دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل

اخت داؤد نوید

واے گل چین اجل کیا خوب تھی تیری پسند 

پھول وہ توڑا کہ ویراں کر دیا سارا چمن

آج ہمیں جس ہستی کے ذکر نے قلم اُٹھانے پر مجبور کیا ہے، وہ ہماری محبوب، سب سے عظیم اور پیاری ہستی ہمارے پیارے نانا جان ؒ کی ہے اور جنہیں آج رحمۃ اللہ علیہ لکھتے وقت ہاتھوں میں کپکپاہٹ جاری ہے اور دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور جن کی وفات کا یقین آج تک نہیں ہوا ۔ ؂

زمیں کے تاروں سے ایک تارا فلک کے تاروں کو جا چکا ہے

مگر تری مرگِ ناگہانی کا مجھ کو اب تک یقیں نہیں ہے 

نانا جان ؒ حقیقتاً آسمان کا ایک تارا تھے جو ۹۵ برس تک اپنی روشنی پوری آب و تاب کے ساتھ اس دنیا میں بکھیرتے رہے اور بالآخر ۵ مئی ۲۰۰۹ء کو دار فانی سے دار بقا کی جانب روانہ ہو گئے اور ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ گئے۔

دل و جان اداس ہیں ہمارے 

اُٹھ گیا کون پاس سے ہمارے 

بہر حال تقدیر کے فیصلوں کو کون رد کر سکتا ہے۔ موت کا ذائقہ ہر نفس نے چکھنا ہے، چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر، امیر ہو یا غریب، بیمار ہو یا تندرست، مفلس ہو یا غنی، عقل مند ہو یا بے وقوف۔ ہر کسی کو ایک نہ ایک دن خداے بزرگ و برتر کے پاس حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اللہ پاک ہمارے اوپررحم فرمائے اور درگزر والا معاملہ فرمائے، آمین ثم آمین۔

نانا جانؒ نے دو شادیاں کی تھیں۔ ہم نے ابھی عمر کی چند بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ ہماری بڑی نانو اور چھوٹی نانو، دونوں وفات پا گئیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان دونوں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں، آمین۔ لہٰذا ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات تو یاد نہیں، البتہ نانا جان ؒ کے ساتھ ہم نے زندگی کا کافی حصہ گزارا ہے اور یہی لمحات ہماری زندگی کی کل متاع ہیں۔ 

نانا جان ؒ کی زندگی کے چند پہلو بے حد نمایاں تھے۔

۱ ۔ قرآن سے محبت

نانا جان ؒ چونکہ صاحب فراش تھے اور پڑھنے لکھنے اور چلنے پھرنے سے معذور تھے، ہم بہنیں اگر ان کے کمرے میں قرآن شریف پڑھ رہی ہوتیں تو ہمیں اپنے پاس بلاتے اور فرماتے کہ میرے پاس بیٹھ کر اونچی آواز سے پڑھو، صرف اتنی اونچی آواز جو نانا جانؒ کو سنائی دے سکے۔ ہم پڑھتیں تو نانا جانؒ کافی دیر تک تلاوت قرآن سے لطف اندوز ہوتے۔ اگرچہ نانا جان ؒ خود حافظ نہیں تھے، لیکن اگر ہم جان بوجھ کر ایک آیت چھوڑ کر پڑھتے تو فوراً بول اُٹھتے کہ آگے یہ والی آیت ہے۔ ہم ایسا صرف یہ دیکھنے کے لیے کرتی تھیں کہ ناناجان ؒ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں۔ 

۲ ۔ احادیث سے محبت

دوران تعلیم جب ہم جمعرات کو نانا جانؒ کے پاس گکھڑ جاتے تو ہم تینوں بہنوں سے ضرور پوچھتے کہ آج حدیث کا کون سا سبق پڑھ کر آئی ہو؟ ہم بتاتیں کہ فلاں حدیث پڑھی ہے تو اس کے بعد ہم تینوں کو باری باری اپنے پاس بلاتے اور ہمارے ہاتھ چومتے تھے اور فرماتے کہ ان ہاتھوں سے تم احادیث کی کتابیں پکڑتی ہو۔ اس وقت نانا جان ؒ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے تھے۔

۳۔ علم و عمل

علمی میدان میں بھی ناناجانؒ نے اپنا لوہا منوایا۔ حقیقتاً وہ بڑے بلند پایہ عالم تھے اور کیوں نہ ہوتے، آخر یہ سب ان کے اساتذہ کی محنت تھی۔ اساتذہ بھی حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا ابراہیم بلیاویؒ ، مولانا عبدالقدیر کیمبل پوری ؒ اور مولانا اعزاز علی ؒ جیسے ہوں اور ان کی محنت رنگ نہ لائے، یہ کیسے ہو سکتا تھا۔ نانا جانؒ نے بھی اپنے اساتذہ کی محنت کی لاج رکھی اور نہایت محنت، جستجو اور لگن سے علمی میدان میں ترقی کی منازل طے کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دیوبند کو اپنے اس قابل فخر سپوت پر فخر ہے۔ پھر علم بھی اس وقت کامل ہوتا ہے جب عمل بھی ہو اور یہ باتیں نانا جانؒ میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آج عالم اسلام بالخصوص اہل سنت والجماعت حنفی دیوبندیوں کو اپنے اس شیخ اور ولی کامل پر فخر ہے ۔ 

۴ ۔ تقویٰ و پرہیزگاری

ناناجان ؒ بڑے متقی اور پرہیزگار تھے۔ ساری زندگی اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو بدعات سے بچائے رکھا۔ اکثر عورتیں جب دَم وغیرہ کروانے آتیں تو عقیدت سے نانا جان ؒ کے ہاتھ چومنے لگتیں اور بعض تو ایسی بھی ہوتیں جو درباروں اور پیروں فقیروں کے پاس جانے والی ہوتی تھیں۔ جب وہ ایسا کرتیں تو ناناجانؒ ایسا کرنے سے سختی سے منع فرماتے تھے۔ غرض آپ ؒ ہر معاملے میں اپنے اسلاف کی روایات کو زندہ رکھتے اور پرہیزگاری اختیار فرماتے تھے۔ 

۵ ۔ اساتذہ سے محبت: 

ایک دن میری چھوٹی بہن ناناجان ؒ کو کوئی دینی رسالہ سنا رہی تھی۔ جب مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا تذکرہ آیا تو ناناجان ؒ آبدیدہ ہو گئے۔ اپنے اساتذہ کی بڑی عزت کرتے تھے۔ ناناجانؒ کو صفدر کا لقب بھی انہی بزرگوں نے دیا تھا ۔ نانا جانؒ جیسے شاگرد رشید سے بڑی شفقت فرماتے تھے اور جب شاگرد اپنے استاد کے مقام کو اچھی طرح جان اور سمجھ لے تو پھر استاد کو بھی وہ شاگرد پیارا ہو جاتا ہے اور ایسے شاگرد بھی استادوں کے دلوں میں جگہ پاتے ہیں اور ان کے دل جیت لیتے ہیں۔ نانا جانؒ اس کی زندہ مثال تھے ۔ 

۶ ۔ کتابوں سے محبت

نانا جان ؒ صرف احادیث کی کتابوں کا احترام نہیں کرتے تھے، بلکہ ہر کتاب کے بارے میں نانا جانؒ کی ایک جیسی ہی کیفیت ہوتی تھی۔ کسی کتاب کی بے اد بی گوارا نہ کرتے تھے اور اپنی کتابوں کی حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرتے تھے۔ نانا جانؒ اپنی بیماری کی وجہ سے رات کا زیادہ تر حصہ جاگ کر گزارتے تھے۔ معمول کے مطابق ایک رات والدہ محترمہ نانا جانؒ کو دبارہی تھیں کہ نانا جانؒ کو اچانک اپنی کوئی کتاب یاد آگئی۔ فوراً والدہ محترمہ سے فرمانے لگے کہ اس الماری میں دیکھو، کتاب موجود ہے یا نہیں۔ والدہ محترمہ نے اٹھ کر دیکھا تو کتاب وہاں موجود نہ تھی۔ نانا جانؒ کو بڑی تشویش ہوئی۔ والدہ محترمہ نے ناناجان ؒ کو پریشان دیکھا تو کہا کہ اباجان، آپ پریشان نہ ہوں۔ کسی نے دوسرے کمرے میں رکھ دی ہوگی۔ میں ان شاء اللہ صبح ہوتے ہی وہ کتاب آپ کو ڈھونڈ دوں گی۔ اس پر نانا جان ؒ نے جو الفاظ کہے، وہ کتابوں کے ساتھ نانا جان کی محبت کی صحیح عکاسی کرتے ہیں۔ والدہ محترمہ سے فرمانے لگے کہ ’’پُتر مینوں ایناں دکھ اپنے ماں باپ دے مرن دا نئیں سی ہویا جیناں دکھ مینوں کتاب گواچن دا ہویا اے‘‘۔ (مجھے اتنا دکھ والدین کے مرنے کا نہیں ہوا تھا جتنا دکھ کتاب کے گم ہونے کا ہوا ہے۔) اللہ پاک ہمیں بھی کتابوں سے محبت اور ان ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اٰمین ثم اٰمین۔

۷ ۔ مخلصانہ مشورے اور نصیحت آمیز باتیں

ناناجان ؒ کی ہم پر بے پناہ شفقتوں میں سے ایک شفقت و مہربانی یہ بھی تھی کہ ہمیں اپنے مدبرانہ اور مخلصانہ مشوروں سے بھی نوازتے رہتے تھے اور اس انداز سے ہمیں نصیحت فرماتے تھے کہ ہماری تربیت بھی ہو جاتی تھی اور کسی کی دل آزاری بھی نہ ہوتی۔ حقیقتاً وہ ہمارے مربی تھے ۔ ایک دفعہ میں اور میری چھوٹی بہن ناناجان ؒ کے پاس بیٹھی ان کو دبا رہی تھیں تو فرمانے لگے، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم دونوں قرآن حفظ کر رہی ہو۔ ہم نے بتایا کہ جی ہاں تو فرمایا کتنے پارے ہو گئے ہیں؟ ہم نے بتایا کہ دس ہو گئے ہیں۔ نانا جان ؒ فرمانے لگے کہ تم درس نظامی کا کورس شروع کرو۔ نانا جان ؒ کے حکم پر ہم نے باوجود حفظ کا شوق ہونے کے، درس نظامی میں داخلہ لے لیا اور ناناجانؒ کی دعاؤں سے آج ہم دین کا علم حاصل کر کے دین کی خدمت کی سعادت حاصل کر رہی ہیں۔ اللہ پاک ہمیں استقامت نصیب فرمائیں اور سب سے بڑی خوشی کی بات ہمارے لیے یہ ہے کہ ناناجان ؒ سے ہم نے درس نظامی کی اسناد حاصل کیں، کیونکہ ناناجانؒ ہمارے مدرسہ میں تشریف لائے تھے۔ ہمیں ناناجانؒ سے اجازت حدیث بھی حاصل ہے۔ اللہ پاک عمل کی توفیق دے۔ 

۸ ۔ خوش مزاجی 

اگر کسی کتاب کا تذکرہ ہوتا تو ناناجانؒ کا انداز منصفانہ اور مدبرانہ ہوتا۔ اگر اساتذہ کا تذکرہ ہوتاتو ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھتے۔ اگر علما کی مجلس ہوتی تو انداز گفتگو عالمانہ ہوتا اور اگر بچوں سے مذاق کے موڈ میں ہوتے تو بچے بن جاتے۔ ناناجانؒ کا دل لگانے کے لیے ہم اکثر انہیں ’’بچوں کا اسلام‘‘ سے لطائف سناتیں۔ اگر کوئی لطیفہ ان کو زیادہ پسند آتا تو دو تین بار سنانے کی فرمایش کرتے اور پھر کافی دیر تک مسکراتے رہتے۔ 

ناناجانؒ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی طرف اشارہ کرتے اور پھر ہم پانچوں بہن بھائی کے نام ہر انگلی پر بولتے۔ شہادت کی انگلی کے ساتھ والی انگلی پر میرا نام بولتے۔ میں ناناجانؒ سے کہتی کہ میں بہن بھائی میں تیسرے نمبر ہوں اور آپ بڑی انگلی پر میرا نام بولتے ہیں تو ناناجانؒ کافی دیر مسکراتے اور پھر کہتے کہ ہاں تم میری امی بخت آور جو ہوئی۔ میری سب سے چھوٹی بہن کا نام انگوٹھے پر لیتے تھے۔ ہم پوچھتیں تو فرماتے کہ یہ انگوٹھے کی طرح جو ہوئی۔ (چھوٹی بہن جسامت میں ذرا صحت مند ہے۔) اس پر ہم مسکرا اُٹھتیں۔ ہم بھی ناناجان ؒ کے لیے فرحت کا سامان کرتی رہتیں اور ناناجانؒ بھی ہمارا دل لگائے رکھتے تھے ۔ ہم جب ناناجانؒ کے پاس ان کے کمرے میں جاتیں تو فرماتے کہ میری چڑیاں آگئی ہیں۔ 


نانا جان کو اگر ہم اپنا شیخ، استاد، مربی اور مشفق باپ لکھیں تو بے جا نہ ہو گا۔ وہ در حقیقت ہمارے لیے مشعل راہ تھے اور ان کی ساری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ہم نے کافی عرصہ ان کی صحبت میں گزارا ہے اور اس سارے عرصے میں وہ ہمیں بہت کچھ سکھا گئے۔ ان کی ہر بات میں ہمارے لیے تربیت کا کوئی نہ کوئی رنگ ضرور ہوتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ہماری والدہ محترمہ ہم سے جب بھی کسی کے گھر مثلاً ماموں، خالہ وغیرہ کے ہاں جانے کا پوچھتیں تو ہمارا جواب یہی ہوتا کہ ہم نے گکھڑ جانا ہے۔ دراصل نانا جان ؒ کی محبتیں اور شفقتیں ہمہ وقت ہمارا احاطہ کیے رکھتی تھیں اور ہم بھی ہر وقت ان کے پاس جانے کو بے چین رہتے تھے ۔ نانا جان ؒ ہمیں جب بھی دعا دیتے، فرماتے تھے کہ اللہ پاک تمھیں عالمہ، فاضلہ، اور دین کی خادمہ بنائے۔ اس وقت ہم ابھی اسکول کی تعلیم حاصل کرتی تھیں اور ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہم مذہبی علوم کی تحصیل کریں گی، لیکن یہ ناناجان ؒ کے منہ سے نکلی ہوئی دعا تھی جو اللہ پاک نے پوری کرنی تھی اور وہ صرف چند سالوں بعد پوری بھی ہوئی۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان کی زندگی میں ہی پوری ہوئی۔ 

جب چھٹیاں ہوتیں تو ہم سب گھر والے ناناجان ؒ کے پاس حاضر خدمت ہوتے۔ ان کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ساری چھٹیاں میرے پاس ہی گزاریں اور ہم بھی ان کی خواہش کو پورا کرتے۔ خاصہ کے امتحان سے فراغت کے بعد ہم نانا جان ؒ کے پاس حاضر خدمت ہوئے۔ چھٹیوں کے اختتام پر جب والدہ محترمہ ناناجان ؒ سے واپسی کی اجازت لینے ان کے کمرے میں گئیں تو ناناجان ؒ والدہ محترمہ سے فرمانے لگے، ’’پُتر اینوں ایتھے میرے کول رہن دے۔‘‘ (اسے یہیں میرے پاس رہنے دو۔) نانا جان ؒ کے منہ سے الفاظ ادا ہوں اور ہماری والدہ محترمہ انکار کریں، یہ ناممکن تھا، چنانچہ میں اور میری چھوٹی بہن ناناجان ؒ کی خدمت میں مشغول ہو گئیں اور باقی گھر والے واپس گوجرانوالہ آگئے۔ 

ہم دونوں بہنوں کو نانا جان ؒ کے چھوٹے سے چھوٹے سے کام سے لے کر بڑے سے بڑا کام کر کے خوشی محسوس ہوتی تھی۔ اسے ہم اپنے لیے اعزاز سمجھتے تھے ۔ ان سالوں کو میں اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال تصور کرتی ہوں اور انہی سالوں میں، میں نے نانا جان کی بے شمار قیمتی دعائیں سمیٹی ہیں ۔ جب میں شروع شروع میں ان کے پاس رہنے لگی تو ایک دن مجھے فرمانے لگے ’’پُتر، تینوں چا بنانی آندی اے کہ نیءں؟‘‘ (بیٹا تمہیں چائے بنانی آتی ہے یا نہیں؟) میں نے کہا جی، بنانی آتی ہے۔ فرمایا، بنا کر لاؤ۔ شاید ان کا مقصد میرا امتحان لینا تھا کہ اسے کھانا پکانا آتا ہے یا نہیں۔ میں نے چائے بنائی اور ان کے پاس حاضر خدمت ہوئی۔ وہ مجھے فرمانے لگے کہ کپ میرے منہ کے ساتھ لگاؤ اور تھوڑی تھوڑی کر کے مجھے پلاؤ۔ میں نے اسی طرح پلائی جیسے حکم فرمایا تھا۔ جب چائے پی چکے تو فوراً میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور بوسہ دیا اور فرمانے لگے کہ بہت اچھی چائے بنائی ہے۔ وہ لمحہ میری زندگی کا یاد گار ترین لمحہ تھا۔ پھر یکے بعد دیگرے ایسے لمحات آتے رہے کیونکہ اس کے بعد نانا جانؒ میرے ہاتھ کی بنی ہوئی چائے پینا پسند فرماتے تھے۔ 

نانا جانؒ جب بھی گھر والوں سے مسور کی دال پکواتے تو ایک واقعہ ضرور سناتے تھے اور میں نے یہ واقعہ اسی دن سنا تھا جب نانا جان ؒ نے میرے ہاتھ کی بنی ہوئی دال کھائی تھی۔ ناناجان ؒ واقعہ بتاتے ہیں کہ جب میں اور صوفی ؒ (نانا جان ؒ کے چھوٹے بھائی) کلکتہ کا سفر کر رہے تھے تو کرایہ بھی تھوڑا تھا اور سفر بھی لمبا تھا۔ ابھی ہم آدھے راستے میں ہی تھے کہ کرایہ ختم ہو گیا۔ اب ہم پیدل سفر کرنے لگے۔ چلتے چلتے ہمیں جھونپڑیاں نما گھر نظر آئے جہاں زیادہ تر غیر مسلم آباد تھے۔ فرماتے ہیں کہ ہمیں بھوک بھی بہت ستا رہی تھی، چنانچہ ہم نے ایک گھر سے کھانے کے لیے کچھ مانگا تو ایک غیر مسلم عورت نے کاپی کا گتا پھاڑ کر اس میں تھوڑے سے چاول اور اوپر دال ڈال کر دی اور غصے سے ہماری طرف پھینکے۔ نانا جانؒ فرماتے ہیں کہ میں نے دوچار لقمے کھائے اور باقی کے چاول صوفیؒ کو دے دیے۔ 

ناناجان ؒ ہم سب بہنوں سے کتابیں سنتے تھے۔ جس کتاب کے سننے کو جی چاہتا، ہم وہ سنا دیتیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم کی کتاب ’’دنیا میرے آگے‘‘ بڑے شوق سے سنتے تھے۔ سب سے پہلے اندلس کا سفر سننے کی فرمایش کرتے اور طارق بن زیاد والا واقعہ بڑے ایمانی جذبے اور شوق سے سنتے تھے۔ جب ہم اشعار پر پہنچتی تو بڑے پُر جوش ہو کر یہ اشعار زبانی پڑھتے، اس حال میں کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے تھے۔ کتابیں سننے کا یہ عمل تقریباً چھے، سات گھنٹے تک مسلسل جاری رہتا۔ وفات سے آخری دو ماہ پہلے تک معمول اسی طرح تھا، کیونکہ میں خود سناتی تھی لیکن بعد میں اس میں کمی آتی گئی۔ کتاب سناتے سناتے گلا خشک ہو جاتا تو فرماتے، پانی پی آؤ اور باقی آ کر پور ا کرو۔ کتاب سننے کے لیے تو ہر وقت بے چین رہتے تھے۔ 

نانا جان ؒ کے پاس رہتے ہوئے جب کبھی مجھے بخار ہوتا تواپنی بیماری کو بھول کر میری فکر میں لگ جاتے۔ بار بار گھڑی کی طرف دیکھتے اور پوچھتے کہ ڈاکٹر صاحب آئے ہیں یا نہیں؟ ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب ناناجان ؒ کے معالج تھے اور روحانی بیٹے بھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو بہترین بدلہ عطا فرمائے اور دنیا وآخرت کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے، آمین۔ جس وقت ڈاکٹر صاحب تشریف لاتے تو فوراً کہتے کہ پہلے میری بچی کو چیک کریں۔ مجھے آواز دیتے اور اپنی موجودگی میں مجھے چیک کرواتے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً مجھے کھانے پینے کی ہدایت فرماتے۔ جب میں نانا جان ؒ کو چائے بسکٹ کھلاتی تو فرماتے، ایک چمچ میرے منہ میں ڈالتی جاؤ اور ایک اپنے منہ میں۔ میں اسی طرح کرتی اور مجھے کھاتے ہوئے دیکھ کر انہیں تسلی ہو جاتی۔

نانا جان ؒ مجھے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تمہاری شکل و صورت میری چھوٹی امی پر ہے۔ نانا جان ؒ کے والد محترم نے دو شادیاں کی تھیں اور نانا جان ؒ اپنی چھوٹی امی میں سے تھے۔ جب بھی خاندان والے اکٹھا ہوتے تو خاص طور پر مجھے سب کے سامنے بلاتے اور فرماتے کہ اس کی شکل میری امی ’’بخت آور‘‘ پر ہے۔ ہم اگر بختاور کہتیں تو فرماتے، بختاور نہیں بلکہ بخت آور ہے اور کافی عرصہ تک مجھے اپنی امی کے نا م سے بلاتے رہے۔ جب بھی عید کا تہوار یا شادی وغیرہ کی کوئی رسم ہوتی تو نانا جان ؒ فرماتے تھے کہ مجھے اپنے والدین بہت یاد آتے ہیں، خصوصاً اپنی چھوٹی امی اور پھر رونے لگ جاتے۔

نانا جان ؒ ہمارے مربی تھے۔ انھوں نے ہمیں گفتگو کے سلیقے سکھایا اور بتایا کہ بڑوں کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے اور چھوٹوں پر کس طرح شفقت کرنی ہے۔ نانا جان ؒ ہمیں بتاتے تھے کہ آپ کی والدہ بہت خاموش طبع ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ سب خوب بولا کرو ۔ ہمیں اپنے آنگن کی چڑیاں کہتے تھے اور فرماتے کہ یہ ہر وقت چہچہاتی ہوئی اچھی لگتی ہیں۔ والد محترم کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ والد محترم نانا جان ؒ سے اکثر ملنے جاتے رہتے تھے اور ان سے بہت سے مسائل دریافت کرتے تو نانا جان ؒ اچھے طریقے سے جواب دیتے اور والد محترم مطمئن ہوجاتے۔ 

ایک مرتبہ نانا جان کو کسی مدرسہ والوں نے اپنے پروگرام میں آنے کی دعوت دی ۔ نانا جان ؒ نے جانے کی ہامی بھر لی، لیکن جب پروگرام کا دن آیا تو فرمایا کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے، لہٰذا میں نہیں جاؤں گا، میری طرف سے معذرت کر دیں۔ پروگرام بھی کافی بڑا تھا اور انتظامات بھی کافی کیے گئے تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اشتہارات میں چھپ چکا تھا کہ اختتامی دعا حضرت صاحب فرمائیں گے، لہٰذا گھر والے بڑے پریشان ہوئے۔ ان کی پریشانی بھی بجا تھی۔ سب نانا جانؒ کو مناتے رہے، لیکن وہ نہ مانے۔ دفعتاً ہمارے والد محترم نانا جان ؒ کے پاس گکھڑ حاضر ہوئے اور فرمایا کہ وہ لوگ بہت اصرار کر رہے ہیں، لہٰذا آپ انہیں انکار نہ فرمائیں اور چلے جائیں، چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہی چلے جائیں، لیکن جائیں ضرور تاکہ وہ حضرات خوش ہو جائیں۔ والد محترم کے یہ الفاظ کہنے کی دیر تھی کہ نانا جان ؒ فرمانے لگے، ٹھیک ہے میں تیار ہوں۔ اس پر سب حیران اور خوش ہوئے اور والد محترم کو دعائیں دینے لگے ۔ 

نانا جان ؒ سبھی سے نظمیں بھی سنتے تھے اور ہر کوئی اپنی پسندیدہ نظم سناتا تھا۔ مجھ سے نانا جان ؒ اکثر دو نظمیں سنتے تھے۔ ایک ’’باطل سے کبھی حق نہ دبا ہے نہ دبے گا‘‘ اور دوسری : 

کس سے مانگیں کہاں جائیں کس سے کہیں

اور دنیا میں حاجت روا کون ہے 

آخری دنوں میں نانا جان ؒ مجھ سے یہ اشعار سنانے کی فرمایش باربار کرتے تھے :

مصائب سے الجھ کر مسکرانا میری فطرت ہے 

مجھے ناکامیوں پر اشک برسانا نہیں آتا

عمر بھر جس نے جلائے علم و حکمت کے چراغ 

آہ ! اب اس کی جدائی پر ہیں سینے داغ داغ 

اے خدا آسودہ جنت میں رہے وہ پاک روح 

جس نے سازِ زندگی میں سوز پیدا کر دیا 

نانا جان ؒ کو صوفیؒ صاحب سے بہت محبت تھی۔ نانا جان ؒ اور صوفی صاحب ؒ جن کو ہم چھوٹے نانا جان ؒ کہا کرتے تھے، ان دونوں کی جوڑی بہت مشہور تھی۔ ہمیشہ اکٹھے رہتے۔ جب چھوٹے نانا جان ؒ کی وفات ہوئی تو ہمارے نانا جان ؒ کی ہمت جواب دے گئی۔ ان کی وفات کے بعد اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’ہن ایہہ بابا نیءں اے‘‘۔ (اب یہ بابا نہیں ہے۔) فرماتے تھے کہ اب میں نے بھی جلدی صوفی ؒ کے پاس چلے جانا ہے۔ شاید اللہ تبارک و تعالیٰ کو بھی ان دونوں کا الگ رہنا پسند نہیں تھا اور جو جوڑی دنیا میں بظاہر ٹوٹ گئی تھی، آخرت میں اس کو دوبارہ جوڑنا تھا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ نانا جان ؒ تھوڑے عرصے کے بعد ہی اپنے چھوٹے بھائی سے جاملے۔ یقیناًدونوں پھر خوش ہوں گے کہ ہماری جوڑی پھر جڑ گئی ہے اور تمام آسمانی مخلوق بھی ان دونوں بھائیوں کے ملاپ پر خوشیاں منا رہی ہو گی لیکن زمینی مخلوق ان دونوں کے چلے جانے سے اداس اور شدید ترین غم زدہ ہے۔ جو ہستیاں ہمیں دعائیں دیتے نہ تھکتی تھیں، آج ہمیں اپنی دعاؤں سے محروم کر گئی ہیں۔ اگرچہ ہمیں دعائیں دینے والی اور ہستیاں ابھی زندہ ہیں، لیکن ان کی بات ہی اور تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان ہستیوں کاسایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم رکھے۔ آمین۔

بے شک ہمارے ناناجانؒ جیسے انسان صدیوں بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ناناجانؒ کے چلے جانے سے جو خلا ہماری زندگیوں میں آیا ہے، وہ مرتے دم تک پورا نہیں ہو گا۔ یہ غم ہمارے ساتھ ساتھ پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ غم ہے کیونکہ وہ ابھی اپنے روحانی باپ سے محروم ہو گئی ہے۔ وہ تو اپنا فرض ادا کر چکے، اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں تاکہ پوری دیانت داری سے ہم بھی یہ فرض ادا کر سکیں۔ اللہ پاک ان کے لگائے ہوئے چمن کی آبیاری کریں اور اس چمن سے نکلنے والے پھول اپنی خوشبو چار دانگ عالم میں بکھیرتے رہیں۔ اللہ پاک ہمیں اپنے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلائے اور جتنے بھی علماے کرام اللہ کے راستے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، انھیں اور بالخصوص ہمارے دونوں نانا جانؒ کو اللہ تبارک و تعالیٰ اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائیں ۔ آمین 

اُٹھتے جاتے ہیں تیری بزم سے ارباب نظر 

گھٹتے جاتے ہیں میرے دل کو بڑھانے والے 

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر