ہم یتیم ہوگئے ہیں

مولانا محمد احمد لدھیانوی

اس دار فانی سے رحلت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ روز اول سے جاری ہے اور ایک ایسا وقت آئے گا کہ کائنات میں کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔اس کے بعد جزاو سزا کا دن قائم ہوگا اور بارگاہ ایزدی میں تمام بنی نوع انسان اپنے کیے کے حساب کتاب کے لیے حاضر ہوں گے۔ اس دن کے قریب آ لگنے کی جو علامات خاتم المعصومین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک علم کا اس دنیا سے اٹھ جانا ہے اور یہ علامت اہل علم کے اس دار فانی سے رحلت کی صورت میں پوری ہوگی۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و العاص رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں سے علم کو ایک ہی دفعہ نہیں چھین لے گا، بلکہ علم کو اہل علم کے اٹھا لینے سے سلب کرے گا اور ایک ایسا وقت آئے گا کہ زمین پر ایک بھی عالم بھی باقی نہیں رہے گا۔ تب لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنائیں گے جن سے مسائل کے بارے میں پوچھا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے جن سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘۔

فداہ ابی وامی خاتم المعصومین صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان قحط الرجال کے اس دور میں پورا ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ گزشتہ چند ہی سالوں میں بڑے بڑے اصحاب علم وفضل، اہل معرفت اور تصوف کے میناروں کا اس دنیا سے اٹھ جانا، یہ صادق ومصدوق پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پورا ہونا ہے۔ امام اہل سنت الشیخ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر حمۃ اللہ علیہ کا سانحہ ارتحال کسی عام انسان کی موت یا وفات نہیں بلکہ ایک جبل علم وعمل اور وقت کے بہت بڑے عظیم محدث کی وفات ہے۔ ایسی شخصیات شاذ ونادر ہی پیدا ہوا کرتی ہیں۔ حضرت امام اہل سنتؒ ، امام اہل سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنویؒ کے حقیقی جانشین تھے اور اس دور میں امام اہل سنت جیسا عظیم خطاب بھی حضرت شیخ کو ہی جچتا تھا۔ امام اہل سنت حضرت لکھنویؒ کی ایک امتیازی صفت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پھیلنے والے تمام فتنوں کا تعاقب کیا ہے اور ہر فتنہ کی بیخ کنی کے لیے سر توڑ کوششیں کی ہیں۔ اس راستہ میں ان پر مشکلات اور مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹے ہیں، انہیں سن کر دور نبوت یاد آجاتا ہے اور اہل مکہ کی وہ کارستانیاں اور امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی جانے والی سازشیں جو تاریخ کی کتب میں مرقوم ہیں، آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہیں۔

حضرت امام اہل سنت شیخ سرفراز صفدرؒ نے اپنے پیش رو امام اہل سنت حضرت لکھنویؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر فتنے کا تعاقب کیا ہے اور اس راستہ پر چلنے والوں اور کام کرنے والوں کی بھر پور حوصلہ افزائی اور سرپرستی فرمائی ہے۔ تردید فرق باطلہ کے عنوان پر حضرت کی کتب فرق باطلہ کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہیں اور ان کا جواب دینے کے لیے اہل باطل بے بس نظر آتے ہیں۔ حضرت الشیخ نے جب اپنی تصنیفی زندگی کا آغاز کیا تو اس وقت پاکستان میں رافضیت کے جڑیں قدرے کمزور تھیں، مگر وہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ ہندوستان میں شیعہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے مختلف حربے آزما چکا تھا اور وہاں حضرت لکھنویؒ کے ہاتھوں بری طرح پٹ چکا تھا۔ حضرت الشیخؒ اس ساری صورت حال سے بخوبی واقف تھے، اس لیے انہوں نے اپنی پہلی تصنیف ’’الکلام الحاوی‘‘ میں اس فرقے کا کھل کر تعاقب فرمایا۔ گمراہ کن عقائد ونظریات کی تردید میں حضرت الشیخؒ کی دیگر کتب موجود ہیں، مگر اپنی کتاب ’’ارشاد الشیعہ‘‘ کے آغاز ہی میں ایک خط نقل فرمایا ہے جس میں حضرت امام اہل سنت سے شکوہ کیا گیا ہے کہ ’’آپ نے تمام فرق ضالہ کی تردید میں کتب تحریر فرمائی ہیں، اب ایک کتاب شیعیت کی تردید میں تحریر فرما دیں‘‘۔ حضرت امام اہل سنت اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’میری کتاب ’’الکلام الحاوی‘‘ کا اگر آپ نے مطالعہ کیا ہوتا تو آپ کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ پھر بھی آپ کی خواہش کے احترام میں کتاب تحریر کرتا ہوں‘‘۔ ارشاد الشیعہ کی اس عبارت کے پیش نظر اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ حضرت امام اہل سنتؒ کی پہلی اور آخری تصنیف شیعیت کی تردید میں ہے۔

ملک میں رد رافضیت کے عنوان پر کام کرنے والی بہت سی تنظیمیں موجود ہیں، مگر سپاہ صحابہؓنے بہت قلیل مدت میں اپنے مختلف انداز واطوار کی وجہ سے جو مقبولیت حاصل کی، وہ کسی اور کو نصیب نہ ہوسکی۔ میں اس کی وجہ حضرات اکابرین کی شفقتوں، محبتوں اور دعاؤں کو سمجھتا ہوں۔ حضرت امام اہل سنتؒ کے سپاہ صحابہؓ کے ساتھ والہانہ تعلق اور سپاہ صحابہ کی قیادت پر بھرپور اعتماد اور پیار کو اس جماعت کی عنداللہ مقبولیت کی دلیل سمجھتا ہوں۔ میرا گکھڑ منڈی سے جب بھی گزر ہوا، ہمیشہ حضرت الشیخؒ کی زیارت کو اپنے لیے سعادت سمجھتے ہوئے ضرور حاضر ہوا۔ ہمیشہ ان کی صحبت میں بیٹھنے سے نیا سکون ملتا اور روحانی تسکین حاصل ہوتی۔ بوقت ملاقات ہمیشہ مجھ سے پہلا سوال یہی کرتے کہ حکومت نے سپاہ صحابہؓ کے لیے کوئی نرمی کی ہے؟ جواباً جب میں حالات وواقعات بیان کرتا تو حضرت امام اہل سنتؒ حکومتی زیادتیوں پر افسوس کا اظہار فرماتے اور جماعتی قربانیوں اور قائدین کی جرأت واستقامت پر خوشی کا اظہار فرماتے اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے۔ 

وہ منظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے جب ملک کی مختلف تنظیموں کا مشترکہ اجلاس جامعۃ منظور الاسلامیہ میں حضرت الشیخؒ کی صدارت میں ہو رہا تھا۔ دوران اجلاس ایک صاحب نے سپاہ صحابہؓ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپاہ صحابہؓ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے علماے کرام اور بزرگان دین نے انہیں چھوڑ دیا ہے اور آج کوئی بھی بزرگ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ میں نے اس تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم دوران سفر جب بھی کسی خانقاہ، مدرسہ یا جامعہ کے قریب سے گزرتے ہیں تو ہم وہاں چلے جاتے ہیں اور بزرگان دین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے اندر آپ کو کوئی غلط بات نظر آئے توآپ ہماری اصلاح فرما دیں۔ اگر ہم غلط راستہ پر چل رہے ہیں تو آپ ہمیں سیدھا راستہ دکھا دیں، مگر ہمارے ان سوالوں کے جواب میں کوئی بھی بزرگ یہ نہیں کہتا کہ تم نے اکابر کا راستہ چھوڑ دیا ہے یا تمہاری پالیسیاں غلط ہیں، بلکہ یہ کہا جاتاہے کہ آپ لوگ بڑے عظیم ہیں، آپ امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں اور بہت بڑے جہاد میں مصروف ہیں۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ کہہ کر میں نے حضرت امام اہل سنتؒ کی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا کہ حضرت! آپ بتائیں کہ آپ کی ہمدردیاں، آپ کی محبت اور آپ کی دعائیں ہمارے ساتھ ہیں یا نہیں؟ حضرت امام اہل سنت ؒ نے کمال شفقت کا مظاہرہ فرماتے ہوئے اپنا ہاتھ بلند کیا اور بآواز بلند فرمایا کہ میری تمام محبتیں، میری تائید اور میری دعائیں سب آپ حضرات کے ساتھ ہیں۔ میں نے پھر مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ جب امام اہل سنت کی ہمدردیا ں ہمیں حاصل ہیں اور ان کی تائیدہمارے حق میں ہے تو پھر اہل سنت کے دیگر تمام علماے کرام، بزرگان دین اور شیوخ کی تائید بھی ہمارے حق میں ہونی چاہیے اور جو لوگ ہمارے سامنے تو ہمارے فضائل بیان کرتے نہیں تھکتے اور ہمارے بعد ہمارے خلاف بولنے لگتے ہیں، ہمارے نزدیک وہ بزرگ نہیں ہیں۔ یہ باتیں کہہ کر میں حضرت امام اہل سنتؒ کے قریب بیٹھ گیا۔ حضرت امام اہل سنتؒ نے میرے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے تھپکی دی اور دعاؤں سے نوازا۔ اب جب بھی حضرتؒ کی یہ باتیں، یہ محبتیں اور یہ شفقتیں یاد آتی ہیں تو سوائے آنسو بہانے کے کچھ نہیں سوجھتا۔ 

حضرت امام اہل سنت کی جدائی کے بعد ان کے متعلقین اور دیگر احبا وپیروکاربھی کہتے ہوں گے مگر میں یہ بلا مبالغہ کہتا ہوں کہ حضرت ؒ کے جانے سے ہم یتیم ہوگئے ہیں۔میں نے ملک کے بڑے بڑے جنازوں میں شرکت کی ہے، مگر حضرت امام اہل سنتؒ کا جنازہ ایک تاریخی جنازہ تھا۔ حضرت امام اہل سنتؒ کے چہرہ مبارک کی زیارت کی تو محسوس ہوا کہ شیخ نے موت کوتحفہ سمجھ کر قبول کیا ہے۔ چہرے پر روحانیت اور اطمینان اتنا تھا کہ جیسے آنکھیں بندکرکے آرام فرما رہے ہیں اور کچھ دیر بعد جاگ جائیں گے۔ میں حضرت امام اہل سنتؒ کے تلامذہ، متعلقین اور بالخصوص حضرت کے صاحبزادگان سے اور ان میں سے بھی بالخصوص معروف اسلامی ا سکالر اور شیخ الحدیث حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ، مولا نا عبد القدوس قارن صاحب مدظلہ اور مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب مدظلہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ حضرت امام اہل سنتؒ کی طرح ہماری سرپرستی فرمائیں گے اور ہمیشہ اپنی دعاؤں میں ہمیں یاد رکھیں گے، کیونکہ حضرت امام اہل سنتؒ کے جانشین اور ان کے ورثا کی حیثیت سے یہ ان حضرات کی ذمہ داری بھی ہے اور ہمارا حق بھی۔

دعا گو ہوں کہ رب ذوالجلال حضرت امام اہل سنتؒ کے تمام عقیدت مندوں، چاہنے والوں اور اہل وعیال کو صبر جمیل عطا فرمائیں اور حضرت امام اہل سنتؒ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ (آمین)


مشاہدات و تاثرات

(جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء)

جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

تلاش

Flag Counter