گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات

قاری حماد الزہراوی

گوجرانوالہ اور وزیر آباد کے درمیان جی ٹی روڈ پر واقع گکھڑ ایک قدیم تاریخی مقام ہے۔ اسے ایک جنگ جو اور مہم جو قبیلے گکھڑ کی نسبت سے یہ نام دیاگیا ۔ اس کی وجہ تسمیہ کی بابت مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ برصغیر کے معروف عدل گستر، اعلیٰ پایے کے منتظم اور عظیم بادشاہ شیرشاہ سوری سے شکست کے بعد مغل خاندان کے چشم وچراغ نصیر الدین ہمایو ں نے جب ایران کا رخ کیا تو اس دورمیں گکھڑ قوم نے شیرشاہ سوری کے خلاف باغیانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ چنا نچہ گکھڑوں کی سرکوبی کے لیے ہی شیر شاہ سوری نے دینہ کے قریب روہتاس کا قلعہ تعمیر کرایا۔ شیرشاہ کی وفات کے بعد جب ان کے جانشین نااہل ثابت ہوئے تو ہمایوں نے شاہ ایران طہماسپ کے تعاون سے ہندوستان پر حملہ کر دیا۔اس دوران اس نے گکھڑقوم کے سرداروں سے رابطہ کرکے ان سے تعاون طلب کیا۔ گکھڑوں نے اس تعاون کے عوض کامیابی کی صورت میں اپنے علاقے میں خود مختاری طلب کی جسے ہمایوں نے اضطراراً منظور کر لیا، چنانچہ ہمایوں کی فتح کے بعد پوٹھوار کے علاقہ سے دریاے چناب سے دس فرسنگ لاہور کی جانب تک گکھڑ سلطنت کی سرحد قرار پائی۔ 

شیرشاہ سوری کی تعمیر کردہ چوکی اور سرائے پہلے سے وہاں موجودتھی، اسے گکھڑ سرحد چوکی کے نام سے موسوم کردیاگیا جس کا کچھ حصہ جی ٹی روڈ گکھڑ کے قریب واپڈا گرڈاسٹیشن کے شمال مشرقی کنارے پر ٹیلی فون ایکسچینج کے ساتھ آج بھی موجود ہے۔ اس چوکی سے کچھ فاصلے پر رفتہ رفتہ ایک بستی قائم ہو گئی جسے پہلے گکھڑ چوکی اور پھر گکھڑ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ جلال الدین اکبر کے دورمیں جب تمام خود مختار ریاستیں ختم کر دی گئیں تو گکھڑ وں کی اس ریاست کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ گکھڑ قوم کے حوالے سے یہ روایت بھی منقو ل ہے کہ پرتھوی راج کو شکست دینے کے بعد فاتح ہند سلطان شہاب الدین غوری کی افغانستان واپسی کے دوران گکھڑ وں نے ان پر دھوکہ سے حملہ کردیا اور وہ اپنے تین وفادار محافظو ں کے ساتھ شہید ہوگئے۔ تاریخی ریکارڈ کی روشنی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ۱۹۹۵ء میں جی ٹی روڈ پر واقع سوہاوہ کی سرزمین پر ان کی قبر دریافت کی۔ سلطان غوری کی شہادت کے قریباً آٹھ سوسال بعد جب قبر کشائی کی گئی تو ان کا جسد خاکی ان کے محافظو ں سمیت صحیح سالم نکلا، چنانچہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خواہش وکاوش سے سلطان غوری کا مزار تعمیر کیا گیا۔ چونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر کا تعلق گکھڑ قوم سے ہے، اس لیے انہوں نے اپنی قوم کے دامن پر لگے ہوئے اس داغ ندامت کو دھونے کی سعی کی ہے اور غوری میزائل بناکر اپنی قوم کی شدید زیادتی کامداوا کیا ہے۔ 

امام اہل سنت ؒ کی گکھڑ میں آمد 

قیام پاکستان سے چار سال قبل گکھڑ میں علوم ومعارف اور حریت واستقلال کے عظیم مرکز، برصغیر کے نامور تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ مولانامحمد سرفراز خان صفدرؒ نامی ایک عالم ربانی کا ورود ہوتا ہے۔ ایک خدا پرست اور حق گو عالم دین کی آمدیوں تو اہل گکھڑ کے لیے ایک اعزاز تھا، مگر شایدسخت مزاج، جھگڑالو اور محسن کش گکھڑ کے نام کا اہل گکھڑ کے مزاج پر اثر ہے کہ جو ہر شناسی اور قدر دانی کے وصف سے عموماً عاری دکھائی دیتے ہیں۔ چنانچہ اس عالم ربانی کا گکھڑ میں ابتدائی طویل عرصہ انتہائی مصائب ومشکلات سے دوچار رہا۔ جہالت اور ذہنی پستی نے شدید مخالفت کا ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ معدود ے چند گوہر شناس افراد کے سوا لوگوں کا عمومی طرز عمل انتہائی معاندانہ رہا۔ 

ایک عالم ربانی کے لیے لوگوں کا یہ انداز نہایت لائق تاسف اور تعجب انگیز تھا۔ اہل حق کی زندگی کے مصائب و مشکلات کے یہ اوقات صبر آزما ضرور ہوتے ہیں، مگر ثابت قدمی کے جوہر سے متصف افراد کے لیے یہ رفعت ومنزلت کے زینے شمار ہوتے ہیں۔ جس فرد کی علمی زندگی عزم وہمت سے عبارت ہو، اسے علمی زندگی میں ایسی رکاوٹیں کب منزل کی طرف بڑھنے سے روک سکتی ہیں۔ چنانچہ عزم کے اس کوہ گراں نے مخالفین کی ہر روش کو برداشت کیا، مگر اپنا سفر عزم مصمم کے ساتھ جاری وساری رکھا۔ منزل کی طرف رواں دواں راہی کلاب راہ سے الجھ کر منزل سے دست کشی اختیار نہیں کیا کرتا اور نہ ہی دریا بے دم ہو کرراستے سے واپس پلٹا کرتا ہے۔ چنانچہ راہ حق کایہ مسافر راستے کی ہر رکاوٹ کو دور کر تا چلا جاتا ہے۔ آواز ے کسنے والے آوازے کستے رہے، طعن با ز اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہے، عزت وآبرو کو تاراج کرنے کے درپے اور تن بدن کو آزار پہنچانے کے خواہاں اپنی تدابیر آزماتے رہے، مگر اخلاق کی پستی اخلاق کی بلندی کو نہ کبھی نیچادکھا سکی اور نہ اسے کبھی شکست سے دوچار کر سکی۔ 

گکھڑ کی منفرد اور تاریخی جامع مسجد 

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے ۹؍ جولائی ۱۹۴۳ء کو بحیثیت خطیب اور مدرس گکھڑ کی جس جامع مسجد میں اپنی دینی ذمہ داریوں کا آغاز کیا،ا س کے سامنے بوہڑ کا ایک تنا ور درخت تھا جس کی وجہ سے اسے بوہڑ والی مسجد کے نام سے پکار ا جاتا ہے۔ یہ درخت نصف صدی قبل تعمیر کی وجہ سے کاٹاجا چکاہے ۔ مسجد ہذا کے لیے رقبہ زمین وقف کرنے والے ایک بزرگ مولوی غلام حیدر چیمہ مرحوم کے ذریعہ سے اس مسجد کی تعمیرہوئی جو کئی سال تک اس مسجد کے پیش امام رہنے کے بعد ۱۵؍ستمبر ۱۸۸۷ء کوا س دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ ملک کی معروف اور عظیم دینی شخصیت حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اپنے چچا حضرت مولانا محمود لدھیانویؒ کی اس مسجد میں خطابت اور تدریس کے دور میں ان کے پاس ایک عرصہ تک زیر تعلیم رہے۔ مسجد ہذا میں مولانا علم الدین جالندھری فاضل دارالعلوم دیوبند بھی ایک مدت تک امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس مسجد کاایک منفرد اور امتیازی مقام یہ بھی ہے کہ یہاں امام اہل سنت مولانا سرفرازخان صفدرؒ نے تقریباً ساٹھ سال تک فریضہ خطابت انجام دینے کے ساتھ ساتھ نماز فجر کے بعد قرآن وحدیث کافیض عام کیا۔ ہفتہ کے ابتدائی تین دن درس قرآن اور آخری تین دن درس حدیث کا اہتمام رہا۔ حضرت موصوفؒ نے ا س دوران درس قرآن کے کئی دور مکمل کیے۔ آخری دور سورۃ الفرقان تک ہوا تھا کہ حضرت امام اہل سنتؒ کے فالج کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ دور مکمل نہ ہو سکا۔ 

درس قرآن کا یہ سلسلہ بڑ اعام فہم،سلیس اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے پنجابی زبان میں ہوتا تھا۔ عام افراد کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے بڑے سادہ اندازمیں یہ درس ہوتا تھا۔ سامعین قرآنی مکاتب کے انداز میں بیٹھتے اور ان کے سامنے قرآن حکیم ہوتاتھا۔ پہلے چند آیات کی قراء ت ہوتی، پھر ان کا ترجمہ بتایا جاتا اور اس کے بعد ہر آیت کی تشریح بیان ہوتی۔ گکھڑ کے ایک صاحب فکر عقید ت مند جناب محمد سرور منہاس نے درس قرآن کی یہ ترتیب بڑی حاضر باشی اور فکرمندی کے ساتھ کیسٹوں میں ریکارڈ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت شیخؒ کے خادم خاص جناب میرمحمد لقمان گوجرانوالہ اور تلمیذ رشید مولانا محمد نواز بلوچ کی مساعی جمیلہ سے یہ دروس پنجابی سے اردو میں منتقل ہوکر ’’ذخیرۃ الجنان فی دروس القرآن‘‘ کے نام سے شائع ہور ہے ہیں۔ اس صدی کی یہ ایک عظیم مسجد ہے جسے فیضان حدیث عام کرنے میں ایک منفردا ور تاریخی اعزاز حاصل ہے۔ تقریباً ساٹھ سال تک اس مسجد میں بحمداللہ امام اہل سنتؒ کتب صحاح ستہ یعنی بخاری، مسلم، ترمذی، ابو داؤد، نسائی اور سنن ابن ماجہ کے علاوہ مستدرک حاکم، ابوداؤد طیالسی، مسند احمد،الجامع الصغیر، صحیح ابن حبان، الترغیب والترہیب، مشکوٰۃالمصابیح اور الادب المفرد وغیرہ ذخیرہ حدیث کا درس دیتے رہے، مگر مقامی حضرات کی عدم دلچسپی اور بے توجہی کے باعث یہ عظیم علمی ذخیرہ بدقسمتی سے ریکارڈ نہ ہوسکا۔ البتہ مشکوٰۃ شریف کے دروس کایہ سلسلہ جناب محمد سرور منہاس کی مخلصانہ کاوش سے کیسٹوں میں محفوظ ہے۔ 

حضرت ممدوح مسجد ہذا میں تن تنہا تیرہ چودہ سال تک درس نظامی کے اسباق کی تدریس بھی کرتے رہے۔ روزانہ بیس سے زائد کتب کا تدریسی عمل حضرت موصوف کے علمی انہماک اور نصابی کتب پر عبور کا بین ثبوت فراہم کرتا ہے۔ مدرسہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ کے قیام سے پہلے یہ تدریسی سلسلہ تسلسل کے ساتھ گکھڑ میں جاری رہا، اور بعد میں مستقل طور پر نصرۃالعلوم میں منتقل ہوگیا۔ 

حضرت امام اہل سنتؒ کی زیر سرپرستی مسجد ہذا میں تقریباً بیس سال تک تجوید وقراء ت کی تعلیم کاسلسلہ بھی جاری رہا۔ اس عرصے میں حضرت مولانا قاری عبدالحلیم سواتیؒ اور مولانا غلام علی اعوان قرآنی فیض عام کرتے رہے۔ پھر جگہ کی تنگی کی وجہ سے یہ شعبہ دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ اس شعبہ سے فیض یافتہ بے شمار قراء کرم ملک کے طول وعرض بلکہ بیرون ممالک میں قرآنی تعلیمات کی شمع فروزاں کیے ہوئے ہیں اور خدمت واشاعت دین کی سعادت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔ مسجد ہذا میں شعبہ حفظ وناظرہ بھی نصف صدی سے زائد عرصہ سے قرآن کریم کی خدمت میں مصروف ہے۔ شیخ القاعدہ قاری علی احمد فیصل آبادی اور برادرم قار ی محمد اشرف خان ماجد مرحوم شعبہ ناظرہ میں کئی سال تک تدریس کرتے رہے۔ اس شعبہ میں زیر تعلیم رہ کر نہ صرف سینکڑوں طلبہ وطالبات قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم سے فیض یاب ہوچکے ہیں، بلکہ بے شمار شائقین قرآن کو حفظ قرآن مجید کاتاج اپنے سروں پر سجانے کی سعادت عظمیٰ حاصل ہو چکی ہے اور بیسیوں طلبہ وطالبات اب بھی اپنے سینوں کو نورقرآن سے منور کر رہے ہیں۔ معروف مدرس قرآن محترم قاری محمد انور مدظلہ فیصل آبادی ( جو ہم بہن بھائیوں میں سے بیشتر کے مشترکہ استاد ہیں) ایک طویل عرصہ تک یہاں تدریس قرآن کے عمل سے منسلک رہے۔ اب آپ مدینہ طیبہ کی پاکیزہ فضاؤں میں عرصہ دراز سے قرآن کے فیضان کو عام کر رہے ہیں۔ قاری فضل کریم، قاری محمد فاضل، قار ی محمد اشرف کشمیری، قار ی محمد اختر، قاری محمدسلیم، قاری محمد ہاشم، قار ی ضیاء اللہ، قار ی محمد انورانصر، قار ی محمد رفیق، قار ی ممتاز احمد، قاری اسلام الدین، قار ی محمد افضل چیمہ، قاری نسیم اختر، قاری حیدر علی طاہر اور قاری عمر فاروق الحسینی کے اسماے گرامی اس مسجد کے مدرسین کی فہرست میں شامل ہیں۔

مسجد ہذا کی حالیہ جاری تعمیر نو کے دوران حضرت امام اہل سنت ؒ کی تصنیفی اور تحقیقی خدمات کا فیض عام کرنے کے لیے ایک مستقل لائبریری بھی تعمیر کی گئی ہے۔ اس مسجد کو بحمداللہ ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ مسجد علاقائی سطح پر مختلف مساجد ومدارس کے قیام وانتظام کے علاوہ ان کے تعلیمی وتدریسی نظام کو باہم مربوط ومنظم کرنے اور مسلکی وحدت پیداکرنے کی گراں قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ یہ معارف اسلامیہ اکادمی کے نام سے مصروف عمل مختلف دینی وعصری اداروں کامرکز اور ہیڈ آفس بھی ہے۔ معارف اسلامیہ اکادمی کے مدیر اور مسجد ہذا کے خطیب کی حیثیت سے راقم الحروف کئی سال سے ذمہ داری انجام دے رہاہے۔ برادر کبیر اور معروف مذہبی اسکالر علامہ زاہد الراشدی مدظلہ بروز جمعہ المبارک بعد نماز مغرب یہاں ایمان افروز اور معلومات افزا لیکچر سے عوام کو فیض یاب کرتے ہیں۔ 

مسجد ہذا میں امام اہل سنتؒ پچاس سال سے زائد مدت تک حسبۃً للہ نماز پنجگانہ کی امامت کرواتے رہے۔ غیر حافظ ہونے کے باوجود کثرت تلاوت اور ترجمہ قرآن کے ساتھ غیر معمولی مناسبت کی وجہ سے نماز تراویح میں دیگر حفاظ قرآن کے ساتھ حضرت شیخؒ خود سامع ہوتے تھے۔ کیا مجال کہ کوئی غلطی کا ارتکاب کرکے قراء ت جاری رکھ سکے۔ حفاظ کرام سے زیادہ امام پر حضرت شیخؒ کی سماعت کا رعب ہوتا تھا۔ برادران کرام علامہ زاہدالراشدی، مولانا عبدالقدوس خان قارن، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا رشید الحق خان عابد، مولانا عزیزالرحمن خان شاہد اور راقم الحروف کو حضرت شیخؒ کی موجودگی میں نماز تراویح کی امامت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا۔ عزیزم محمد عمار خان ناصربھی مسجد ہذ ا میں نماز تراویح کے اندر قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل کرتے رہے۔ 

گکھڑ کالج میں درس قرآن

گورنمنٹ ٹیچرز ٹریننگ کالج گکھڑ برصغیر کاایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے جو یکم جنوری ۱۹۲۱ء کو معرض وجود میں آیا۔ یہاں پنجاب بھرکے مختلف قریب وبعید کے اضلاع کے طلبہ سیکڑوں کی تعداد میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ادارے میں طلبہ کے لیے ہاسٹل کا مستقل سسٹم موجود تھا۔ اساتذہ کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے اس ادارے کا تاریخ میں نہایت روشن نام ہے۔ نظم وضبط، تعلیم وتربیت اور سہولیات کے حوالے سے یہ ایک مثالی اور معیاری ادارہ شمار ہوتا ہے۔ یہاں عرصہ دراز تک پی ٹی سی، سی ٹی، آرٹ اینڈ کرافٹس اور او ٹی کلاسز کاسلسلہ جاری رہا۔ اب یہاں طلبہ وطالبات کے لیے بی ایڈ اور ایم ایڈ کی کلاسز ہوتی ہیں۔ 

امام اہل سنت ؒ نے ۱۹۴۳ء سے کالج کی مسجد میں درس قرآن کامبارک عمل شروع کیا۔ قیام پاکستان سے پہلے تو ادارے میں زیر تعلیم کئی غیر مسلم طلبہ بھی مسلم طلبہ کے ساتھ درس میں شریک ہو کر اسلامی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرتے رہے۔ درس قرآن کی اس کلاس میں ادارے کی طرف سے تمام طلبہ کے لیے حاضری لازمی تھی۔ حضرتؒ کا تعلیم وتربیت کا عمل، علمی اور مدلل مگر نہایت سہل انداز میں ہوتا تھا۔ آپ سوالات اور اشکالا ت کا جواب نرم لہجے اور مشفقانہ اندازمیں دیتے تھے۔ مختلف مذاہب اور مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کرام بڑے انہماک اور طلب کے ساتھ درس قرآن کے اس حلقہ میں شریک ہوتے تھے۔ چنانچہ سیکڑوں کی تعداد میں ہر سال طلبہ قرآنی تعلیمات سے اپنے قلوب واذہان کو منورکرتے رہے۔ اس دوران صوبہ کے دور دراز شہرو ں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں طلبہ کی اعتقادی اور عملی زندگی میں کافی تبدیلی رونماہوئی ۔ گرمیوں کے ایام میں درس قرآن کایہ سلسلہ عصر کے بعد اور سردیوں میں عشا کے بعد ہوا کرتا تھا۔ عصری تعلیم یافتہ افراد کے لیے فہم قرآن کا یہ ایک بہترین اسلوب تھا، مگر بدقسمتی سے یہ علمی ذخیرہ محفوظ نہ کیا جا سکا۔ چونکہ درس قرآن کے لیے حضرت کی آمد ورفت پید ل ہوتی تھی، اس لیے کبر سنی، نقاہت اور عوارض بدنی کے پیش نظر جب پیدل جانا مشکل ہوگیا تو سواری کا بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے درس قرآن کا یہ مبارک عمل موقوف ہو گیا۔ 

امام اہل سنت کے معمولات 

حضرت شیخؒ نہایت مستعد،ذمہ داراور اوقات کے پابندانسان تھے۔ عمومی طور پر آپ کے شخصی اور منصبی معمولات کا ایک مستقل نظام الاوقات تھا۔ بعض ذہنی،ہنگامی اور ناگزیر تقاضوں کے پیش نظر ان اوقات کا رمیں اگر کبھی تبدیلی کی ضرورت پیش آئی تو حضرت اپنی منصبی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہرممکن حدتک عہدہ برآ ہونے کا معمول برقرار رکھتے اور اپنے شخصی معمولات کے اوقات میں ان ناگزیر تقاضوں کو نبھانے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت شیخؒ کے روز مرہ کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ رات کے آرام کے بعد گھڑی کے الارم کے ساتھ ہی بیدار ہوجاتے۔ شب بیداری اور سحر خیزی کا معمول تو مستقل تھا ہی، روزانہ بیدا ر ہوتے ہی غسل کامعمول بھی حضرت شیخؒ نے مستقل اپنا رکھا تھا۔ شدید سردی کے ایام میں بھی اس معمول کو ٹوٹنے نہیں دیتے تھے۔ ہینڈ پمپ اور نلکے کے تازہ پانی سے غسل کرتے، البتہ بڑھاپے کے عالم میں گیزر کے گرم پانی سے غسل کرنے لگے۔ جسمانی معذوری سے قبل ایام علالت کے سوا زندگی بھر سحری کے وقت غسل کے پابند رہے۔ نماز تہجد سے فارغ ہوکر نماز فجر کے بعد کے درس کا مطالعہ کرتے اور نماز فجر سے پہلے ہی ناشتہ کر لیتے تھے۔ ناشتہ کے بعد نماز فجر کے لیے مسجد میں تشریف لے جاتے اور مسجد روانگی کے وقت آپ باآواز بلند ’’نماز نماز نماز‘‘ کی صدا لگاتے جو ہر نماز کے وقت آپ کا مستقل معمول مبارک تھا تاکہ اہل خانہ نماز کے لیے فکرمند ہو جائیں اور گھر میں موجود مردحضرات یا قریب البلوغ افراد مسجدمیں باجماعت نماز ادا کریں۔ 

مسجد میں درس سے فارغ ہوکر شروع میں بذریعہ ریل گاڑی، پھر بذریعہ بس اور آخر میں کارپر مدرسہ نصرۃ العلوم تشریف لے جاتے رہے۔ گوجرانوالہ سے واپس تشریف لاتے تو اخبار اور ڈاک کامطالعہ کرتے۔ پھر دوپہرکا کھانا کھا کر قیلولہ کرتے۔ ظہر کی نماز کے وقت بیدار ہوتے۔ سردیوں میں ظہر اور عصر کے وقت وضو کر کے اور گرمیوں میں غسل کر کے مسجد میں تشریف لے جاتے۔ نماز ظہر کی امامت کے بعدنماز مکمل کر کے گھر تشریف لاتے۔ ظہرکی نماز کے بعد چائے کا معمول تھا۔ پھر خطوط کے جواب، تصنیفی کام اور کتب کے مطالعہ کی ترتیب ہوتی جو عصر کی نماز سے مغرب کی نماز تک جاری رہتی۔ البتہ عصر کے بعدقرآ ن کریم کی باقاعدہ تلاوت فرماتے۔ کالج میں درس قرآن کے لیے گرمیوں میں عصرکے وقت اور سردیوں میں عشا کے وقت تشریف لے جاتے۔ جب کالج میں درس قرآن کا سلسلہ موقوف ہوا تو اس دوران حضرت شیخؒ نے گھر میں طالبات کے لیے صرف ونحو، فقہ وحدیث، ترجمہ وتفسیر کی تعلیم وتدریس کامبارک عمل شروع کر دیا۔ کتنی ہی طالبات دین نے نہ صرف خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا بلکہ کئی ایک ان میں سے دینی فیضان کو عام کرنے کے لیے تعلیم وتدریس سے مستقل وابستگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ آخر میں علالت و نقاہت کی معذوری ومجبوری کی وجہ سے یہ تعلیمی سلسلہ موقوف ہوگیا۔ معذوری سے قبل نماز پنجگانہ مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے معمول پر حضر ت مستقل کار بند رہے۔ر ات کا کھانا مغرب کی نماز کے فوراً بعد تیار ہو جاتا۔ حضرت کھانا تناول کرتے اور پھر مطالعہ وغیرہ کسی علمی سرگرمی میں مصروف ہو جاتے۔ عشا کی نماز اداکرنے کے بعد حضرت شیخؒ روزانہ ڈائری تحریرکرتے اور ہنگامی حالات میں ریڈیوپر خبریں سنتے اور پھر جلدی سو جاتے۔ سوتے وقت عموماًاہل خانہ میں سے ایک دو فرد حضرت کی مٹھی چاپی کرنے یعنی بدن دبانے کی سعادت حاصل کرتے۔ 

دینی مسائل معلوم کرنے، دم وغیرہ کروانے یاملاقات کے لیے تشریف لانے والے حضرات کی وجہ سے حضرت شیخؒ کے شخصی معمولات کی ترتیب میں ردو بدل واقع ہو جاتا۔ حضر ت شیخؒ اپنی شدید مصروفیات کی وجہ سے دینی اجتماعات میں بہت کم تشریف لے جاتے تھے، خصوصاً رات کے وقت منعقدہ پروگراموں میں اور وہ بھی تدریسی ایام میں شاذو نادر ہی شریک ہوتے۔ غیر تدریسی ایام میں گاہے گاہے ایسی تقریبات کو رونق بخشتے اوررات کے اول حصہ میں پروگرام سے واپس تشریف لے آتے۔ ایسے ہی تعطیلات کے ایام میں دن کے وقت کسی پروگرام میں مدعو کیا جاتا تو حضرت ضرور تشریف لے جاتے۔ حضر ت شیخؒ اپنی مسجدمیں انعقاد پانے والے پروگراموں میں بھی بہت کم تشریف لے جاتے۔اگر قد م رنجہ فرماتے تو قلیل سی مدت کے لیے۔ ویسے بھی حضر ت شیخؒ کی موجودگی میں مقررین کرام خطاب کاحوصلہ نہیں پاتے تھے۔ البتہ صحت کے زمانے میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاے کرام کی دستارفضیلت کی تقریب میں خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان ؒ اور حیات مبارکہ کے آخری سالوں میں اپنی جامع مسجد میں دورۂ تفسیر کے فضلا کی دستار بندی کے موقع پر علامہ عبدالقیوم حقانی کے خطابات کو انتہائی انہماک اور محویت سے سماعت فرماتے۔ اسی طرح اکابر علما حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانامفتی محمودؒ اور مولانا عبیداللہ انورؒ جیسی عظیم شخصیات کی مرکزی جامع مسجد گکھڑ اور مدرسہ نصرۃالعلوم گوجرانوالہ میں تشریف آوری کے موقع پر تقریبات میں حضر ت شیخؒ کی شرکت یقینی ہوتی تھی۔ 

امام اہل سنتؒ اور تعلقات عامہ 

حضر ت شیخؒ کی بھاری ذمہ داریاں اور شدید مصروفیات تعلقات عامہ کے لیے وقت نکالنے کی گنجایش نہ رکھتی تھیں، مگر کئی ایک معاملات تعلقات عامہ کے لیے از خود ذریعہ بنتے رہے، جن میں نماز باجماعت کی ادائیگی، نماز جمعہ کے بعد مسجد میں حاضرین سے ملاقات، تفکرات اور مختلف عوارض کے شکار لوگوں کی دم اور وظائف وغیرہ کے لیے حاضری۔ اس طرح گکھڑ کے کسی بھی محلہ نیز مضافات میں مسلک سے وابستہ افراد کی وفات پر نماز جنازہ کی امامت کے لیے حضر ت شیخؒ ہی سے درخواست کی جاتی اور حضرت بلاامتیاز امیر وغریب متعلقین کی نماز جنازہ میں شریک ہوتے۔ غم زدہ خاندا ن سے اظہار تعزیت کے علاوہ یہ عمل عوام سے ربط وتعلق کا ذریعہ بھی بن جاتا۔ حضرت جوانی اور فرصت کے عالم میں بیمار حضرات کی تیمار داری کے لیے تشریف لے جاتے رہے۔ بصورت دیگر افراد خانہ میں سے کسی نہ کسی کو بھیج دیتے۔ حضر ت شیخؒ کا حافظہ غضب کا تھا جس کی وجہ سے لوگوں کے نام ومقام خوب یاد رہتے۔ کسی بھی خاندان کے کسی فرد سے ملاقات کے وقت ان کے گھرانے کے دیگر افراد کانا م لے کر ان کے حالات دریافت کرتے۔ ملاقات کایہ انداز زیارت کرنے والے پر ایک خوشگوار اثر چھوڑتا۔ وہ اپنے خاندان کے افراد سے شناسائی کو حضرت کی نظر میں اپنے گھرانے کی وقعت اور اپنے خاندان سے گہری تعلق داری محسوس کرتا۔ 

حضر ت شیخؒ کی دینی ذمہ داریاں شادی وغیرہ جیسی تقریبات میں شرکت کی متحمل نہ تھی، البتہ قریبی اعزہ کی عروسی تقریبات میں مختصر وقت کے لیے حضر ت شیخؒ کی شرکت ہو جاتی۔ اس طرح بعض عقیدت مند حضرات کی شدید خواہش پر ان کے عقد نکاح کی تقریب میں خطبہ نکاح کے لیے تشریف لے جاتے۔ اعزہ واقارب، اسی طرح مقامی معتقدین اور متعلقین حضرات کی شادی کی تقریبات پر حضرت شیخ بصورت رقم، کپڑے اوردینی کتب ہدیہ کااہتما م ضرور کرتے اورہدیہ کی ترسیل کے لیے یہ سلسلہ عموماً دونوں والدہ صاحبہ کے ذریعے سے ہوتا۔ مقامی آبادی کی خوشی اور غمی کے مواقع پر دونوں والدہ محترمہ کی حاضری مقامی خاندانوں سے تعلقات کے فروغ اور حقوق معاشرہ کی ادائیگی کا مستقل ذریعہ بنتی اور یوں لوگوں میں غمی اور خوشی کے موقع پر حضرت کے خاندان کی شرکت کااحساس قائم رہتا۔ جب دونوں والدہ صاحبہ وفات پاگئیں تو ہدیہ وتحفہ بھیجنے کایہ عمل دیگر افراد خانہ کے ذریعے سے پوراہوتا رہا۔ شادی کی تقریبات میں تمام اہل وعیال کے مدعو ہونے کے باوصف حضرت شیخؒ عموماً اپنے گھرانے میں سے ایک اور کبھی دوافراد کو پروگرام میں شمولیت کے لیے بھیجتے تھے، البتہ چند ایک ایسے گھرانے جن سے گھریلو مراسم گہرے اور بڑی قربت کے تھے، ان کے اصرار پر تمام گھرانے کو تقریب میں شمولیت کی اجازت دے دیتے اور خود نکاح مسنون کی تقریب میں شرکت پر اکتفا کرتے۔ 

قناعت پسندی، خود داری اور لوگوں پر بوجھ نہ بننے کاوصف حضر ت شیخؒ کے مزاج کا مستقل حصہ رہا۔ مفلس اور نادار لوگوں کا حضرت خوب خیال رکھتے۔ عیدین کے موقع پر بطو ر خاص اور اس کے علاوہ اوقات میں ان کی دل جوئی کرتے رہتے تھے۔ محلہ داروں کے حقوق کا خاص لحاظ ر کھتے۔ اپنے پڑوس کے یتیم گھرانے سے عمر بھر حسن سلوک کامثالی مظاہرہ کرتے رہے۔ گکھڑ کے جن خاندانوں کے حضر ت شیخؒ کے گھرانے سے قریبی اور گھریلو نوعیت کے تعلقات رہے، ان میں حاجی اللہ دتہ بٹ(بٹ دری فیکٹری والے)، میرفیملی، حاجی خوشی محمد درزی فیملی، حاجی فخرالدین چیمہ فیملی، ماسٹرکر م الدین آرائیں فیملی، حاجی عبداللہ چیمہ فیملی، ملک نوردین فیملی، ظفر یاسین بٹ فیملی، نصیرالدین حلوائی فیملی، ملک نور دین فیملی، حافظ احمد حسن فیملی، لالہ غلام نبی بٹ فیملی، تارڑ فیملی، سید منیرعلی شاہ فیملی، برکت علی حلوائی فیملی، محمد شفیع بٹ فیملی، میرمحمد شریف فیملی، حکیم محمد صفدرفیملی، حاجی محمد صادق بٹ فیملی، مستری ابراہیم فیملی، رانا فیملی، باجوہ فیملی، نمبر دار فیملی، محمد بشیر چیمہ دوکھوہ والے، جوئیہ فیملی، حاجی عبدالعزیز درزی فیملی، سراج دین بٹ فیملی، حاجی خوشی محمد کھوکھر فیملی اور ماسٹر الٰہ دین فیملی قابل ذکرہیں۔

خانگی نظم اور مہمان داری

حضرت شیخؒ کا مسکن کثیر العیال اور کثیر الضیوف ہونے کی وجہ سے بارونق اور سد ا آباد رہا۔ اس گھر کو شاید ہی کبھی قفل اور تالا لگانے کی نوبت آئی ہو۔ مہمانوں کی کثرت آمد کی وجہ سے افراد خانہ یا متعلقین میں سے کسی نہ کسی فرد کی گھر میں موجودگی ضرور ہوتی تھی۔ حضرت شیخؒ گھریلو ضروریات کے حوالہ سے انتہائی منتظم اور فکر مند انسان تھے۔ گھر کے معاملات پر گہر ی نظر رکھتے تھے۔ صحت کے زمانہ تک گھر کا سارا نظم حضرت شیخؒ کے دست مبارک میں رہا۔ مرچ تک کی ضروریات کاخیال اور حساب رکھتے اور گھریلو حوائج کی بابت استفسار کرتے رہتے۔ چونکہ مہمانوں کی آمد ورفت بکثر ت رہتی تھی، اس لیے خور ونوش اور دیگر ضروریات اورلوازمات کے حوالے سے پیشگی بندوبست کو ترجیح د یتے۔ گندم اور چاول وغیرہ خشک اناج اکٹھا منگوالیتے۔ اسی طرح باقی راشن مہینہ بھر کی ضروریات کے مطابق اکٹھا خریدا جاتا۔ سبزی، گوشت، دودھ، دہی وغیرہ اشیا کی مقدار تقاضے کے مطابق روزانہ منگواتے۔ اسی طرح افراد خانہ کے لباس وغیرہ کے معاملات کوضرورت کے مطابق کفایت شعاری سے پوراکرتے۔ قرض سے حتی الامکان احتراز کرتے۔ حضرت شیخؒ معاملات میں انتہائی درجے کے محتاط تھے، یہاں تک کہ اگر اولاد میں سے کسی سے ڈاک کا لفافہ یا ٹکٹ ضرورت کے لیے لیتے تو اس کا حساب بھی بے باق کرنا لازم سمجھتے تھے۔ 

حضرت شیخؒ میں شیخ العرب والعجم حضرت مدنیؒ کی دین پر استقامت، عاجزی ،سادگی اور مہمان نوازی کے اوصاف کی جھلک نمایاں نظر آتی تھی۔ ہر صغیروکبیر کے لیے آپ کادروازہ کھلا رہتا۔ علالت اور معذوری کے آخری سالوں کے علاوہ اوقات او رملاقات کی کوئی تحدید نہ تھی۔ ملاقات کے لیے پیشگی وقت لینے کی کوئی ضرورت نہ پڑتی۔ جب بھی کسی کی ملاقات کے لیے آمد ہوتی، نیند وآرام کے اوقات کے علاوہ فوراً ملاقات ہو جاتی۔ مہمانوں کی خاطر مدارات میں بنفس نفیس خود بھی شامل ہو جاتے۔افراد خانہ کومہمان نوازی کی تلقین وتاکید کرتے رہتے۔ مہمانوں کی آمد ویسے بھی بکثرت رہتی تھی، مگرعمر کے ساتھ ساتھ اس میں روزافزوں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مختلف ہموم وعوارض میں مبتلا افراد کی دم اور اوراد وغیرہ کی حاضری اس پر مستزادتھی اور یہ سلسلہ اتنا وسیع تھا کہ اس سے نہ صرف حضرت شیخؒ کے معمولات شدید متاثر ہوتے بلکہ تمام افراد خانہ اس کی لپیٹ میں آتے اور اس کی وجہ سے عبادات،خانگی معاملات، نیند وآرام اور دیگر امور کی ادائیگی کا سارا نظام متاثر ہو کر رہ جاتا۔ قرابت داروں سے صلہ رحمی اور حسن سلوک حضرت شیخؒ کاامتیازی وصف رہا ہے۔ رشتہ داروں کی آمد پر ان کی خوب ضیافت اور خدمت ہوتی اور واپسی پر انہیں ہدیہ اورتحفہ سے عمر بھر نوازتے رہے۔ 

حضرت شیخؒ کے گھرکے دینی اورخانہ داری کے امور کی بھی ایک مستقل ترتیب تھی۔ ہماری بڑی والدہ محترمہ جو اوراد و اذکار اورقیام وصیام کا اہتما م رکھتی تھیں، والد محترم کے لیے ناشتہ اکثر وہ تیار کرتی تھیں۔ والد محترم نماز فجر سے پہلے ہی ناشتہ سے فارغ ہوجاتے۔ نماز فجر کے فوراً بعد دیگرافرادخانہ کے لیے ناشتہ عموماً ہماری چھوٹی والدہ محترمہ تیارکرتیں۔ حضرت والدمحترم کی فجرکے بعد درس قرآن سے فراغت تک ہم مسجد میں زیر تعلیم بہن بھائی ناشتہ کرکے مسجدچلے جاتے، پھر دیگر افراد خانہ نیز مہمان ناشتہ کرتے۔ ا س دوران بڑی والدہ محترمہ محلے کے بچوں اور بچیوں کو قرآن کریم پڑھانے میں مصروف ہو جاتیں۔ خانہ داری کے امور سے اکثر چھوٹی والدہ محترمہ جبکہ گھر میں اور گلی میں طالبات کے مدرسہ کی تعلیمی ذمہ داری سے بڑی والدہ صاحبہ عہدہ برآ ہوتیں، البتہ برادر کبیر علامہ زاہدالراشدی مدظلہ کی شادی کے بعدان کی اہلیہ محترمہ خانہ داری کے امور میں چھوٹی والدہ محترمہ کی مستقل اورتعلیمی امورمیں بڑی والدہ محترمہ کی بوقت ضرورت خوب معاونت کرتی رہیں۔ با وجود اس کے کہ وہ عمر میں بہت چھوٹی تھیں، مگر بڑی مستعدی اور فراخ دلی اور قرینے سے گھر یلو امور کی انجام دہی میں حصہ لیتیں۔ چونکہ گھرمیں مہمان داری زیادہ تھی، اس لیے ان کی آمد سے گھرکے نظام میں کافی سہولت، بہتری اور خوشگوار تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ 

پھردیگر بھائیوں کی شادی کے بعد عیال داری، مہمان داری اور گھریلو ذمہ داری کا پہلو جب مزید وسعت اختیار کر گیا تو خانہ داری کے امور باہم منقسم ہو گئے۔ کچھ عرصہ بعد حضرت والد محترم کی تلقین وتاکید سے برادران کرام دیگر شہروں میں تدریس اور خطابت وامامت وغیرہ کی مستقل ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے اپنے اہل وعیال کواپنے ساتھ لے گئے اور گھرکے خانہ داری کے معاملات د وبارہ پہلی ترتیب پر لوٹ آئے۔ اس دوران برادرم قاری محمد اشرف ماجد ؒ کی فیملی بھی اسی گھر میں مقیم رہی۔ کئی سال تک یہ ترتیب چلتی رہی تا آنکہ دونوں والدہ محترمہ کی یکے بعد دیگر ے قریباً ایک سال کے وقفہ کے ساتھ وفات ہوگئی اور یوں ہنستا بستا اور باغ وبہارکا منظر پیش کرتا یہ گھرویرانے اور خزاں کا منظر پیش کرنے لگا۔ دونوں والدہ مرحومہ کی وفات کے بعد راقم الحروف کی شاد ی ہوئی اور گھرکے نظم کو سابقہ روایات پر لانے کی مقدور بھر سعی ہوتی رہی۔ پھر چھوٹے بھائیوں (بھائی شاہد، بھائی ساجد اور بھائی راشد) کی شادی پرگھر کانظم ان کے سپرد ہوا اور کئی سال تک وہ سب بالعموم اور بالخصوص بھائی راشد حضرت والد محترم کی خدمت سے بہرہ مند ہوتے رہے، یہاں تک کہ وہ غم انگیز اور غم فزا ساعتیں آ پہنچیں کہ اس گھر کے عظیم اور نادر روزگار مکین اس یاد گار مسکن کوداغ مفارقت دے کر اس کی باقی ماندہ رونقیں بھی اپنے ساتھ لے گئے اور یوں اس گھر کی روشن تاریخ کا تابناک باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ 

چاروں طرف فضامیں اداسی بکھر گئی

وہ کیا گئے کہ رونق شام و سحر گئی

مسکن شیخ کوعلمی دنیا میں ایک منفرد، امتیازی اور تاریخی حیثیت حاصل ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک یہ مسکن مرجع خلائق رہا۔ عوام کاتانتا تویہاں بندھاہی رہتا تھا، خواص بھی اپنی حاضری کوایک اعزاز سمجھتے تھے۔ وہ یہاں حاضرہوکر علمی گتھیوں کو سلجھاتے اور چشمہ علوم ومعارف سے سیراب ہوتے تھے۔ مسکن شیخ بیک وقت راہ نوردوں کے لیے ایک سرائے اور مہمان خانہ، روحانی وجسمانی عوارض دونوں کے لیے ایک شفاخانہ، تشنگا ن علوم دینیہ کے لیے ایک منبع اور منفرد چشمہ معارف، متلاشیان حقیقت کے لیے ایک معتمد تحقیقی ادارہ، بھٹکے ہوئے افراد کے لیے ایک مرکز حق وہدایت، مضطرب اور پریشان حال لوگوں کے لیے ایک مقام تسکین اور اصلاح طلب افرادکے لیے ایک بزم اصلاح وتلقین کامنظر پیش کرتا رہا۔ حضر ت کے دولت کدہ کو نہ صرف سینکڑوں مرتبہ تکمیل تلاوت قرآن پاک کی برکات حاصل ہوتی رہیں بلکہ تفسیر،حدیث اور فقہ کے علاوہ دیگر علوم اسلامی کے مطالعہ کی کثرت کے حوالہ سے بھی اسے ایک امتیاز اور اعزاز حاصل رہا۔ نصف صدی کے طویل عرصہ تک ایک قابل فخراور منفرد تاریخ رکھنے والے اس مسکن کے درودیوار پر اب ایک عجیب سی اداسی چھائی ہوئی ہے۔ باغ وبہار کامنظر پیش کرنے والایہ مسکن اب سوناسونا دکھائی دیتاہے۔ اس کی ہر اینٹ اپنے عظیم مکین کو ڈھونڈتی ہے، مگر اس کے دیدار کاہر طالب تو اب سدا تڑپتا ہی رہے گا۔ 

سوچ میں ڈوبی بھیگی بھیگی، سہمی سہمی آنکھوں سے 

دیکھ رہے ہیں سپنا ان کا، اب نہ لوٹ کے آنے کا

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر