چند یادگار ملاقاتیں

پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

مورخہ ۵ مئی ۲۰۰۹ کو تقریباً ساڑھے گیارہ بجے حسب معمول جب میں دعوۃ اکیڈمی پہنچا تو کلاس میں داخل ہونے سے پہلے کلاس روم سے باہر طلبہ اور رفقاے دعوہ اکیڈمی کاایک ہجوم نظر آیا۔ یہ یہ لوگ آپس میں گفتگو کر ر ہے تھے اور پریشان نظر آرہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپکے اوریہ افسوس ناک خبر سنائی کہ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر انتقال کر گئے۔ یہ اندوہناک خبر سنتے ہی طبیعت بوجھل ہو گئی اور مولانا کی صحبت میں بیتے ہوئے وہ سارے لمحات مستحضر ہو گئے جو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ 

مولانا سرفراز خا ن صفدر دارالعلوم دیوبند کے اس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے جس کے ارکان اب برصغیر پاک وہند میں تقریباً نایاب ہو چکے ہیں۔ میری ذاتی ملاقات مولانا مرحوم کے ساتھ ۱۹۷۶ کے بعد ہوئی اور الحمدللہ بار بار ہوئی، لیکن ہمارے خاندان میںآپ کا چرچا پہلے سے تھا۔ میرے تایا مولانا محمد یونس مرحوم اور میرے چچا مولانا عبدالحق حفظہ اللہ دونوں نے دارالعلوم دیوبند سے ا س دور میں استفادہ کیا جب مولانا سرفراز خا ن صفدر وہاں موجود تھے۔ میرے چچا نے بار ہا آپ کے بارے میں ہمیں بتایااور آپ کی علمی وتالیفی خدمات پر رشک کا اظہار فرمایا۔ میرے والد مرحوم مولانا فیروز ؒ سے جب کوئی طالب علم مشورہ لیتا تو آپ اسے مولانا سرفراز خا ن صفدر سے استفادہ کرنے کا مشورہ عنا یت فرماتے تھے۔ میرے اساسی اساتذہ میں مفتی محمد اسرائیل مرحوم مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ کے زملا میں تھے۔ آپ جب دارالعلوم دیوبند میں اپنے بیتے ہوئے ایام کا تذکرہ چھیڑتے تھے تو مولانا کا ذکر خیر مختلف حوالوں سے ہوتا تھا۔ مولانا مرحوم کا تذکرہ ہمارے ہاں جمعیت طلبہ اسلام کے حلقوں میں بھی زور وشور سے رہتا تھا۔ طلبہ کی تربیت اور ذہن سازی کے ضمن میں جو کتابیں مطالعہ کے لیے تجویز کی جاتی تھی، ان میں مولانا سرفراز خا ن صفدر کی تالیفات بھی ہوتی تھی۔ ان دنوں میں جمعیت طلبہ اسلام بہت فعال تنظیم تھی۔ کراچی میں جمشید روڈ پر واقع جمعیت طلبہ اسلام کے دفتر میں ماہانہ تربیتی پروگرام منعقد ہوتے تھے او راس کے ملحق لان میں سالانہ کنونشن کا انتظام ہوتا تھا۔ جمعیت علماے اسلام کے اکابر ان پروگراموں میں بڑے ذوق وشوق سے تشریف لاتے اور طلبہ کی سرپرستی فرماتے تھے۔ 

مجھے یاد ہے کہ ایک موقع پر جب مولانا سرفراز خا ن صفدر تشریف لائے تو پہلی منزل پر جانے کے لیے سیڑھیاں تنگ ہونے کی وجہ سے ہم نے آپ کو سہارا دینے کی کوشش کی۔ آپ نے فرمایا: نہیں۔ آپ میری وجہ سے تکلیف نہ کریں۔ میں آسانی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ سکتا ہوں۔ ‘‘ پھر دفتر میں بیٹھ کر ہمارے ساتھ گھل مل گئے ۔ اس موقع پر یاد ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ آپ لوگ مجھے جتنا بوڑھا سمجھ رہے ہیں، میں اتنا بوڑھا نہیں‘‘۔ ہم نے کہا: حضرت ! ’’مفتی صاحب جب یہاںآتے ہیں تو انہیں اچھی خاصی وقت ہوتی ہے‘‘۔ فرمایا: ’’ مفتی محمود بوڑھا ہے۔ میں بوڑھا نہیں ہوں‘‘۔

۱۹۸۱ء میں جب میں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو بحیثیت مبلغ Joinکیا تو اس کے بعد مولانا مرحوم کے ساتھ جہاں ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا، وہاں عقیدت کا رشتہ بھی استوار ہوا۔ یہ رشتہ الحمدللہ تسلسل کے ساتھ برقرار رہا۔ ۱۹۸۵ء میں جب میرا تقرر دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بطور لیکچرر ہوا اور بعدازاں تربیت ائمہ پروگرام کی مسؤلیت مجھے دی گئی تومولانا مرحوم کے ساتھ ملاقاتوں کے سلسلے نے ایک اور شکل اختیار کرلی۔ تربیت ائمہ پروگرام کے شرکا کے لیے جو کورس ڈیزائن کیا گیا تھا، اس کا ایک معتد بہ حصہ مختلف مکاتب فکر کے علما ومشائخ کے ساتھ ملاقاتوں پر مبنی تھا۔ ان دنوں میں شرکاے کورس کو لے کر جب ہم پشاور جاتے تھے تو راستہ میں دارالعلوم حقانیہ اتر کر مولانا عبدالحق ؒ کی زیارت کرتے تھے۔ ہم اس نزول کو سنت مفتی محمود ؒ کہا کرتے تھے۔ مفتی محمود ؒ جب پشاور جاتے تھے تو دارالعلوم حقانیہ کی زیارت ضرور کرتے تھے ۔ اور جب شرکاے کورس کو لے کر ہم سفر کرتے تھے تو راستہ میں نصرۃ العلوم اتر کرمولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ کی زیارت کرتے تھے۔ مولانا بہت خوش ہوتے تھے۔ فرداً فرداً شرکا ے کورس کے ساتھ گفتگو فرماتے تھے۔ ملاقات کے موقع پر آپ شرکاے کورس کے ساتھ جو گفتگو فرماتے تھے تو پوری سند کے ساتھ حدیث پڑھ کر اس کی تشریح فرماتے تھے۔ فقہ کا لٹریچر پڑھنے کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ کتاب محض رسم کے طور پر نہیں پڑھنی چاہیے، بلکہ کتاب کی روح تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

۱۹۹۰ء میں دعوۃاکیڈمی کی طرف سے انٹرنیشنل تربیت ائمہ پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس ضمن میں پہلاگروپ تاجکستان اور ازبکستان کے علما اور ائمہ مساجد سے منتخب کیا گیا۔ یہ گروپ ہمارے ہاں ان دنوں پہنچا جب روس کا تسلط ترکستان پر قائم تھا ۔ اس گروپ کے شرکا جن کی تعداد سولہ تھی، عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں گفتگو کر سکتے تھے۔ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے کی فارسی بہت اچھی تھی، اس لیے کہ ان کی فارسی مادری زبان ہے، البتہ ازبکستان کے علما کی فارسی اس حدتک اچھی نہیں تھی۔ اس کورس کے شرکا کو ہمارے ہاں دینی مدارس میں قدرتی طور پر بڑا پروٹوکول ملا اور بہت سارے علما اور مشائخ کے ساتھ ان کی ملاقات کرائی گئی۔ جب ہمارا پروگرام لاہور کا جانے کا بن گیا تو حسب معمول حضرت مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ کی زیارت کے لیے اتر گئے۔ شیخ نے اپنے معمول سے زیادہ گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ مجھے یاد ہے، کافی دیر تک فرداًفرداً آپ نے معانقہ فرمایا اورانتہائی مسرت کا اظہار فرمایا۔ شیخ اپنی حیثیت کو بالاے طاق رکھتے ہوئے مہمانوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ کسی کے ساتھ فارسی میں بول رہے تھے تو کسی کے ساتھ عربی میں بول رہے تھے۔ ترکستان کے اسلاف کبار کا نام لے لے کر فرماتے تھے کہ فلاں امام کے علاقہ سے ہیں، یہ فلاں امام کے شہر سے ہیں۔ 

ظہر کی نماز کے بعد ہم نے مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ سے اجازت لی تو آپ نے فرمایا : ’’ آپ لوگوں کی خاطر تواضع نہیں ہوئی، میری خواہش ہے کہ لاہورسے واپسی پر آپ ہمارے ہاں کھانا کھائیں۔ ‘‘ میں نے عرض کیا ’’ خاطرتواضع تو بہت ہوئی۔ آپ سے ملاقات ہوئی، آپ نے شفقت فرمائی اور پر تکلف چائے بھی پیش فرمائی۔ ‘‘ میر ی بات سن کر آپ ؒ مسکرائے اور فرمایا: ’’ آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن ایسے مہمان پتہ نہیں کہ پھرہمیں ملتے ہیں کہ نہیں۔‘‘

غالباً آپ کا اشارہ ترکستان کی مقبوضہ صورت حال کی طرف تھا۔ آپ کے پرخلوص اصرار پر ہم نے واپسی پر ملاقات کا وعدہ کیا۔ جب میں نے شرکاے کورس کویہ بات بتائی تو وہ از حد خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہماری بھی یہی خواہش تھی کہ واپسی پر مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ سے دوبارہ ملاقات کریں۔ لاہورسے واپسی پر جب شیخ ؒ سے ملاقات ہوئی تو آپ نے بہت عمدہ کھانے کا انتظام فرمایاتھا۔ دستر خوان پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر اپنے دست مبار ک سے روٹی توڑ توڑ کر مہمانوں کو دیتے رہے اور فرماتے تھے کہ یہ مہمانوں کی خاطر مدارات کے ضمن میں ترکستان کی روایت ہے۔ کھانا کھا لینے کے بعد ہم تھوڑی دیر آپؒ کی صحبت میں رہے۔ پھر شرکاے کورس نے دعا کے لیے درخواست پیش کی۔ آپ ؒ نے بہت رقت اور خلوص کے ساتھ دعا فرمائی۔ شیخ کے ساتھ یہ میری زندگی کی یاد گار ملاقات ہے جو میرے لیے ایک انمول اور قیمتی سرمایہ ہے۔ عجیب اتفاق کی بات ہے کہ آپ کے انتقال کی خبربھی اس وقت ملی جب میں انٹرنیشنل تربیت ائمہ کورس کو لیکچر دینے کے لیے کلاس روم کی دہلیز پرتھا۔ 

حضرت مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ علوم عالیہ اور علوم آلیہ کے جامع تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر علم وفن میں حظ وافرعطا فرمایا تھا۔ یہ خصوصیت آپ کی تدریس اور تحریر میں بہت نمایاں نظر آتی ہے۔ لیکن جو ملکہ آپ کو علم الرجال میں حاصل تھا، وہ اس دور کے کسی اور شخصیت کے حصہ میں نہیں آیا۔ روات حدیث پر آپ کامطالعہ اتنا وسیع تھاکہ معرو ف رواۃ حدیث کے حالات تقریباً آپ کو از بر تھے۔ اس لحاظ سے آپ اس دور میں امام ابن المبارک، امام ابن معین، امام علی بن المدینیؒ ، حافظ مزی اور حافظ ذہبی کے علوم کے وارث تھے۔ اسناد کے ساتھ ساتھ متون حدیث پر آپ کی گرفت بہت مضبو ط تھی۔ آپ نے جن جن موضوعات پر قلم اٹھایا اور احادیث کی روشنی میں ان پر بحث کی ہے، فنی طور پر ان مباحث کو دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے کس حدتک متون کو کھنگالا ہے اورکس طرح ان مخفی گوشوں کو کھول کر رکھ دیاہے جو عام طور پر اچھے خاص قاری کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ 

حضرت مولانا سرفراز خا ن صفدر ؒ محض روکھے سوکھے عالم نہیں تھے ۔ آپ کی شخصیت بہت دل آویز، رویہ بہت خوبصورت اور وجود بہت پرکشش تھا۔ آپ کو دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ آپ کو حقیقتاً حجۃ الاسلام مولانامحمدقاسم نانوتویؒ ، شیخ الہند مولانا محمود حسن اورشیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ کی نسبت کاملہ حاصل ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا سرفراز خان صفدر ؒ کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائے، اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر