علمائے حق کے ترجمان

مولانا سید کفایت بخاری

امام اہل سنّت حضرت مولانامحمدسرفراز خان صفدررحمہ اللہ تعالیٰ سے میراابتدائی تعارف حضرت الاستاذ مولانا سید لعل شاہ بخاری رحمہ اللہ الباری کے واسطہ سے ہوا جوپہلے محبت اور بعد میں  عقیدت کی شکل اختیار کر گیا۔ حضرت الاستاذ مولانا سید لعل شاہ بخاری رحمہ اللہ  الباری ۱۳۳۹ھ/۱۹۲۱ء میں  اٹک کے نواحی قصبہ حاجی شاہ میں  پیدا ہوئے۔ آپ شیخ المشائخ حضرت مخدوم جہانیاں  رحمہ اللہ کی اولادمیں  سے تھے اورآپ کے آبا واجدادمیں  کئی پشتوں  سے علم وفضل اور تدریس وتصنیف کی پختہ روایت چلی آرہی تھی۔

آپ رحمہ اللہ۱۳۶۰ھ/۱۹۴۱ء میں  دورہ حدیث کے لیے دارالعلوم دیوبندتشریف لے گئے جہاں  شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنی رحمہ اللہ کے حضورمیں  زانوے تلمذ تہہ کرنے کی سعادت سے بہرہ یاب ہوئے۔ فراغت کے بعد مختلف مقامات پر تدریس فرماتے رہے۔ ۱۳۸۱ھ/۱۹۶۱ء سے لے کرتادمِ آخر واہ کینٹ میں  خطابت وتدریس فرماتے رہے۔ وہیں  ۲۳؍ذو الحجہ ۱۴۱۰ھ/ ۱۷؍جولائی ۱۹۹۰ء کووصال ہوا اور وصیّت کے مطابق وہاں  کے مقامی قبرستان میں  سپرد خاک کیے گئے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ فی الجنۃ بغیر حساب۔

حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ کے متعلق حضرت الاستاذرحمہ اللہ فرماتے تھے کہ دارالعلوم دیوبندمیں  ہم اکٹھے پڑھتے رہے۔ امتحان داخلہ پچاس نمبروں  کا تھا۔ ایک ہندوستانی طالب علم نے،جوابتدائی درجہ سے ہی وہیں  دارالعلوم میں  پڑھ رہے تھے، امتحان میں  اکاون نمبر لیے جبکہ حضرت الاستاذاورامام اہل سنّت رحمہمااللہ تعالیٰ دونوں  نے اڑتالیس اڑتالیس یکساں  نمبر لیے۔ فرماتے تھے کہ ہم تینوں  کوجماعت میں  شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمدمدنی رحمہ اللہ کے بالکل سامنے پہلی صف میں  اکٹھے نشست ملی۔ دونوں  حضرات کے یہ تعلقات دورطالب علمی کے بعدبھی نہ صرف باقی رہے بلکہ بڑھتے رہے۔ چنانچہ حضرت الاستاذرحمہ اللہ کی دعوت پراُن کے ہاں ’’مدنی مسجدواہ کینٹ‘‘میں  کئی مرتبہ حضرت امام اہل سنّت رحمہ اللہ نے خطاب فرمایا۔

حضرت استاذرحمہ اللہ نے تردیدباطل میں  میدان تقریرومناظرہ میں  خاصاکام کیااورحضرت امام اہل سنّت رحمہ اللہ کی طرح باطل کے خلاف اپناقلم بھی استعمال فرمایا۔چنانچہ آپ رحمہ اللہ نے اہل بدعت اورنواصب کی تردید میں  متعدد علمی وتحقیقی کتب لکھیں  جن میں  سے سترہ کتب شائع ہوچکی ہیں۔ان تصانیف میں  بھی آپ رحمہ اللہ نے کئی مقامات پرحضرت امام اہل سنّت رحمہ اللہ اوران کی تصانیف کاتذکرہ فرمایاہے۔ مثلاً:

۱: آپ رحمہ اللہ حیلہ اسقاط کے رد میں  ایک مفصل تحقیق پیش فرماکرلکھتے ہیں:

    ’’مذکورہ بالاکتابیں ،جن کے حوالہ جات درج کیے گئے،وہ سب تیرھویں  صدی کے اندرلکھی گئی تھیں۔ اب بطورمشتے نمونہ ازخروارے چودھویں  صدی کے علماے حق کے فتاویٰ درج کیے جاتے ہیں۔‘‘ (الکلام الموزوں : ۷۴۔۷۵،طبع دوم)

پھردلیل الخیرات، فتاویٰ دارالعلوم دیوبنداوراحسن الفتاویٰ کے حوالہ جات نقل فرماکرلکھتے ہیں:

’’۴۔راہ سنت:۔ محترم برادرحضرت مولاناسرفرازخان صاحب صفدر،جوراقم اسطورکے ہم سبق وہم عصر ہیں ، ’’المنہاج الواضح‘‘ یا راہ سنت اُن کی گرانقدرتصنیف ہے،انہوں  نے بھی ’’دعاء بعدجنازہ‘‘ کاایک عنوان قائم کیا ہے اورنہایت واضح اورقاطع دلائل سے ثابت کیاہے کہ دعابعدجنازہ مکروہ اوربدعت ہے‘‘۔

یہاں  آپ رحمہ اللہ نے حضرت امام اہل سنّت رحمہ اللہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے ساتھ ساتھ ان کی محققانہ تصنیف ’’راہ سنت‘‘کے بارے میں  بھی اپنی گرانقدر رائے کا اظہار فرما دیا۔

۲: اسی کتاب میں  ایک جگہ’’ راہ سنّت‘‘ کا تذکرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اس مسئلہ کی تحقیق کے لیے میں  نے کتب فقہ کے علاوہ مندرجہ ذیل مستقل رسالے بھی دیکھے ہیں :

وجیز الصراط، نور الصراط، الاصابہ، غایۃ الاحتیاط، اراء ۃ الصراط، النشاط، الانبساط، حکم الاقساط، توثیق الکلام، ’’راہ سنّت‘‘ وغیرہ‘‘

۳: حضرت الاستاذ رحمہ اللہ کااندازتصنیف نہایت محققانہ تھا اورمختلف علوم وفنون پرنہایت گہری نظررکھتے تھے۔چنانچہ زیرتحریر مسئلہ کے متعلق نہایت تحقیق وتدقیق کے بعدقلم اٹھاتے اورجب لکھناشروع فرماتے توبکثرت حوالہ جات سپرد قرطاس فرماتے۔ آپ رحمہ اللہ کی تصانیف میں  مختلف علوم وفنون کی کتابوں  کے بلامبالغہ ہزارہاحوالے ملتے ہیں۔ عادت مبارکہ یہ تھی کہ اصل کتاب دیکھے بغیرحوالہ قطعاًنہیں  دیتے تھے۔ ذاتی کتب خانہ بھی بہت وسیع تھااورحوالہ جات کی تحقیق و تلاش کے لیے سفر بھی فرماتے رہتے تھے۔آپ رحمہ اللہ کے پورے ذخیرہ تصانیف میں  ان دیکھے حوالہ کی صرف ایک مثال ہے اوروہ حضرت امامِ اہل سنّت رحمہ اللہ پرآپ رحمہ اللہ کے اعتمادکی بہترین مثال بھی ہے۔آپ رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’تسکین السائل عن خمس مسائل‘‘ میں  علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی کتاب ’’تیسیرالمقال‘‘ کا ایک حوالہ دینے کے بعدیوں  ارقام فرماتے ہیں :

’تنبیہ:’’تیسیرالمقال‘‘چونکہ بندہ کے کتب خانہ میں  نہیں  ہے مگربندہ کویقین ہے کہ یہ حوالہ درست ہے ۔اس لیے کہ برادرمحترم مولاناصفدرصاحب نے بھی’’ راہ سنّت‘‘ میں یہ حوالہ پیش کیاہے۔‘‘ (تسکین السائل:۶۵،طبع اوّل مطبوعہ ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴ء)

حضرت الاستاذرحمہ اللہ اپنے اساتذہ کرام علیہم الرحمہ میں  سے سب سے زیادہ شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمہ اللہ سے متاثرتھے بلکہ وہ اُن کے عاشق زارتھے اورہمیشہ اُن کاتذکرہ کرتے ہوئے رودیتے تھے ۔اسی طرح آپ رحمہ اللہ  تفسیرکے سبق میں  اور ترجمہ قرآن کریم پڑھاتے ہوئے رئیس الموحدین حضرت مولانا حسین علی رحمہ اللہ کے افادات سناتے رہتے تھے۔ چنانچہ طالب علمی کے دورسے ہی ان اکابر علیہم الرحمہ سے ایک خصوصی قلبی تعلق پیدا ہو گیا تھا۔ حضرت امام اہل سنّت رحمہ اللہ بھی انہی اکابرکی نسبتوں  کے امین اوران کی عظمتوں  کے وارث تھے، پھرحضرت الاستاذرحمہ اللہ سے ان کی تعریف بھی بے شمارمرتبہ سننے میں آچکی تھی، اس لیے اُن سے بھی محبت وعقیدت کاتعلق پیدا ہو جانا بالکل فطری بات تھی۔

آپ رحمہ اللہ نے زیادہ تر دفاع مذہب ومسلک اورتردیدباطل کے عنوان پرلکھا۔ خودفرماتے تھے کہ میں  نے چومکھی لڑائی لڑی ہے۔ جہاں  سے کوئی فتنہ اٹھا، میں  نے اُس کا مقابلہ کیا۔ یوں آپ رحمہ اللہ اہل حق کے لیے دفاع وتردیدکے موضوع پربہت بڑا اور وقیع ذخیرہ چھوڑگئے۔ عام طورپردیکھنے میں آیاہے کہ بسیارنویسی معیارکومتاثرکرتی ہے اورجن اہلِ قلم نے بکثرت لکھا، وہ اپنا معیار برقرار نہیں  رکھ سکے۔ مگریہاں  بھی حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ منفردشان کے ساتھ نظرآتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے بکثرت لکھا،مختلف عنوانات پرلکھامگرہمیشہ معیاری اورتحقیقی اندازمیں  لکھا۔ممکن ہے آپ رحمہ اللہ کے موقف سے کہیں  اختلاف کیا جا سکے،آپ کی اختیارکردہ کسی تعبیرسے اتفاق کرنامشکل نظرآئے یاآپ رحمہ اللہ کے پیش کردہ دلائل پر کہیں  بات کی جا سکے، مگریہ کہنامشکل بلکہ ناممکن ہوگاکہ آپ رحمہ اللہ نے کوئی بات بے تحقیق لکھ دی یا سہل انگاری اور رواروی میں  کوئی موقف اختیار فرما لیا۔ آپ رحمہ اللہ کاقلم اہل حق کاقلم تھااورآپ رحمہ اللہ نے ہمیشہ اہل حق کے قلم کی پاسداری کی ۔

آپ رحمہ اللہ نے زیادہ تر تردید ومناظرہ کے عنوان پرلکھااوریہ وہ میدان ہے جس کے بارے میں  کہا جاتا ہے کہ:

یہاں  پگڑی اُچھلتی ہے، اسے میخانہ کہتے ہیں

مگر نہ آپ رحمہ اللہ نے کسی کی پگڑی اُچھالی، نہ میخانہ کے رقصِ مستانہ کا حصہ بنے۔آپ رحمہ اللہ نے اہل حق کی شان کے مطابق سنجیدگی و متانت سے اوراپنے مخاطب کے مقام کوملحوظ رکھتے ہوئے پورے عالمانہ وقار کے ساتھ لکھا اور ناملائم پہلو سے ہمیشہ دامن بچاکے رہے۔

آپ رحمہ اللہ کاتعلق پٹھان قبیلے (یوسف زئی،سواتی) سے تھا اور پٹھانوں  کوکبھی درست اردو بولتے نہیں  دیکھا گیا، مگرآپ رحمہ اللہ  کوثروتسنیم میں  دُھلی ہوئی ایسی بہترین، شستہ اوررواں  مگرادبی اردولکھتے ہیں  کہ اہل زبان کوبھی کم نصیب ہوئی ہوگی۔ چلتے چلتے کہیں  کوئی شعر استعمال فرماتے تویوں  محسوس ہوتا جیسے موتی ٹانک رہے ہوں۔ کہیں  اپنے مخاطب کے ہلکی سی چٹکی لیتے ہیں  توادیبانہ اندازبھی قربان ہوتے نظرآتے ہیں۔ اگرخودمخاطب بھی اسے پڑھے تویقیناًلطف اندوز ہو۔

۱۴۱۱ھ/۱۹۹۰ء میں آپ رحمہ اللہ کے استاذشیخ الحدیث حضرت مولاناعبدالقدیررحمہ اللہ کاوصال ہواتوآپ رحمہ اللہ اُن کی نمازجنازہ پڑھانے کے لیے اُن کے آبائی گاؤں  مومن پور(نزدحضرو،ضلع اٹک)میں  تشریف لائے۔ وہاں  نمازجنازہ سے پہلے اوربعدمیں  قبرپربھی حقیقی معنوں  میں آپ رحمہ اللہ کے قدموں  میں  بیٹھنے اورپاؤں  دابنے کی سعادت نصیب ہوئی اور آپ رحمہ اللہ نے بہت ہی زیادہ دعاؤں  سے نوازا، الحمدللہ علیٰ ذالک۔

ایک مرتبہ برادرم حضرت مولاناحافظ نثاراحمدالحسینی مدظلہٗ کی معیّت میں آپ رحمہ اللہ کے دولت کدہ پرعیادت کے لیے حاضری کاموقع نصیب ہواتوڈرتے ڈرتے اجازتِ حدیث شریف کے لیے عرض کیا۔آپ رحمہ اللہ نے اساتذہ حدیث مبارکہ کے متعلق پوچھا، پھربکمالِ شفقت ومحبت اجازت حدیث شریف سے نوازااوراپنے مبارک ہاتھوں  سے مطبوعہ سند اجازتِ حدیث مبارکہ بھی عنایت فرمائی۔ فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ خیرا و أدام اللّٰہ تعالیٰ فیوضہ الی یوم الجزاء۔

اس بدنصیب و کوتاہ دست کو صرف دو بار کی زیارت ہی نصیب ہوئی۔ آپ رحمہ اللہ  کی مجلس میں  ایک خاص جاذبیّت اور کشش تھی کہ اٹھنے کو جی نہیں  چاہتاتھااورآپ رحمہ اللہ کے چہرہ انورپہ وہ نورا نیّت تھی کہ نظریں  ہٹانے کوجی نہ کرے۔ یقیناًیہ تقویٰ وطہارت اورخدمت دین مبین سے لبریززندگی کاثمرہ ہے۔

آج جب آپ رحمہ اللہ ہمارے درمیان میں  نہیں  رہے تومحسوس ہوتاہے کے یہ ساری خوبیاں  بھی خوشبوکی طرح اپنے جلومیں  لے گئے۔امت پہ ایساعجب دورآیاہے کہ جانے والااپنی جگہ خالی کرکے جاتا ہے اورجانے والی کی جگہ ہمیشہ کے لیے خالی ہی رہتی ہے۔ آپ جیسے باخدا عالم کے لیے صدیوں  قرطاس وقلم راہ دیکھا کریں  گے اورمنبر و محراب رویا کریں  گے مگر کوئی اُنہیں  چُپ کرانے والا نہیں  ہوگا! ؂

عمرہا در کعبہ وبت خانہ می نالد حیات
تاز بزم ناز یک داناے راز آید بروں

آپ رحمہ اللہ کے نمازجنازہ میں  شمولیت کی سعادت بھی بفضلہ تعالیٰ سمیٹنے کاموقع ملا۔یقیناامام اہل سنت رحمہ اللہ  اُن ’’رجال اللہ‘‘ میں  سے تھے جن کے جنازہ میں  شامل ہونے والے کی اپنی مغفرت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ کے بعدان کی اولادِصالحہ ،جن کی اکثریت علما وحفاظ پرمشتمل ہے،بے شمارتلامذہ ومریدین اوردینی تصانیف کاعظیم ذخیرہ آپ رحمہ اللہ  کے لیے بہترین صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ رحمہ اللہ کی ان خدمات کو انتہائی طور پر قبول فرما کرآپ رحمہ اللہ کو درجات عظیمہ سے نوازے اور امت مرحومہ میں آپ رحمہ اللہ کے فیض کو جاری و ساری رکھے، آمین۔

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر