ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا

مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کی پہلی دفعہ زیارت اس وقت ہوئی تھی جب میں دارالعلوم کبیر والا میں غالباً درجہ حفظ میں زیرِ تعلیم تھا۔ حضرت شیخ تقریب ختمِ بخاری کے موقع پر تشریف لائے تھے ۔ اس وقت چونکہ حضرت کا نام بھی پہلی دفعہ سنا تھا اور زیارت بھی پہلی دفعہ ہوئی تھی اور ساتھ ذہن بھی کچا تھا، اس لیے نہ تو حضرت کے چہرے کے نقوش ذہن میں رہے اور نہ باتیں یاد رہیں۔ 

۲۰۰۰ء میں جب میں نے مدرسہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں تجوید میں داخلہ لیا تو اس وقت حضرت سے استفادہ کا موقع ملا اور قرآنِ مجید کے ابتدائی بیس پارے سماع کرنے کا بھی شرف حاصل ہوا ۔ اس وقت واضح ہوا کہ حضرت کتنی بڑی شخصیت کے مالک ہیں۔ پھر جوں جوں حضرت کی خدمت میں رہنے اور استفادہ کرنے کا موقع ملتا رہا، توں توں عقیدت و محبت بھی بڑھتی گئی۔ تقریباً ڈیڑھ سال تک روزانہ زیارت اور درس میں بیٹھنے کی سعادت اور کبھی کبھار جسم دبانے کا موقع بھی ملتا رہا۔ پھر زیادہ علیل ہونے کی وجہ سے آپ نے مدرسہ نصرت العلوم کو خیر باد کہہ دیا ۔ 

امام اہل سنت جتنی بڑی شخصیت کے مالک تھے، اس سے کہیں زیادہ ان کے اندر عاجزی و انکساری پائی جاتی تھی۔ سبق کے دوران جب کسی مسئلہ کی تحقیق کرتے تو ضروری وضاحت کے بعد فرماتے کہ تفصیل کے لیے میری فلاں کتاب کا مطالعہ کریں جس میں برصغیر پاک و ہند کے جید علماے کرام کی تقریظات موجود ہیں۔ پھر فرماتے کہ اس میں میر ا کیا کمال ہے، یہ سب میرے اکابرین کی برکات و ثمرات ہیں۔ اور فرماتے ’’ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ‘‘۔ اللہ اکبر! اتنی بڑی شخصیت اپنے لیے ایسے الفاظ و محاورات استعمال کرتی ہے۔ 

امامِ اہلِ سنت صرف ایک مدرس اور محقق نہیں بلکہ اپنے وقت کے بہت بڑے ولی اللہ بھی تھے۔ غالباً ۲۰۰۵ء میں روزنامہ ’’اسلام‘‘ کے ہفتہ وار میگزین ’’بچوں کا اسلام‘‘ میں حضرت کے ایک شاگرد نے اپنے مضمون میں یہ واقعہ لکھا کہ ایک موقع پر وہ پندرہ شعبان کو ملاقات کی غرض سے حضرت کے ہاں حاضر ہوئے۔ جوں ہی کمرے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت زارو قطار رو رہے ہیں۔ انھوں نے سبب پوچھا تو فرمایا کہ روؤں نہ تو کیا کروں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے، آج تک میرا پندرہ شعبان کا روزہ کبھی نہیں چھوٹا تھا، آج پہلی دفعہ چھوٹ گیا ہے۔ اس وقت تک حضرت پر فالج کے تین حملے ہوچکے تھے اور معا لجین نے روزہ رکھنے سے منع کیا تھا۔ ویسے بھی دو تین گھنٹے سے زیادہ بھوک برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ 

غالباً ۹۸۔۱۹۹۷کی بات ہے۔ ایک دفعہ گرمیوں کے موسم میں مدرسہ کے ناظم صاحب نے صبح جنرل حاضری کے وقت حضرت کو پرچی دی کہ اکثر طلبہ کی فجر کی جماعت چھوٹ جاتی ہے اور کچھ طلبہ کی نماز بالکل رہ جاتی ہے ۔ حضرت نے فرمایا: لاحول ولا قوۃ الا با للہ۔ مسجد کے اندر رہ کر اور دین کے طالب علم ہوکر پھر بھی تمہاری جماعت چھوٹ جاتی ہے۔ پھر اپنا واقعہ سنایا کہ ۱۹۳۴ء میں جب میں مدرسہ انوار العلوم شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھا توایک دفعہ میری فجر کی ایک رکعت چھوٹ گئی۔ میرے استاد محترم مولانا عبد القدیر صاحبؒ نے پوچھا کہ سرفراز، تیری ایک رکعت کیوں چھوٹ گئی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ رات دیر تک مطالعہ کرتا رہا، اس وجہ سے صبح آنکھ دیر سے کھلی اور رکعت چھوٹ گئی۔ اس پر استادِ محترم نے فرمایا کہ اس مطالعہ کا کیا فائدہ جس کی وجہ سے تمہاری رکعت چھوٹ جائے ! فرماتے تھے اس دن سے لے کر آج تک کبھی میری تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ اللہ اکبر! اس سے بڑا ولی اور کون ہو سکتا ہے جس کی ساٹھ سال تک کبھی تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی اور اپنے استاد کی نصیحت کو ایسا پلے باندھا کہ زندگی بھر رات کو عشا کے بعد جلدی سونے اور صبح تہجد کے وقت اٹھ جانے کا معمول رہا۔

وقت کی پابندی کے حوالے سے ایک لطیفہ بھی سنایا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ استاد محترم حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب ؒ نے ایک دفعہ مجھے جامع مسجد شیر انوالہ باغ میں درس دینے کا حکم فرمایا۔ درس آدھ گھنٹے کا ہوتا تھا۔ میں نے جو مضمون شروع کیا تھا، وہ وقت سے دو منٹ پہلے ختم ہوگیا تو میں نے درس ختم کردیا۔ ایک آدمی فوراً بولا کہ ابھی وقت ختم ہونے میں دو منٹ باقی ہیں۔ میں نے ان کے دینی ذوق کو دیکھ کر دوسرا مو ضوع شروع کر دیا۔ جب وقت سے دو منٹ اوپر ہوئے تو وہ آدمی پھر بولا کہ دو منٹ اوپر ہو گئے ہیں۔ 

حضرت شیخ اپنے وقت کے صاحب کرامت ولی تھے اور ولیوں کی کرامات ہمارے نزدیک مسلم ہیں۔ میرے ایک قریبی دوست مولانا محمد عیسیٰ صاحب، جو حضرت کے شاگردِ خاص بھی ہیں ، انہوں نے بار ہا یہ واقعہ مجھے سنایا کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو استادِ محترم نے ہی بچے کا نام محمد داؤد تجویز فرمایا۔ بچہ بہت روتا تھا تو ایک دن اہلیہ نے کہا کہ یا تو خود کوئی تعویذ بنادو یا گکھڑ حضرت شیخ سے کوئی تعویذ بنو اکر لے آؤ۔ لیکن مصروفیت کی وجہ سے چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا اور حضرت کے پاس جانا نہ ہوا۔ اسی دوران میری مسجد کے ایک نمازی حضرت شیخ کی ملاقات کے لیے گئے تو حضرت نے ان کو ایک تعویذ لکھ دیا اور فرمایا کہ یہ مولوی عیسیٰ کو دے دو کہ بچے کے گلے میں ڈال دیں۔ اس صاحب نے تعویذ لا کر مجھے دے دیا کہ یہ حضرت شیخ نے دیاہے۔ شاید آپ نے کہا ہوگا۔ میں نے کہا کہ چھ ماہ سے میں حضرت کے پاس گیا ہی نہیں۔ ہاں، ہمارے گھر میں اس کا تذکرہ ضرور ہوتا تھا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی اور اگلے دن میں حضرت شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور تعویذ کا ذکر کیا تو فرمایا ہاں بھیجا تھا۔ یہ حضرت شیخ کی واضح کرامت تھی۔ 

امامِ اہل سنت اپنے وقت کے بہت بڑے معبر بھی تھے۔ یہ بات ہمیں سبق کے دوران آپ کے بھتیجے مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ نے بتلائی تھی، جبکہ بندہ اس سے پہلے خود اس کا مشاہدہ کر چکا تھا۔ غالباً ۲۰۰۰ء میں، میں نے خواب میں ایک بہت بڑا اور خوفناک سانپ دیکھا۔ وہ اتنا خوفناک اور جسیم تھا کہ اس کی دہشت کی وجہ سے میری زبان بند ہوگئی۔ صبح سارا خواب تحریر کرکے حضرت کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے تعبیر فرمائی کہ ’’سانپ کی تعبیر مال ہوتا ہے جس میں حقوق پورے ادا نہ کیے گئے ہوں۔ وقتاً فوقتاً آپ کو مال ملتا رہے گا۔‘‘ حضرت کی یہ تعبیر ہو بہو پوری ہوئی اور بندہ آہستہ آہستہ مالی لحاظ سے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو گیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے آپ کو غضب کا حافظہ عطا فرمایا تھا۔ تدریس کے آخری سالوں میں فرمایا کرتے تھے کہ اب میرا حافظہ کمزور ہوچکا ہے، جوانی میں میرے حافظے پر لوگ رشک کیا کرتے تھے۔ تقریباً آٹھ نو برس صاحبِ فراش رہے۔ اتنی طویل علالت اور ضعف کے باوجود آپ کی یادداشت بالکل برقرار تھی۔ نظر کمزور ہونے کی وجہ سے پہچانتے نہیں تھے۔ جب تعارف کروایا جاتا تو فوراً پہچان لیتے، بلکہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ تقریباً دو سال قبل بندہ جماعت کے ساتھ گکھڑ گیا تو موقع کو غنیمت جانتے ہوئے امیر صاحب سے عرض کیا کہ سب ساتھیوں کی حضرت سے ملاقات کروائی جائے۔ امیر صاحب نے اجازت دی تو کچھ ساتھیوں کو لے کر میں حاضرِ خدمت ہوا۔ آپ نے اپنی عادت کے مطابق پوچھا ، کہاں سے آئے ہو، کیا نام ہے، کیا کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا تلونڈی کھجور والی سے آیا ہوں، جامع مسجد عثمانیہ (اونچا دارا)میں امامت خطابت کے فرائض سر انجام دیتا ہوں۔ حضرت نے فوراً پوچھا کہ وہاں ایک ماسٹر صادق صاحب ہوتے ہیں۔ میں نے کہا وہ بھی یہاں جماعت کے ساتھ (بحیثیت امیر) آئے ہوئے ہیں، تھوڑی دیر تک آپ کے پاس ملاقات کے لیے آرہے ہیں ۔ حضرت کی اس بات سے مجھے بہت حیرت ہوئی کہ آپ اس وقت تک اپنے تمام متعلقین سے کس قدر باخبر ہیں۔ 

ویسے تو حضرت شیخ کی طبیعت میں جمال کی صفت غالب تھی، مگر کبھی کبھی جلال بھی طاری ہوتا تھا۔ اس وجہ سے کبھی کبھار طلبہ کو ناپسندیدہ حرکات پر ڈانٹ بھی پلاتے تھے اور خصوصاً غیر حاضری پر سخت ناراض ہوتے تھے۔ ایک دفعہ ایک عورت دوران سبق تعویذ لینے کے لیے آئی تو حضرت نے تعویذ لکھ کر دے دیا۔ عورت نے پرہیز پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے حلال بنائی ہیں، وہ سب کھاؤ اور حرام کے قریب نہ جاؤ۔ مگر عورت نے دوبارہ سہ بارہ یہی سوال دہرایا تو آپ نے جلال میں آکر فرمایاکہ بی بی میرا دماغ نہ کھاؤ، باقی سب کچھ کھاؤ۔ 

موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کسی ذی روح کو مفر نہیں۔ جو بھی اس دنیا میں آیا، جانے کے لیے آیا، مگر کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کی یادیں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ کچھ جانے والے اپنے پیچھے چند افراد کو سوگوار اور یتیم چھوڑ جاتے ہیں مگر کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے پیچھے ایک پورا عالم سوگوار اور یتیم ہوجاتا ہے۔ امامِ اہلِ سنت کی شخصیت بھی انہی میں سے ایک تھی۔ حضرت کے جنازے میں لاکھوں لوگوں کی شرکت اور ہزاروں کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھ کر بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک شخص لاکھوں کو یتیم کر گیا۔

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر