امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات

حافظ نثار احمد الحسینی

الحمدلِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی۔أمّابعد۔

کچھ شخصیات ان منٹ نشانات اوراپنے کردار کا ایسا تأثر چھوڑجاتی ہیں کہ ان کی یادکی خوشبو پھیلتی رہتی ہے۔ حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی صفات ودیعت کررکھّی تھیں کہ وہ اپنے کارناموں سے ہمیشہ یادرہیں گے اورامت کی ہدایت کے لیے جوشمعیں انہوں نے جلارکھی تھیں وہ ہمیشہ طالبان حق کی راہنمارہیں گی۔

حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ کی شخصیت اپنے وقت میں نیکی کے ہرنکتہ کامَرجع تھی۔ ہردینی محاذپروہ وہ سینہ سپر رہے۔ وہ راہنمائے راہنمایاں بھی تھے اورخادمِ امت بھی، وہ طلبہ دین کے استاذجی تھے اوراپنے حلقہ تلامذہ کے شیخ، سالکانِ طریقت کے مرشدعالی اورعلمائے عصرکے راہنما۔ ہم عصرعلما انہیں اپنے جیسانہیں سمجھتے تھے بلکہ اپناسرپرست قرار دیتے تھے اوراکابرنے انہیں اپنے اعتمادکی ہرسندسے نوازاتھا۔ ان کی شخصیت گلستانِ رنگارنگ کی بہاروں کامجموعہ تھی۔ جامع مسجدگکھڑ میں مضافات گوجرانوالہ سے آپ کاخطبہ جمعہ سننے کے لیے آنے والے انہیں وقت کاخطیب کہتے تھے اورپانچ وقت کے نمازیوں کے وہ امام صاحب تھے۔ ان کی تصانیف محققین کے لیے مأخذکادرجہ رکھتی ہیں اوران کاوعظ زندگی کی کایاپلٹ دینے والاہوتاتھا۔ان مجموعہ ہائے صفات کے حاملین کے متعلق حضرت خواجہ عزیزالحسن مجذوب رحمہ اللہ کاایک مصرعہ مشہورہے۔ ع

میخانے کامحروم بھی محروم نہیں ہے

مگرہم نے اس مصرعہ کوامامِ اہل سنت رحمہ اللہ کی محفل میں غلط پایاکہ ان کی محفل میں کوئی محروم ہوتاہی نہ تھا جسے محروم ہو جانے کے بعدکہاجائے کہ وہ محروم نہیں ہے۔ عین دوران درس آنے والوں کے لیے بھی کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ تفسیرکادرس ہو رہاہے کہ دم کروانے والے آگئے۔ چندسکینڈکی بات ہے، کلماتِ دعائیّہ پڑھ کرپھونک ماردیتے اورسبق شروع ہو جاتا۔ جب صاحبِ فراش ہوگئے اورلوگوں کواس خزانہ کی اہمیت کااحساس ہوااوریہ دولت اپنے ہاتھوں سے جاتی نظرآئی تووقت بے وقت کی قیدنہ رہی۔ گکھڑ میں بٹ دری ہاؤس کے عقب میںآپ کے مکان والی گلی میں خواص وعام کامجمع لگارہتا۔ بیماری، ضعف، بڑھاپاکئی طرح کے عوارضات مگرہونٹوں پروہی مسکراہٹ،آنکھوں میں وہی چمک، ماتھے میں وہی شفقت۔ جاننے والوں سے اس کے گھرباربیوی بچوں سب کاپوچھنا۔ نوواردسے آپ کے چند سوالات تھے، وہ ضرورپوچھتے تھے۔ نوجوانوں سے پوچھتے شادی شدہ ہو؟بچے کتنے ہیں؟ والدین زندہ ہیں؟یہ سوال کبھی نہ ہوتا تھا کہ کام کیاکرتے ہو؟آمدن کیا ہے؟ علما سے دینی مصروفیّت پوچھتے۔ مدرسین سے پوچھتے کیاپڑھاتے ہو؟ علما سے ایک سوال یہ بھی ہوتا کہ مکان اپنا ہے یا نہیں؟ اگر جواب نہ میں ہوتا تو دعا دیتے۔ فرماتے اگر ہو سکے تو مکان اپنا بناؤ۔ آخری چند سالوں میں جب بات چیت زیادہ نہ کرسکتے تھے تودعا دیتے اوریہ دعا کبھی نہ بھولتے کہ اللہ تعالیٰ مدارس کی اور علما کی حفاظت فرمائے۔

احقرنے سب سے پہلے آپ کی زیارت ۱۹۸۰ء میں ’’جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام‘‘جہلم کے سالانہ جلسہ میں کی۔ اس کے بعد جہلم کے سالانہ جلسوں میں بارہا آپ کابیان سنا۔ ۱۹۹۴ء جہلم کے سالانہ جلسہ میں آپ کی آمدکی اطلاع بھی تھی اوریہ بھی کہ آپ بیمار ہیں، تشریف نہیں لاسکتے۔ احقرکوآپ کی زیارت کااشتیاق تھاکہ معلوم ہواآج آپ کابیان ہے۔ حاضرین جلسہ میں خوشی کی لہردوڑگئی۔ آپ کے بیان میں مجمع اکٹھا ہوگیا۔ علماء،طلبہ،عوام اورآپ کے عقیدت مندوں کاجم غفیرتھا۔ آپ نے وضوکے مسائل پربیان فرمایااوربے پروائی سے پیداہونے والی عمومی غلطیوں کی نشان دہی فرمائی۔ علما،طلبہ کے اتنے بڑے مجمع میں آپ نے جوعنوان منتخب فرمایا، اس سے آپ کے ہاں عمومی فقہی مسائل کی اہمیّت کااندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰ء میں آپ ہمارے علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں قصبہ ’’مومن پور‘‘میں اپنے استاذِ گرامی حضرت مولانا عبدالقدیر رحمہ اللہ کے جنازہ پر تشریف لائے۔ نمازِ جنازہ آپ نے پڑھائی۔ قبر پر بیان میں اپنے تأثرات کا اظہار فرمایا جس سے حضرت مولانا عبد القدیر رحمہ اللہ کی عظمت اور آپ کی ان سے محبت کااندازہ لگایاجاسکتاہے کہ استاذ اور شاگرد کا رشتہ آپ کے ہاں کس مقام کا حامل ہے۔ آپ نے مولاناعبدالقدیر رحمہ اللہ کی تدفین کے بعد قبرکے سرہانے کھڑے ہوکربیان میں فرمایا:

’’حضرت میرے بڑے مشفق اورمہربان استاذتھے مجھے اپنے باپ کے مرنے پراتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا آج ان کی وفات پر ہوا ہے۔‘‘

دورۂ تفسیرکی خصوصیات

احقر شعبان، رمضان ۱۴۱۱ھ میں حضرت اقدس مرشدی مولاناقاضی محمدزاہدالحسینی قدس سرہٗ کی اجازت سے تفسیر قرآن مجید پڑھنے کے لیے’’نصرۃ العلوم‘‘ حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پہلاہفتہ دورہ تفسیر کا سبق مشرقی درسگاہوں کی دوسری منزل پرہوا، پھر مدرسہ کی مسجد ’’مسجدِنور‘‘کی گیلری میں ہوتا رہا۔ دورہ تفسیر کا آغاز آپ ہمیشہ یکم شعبان سے فرماتے تھے۔ ان دنوں وفاق المدارس کے امتحان بھی یکم شعبان سے شروع ہوتے تھے، اس لیے ابتدا میں طلبہ کی حاضری کم ہوتی، مگرآپ نے اپنامعمول نہ بدلایااورہمیشہ یکم شعبان کوہی دورہ تفسیرکاسبق شروع فرمایا۔

احقرکوبحیثیت شاگردآپ کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔ پہلے دن جن باتوں سے متأثرہوا، ایک توآپ کی سادگی تھی سادگی کامعنی تکلف اورتضّع سے پاک ہونا ہے سادہ لباس اوربلاتکلف آپ نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اور طلبہ میں مسند درس پربیٹھ گئے۔ دوسرے وقت کی پابندی۔ سبق کے شروع ہونے کاوقت آٹھ بجے تھا۔ طلبہ کی حاضری کم ہو یا زیادہ، سردی ہویاگرمی بارش ہویاکوئی دوسرا عارضہ، آپ پورے آٹھ بجے مائیک پرپھونک مارتے اورطالب علم قرآن مجید سے تلاوت شروع کر دیتا۔ یہ تلاوت عبارت پڑھنے کی حیثیت میں ہوتی۔ لاؤڈ اسپیکر پرآپ کی پھونک کی آوازگھڑی کے الارم کی طرح ہوتی۔ طلبہ قرآن مجید اور کاپیاں لیے دوڑے آتے۔ ایساکبھی نہیں ہوا کہ طلبہ انتظار میں بیٹھے ہیں اور آپ ابھی تشریف نہ لائے ہوں۔ 

تیسری چیزجس سے احقرمتأثرہوا، وہ آپ کااندازبیان تھا۔ آپ سادگی سے،راوانی سے بندھے بندھائے الفاظ کے ساتھ بولتے چلے جاتے۔ آپ کی بات متنِ متین کی طرح ہوتی۔ نہ اس میں کوئی جھول نہ کجی، نہ پھیلاؤکہ اکتاہٹ ہو جائے اور نہ اختصارکہ مطلب تک ہی رسائی نہ ہو۔ آوازکے زیرووبم میں بھی ایسی ہی یکسانیت تھی۔ نہ ایساجوش وخروش کہ لاؤڈ اسپیکر پھٹنے لگے اورنہ ایسی پستی کہ کانوں تک بات نہ پہنچ سکے۔ آپ کے انداز بیان کواگرکوئی پیمانہ لے کر ماپناچاہے تویہ ماپ آپ کی یکسانیت اوراعتدال میں شاہدکوئی کمی نہ بتاسکے۔ پہلے دن آپ نے مبادی میںآدابِ قرآن مجید،آدابِ درس، طرز تفسیر، درجات تفسیراوراپنے اندازِبیان کاتعارف کرایا۔ سورۃ الفاتحہ کاترجمہ اورتفسیرپڑھائی۔ دوسرے دِن سورۃ البقرہ سے ابتدا فرمائی۔ ابتدائی دوہفتوں میں روزانہ آدھا پارہ اورپھرایک پارہ پڑھاتے رہے۔ سبق بے تکلف ہوتاتھا۔ سورۃ البقرہ میں غم اورحزن میں فرق بیان فرمایا اور فرمایا، میں ہمیشہ حوالہ سناتا ہوں، اب اس فرق پر حوالہ یادنہیںآرہا۔ ایک پرانے طالب علم نے عرض کیا، اجازت ہو تو عرض کروں؟ فرمایا :بالکل۔ اس نے بتایا کہ یہ فرق ابو ہلال حسن بن عبداللہ بن سہل العسکری نے ’’الفروق اللغویّہ‘‘ میں بیان کیاہے۔ آپ نے فرمایا:جزاک اللہ، یہی حوالہ ہے۔

ایسا کمال احقرنے کہیں نہیں دیکھا۔ آپ روزانہ ایک پارہ پڑھاتے تھے۔ ایک پاؤپرایک گھنٹہ اورسپارے پر چار گھنٹے لگتے۔ یہ وقت نہ کبھی زیادہ ہوانہ کم۔ آپ پورے آٹھ بجے مسندِدرس پرتشریف فرماہوتے اور بارہ بجے اٹھتے۔ بڑھاپا بھی تھا اور ضعف بھی، مگرآپ کی کرامت تھی کہ درمیان میں اٹھنا تو کجا، جس کیفیت میں آپ بیٹھتے، اسی پربیٹھے رہتے۔ پورے ڈیڑھ ماہ میں ہم نے آپ کونشست بدلتے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ علومِ قرآنی کاایک سمندرموجزن نظر آتا۔ آپ کادرس ایسا دلچسپ اورعلمی نکات پرمشتمل ہوتا تھاکہ چارگھنٹے ہمیں بیس منٹ بھی نہ لگتے اورجی چاہتاکہ آپ بیان فرماتے رہیں اورہم مستفیدہوتے رہیں۔

احقرنے آپ کے ابتدائی درجات کے طلبہ سے سناہے کہ دوسری کتب کی تدریس میں بھی آپ کایہی اسلوب تھا۔ کتاب کی ایک مقدارمتعین فرمادیتے، ورقہ یاآدھاورقہ اور بڑی کتب میں حسبِ ضرورت، پھرپوراسال یہی ترتیب رہتی اوروقت پر کتاب ختم کر دیتے۔ متن کے سمجھانے پرزوردیتے، خارجی مباحث اورطولانی تقریروں کو مضر فرماتے تھے۔ دورہ تفسیرکی ابتدا میںآپ نے اپنااسلوب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’کئی جگہ تفسیرکے نام پر محض چندمسائل پڑھائے جاتے ہیں، مگرمیرایہ طریقہ نہیں۔ میں تو پورا قرآن مجید پڑھاتا ہوں۔ مسائل پرحسبِ موقعہ ضمناً بات ہوگی۔‘‘

مشہورمسائل پرآپ کی تفصیلی بات کے مقامات متعین تھے۔ انہی مقامات پرتفصیلی بات کرتے۔ اس کے بعدکسی آیت میں موقع ہوتاتوپچھلی آیت کاحوالہ دیے دیتے کہ فلاں مقام پراس مسئلہ کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔ یہ تفصیل بھی چند منٹ سے زیادہ نہ ہوتی۔ آپ کے مطالعہ کااجمال ہوتااورتفصیل کے لیے اپنی مؤلفات یااکابرکی تالیفات کی نشان دہی فرما دیتے۔ مثلاً:عقیدہ حیاۃ الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور حیات شہداء پر سورۃ البقرہ آیت نمبر۱۵۴ وَلَا تَقُوْلَوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا میں، مسئلہ سماع موتیٰ پر سورۃ الروم کی آیت نمبر۵۲ فاِنَّکَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی میں، مسئلہ تقلید پر سورۃ الانبیاء آیت نمبر۷ فَاسْئلُوْا اَھْلَ الذَّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ میں بیان فرماتے تھے۔ مسئلہ وسیلہ سورۃ البقرۃ آیت نمبر ۸۹: یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ کَفَرُواْ میں جبکہ مسئلہ استشفاء، عقیدہ عذاب وثوابِ قبر للجسدبتعلق روح کوسورۃ الزمر آیت نمبر۴۲: اللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا میں بیان فرماتے۔

دوران درس آپ اکابرکے واقعات،اپنے مشاہدات اورلطائف بھی سناتے ان کے بھی مقامات متعیّن تھے۔

ربط آیات اہتمام سے بیان فرماتے۔ اس کے لیے باقاعدہ حوالہ دیتے ہوئے فرماتے:بیان القرآن، سبق الغایات میںیہ ربط ہے۔ کبھی ابن کثیر، درمنثور، بیضاوی، جلالین، قرطبی، السراج المنیروغیرہ کے کسی استدلال کو بطور ربط بیان فرماتے۔ کبھی اپنے شیخ حضرت حسین علی رحمہ اللہ کے بیان کردہ ربط کوبیان فرماتے۔ اس وقت فرماتے: ہمارے حضرت مرحوم مولاناحسین علی صاحب رحمہ اللہ نے یہ ربط بیان فرمایاہے۔ اورکبھی اپناذوق بھی بطور ربط بیان فرماتے۔ ایسے موقع پریہ کبھی نہیں فرمایاکہ میرے نزدیک یہ ربط ہے۔ فرماتے:آسان ربط یہ ہے۔ اوپریہ واقعہ ہے، اب اسی کی وضاحت ان کلمات سے ہے۔

تفسیرقرآن مجیدکے بیان میں آپ اپنے خاص اندازسے قریب المعنیٰ الفاظ کے فرق کوبیان فرماتے۔ مثلاً تفسیر اور تاویل میں فرق کے ضمن میں فرماتے کہ امام ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کلاھُمَا بمعنیٰ واحدٍ۔ امام ماتریدی فرماتے ہیں: تفسیر فسر سے ہے جس کامعنٰی قطع قطعیّت اوریقین کے ہیں اور تاویل تَرجیحُ اَحَدُ المحتملاتِ ہے۔ اگرترجیح وزنی دلیل سے ہے توتفسیرصحیح ہے، ورنہ تفسیربالررائے ہوگی۔ علم اورشعور میں فرق یہ بتاتے کہ علم عقل والوں کی صفت ہے اور شعورحواس خمسہ ظاہرہ سے کسی چیز کو دیکھنے یا معلوم کرنے کو کہتے ہیں۔ اِفک اور اَفَکْ میں فرق: اِفک بکسرہ ہمزہ بمعنیٰ جھوٹ اور اَفَکْ بفتح ہمزہ بمعنیٰ پھرنا۔ کبھی عام غلط تلفظ کی اصلاح فرماتے، مثلاً: یَوْنان بفتحِ یاہے، بضمّہ یااَغلاط العوام سے ہے۔ ’’مفتاح السعادہ ‘‘میں اس کی تصریح ہے۔

اسماء الرجال پرآپ کی گہری نظررہی۔ بعض بڑے مغالطے اشاروں میں حل فرما دیتے۔ مثلاً فرمایا: فَلَمَّا اَتَاھُمْ مِنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ کی تفسیر میں کئی حضرات ثعلبہ بن حاطب صحابی رضی اللہ عنہ کو لائے ہیں حالانکہ یہ بدری صحابی ہے اوربعض اس پراعتراض کرکے اس واقعہ ہی کوغلط قراردیتے ہیں۔ دونوں باتیں درست نہیں۔ ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ بدری صحابی منافق نہیں۔ ایک اور ثعلبہ بن حاطب منافق تھا۔ یہ آیت اسی کے متعلق ہے اورزکوٰۃ پر اِنَّمَا ھِیَ اُخْتُ الْجِزْیَۃِ اسی ثعلبہ بن حاطب کا قول ہے۔ علامہ شبیر احمدعثمانی رحمہ اللہ کوبھی اس پرمغالطہ لگا ہے۔

ترجمہ قرآن مجید میں آپ کامطالعہ وسیع تھا۔ تحقیق سے بات کرتے، مثلاً: ’’اِنَّمَا‘‘ کے متعلق فرمایا:علم معانی والوں نے نفی واثبات سے مرکب بتایاہے۔ اس پر ’’اِنَّمَا‘‘ کامعنیٰ ’’نہیں ہے مگریہ بات‘‘ہوتاہے اوررضی شارح کافیہ نے ’’اِنَّمَا‘‘ کا معنی‘’ پختہ بات‘‘سے کیا ہے۔ نحوی اشکالات کوآپ دلچسپ انداز میں بیان کرتے مثلاً: ’’کُنْ‘‘ امر ہے اور ’’فَیَکُوْنْ‘‘ جزا ہے توجزا مجزوم کیوں نہیں؟ بیضاوی نے یہ جواب دیا ہے کہ فَیَکُوْنْ خبر ہے مبتدا محذوف کے لیے، اَیْ فَھُوَ یَکُوْنُ۔ علماے نحوکے اختلافات پربھی آپ کی گہری نظرتھی اور اپنا مطالعہ بیان فرماتے۔ مثلاً: ’’اَنْ تَمِیْدَ بِکُمْ‘‘ کی ترکیب کوفیوں کے ہاں لِأنْ لَّا تَمِیْدَ بِکُمْ اور بصریوں کے ہاں کِرَاھَیۃَ أنْ تَمِیْدَبِکُمْ ہے۔

آپ تفسیر میں کبھی دلچسپ معلومات بھی ارشاد فرماتے۔ ’’وَمَا تَغِیْضُ الْأرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ‘‘ کے تحت مدارک، ابوالسعود، بیضاوی، السراج المنیرنے بیان کیاہے کہ عادۃً تو بچہ نو مہینے کے بعد پیدا ہوتا ہے، لیکن کبھی اس سے کم، سات، آٹھ مہینے میں بھی ہو جاتا ہے۔ فرماتے ہیں۔کہ ضحاک بن مذاحم پیداہوئے تواس کے دانت بھی تھے اور پیدایش کے وقت قہقہہ لگایا۔ احنا ف کے نزدیک حمل کی زیادہ مڈّت دوسال ،شوافع کے نزدیک چارسال اورمالکیہ کے ہاں پانچ سال ہے۔ ایک پادری کے حوالے سے لکھاہے حکیم لاورے جوچین کاایک مشہورآدمی ہے،وہ ۸۰ سال ماں کے پیٹ میں رہا۔ ایسی خرقِ عادت باتیں اگر آ جائیں تو ان کے لیے کوئی ضابطہ نہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بچہ پہلے چھوٹا ہوتاہے، پھرجب بڑاہوجاتاہے تورحم بھی پھیلتا جاتاہے۔جب بڑا نہیں ہوتاہے تواس وقت رحم پھیلتا نہیں۔

آپ کے درس میں ایسی معلومات ہوتیں کہ یوں معلوم ہوتاتھاکہ آپ نے کتابوں سے کرید کرید کر یہ باتیں نکالی ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام جب فرعون کے دربار میں جادوگروں سے مقابلہ کے لیے گئے تواون کالباس پہنا ہوا تھا اور جوتے گدھے کے چمڑے کے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کانام ’’یوحاند‘‘تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تجلی کا جو واقعہ پیش آیا، اس پہاڑ کا نام طور نہیں ’’زبیر‘‘ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں ہدہد کا نام ’’یعفور‘‘ ہے۔

آپ کاعام مزاج اشعارپڑھنے کانہ تھا۔ کبھی کسی خاص موقع پرشعربھی سناتے، مگریہ شعرایسابرمحل ہوتا گویا شاعر نے اسی موقع کے لیے کہاہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں کہا کہ وتصدّق عَلَیْنَا تو انہیں وہ وقت یاد نہ تھا جب انہوں نے یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا۔ ؂

حقارت سے نہ دیکھ اے اہل ساحل اہل طوفاں کو

کبھی ایسابھی ہوتاہے کنارے ڈوب جاتے ہیں

اللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَض مثل نورہٖ کمشکٰوۃ فیھا مصباح پر اکبرالہ آبادی مرحوم کاقطعہ سنایا جو انہوں نے ہندوستان کے تین مشہورتعلیمی اداروں دیوبند، علی گڑھ اورندوہ کے متعلق کہا ہے۔

ہے دِلِ روشن مثالِ دیوبند اورندوہ ہے زبانِ ہوش مند

گرعلی گڑھ کی بھی تم تشبیہ دو اک معزّزپیٹ بس اس کوکہو

وَلَایَضْرِبنَّ بِاَرْجُلِھِنَّ پرشعرپڑھا :

مجھی سے سب یہ کہتے ہیں کہ رکھ نیچی نظر اپنی 

کوئی ان سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہو کر

قرآنیات میں مختلف آیات سے مذاہب متفرقہ کے استدلال کوبیان فرماتے، احناف کے دلائل بیان فرماتے، اہل بدعت اگرکسی آیت سے استدلال کرتے تواس کاجواب بھی ارشادفرماتے، اکابر کے واقعات سناتے، اپنے مشاہدات بیان فرماتے۔ آپ کے درس کی ایک خصوصیّت مختلف مسائل پر اکابر کی تالیفات کاتعارف بھی تھا۔ قرآنیات پر’ ’مفردات القرآن‘‘ ازامام راغب اصفہانی رحمہ اللہ، ’’لغات القرآن‘‘ از مولانا عبد الرشید نعمانی رحمہ اللہ، ’’قصص القرآن‘‘ از مولانا حفظ الرّحمن سیوہاروی رحمہ اللہ اور ’’ارض القرآن‘‘ از علامہ سیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ کی تعریف فرماتے تھے۔ آپ جب کسی کتاب کاتذکرہ کرتے تواس کا موضوع بھی بیان فرماتے، مثلاً: جہد المقل شیخ الہند مولانا محمودِ حسن رحمہ اللہ کاموضوع بیان فرمایا کہ جہدالمقل میں تین عنوانات ہیں: (۱) امکانِ کذب (۲) امکانِ نظیر (۳) خلفِ وعید۔

آپ طلبہ کودینی دعوت میں ہمیشہ اعتدال کی نصیحت فرماتے تھے۔ مشہورمسئلہ ’’یارسول اللہ‘‘ کہنے کاحکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’یارسول اللہ‘‘ کہنا نہ مطلقاً جائز ہے نہ مطلقاً حرام ہے۔ اگرکوئی شوقیہ کہتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو حاضر ناظر نہیں مانتا تو درست ہے اور اگر حاضر ناظر سمجھتے ہوئے مددکے لیے کہتاہے توشرک ہے۔

فرمایا: نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ تعلیم میں سختی نہ کرو، اپنے دعویٰ میں نرمی نہ کرو، دلیل مضبوط بیان کرو اور تقریر نرمی سے کرو۔ اپنے استاذ حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کاایک واقعہ بیان فرمایا: ۱۹۲۵ء میں ہم ایک مرتبہ بے خبری میں اہل بدعت کے ہاں چلے گئے۔ تقریر مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب کی تھی۔ ہم نے جب وہاں کے حالات دیکھے تو میں نے مولانا سے کہا یہ کیا ہوگا۔ فرمایا: میں کوئی راستہ نکالتا ہوں۔ مولاناغوث ہزاروی رحمہ اللہ نے تقریرکی۔ تقریر کے بعدان لوگوں نے کہا، اب ہم نے سلام پڑھنا ہے۔ مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ نے دعاکراناشروع کردی یااللہ ہم بہت گناہ گار ہیں، ہمیں معاف فرما، شرک وبدعت سے بچا، اپنے گھرکی زیارت نصیب فرما۔ جب تیرے گھر میں پہنچیں توطواف نصیب فرما۔ اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھرکی زیارت نصیب فرماجب ہم روضہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جائیں تو وہاں یہ درود شریف پڑھنے کی توفیق نصیب فرما: ’’الصّلوٰۃُ والسلامُ علیک یارسول اللّٰہ‘‘، ’’الصّلوٰۃُ والسلامُ علیک یاحبیب اللّٰہ‘‘۔ کچھ دیرپڑھتے رہے اوردعاختم کرکے آگئے۔

آپ کے درس میں ایسی اہم باتیں ہوتیں جو ہر جگہ نہیں ملتیں۔ مثلاً فرمایا: ’’تقویۃ الایمان‘‘ حضرت شاہ محمداسماعیل شہید رحمہ اللہ کی کتاب نہیں ہے۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ اسے شاہ صاحب کی کتاب نہیں مانتے تھے۔ ہمیں حضرت مدنی رحمہ اللہ کی تحقیق پراعتمادہے۔ ملحوظ رہے کہ حضرت مدنی کی یہ بات مکتوبات شیخ السلام میں موجودہے۔ ’’بُلغۃ الحیران‘‘کے متعلق فرمایا: ’’بُلغۃ الحیران‘‘ مولاناحسین علی رحمہ اللہ کی تفسیر نہیں بلکہ یہ حضرت مولاناغلام اللہ خان اور مولانا نذر شاہ صاحب نے لکھی ہے۔ ان حضرات نے مولاناحسین علی رحمہ اللہ کی طرح ربط بیان نہیں کیا بلکہ اس میں کمی کی ہے۔

بطور نصیحت کے فرمایا: ’’یاد رکھو، اکابر کا دامن نہ چھوڑنا۔ حمداللہ، مختصرالمعانی، تصریح وغیرہ ہم نے سب پڑھی ہیں، سولہ سال کتابیں پڑھیں اور باون سال پڑھایا مگر اکابرسے ہٹ کر اِدھر اُدھر جانے کو دل نہیں چاہتا۔ جس مسئلہ میں تردد ہوتا ہے، میں اکابر کی کتابوں سے دیکھتا ہوں۔‘‘ فرمایا: ’’بحمداللہ مجھے تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگرعلوم کی تدریس کرتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا لیکن کبھی اپنی رائے کواجتہادی درجہ نہیں دیابلکہ اکابرکی رائے کوہی مقدم سمجھا ہے۔ عزیز القدر طلبہ! اجتہاد نہ کرنا، اکابرکی رائے پر اعتماد کرنا، اسلاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔‘‘

’’اشاعۃ التوحیدوالسنہ‘‘ سے اپنی قطع تعلقی کا واقعہ سناتے ہوئے فرمایا: سیدعنایت اللہ شاہ بخاری صاحب کے ساتھ میں نے اٹھارہ سال تک کام کیا۔ ایک دفعہ گکھڑآئے، صبح کادرس دیا، توسل کامسئلہ بیان کیا اور کہا یہ شرک ہے۔ گکھڑ میں ماسٹر محمد حسین ہیں، وہ ’’المہند‘‘ اٹھا کر لے آئے جس پرہمارے تمام اکابرکے دستخط ہیں۔ اس پرچھتیس علما کے دستخط ہیں۔ اس میں توسل کا ذکر ہے کہ کس طرح جائزہے۔ شاہ صاحب نے ’’المہند‘‘ ماسٹر محمد حسین سے لے کر چٹائی پر پھینک دی۔ میں نے اس وقت سے فیصلہ کر لیا کہ ان کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اب انہوں نے ’’المہند‘‘ کے رد میں’’القول المسند‘‘ چھپوائی ہے۔

احقرنے دیکھاکہ آپ کے دورہ تفسیرمیں شریک علما میں تین باتیں ضرور پیدا ہوتیں: (ا) قرآن مجیدسے تعلق پیدا ہوتا اور یہ داعیہ پیدا ہوتاکہ معاشرہ میں اصلاحی کام درس قرآن مجیدکے بغیرمشکل ہے۔ (۲) بدعت سے نفرت اور تردیدِ بدعت کا جذبہ پیدا ہوتا۔ (۳) اکابر کی تحقیقات پر اعتماد پیدا ہوتا۔

حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ سے چندملاقاتیں

دورہ تفسیر میں احقرکواللہ تعالیٰ نے حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کوقریب سے دیکھنے کاموقع ملا۔ آپ کی بلاتکلف زندگی، بلاتصنّع نشست وبرخاست اور پختہ علم، گہرامطالعہ، مذاہب اوردلائل پرگہری نظراوراستخضارکے باوجوداکابر کے بلاچوں و چراں اتباع نے احقرپرگہرااثرچھوڑا۔ جی چاہتاتھاکہ آپ سے استفادہ اورآپ کی زیارت سے دل کاسکون میسر رہے۔ اس غرض سے احقراکثرآپ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔

۳؍ذو الحجہ ۱۴۲۲ھ کو گکھڑ حاضری ہوئی۔ اس وقت آپ معمولی نشست وبرخاست خود کر سکتے تھے۔ پوچھاکیا کررہے ہو؟ عرض کی، پڑھا رہا ہوں۔ احقرنے ’’المہنّدعلی المفنّد‘‘ کی تلخیص لکھی تھی۔ ہرعقیدہ ایک سطر میں جامع آسان الفاظ سے لکھا۔ تصدیق کے لیے اسے اکابرکے مختلف علمی اداروں کوبھیجا۔ الحمدللہ سب نے سراہا۔ احقر دارالعلوم دیوبند کی تصدیق اپنے ساتھ لے گیاتھا۔ حضرت کی خدمت میں پیش کی تو اپنا بڑا عدسہ نکالا اور استفتا،جواب استفتا اور خلاصہ کو بغور ملاحظہ فرمایا۔ مصدّقین کے دستخط ایک ایک کر کے پڑھے۔ چند حضرات کا تعارف نہیں تھا، احقرسے پوچھا یہ کون ہیں؟ اس تفصیل کے بعد فرمایا، ماشاء اللہ بہت اچھا ہے۔ اسے چھپوا دیا جائے۔ احقرنے عرض کیاآپ بھی تصدیق فرما دیں۔ اپنا قلم نکالا اور دارالعلوم دیوبندکے خط پرلکھا: 

’’الجواب صواب بلاارتیاب‘‘۔ احقر ابوالزاہد محمد سرفرازعفی عنہ ۔۳؍ذو الحجہ ۱۴۲۲ھ

۱۹؍شوال ۱۴۲۳ھ/۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ء بروزجمعہ عصرکے بعدحاضرہوئے۔ الحاج محمداکرام صاحب (گکھڑ) آفیسر محکمہ ٹیلی فون بھی ہمارے ہمراہ تھے۔ آپ چارپائی پرتشریف فرما تھے۔ چندطلبہ آپ کے پاؤں داب رہے تھے۔ احقر کو بھی سعادت نصیب ہوئی۔ احقرنے اجازت حدیث کے لیے عرض کیا تو خوشی سے فرمایا کہ اجازت ہے۔ برادرم حافظ ظہور احمدالحسینی مدظلہٗ کے لیے بھی عرض کیاتوپوچھا کہ انہوں نے دورہ حدیث پڑھا ہوا ہے؟ احقر نے عرض کیا: جامعہ اشرفیہ ،لاہورسے پڑھا ہوا ہے۔فرمایا: انہیں بھی اجازت ہے۔ سند حدیث کے متعلق فرمایا کہ ختم ہو چکی ہے۔ احقر نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو ہم چھپوا دیں۔ فرمایا:مولاناشیرعلی شاہ صاحب لے گئے ہیں، آپ چھپوا دیں تو بھی بہتر ہے مگر اس میں کتابت کے اغلاط ہیں، درست ہونے چاہییں۔ احقر کے ساتھ ہمارے اٹک کے کمشنر صاحب بھی تھے جو اپنے دینی مزاج اورشوق سے احقرسے دینی علم پڑھ رہے تھے۔ ان کے نصاب سے متعلق مشورہ کیاکہ ان کی عمر اور مشغولیات کے مدنظراحقر نے ان کے لیے درج ذیل نصاب تجویزکیاہے: علم صرف میں ابواب ثلاثی مجرد صحیح، مزید، ضروری قواعد اور تمرین الصرف، نحو میں مجموعہ قواعد نحو، تمرین النحواور ہدایت النحو، منطق میں تیسیر المنطق اور مرقات، ادب میں نفخۃ العرب، فقہ میں نورالایضاح، قدوری، ہدایہ، اصولِ فقہ میں: تیسیرالاصول اور حسامی، حدیث میں زادالطالبین، ریا ض الصالحین، اٰثارالسنن اور مشکوٰۃ، ترجمہ قرآن مجید اور تفسیر میں جلالین۔ اس نصاب کی تکمیل پراگرمناسب ہو تو اصولِ حدیث پڑھا کر بخاری، ترمذی سبقاً اور مسلم، ابوداؤد، ابن ماجہ اورطحاوی تبعاًپڑھا دی جائیں۔ احقرکے اس مجوزّہ نصاب پرآپ خوش ہوئے اورفرمایا: یہ مناسب ہے۔ ادب میں ’’نفحۃ العرب‘‘ کافی ہے، حماسہ نہ پڑھائیں اور مقامات تو بالکل نہیں۔ منطق میں اصطلاحات سے واقفیت کے لیے اتنانصاب کافی ہے۔ ’’تیسیرالوصول‘‘ کا پوچھا کہ یہ کیاکتاب ہے؟ احقرنے عرض کیا: اصول الشاشی وغیرہ متون سے احقرنے اصطلاحات، احکام اور امثلہ کو جمع کر دیا ہے۔ فرمایا، چھپی ہوئی ہے؟ عرض کیا نہیں، تو فرمایا: چھپوا دیا جائے تو بہتر ہے۔ احقر نے کمشنر صاحب موصوف کے لیے اجازتِ حدیث کاعرض کیا تو فرمایا، انہوں نے دورۂ حدیث نہیں پڑھا۔ اس کے بعداجازت دی جا سکتی ہے۔ آپ کے اس اصولی مؤقف پر احقر کو خوشی ہوئی۔ آپ انہی دنوں عمرہ کے سفرسے واپس آئے تھے۔ ہمیں کھجور اور ایک ایک تسبیح عنایت فرمائی۔ یہ تسبیح الحمد للہ احقرکے پاس آپ کے تبرک کے طور پر محفوظ ہے۔

۱۳؍جنوری ۲۰۰۳ء کوعشاء کے بعدحاضر ہوا۔ وقت مناسب نہ تھا مگر زیارت کے بغیرجانے کو جی نہ چاہتا تھا۔ دروازے پر دستک دی تو حضرت کے پوتے مولوی احسن صاحب آئے۔ ہم نے عرض کیا کہ ہم اٹک سے حاضرہوئے ہیں۔ اگر حضرت کی زیارت ہو سکے توآپ کی مہربانی۔ انہوں نے بیٹھک کادروازہ کھولا اور کہا: میں آپ کے لیے کھانا لاتا ہوں۔ احقر حضرت کی ترتیب پرخوش ہوا کہ یہ تکلّفات میں نہیں پڑے کہ آپ نے کھانا کھایا ہے یا نہیں، کھائیں گے وغیرہ۔ ہم نے کھانا کھایا۔ پھر دوسرے کمرے میں حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضری ہوئی۔ حضرت نے پہچان لیا۔ خوش ہوئے۔ فرمایا: آپ کی بے اکرامی ہوئی۔ گھر میں ساگ اور کڑھی پکی تھی۔ گوشت آج بازار میں نہیں ملا۔ احقرآپ کی مستعدی پرحیران ہوا کہ آپ نے تفصیل پوچھی ہوئی ہے کہ مہمان کہاں سے آئے ہیں اور کیا کھایا ہے۔ تعویذلینے والے اور دعا کروانے والے لوگ بھی آگئے۔ حضرت ہرایک سے اس کی ضرورت پوچھتے۔ چھوٹے چھوٹے کاغذکے ٹکڑے رکھے ہوتے تھے، مختصر تعویذ لکھ کر دے دیتے۔ ایک صاحب بھینس کے لیے آٹے کاپیڑا لفافہ میں دم کرانے لائے۔ آپ نے لفافہ لے کردم پڑھا اور پیڑے کو خوب دائیں بائیں اوپر نیچے الٹ پلٹ کر دم کیا کہ اس کا کوئی حصہ پھونک مارنے سے رہ نہ گیا۔ جب یہ حضرات چلے گئے توپوچھا: آپ نے عشا پڑھی ہے؟ ہم نے عرض کیا، ابھی نہیں پڑھی۔ فرمایا: وضو ہے؟ عرض کیا، جی وضو ہے۔ فرمایا: میں نے بھی نہیں پڑھی۔ آپ مصلے پربیٹھے تھے۔ پیچھے ہوگئے اور احقر کو فرمایا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ احقر نے عرض کیا کہ میں مسافر ہوں۔ فرمایا، آپ ہی پڑھائیں، ہم اپنی دو رکعت پوری کرلیں گے۔ احقرکویہ سعادت نصیب ہوئی۔ ہم نے اجازت لی۔ کمشنرصاحب اٹک بھی ہمارے ساتھ تھے۔ اپنے پوتے مولوی احسن کوبلایا اور فرمایا تمہیں اس لیے بلایاہے کہ بیٹا، دیکھو یہ اٹک کے کمشنر ہیں۔ گویا آپ نے اپنے پوتے کوایک اعلیٰ افسرکی دینداری کا تعارف کرایا۔

آخری ملاقات اپریل ۲۰۰۷ء کوہوئی۔ احقر اپنے چند عزیزوں کے ہمراہ حاضرخدمت ہوا۔ رات گیارہ بجے کاوقت تھا۔ دروازہ پر دستک دی۔ ایک صاحب آئے تو مدعا عرض کیا اور یہ عرض کی کہ وقت اگرچہ مناسب نہیں، راستہ میں ہمیں د یرہو گئی ہے۔ اگر صرف حضرت کی زیارت ہو جائے توآپ کی مہربانی۔ تھوڑی دیر بعد وہ صاحب ہمیں بیٹھک میں لے گئے۔ ماشاء اللہ حضرت جاگ رہے تھے۔ چاپائی پرتشریف فرما تھے۔ خوش ہوئے، مگراب صحت کی حالت پہلے والی نہ تھی۔ بات کرنے میں دشواری تھی، مگرحافظہ، ذہنی بیداری اور استحضارپہلے کی طرح تھا۔ آپ کی آنکھوں میں وہی شفقت، محبت اور خوشی جھلک رہی تھی۔ احقر نے برخوردار محمد زاہد سلّمہ کو آپ کی خدمت میں پیش کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ ہاتھ اٹھا کر اس کے سر پر رکھا اور فرمایا: اللہ عالم باعمل بنائے۔ کمزوری زیادہ تھی۔ ہاتھ محمد زاہد سلّمہ کے سرپر سے ڈھلک گیا۔ ہم نے دعا کی درخواست پیش کی۔ دونوں ہاتھ اٹھاکردعا فرمائی، خاص کرفرمایا: اللہ تعالیٰ علما کی اور مدارس کی حفاظت فرمائے۔

یہ آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعدزیارت جنازہ پرہوئی۔ عقیدت مندوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ حضرت امامِ اہل سنت کو دیکھا۔ نورانیّت وقار پہلے سے بڑھا ہوا تھا۔ چہرہ مبارک پر اطمینان وسکون کی تجلّی خاتمہ بالخیرہونے پر آپ کی خوشی کی گواہی دے رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ آپ ابھی درس تفسیر ارشاد فرما رہے ہیں۔

ہزاروں منزلیں ہوں گی ہزاروں کارواں ہوں گے 

بہاریں ہم کوڈھونڈیں گی نہ جانے ہم کہاں ہوں گے

ایک خواب اوراس کی تعبیر

حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ کے وصال سے تقریباًایک ماہ پہلے احقرنے خواب میں دیکھا کہ’’ اشاعۃ التوحید والسنہ‘‘ سے تعلق رکھنے والے احقرکے شناسا ایک مولاناصاحب ایک جگہ کھڑے ہیں۔ احقربھی ساتھ کھڑاہے۔ ساتھ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی کھڑے ہیں۔ احقرعقیدہ حیاۃ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پرمولانا صاحب کو دلائل دے رہا ہے، وہ جواب د ے رہے ہیں۔ حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: انہیں یہ دلائل بھی سمجھاؤ کہ منکرین حیات کس طرح دھوکہ دیتے ہیں اور اپنے اکابر کی تعبیراتی اصطلاحوں کودھوکہ دے کراختلاف پرمحمول کرتے ہیں۔ اتنے میں دیکھاکہ ساتھ مولانا سید کفایت بخاری مدظلہٗ سابق مدیر ماہنامہ ’’التوحید والسنہ‘‘ پنچ پیر کھڑے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بخاری صاحب کی طرف متوجہ ہوکرمجھے فرمایا: یہ انہیں کیوں نہیں سمجھاتے؟اسی آن احقر نے دوسرا منظر دیکھا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ احقربھی خدمتِ اقدس میں حاضر ہے۔ احقر نے حضرت امامِ اہل سنت مولانا محمد سرفرازخان صفدررحمہ اللہ کے متعلق پوچھاتوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں ہم اپنے پاس بلانے والے ہیں۔ احقر نے عرض کیا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس مجھے ایساسکون محسوس ہو رہاہے کہ میں نے کبھی ایساسکون کہیں بھی نہیں دیکھا، مجھے بھی اپنے پاس بلالیں۔ فرمایا: ابھی تمہارا وقت نہیں آیا اور اس کے بعداحقرکے متعلق کچھ ارشاد فرمایا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

اس خواب سے احقر کو یقین ہوگیاکہ اب حضرت امامِ اہل سنت استاذی المکرّم دامت برکاتہم کاوقت قریب ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دین کی خدمت میں آپ نے جو عمرگزاری، حدیث رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعلیم وتدریس کواپنامشغلہ بنایااورخصوصاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کے تحفظ اورعقیدہ حیاۃ الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلا م کی جوخدمت کی، وہ رب تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دربار میں قبول فرمائی ہوئی ہے اوراس عظیم الشان خدمت کے صلہ میںآپ کوقرب دربار نبوی علیٰ صاحبہا الف الف تحیّۃً وَّسلاماً حاصل ہے۔ اور وَالّذین اتّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانِ کی بشارت پر جو آپ رحمہ اللہ کی تعلیمات اورعقائدحقّہ کی خدمت گزاری کاشرف حاصل کرے اسے بھی ان شاء اللہ یہ سعادت نصیب ہوگی۔ رب تعالیٰ حضرت امامِ اہل سنت رحمہ اللہ تعالیٰ کے درجات بلندفرمائے، ان کی اولاد کو، عامۃ المسلمین کو، ہم سیاہ کاروں سمیت ان کااتباع اخلاص سے نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم۔

یارب تُوکریم ورسولِ تُوکریم

صدشکرکہ ہستیم میانِ دوکریم

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر