مت سہل ہمیں جانو

ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت اقدس کی ذات سے مجھے سب سے پہلے مجھے بھائی عبدالحمید صاحب نے متعارف کروایا۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا جب بھائی عبدالحمید صاحب مجھے حضرت اقدس کی زیارت کے لیے ایک مسجد میں لے گئے جہاں حضرت کے لیے تشریف لائے تھے۔ حضرت منبریر تشریف فرماتھے۔خو بصورت، فرشتہ نما اور روحانیت سے مزین چہرہ، کالے فریم والی عینک، کالا عمامہ سر بکف کیے، سفید کپڑوں میں ملبوس ٹھیٹھ پنجابی میں درس دے رہے تھے۔ یہ میری زندگی میں حضرت کی پہلی زیارت تھی۔ 

احقر کے گھر کے ساتھ جامع مسجد گلی لانگریاں والی تھی جہاں فجر کے بعد ممتاز عالم دین مولانا مفتی خلیل احمد صاحب درس قرآن پاک دیتے تھے۔ نماز ظہر کے بعد دعوت و تبلیغ والے حضرات فضائل اعمال پڑھتے،مغر ب کے بعد حضرت قاضی شمس الدین صاحبؒ درس قرآن و حدیث فرماتے۔ عشا کے بعد بھی علمی مجلس ہو تی جس کے روح رواں ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب تھے جو کہ مسجد میں رہتے تھے اور تقسیم پاک وہند سے پہلے تبلیغ وسے وابستہ تھے۔ وہ ہمیں سنت واعمال، شان صحابہ اور عظمت اکابرین کے بارے اکثر وا قعات سناتے۔ کم عمری کا زمانہ تھا۔ ہم اسکول میں جاکر یہی باتیں اپنے ہم جما عتوں کو سناتے، لیکن بعض کج ذہن ہمارے ساتھ ان واقعا ت کے حولے سے بحث شروع کر دیتے۔ میں اکثر اس بحث میں لاجواب ہو جا تا اور پھر رات کو بھائی عبدالحمید صاحب کو اسکول میں ہو نے والی بحث کے بارے میں بتاتا۔ وہ مجھے نہایت احسن طریقہ سے مسئلہ سمجھا تے اور پھر فرماتے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔بڑے حضرت نے اس کے بارے میں ایک پوری کتاب لکھی ہے۔رفتہ رفتہ مجھے معلوم ہوا کہ بڑے حضرت نے رافضیت، فتنہ غیر مقلدیت، منکرین احاد یث، عیسائیت اور بدعات کے قلع قمع کی ذمہ داری اٹھائی ہو ئی ہے۔ 

حضرت کی زندگی کا ایک خاص پہلو وقت کی پابندی تھی۔ حضرت گھڑی سے وقت دیکھ کر کلاس میں جاتے اور طالب علموں کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ فرماتے اور نہ ہی باتوں میں وقت صرف کرتے اور نہ ہی پانچ یا دس منٹ پہلے کلاس چھوڑتے یہی وجہ ہے کہ دوران تدریس سر دی ہو یا گرمی حضرت کی طبیعت ٹھیک ہو یا بوجھل، کبھی چھٹی نہ فرماتے ۔ اگر احقر دن کے وقت حضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہو تا تو فرماتے کہ چھٹی لے کر آئے ہیں؟

حضرت کی زندگی نہایت سادہ تھی۔ وہ زمانے کی چالاکیوں سے کو سوں دور بہت معصوم انسان تھے۔ جب گھر پر ٹیلیفون لگوایا تو شروع شروع میں کسی کا فون آنے پر السلام علیکم کا جواب دے کر پوچھتے کہ کون صاحب ہیں؟ اور زیادہ گفتگو سے گریز کرتے ہوئے جلدی فون بند کر دیتے۔ حضرت کا خیال تھا کہ شاید ٹیلی فون سننے والے کو بھی بل آتا ہے۔ پھر حضرت مولانا زاہد الراشدی نے عرض کیا کہ سننے کا نہیں، صرف فون کرنے کا بل آتا ہے تو پھر حضرت نے اطمینان سے فون سننا شروع کیا۔ علامہ زاہد الراشدی فرماتے ہیں کہ مولانا عبدالحق خان بشیر کی شادی سے واپسی پر نماز کے لیے ایک جگہ ہوٹل پر رکے تو وہاں ٹی وی پر کارٹون لگے ہوئے تھے۔حضرت کچھ دیر ٹی وی کی طرف دیکھتے رہے، پھر مولانا زاہد صاحب کو بلایا اور پوچھا کہ یہ کیاہے؟ انھوں نے کہا کہ حضرت، یہ ٹی وی ہے تو حضرت نے استغفار پڑھا اور فوراً رخ دوسری طرف کر لیا۔ آخری ایام میں ضعف کی وجہ دوسری کی وجہ سے ہم حضرت کو خون لگوانے کیلئے امادہ کرتے مگر حضرت باربار انکار فرمادیتے ۔میرے خیال میں اس کی وجہ بلڈ بینک تھی کیونکہ حضرت اقدس بلڈ بینک کو عام بینک کی طرح بینک سمجھتے تھے ۔

دستر خوان پر بیٹھ کر حضرت پہلے پانی سے ہاتھ دھوتے اور تولیہ استعمال کیے بغیر کھانا شروع فرماتے، آرام سے چھوٹے چھوٹے نوالے چبا چبا کر کھاتے اپنی پلیٹ میں ضروت کے مطابق ایک سالن ڈالتے اور پلیٹ کو اسطرح صاف کرتے جیسے دھوئی ہوئی ہو کھانے کے بعد دوکپ چائے پرچ میں ڈال کر سیدھے ہاتھ سے پیتے،کھا نے کے دوران اکثر حضرت کی ناک سے پانی شروع ہو جاتا۔کھانے سے فراغت کے بعد حضرت اقدس کلی فرماتے اور اپنے دانت خود صاف کرتے اور قمیص کے ساتھ لگائے ہوئے بکسوے سے دانتوں میں خلال فرماتے،دوران سفر حضرت جاگتے رہتے اور ذکر میں مشغول رہتے۔

صبح سے شام تک حضرت کی خدمت میں ساری دنیا سے کوئی نہ کوئی ضرور شرف ملاقات کے لیے حاضر ہو،اس کے علاوہ روزانہ کراچی سے خیبر تک کے بہت لوگ حضرت کی خدمت میں سلام عرض کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور دعا کی درخواست کرتے۔ حضرت آنے والوں سے ان کا نام پو چھتے اور پوچھتے کہ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟ کیا کرتے ہیں؟ والدین زندہ ہیں؟ بچے کتنے ہیں؟ اگر کوئی عالم ہوتا تو فرماتے دورہ کس سن میں کیا؟ آنے والے اکثرحضرات حضرت اقدس سے دعا کی درخواست کرتے۔ ہمارے دوست احسن جاوید صاحب (ایس ایس پی پنجاب پولیس) اس بات کو بہت برا محسوس کرتے۔ وہ مجھے اکثر کہتے کہ جو لوگ حضرت کی زیارت کرنے اس لیے آتے ہیں کہ ان سے دعا کروائیں تو میرے نزدیک وہ اپنی غرض کے لیے آئے ہیں، اس لیے یہ سب خود غرض ہیں۔ حضرت کی مجلس میں کچھ دیر وقت گزارنا ہی بہت بڑی سعادت ہے اور حضرت کا ہمارے اوپر حق ہے کہ بغیر کسی لالچ وغرض کے حضرت کے پاس آئیں۔

بقول حضرت حرمین شریفین کے سفر میری زندگی کے یاد گار لمحات تھے۔۲۰۰۲ء میں مفتی جمیل احمد خان شہید ؒ کی دعوت پر مجھے مولانا قاری سعیدالرحمن ،مفتی سعیداحمد جلال پوری اور دیگر اکابرین کے ہمراہ حضرت کے ساتھ رمضان المبارک میں حرمین شریفین کی حاضری کا موقع ملا۔ شارع ابراہیم خلیل پر واقع ایک ہوٹل میں قیام تھا۔ ایک کمرے میں قاری سعید الرحمن صاحب، مفتی جمیل احمد خاں شہیدؒ ، احقر اور الحاج لقمان اللہ میر صاحب تھے۔ قاری صاحب کا بستر حضرت کے بالکل سامنے، احقر کا حضرت کے قدموں کی طرف اور سامنے حضرت مفتی صاحب شہید کابستر تھا، مگر درمیان میں خالی جگہ پر الحاج لقمان اللہ میر صاحب بیٹھے تھے۔ حضرت کامزاج تھا کہ ساتھیوں کو تکلیف نہیں دیتے تھے ۔ احقر کے قدموں میں یاراستے میں لیٹنے کا مقصد یہ تھا کہ جیسے ہی حضرت کسی تقاضے کے لیے اٹھیں تو اکیلے نہ ہوں۔ اس سفر میں پہلے پندرہ دن مکہ معظمہ کا قیام تھا ۔ اشراق کے بعد الحاج لقمان اللہ میر اور بھائی وسیم غزالی حضرت کو نہلا کر احرام بندھواتے، خود تیار ہو تے اور پھر مفتی صاحب شہید ؒ حضرت کو وہیل چےئر پر بٹھا کر لفٹ سے نیچے لاتے۔ اتنے میں ہم ٹیکسی کھڑی کرتے اور حضرت مسجد عائشہ تشریف لے جاتے، نیت فرماتے اور ظہر سے قبل طواف سے فارغ ہو جاتے جبکہ سعی ظہر کی نماز کے بعد فرماتے۔ جمعرات جمعہ کے دن رش کی وجہ سے حضرت کو چھت پر طواف ادا کراتے جس کی وجہ سے حضرت مفتی صاحب شہید ؒ کے پاؤں میں چھالے پڑجاتے۔ حضرت مفتی صاحب سعی کے دوران غزالی صاحب کو (جو قرآن پاک کھول کر سنتے) اپنی منزل سناتے تھے۔

عمرہ کے بعد کمرے میں پہنچ کر حضرت کو نہلا تے اور پھر حضرت عصر تک آرام فرماتے۔ مفتی صاحب شہید عصر کی نماز جماعت کے ساتھ کمرے ہی میں ادا فرماتے۔ اس دوران حضرت قرآن پاک کی تلات فرماتے۔مغرب سے تیس چالیس منٹ قبل مفتی صاحب شہیدؒ ، وسیم غزالی صاحب اور دوسرے احباب حضرت کو مطا ف میں میزاب رحمت کے سامنے والے حصے میں لے جاتے جہاں سب احباب مل کر روزہ افطار کرتے۔ نماز مغرب کے بعد ہم سب لوگ حضرت کے ساتھ ہوٹل واپس آکر دسترخوان پر کھانا کھاتے ۔غزالی بھائی، مفتی صاحب اور دو ساتھی وہاں رہ جاتے ۔ باقی سب حضرات نماز عشا اور تراویح کے لیے حرم میں آ جاتے۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے بتایا کہ حضرت تراویح کے دوران میری زبر زیر کی غلطی بھی پکڑ لیتے اور اگلے رکوع میں وہ آیت دوبارہ پڑھواتے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ہم کراچی ائیر پورٹ پر تھے۔ فلائٹ کا وقت کم تھا تو حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے جلدی جلدی مغرب کی نماز پڑھائی۔ جیسے ہی مفتی صاحب سلام سے فارغ ہو کر اٹھے تو فوراً حضرت نے اپنا عصا مفتی صاحب کے ٹخنے میں ڈال کر اپنی طرف متوجہ کیا اور فرمایا: میاں! واجبات کا لحاظ بھی رکھنا چاہیے۔ اسی سفر میں جب ہم لوگ رات جدّ ہ پہنچے تو سب لوگ نماز عشا قصر پڑھ کر جہاں جگہ ملی، وہاں سوگئے۔مگر حضرات نے اپنی تراویح ادا کیں اور تہجد کے وقت اپنے معمول کے مطابق نوافل ادا کیے۔ حضرت کی عادت شریفہ بارہ رکعت پڑھنے کی تھی۔ ہر رکعت میں نہ بہت لمبی اور نہ بہت چھوٹی سورتیں پڑھتے تھے۔پندرہ دن مکہ مکرمہ میں گزارنے کے بعد حضرت کی معیت میں یہ قافلہ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ میں حضرت کے ساتھ گزارے ہوئے دن میری زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ہماری رہایش رباط مکی کے قریب تھی۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ حضرت اقدس کو سنتیں رہایش گاہ پر ادا کروانے کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جماعت کھڑی ہونے سے قبل لاتے اور فجر،ظہر اور عصر میں نماز کے فوراً بعد لے جاتے۔ مغرب میں پچھلی چھتریوں والے صحن میں پچھلی درمیان والی چھتری کے نیچے روزہ افطار فرمانے کا معمول تھا۔ تراویح سے فراغت کے ایک گھنٹہ بعد حضرت مفتی صاحب شہیدؒ حضرت اقدس کو وہیل چئیر پر لاتے۔ حضرت مسجد میں آکر نوافل ادا کرتے۔ اس کے بعد ہم بھی پیچھے پیچھے چلے جاتے۔ 

باب جبرائیل سے داخل ہونے کے بعد سے لے کر امام صاحب کے کھڑے ہونے تک حضرت اقدس ؒ وہیل چئیر پر رہتے۔اس کے بعد حضرت وہیل چئیر سے اتر جاتے۔ ایک طرف سے مفتی صاحب شہیدؒ اور دوسری طرف سے الحاج لقمان اللہ میر صاحب حضرت کے ساتھ ہوتے اور حضرت نہایت عجز و نیاز کے ساتھ بارگاہ خاتم النبیین، شافع محشر امام الانبیا، وجہ تخلیق کائنات، رؤف رحیم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سرکار مدینہ کی بارگاہ میں سلام عرض کرتے۔ میں وہیل چیئر پکڑے بالکل پیچھے ہوتا۔ حضرت نہایت ہی پست آواز میں عربی میں سلام عرض کرتے اور اپنی طرف سے اور والدین واحباب کی طرف سے سلام عرض کرتے۔ یہ سارا عرصہ نظریں جھکائے اشک بار آنکھوں سے بارگاہ نبوت میں سر جھکائے کھڑے رہتے۔

اس سفر میں الحاج لقمان اللہ میر صاحب کا اصرار اور خواہش تھی کہ ستائیسویں شب کو حضرت کے ساتھ عمرہ ادا کریں۔ حضرت ساتھیوں کی تکلیف اور اس دن کے رش کو مد نظر رکھتے ہوئے خاموش تھے۔ بہرحال مفتی صاحب شہیدؒ کے اصرار پر عصر سے دو گھنٹے بعد روانگی کا پروگرام بنا، مگر گاڑی خراب ہو نے وجہ سے روانگی میں تاخیر ہو گئی اور مغرب کے بعدمدینہ منورہ سے روانگی ہوئی۔ سارا راستہ مسلسل بارش رہی اور مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے تو سڑکوں پر بارش کا پانی جمع تھا۔ گاڑیوں کا زبردست رش تھا اور پیدل چلنا محال تھا۔ حضرت مفتی صاحب شہید ؒ نے اپنے تجربے کی بنیاد پر مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے قبل دائیں ہاتھ پر ایک پیٹرول پمپ کی مسجد کے قریب ٹیکسی رکوائی اور حضرت کو تمام ضروریات سے فارغ کرواکر وضو کروا دیا۔ جب ہم ٹیکسی سے اتر کر حضرت کو حرم کی طرف لے جارہے تھے تو بہت زیادہ رش تھا۔ قیا م لیل شروع ہوئی ہی تھی۔ بہت مشکل سے کئی دفعہ تہہ خانوں کے راستوں سے مطاف میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر ہر سعی لاحاصل۔ پھر ہم حضرت کو لے کر پہلی منزل پر گئے تو ہاں زیادہ رش تھا۔اوپر والی منزل میں بھی اندر مطاف تک پہنچنا ناممکن تھا۔ چھت پر پہنچے تو وہاں بھی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت پریشان ہوگئے اور فرمانے لگے مفتی صاحب، آپ نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور میرے ساتھ بھی زیادتی کی۔ بہتر یہی ہے کہ واپس چلیں اور دم ادا کر دیں۔حضرت کی یہ بات سن کر حضرت مفتی صاحب شہیدؒ کی کیفیت عجیب سی ہوگئی۔ (میں نے ایسے مواقع پر حضرت مفتی صاحب شہید کو ایک خاص وظیفہ پڑھتے سنا جس کی وجہ سے اللہ رب العزت مطلوبہ کام فورا آ سان فرما دیتے تھے) حضرت کی یہ بات سن کر ہم حضرت کو نیچے لے آ ئے۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ کے دل میں جانے کیا آیا کہ حضرت کو لے کر سخت رش میں باب صفا سے اندر داخل ہو گئے۔ دو تین شرطوں نے حضرت مفتی صاحب کو سختی سے روکنے کوشش کی، مگر وہ ان کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگاتے ہوئے عربی میں شیبہ شیبہ (بوڑھا آدمی) کہتے ہوئے مطاف میں داخل ہوگئے۔

حضرت مفتی صاحب شہیدؒ کی عجیب کیفیت تھی۔ وہ حضرت کو طواف کروا رہے تھے، مگر ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے۔ حضرت بھی بڑے اطمینان سے وہیل چئیر پر تشریف فرماتھے اور اس بات کا بہت لحاظ کر رہے تھے کہ کسی کو وہیل چئیر نہ لگ جائے۔ یہ دونو ں بزرگو ں کی کرامت تھی کہ اللہ رب العزت نے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دیا۔طواف سے فراغت کے بعد ہم حضرت کو درمیان والی صفا مروہ میں لے گئے۔ اس رات مولانا شریم صاحب قیام لیل پڑھا رہے تھے۔ ابھی ہم صفا مروہ کے تیسرے چکر میں تھے کہ دعا شروع ہو گئی۔اللہ رب العزت کی حمد وثنا کے بعد مولانا نے یہ دعا شروع کی: ’اللھم انک تسمع کلامی وتری مکانی وتعلم سری وعلانیتی لا یخفی علیک شیء‘ اور تھوڑی ہی دیر میں ان کی ہچکی بندھ گئی۔ صفا مروہ کی باقی سعی ہم نے دعا ہی کے دوران پوری کی۔ اس کے بعد حضرت مفتی صاحب شہیدؒ حضرت کو لے کر ہوٹل شریف لے گئے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے اپنے نوافل نیچے مطاف میں ادا کیے۔ اس وقت خدام مطاف کو دھو رہے تھے۔ الغرض اس رات کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ اس کے بعد ہم دونوں قضاے حاجت کے لیے الحاج لقمان اللہ میر صاحب کی سابقہ حج والی رہایش جبل کعبہ کے نزدیک چلے گئے۔ اتنے میں غزالی صاحب اور حضرت مفتی صاحب شہیدؒ حضرت کو گاڑی میں بٹھا کر وہاں پہنچ گئے اور ہم مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ہم دونو ں احرام ہی ہیں تھے اور ہم نے حلق بھی نہیں کروایا تھا، تب مفتی صاحب شہیدؒ نے فرمایاکہ حدود حرم سے باہر جانے سے پہلے حلق ضروری ہے، ورنہ دم لازم آ جاتا ہے، چناچہ ہم نے فوراً حلق کروایا۔ میں نے پہلی دفعہ مفتی صاحب شہیدؒ کو گھبرائے ہوئے دیکھا۔ شاید اس کی وجہ حضرت کی فکر تھی۔

اسی سفر میں اللہ رب العزت نے مجھ پر جاگتی ہوئی حالت میں حضرت کے درجات منکشف کیے۔ وہ کیفیت اور وہ حالت میں بیان نہیں کر سکتا۔ حضرت اللہ رب العزت کے ہاں مقربین کے درجہ پر تھے۔ حضرت کی علالت کے دوران حضرت کو کسی بھی دوا یا انجکشن یا خوراک کی ضرورت پیش آتی تو میں حضرت سے عرض کرتا۔ حضرت بہ نفس نفیس اس کی اجازت مرحمت فرماتے تو وہ کام کرتا، ورنہ جیسے حضرت کی منشا ہوتی، ویسے ہی ہوتا۔ اس بات پر حضرت کے سب سے چھوٹے صاحب زادے مولانا منہاج الحق خان راشد مجھ سے اکثر نالاں رہتے۔وہ اکثر مجھے کہتے کہ آپ ڈاکٹر بنیں، مرید نہ بنیں۔ لیکن اصل بات کا علم تو انھیں بھی نہیں تھا۔ 

حج کے ایک سفر میں ہم مولانا مدنی ؒ کے ساتھ میدان عرفات میں تھے۔ اس مرتبہ حضرت کو علی الصباح گاڑی پر میدان عرفات لے گئے۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے کافی گدے ایک دوسرے پر رکھ کر حضرت کو اوپر بیٹھنے کے لیے کہا، مگر حضرت وہیل چیئر پر ہی تشریف فرما رہے۔ مفتی صاحب نے حضرت کی وہیل چیئرکو پکڑا، مولانا حسن مدنیؒ کو کرسی پر بٹھایا اور کھلے آسمان کے نیچے سب لوگوں کے ساتھ آنسوؤں اور سسکیوں کے ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مناجات شروع کردی۔ دعا کے ختم ہونے کے بعد عجیب اطمینان قلب کی کیفیت تھی اورسو فیصد یقین تھا کہ جیسے اللہ رب العزت نے سب کو معاف فرما دیا اور سب کی حاضری قبول فرما لی۔ اس مرتبہ مزدلفہ میں رات گزارنے کے بعد جب یہ حضرات حضرت ؒ کو لے کر منی آرہے تھے تو راستہ میں شدید ازدحام میں پھنس گئے۔ ایسے موقع پرحضرت مفتی شہیدؒ نے حضرت کو فوراً اٹھا لیا اور باقی تمام حضرات بھی ارد گرد ہو لیے اور اللہ کے فضل و کرم سے حضرت کو منی میں لے آئے۔ہم منی میں حضرت کے پاس بیٹھے تھے کہ مولانا اعظم طارق صاحب تشریف لائے اور بار بار حضرت سے اصرار فرماتے رہے کہ حضرت میری دیرینہ خواہش ہے کہ میں آپ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر طواف زیارت کراؤں۔حضرت مسکرائے اور فرمایا کہ میں رمی بھی خود کروں گا اور طواف زیارت بھی۔

طواف زیارت کے لیے جب حضرت تشریف لے گئے تو رات ایک ڈیڑھ بجے فارغ ہوئے۔ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ کی منشا یہ تھی کہ حضرت رات ہوٹل میں آرام فرما لیں، مگر حضرت نے مفتی صاحب سے حکماً فرمایا کہ منی میں رات کا قیام واجب ہے، چنانچہ ڈرائیور حسن کے ساتھ ہم سب لوگ منی کے لیے روانہ ہوئے۔ کسی طرف سے بھی منی کے راستے کھلے نہ تھے۔ بے انتہا رش تھا۔ بہر حال ہم ایک طرف ہو کر اترے اور تقریباً اڑھائی گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد منی میں پہنچے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک جگہ پر مسلسل دو کلومیٹر چڑھائی تھی اور وہیل چیئر بھائی شاہ نواز صاحب چلا رہے تھے۔ فجر سے کچھ پہلے تہجد کے قریب ہم منی میں پہنچے تو حضرت نے اللہ رب العزت کا شکریہ ادا کیا اور تمام ساتھیوں کو بہت دعائیں دیں۔

اس سفر میں بے شمار علماے کرام جو کہ مختلف ممالک سے حجاز مقدس میں رہایش پذیر ہیں، حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے اور کو ئی نہ کوئی کتا ب ہدیہ کی صورت میں حضرت کو ہدیتاً عنایت فرماتے۔ بعض کتب جو کہ ہند وپاک میں میسر نہ تھیں، ان کی ایک لسٹ حضرت مفتی صاحب شہید ؒ کے پاس تھی۔ وہ بھی ساری کتب اکٹھی کی گئیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہم چار لوگ تھے، لیکن کتابوں کی وجہ سے واپسی پر وزن کافی زیادہ تھا جس کے لیے الحاج لقمان اللہ میر نے کئی ہزار ریال جمع کروائے۔ 

مولانا منہاج الحق خان راشد نے حضرت کی بہت خرمت کی اور تمام بھائیوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ تمام دنیا کے علماے کرام کی طرف سے فرض کفایہ حضرت مفتی صاحب شہیدؒ نے اور مولانا بلوچ صاحب نے ادا کیا۔ ڈاکٹر حضرات میں ڈاکٹر امین ملک صاحب، ڈاکٹر سہیل انجم، ڈاکٹر آصف جاوید قابل ذکر ہیں ۔عمومی افراد کی طرف سے یہ سعادت الحاج لقمان اللہ میر صاحب کو نصیب ہوئی۔ حضرت انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ سفر و حضر میں یہ حضرت کے امام تھے۔ حضرت کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت اور محبت تھی۔ مجھے یاد ہے کہ حضرت کے پاس جب ہم گوجرانوالہ سے آتے تو صبح سے لے کر عصر تک وہ مجھے کئی مرتبہ فون کرتے اور بسا اوقات ہسپتال میں پہنچ کر آدھ پون گھنٹہ نیچے کھڑے میرے منتظر رہتے۔ بعض اوقات ایمرجنسی میں مجھے دیر ہو جاتی لیکن کبھی میرے ساتھ تلخی سے پیش نہ آتے۔ حاجی صاحب میرے بھی بڑے محسن ہیں اور حضرت کی برکت سے میرے اوپر بھی ان کے بے شمار احسانات ہیں۔ مجھے فون کرنے کے علاوہ مولانا بلوچ صاحب کو بھی فون کرتے۔ مجھے لینے کے بعد پھر مولانا بلوچ صاحب کو لیتے۔اسی ترتیب سے واپسی پر جہاں جہاں ہم نے جانا ہوتا، وہاں ہمیں پہنچاتے۔ حضرت کی کیفیت بھی یہ ہوتی کہ وہ بھی ہم سب کے منتظر رہتے۔ کبھی تھوڑی بہت دیر ہوجاتی تو مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب سے ہمیں فون کرواتے۔ اکثرایسا ہوتا کہ جیسے ہی فون آتا، میں عرض کرتا کہ ہم قریب ہی ہیں۔ حضرت کی مجلس میں پہنچ کر ہم دونوں حضرت سے مصافحہ کرتے اور حضرت کا ہاتھ چومتے، مگر مولانا بلوچ صاحب صرف حضرت سے مصافحہ فرماتے۔ میں تو خاموشی سے حضرت کے سامنے بیٹھ جاتا، مگر لقمان اللہ میر صاحب حضرت سے باتیں کرتے۔تھوڑی دیر کے بعد ہم حضرت سے اجازت لیتے، مگر جب چودھری احسن جاوید صاحب (SSP) نے ہمارے ساتھ حضرت کی خدمت میں جانا شروع کیا تو انہوں نے ہمیں اس چیز کا احساس دلایا کہ آپ حضرات کو حضرت کو وقت دینا چاہیے۔ 

میں نے بڑے بڑے علما کو مشکل مسائل کے حل کے لیے حضرت کی طرف رجوع کرتے پایا اور یہ دیکھا کہ حضرتؒ کی طرف سے ایسا شافی وکافی اور محققانہ جواب ملتا تھا کہ سننے والا کہہ اٹھتا کہ اس مسئلے کی آخری تحقیق بس یہی ہے جو حضرتؒ نے پیش کی ہے۔ یہ واقعہ اکثر ہمارے ساتھ پیش آتا کہ مولانا نواز بلوچ صاحب جو کہ حضرتؒ کے دروس کے مترجم ہیں، کسی مسئلہ پر اڑ جاتے تو تمام کتب دیکھتے۔ کراچی مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب کو فون کرتے، مولانا زاہد راشدی سے بات کرتے، لیکن جب یہ علمی اشکال لے کر حضرتؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو حضرتؒ فوراً جواب میں فرماتے کہ مولانا ! فلاں فلاں کتاب لاؤ جو کہ حضرتؒ کے کمرے میں موجود ہوتی، صفحہ نمبر فلاں نکالو اور حاشیہ میں اس کی تفصیل موجود ہے ۔

حضر ت اقدس ؒ یہ فرماتے تھے کہ قرآن پاک اول سے آخر تک پڑھیں۔ خواہ آدھا رکوع روزانہ پڑھیں، لیکن ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔ وہ حضرات جو مخصوص صورتیں روزانہ تلاوت کرتے ہیں، ان کی بہ نسبت اللہ کے نزدیک الحمد للہ سے والناس تک پڑھنے والے زیادہ قابل قدر ہیں۔ 

حضرت کی زندگی کا ایک اور پہلو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک حدیث پر عمل تھا۔ حضر ت جہاں بھی جاتے، سلام میں پہل فرماتے۔ اگر ہم حضرت کے ساتھ کسی ہسپتال، مجلس، ائیر پورٹ، لیبارٹری میں جاتے تو حضرت اقدس ؒ ہر کسی کو پہلے السلام علیکم کہتے۔

سفر میں جانے سے پہلے میں نے یہ بات خود دیکھی کہ جس شہر میں جتنے دنوں کے لیے جانا ہوتا حضرت اپنی نماز والی ڈائری سے اس شہر سے تہجد اور اشراق کا ٹائم خود اپنے ہاتھ سے تحریر فرماتے ۔

۲۰۰۱ء میں جب حضرت نے مدرسہ سے استعفا دے دیا تو حضرت صوفی عبدالحمید صاحب کے حکم کی تعمیل میں میاں عارف صدر انجمن نصرت العلوم ، احقر اور الحاج لقان اللہ میر صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور استعفا واپس لینے کی درخواست کی ۔ حضرت نے فرمایا میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں اپنے کام کے ساتھ انصاف کر سکو ں ۔ ہم نے عرض کی کہ طالب علم آپ کے ہا ں آجایا کریں گے۔حضرت نے اس کی اجازت بھی نہ دی کہ ان کا آنے جانے میں وقت ضائع ہو گا اور ان کو مشکل ہوگی۔ پھر ہم نے عرض کی کہ ہم آپ کو پندرہ لاکھ روپیہ بطور پنشن پیش کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت نے انکار فرمایا اور فرمایا کہ یہ ہمارے اکابرین کا شیوہ نہیں۔ پھر ہمیں شربت چائے پلا کر رخصت کر دیا۔

حضرت وقتاً فوقتاً اپنے متعلقین اور ہم مسلک احباب کی اصلاح بھی فرماتے تھے۔ ہمارے ایک بزرگ مولانا سعید احمد صاحب چکوری تھے جو قرآن پاک کی آیت ’رحماء بینہم‘ کو نص قطعی قرار دے کرصحابہ کے مشاجرات سے انکار فرماتے تھے۔ چنانچہ حضرت اقدس ؒ ان کے پا س تشریف لے گئے اور انھیں ساری بات سمجھائی۔

۵؍مئی ۲۰۰۹ء بمطابق ۹؍جمادیٰ الاولیٰ ۱۴۳۰ھ کو رات تقریباً ایک بج کر دس منٹ پرموت نے اس عظیم انسان کے لیے اپنا دامن وا کر دیا اور اس دور کا سب سے بڑا انسان اور عظیم مسلمان رحمتِ خداوندی کی آغوش میں چلا گیا۔ 

اگلے دن جب حضرت کا جنازہ گلی سے باہر نکلا تو ہزاروں انسان پُر نم آنکھوں اور سسکیو ں کے ساتھ عقیدت اور محبت کے موتی نچھاور کرتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے۔ سڑک کے دونوں کناروں اور فٹ پاتھ پر لوگ ہی لوگ تھے۔ ڈی سی اسکول گکھڑمنڈی کی بالائی چھت، تمام گیٹ، سڑک پر بنے ہوئے پل اور مکانوں کی منڈیریں انسانی سروں سے بھرے ہوئے تھے۔گراؤنڈ میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد جمع تھے۔حضرت شیخ ؒ کی میت کو آخری دیدار کے لیے اسکول کے برآمدے میں رکھا گیا۔ ہر شخص کی آنکھ پُر نم تھی اور لوگ بلک بلک کر رو رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد لوگوں کا ہجوم تقریباً بے قابو ہو گیا تو حضرت شیخ ؒ کی میت کو اُٹھا کر ہم سیدھا گراؤنڈمیں لے آئے۔ ملک بھر کے جید علمائے اکرام موجود تھے جو تھوڑے تھوڑے وقت کے لیے مائیک پر تشریف لاتے رہے اور حضرت کی خدمت میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے رہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ممبران بھی موجود تھے۔ تھیک وقت پر علامہ زاہد الراشدی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد حضرت کی میّت کو لاکھوں اشکبار آنکھوں کے ساتھ قبرستان کی طرف لایا گیا۔ الحاج لقمان اللہ میر صاحب نے دوسرے احباب سے ساتھ حضرت کے جسد اطہر کو لحد میں اتارا۔ کو ئی تابوت تیار نہ کیا گیا تھا۔ سفید کفن میں لپٹا ہوا ایک یاد گار جسم خاک کے حوالے کر دیا گیا۔ بے شمار ہاتھ دعا کے لیے اٹھے اور ہر چہرہ روتا ہوا نظر آیا۔ حضرت ہمیں اس دنیا میں اکیلا چھوڑ گئے اور خود اللہ رب العزت کی جنتوں میں مقیم ہو گئے۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ۔

مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں 

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتا ہے

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

Flag Counter