سے کلاک کی طرف دیکھ کر مزاح سے فرمانے لگے: ’’نونے پوں‘‘۔ محفل میں بیٹھے سب بچے خوب ہنسے۔ یہ ہمارے ساتھ ان کی آخری خوش طبعی تھی۔ میرے بچوں کو ایک ایک کر کے بوسہ دیا۔ ان کے لیے وہ اکثر ملاقات کے وقت یہ دعا فرماتے تھے جو اس محفل میں بھی فرمائی کہ ’’اللہ حافظ، عالم باعمل بنائے، اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلائے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے، آمین۔

ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کے کئی واقعات ذہن میں گردش کر رہے ہیں اور مضمون طویل ہوتا جا رہا ہے۔ جب انہوں نے مدرسہ آنا چھوڑ دیا تو ایک بار حضرت والد ماجدؒ عزیزم محمد ریاض خان سواتی کو ساتھ لے کر گکھڑ ان سے ملنے گئے تو دورانِ گفتگو حضرت صوفی صاحبؒ نے ان سے مزاحاً‌ کہا: ’’اب تو آپ مدرسہ آتے نہیں، اس لیے ’چٹا حرف لکھن دی ہون اینوں اجازت دے دیو‘۔‘‘ تو شیخؒ مسکرانے لگے اور برادرم ریاض کو تین نفلی روزے رکھوا کر دم، تعویذات اور عملیات کی اجازت دے دی۔

۱۹۹۱ء میں احقر نے اپنی سب سے پہلی کتاب حضرت والد ماجدؒ کی ’’نمازِ مسنون کلاں‘‘ پر غیر مقلدین کے اعتراضات کے دفاع میں لکھی، اس کا نام ’’حی علی الفلاح‘‘ ہے۔ اسے مطالعہ کرنے کے بعد ہمارے گھر کے صحن میں کھڑے کھڑے سب گھر والوں کے سامنے بڑی حوصلہ افزائی فرمائی، پسندیدگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا: ’’کچھ الفاظ پروف ریڈنگ میں درست ہونے والے ہیں۔‘‘

پھر جب احقر نے ماہنامہ نصرۃ العلوم میں حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے متعلق یکے بعد دیگرے تین مضامین لکھے، جو اُن کے عزم و استقلال، تابعیت اور صحابہ کرامؒ سے ان کی روایات کے موضوع پر تھے، تو ان مضامین پر بھی بڑی تشجیع فرمائی۔ پھر اولین مدونینِ حدیث میں سے بلند پایہ محدث امام زہری رحمہ اللہ پر شیعیت کے الزام کے دفاع میں احقر نے ۳۸ صفحات پر مشتمل ایک مضمون لکھا، جس پر شیخ رحمہ اللہ نے نہ صرف تصویب فرمائی بلکہ احقر کو پانچ صد روپے نقد انعام بھی مرحمت فرمایا۔

احقر کی مرتب کردہ کتاب ’’احکامِ عمرہ‘‘ اور ’’احکامِ حج‘‘ حضرت شیخؒ نے متعدد مرتبہ اپنی جیب سے خرید کر کئی احباب کو، جو حج و عمرہ کے سفر پر جا رہے تھے، ہدیہ دیں۔ یہ احقر کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ 

ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ ماہنامہ نصرۃ العلوم کی کتابت اچھی ہے، حروف موٹے ہوتے ہیں، میں اسے پڑھ لیتا ہوں، لیکن ماہنامہ الشریعہ کے حروف بہت باریک ہوتے ہیں، وہ مجھ سے نہیں پڑھے جاتے۔ آپ ماہنامہ نصرۃ العلوم کو بڑی گہری نظر سے ملاحظہ فرماتے تھے اور بعض مضامین پر پسندیدگی کا اظہار بھی فرماتے تھے۔

حضرت صوفی صاحبؒ کی کتاب ’’نمازِ مسنون کلاں‘‘ کے بارے میں اکثر لوگوں کو فرمایا کرتے تھے کہ اس کا مطالعہ کریں اور بچوں کو نماز مسنون خود یاد کرائیں۔ اور علماء سے کئی بار فرمایا کہ درس کے لیے ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ کا مطالعہ کیا کرو‘‘۔ یہ سب باتیں ان کے بڑے پن کی تھیں کہ وہ چھوٹوں پر دستِ شفقت رکھتے تھے۔ 

اساتذہ کی میٹنگ میں کبھی کوئی سبق زائد بچ جاتا اور تقسیم میں نہ آتا تو کسی نوجوان استاد سے فرماتے کہ یہ تم لے لو، اور ساتھ حوصلہ افزائی فرماتے اور اپنا واقعہ بھی سناتے کہ جب میں جوان تھا تو ایک ایک دن میں تیس تیس اسباق پڑھاتا تھا، جن میں سے سب سے چھوٹا سبق شرح تہذیب کا ہوتا تھا۔ اس سے نوجوان اساتذہ کو ہمت ہو جاتی اور آپ اپنی سرپرستی کا حق ادا فرما دیتے۔

آپ اکثر نصیحت فرماتے تھے کہ اپنی ڈیوٹی پر دوسرے کاموں کو ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اپنی امامت، خطابت، درس و تدریس کو چھوڑ کر دوسری جگہوں میں جا کر کام کرنا درست نہیں ہے۔ ہاں! فارغ اوقات میں درست ہے۔ حضرت گنگوہیؒ کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے کہ کسی بھی ادارہ سے متعلق آدمی کو اس ادارے کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا واجب ہے۔

وقت کی قدر و منزلت کے بارے میں ایک انگریز کا واقعہ سنایا کرتے تھے کہ بحری جہاز کے کپتان نے طوفان کی وجہ سے خطرے کی آخری سیٹی بجا دی۔ موت کے خوف سے سارے جہاز میں چیخ و پکار اور افراتفری کی کیفیت پیدا ہو گئی، لیکن ایک انگریز بے فکر ہو کر اپنے مطالعے میں مستغرق تھا۔ کسی نے اس سے پوچھا کہ اس وقت مطالعہ کر رہے ہو جبکہ موت سر پر سوار ہے؟ تو اس نے نہایت حیرت انگیز جواب دیا کہ ’’موت تو اپنے وقت پر ہی آنی ہے، تمہارے شور و غل یا بے صبری سے ٹل نہیں سکتی، تو میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں، میں اتنی دیر میں اپنا مطالعہ کیوں نہ کر لوں؟‘‘ آپ کی یہ سرپرستانہ باتیں آج تک ذہن کو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔

احقر جب ۱۹۸۴ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوا تو (حضرت شیخؒ نے) اپنی دونوں اہلیہ محترمہ کو تبرع دے کر مجھے رخصت کرنے کے لیے بھیجا۔ پھر جب میں واپس آیا تو گکھڑ اپنے گھر بلا کر میری پر تکلف دعوت کی۔

مدرسہ نصرۃ العلوم کے فیض کے متعلق آپ عموماً‌ اپنے درس و بیان میں فرمایا کرتے تھے کہ بحمد اللہ تعالیٰ گوجرانوالہ اور اس کے اطراف میں جو دیوبندیت کا نام ہے، تو یہ سارا نصرۃ العلوم کی کوششیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم جیسے فقیروں کے ہاتھ سے لی ہیں، اس پر اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔‘‘

ایک مرتبہ میں آپ کی علالت کے زمانہ میں گکھڑ ملاقات کے لیے گیا تو مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ مجھے فرمانے لگے کہ نماز پڑھاؤ۔ چنانچہ احقر نے انہیں مغرب کی نماز کی امامت کرائی، وگرنہ ان کا معمول یہ تھا کہ وہ وہاں موجود حضرات کو مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کا حکم فرماتے تھے۔

۲۰۰۴ء میں آپ اپنے چھوٹے بھائی سے ملاقات کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے تو دونوں بھائی آمنے سامنے بیٹھ کر ایک دوسرے کو کافی دیر دیکھتے رہے لیکن کوئی بات نہیں کی۔ یہ منظر دیکھ کر قریب موجود سب لوگ ہنسنے لگے تو حضرت شیخؒ نے حضرت صوفی صاحبؒ سے پوچھا، ’’تجھے یاد ہے کہ ہم نے دارالعلوم دیوبند میں ابن ماجہ کس بزرگ سے پڑھی تھی؟ مجھے ان کا نام یاد نہیں رہا‘‘۔ تو حضرت صوفی صاحبؒ نے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ انہیں ان کا نام بتاؤ۔ تو احقر نے عرض کیا کہ دو اساتذہ سے آپ نے پڑھا ہے؛ کچھ حصہ حضرت مولانا مفتی ریاض الدین صاحبؒ سے اور کچھ حصہ حضرت مولانا ابو الوفاء شاہجہانپوریؒ سے۔ تو ہاتھ اٹھا کر انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اور سر ہلاتے ہوئے اس کی تصویب فرمائی۔

پھر مجھے فرمانے لگے کہ فیاض! حضرت شیخ الہندؒ اور ان کے شاگردوں کے متعلق تعارفی مضمون لکھو۔ حضرت صوفی صاحبؒ نے فرمایا کہ یہ ماہنامہ نصرۃ العلوم میں لکھتا رہتا ہے، اس میں لکھے گا۔ احقر نے عرض کیا کہ حضرت شیخ الہندؒ کے مشہور تلامذہ تو حضرت مدنیؒ، حضرت تھانویؒ، حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلویؒ وغیرہ ہیں، تو شیخؒ فرمانے لگے کہ ان کے علاوہ بھی جو ہیں، مثلاً‌ مولانا غلام غوث ہزاروی وغیرہ، سب کے متعلق ہونا چاہیے۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے حضرت ہزارویؒ سے کیا کیا پڑھا ہے؟ تو فرمایا، نحو میر کا کچھ حصہ اور تعلیم الاسلام۔

آپ کی سرپرستانہ باتیں بہت زیادہ ہیں جن کا یہ مضمون متحمل نہیں ہے۔

(جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء)

جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء

خصوصی اشاعت بیاد شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

مدرسہ نصرۃ العلوم میں حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خدمات
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
ڈاکٹر حافظ محمد رشید

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذہب الذین یعاش فی اکنافہم
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

شجر ہائے سایہ دار
حافظ محمد عمیر عثمان

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

عصرِ حاضر کے مجدد
مولانا عبد الستار تونسوی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

’’مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا‘‘ — مختصر تاثراتی تحریریں
ادارہ

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

قصیدۃ الترحیب
مولانا ڈاکٹر سید شیر علی شاہ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
شبیر احمد خان میواتی

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی ’’سند الاجازۃ بالحدیث النبوی‘‘ کا عکس
ادارہ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

تلاش

شماریات