امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ عصرِ حاضر کے مفسر، محدث، فقیہ، مصنف اور علمی و روحانی حوالے سے مجدد کی حیثیت رکھتے تھے۔ عالمِ اسلام کی عظیم دینی یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی قدس سرہ سے علمی روحانی فیوضات پانے والے امام اہل سنتؒ نے ہزاروں مفسرین، محدثین، مدرسین، خطباء کو علمی انوارات سے نوازا۔ عرب و عجم میں جہاں بھی جائیں، آپ کے تلامذہ موجود ہیں۔ حضرت اقدس صفدر صاحب کو تصنیفات کی دنیا میں دیکھا جائے تو مولانا نے مسلکِ حق اہلِ سنت اور عقائد علمائے دیوبند کی ترجمانی و تشریحات اور فرقِ باطلہ کے رد میں دندان شکن کتب تحریر فرما کر جہاں علماء و طلبہ کے لیے خزائنِ علمی کی سخاوت فرمائی، وہاں ہزاروں عقائدِ باطلہ اور اعمالِ سیئہ میں پھسلے افراد کی ہدایت کے اسباب مہیا فرمائے۔ آپ کے علمی و روحانی تصنیفی فیوضات سے رہتی دنیا تک مسلمانانِ عالم مستفیض ہوتے رہیں گے۔
مجھے اس بات پر فخر حاصل ہے کہ امام اہل سنتؒ میرے استاد بھائی ہونے کے علاوہ مسلکی اعتبار سے بے حد محبت کرتے تھے۔ علاوہ ازیں شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ، مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ، امام اہل سنت مولانا لکھنویؒ، شیخ التفسیر حضرت مولانا لاہوریؒ کی سر پرستی اور سردار احمد خان پتانیؒ، مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی قیادت میں قائم ہونے والی پہلی مذہبی و تبلیغی جماعت ’’تحریک تنظیم اہل سنت والجماعت‘‘ کے دستور، مشن اور طریقِ تبلیغ سے متفق بھی تھے اور مطمئن بھی۔ توحید و سنت کی اشاعت، اصحاب اہل بیت آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کا تبلیغی و تحریری انداز سے تحفظ، اور فرقِ باطلہ کا ہر لحاظ سے مدلل، محقق اور مستحسن رَد، اور موسسینِ اسلام کے دفاعی طریقے پر احقر اور میرے رفقاء کو خصوصی دعائیں دیتے تھے۔ مولانا مرحوم نے ہمیشہ حق و باطل کے امتیاز اور اشاعت میں مثبت انداز اختیار فرمایا اور پسند بھی فرمایا۔
آپ کے تبحر علمی، تقدس روحانی نے جس طرح عالمِ اسلام کے علماء، مفسرین، محدثین اور عامۃ المسلمین کو فیضیاب فرمایا، ان سے قیامت تک باقیات سے مسلمانانِ عالم مستفیض ہوتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ حضرت اقدس کے درجات بلند فرمائے، آمین۔




















