حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

امت مسلمہ کا ہمیشہ سے اس بات پر اتفاق رہا ہے کہ قرآن مجید کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم دینِ اسلام کا دوسرا بنیادی مأخذ ہے۔ اگرچہ قرآن مجید ایک جامع کتاب ہے، تاہم قرآن کی جامعیت کا مفہوم صرف یہ ہے کہ قرآن میں جہاں بعض مسائل و احکام پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، وہاں زندگی کے اکثر معاملات کے بارے میں بنیادی اصولوں کے بیان پر ہی اکتفا کیا گیا ہے اوریہ منصب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اللہ تعالیٰ نے تفویض کیا ہے کہ وہ ان اصولوں کی وضاحت اس ’’حکمت‘‘ کی روشنی میں فرمائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل کی ہے۔ حدیث و سنت دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم ’’لتبین للناس مانزل الیھم‘‘ ہی کا مظہر ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو قرآن مجید اپنی درست تعبیر و تشریح کے لیے واضح طور پر حدیث و سنت کا محتاج ہے۔حدیث و سنت کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر جمہور اہلِ علم کے نزدیک محدثانہ اصولوں کے مطابق جب کسی روایت کے بارے میں یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا قول و فعل ہے تو پھر حجت ہونے کے اعتبار سے قرآن ا ور حدیث میں کوئی بنیادی فرق نہیں رہتا۔ امتِ مسلمہ کی ذہنی تشکیل میں چونکہ یہی فکر ہمیشہ کار فرما رہی ہے، اس لیے مسلمانوں نے قرآن مجید کی صرف اسی تعبیر و تشریح کو قبول کیا ہے جو حدیث و سنت کی روشنی میں کی گئی ہو۔

خوارج اور بعد ازاں معتزلہ نے جب محض عقل کی بنیاد پر قرآن مجید کی من مانی تشریح کرنے کی کوشش کی اور اپنی عقلی موشگافیوں کی راہ میں حدیث و سنت کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص تکوینی نظام کے تحت محدثین عظام سے خدمتِ حدیث کا وہ کا م لیا جس کی کوئی دوسری مثال ہمیں پوری انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ جمہور اہلِ علم نے فتنہ اعتزال کا بھر پور علمی تعاقب کیا جس کے نتیجے میںیہ فتنہ موت کی وادی میں داخل ہو گیا اور پھر صدیوں تک ہمیں اس فتنے کا کو ئی نام و نشان نظر نہیں آتا، یہاں تک کہ چودھویں صدی ہجری میں اس فتنے نے ہندوستان کی سرزمین پر’’فتنہ انکارِ حدیث‘‘ کے نام سے نیا جنم لیا۔ مغربی فکر و فلسفہ سے ذہنی مرعوبیت کا شکار بعض اہلِ علم نے اس فتنے کی سرپرستی کی، جن میں سر سید احمد خان(م ۱۸۹۸ء) اور ان کے رفقاے کار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ بعد کے دور میں حدیث و سنت سے انحراف کی اس روش نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر لی اور پھربہت جلد اسلم جیراج پوری(م ۱۹۵۵ء) ، تمنا عمادی (م۱۹۷۲ء)، غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء) اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق(م۱۹۸۵ء) جیسے صاحبِ طرز ادیبوں کی سرپرستی میں اس تحریک نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی۔اللہ تعالیٰ نے ہندوستان کے اہلِ علم کو اس فتنے کی سرکوبی کی خصوصی توفیق ارزانی فرمائی اور ان کے قلم سے حدیث و سنت کی خدمت کا چشمہ فیض پھو ٹ نکلا ۔فتنہ انکارِ سنت کاایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے ردِ عمل میں حدیث و سنت کی حجیت اور تشریعی حیثیت پر وقیع اور ہمہ جہت لٹریچر تیار ہوا اور حدیث و سنت کے وہ محاسن امت پر نئے سرے سے منکشف ہوئے جن سے امت تقریباً غافل ہو چکی تھی ۔ برصغیر کے علما کی علمی تگ و تاز نے منکرینِ حدیث کے حقیقی عزائم کو طشت ازبام کر دیا ۔ 

برصغیر کے وہ اہلِ علم جنہوں نے منکرینِ حدیث کے دلائل کے تاروپودبکھیر کر رکھ دیے اور ان کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا، ان میں ایک بڑا نام ہمارے ممدوح شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر ؒ (۱۹۱۴ء-۲۰۰۹ء) کا بھی ہے۔ اگرچہ حضرت شیخ نے متنوع موضوعات پر ہزاروں صفحات سپرد قلم کیے ہیں اور درجنوں کتابیں یادگار چھوڑی ہیں ،تاہم فنِ حدیث پر ان کی رقم کردہ کتب کو اگرپیشِ نظر رکھا جائے تو شایدیہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ حدیث و سنت سے ان کی دلچسپی دیگر علوم و فنون کی نسبت زیادہ تھی۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ کی علمِ حدیث میں خصوصی دلچسپی اور رسوخ کی ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ آپ ؒ نے شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ جیسے ماہر فن استاد سے حدیث کی تعلیم حاصل کی اور دوسری طرف اپنی عمر عزیز کا بڑا حصہ( تقریباً چھیاسٹھ سال) حدیث کی تدریس میں صرف کیا۔فتنہ انکارِ سنت کا علمی تعاقب کرتے ہوئے حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کے قلم سے جو یادگار کتب منصہ شہود پر آئیں، ان میں ’’شوقِ حدیث‘‘، ’’ صرف ایک اسلام‘‘ اور ’’انکارِ حدیث کے نتائج‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ان قابلِ قدر تصانیف کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت شیخ ؒ نے منکرینِ حدیث کے تمام اعتراضات کا نہ صرف محکم دلائل کے ساتھ تجزیہ کیا ہے بلکہ منکرینِ حدیث کے حقیقی عزائم کو بھی بے نقاب کرکے رکھ دیا ہے۔ 

منکرینِ حدیث کی کتابوں پر نظر ڈالنے سے معلو م ہوتاہے کہ انھوں نے حدیث و سنّت پر دو طرح کے اعتراضات کیے ہیں۔پہلی قسم کے اعتراضات وہ ہیں جن میں حدیث کی حجیت،اس کی قانونی اور تشریعی حیثیت پر تنقید کی گئی ہے، نیز جمع و تدوینِ حدیث کی کوششوں پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری قسم کے اعتراضات کا تعلق حدیث کے متون کے ساتھ ہے، جس میں کتبِ احادیث سے مختلف روایات کے متون کو بطور مثال اس دعویٰ کے ساتھ پیش کیا گیا ہے کہ یہ روایات نہ صرف قرآن مجید سے متعارض ہیں بلکہ باہم متناقض ہونے کے ساتھ ساتھ عقلِ انسانی اور علمِ جدید سے بھی متصادم ہیں، لہٰذا احادیث کے بارے یہ دعویٰ کرنا کہ یہ مبنی بر وحی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں، درست نہیں ہے۔اس نو عیت کی مثالوں کا زیادہ تر انتخاب صحاح ستہ اور موطأ امام مالکؒ سے کیا گیا ہے، تاکہ قارئین کو یہ دھوکہ دیا جائے کہ جب مستند ترین کتبِ احادیث میں مرویات کا یہ حال ہے توحدیث کی دوسری کتابیں بھلا کیونکر قابلِ بھروسہ ہو سکتی ہیں ؟ ہمارے ممدوح کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے حدیث کے تشریعی مقام و مرتبہ اور جمع و تدوین پر اعتراضات کا تجزیہ اپنی کتاب ’’شوقِ حدیث‘‘ میں کیا ہے اور متونِ حدیث پر اعتراضات کا جائزہ ’’صرف ایک اسلام‘‘ میں لیا ہے ،جبکہ انکارِ سنت کی صورت میں مرتب ہونے والے لازمی نتائج کو اپنی تصنیف لطیف ’’انکارِ حدیث کے نتائج‘‘ میں اس اسلوب میں بیان کردیا ہے کہ کوئی بھی سلیم الفطرت انسان، جس کے کوئی مخفی عزائم نہ ہوں اس کتاب کے مطالعہ کے بعد حدیث و سنت کے انکار کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ 

منکرینِ حدیث میں سے جن لوگوں نے ’’متونِ حدیث ‘‘ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان میں حافظ محمد اسلم جیراج پوری اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق قابلِ ذکر ہیں۔اس نوعیت کی تنقیدات جیراج پوری صاحب کی کتاب ’’ہمارے دینی علوم‘‘ میں دیکھی جاسکتی ہیں جس کا ایک حصہ جناب غلام احمد پرویز نے اپنی کتاب ’’مقامِ حدیث‘‘ میں بھی شامل کیا ہے، جبکہ متونِ حدیث پر تنقیدات ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی ’’دواسلام‘‘ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔ 

مولانا سرفراز خان صفدر ؒ نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب ’’دو اسلام ‘‘کا تنقیدی جائزہ جس عالمانہ شان اور ادیبانہ اسلوب میں اپنی کتاب ’’صرف ایک اسلام ‘‘ میں لیا ہے، اس کا اعتراف خود برق صاحب نے بھی کیا ہے، چنانچہ موصو ف حضرت شیخ الحدیثؒ کے نام اپنے مکتوب میں رقم طراز ہیں :

’’دو اسلام کے جواب میں نصف درجن کے قریب کتابیں نکل چکی ہیں جن میں سے مجھے آپ کی کتاب ’’صرف ایک اسلام‘‘ بوجوہ پسند آئی۔ اول، اس لیے کہ اس میں گالیاں کم تھیں۔ دوم، انداز تحریر ادیبانہ تھا۔ سوم، اور میری اغلاط کی وضاحت عالمانہ تھی۔ میں طبع نو کے ’’ حرف ثانی ‘‘ میںآپ کا شکریہ خاص طور سے ادا کر رہا ہوں۔ طبع نو سے اغلاط نکال دی ہیں اور انداز بیان کو بہت نرم کردیا گیا ہے۔ مجھ سے جو غلطیاں ہوئیں، ان میں بدنیتی کو دخل نہیں تھا بلکہ ایک جگہ میں ایک دعا کو آیت سمجھ گیا اور ۱۰۔۱۲مقامات پر الفاظ حدیث کا ترجمہ نافہمی سے غلط کر دیا تھا۔‘‘ (صرف ایک اسلام ،ص:۶،۷) 

حضرت شیخ ؒ کی کتاب ’’صرف ایک اسلام‘‘ کی علمی قدر و قیمت کیا ہے، اس کا اندازہ تو محترم برق صاحب کے خط ہی سے ہو جا تاہے، اس لیے ہم اس کتاب پر برق صاحب کے الفاظ ہی کو بہترین تبصرہ سمجھتے ہوئے اپنے قارئین کی توجہ اس کتاب کی ایک ایسی خصوصیت کی طرف مبذول کروانا چاہیں گے جوخاص طور پر حدیث کے طلبہ کے خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اس کتاب میں مولانا صاحب ؒ نے برق صاحب کی درجنوں اغلاط کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ متون حدیث پر ان کے چھتیس (۳۶) اہم اعتراضات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ مولانا ؒ کی تنقیدی آرا کے مطالعہ سے ہمارے لیے ان اسباب اور وجوہات کا تعین کرنا ممکن ہو جاتا ہے جو متونِ حدیث کے فہم میں برق صاحب کے لیے رکاوٹ کا باعث بنے ہیں۔علمِ حدیث کے طالب علم کے لیے ان اسباب و وجوہات پر غور و فکر ضروری ہے، تا کہ وہ اس کج فہمی سے محفوظ رہ سکے جس کا شکار برق صاحب ہوئے ہیں ۔ ذیل کی سطور میں ہم مولاناؒ کی تنقیدی آرا کی روشنی میں علمِ حدیث کے طلبہ کے لیے مطالعہ حدیث کے چند اصولوں کا ذکر کرنا چاہیں گے، جن کی مختصر تفصیل حسبِ ذیل ہے۔ 

۱۔ روایات میں بہت سی باتیں مخاطَب کی ذہنی سطح کے مطابق تمثیل کے انداز میں بیان ہوئی ہیں مگر کم فہم لوگ اس کو لفظی طور پر لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اشکال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثلاً برق صاحب بخاری کی ایک روایت کا ترجمہ ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’:ابنِ عمر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ سورج نکلتے اور ڈھوبتے وقت نماز نہ پڑھا کرو، اس لیے کہ سورج بوقت طلوع شیطان کے دو سینگوں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔‘‘ پھر موصوف نے اس حدیث کو لفظی مفہوم میں سمجھتے ہوئے شدیدتنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حضرت شیخ ؒ نے پہلے تو برق صاحب کے اعتراضات کا تحقیقی اور الزامی جواب دیا ہے اورپھر فہمِ کلام کے ایک اہم اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے لکھا ہے:

’’عرف عام میں بھی کہاجا تا ہے کہ گرمی کے موسم میں سورج فلاں اور فلاں پہاڑیا فلاں اور فلاں درخت یا فلاں اور فلاں مکان کے درمیان سے طلوع کرتا ہے اور سردیوں میں فلاں اور فلا ں کے درمیان سے ۔اس سے کو ئی عقل مند یہ نہیں سمجھتا کہ سورج پہاڑوں اور درختوں،ٹیلوں اور مکانوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے اور نہ اس سے عوام’’ پھنسا ہوا ہوتا ہے‘‘ سمجھتے ہیں۔ اور بول چال اور گفتگو کا یہ طریقہ صحیح اور رائج سمجھا جاتا ہے اور کوئی منصف مزاج اس قسم کا کلام کرنے والوں کے مبلغ علم کا رونا نہیں روتا مگر برق صاحب ہیں کہ بلا دلیل ملا بیچارے کو کوستے ہیں۔‘‘ (صرف ایک اسلام، ص:۱۶۹)

گویااس روایت میں بات سمجھانے کے لیے تمثیلی اسلوب اختیار کیا گیا ہے ۔اب اگر کوئی شخص اس طرح کی روایات کو لفظی مفہوم میں ہی لے اور ’’عرفِ عام‘‘ کو نظر انداز کردے تو برق صاحب کی طرح اس کا غلط فہمیوں میں مبتلا ہو نا یقینی ہے۔ 

۲۔ متنِ حدیث کی تفہیم میں اس وقت بھی غلطی کا ارتکاب ہو سکتا ہے جب اسلوبِ بیان اور محاورے کو پوری طرح نہ سمجھا جائے۔ مثلاً برق صاحب نے بخاری کی اس روایت کو تاریخی طور پر غلط قرار دیا ہے جس میں معاہدہ صلح حدیبیہ کے بعض الفاظ لکھنے کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے۔ برق صاحب کہتے ہیں کہ قرآن اور تاریخ ہردو شاہد ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے، لہٰذا بخاری کی روایت غلط ہے۔ (دو اسلام، ص:۱۹۵) مولانا سرفراز خان ؒ نے قرآنی آیات اور دیگر دلائل سے برق صاحب کے اعتراض کا تجزیہ کرنے کے بعد ثابت کیا ہے کہ بعض الفاظ لکھنے کی جو نسبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے، یہ ’’اسناد مجازی ‘‘ ہے اور اس کی مثالیں نہ صرف قرآن میں موجود ہیں بلکہ دنیا کی ہر زبان میں اس کی مثالیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔ روز مرہ کی زبان ، عرف اور محاورے کی پہچان فہمِ کلام کے لیے کس قدر ضروری ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت شیخ ؒ لکھتے ہیں:

’’عرف عام میں بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں مسجد فلاں باد شاہ نے بنائی ہے اور فلاں قلعہ اور فلاں عمارت فلاں بادشاہ کی تعمیر کردہ ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جایا ہے کہ بادشاہ نے خود اینٹ اور پتھر سیمنٹ اور کیچڑ سر پر اٹھا کر اس کو تعمیر کیا ہے؟ سب لوگ بادنیٰ غور سمجھ جاتے ہیں کہ بادشاہ کے حکم سے کار یگروں اور مزدورں نے مسجد اور قلعہ وغیرہ تعمیر کیے ہیں۔ یا مثلاًکہاجاتا ہے کہ فلاں جرنیل نے فوج کو پسپاکر دیا ہے۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ یہ اسناد مجازی ہے۔ درحقیقت فوج کو شکست دینے والے اس کے سپاہی اور ماتحت فوجی ہوتے ہیں اور کوئی بھی ان مثالوں میں بادشاہ اور جرنیل وغیر ہ کی طرف اسناد کو غلط اور باطل نہیں قرار دیتا، لیکن برق صاحب کی منطق نرالی اور تحقیق ہی عجیب ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک قرآن وحدیث اور عرف عام کو ئی چیز قابل قبول نہیں۔ ہاں البتہ ان کے دماغ میں کوئی چیز آجائے تو وہ محکم اور اٹل ہوجاتی ہے، خواہ اس کے خلاف براہین اور دلائل کا ایک انبار بھی کیوں نہ موجود ہو۔‘‘ (صرف ایک اسلام ،ص:۶۸) 

۳۔ کسی موضوع کی ایک روایت کو لے کر رائے قائم کرنا بھی درست نہیں ہے، بلکہ اس موضوع کی مختلف روایات کا مجموعی مطالعہ کرنے کے بعدرائے قائم کی جائے تو امید ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں اور اشکالات پیدا ہی نہیں ہوں گے۔مثلاً برق صاحب نے وضو کے فضائل کی ان روایات پر تنقید کی ہے جن میں ذکر ہے کہ جب کو ئی انسان وضو کرتا ہے تو اس کے سب گناہ دھل جاتے ہیں۔موصوف کہتے ہیں کہ یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب سب گناہ وضوہی سے معاف ہوجاتے ہیں تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین مسلمانوں پر زنا ، سرقہ اور شراب نوشی وغیرہ کی حد کیوں جاری کرتے رہے؟ (دو اسلام، ص:۲۸۷، ۲۸۸) برق صاحب کی نافہمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اس موضوع کی دیگر روایات کو قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ اگر وہ اس موضوع کی دیگر روایات کابھی مطالعہ کرتے اور مجموعی تأثر کی بنیادپر نتائج اخذ کرتے تو اس کج فہمی کا شکار نہ ہوتے۔ مولانا صاحبؒ نے ڈاکٹر صاحب کے اعتراض کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے اسی اصول کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے :

’’برق صاحب اگر ذرا سی تکلیف گوارا فرماکرصحیح مسلم وغیرہ کی روایت کا یہ ٹکڑا بھی ملاحظہ فرما لیتے تو ان کو بلاضرورت حاشیہ آرائی کی ہر گز ضرورت نہ پڑتی اور بیک نگاہ حقیقت ان کے سامنے آجاتی : ’’کفارۃ لما قبلھا من الذنوب مالم یأت کبیرۃ‘‘ (مسلم۱/۱۲۱) کہ وضو وغیرہ سے ما قبل کی زندگی کے تمام گنا ہ معاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ کو ئی گناہِ کبیرہ سرزد نہ ہوا ہو۔‘‘ (صرف ایک اسلام، ص:۷۸)

۴۔ محدثین کا اصول یہ ہے کہ وہ حدیث کی صحت کا التزام کرنے کے بعد بسا اوقات ناسخ و منسوخ اور اسی نوع کی دیگر روایات کسی واضح تعین کے بغیر ذکر کر دیتے ہیں۔ ناسخ و منسوخ کی پہچان سے عاری سطح بین قاری ایسی روایات سے غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔مثلاً بخاری کی روایت ہے کہ زید بن خالدؒ نے حضرت عثمانؓ سے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص مجامعت کرے، لیکن انزال سے پہلے علیحدہ ہوجائے تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟فرمایا کہ شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرلے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایساہی سنا تھا۔ علیؓ ،زبیر،ؓ طلحہؓ اورابیؓ کی رائے بھی یہی ہے۔جبکہ موطأ اور مسلم کی روایات میں ہے کہ فقط دخول سے غسل لازم ہو جاتا ہے ۔برق صاحب نے ان متضاد روایات پر طنزیہ انداز میں شدید تنقید کی ہے۔ (ملاحظہ ہو ،دواسلام ،ص:۲۳۱) ظاہر ہے کہ برق صاحب کو جو اشکال ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ ناسخ و منسوخ روایات کی عدم پہچان ہے۔ مولانا صاحب ؒ نے اصولِ نسخ کی روشنی میں برق صاحب کے اعتراض کا جائزہ لے کر واضح کیا ہے کہ ابتداے اسلام میں بلا شک یہ حکم تھا کہ جماع میں انزال کے بغیر غسل واجب نہیں،لیکن بعد میں یہ حکم بالکل منسوخ ہوگیا تھااور جو صحابہ نسخ کے حکم سے واقف نہ تھے، وہ سابق حکم پر فتویٰ دیتے رہے، لیکن بالآخر تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہوگیا کہ مجامعت سے غسل لازم ہوجاتا ہے، چاہے انزال نہ بھی ہو۔ (ملاحظہ ہو :صرف ایک اسلام، ص: ۱۰۴۔ ۱۰۷)

برق صاحب کو یہی اشکال صحیح مسلم کی ان روایا ت میں بھی ہوا ہے جن میں سے ایک روایت میں تو آگ کی پکی ہوئی چیز کے کھانے سے نئے وضو کا حکم مروی ہے جبکہ دوسری روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس کے بر عکس ثابت ہے۔ (دواسلام ،ص:۲۴۳) مولانا نے برق صاحب کے اشکال کا جائزہ اصولِ نسخ کی روشنی میں لیا ہے اور بجا طور پرلکھا ہے :

’’برق صاحب کو اگر ناسخ اورمنسوخ کا علم نہیں تو یہ ان کی لاعلمی ہے۔ ان کو مناسب تھا کہ پہلے کسی محدث اور عالم دین سے دریافت کر لیتے، اور اگر دیدہ ودانستہ انہوں نے ناسخ اور منسوخ میں تعارض پیدا کر کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے تو یہ ان کی کھلی خیانت ہے۔ ممکن ہے کہ ا ن کے نزدیک یہ ہنر اور قابلیت تصور ہو تی ہو، ورنہ وہ باربار اس کا ارتکاب ہر گز نہ کرتے۔‘‘ (صرف ایک اسلام، ص:۱۰۹)

۵۔ جس طرح بعض آیات کا صحیح مفہوم اس وقت تک سمجھنا ممکن نہیں ہوتا جب تک ان آیات کے سببِ نزول اور پس منظر سے مکمل واقفیت نہ ہو، بالکل اسی طرح بسا اوقات روایت میں کسی ایسے حکم کا بیان ہوتا ہے جس کاکوئی خاص سبب اور حکمت ہوتی ہے۔ اگر اس سبب اور حکمت کی کھوج نہ لگائی جائے تو کئی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ مثلاً مسلم کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’مجھ سے مت لکھو اور جس نے قرآن کے سوا اور چیز لکھی ہو، وہ مٹا دے۔‘‘ برق صاحب نے اس روایت سے عجیب و غریب قسم کے نتائج اخذ کیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی آپ کے اقوال محر ف ہو چکے تھے، اس لیے آپ نے انھیں لکھنے کی ممانعت کردی۔ (ملاحظہ ہو، دواسلام، ص ۵۵) اب جو شخص بھی برق صاحب کی طرح اس حکم کے سبب اور علت کو نظر انداز کرے گا، اس کا پریشان ہونا یقینی ہے اور لا محالہ اس کے ذہن میں وہ تمام اشکالات پیدا ہوں گے جن کا شکار موصوف ہوئے ہیں۔ حضرت شیخ ؒ نے اس حکم کی علت اور اس روایت کا پسِ منظر بیان کرنے کے بعد اس روایت کا مفہوم بیان کیا ہے اور اپنی تنقید سے واضح کیا ہے کہ روایات کے پس منظر سے لا علمی اسی طرح کے خطرناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ ( ملاحظہ ہو:صرف ایک اسلام ،ص:۱۸۶۔۱۹۱) 

خلاصہ کلام یہ کہ فہمِ حدیث کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے پس منظر اور اسبا ب و وجوہات سے مکمل واقفیت بھی ضروری ہے ،ورنہ اسلام کے بہت سارے احکامات جن کا تعلق خاص حالات، مخصوص افراد ،ناسخ و منسوخ یا اصول تدریج کے ساتھ ہے، ان کی تفہیم میں غلطی کا امکان موجود ہے ۔

۶۔ عام بول چال کی زبان اور خالص علمی زبان میں جو فرق ہے، اہلِ علم اس سے اچھی طرح آگاہ ہیں ، اس لیے کسی بھی زبان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے زبان دانی کے بنیادی اصولوں سے واقفیت ضروری ہے ۔قرآن و حدیث اور عربی زبان کی دیگر بنیادی کتابوں سے اخذ و استفادہ کے لیے علمِ صرف و نحو میں مہارت بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتی ہے اور جو شخص بھی ان علوم میں کمال حاصل کیے بغیر عربی زبان میں مہارت کا دعویٰ کرے، اس کا یہ دعویٰ مشکوک ہے۔

برق صاحب کے بعض اعتراضات ایسے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو علمِ صرف کے بعض بنیادی قواعد تک کا بھی علم نہیں ہے اور موصوف چونکہ مختلف ابواب کی خاصیّات سے ناواقف ہیں، اس لیے عربی عبارات کا درست ترجمہ کرنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں۔ مثلاً برق صاحب بخاری میں درج ختنۂ ابراہیم والی روایت کے فہم میں ابواب کی خاصیات سے عدمِ واقفیت کی وجہ سے غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔موصوف کہتے ہیں کہ: 

’’ابو ہریرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کا ختنہ اسی (۸۰) برس کی عمر میں ہوا تھا۔راوی نے یہ نہ بتایا کہ پورے اسی سال تک اس مبارک کام میں کون سی رکاوٹ حائل رہی جو وفات سے عین پہلے دور ہو ئی اور آپ بآں ضعف و پیری حجام کے سامنے جا بیٹھے۔‘‘ (دو اسلام ،ص:۳۳۸) 

شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر ؒ برق صاحب کی عربی دانی کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’عربی کا ادنیٰ طالب علم بھی اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ ’’اختتن‘‘ باب افتعال سے فعل ماضی ہے جو لازمی اور متعدی دونوں طرح مستعمل ہے اور جس کے معنی خود اپنا ختنہ کرنے کے بھی ہیں، نہ کہ حجام کے سامنے جا بیٹھنے اور اس سے ختنہ کروانے کے، جیساکہ برق صاحب نے سمجھا ہے۔‘‘ (صرف ایک اسلام ،ص:۶۹۔۷۰) 

برق صاحب اپنی افتادِ طبع کے عین مطابق ایک دوسرے مقام پر حدیث سنت پر طعن و تشنیع کے تیروں کی بوچھاڑ کرتے ہو ئے رقم طراز ہیں: 

’’سوال یہ ہے کہ آیا وضو میں ہاتھ منہ اور پاؤں کو ایک مرتبہ دھونا چاہیے یا زیادہ۔ حدیث کا فیصلہ ملاحظہ ہو: 

۱۔ حضور ایک مرتبہ دھوتے تھے: عن ابن عباسؓ قال توضأ النبی صلی اللہ علیہ وسلم مرۃ مرۃ۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو میں اعضا کو ایک ایک مرتبہ دھوتے تھے۔

۲۔ دو دو مرتبہ دھوتے تھے: عن عبد اللہ بن زیدؓ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم توضأ مرتین مرتین۔عبداللہؓ بن زید کہتے ہیں کہ حضور وضومیں اعضا کو دو دو مرتبہ دھوتے تھے ۔

۳۔ تین تین مرتبہ دھوتے تھے: حضرت عثمانؓ بن عفان فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ اعضا کو دھوتے تھے۔‘‘  (دواسلام ،ص:۲۳۴۔۲۳۵) 

مولانا سرفراز صاحب ؒ عربی گریمر کی رو سے برق صاحب کی غلطی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’برق صاحب کو مناسب تھا کہ اس تحقیق انیق سے قبل عربی کے کسی مبتدی طالب علم سے یہ پوچھ لیتے کہ ’’توضأ‘‘ ماضی مطلق ہے یا ماضی استمراری؟ اگر وہ یہ بتلا دیتا کہ یہ ماضی استمراری کا صیغہ ہے تو اس کا معنی ’’دھوتے تھے‘‘ بجا تھا اور اگر وہ یہ بتاتا کہ ’’توضأ‘‘ باب تفعل کی ماضی مطلق ہے اور صرف ایک مرتبہ فعل کرنے سے ماضی مطلق کا مفہوم متحقق ہو جاتا ہے اور اس میں باربار کرنے کا مفہوم شامل نہیں ہے تو برق صاحب کو چاہیے کہ وہ ’’ توضأ ‘‘کا معنی یوں کرتے: آپ نے وضو کیا۔ (توضأ ) نہ کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تھے یا دھوتے تھے، کیونکہ اس سے باربار کرنے کامفہوم ادا ہوتا ہے جو ماضی استمراری کا مفاد ہے۔ مثلاً ’’أکل‘‘ ماضی مطلق ہے۔ اس کا معنی ہے اس نے کھایا۔ اس کا یہ معنی کرنا کہ کھایا کرتا تھا یا کھاتا تھا، باطل ہے کیونکہ یہ ’’کان یأکل‘‘ کا معنی ہے جو ماضی استمراری ہے۔‘‘ (ملاحظہ ہو:صرف ایک اسلام ،ص:۶۹۔۸۷) 

پھر حضرت شیخ الحدیث ؒ نے عملِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تفاوت کی جو خوبصورت توجیہ کی ہے، وہ بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت رسالت امت دیگر امور کی طرح وضوکرنے کا عملی سبق بھی مختلف اوقات میں دیا ہے۔ کسی موقع پر آپ نے صرف ایک ایک مرتبہ اعضا دھو کر وضو کا طریقہ بتلایا تا کہ اگر کہیں زیادہ پانی میسر نہ ہو سکے یا بیماری وغیرہ کسی اور شرعی عذر کی وجہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ اعضا کا دھونا مشکل ہو تو ایسی صورت میں ایک ہی مرتبہ اعضا دھونے سے وضومکمل ہو جائے گا اور یہ قدر وضومیں فرض ہے جو نفس جواز کا درجہ ہے۔ او رکسی موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودو مرتبہ وضو کر کے فرمایا کہ یہ نور علیٰ نور اور بین بین و متوسط درجہ ہے جس سے طہارت اور نظافت بخوبی حاصل ہو سکتی ہے۔ اور اکثر مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضوکر کے سب سے اعلیٰ اور اکمل طریقہ بتلا دیا تاکہ اس میں فرض سنت اور مستحب وغیرہ سبھی امور آجائیں اور یہ تکمیل اور محبوبیت کا انتہائی درجہ ہے۔ اس کے بعد مزید پانی استعمال کرنا اسراف اور تعدی میں شامل ہے جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی تصریح موجود ہے۔ اتنی سی بات تھی جو برق صاحب پر معما بن گئی اور الٹا حدیث پر اعتراض شروع کر دیا۔‘‘(صرف ایک اسلام ،ص:۸۸) 

مندرجہ بالا گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ عربی زبان کے بنیادی قواعد اور علمِ صرف و نحو سے مکمل واقفیت کے بغیر قرآن و حدیث کے فہم میں غلطی کا امکان بہر حا ل رہتا ہے، اس لیے علومِ اسلامیہ کے طالب علم کے لیے عربی زبان میں رسوخ ضروری ہے ورنہ اس کو بیسیوں مقامات پر اشکال پیش آسکتا ہے۔ 

۷۔ عربی زبان کے مختلف الفاظ کے معانی میں جو تنوع اور وسعت ہے، مترجم کے لیے ان کا جاننا ضروری ہے اور اس میں یہ صلاحیت بھی ہونی چاہیے کہ وہ ان میں سے سیاق و سباق کے اعتبار سے موزوں معنی کا انتخاب کر سکے۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ نے برق صاحب کی اس طرح کی غلطیوں پر بھی گرفت کی ہے۔ مثلاً بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ’’کنت بین یدی رسول اللہ ورجل فی قبلتہ فاذا سجد غمزنی قبضت رجلی فاذا قام بسطہا والبیوت لیس فیہا مصابیح‘‘۔ میں نماز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پاؤں ا ن کی طرف پھیلاکر لیٹ جاتی تھی۔ جب وہ سجدہ کرنے لگتے تومجھے آنکھ سے اشارہ کردیتے، چنانچہ میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب وہ اٹھتے تو پھر پھیلادیتی اور گھرمیں چراغ موجودنہیں تھا (یعنی بالکل اندھیراتھا)۔ برق صاحب اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’یہ اندھیرے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ ابرو کو دیکھ لینا حضرت عائشہ ہی کا کمال ہو سکتا ہے۔‘‘ (دو اسلام ص: ۲۴۷)

حضرت شیخ الحدیثؒ نے برق صاحب کی حدیث فہمی کی صلاحیت اور ان کے علمی قد کاٹھ کا جو بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں : 

’’حضرت عائشہؓ کا کمال تھا یا نہ تھا، یہ بات تو اپنی جگہ پر رہے گی مگر برق صاحب نے تو کمال کر ہی دکھایا ہے۔ہم مقدمہ میں عرض کر چکے کہ وہ تمام الفاظ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے عادی ہیں۔ جہاں ’’غمز‘‘ آنکھ سے اشارہ کرنے کے لیے آتا ہے، وہاں یہ بھی لکھا ہے: ’’واصل الغمز العصر غمز‘‘ کے اصلی معنی ہاتھ سے دبانے اور نچوڑنے کے ہیں۔ اور مجمع البحار ج ۳ ص:۳۸ میں ہے: ’’الغمز العصر والکبس بالید‘‘ اور منجد ص: ۵۸۸ میں لکھاہے: ’’غمزہ غمزا جسّہ وکبسہ بالید‘‘ یعنی غمز کے معنی ہاتھ سے کسی چیز کو ٹٹولنے اور دبانے کے آتے ہیں۔ اور صراح ص: ۲۲۶ میں لکھا ہے کہ’’ دست نہادن بر دنبہ و پہلوئے گوسپند تافربہی ولاغری معلوم شود۔‘‘ برق صاحب ہی فرمائیں کہ ہاتھ کے ساتھ ٹٹولنے اور دبانے سے باخبر اور بیدار ہونے کی خوبی اور کمال کیا صرف حضرت عائشہؓ کے ساتھ مخصوص ہے یا کسی اور میں بھی اس کا تحقق ہو سکتا ہے۔‘‘ (صرف ایک اسلام، ص: ۸۱ ) 

ایک دوسرے مقام پر برق صاحب نے ’’مباشرۃ فی الحیض‘‘ کی سرخی جما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی سے متعلق روایات کا خوب مذاق اڑایا ہے۔ (ملاحظہ ہو، دو اسلام، ص:۲۲۲) حالانکہ یہاں بھی موصوف کے فہمِ حدیث کا مشاہدہ کرنے کے بعد سلیم الفطرت انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے کہ وہ روایات جو بجا طور پر شواہدِ نبوت میں شمار کرنے کے قابل ہیں، ڈاکٹر صاحب ان پر تنقید کررہے ہیں اور پھر تنقید بھی ایسی جو سادہ ترین الفاظ میں سراسر جہالت پر مبنی ہے۔ حضرت شیخ ؒ نے لغت کی معروف کتب کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ مباشرت کا معنی مجامعت بھی ہے، تاہم ان روایات میں مباشرت سے مراد مرد و زن کے جسم کا باہم چھو جانا ہے اور روزے اور حیض کی حالت میں بھی اس طرح کی مباشرت جائز ہے ،اور برق صاحب کی کج فہمی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے مباشرت کو مجامعت کے معنی میں لیا ہے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو،صرف ایک اسلام، ص: ۱۷۷۔۱۸۱) 

حضرت شیخ ؒ کی تنقید کا حاصل یہ ہے کہ مندرجہ بالا دونوں مقامات پر برق صاحب کی نا فہمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ عربی زبان کے الفاظ میں معانی کی جو وسعت اور تنوع ہے، اس کا درست ادراک نہیں کر سکے اور دوسری طرف وہ سیاق و سباق کے اعتبار سے موزوں معنی کا انتخاب کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں ،حالانکہ کسی بھی کلام کے درست فہم کے لیے اور خاص طور پر کسی اجنبی زبان کے مترجم کے لیے اس صلاحیت کا ہونا از حد ضروری ہے ۔ 

مولانا سرفراز خان صفدر ؒ نے ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب ’’دو اسلام ‘‘ کا جو تنقیدی جائزہ لیا ہے، اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ موصوف کے اعتراضات بد نیتی پر مبنی نہیں ہیں، تب بھی ان تمام اشکالات کا سبب جہالت ہے اور برق صاحب کی کج فہمی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موصوف نہ صرف مطالعہ حدیث کے بنیادی اصولوں سے نابلد ہیں بلکہ و ہ زبان دانی کے لیے عرفِ عام ، محاوراتِ عرب ،صرف و نحوکی اہمیت سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ 

منکرین حدیث نے حدیث وسنت کے جس پہلو پر سب سے زیادہ تنقید کی ہے، وہ حدیث کی جمع و تدوین اور تشریعی مقام و مرتبہ ہے۔ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر ؒ نے اپنی کتاب ’’شوق حدیث ‘‘میں منکرین حدیث کے اس نوعیت کے تمام اعتراضات کا تنقید ی جائزہ لیا ہے۔حجیت حدیث کے موضوع پر بر صغیر کے اہل علم نے بلا مبالغہ سینکڑوں کتب تصنیف کی ہیں، ان میں زیر نظر کتاب دو حوالوں سے منفرد مقام کی حامل ہے۔ ایک تو اس وجہ سے کہ یہ ان اولین کتابوں میں سے ہے جو فتنہ انکارحدیث کے رد میں لکھی گئیں۔ حضرت شیخ ؒ نے اس کتاب کی تصنیف کا آغاز ۱۹۵۰ ء میں فرمایا تاہم دیگر تصنیفی مصروفیات کی وجہ سے اس کی تکمیل ۱۹۷۰ء میں ہوئی۔اس کتاب کی ایک دوسری خصوصیت جو اسے دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہے،یہ ہے کہ اس کتاب میں منکرین حدیث کے تقریباً تمام اہم اعتراضات کا محققانہ تجزیہ کیا گیا ہے اور تمام متعلقہ موضوعات پر مستند حوالہ جات کی صورت میں اس قدر مواد جمع کردیا گیا ہے کہ تنہا اس کتاب کا مطالعہ قاری کو کئی کتابوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ مصنف نے بجا طور پر کتاب کے پیش لفظ میں لکھا ہے:

’’یہ بات تو ناممکن ہے کہ یہ دعویٰ کیا جاسکے کہ یہ کتاب اس موضوع پر حرف آخر ہے کیونکہ انسان کے کا م اور خصوصاً اس حقیر پر تقصیرکے کام کے متعلق ایسا خیال کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا اور نہ درست ہو سکتا ہے، مگر بفضلہ تعالیٰ بلا خو ف لومۃ لائم یہ کہنا بجا ہو گا کہ اتنی مختصر کتاب میں ایسے ایک جا اور با حوالہ معلومات قارئین کرام کو کہیں میسر نہیں ہو سکیں گی۔‘‘ ( شوقِ حدیث ،ص: ۱۰)

منکرین حدیث کا طریقہ واردات یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ اور قرنِ اول کے مسلمانوں کو حدیث و سنت سے کوئی خاص مناسبت نہ تھی، یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓاور اکابرین امت نے حدیث و سنت کی حفاظت کا کوئی اہتمام نہیں کیا اور اکابرینِ امت کی نظر میں حدیث وسنت محض زبانی یاداشتوں کا ایک ریکارڈ ہے جس کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے۔ غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ منکرین حدیث کا فکری سرچشمہ مستشرقین کی کتابیں ہیں۔ منکرینِ حدیث کے اکثر اعتراضات مستشرق گولڈ زیہر کی کتاب "Muslim Studies"اور جوزف شاخت کی کتاب "The origins of Muhammadan Jurisprudence" سے مأخوذ ہیں۔ مولانا صفدرؒ کی محولہ بالا کتا ب اگرچہ منکرینِ حدیث کے نقطہ نظر کا جواب ہے، تاہم اس میں فنِ حدیث پر مستشرقین کے اعتراضات کا جواب بھی آگیا ہے۔ 

فاضل مصنف نے ’’شوق حدیث ‘‘کے پہلے باب میں حدیث کی حجیت پردلائل دیے ہیں، جبکہ اگلے آٹھ ابواب میں حفظِ حدیث کی ان کوششوں کا تفضیلی ذکر کیا ہے جس کا اہتمام نہ صرف صحابہ کرامؓ نے کیا بلکہ بعد کے دور میں محدثین نے بھی حفظ حدیث کواپنی زندگیوں کے سب سے پسندیدہ مشغلے کے طور پراپنائے رکھا ۔ اس موضوع پر جس قدر مواد مکمل حوالہ جات کے ساتھ اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے،اس کی کوئی دوسری مثال اردو ادب میں کم از کم راقم الحروف کی نظر سے نہیں گزری۔ (تفصیل کے لیے ملا حظہ ہو: ۱۱۔۶۵) مولانا صاحبؒ نے کتاب کے باب نمبر۱۰ تا ۱۲ میں طلب حدیث کے لیے محدثین کے محیر العقول اسفار کا ذکر کیا ہے ۔نیز تفصیلی دلائل سے واضح کیا ہے کہ محدثین صرف ان حدیثوں کی روایات پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ وہ ان پر پوری طرح عمل پیرابھی تھے۔ (ملا حظہ ہو:ص:۴۷-۱۰۹)

کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کی نظر میں قرنِ اول میں بجا طور حفظِ حدیث ہی حدیث وسنت کی حفاظت کا سب سے محفوظ طریقہ تھا ،اور یہ طریقہ عربوں کی اس فطرت کے عین مطابق تھا جس کے لیے قدرت نے صدیوں تک اس قوم کو تیار کیا تھا ۔تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرنِ اول میں حدیث وسنت کو تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا گیا ۔ مصنف علیہ الرحمہ نے کتاب کے باب نمبر ۱۳ میں کتابتِ حدیث کے تفصیلی دلائل فراہم کیے ہیں (ملا حظہ ہو،ص: ۱۱۱-۱۳۳) اور پھر چودھویں باب میں ان پینسٹھ علوم میں سے بعض کا تعارف کروایا ہے جو محدثین نے سند اور متن کی حفاظت کے لیے ایجاد کیے ہیں۔ (ملا حظہ ہو، ص:۱۳۳-۱۴۳ )

کتاب کے پہلے چودہ ابواب میں اگرچہ منکرین حدیث کے تمام بنیاد ی اعتراضات کا جواب موجود ہے، تاہم مصنف نے کتاب کے پندرہویں باب میں منکرین حدیث کے سولہ اعتراضات ذکر کیے ہیں اور پھر پوری جامعیت کے ساتھ ان اعتراضات کا جائزہ لیا ہے۔ ہماری نظر میں کتاب کا آخری باب خاص طور پر قابلِ مطالعہ ہے۔ (ملاحظہ ہو، ص: ۱۴۵-۱۸۴) 

مولانا صفدر ؒ نے اپنی گرانقدر تصانیف ’’صرف ایک اسلام‘ اور’’ شوقِ حدیث ‘‘ میں جہاں منکرینِ حدیث کے گمراہ کن نظریات کا جائزہ لے کر نئی نسل کو فکری ارتداد سے بچانے کی سعی مشکور فرمائی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ ؒ سے ایک بڑی اہم خدمت یہ لی ہے کہ آپ نے اپنی تصنیف لطیف’’ انکارِ حدیث کے نتائج‘‘ میں انکارِ سنت کی تحریک کے تمام سرکردہ حضرات، جن میں عبداللہ چکڑالوی، حافظ اسلم جیراج پوری، نیاز فتح پوری، ڈاکٹر احمد دین، ڈاکٹر غلام جیلانی برق، علامہ عنایت اللہ مشرقی اور غلام احمد پرویز شامل ہیں، کے افکارکو اس اسلوب میں اربابِ دانش کی عدالت میں پیش کیا ہے جن سے کسی بھی سلیم الفطرت انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ ان نظریات کو قبول کرنے کا صاف مطلب اسلام سے دست برداری ہے۔

الحاصل حضرت شیخ الحدیث ؒ نے حدیث و سنت کے دفاع میں اپنی مایہ ناز تصانیف میں جس عرق ریزی اور محنتِ شاقہ کے بعد اپنے نتائج فکر امت کے سامنے رکھے ہیں، اس پر امت ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے نتائجِ فکر علم و حکمت کے ایسے انمول موتی اورجواہرات پارے ہیں جن سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہوتی رہیں گی۔

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

Flag Counter