امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق

مولانا مومن خان عثمانی

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کو اللہ تعالیٰ نے علوم ومعارف کا بہت بڑا ذخیرہ عطا فرمایا تھا۔ قرآن وحدیث، فقہ وتفسیر، جرح وتعدیل اور دیگر علوم وفنون پر آپ کو مکمل عبور حاصل تھا اور ہر فن میں آپ ید طولیٰ رکھتے تھے۔ قوت حافظہ، دقت فہم، سیلان ذہن اور اعلیٰ فقاہت نے آپ کو زمانہ کے تمام اہل علم سے ممتاز بنا دیا تھا۔ رسوخ فی العلم، تصلب فی الدین اور قوت استدلال آپ کا خاصہ تھا۔ دوران تدریس مشکل مقامات اور دقیق نکات ایسے دل نشیں انداز میں بیان فرماتے کہ غبی سے غبی طالب علم بھی بآسانی مستفید ہو جاتا۔ اسی طرح آپ کو اردو ادب میں بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کی تصانیف میں جہاں دلائل کے انبار ہیں، وہیں اردو ادب کی چاشنی بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ ایک کامیاب مصنف کی تمام خصوصیات اور خوبیاں آپ کی ذات میں جمع تھیں۔ حضرت نے اپنی تصانیف کی ہر بحث میں جہاں مخالفین کے دعووں کو دلائل سے رد کیا ہے، وہاں مزید دلچسپی کے لیے حسب حال شعر لکھ کر عبارت کے حسن اور مدعا کی تاثیر کو دوبالا کر دیا ہے۔ زیر نظر مضمون میں حضرت امام اہل سنت کا شعری ذوق قارئین کے سامنے لانے کے لیے آپ کی مختلف کتب سے چند اقتباسات جمع کیے گئے ہیں جن میں موقع ومحل کی مناسبت سے اشعار کے برمحل اور بلیغ استعمال کی خوب صورت اور دلچسپ مثالیں پائی جاتی ہیں۔

’’افسوس ہے کہ فریق ثانی نے تعصب اور کم فہمی کی وجہ سے ایسا ایٹم بم ایجاد کر لیا ہے کہ اس کی زد سے نہ بڑے بڑے ائمہ بچ سکتے ہیں اور نہ حضرات تابعین، بلکہ حضرات صحابہ کرام اور حتیٰ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بھی ان کے لایعنی فتووں سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ (العیاذ باللہ ثم العیاذ باللہ) دیکھیے، اس ناروا فتوے کی زد سے کون بچ سکتا ہے۔ ؂

متاع دین ودانش لٹ گئی اللہ والوں کی 

یہ کس کافر ادا کا غمزۂ خوں ریز ہے ساقی‘‘

’’اگر فریق ثانی گستاخی نہ سمجھے تو ایک جائز قسم کا ورد عرض کرتا ہوں۔ وہ اس کو پڑھا کریں (اور وہ یا شیخ عبد القادر جیلانی شیئا للہ کے خالص مشرکانہ ورد سے کوئی تعلق نہیں رکھتا)۔ وہ ورد شریف یہ ہے:

اے میرے باغِ آرزو کیسا ہے باغ ہائے تو

کلیاں تو گو ہیں چار سو کوئی کلی کھلی نہیں‘‘

(احسن الکلام)

’’اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ روح کا اصل ٹھکانہ جہاں بھی ہو، مگر قبر میں بدن بھی اس کے لیے ایک مکان کی حیثیت رکھتا ہے۔ گویا روح اپنے اس تعلق کی وجہ سے مکین ہے اور بدن اس کے لیے مکان ہے او رمردہ کو جلانے کی صورت میں گویا روح کو بے مکان کرنا ہے اور چونکہ انبیاء علیہم السلام کے ابدان مبارکہ کا اصل صورت میں موجود ہونا نص حدیث سے ثابت ہے، بعض شہدا اور اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے اجسام کا موجود ہونا مشاہدہ سے ثابت ہے، لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ ان کی ارواح مبارکہ کا تعلق ان کے اجسام عنصریہ سے نہ ہو، کیونکہ

دل ہو اور اس میں درد محبت کہیں نہ ہو

عبرت کا ہے محل کہ مکاں ہو مکیں نہ ہو‘‘

’’آپ عند القبرسلام کہنے والے کا سلام بنفس نفیس خود سنتے اور اس کا جواب دیتے ہیں اور انصاف کی دنیا میں نہ تو اس اتصال اور تعلق کا انکار ہو سکتا ہے اور نہ اس سے بڑھ کر اس کا کوئی ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ ثلج صدر کے لیے یہ دلائل کافی ہیں۔

حریم دل کا کیا کہنا یہاں جلوے ہی جلوے ہیں

بحمد اللہ یہیں وہ ہیں یہیں خلوت نشیں میں ہوں‘‘

(تسکین الصدور)

’’یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امت کی اکثریت نے جس طرح حضرت امام ابو حنیفہؒ کے علم ودیانت پر اعتماد کر کے ان کی خوشہ چینی کی ہے، وہ حضرات صحابہ کرام اور کبار تابعین کے بعد اور کسی کو نصیب نہیں ہو سکا اور علم وعرفان اور حدیث وفقہ کی ہزاروں شمعوں کے ہوتے ہوئے جس طرح آتش علم بجھانے کے لیے پروانے ان کے گرد جمع ہوئے ہیں، وہ کسی اور پر جمع نہیں ہوئے۔ کیا خوب کہا گیا ہے کہ

سرِ بزمِ فلک شب بھر ہزاروں شمعیں جلتی ہیں

مگر اس محفلِ گردوں میں پروانے نہیں دیکھے‘‘

’’جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے اعلیٰ حصے پر ہی مسح کیا ہے تو کسی دانش ور کی دانش اور کسی عقل مند کی عقل اور کسی فہیم کی فہم وراے کی اس پیارے عمل کے مقابلے میں بھلا حیثیت ہی کیا ہے؟ اس موقع پر اگر تسلی اور چین ہو سکتا ہے تو صرف آپ کی پیاری ادا اور آپ کے پسندیدہ عمل اور بہترین اسوۂ حسنہ سے، اس لیے کہ

برسوں فلاسفہ کی چناں اور چنیں رہی

لیکن خدا کی بات جہاں تھیں، وہیں رہی‘‘

’’اگر انھوں نے وقت کی اس ضرورت کو اپنے ناخن تدبیر وتفقہ سے حل کر کے امت مرحومہ پر احسان کیا ہے تو اس کی وجہ سے کیا وہ داد وتحسین کے مستحق ہیں یا باعث نفرین ہیں؟

وہ ایک عالم جسے جہاں نے خراج تحسیں ادا کیا ہے

وہ ایک مومن جو لطف خالق کی برکتوں سے قمر بنا ہے‘‘

’’یہ الگ بات ہے کہ غیر مقلدین حضرات کو تعصب کی عینک استعمال کر کے رافضی کی طرح کچھ کا کچھ نظر آئے اور اہل الراے والاجتہاد اور ان کے متبعین کو ہی ملزم گردانا جائے، مگر اس سے اہل حق کا کیا نقصان؟

تجھے کیوں فکر ہے اے گل دلِ صد چاکِ بلبل کی

تو اپنے پیرہن کے چاک تو پہلے رفو کر لے‘‘

(مقام ابی حنیفہ)

’’اگر ان کو ]یعنی حضرت شاہ ولی اللہؒ کی جماعت کو[ اہل حدیث تسلیم نہیں کرتے تو بتائیں ان سے بڑھ کر اہل حدیث کون ہوا ہے؟ اور اگر یہ اہل حدیث ہیں تو صاف طور پر یہ بتلائیں کہ تقلید اختیار کر کے اور شخصی راے کی پابندی اختیار کر کے یہ حضرات اہل حدیث کیسے ہو گئے اور کیونکر ہو گئے؟ مگر صد افسوس کہ

اہل گلشن کے لیے بھی باب گلشن بند ہے

اس قدر کم ظرف کوئی باغباں دیکھا نہیں‘‘

(طائفہ منصورہ)

’’اس نکتہ پر خان صاحب بریلوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب دونوں متفق ہیں کہ ایصال ثواب کے لیے جو قرآن کریم پڑھا جاتا ہے، اس پر اجرت لینا دینا دونوں حرام ہیں اور ثواب کچھ نہیں ہوتا، بلکہ اس پر استحقاق عذاب ہے۔ اب جو لوگ ا س مسئلہ میں علماء دیوبند کو کوستے ہیں تو ان کو بغور سوچ لینا چاہیے کہ طعن کس پر ہوگا؟

یوں نظر دوڑے نہ برچھی تان کر

اپنا بے گانہ ذرا پہچان کر‘‘

(راہ سنت)

’’کیا رنجیت سنگھ اور کیول کسی مسلمان کا نام تھا؟ اور کیا سکھوں اور انگریزوں کے ان ایجنٹوں سے جہاد کرنا کسی مسلمان سے جہاد کرنا ہے؟ یہ ہے مولف مذکور کے ہاں مسلمان جو مجاہدین اسلام سے لڑتا ہے اور سکھوں اور انگریزوں سے اس کی دوستی اور محبت ہے۔ ؂

فیض تم کو ہے تقاضاے وفا ان سے جنھیں

آشنا کے نام سے پیارا ہے بے گانے کا نام‘‘

’’عبد الرحمن بن عبد القاری مسلمان تھے، مگر خان صاحب ان کو کافر اور شیطان سے تعبیر کرتے ہیں۔ جب خان صاحب صحابی یا ثقہ تابعی کو کافر کہنے سے نہیں چوکے تو اگر وہ اس دور کے اہل حق علما اور مجاہدین کو کافر کہہ دیں تو کون سی انوکھی بات ہے۔ کافروں کو مسلمان بنانا تو ان کے بس کا روگ نہیں، تکفیر مسلم ہی کے ذوق وشوق سے وہ فرحاں ہیں۔ ؂

پھولوں کے تو قابل نہیں قطعاً تیرا دامن

اے صاحب گلشن اسے کانٹوں سے ہی بھر دے‘‘

’’مولف مذکور اور ان کے ہوشیار اکابر نے یہ باور کرا رکھا ہے اور عوام کو اسی کا درس دیتے ہیں اور ان کے خلاف ایسے بے اصل شوشے چھوڑتے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے درپے ہیں کہ تحریک آزادی اور پاکستان بنانے میں علماء دیوبند کا کوئی حصہ نہیں اور حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ؂

ہمیں سے رنگ گلستاں ہمیں سے رنگ بہار

ہمیں کو نظم گلستاں پہ اختیار نہیں‘‘

’’تکفیر رضاخانی فرقہ کا آبائی ورثہ ہے اور باب سوم کے روشن حوالوں سے اس پر خاصی بحث ہو چکی ہے کہ انگریز کا ہر مخالف اور تحریک آزادئ ہند کا کوئی عالم، پیر اور سیاسی لیڈر ایسا نہیں جو ان کے تکفیری گولے سے بچ سکا ہے۔ ؂

گھائل تری نظر کا بنوع دگر ہر ایک

زخمی کچھ ایک بندۂ درگاہ ہی نہیں‘‘

(اظہار العیب)

’’ہم تو مدینہ طیبہ سے عقیدت اور محبت کو ایمان کی جز سمجھتے ہیں۔ سنیے کیا خوب کہا گیا ہے:

الٰہی کیسی پر انوار گلیاں ہیں مدینے کی

خداوندا! انھیں دیکھا نہیں ہے نام سنتے ہیں

در محبوب پر پہنچیں یہی ارمان ہے دل میں

مریض عشق پاتا ہے وہاں آرام سنتے ہیں

وہ یاد آتے ہیں تو اک ہوک سی اٹھتی ہے سینے میں

کلیجہ تھام لیتے ہیں جب ان کا نام سنتے ہیں‘‘

اعلیٰ حضرت خان صاحب بریلوی حدائق بخشش حصہ دوم ص ۵۰ میں لکھتے ہیں:

سر سوے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

دل تھا ساجد نجدیا پھر تجھ کو کیا

بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے

یا رسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا

یا عبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے

بندہ اپنا کر لیا پھر تجھ کو کیا

دیو کے بندوں سے کب ہے یہ خطاب

نہ تو ان کا ہے نہ تھا پھر تجھ کو کیا

نجدی مرتا ہے کہ کیوں تعظیم کی

یہ ہمارا دین ہے پھر تجھ کو کیا

دیو کے بندوں سے ہم کو کیا غرض!

ہم ہیں عبد المصطفیٰ پھر تجھ کو کیا

امام اہل سنت نے اس کا جواب اسی وزن پر درج ذیل اشعار میں دیا ہے:

تو اگر مشرک ہوا پھر ہم کو کیا

پیٹ کا بندہ بنا پھر ہم کو کیا

تو نے کی تحریف قرآن وحدیث

راندۂ درگاہ ہوا پھر ہم کو کیا

خالق کون ومکاں کو چھوڑ کر

غیر کے در پر جھکا پھر ہم کو کیا

شرک وبدعت کو کیا تو نے پسند

توحید وسنت سے پھرا پھر ہم کو کیا

آیہ ایاک نستعین کو

کر دیا تو نے بھلا پھر ہم کو کیا

ہم تو اللہ کے بندے سبھی

تو ہے عبد المصطفیٰ پھر ہم کو کیا

(آنکھوں کی ٹھنڈک)

’’برطانیہ نے شریف مکہ کے توسط سے ترکوں کے خلاف جنگ کرنے کے جواز پر کس سے فتویٰ حاصل کرنا چاہا تھا اور کس نے اس کا انکار کر کے سالہا سال تک مالٹا میں اسیری کی زندگی بسر کی تھی؟ اور کس کو مالٹا کے زنداں میں گھر کی سی لذت محسوس ہوتی تھی؟ جنھوں نے شاید بزبان حال یہ بھی کہا ہو کہ

نئی دنیا بنا دی لذتِ ذوق اسیری نے

قفس میں رہنے والوں کو خیال آشیاں کیوں ہو‘‘

’’فریق مخالف کی بلا سے! وہ تو اپنی ساکھ اور حلوے مانڈے کے لیے بدعات کو سنگینوں کے پہرے سے محفوظ رکھنے کے درپے ہے۔ اس کے مقابلے میں توحید وسنت کا گلستاں اجڑتا ہے تو ان کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ ہاں گیارھویں شریف، ختم، میلاد اور عرس وغیرہ پر کوئی زد نہ پڑے۔ آہ!

کس نے اپنے آشیاں کے چار تنکوں کے لیے

برق کی زد میں گلستاں کا گلستاں رکھ دیا‘‘

(ازالۃ الریب)

’’برق صاحب ہی فرمائیں کہ کیا جن کی نبوت تمام انسانوں اور جنوں بلکہ تمام مخلوق کے لیے ہو اور زمانہ بھی محدود نہ ہو (کہ ان کے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہو کر اگرچہ بعض ہی احکام کیوں نہ ہوں، منسوخ کر سکے) وہ افضل ہوں گے یا وہ جن کی نبوت باعتبار قوم اور زمانہ کے محدود اور مخصوص ہو؟ دیکھیے کیا ارشاد ہوتا ہے! 

الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے

دے موت آدمی کو پر ایسی ادا نہ دے‘‘

’’برق صاحب کو مناسب تھا کہ وہ ملا کے مبلغ علم کا ماتم کرنے سے پہلے ٹھنڈے دل سے اس حقیقت کو سوچ لیتے اور اس کے بعد قلم تحقیق کو جنبش دیتے، مگر ان کی بلا سے! وہ تو میدان اوہام اور ظنون میں بے سروپا باتیں کرنے اور خیالی گھوڑے دوڑانے کے عادی ہیں۔ نہ دماغ پر کنٹرول ہے اور نہ قلم قابو میں ہے۔ ؂

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوش

صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں‘‘

(صرف ایک اسلام)

’’اکابرین علماے دیوبند کثر اللہ جماعتہم جو اس زمانہ میں صحیح معنی میں اہل السنت والجماعت ہیں، ائمہ دین کے قدم پر قدم ہیں اور ان کے عقیدہ اور عمل سے سر مو انھوں نے تجاوز نہیں کیا۔ اگرچہ کئی لوگ افراط وتفریط کی حدود کو پھاند کر دور نکل گئے، مگر یہ اکابر جہاں تھے، وہاں ہی ہیں:

وہ تری گلی کی قیامتیں کہ لحد کے مردے اکھڑ گئے

یہ مری جبین نیاز ہے کہ جہاں دھری تھی دھری رہی‘‘

’’قارئین کرام سے التجا کرتے ہیں کہ وہ تمام اہل توحید کے لیے دعا کریں اور خصوصیت سے اس ناچیز کے لیے جس کی تھوڑی سی فانی زندگی میں خدا جانے کیسے کیسے اور کتنے بڑے بڑے گناہ صادر ہو چکے ہیں، مگر جب اللہ تعالیٰ کی ستار اور غفار ہونے کی صفت پر دھیان پڑتا ہے تو بے اختیار زبا ن سے نکلتا ہے کہ:

مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت

کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے‘‘

(راہ ہدایت)

’’اکابر علما کا طریقہ یہ تھا اور ہے کہ وہ ان احادیث کو تسلیم کرتے ہوئے حسب فہم اس کی مناسب تاویل کرتے ہیں، لیکن فریق ثانی کو ملحد وزندیق اور مبتدع کسی نے نہیں کہا۔ تکفیر سازی کا یہ عہدہ جناب نیلوی صاحب اور ان کے سید سند کو ہی حاصل ہے۔ ؂

قسمت کیا ہر ایک کو قسام ازل نے

جو شخص کہ جس چیز کے قابل نظر آیا‘‘

’’جناب نیلوی صاحب! ایسا صریح دھوکہ تو نہ دیں۔ آپ نہ تو حنفی ہیں نہ دیوبندی۔ صرف اپنی نارسا عقل کے پیروکار ہیں۔ آپ کو حنفیت اور دیوبندیت سے کیا واسطہ اور تعلق؟ 

ہو چکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں؟

جن کو مطلب نہیں رہتا، وہ ستاتے بھی نہیں‘‘

(المسلک المنصور)

’’جناب خمینی صاحب! یہ روایت تو حضرت علی سے مروی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ متعۃ النساء سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ کیا آپ کے نزدیک متعہ جیسے لذیذ فعل کی نہی نقل کر کے حضرت علی بھی حضرت عمر کے ساتھ قرآنی حکم کے مخالف نہیں ہو گئے؟ لب کشائی تو کیجیے، بات کیا ہے! 

میرے رونے سے مرا دامن ہی تر ہوتا تو خیر

شرم سے ظالم جبیں تیری بھی تر ہو جائے گی‘‘

’’تقیہ شیعہ کے نزدیک روے زمین کی تمام اشیا سے محبوب ترین چیز ہے کہ دین کے نو حصے اسی میں شامل ہیں اور اسی میں عزت، رفعت اور درجات کی بلندی منحصر ہے۔ یعنی جھوٹ میں ثواب ہے۔ ؂ 

کیا جو جھوٹ کا شکوہ تو یہ جواب ملا

تقیہ ہم نے کیا تھا ہمیں ثواب ملا‘‘

’’اور کون کم بخت دنیا کی لذت اور آخرت کے ثواب کی تحصیل سے جان چھڑائے گا؟ ہم خرما وہم ثواب۔ ممکن ہے کہ دنیا کی لذت کا دل دادہ کوئی متعہ باز یہ کہہ دے:

اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود

حسن انساں سے نمٹ لوں تو وہاں تک دیکھوں‘‘

’’اندازہ کیجیے کہ شیعہ اور امامیہ کے مذہب میں جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے کس قدر وسعت اور فراوانی ہے کہ آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو، منکوحہ ہو یا غیر منکوحہ، اس کی شرم گاہ کسی دوسرے کو لطف اندوز ہونے کے لیے عاریتاً دینے میں قطعاً کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔ شاید شیعہ امامیہ کا ورد یہ ہو: 

شب وصل تھی چاندنی کا سماں تھا

بغل میں صنم تھا خدا مہرباں تھا‘‘

(ارشاد الشیعہ)

’’المہند کو اول سے آخر تک پڑھ لیں اور انصاف کریں کہ کیا اس میں حضرت تھانوی کی تکفیر کی گئی ہے یا تکفیر سے ان کی براء ت بیان کی گئی ہے؟ اور کیا اس کتاب میں ان کی تردید کی گئی ہے یا تصدیق اور تقریظ حاصل کی گئی ہے؟ مگر 

یہ ملا کافروں کو دولت اسلام کیا دے گا

اسے کافر بنانا بس مسلمانوں کو آتا ہے‘‘

(عبارات اکابر)

’’تعجب ہے کہ اس پر اپنے بے بنیاد مذہب اور مسلک کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے اور ان کی تکفیر کے لیے نعرۂ تکبیر ورسالت وغوثیہ کی گونج میں عوام سے داد تحسین حاصل کی جاتی ہے اور اس پر بھی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لب کشائی نہ کریں۔ آہ! 

صداے نالہ دل پر خموشی کس کا شیوہ ہے

تو ہی کہہ دے کہ پتھر کا جگر تیرا ہے یا میرا؟‘‘

(بانی دار العلوم دیوبند)

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر