حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف

مولانا محمد یوسف

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ پر منعم حقیقی کایہ خصوصی فضل وانعام تھاکہ ان کو اپنے وقت کی بلند پایہ اور گرانمایہ علمی شخصیتوں کے خرمن علم سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی۔ آپ کو جن اصحاب فضل وکمال کے دامن فضل سے وابستگی اور سر چشمہ علم وفن سے کسب فیض اور اکتساب علم کا شرف حاصل ہوا، ا ن میں سے اکثر اس زمانہ کے عبقری اور علم وفن کی آبرو تھے۔ چونکہ صاحب سوانح کی سوانح حیات اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک ان نفوس قدسیہ کا تذکرہ نہ ہو جن کے فیوض تعلیم وتربیت نے صاحب سوانح کی صلاحیتوں کو جلا بخشی، اس لیے ہم ذیل کی سطور میں آپ کے اساتذہ گرامی کااجمالاً ذکر کر رہے ہیں۔ 

شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ 

حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ ۱۹؍شوال المکرم ۱۲۹۶ھ کو موضع الہداد پور قصبہ ٹانڈہ ضلع فیض آباد میں حضرت مولانا سید حبیب اللہ صاحب (خلیفہ خاص حضرت مولانا فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ ) کے ہاں پیدا ہوئے ۔ آپ حسینی سید ہیں۔ آپ نے ابتدائی تعلیم مڈل تک اپنے والد گرامی کے پاس ہی حاصل کی ۔قرآن کریم اور ابتدائی فارسی کی تعلیم اپنے والدین سے حاصل کی۔ مالٹا کی اسارت میں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی ۔جب آپ تیرہ برس کی عمر کو پہنچے تو ۱۳۰۹ھ میں دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور درس نظامی کی مکمل تعلیم اپنے بڑے بھائی مولانا صدیق احمد صاحب اور شفیق استاذ حضرت مولانا محمود حسن صاحب ؒ کی زیر نگرانی دارالعلوم دیو بند میں ہی حاصل کی ۔باوجود اس کے کہ حضرت شیخ الہند ؒ دورۂ حدیث کی بڑی کتابیں پڑھاتے تھے، لیکن آپ کو ہونہار پا کر ابتدائی کتابیں بھی خود پڑھائیں۔ آپ نے سترہ فنون پر مشتمل درس نظامی کی ۶۷ کتابیں ساڑھے چھ سال میں مکمل فرمائیں۔ ۱۳۱۴ھ میں دارالعلوم دیوبند سے سند فراغت حاصل کی جبکہ ابھی چند خارج از درس کتب، طب، ادب، ہیئت میں باقی رہ گئیں تھیں کہ آپ کے والد محترم نے مدینہ منورہ کی طرف عزم ہجرت کیا تو آپ بھی مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگئے اور باقی کتابیں مدینہ منورہ کے معمر اور مشہور ادیب حضرت مولانا شیخ آفندی عبدالجلیل برادہ سے پڑھیں۔ جس وقت آپ کے استاذ مکرم حضرت شیخ الہند ؒ آپ کو مدینہ منورہ رخصت کررہے تھے تو یہ نصیحت فرمائی کہ پڑھانا ہرگز نہ چھوڑنا، چاہے ایک دو ہی طالب علم ہوں۔ حضرت زندگی بھر اس نصیحت پر عمل پیرا رہے۔ ۱۳۱۶ سے ۱۳۳۱ھ تک جب آپ کا زیادہ وقت مدینہ طیبہ میں بسر ہو ا تھا، اس دوران آپ کی زبان فیض ترجمان سے قال اللہ و قال الرسول کا دل نشیں نغمہ مسلسل گونجتارہا۔ ۱۹۲۷ سے ۱۹۵۷ء تک دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث و صدرالمدرسین کے منصب جلیل پر فائز رہے ۔اس کے علاوہ امروہہ، کلکتہ میں مولانا ابوالکلام آزاد کے مدرسہ عالیہ اور سلہٹ کے جامعہ اسلامیہ میں بھی علم و عرفان کے موتی بکھیرتے رہے۔ 

سلوک و تصوف میں بھی آپ شیخ کامل تھے ۔۱۳۱۶ھ میں آپ آستانہ عالیہ رشیدیہ میں قطب الارشاد مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ سے بیعت ہوئے ۔مکہ مکرمہ میں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر ؒ کی بابرکت مجالس میں بھی روحانی تربیت حاصل کرتے رہے۔ حضرت گنگوہی ؒ نے آپ کو خلافت کی خلعت سے نوازا اور اپنے دست مبارک سے دستار خلافت آپ کے سر پر باندھی۔ حضرت مولانا احمد علی ؒ لاہوری آپ ؒ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ ’’حضرت مدنی ؒ اس زمانہ میں اولیاء اللہ کے امام ہیں‘‘۔

آپ ؒ تدریسی،روحانی، ملی اور سیاسی خدمات کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپؒ کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں: (۱) نقش حیات، دو جلدیں (۲) مکتوبات شیخ الاسلام ؒ ، چار جلدیں (۳) الشہاب الثاقب (۴) تعلیمی ہند (۵) اسیر مالٹا (۶) متحدہ قومیت اور اسلام (۷) ایمان وعمل (۸) مودودی دستور و عقائد کی حقیقت (۹) سلاسل طیبہ (۱۰) کشف حقیقت (۱۱) خطبات صدارت۔ 

اگر یہ کہاجائے کہ حضرت مولانا انورشاہ صاحب ؒ کے بعد دارالعلوم دیوبند کی علمی و عملی فضاحضرت مدنی ؒ کے ہی دم قدم سے قائم رہی تو مبالغہ نہ ہو گا۔ آپ ؒ نے جس ہمت و استقلال، ایثار و قربانی اور جرأت و شجاعت سے دین اور ملک و ملت کی خدمت کی،حضرت شیخ الہند ؒ کے بعد اس کی نظیر آخری دور میں نظر نہیں آتی۔ آپ ؒ نے زندگی بھر تعلیم و تدریس، تصنیف و تالیف، وعظ و تبلیغ او ر جہاد فی سبیل اللہ کا مبارک سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں تک کہ آپ ؒ نے ۲۸محرم الحرام ۱۳۷۷ھ بمطابق ۲۵؍اگست ۱۹۵۷ء کو آخری سبق بخاری شریف جلد اول پڑھایا اور ۱۳جمادیٰ الاولیٰ ۱۳۷۷ھ بمطابق ۵دسمبر ۱۹۵۷ء کو علم و عمل، زہدو تقویٰ اور رشدو ہدایت کا یہ آفتاب عالم تاب غروب ہوگیا۔ 

حضرت مدنی، حضرت شیخ الحدیث کے ممتاز اساتذہ میں سے تھے۔ جب آپ اپنے برادر عزیز شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ کے ہمراہ ۱۹۴۰ء میں دارلعلوم دیوبند تشریف لے گئے، اس وقت شیخ العرب والعجم مرکز علم دارلعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث وصدرالمدرسین کے منصب پر فائز تھے۔ اس منصب عظیم پر متمکن ہونے سے قبل آپ مدینۃالرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اور مشرقی پاکستان میں علم وفن کی تمام دینی کتب پڑھا چکے تھے ۔ حضرت شیخ الحدیثؒ نے ۱۳۶۰ھ اور ۱۳۶۱ھ کا اکثر حصہ آپ کی زیر نگرانی دارلعلوم کی روح پر ور فضامیں گزارا اور حضرت مدنی سے بخاری شریف اور ترمذی شریف جلد اول پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔حضرت مدنی ؒ صبح کے وقت دو گھنٹے ترمذی شریف (اول) اور ایک گھنٹہ بخاری شریف (اول) پڑھاتے اور رات کے وقت بخاری شریف جلد ثانی پڑھاتے تھے۔ 

دوران سبق شرکا کو کیسا عجیب روحانی ماحول نصیب ہوتا تھا، اس کی ایک جھلک آپ کے ہو نہار شاگرد حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی تحریر میں ملاحظہ فرمائیں : ’’دوران سبق شرکا کو ایسا عجیب روحانی ماحول نصیب ہوتا تھا کہ ہر شریک درس کی یہ دلی خواہش ہوتی تھی کہ کاش یہ مجلس دراز سے دراز ہوتی جائے ہم کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے ہمارے قلوب زنجیروں کے ساتھ عالم بالا میں جکڑ ے ہوئے ہیں‘‘۔ دوران سبق حضرت مدنی کا طلبہ کے ساتھ رویہ کیسا ہو تا تھا، اس کی ایک جھلک بھی حضرت صوفی صاحب ؒ کے الفاظ میں ملا حظہ ہو: ’’جو طلبا شریک درس ہوتے ،اپنے سوالات اور شکوک وشبہات لکھ کر حضرت مدنیؒ کی خدمت میں بھیجتے ،آپ ؒ ایک ایک پرچی پڑھ کر انتہائی تحمل ،بردباری اور مشفقانہ انداز میں جواب مرحمت فرماتے کسی کے سوال سے تو کیا بلکہ کسی معترض کی تلخ کلامی یا غلط تحریر پڑھ کر کبھی ناراض نہ ہوتے تھے‘‘۔

حضرت شیخ، حضرت مدنی ؒ کے ذوق تدریس کایہ واقعہ اکثر طلبا کے سامنے بیان فرماتے تھے: 

’’ہمارے استا ذ محترم مولانا سید حسین احمد مدنی انگریز کے دور میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے، چنانچہ ایک مرتبہ دوران اسارت مرادآباد جیل میں حضرت قاری محمد طیب مہتمم دارلعلوم دیوبند ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔حضرت قاری صاحب کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت مدنی جیل میں قیدیوں کو تعلیم الاسلام پڑھا رہے ہیں۔ حضرت قاری صاحب نے دل لگی اور ازراہ مزاح کہا، حضرت آپ نے تو خوب ترقی کی ہے کہ بخاری شریف پڑھاتے پڑھاتے تعلیم الاسلام پڑھانی شروع کر دی ہے۔ حضرت مدنیؒ نے جواب دیا، بھائی ! کام جوپڑھانا ہوا، دار العلوم دیوبند میں بخاری وترمذی پڑھنے والے تھے، ان کو بخاری وترمذی پڑھاتا تھا اور یہاں مرادآباد جیل میں تعلیم الاسلام پڑھنے والے ہیں، چنانچہ ان کو تعلیم الاسلام پڑھاتا ہوں۔‘‘

اگر کسی طالب علم کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صاحب صفدر مدظلہ کی کلاس میں اونگھ یا نیند آجاتی تو آپ حضرت مدنی ؒ کے ان الفاظ کے ساتھ طالب علم کو بیدار کرتے: ’’ہمارے استاد محترم حضرت مدنی ؒ فرمایا کرتے تھے، نیند کی دو قسمیں ہیں۔ ایک نیند اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے اور ایک نیند شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اگر دوران جنگ مسلمان مجاہد کو نیند آجائے تو یہ نیند اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت اور مجاہد کے لیے سکون و آرام کا قدرتی ذریعہ ہوتی ہے، لیکن اگر دوران سبق طالب علم کو نیند آ جائے تو یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے جس کا مقصد طالب علم کو غفلت میں ڈالنا ہوتا ہے۔‘‘

حضرت مدنی ؒ نے حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی صاحب ؒ کی علمی لیاقت پر اعتماد فرماتے ہو ئے دارلعلوم دیو بند کی سند کے علاوہ اپنی طرف سے اپنے دونوں مایہ ناز تلامذہ کو خصوصی سند بھی عطا فرمائی۔ 

حضرت مولانامحمدابراہیم بلیاویؒ ؒ 

حضرت بلیاویؒ ۱۳۰۴ھ میں مشرقی یوپی کے شہر بلیا کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ ؒ نے فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم جونپور میں مشہور طبیب مولانا حکیم جمیل الدین نگینوی ؒ سے حاصل کی اور معقولات کی کتابیں مولانافاروق احمد چڑیاکوٹی اور مولاناہدایت اللہ خان (تلمیذ حضرت گنگوہیؒ ) سے پڑھیں۔ دینیات کی تعلیم کے لیے مولانا عبدالغفار کے سامنے زانوے تلمذ کیا۔ ۱۳۲۵ھ میں دارالعلوم دیوبند میں داخل ہو ئے اور ہدایہ اور جلالین اور مختلف کتب پڑھتے رہے۔ پھر حضرت بلیاوی ؒ کی حیات مبارکہ میں وہ دن بھی آیا جب ۱۳۲۷ھ میں آپ نے دارالعلوم دیوبندسے سند فراغت حاصل کی۔ دینی علوم و فنون کی تحصیل کے بعد آپ زندگی بھر درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ رہے۔ آپ کے درس و تدریس کی مدت ۱۳۲۷ھ سے۱۳۸۷ھ تک ساٹھ سال بنتی ہے۔ آپ نے مختلف مقامات مدرسہ عالیہ (فتح پور ) عمری ضلع مراد آباد، مدرسہ دارالعلوم (اعظم گڑھ)، مدرسہ امدادیہ (بہار)، جامعہ اسلامیہ (ڈابھیل )، کوہاٹ ہزاری ضلع چاٹگام میں طلبہ علوم اسلامیہ کے قلوب کو زندگی بھر دینی علوم سے منور کرتے رہے۔ بالآخر آپ اپنی مادر علمی دارالعلوم دیو بند میں تشریف لے آئے ۔ ۱۳۷۷ھ میں حضرت مولاناسیدحسین احمد مدنی ؒ کے بعد آپ دارالعلوم کی سندصدارت پر فائز ہوئے اور تادم واپسی اس پر متمکن رہے۔آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے جو برصغیر کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ملکوں میں اپنے استاذگرامی کے دینی علوم و معارف پھیلارہے ہیں۔

حضرت بلیاویؒ نے شیخ الہند ؒ مولانامحمود حسن ؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی تھی۔ آپ حضرت شیخ الہند ؒ کے تلمیذ خاص بھی تھے ۔آپ کے اوصاف و کمالات کے متعلق محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ فرماتے ہیں: 

’’حضرت مولانا بلیاوی ؒ دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز محقق عالم اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ کے مخصوص تلامذ ہ میں سے تھے۔ درسیات کی مشکل ترین کتابوں کے اعلیٰ ترین مدرس اور استاذ تھے۔ اپنی حیات طیبہ کا بہت حصہ علوم نقلیہ و عقلیہ کی تدریس و تعلیم میں ہی صرف کیا اور پورے ساٹھ برس تک تدریس علومِ دینیہ کی خدمت انجام دی۔ ذکاوت ،قوت حافظہ اور حسن تعبیر میں خصوصاً معقول و منقول کی مشکلات کے حل کرنے میں یکتاے روز گار تھے اور ہند و پاک کے تقریباًتمام علما کے بلاواسطہ یا با لواسطہ استاذ تھے اور اپنے علمی کمالات اور جامعیت کے اعتبار سے قدماے سلف کی یادگار تھے‘‘۔

مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ؒ حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی ؒ صاحب کے ممتاز اساتذہ میں ہیں۔ دونوں بھائیوں نے دارالعلوم دیوبند میں حضرت بلیاویؒ سے مسلم شریف (مکمل) پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔حضرت شیخ الحدیثؒ دوران تدریس اپنے اسباق میں اکثر ان کا ذکر خیر کیا کرتے تھے۔ (حضرت بلیاوی ؒ کے علاوہ حضرات شیخین نے صحاح ستہ میں شامل مشہور کتاب ’’نسائی شریف‘‘ حضرت مولانا عبدالحق نافع گلؒ سے پڑھنے کی سعادت حاصل کی جب کہ ابن ماجہ تین ممتاز اصحاب علم حضرت مولانا مفتی ریاض الدینؒ ، حضرت مولانا عبدالشکور فرنگی محلیؒ اور مولانا ابوالوفاء شاہجہانپوریؒ سے پڑھی۔ اسی طرح علامہ ظہور احمد دیوبندیؒ سے موطا امام محمد اور مولانا قاری اعزاز احمدؒ (ابن مولانا اعزاز علیؒ ) سے فن تجوید میں ’الفوائدالمکیۃ‘ پڑھنے کی سعادت حاصل کی۔)

حضرت بلیاویؒ کی ساری عمر درس و تدریس اور تبلیغ و اصلاح میں گزری ۔ آخری عمر میں جامع تر مذی پر حاشیہ لکھ رہے تھے جس کے پورے ہونے کی نوبت نہ آسکی اور صحت خراب ہوتی چلی گئی۔ آخر کا ر ۲۴ رمضان ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۷ دسمبر ۱۹۶۷ء بروز چہار شنبہ عالم آخرت کو تشریف لے گئے۔ قبرستان قاسمی دیوبند میں محو آرام ہیں۔ حق تعالیٰ درجات عالیہ نصیب فرمائے۔

شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی امروہی ؒ 

آپ کا آبائی وطن مراد آباد کے مضافات میں مشہور قصبہ امروہہ ہے ۔ آپ یکم محرم الحرام ۱۳۰۱ھ بمطابق ۱۸۸۲ء بروز جمعۃالمبارک صبح صادق کے قریب ہندوستان کے مشہور شہر بدایوں میں پیدا ہوئے جہاں آپ کے والد ماجد بسلسلہ ملازمت رہایش پذیر تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے والد محترم بدایوں سے شاہ جہاں پور آگئے جہاں آپ نے میاں جی قطب الدینؒ سے بیس پارے ناظرہ قرآن حکیم پڑھا۔ بعد میں حضرت قاری شرف الدین ؒ سے قرآن پاک حفظ کیا۔آپ نے اردو اور فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی، پھر مولانا مقصود علی خان ؒ سے بعض کتب فارسیہ اور میزان الصرف سے شرح جامی تک کتابیں پڑھیں ۔پھر شاہجہانپور کے مدرسہ عین العلم میں داخل ہوکر مولانا شبیر احمد مرادآبادی، مولانا عبدالحق کابلی اور مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا کفایت اللہ دہلویؒ کے مشورہ سے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے۔ ہدایہ اولین و میر قطبی اور دیگر کتب پڑھ کر دوسرے سال اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کے لیے میرٹھ تشریف لے گئے۔مولانا عاشق الٰہی میرٹھی کے اصرار پر میرٹھ ہی میں چار سال تعلیم حاصل کرتے رہے۔اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے اور ہدایہ اخیرین ،بیضاوی ،بخاری ،مسلم ،ابوداؤد ،ترمذی وغیرہ کتابیں حضرت شیخ الہندؒ کے پاس پڑھیں۔ فنون کی بعض کتابیں مولانارسول خان ہزاروی ؒ سے جبکہ ادب کی کتابیں حضرت مولاناسید معزالدین ؒ سے پڑھیں۔ فتویٰ نویسی کا فن حضرت مولاناعزیزالرحمن عثمانی ؒ سے سیکھا۔

۱۳۲۰ھ میں دارالعلوم دیو بند سے سند فراغت حاصل کی۔ فراغت تعلیم کے آپ کم وبیش ۵۴ سال مسند تدریس پر متمکن رہے۔ آپ مدرسہ نعمانیہ بھاگل پور میں سات سال ،مدرسہ افضل المدارس شاہجہان پور میں تین سال تدریس کرتے رہے۔ ۱۳۳۰ھ پچیس روپے مشاہرہ پر دارالعلوم دیوبند میں مدرس مقررہوئے۔ درمیان میں ایک سال کے لئے حیدر آباد گئے، پھر دارالعلوم ہی میں تشریف آوری ہوئی اور ۱۳۷۴ھ تک دارالعلوم ہی میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔آپ کے روحانی تزکیہ و تربیت کے لیے حضرت مولانارشید احمدگنگوہی ؒ کے دست مبارک پر بیعت کی اور اجازت و خلافت حضرت مدنی ؒ کی طرف عطا ہوئی۔ ہزاروں تشنگان علم نے آپ سے اپنی پیاس بجھائی۔ آپ کے مشہورتلامذہ میں حضرت مولانا مفتی شفیعؒ ، مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ ، مولاناقاری محمد طیب قاسمیؒ ، مولانا محمد منظور نعمانی، مولاناسعید احمد اکبر آبادیؒ ، شیخ الحدیث مولاناسرفراز خان صفدر اور حضرت مولاناصوفی عبدالحمید سواتیؒ شامل ہیں۔ تدریسی خدمات کے علاوہ آپ نے کئی درسی کتابوں کے حواشی تحریر فرمائے جن میں حاشیہ نورالایضاح (فارسی ) حاشیہ کنز الدقائق، حاشیہ مفیدالطالبین ،حاشیہ دیوان متنبی، حاشیہ دیوان حماسہ اور حاشیہ تلخیص المفتاح شامل ہیں۔

شیخ الادب ؒ ممتاز مدرس عالم دین، علوم و فنون میں یکتاے روزگار اور باخدا شخصیت تھے۔ آپ بے شمار خداداد امتیازی صفات کے ساتھ تشنگان علم و عرفان میں زندگی بھر وراثت نبوی تقسیم فرماتے رہے ۔حضرات شیخین کی یہ خوش نصیبی تھی کہ دونوں قابل فخر بھائیوں کو شیخ الادب کے علم و عرفاں سے خوشہ چینی کی سعادت نصیب ہوئی۔ حضرات شیخین نے آپ ؒ سے ابوداؤد شریف مکمل،ترمذی شریف جلد ثانی اور شمائل ترمذی پڑھنے کی سعادت حاصل کی، جب کہ حضرت مدنی کی گرفتاری کے بعد بخاری شریف اور ترمذی شریف کا بقیہ حصہ بھی حضرت شیخ الادب ؒ سے پڑھا۔ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ اپنے عظیم استاذ کی نمایاں صفات کے بارے میں فرماتے ہیں: 

’’آپ کی یہ ایک نمایاں خوبی تھی کہ ہمیشہ سلام میں پہل کرتے تھے اور سلام کرنے میں کسی دوسرے کو پہل نہیں کرنے دیتے تھے ۔آپ کی یہ صفت بھی نمایاں تھی کہ نہ تو آپ پان کھاتے تھے اور نہ کبھی کھِل کھِلا کے ہنستے تھے۔ وقت کے سخت پابند تھے۔ جونہی ان کے پیریڈ کی گھنٹی بجتی ،کھٹ سے کلاس میں داخل ہوجاتے۔ ادھر جب وقت ختم ہونے کی گھنٹی سنتے،جو لفظ منہ میں ہوتا اسے بھی چھوڑ کر جماعت سے باہر چلے جاتے۔ وقت کی قدر وقیمت سے آپ بخوبی آشنا تھے ۔وقت کی اہمیت کے متعلق آپ کا یہ فرمان بامقصد زندگی گزارنے والوں کے لیے باعث تقلید ہے: ’’ جو زمانہ گزر چکا، وہ ختم ہو چکا، اس کو یاد کرنا عبث ہے اور آئندہ زمانہ کی طرف امید کرنابس امید ہی ہے۔ تمھارے اختیار میں تو وہی تھوڑا وقت ہے جو اس وقت تم پر گزر رہا ہے۔‘‘

امام المفسرین حضرت مولاناحسین علی ؒ واں بھچرانویؒ 

حضرت مولاناحسین علی بن محمدبن عبداللہ ۱۲۸۳ھ میں واں بھچراں ضلع میانوالی کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم واں بھچراں کے قریب ایک موضع ’’شادیا‘‘ میں حاصل کی۔ ابتدائی صرف ونحو اور فارسی نظم کی کتابیں اپنے والد حافظ میاں محمد ؒ سے پڑھیں۔ اس کے بعد موضع ’’سیلو ہال‘‘ میں دیگر کتب پڑھیں اور فنون کی تمام اونچی کتابیں مولانااحمد حسن کانپوری ؒ سے پڑھیں۔ ۱۳۵۲ھ میں حضرت مولانارشید احمد گنگوہی ؒ کی خدمت میں گنگوہ حاضر ہوکر حدیث پڑھی اور سند حاصل کی۔ ۱۳۵۳ھ میں عارف ربانی حضرت مولانامظہر نانوتوی ؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر تفسیر پڑھی۔ ۱۳۵۴ھ میں کانپور میں مولانااحمد حسن صاحب ؒ سے منطق ،فلسفہ وغیرہ فنون کی تکمیل کی۔

مولاناحسین علی صاحب ؒ کو اللہ تعالیٰ نے بڑا وسیع علم عطا فرمایا تھا۔ خصوصاً تفسیر اورعلم حدیث و فقہ ۔علم کلام اورتصوف و سلوک میں بڑی وسیع دستگاہ رکھتے تھے اور بڑی ٹھوس علمیت اور استعداد کے مالک تھے۔ علم اسماء الرجال میں آپ کی نظر بڑی وسیع تھی۔ مختلف احادیث کی تطبیق میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ قرآن کریم کے ترجمہ اور مطالب بیان کرنے میں اور مضامین کے استحضار اور آیات اور سورتوں کا ربط بیان کرنے میں تو اپنی نظیر آپ تھے ۔آپ کاعلاقہ ناخواندگی اور اسلامی تعلیمات سے عدم واقفیت کے سبب شرک و بدعت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ آپ نے اس بدعت زدہ ماحول میں برس ہابرس کی محنت شاقہ سے توحید کی شمع روشن کی۔ آپ کی توحید باری تعالیٰ بیان کرتے ہوئے ایک بڑی علمی اور مؤثر بات یہ ارشاد فرمایاکرتے تھے: ’’توحیداپنے بیان کے لیے کسی تمہید کی محتاج نہیں‘‘۔ طلبہ دور دور سے استفادہ کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ خود کھیتی باڑی کرتے تھے اور طلبہ کے جملہ اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ آپ تقریباًساٹھ برس مسند تدریس پررونق افروز رہے اور شمع ہدایت کو فروزاں کیے رکھا۔ آپ روحانی تربیت کے لیے حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی ؒ سے سلسلہ نقشبندیہ میں بیعت ہوئے ۔ان کی وفات کے بعد خواجہ سراج الدین ؒ کی طرف رجوع کیا اور ان سے ہی خلافت حاصل کی۔ وقت کے یہ عظیم مصلح، مایہ ناز مفسر اور ممتاز محدث رجب ۱۳۶۳ھ میں اپنے رب رحیم اور مولائے رؤف سے جا ملے۔ 

حضرت شیخ الحدیث شریعت و طریقت دونوں کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے۔آپ نے اپنی ذات سے کبھی بھی ان کو جدا نہیں ہونے دیا ۔آپ اپنی علمی مجالس میں اپنے اکابر زاداللہ فیوضہم کے متعلق اکثر فرمایاکرتے تھے کہ ’’ہمارے اکابر رحمہم اللہ میں سے ہر ایک کسی نہ کسی روحانی سلسلہ سے ضرور وابستہ تھے ‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں وہ ایک طرف علوم شرعیہ میں یکتاے روزگار تھے، وہاں راہ سلوک و تصوّف میں مینارہ نور بھی تھے۔ چنانچہ حضرت شیخ الحدیث نے سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت مولاناحسین علی ؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ آپ کے شیخؒ نے آپ کی علمی وروحانی ترقی کو دیکھتے ہوئے آپ کو خلافت کی خلعت فاخرہ سے نوازا۔ آپ زندگی بھر اپنے شیخ ؒ کے روحانی فیض کو تقسیم کرتے رہے اور شرک وبدعت اور رسوم و رواج کے اندھیروں میں حق و صداقت کی شمع جلاتے رہے۔ حضرت مولانا حسین علی صاحب ؒ آپ کے روحانی ومربی ہونے کے ساتھ ساتھ تفسیر قرآن حکیم میں آپ کے استاد بھی تھے ۔آپ نے قرآن حکیم کے علوم و معارف اسی رجل مومن سے حاصل کیے۔ آپ قرآن حکیم کی تفسیر پڑھاتے ہوئے جابجااپنے شیخ ؒ کے تفسیری نکات پیش فرماتے، خاص طور پر ’’ربط ‘ ‘کے حوالے سے اپنے شیخ کی تصنیف ’’بلغۃالحیران فی ربط آیات الفرقان‘‘ کا حوالہ ان الفاظ سے دیاکرتے تھے: ’’ہمارے حضرت مرحوم حضرت مولاناحسین علی صاحب ؒ اس کاربط یوں بیان فرماتے تھے۔‘‘ حضرت فرماتے ہیں کہ میں جب بیعت کے لیے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت حضرت نے اپنے دست مبارک سے ’’تحفہ ابراہیمیہ‘‘ کا ایک نسخہ مجھے عطافرمایااور ساتھ ہی فرمایا کہ اس کامطالعہ کرو اور اگر کوئی بات پوچھنی ہے تو پوچھ لو۔ چنانچہ میں نے ڈیڑھ گھنٹے میں اس کا مطالعہ کیااور بعض مقامات سے کچھ باتیں حضرت سے دریافت کیں، آپ نے ان کا جواب عنایت فرمایا۔ حضرت مولانا حسین علی صاحب ؒ نے ’’تحفہ ابراہیمیہ‘‘ میں سلوک و تصوف اور حقائق و معارف کے اکثر مسائل نہایت ہی اختصار سے بیان کیے ہیں اور ان مسائل کو اس رسالہ میں درج کیاہے جن پر باطنی تربیت کا مدار ہے ۔ 

بطل حریت حضرت مولاناغلام غوث ہزاروی ؒ 

حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی جون ۱۸۹۶ھ کو مو ضع بفہ ضلع مانسہرہ حضر ت مولانا گل احمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر کے ماحول ہی میں مکمل کی۔ ۱۹۱۰ھ میں مڈل کا امتحان پاس کیا اور ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ دینی تعلیم کے حصول کے لیے آپ نے پہلے مظاہر علوم سہارنپورمیں داخلہ لیا، اس کے بعد صوبہ سرحد کے مشہور عالم مولانا رسول خان صاحب کی زیر نگرانی ۱۹۱۵ء میں مرکز حق دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔ ان دنوں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث تھے۔ ۱۳۳۷ھ مطابق ۱۹۱۹ء میں حضرت کشمیری ؒ ، حضرت مولانا غلام رسول، ؒ علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اور حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوی سے دورہ حدیث پڑھ کر سند حاصل کی۔ حضرت مولانا محمد اسحاق کا نپوری امتحان میں اول اور آپ دوم آئے۔ حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ جیسے عظیم اصحاب فضل وکمال آپ کے ہم سبق تھے۔ فراغت کے بعد حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی (مہتمم دارالعلوم دیوبند) کے ارشاد پر معین مدرس دارالعلوم میں تدریس کی، پھر جمعیۃ علمائے ہند کی تنظم کے لیے مولانا یوسف جونپوری ؒ کے ہمراہ پورے ہندوستان کا دورہ کیا اورحیدرآباد دکن کی ایک ہندو ریاست میں دوسال تک بطورمبلغ اسلام تبلیغی خدمات انجام دیں۔ آپ نے ۱۹۳۱ء میں ہزارہ میں سیاسی کام کا آغازکیا اور انگریز کے خلاف نبردآزما ہوئے اور اس کے نتیجہ میں ۱۹۳۲ء کا پورا سال ایبٹ آباد اور بنوں کی جیلوں میں گزارا۔ جیل سے رہائی کے بعد ۱۹۳۳ء میں انگریز کے خود کاشتہ پودے مرزائیت سے نبردآزما رہے۔ ۱۹۳۴ء میں مجلس احرار اسلام سے وابستہ ہوگے اور مرزائیت کے خلاف تحریک میں زبر دست حصہ لیا۔ پھر ۱۹۴۲ء میں انگریز بھرتی کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک میں شریک ہو کر پورا سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں نمایا ں کردار ادا کیا۔ ۱۹۵۶ء میں جمعیت علماے اسلام کے ناظم اعلیٰ مقرر ہوئے ۔ ۱۹۵۸ء میں ایوب خان کے مارشل لا اور ۱۹۶۲ء میں عائلی قوانین کی غیر شرعی دفعات کے خلاف ڈٹ گئے۔ ۱۹۷۱ء کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۱ء میں عرب ممالک کا دورہ کیا اور ۱۹۷۲ء میں سرکاری حج وفد کے رکن کی حیثیت سے حج وزیارت کی سعادت حاصل کی۔

بہرحال اس پیکر جرات وعزیمت نے ساری زندگی دینی خدمت کرتے ہوئے بار ہا قیدوبند، مقدمات، فاقہ کشی اور تکالیف کی صعوبتوں کو برداشت کیا۔ آپ نے زندگی کی جدو جہدکے تقریباً پچاس سال گزارے۔ آخری ایام میں گوشہ نشینی اختیار کر لی اور ۴؍ فروری ۱۹۸۱ء کی درمیانی رات ۲۸ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ کو بفہ میں عارضہ دل میں مبتلاہو کر شب کو ساڑھے چار بجے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ زندگی کے آخری لمحات میں ’رب یسر ولاتعسر‘ کے الفاظ باربار دہراتے رہے۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ آہستہ آواز سے پڑھتے ہوئے جھٹکے سے اپنا منہ قبلہ کی طرف کرتے ہوئے محمد رسول اللہ ذرابلند آواز سے پڑھا اور اسی لمحے آپ کی روح مبارک جسم سے جدا ہوگی ۔ 

حضرت مولاناغلام غوث ہزاروی ؒ حضرات شیخین کے ابتدائی اساتذہ میں سے ہیں۔ دونوں بھائیوں نے درس نظامی کی کتب کی ابتدا حضرت ہزاروی ؒ سے ہی کی۔ ۱۹۲۰ء میں حضرات شیخین کی والدہ محترمہ کے بعد آپ کے پھوپھی زادبھائی سید فتح علی شاہ صاحب ؒ آپ کو اور آپ کے برادر عزیز کو پڑھانے کے لیے اپنے ساتھ اپنے گاؤں ’’لمیّ‘‘ لے آئے۔ شاہ صاحب ؒ فرماتے تھے کہ میرے ماموں محترم نور احمد خان مرحوم ؒ مجھے فرمایاکرتے تھے کہ میرے ان دونوں بیٹوں کودینی تعلیم پڑھائیں اوریہ بات تاکید اًفرماتے تھے کہ ا ن دونوں بچوں کو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورفقہ اسلامی کی تعلیم سے ضرور آراستہ کریں۔ شاہ صاحب چونکہ خودباضابطہ مکمل عالم دین نہ تھے، اس لیے انہوں نے دونوں بھائیوں کو تحصیل علم کے لیے ملک پور (مانسہرہ ) کے ایک دینی مدرسہ میں داخل کروا دیا جس کے مہتمم نگران حضرت مولاناغلام غوث ہزاروی ؒ تھے۔ حضرات شیخین نے ملک پور اور بفہ (مانسہرہ )میں آپ کے زیر سایہ درس نظامی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ حضرت شیخ الحدیث نے علم نحو کی ابتدائی کتاب نحومیر اور مسائل دینیہ پرمشتمل مختصر ابتدائی کتاب تعلیم الاسلام حضرت ہزاروی سے ہی پڑھی۔

آپ اپنے استاد محترم کی جرات وشجاعت، حق گوئی وبے باکی اور تواضع وانکساری سے بے حد متاثر تھے۔ اکثر ان کی جرات اور حق گوئی وبے باکی کے واقعات طلبہ کو سناتے تاکہ ان کے اذہان وقلوب میں عظیم شخصیات کی صفات نقش ہوں اور وہ ان کے روشن کردار کو اپنے لیے قابل تقلید سمجھیں۔ حضرت ہزاروی ؒ اپنے دونوں قابل فخر تلامذہ پر بہت شقفت فرمایا کرتے تھے۔ آپ اکثر مدرسہ نصرۃ العلوم تشریف لاتے اور ادارہ کی تعلیمی وتدریسی اصلاحی ترقی کو دیکھ کر انتہا ئی خوشی کا اظہار فرماتے۔ حضرت ہزارویؒ نے مدرسہ نصرۃ العلوم کے قیام کا ابتدائی زمانہ دیکھا تھا۔ جہاں آج کل مدرسہ کی عظیم عمارت ہے، وہاں اس دور میں ایک بڑا تالاب ہوتا تھا۔ ابتدا میں اس تالاب کے کنارے مٹی وغیرہ ڈال کر مدرسہ کی بنیاد رکھی گئی۔ مسجد اور مدرسہ کے کمرے کچے ہوتے تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مرکز حق کو تعلیمی عروج عطا فرمایا تو مسجد اور مدرسہ کی عمارت پختہ تعمیر کی گئی۔ حضرت ہزاروی ؒ نے جب اس ترقی کو دیکھا اور مسجد اور مدرسہ میں وسعت دیکھی اور تعلیمی سرگرمیاں ملاحظہ کیں تو ایک موقع پر اپنی تقریر میں خوشی کا اظہار کرتے فرمایا: ’’ مولوی کوتو بس پاؤں رکھنے کی جگہ چاہیے، آگے سب کچھ بن جاتا ہے۔ ‘‘ 

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ 

آپ ۱۳۱۴ھ بمطابق۱۸۹۷ء میں قصبہ دیو بند ضلع سہارنپور میں جید عالم دین صاحب نسبت بزرگ مولانامحمد یٰسین دیوبندی ؒ کے گھر میں پید اہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں حافظ محمد عظیم صاحب ؒ کے پاس دارالعلوم دیوبند میں قرآن کریم کی تعلیم شروع کی۔فارسی کی تمام مروجہ کتب اپنے والد محترم سے دارالعلوم میں پڑھیں۔حساب و فنون کی تعلیم اپنے چچا مولانا منظوراحمد سے حاصل کی۔سولہ سال کی عمر میں دارالعلوم کے درجہ عربی میں داخل ہوئے اور ۱۳۳۵ھ میں فارغ التحصیل ہوئے۔پھر دارالعلوم میں بحیثیت استاد ہر علم و فن کی جماعتوں کو پڑھایا۔ دارالعلوم میں تدریس کا یہ سلسلہ ۱۳۶۲ھ تک جاری رہا۔ ۱۳۴۹ھ میں دارالافتا کا کام بھی مستقل طور پر آپ کے سپرد کردیاگیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ صدر فقہی کے عظیم منصب کا حق پوری طرح ادا کرتے رہے اور قیام پاکستان تک اس عظیم منصب فائز رہے۔ 

حضرت مفتی اعظم ؒ نے سلوک و تصوف میں بھی بلند مقام پایا تھا۔ ابتدا میں آپ شیخ الہند حضرت مولانامحمود حسن دیوبندی ؒ سے ۱۹۲۰ء میں بیعت ہوئے۔ پھر ان کی وفات کے بعد ۱۳۴۶ھ میں حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ سے بیعت ہوئے جنھوں نے آپ کی علمی اور روحانی صلاحیتوں کو دیکھ کر ۱۳۴۹ھ میں آپ کو اپناخلیفہ اور مجاز بیعت قرار دیا۔ ایک مرتبہ حضرت حکیم الامت اشرف علی تھانویؒ نے آپ کے متعلق فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ مفتی محمد شفیع کی عمر دراز کرے۔ مجھے ان سے دو خوشیاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے ذریعہ علم حاصل ہوتارہتاہے اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرے بعد بھی کام کرنے والے موجود ہیں۔‘‘ حضرت مولاناقاری محمد طیب قاسمی ؒ آپ کی جامع صفات کو مختصراً کیاخوب بیان فرمایا ہے کہ ’’حضرت مفتی اعظمؒ ،ہمارے شیخ حضرت حکیم الامت کے علمی اور روحانی ترجمان اور صحیح جانشین تھے۔ ہمارے قدیم اسلاف کی یاد گار تھے ،فقہ و تفسیر میں امامت کا مرتبہ حاصل تھا، ایک مایہ ناز مصنف،ادیب اور شاعر تھے، ایک شیخ کامل اور عارف کامل تھے۔ الغرض آپ کی شخصیت ایک جامع شخصیت تھی اور اکابرین امت کو آپ کی ذات پر مکمل اعتماد تھا۔ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری، ؒ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولاناصغر حسین دیوبندی ؒ جیسے مشاہیر بھی آپ سے رائے لیتے تھے اور آپ کو وقت کا محقق،مفسر،مدبر اور فقیہ تسلیم کرتے تھے۔ درس و تدریس اور تبلیغ و اصلاح کے ساتھ تصنیف و تالیف بھی آپ کا محبوب مشغلہ رہا اور آپ کے قلم فیض رقم سے تین سو سے زائد تألیفات منصہ شہود پر آئیں۔‘‘

حضرت مفتی اعظم ؒ ساری زندگی خدمت اسلام اور خدمت مسلمین میں مصروف رہے اور آخر دم تک درس و تدریس ،فقہ و افتا اور تبلیغ و ارشاد میں مصروف رہے۔ آپ ۹ اور ۱۰ شوال المکرم کی درمیانی شب ۱۳۹۶ھ بمطابق ۱۹۷۶ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایک لاکھ سے زائدمسلمانوں نے آپ کے جنازہ میں شرکت کی اور حضرت ڈاکٹر عبدالحی عارفی ؒ نے نمازہ جنازہ پڑھائی۔ آپ کی وفات پرآپ ؒ کے متعلق محدث عصر حضرت مولانامحمد یوسف بنوری ؒ نے فرمایاکہ ’’ آپ سے دارالعلوم دیوبند کی پوری تاریخ وابستہ تھی اور ہمارے اسلاف کی آپ آخری یادگار تھے۔‘‘ (۱) 

مفتی اعظم مولانامحمد شفیع ؒ کا شمار ایسے علماے حق میں ہوتاہے جنھوں نے پوری زندگی علوم دینیہ کی خدمت اور امت مسلمہ کی اصلاح کے لیے صرف فرمائی۔ آپ نہ صرف مفسر عہد،مدبر عصر،عالم باعمل،فاضل اجل،فقیہ دوراں اور محقق اعظم تھے، بلکہ سلوک و تصوف کے بے مثل امام اور شیخ کامل تھے۔جب ۱۹۴۰ء میں حضرت شیخ الحدیث اپنے برادر عزیز حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ کے ہمراہ دارالعلوم دیو بند پہنچے تو حضرت مفتی صاحب ؒ دارالعلوم میں ہی معین المدرس کی حیثیت سے مسند تدریس پر رونق افروز تھے۔چنانچہ دونوں بھائیوں نے حدیث کی کتاب طحاوی شریف حضرت مفتی صاحب ؒ سے سبقاً سبقاً پڑھی۔ قیام پاکستان کے بعد جب حضرت مفتی صاحب ؒ ہجرت فرماکر پاکستان تشریف لے آئے تو حضرت شیخ ؒ اپنے استاذ محترم سے برابر رابطہ میں رہے۔ اپنی علمی،تصنیفی وتدریسی سرگرمیوں کے متعلق حضرت مفتی صاحبؒ سے مشورہ کرتے رہتے، بلکہ حضرت نے اپنی کتاب ’’تنقید متین بر تفسیر نعیم الدین‘‘ حضرت مفتی صاحب ؒ کے حکم پر ہی تألیف فرمائی اور اس کتاب میں مولانا احمد رضا خان بریلوی اور مفتی نعیم الدین مرادی آبادی کے ترجمہ و تفسیر کا علمی اور تحقیقی جائزہ لے کر اس میں موجود اغلاط کو قرآن کریم اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا۔ حضرت مفتی صاحبؒ بھی آپ کی مساعی جمیلہ اور خاص طور پر آپ کی تصنیفات کی بے حد تحسین فرماتے تھے۔جب حضرت شیخ نے اپنی تصنیف ’’مقام ابی حنیفہ ‘‘ حضرت مفتی صاحب ؒ کی خدمت میں بھیجی تو حضرت ؒ بے حد مسرور ہوئے اور جوابی مکتوب میں تحریر فرمایا :

’’میں نے اس کتاب کو مختلف مقامات سے خود بھی پڑھا۔ بار بار دل سے دعانکلتی ہے۔ بحمداللہ میری آرزو پوری ہوگئی۔ بلامبالغہ عرض ہے کہ میں خود لکھتاتو ایسی جامع کتاب نہ لکھ سکتا۔ اس موضوع پر یہ کتاب بالکل کافی شافی ہے۔‘‘

حضرت مفتی صاحبؒ اس موضوع پر خود ایک کتاب تحریر کرناچاہتے تھے لیکن آپ کے قابل فخر شاگرد نے آپؒ کی اس خواہش کو پورا کر دیا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان کیسا مثالی رشتہ اورتعلق تھا کہ حضرت مفتی صاحب ؒ نے اپنی شہرہ آفاق تفسیر معارف القرآن میں بھی قارئین کو اپنے لائق شاگرد کی تحریرات سے استفادہ کی تلقین کی ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر۱۳۵،۱۲۹ کی تفسیر میں طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر حضرت شیخ کی کتاب ’’عمدۃ الاثاث‘‘ کاحوالہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’حال میں مولانا ابو الزاہد محمدسرفراز صاحب کی کتاب عمدۃ الاثاث بھی اس مسئلہ پر بھی شائع ہوگئی ہے جو بالکل کافی ہے۔‘‘

شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانامحمد ادریس کاندھلوی ؒ

شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانامحمد ادریس صاحب کاندھلوی ؒ ان علماے حق میں تھے جن کاعلم و فضل،زہدو تقویٰ اور خلوص و للّٰہیت ایک مسلمہ حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ اپنے دور کے عظیم محدث ،جلیل القدر مفسر، بہترین محقق اور بلند پایہ عالم دین تھے۔ آپ کا اسم گرامی بھی حضرات شیخین کے اساتذہ کی فہرست میں شامل ہیں۔ حضرت شیخ صاحب اور حضرت صوفی صاحب ؒ کے آپ ؒ سے حدیث کی مشہورکتابیں مشکوٰۃ المصابیح اور مؤطا امام مالک پڑھیں ۔ 

حضرت مولانامحمدادریس کاندھلوی ؒ ۱۲؍ ربیع الثانی ۱۳۱۷ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں ایک ممتاز عالم دین اور صاحب نسبت بزرگ حافظ محمد اسماعیل کاندھلوی ؒ کے ہاں پیدا ہوئے۔نو سال کی عمر میں آپ نے اپنے والد ماجد سے قرآن کریم حفظ کیا۔صرف و نحو کی ابتدائی کتابیں حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ سے پڑھیں۔ اس کے بعد ثانوی اور اعلیٰ تعلیم مولاناخلیل احمد سہارنپوریؒ ، حضرت مولاناحافظ عبداللطیفؒ ، حضرت مولاناثابت علی ؒ ، حضرت مولاناظفر احمد عثمانیؒ جیسے اکابر اہل علم سے حاصل کی اور ۱۹ برس کی عمر میں تمام علوم وفنون کی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ پھر مرکز علوم اسلامیہ دیوبند تشریف لے گئے جہاں حضرت مولانامحمد انور شاہ کشمیریؒ ، حضرت مولاناعلامہ شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا مفتی عزیزالرحمنؒ ، مولاناحبیب الرحمن عثمانیؒ اور مولانااصغر حسین دیوبندی ؒ جیسے مایہ ناز اساتذہ کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا اور دوبارہ دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ۱۹۲۱ء سے آپ کی تدریسی زندگی کا آغاز ہوا اور تادمِ واپسیں درس وتدریس کے مقدس پیشہ سے وابستہ رہے۔ آپ مدرسہ امینیہ دہلی میں ایک سال،دارالعلوم دیوبند میں نو سال،جامعہ عباسیہ بہاول پور میں شیخ الجامعہ کی حیثیت سے دو سال اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں شیخ الحدیث و التفسیر کے منصب جلیل پر آخر دم تک درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔

آپ بڑے سادہ اور علمی اندازمیں وعظ فرماتے تھے۔ جب تقریر فرماتے تو معلوم ہوتاکہ علم و عرفاں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ ایک مرتبہ خیر المدارس ملتان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر آپ خطاب فرمارہے تھے۔ بڑے بڑے علما اور خطبا تشریف فرما تھے۔ سامعین بڑے ذوق و شوق سے تقریر سن رہے تھے۔ دوران تقریر علمی نکات پر ایسی عالمانہ اور محققانہ گفتگو فرمائی کہ آپ کی علمی قابلیت اور دینی بصیرت سے متاثر ہوکر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ دوران تقریر مجمع کے سامنے کھڑے ہوگئے اور شدت جذبات میں فرمانے لگے: ’’لوگودیکھ لو، یہ ہیں ہمارے اکابر جن کاعلم و تقویٰ بے مثل ہے۔ لوگو! خوب دیکھ لو اور سن لو، یہ دارالعلوم دیو بند کے قابل فخر فرزند اور اس دور کے محدث اعظم ہیں۔‘‘

حضرت کاندھلوی ؒ شیخ المفسروالمحدثین تو تھے ہی، اپنے زمانہ کے مایہ ناز مصنف بھی تھے اور آپ کے قلم فیض رقم سے درجوں تالیفات منصہ شہود پر آئیں۔ آپ کی تالیف ’’سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے متعلق حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’مولاناحافظ محمد ادریس صاحب جو علمی و عملی کمالات کے جامع ہیں، ان کی ’’سیرت مصطفی‘‘ قلب پر بے حد اثر کرتی ہے اور قلب کو سکون بخشتی ہے۔‘‘ 

آخری دم تک آپ پاکستان میں نظام اسلام کے نفاذ کے لیے کو شاں رہے۔ تحریک ختم نبوت میں بھر پور حصہ لیا اور تحریرو تقریر کے ذریعے قادیانیت کی تردید کرتے رہے۔ غرض یہ کہ آپ کی ساری حیات طیبہ اسلام کی خدمت میں گزری۔آپ ؒ ایک سچے عاشق رسول اور ولی کامل تھے۔ کئی بار حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔بالآخر پیغام اجل آپہنچا اور آپ ۷؍رجب المرجب ۱۳۹۴ھ بمطابق ۲۸؍جولائی ۱۹۷۴ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حق تعالیٰ ہمیں ان کے قدم پرچلنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین ثم آمین

استاذالعلماء مولانا عبدالقدیر کیمل پور ی ؒ

حضرت مولاناعبدالقدیر ۱۹۰۱ء میں بمقام مومن پورہ علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں مولاناعبدالرحیم ؒ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد دینی تعلیم کی تحصیل میں مصروف ہوگئے۔ اپنے علاقہ چھچھ میں مختلف علما سے دینی تعلیم حاصل کرتے رہے اور خاص طور پر مؤمن پورہ کے قریب ہی جلالیہ میں مولاناسعد الدین صاحب ؒ سے پڑھتے رہے جو حضرت مولاناعبدالحی فرنگی محلی کے شاگرد تھے۔ پھر مظاہر العلوم سہارنپور میں اور اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے رہے۔ آخر میں ڈابھیل پہنچ کر حضرت مولاناانو رشاہ کشمیری ؒ سے حدیث کی تکمیل کی۔ آپ تدریسی مزاج اور ذوق کے متبحر عالم دین تھے۔ زندگی بھر تدریس آپ کا اوڑھنا بچھونا رہا۔ تقریباً ۵۲سال مسند تدریس پر رونق افروز رہے۔ ۱۷ سال قیام پاکستان سے پہلے اور ۳۵ پینتیس سال قیام پاکستان کے بعد تدریس کی ۔ آخر میں آپ مدرسہ تعلیم القرآن راولپنڈی میں شیخ الحدیث کی حیثیت سے تشریف لے گئے اور سات سال اسی مدرسہ میں آخر دم تک اس منصب جلیل پرخدمات سر انجام دیتے رہے۔ بالآخر علم عرفان کا یہ آفتاب علمی روشنی بکھیرتے ہوئے طلبہ کے قلوب کو علوم دینیہ سے منور کرتے ہوئے بروزمنگل ۱۰ ؍جمادی الاولیٰ ۱۴۱۱ھ بمطابق دسمبر ۱۹۹۰ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہ عالیہ میں اپنی شان کے مطابق قبول فرمائے، آپ کو اعلیٰ علییّن میں جگہ نصیب فرمائے، آمین۔ آپ کا جنازہ آپ کے تلمیذرشید شیخ الحدیث حضرت مولاناسرفراز خان صفدرؒ نے پڑھایا اور آپ کو آپ کے آبائی گاؤں مؤمن پورہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ 

استاذ العلماء مولاناعبدالقدیر کیمل پور ی ؒ عوامی حلقوں میں تو زیادہ معروف نہ تھے، لیکن تدریسی حلقوں میں آپ کو ایک مایہ نا زاستاذ، محقق دوراں، شیخ المنقول والمعقول کے نام سے شہرت دوام حاصل ہوئی۔اگر آپ کو برصغیر کی سطح کے چوٹی کے مدرّسین کی فہرست میں شمار کیاجائے تو تدریسی میدان کے وابستگان جانتے ہیں کہ یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ آپ ؒ حضرت شیخ الحدیثؒ اور حضرت صوفی صاحب ؒ کے ممتاز اساتذہ میں سے ہیں، بلکہ حضرات شیخین نے درس نظامی کی اکثر کتب آپ ؒ ہی سے پڑھیں۔ حضرت شیخ الحدیث اپنے اسباق میں اکثر اپنے استاد گرامی کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایاکرتے تھے: ’’میراتعلیمی ذوق شوق اور علمی استعداد استاذ محترم حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب ؒ کی خصوصی شفقت اور توجہ کی مرہون منت ہے۔‘‘ جب حضرت شیخ الحدیثؒ نے تقلید کے موضوع پراپنی معروف و مقبول کتاب ’’الکلام المفید فی اثبات التقلید‘‘ تحریر فرمائی تو مولانا عبد القدیر اپنے تلمیذرشید کی اس علمی و تحقیقی کاوش پر بہت خوش ہوئے۔ اپنی خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :

’’آپ کی تالیف کردہ کتاب دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی۔ کتاب اپنی ظاہری زیبایش کے ساتھ باطنی موتیوں کا خزانہ نظر آیا۔ کتاب صحیح معنوں میں حجۃ اللہ علی الاعداء و شفاء المرضیٰ ہے۔ الحمد للہ والمنۃ۔ صحیح المزاج،سلیم الدماغ لوگوں کے لیے سرچشمہ ہدایت اور مفید بصیرت و بصارت ہے۔ واللہ یھدی من یّشآء الی صراط مُّستقیم، جزاکم اللہ تعالیٰ خیر الجزاء فی الدارین۔‘‘

آپ کے استاذ محترم کو آپ کی علمی لیاقت واستعداد پر اس قدر اعتماد تھا کہ جو کتب آپ کو پڑھائیں، زمانہ طالب علمی ہی میں وہی کتب اپنی نگرانی میں آپ کو پڑھانے کا موقع عطا فرمایا۔ حضرت شیخ الحدیث تقریباً دو اڑھائی سال درس نظامی کی فراغت سے پہلے مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ میں آپ کی زیر نگرانی پڑھاتے رہے۔ راقم نے ایک دفعہ حضرت شیخ رحمہ اللہ سے پوچھا کی آپ نے کون کون سی کتابیں حضرت مولانا عبد القدیر صاحب ؒ سے پڑھی ہیں؟ فرمایا کہ میں نے درس نظامی کی اکثر کتب حضرت مولانا عبد القدیر صاحب سے پڑھیں۔ پھر بطورنمونہ چند کتب کے نام لیے، مثلاً تفسیر میں جلالین اور بیضاوی، حدیث میں مشکوٰۃ، فقہ میں ہدایہ (چار جلدیں) اصول فقہ میں حسامی وتوضیح تلویح، منقولات میں ملا حسن، قاضی مبارک، صدرا اور حمداللہ، فلسفہ میں بدور، اس کے علاوہ خیالی، متن متین، حماسہ وغیرہ۔ حضرت مولاناصوفی عبدالحمید صاحب سواتی ؒ آپ کی شفقتوں کا تذکرہ کرتے تحریر فرماتے ہیں: 

’’احقر نے تقریباًتین سال دوران تعلیم آپ کی خدمت میں گزارے۔شیخ الحدیث حضرت مولاناسرفراز خان صفدر تو آپ کے اجل تلامذہ میں سے تھے۔ان کی ذہانت و فطانت کی وجہ سے مولاناان کابہت خیال فرماتے تھے، لیکن احقر کی طبعی خاموشی اور مسکینی اور اس لیے کہ صبح کی نماز باجماعت ادا کرتا تھا، احقر کا بہت لحاظ فرماتے تھے۔‘‘

مفکر اسلام حضرت مولانامفتی عبدالواحد ؒ

آپ ۱۹۰۸ء میں اٹک کے علاقہ میں قاضی ضیاء الدین کے ہاں پیدا ہوئے۔ مڈل تک تعلیم اپنے آبائی گاؤں سہال میں حاصل کی جبکہ دینی تعلیم اپنے چچا اور سسر حضرت مولاناعبدالعزیز سہالوی ؒ محدث گوجرانوالہ (المتوفی ۱۳۵۹ھ) سے حاصل کی اور کچھ کتابیں حضرت مولانامحمد چراغ صاحب ؒ سے حاصل پڑھیں۔ آخر میں ۱۹۳۰ء کے لگ بھگ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے سند فراغت حاصل کی۔ آپ کا شمار حضرت مولاناسید محمد انور شاہؒ (المتوفی ۱۳۵۲ھ) کے مایہ ناز شاگردوں میں ہوتاتھا۔ آپ نے امام المفسرین حضرت مولانا حسین علی صاحب (المتوفی ۱۳۶۳ھ) کے دست حق پرست پر بیعت کی۔ شادی زمانہ طالب علمی ہی میں اپنے چچا حضرت مولاناعبدالعزیز صاحب ؒ کی صاحبزادی سے ہوگئی تھی، لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ زندگی بھر تعلیم و تدریس اور افتا کے شعبہ سے وابستہ رہے۔ جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے عرصہ دراز تک خطیب رہے اور مدرسہ انوارالعلوم کے مدرس اور مہتمم کی حیثیت سے بھی تدریس اور اہتمام کی ذمہ داریا ں سرانجام دیتے رہے۔ 

سیاسی میدان میں متحدہ جمعیۃ علماے ہند اور بعد از تقسیم ہند جمعیۃ علماے اسلام کے پلیٹ فارم پر سرگرم عمل رہے ۔ علما کے طبقہ میں آپ کو بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔ تبلیغی جماعت کے ساتھ بھی آپ کا گہرا ربط اور تعلق تھا بلکہ گوجرانوالہ کے تبلیغی جماعت کے امیر و سرپرست بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ ملک وملت کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے، آمین۔ آخری عمر میں فالج کا حملہ ہوا اور اسی بیماری میں ۱۱؍دسمبر ۱۹۸۲ء پروز ہفتہ صبح دس بجے جناح ہسپتال گوجرانوالہ میں دارفانی سے داربقا کی طرف رحلت فرماگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کی خواہش کے مطابق حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ نے شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے وسیع گراؤنڈ میں پڑھائی اور گوجرانوالہ کے قدیم قبرستان کلاں میں آپ کو دفن کیا گیا۔

حضرت مولانامفتی عبدالواحد گوجرانوالہ شہر کے ایک بزرگ عالم دین،متقی و پرہیز گار،ذہین وذکی اور زیرک سیاستدان ہونے کے علاوہ بے شمار خداداد صلاحیتوں اور خوبیوں سے مالامال تھے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ نے مدرسہ انوارالعلوم گوجرانوالہ میں آپ سے درس نظامی کی مختلف کتابیں مثلاً شرح وقایہ،سراجی اور مطول وغیرہ پڑھیں۔ حضرت شیخ اکثر حضرت مفتی صاحب ؒ کا ذکر خیر ایک مشفق مربی کی حیثیت سے کیا کرتے تھے۔ مفتی صاحب اگرچہ مدرسہ انوارالعلوم کے مہتمم تھے، تاہم آپ کی نظر پورے شہر کے معاملات پرہوتی تھی اور تمام دینی وملی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اعزاز بھی عطا فرمایا کہ آپ کی سرپرستی اور مشورہ ہی سے ۱۹۵۲ء میں عظیم دینی درس گاہ مدرسہ نصرۃ العلوم کی بنیاد رکھی گئی اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی کو اس کا مہتمم مقرر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس دینی درس گاہ کو تاقیامت آباد و شاد رکھے او ر اس کے علمی و روحانی فیض کو عام اور تام فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

استاذالعلماء حضرت مولاناولی اللہ ؒ (انھی والے ) 

’’انھی‘‘ ضلع منڈی بہاؤالدین میں واقع قصبہ میانوالی رانجھا کے قریب ہی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہی گاؤں حضرت مولاناغلام رسول صاحب ؒ المعروف ’’بابا انھی والا‘‘ کا وطن مالوف تھا۔ آپ علوم نقلیہ اور عقلیہ کے ماہر عالم دین تھے۔ اس چھوٹے سے گاؤں میں آپ کے ہاں بڑے بڑے اصحاب علم زیر تعلیم رہے۔ حضرت مولانامحمدانور شاہ کشمیریؒ آپ کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ’’مولو ی صاحب علماے آخرت میں سے ہیں‘‘۔ آپ بڑے زاہد وعابد، صاحب کشف و کرامت اور متوکل بزرگ تھے اور حضرت مولاناغلام رسول صاحب ؒ کے تلمیذ رشید اور علمی جانشین تھے۔ 

حضرت شیخ ’’انھی‘‘ میں رائج طریقہ تدریس کے متعلق خود تحریر فرماتے ہیں: ’’انھی میں طریقہ تعلیم یہ تھاکہ طالب علم ہر فن کی کتاب کا مطالعہ کرتا اور خوب سمجھ کر حل شدہ سبق استاد کے سامنے بیان کرتا اور غلطی پر استاد اس کی اصلاح کردیتے۔اس طریقہ سے طالب علم بمشکل ایک دو سبق ہی حل کر سکتا۔ نہایت ہی ذہین طالب علم تین اسباق پڑھ سکتاتھا۔ اس طرز سے طلباء میں مطالعہ اور کتابوں کو سمجھنے اور حل کرنے کا جذبہ بخوبی اجاگر ہوتاہے۔‘‘ حضرت شیخ نے اسی طریقہ تعلیم کے مطابق اس مشہور درسگاہ میں درس نظامی کی دقیق اور مشکل کتب خیالی ،میبذی اور ملا حسن وغیرہ پڑھیں۔ فرمایاکرتے تھے کہ اس دور میں یہ دستور تھا کہ جس گاؤں میں ’’خیالی‘‘ پڑھانے والے کوئی ماہر استاذ موجود ہوتا، اس گاؤں کے باہر درخت پر سفید جھنڈا لگا ہوتا تھا جو اس بات کی علامت ہوتاتھا کہ یہاں خیالی پڑھانے والے کوئی ماہر استاذ موجود ہیں۔ 

آپ بعض اوقات اس دور کے واقعات اور حصول علم میں پیش آنے والی مشکلات کا تذکرہ طلبہ کو سنایاکرتے تھے، تاکہ وہ بھی حصول علم میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنے علمی سفر کو جاری رکھیں۔ آپ جب مولانا ولی اللہ صاحب ؒ کے ہاں زیر تعلیم تھے تو روزانہ صبح سویرے طویل پیدل سفر کر کے پڑھنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے، کیونکہ مدرسہ طلبہ کی رہایش گاہ سے کافی دور واقع تھا۔ وہاں علوم عقلیہ منطق وغیرہ کا فن اتنی پختگی سے پڑھایا جاتا تھا کہ علاقہ کے ان پڑھ زمینداروں میں بھی اس فن کا بہت چرچا تھا۔ 

حضرت مولانا ولی اللہ ؒ ابھی بقید حیات ہی تھے کہ حضرت شیخ دارالعلوم دیوبند سے تعلیمی فراغت کے بعد واپس گوجرانوالہ تشریف لے آئے اور ۱۹۴۳ء میں گکھڑ میں تعلیمی و تدریسی اور تصنیفی و تالیفی سلسلہ کا آغاز کر دیا۔ جلد ہی آپ کی علمی شہرت ارد گرد کے اضلاع میں پھیل گئی۔ حضرت شیخ الحدیث کے دل میں حضرت مولاناولی اللہ صاحب ؒ کی اتنی قدر ومنزلت تھی کہ ان کی موجودگی میں کسی مسئلہ کے جواب دینے میں کتنی احتیاط اور تامل فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ میانوالی رانجھا کے کچھ احباب کسی دینی مسئلہ کے متعلق حضرت مولانا ولی اللہ صاحب ؒ کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے اسی مسئلہ کے متعلق حضرت شیخ سے بذریعہ خط آپ کی رائے معلوم کرنی چاہی۔ آپ نے جوابی خط میں اپنی رائے دینے سے قبل تحریر فرمایا کہ ’’استاذمحترم حضرت مولاناولی اللہ صاحب ؒ کی موجودگی میں مجھ ناکارہ سے مسئلہ پوچھنے کی کیاضرورت پیش آئی ہے؟ لیکن اگرآپ نے پوچھا ہے تو اپنی رائے عرض کردیتاہوں تاہم میں اس کی تصویب کے لیے آپ کا خط اور اپنی تحریر کردہ رائے حضرت استاذ محترم کو بھیج رہا ہوں۔‘‘ چنانچہ حضرت شیخ نے اپنی تحریر کردہ رائے اپنے استاذمحترم کے ذریعے ہی متعلقہ احباب تک پہنچائی۔ 

حضرت مولاناولی اللہ صاحب ؒ کا روحانی تعلق امام المفسرین مولاناحسین علی صاحبؒ کے ساتھ تھا۔ آپ زندگی بھر شہرت و ناموری سے دور رہتے ہوئے مسند تدریس پر رونق افروز علم وعرفان کی شمعیں روشن کرتے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بشری تقصیرات سے درگزر کرتے ہوئے حسنات کو قبول فرمائے اور آپ کو اعلیٰ علیین میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین 

حضرت مولانااسحاق رحمانی ؒ (ساکن چونیاں) 

حضرت شیخ الحدیث اپنے برادر عزیز کے ہمراہ ضلع سیالکوٹ کے مشہور قصبہ وڈالہ سندھواں میں تقریباً دو سال حضرت مولانااسحاق رحمانی ؒ کے پاس زیر تعلیم رہے۔ آپ حضرت مولانامفتی محمد کفایت اللہ دہلوی ؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے۔ غضب کے ذہین، بہترین مدرس اور چوٹی کے مقرر تھے۔ مسلکاً اہل حدیث تھے، مگر خاصے معتدل تھے اور فروعی مسائل میں نزاع اور اختلاف پسند نہ کرتے تھے۔ جب حضرت شیخ اپنے برادر خورد کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ سے داخلہ کا امتحان لیا اور معرفہ و نکرہ کی تعریف دریافت فرمائی اور پھر بعض سوالات کیے۔ جب آپ نے فی الفور صحیح جوابات دے دیے تو بہت خوش ہوئے اور آپ کو اور آپ کے برادر عزیز کو داخلہ دے دیا۔ وڈالہ سندھواں کی مرکزی دو منزلہ مسجد میں تقریباً دو سال آپ مولانا محمد اسحاقؒ کے پاس زیر تعلیم رہے اور سبعہ معلقہ ‘شرح جامی اور قطبی تک کتابیں پڑھیں، جبکہ حضرت صوفی صاحبؒ نے ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ 

حضرت مولانا اسحاق صاحب کا سوانحی خاکہ اور تفصیلی حالات راقم کو تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکے۔ اس مقصد کے لیے راقم حضرت شیخ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا، لیکن گوناگوں عوارض کی وجہ سے آپ ان کے متعلق کچھ تفصیل نہ بتا سکے۔ان کے متعلق حضرت نے جو کچھ بتایا، وہ درج بالاسطور میں درج کر دیا گیا ہے۔ 

حضر ت مولاناعبدالعلیم ؒ

مولانا عبدالعلیم صاحب ملتانی کااسم گرامی بھی آپ کے اساتذہ گرامی کی فہرست میں شامل ہے ۔ آپ نے ملتان میں واقع ’’لانگے خان باغ‘‘کے قریب مسجد میں موصوف سے علم میراث کا ایک رسالہ پڑھاجس کے مصنف مولاناموصوف خود ہی تھے۔ حضرت شیخ موصوف کی مسلکی وابستگی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’مولانا بہت معمر تھے۔ ان کے فرزند مولانا عبدالحلیم اور ان کے فرزند مولانا عبدالکریم اور ان کے فرزند مولانا عبدالشکور سب زندہ تھے۔ لانگے خان کے باغ کے قریب ان کی مسجد تھی اور اس میں درس کتب جاری تھا۔ یہ حضرات نہ پکے دیوبندی اور نہ پختہ بریلوی تھے بلکہ بین بین تھے۔ علم اور علماء سے بڑی عقیدت رکھتے تھے‘‘۔ 

حضرت مولانا غلام محمد لدھیانوی ؒ

حضرت مولانا غلام محمد لدھیانوی ؒ حضرت مولاناانور شاہ کشمیری ؒ کے قابل فخر شاگر د اور ممتاز فضلاے دیو بند میں سے تھے۔ آپ جہانیاں منڈی کی مرکزی مسجد کے خطیب اور مدر س تھے۔ مسجد سے متصل طلبا کی رہایش کے لیے کمرے تھے۔ ۱۹۳۷ء میں حضرت شیخ اپنے برادر عزیز اور اپنے ایک ساتھی سید امیر حسین شاہ صاحب کے ہمراہ جہانیاں منڈی میں حضرت مولاناغلام محمد لدھیانوی صاحب ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اسباق شروع ہونے کے چند دن بعد دارالعلوم دیوبند کے قدیم فضلا میں سے مولاناعبدالخالق مظفر گڑھی بھی بحیثیت مدرس وہاں تشریف لے آئے۔ یہاں مدرسہ رحمانیہ میں نورالانوار، تلخیص، مختصر المعانی، مسلم الثبوت، حمداللہ اور عبدالغفور وغیر ہ کتابیں ان دونو ں بزرگوں سے پڑھیں۔ 

مولانا سید فتح علی شاہ ؒ

قدرت نے یہ سعادت حضرت سید فتح علی شاہ صاحب ؒ کے مقدر میں لکھی تھی کہ حضرات شیخین کے اساتذہ گرامی کی فہرست میں ان کا نام بھی درج ہو۔ حضرت شیخ نے ایک مرتبہ خود راقم کو یہ بتلایاکہ انہوں نے مکمل ناظرہ قرآن مجید حضرت شاہ صاحب ؒ سے ہی سبقاً سبقاًپڑھا، بلکہ یہ بھی فرمایاکہ ہم دونوں بھائیوں کو سب سے پہلے بطل حریت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ کے مدرسہ میں حضرت شاہ صاحب ؒ نے ہی داخل کروایا تھا۔ حضرت شاہ صاحب ؒ حضرت شیخ الحدیث صاحب کے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔ آپ کی پھوپھی ہزارہ میں واقع ایک قصبہ ’’ بٹل‘‘کے ایک سادات خاندان میں بیاہی گئی تھیں۔ بٹل کے مغربی جانب گاؤں ’’لَمّی‘‘ میں سید فتح علی شاہ صاحب ؒ ایک مسجد میں امام تھے۔ جب ۱۹۲۰ء میں حضرت شیخ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تو آپ کی پھوپھی صاحبہ آپ کو اور آپ کے برادر عزیز کو اپنے ساتھ ہی بٹل لے آئیں۔ وہاں سے شاہ صاحب ؒ دونوں بھائیوں کو اپنے ساتھ’’ لمّی‘‘ گاؤں میں لے گئے۔شاہ صاحب ؒ حضرات شیخین کے والد محترم نوراحمد خان صاحب ؒ کی اپنے بچوں کے متعلق خواہش اور وصیت ان الفاظ میں بیان فرمایاکرتے تھے: ’’میرے ماموں جان اکثر مجھے یہ بات تاکیداً فرمایاکرتے تھے کہ میرے ان بچوں کو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہ اسلامی کی ضرور تعلیم دینی ہے‘‘۔ اللہ نے اس نیک آرزو اور خواہش کو شرف قبولیت عطا فرماتے ہوئے دونوں بھائیوں کے قلوب میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور فقہ اسلامی کی وہ روشنی پیدا فرمائی جس سے ہزاروں لاکھوں انسانوں کے قلوب منور ہوئے۔ 

سید فتح علی شاہ صاحب بن سید دین علی شاہ مرحوم ساکن لمبی بٹل میں واقع ایک سکول میں چھٹی جماعت میں پڑھتے تھے۔ پھر نا معلوم وجوہ اور اسباب کی بناء پر بٹل سے ملک پور چلے گئے اور وہاں فقیرا خان مرحوم کی مسجد میں بحیثیت امام اپنے فرائض سرانجام دینے لگے اور شیر پور کے مڈل سکول میں داخل ہو گئے۔ دوران تعلیم ہی سید فتح علی شاہ مرحوم کی شادی ہو گئی اور وہ باوجود شوق کے تعلیم جاری نہ کر سکے اور اکثر گھر ہی میں رہنے لگے۔ ۱۹۸۴ء میں دنیاے فانی سے رخصت ہوئے۔

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر