مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر

نوید الحسن

مولانا سرفراز خان صفدر کا شمار صاحب تصنیف و تحقیق علما میں ہوتا ہے۔ انہوں نے مختلف عنوانات پر بہت سی کتب تحریر فرمائیں اور اپنے دور کے مسائل کو پیش نظر رکھ کر اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد و نظریات کو قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ فریق ثانی کے باطل نظریات کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کا رد کیا۔ یہاں ہم مولانا کے اسلوب تحریر کی نمایاں خصوصیات کا اختصاراً تذکرہ کریں گے۔

۱۔ مولانا سرفراز خان صفدر کا انداز تحریر آسان، عام فہم، دلچسپ اور مؤثر ہے۔ آپ کی تحریر میں عالم کو علمیت کی چاشنی، ادیب کو ادبی تسکین اور مسائل کے حل کے متلاشی کوان کا حل ملتا ہے۔ مولانا نے اپنی تحقیق کو تحریر کا پیرہن پہناتے وقت اپنے قارئین کی ذہنی وعلمی سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے عام فہم انداز اختیار کیا تاکہ ان کی تحریروں سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفاد ہ کر سکیں۔ تحریر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ مشکل مسائل کو اس قدر وضاحت وصراحت سے پیش کرتے ہیں کہ قاری کو سمجھنے میں بالکل دشواری محسوس نہیں ہوتی بلکہ معمولی پڑھا لکھا آدمی بھی آپ کی بات کو آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ عالم اور مبتدی دونوں کے قلب وذہن میں حقائق ابھرتے چلے جاتے اور غلط نظریات کے بادل چھٹتے چلے جاتے ہیں۔ آ پ کے انداز تحریر کی اس خوبی کے بارے میں پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالدیان کلیم فرماتے ہیں کہ ’’ آپ پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ہے کہ ایک مشکل مضمون کو بھی عالمانہ انداز میں ایک منطقی ربط وتسلسل کے ساتھ شستہ ز بان میں تحریر فرما دیتے ہیں‘‘۔ (۱) اسی طرح مولانا محمد سلطان محمود ’’ احسن الکلام‘‘ کے مطالعہ کے بعد جن تین نکات کی نشاندہی کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے ’’اس کتاب کا طرز بیان نہایت ہی سلیس او ر عام فہم ہے۔ صرف اردو خواں بھی اس سے فائد ہ اٹھا سکتے ہیں‘‘۔ (۲)

۲۔ مولانا سرفراز خان صفدر کی تحریر کی خاص بات ان کا تحقیقی، مدلل ومبرہن انداز ہے۔ کسی بھی تحریر کا معیاری واعلیٰ ہونا اس بات کا مقتضی ہے کہ اس کا انداز محققانہ ہو۔ بالخصوص مولانا نے جن جہات پر کام کیاہے، وہ اس بات کی مقتضی تھیں کہ تحریر تحقیقی انداز میں لکھی جائے تاکہ فریق مخالف کے پاس کوئی حجت باقی نہ رہے۔ مولانا کے اس انداز تحریر پر مختلف علما نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ فرمایا ہے۔ مثلاً حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ (مہتمم دارالعلوم دیو بند) ’’تسکین الصدور‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’رسالہ کی وقعت وعظمت کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر کی تالیف ہے جواپنی محققانہ اور معتدلانہ طرز تالیف میں معروف ہیں۔‘‘ (۳) اسی کتاب کے بارے میں مولانا عبدالحق صاحب فرماتے ہیں کہ ’’جس محنت اور عرق ریزی سے آپ نے ان مسائل کوتحقیقی دلائل اور اکابر ملت اور معتمد علما کے اقوال سے مبرہن کیا ہے، و ہ آپ ہی حصہ ہے۔‘‘ (۴) مولانا عبدالرشید نعمانی آپ کے تحقیقی انداز تحریر کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ الکلام المفید ماشاء اللہ حوالوں سے بھرپور ہے اور بڑی محنت وتحقیق سے لکھی گئی ہے۔‘‘ (۵) 

مولانا اپنے تحقیقی انداز تالیف میں نقلی دلائل بھی پیش کرتے ہیں اور عقلی بھی۔ چونکہ مولانا کی تحریروں کا مقصد دین کی صحیح تعبیر وتشریح کر کے صراط مستقیم کو واضح کرناہے، لہٰذا یہاں جن نقلی دلائل وبراہین کو اہمیت حاصل ہے، وہ قرآن وسنت کے ساتھ ساتھ راسخ فی العلم علما کی تصانیف ہیں اور مولانا کی تحریروں میں ان مستند مصادر سے بیان کردہ نقلی دلائل کثرت سے موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا نے اپنی تحریرمیں استدلال کے جو مختلف طریقے اختیارکیے ہیں، ان میں عقلی اسلوب بھی شامل ہے جس سے مراد یہ ہے کہ عقلی دلائل پیش کرکے اپنے موقف کی خوبی اور مخالف نقطہ نظر کی خامی کو آشکارا کیا جائے۔ اس طرز کو بھی اختیار کیا ہے اور نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ بہت سے مقامات پر حسب ضرورت عقلی دلائل بھی پیش کیے ہیں۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے بعض ازواج کی خوشنودی کے لیے شہد کو اپنے آپ پر حرام کر دینے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل ہونے کے واقعہ کا ذکر کر کے اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس نظریے کی نفی پر استدلال کرتے ہیں کہ آپ حاظر وناظر ہیں اور جمیع ماکان ومایکون کا علم رکھتے ہیں۔ مولانا لکھتے ہیں:

’’ہمارا استدلال اس مضمون سے اس طرح ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب یا جمیع ماکان ومایکون کاعلم ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول آیات سے قبل ہی معلوم ہوتا کہ میرا یہ فعل اللہ کو پسند نہیں ہوگا، لہٰذا میں ایسانہ کروں۔ کیا فریق مخالف کے نزدیک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمداً ایساکیا تھا؟ ا س سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر وناظر اور مختار کل نہ ہونے کی بھی صاف وضاحت ہوگئی ہے۔ اگر آپ حاضرو ناظر ہوتے اور حضرات ازواج مطہرات نے جہاں خفیہ مشورہ کیاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرماہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام قصہ معلوم ہوتا۔ او ر اگر مختار کل ہوتے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرضی سے صرف اپنی ذات بابرکات کے لیے (لونڈی) یا شہد حرام کر دیا تھا تووہ حرام ہی رہتا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل نہ ہوتی۔‘‘ (۶) 

تحریرکے اسلوب میں ایک طریقہ الزامی جواب دینے کا ہے جو کسی نظریہ یا قول کی تردید میں بعض اوقات بہت موثر ثابت ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص یاگروہ کے نظریے کے کسی ایسے پہلو کو اجاگر کر دیا جائے جو خود اس کے نظریے کی تردید کرر ہا ہو۔ یہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتاہے کہ اس کے بعد فریق مخالف کے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ مولانا سرفراز خان صفدر نے اس اسلوب کو بھی موقع کی مناسبت سے خوب استعمال کیا ہے۔ 

۳۔ قرآن و سنت کے ٹھوس اور صریح دلائل سے آپ نے مخالفین کے جواب دیتے وقت نرمی و شائستگی، عدل و انصاف اور خلق و تہذیب جیسے اعلیٰ اوصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنے دیا اور درشتی و سختی، سب وشتم اور گالم گلوچ کی بجائے اعلیٰ اوصاف حمیدہ اختیار کیے اور عالمانہ انداز میں غلط اور باطل نظریات کا ردکیا۔ چنانچہ وہ لو گ بھی جن کے نظریات کے رد میں آپ نے کام کیا ہے، آپ کی تعریف و توصیف پر مجبور نظر آتے ہیں۔ چنانچہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم مولا نا کی تصنیف ’’صرف ایک اسلام بجواب دو اسلام‘‘ کے مطالعہ کے بعد مولانا کے نام اپنے خط میں یوں رقم طراز ہیں:

’’دو اسلام کے جواب میں نصف درجن کے قریب کتابیں نکل چکی ہیں جن میں سے مجھے آپ کی کتاب ’’صرف ایک اسلام‘‘ بوجوہ پسند آئی۔ اول، اس لیے کہ اس میں گالیاں کم تھیں۔ دوم، انداز تحریر ادیبانہ تھا۔ سوم، اور میری اغلاط کی وضاحت عالمانہ تھی۔‘‘ (۷)

ڈاکٹر برق مرحوم ’’دو اسلام‘‘ کی طبع ششم میں اپنے ناقدین کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’ان میں سے چار حضرات کی کتابیں قابل توجہ ہیں۔ ان میں ایک ’’صرف ایک اسلام‘‘ از مولانا سرفراز خان (خطیب گکھڑ) ہے۔ ایک لحاظ سے میں ان حضرات کا مشکور ہوں اور خصوصاً مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا کہ انہوں نے میری بعض اغلاط واضح کیں۔ موجودہ ایڈیشن کو ان اغلاط سے پاک کر دیا گیا ہے اور تحریر کی تلخی کو بھی بڑی حد تک کم کر دیا گیا ہے۔ .... مولانا سرفراز خان صاحب کے سوا، جنہوں نے کتاب میں کافی حد تک سنجیدگی سے کام لیا ہے، با قی حضرات نے سب وشتم کا وہ مظاہرہ کیا ہے کہ شاید کوئی شستہ مذاق انسا ن ان کا ایک صفحہ بھی پڑھ سکے۔‘‘ (۸)

آپ کی تحریر کے اعلیٰ اوصاف کی نشان دہی حضرت مولانا سید مفتی مہدی حسن (سابق مفتی دارالعلوم دیوبند) نے آپ کی کتاب’’ راہ سنت‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان الفاظ میں کی ہے کہ ’’ زبان شستہ وصاف، لہجہ د ل آویز، جدال ورنگ مناظرانہ سے دور اور مضامین کی جامع کتاب ہے‘‘۔ (۹) 

۴۔ تحریر میں اشعار کا برمحل استعمال اس کی خوبصورتی، حلاوت اور تاثیر میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔ بعض اوقات شعر کا ایک مصرعہ ایک پورے پیرا گراف کی ضرورت کو پورا کر دیتا ہے۔ اگرچہ عام طور پر مذہبی مصنفین کے ہاں نثر میں اشعار کااستعمال بہت کم ملتا ہے، لیکن مولانا سرفراز خان صفدر نے اپنی تحریروں میں اشعار کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ 


حوالہ جات

۱۔ محمد سرفراز خان صفدر ، اظہارالغیب فی کتاب اثبات علم الغیب، ص۱

۲۔ محمد سرفراز خان صفدر ، احسن الکلام فی ترک القراء ت خلف الامام، ص۲۶

۳۔ محمد سرفراز خان صفدر ، تسکین الصدور، ص۲۰

۴۔ محمد سرفراز خان صفدر ، تسکین الصدور، ص۲۸

۵۔ محمد سرفراز خان صفدر ، الکلام المفید فی اثبات التقلید، ص(د)

۶۔ محمد سرفراز خان صفدر ، ازالۃ الریب عن عقیدۃ علم الغیب، ص۲۹۸

۷۔ محمد سرفراز خان صفدر : صرف ایک اسلام ، ص۷

۸۔ غلام جیلانی برق: دو اسلام، ص۵۰

۹۔ محمد سرفراز خان صفدر ، را ہ سنت، ص ۱

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر