زندگی کے سفر میں انسان تن تنہا مسافر کی طرح ہوتا ہے اور اسے سایہ دار درخت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے سائے میں آکر انسان اپنے سفر کی تھکان بھول جائے اور جس کے نیچے اسے نہ دھوپ کا غم ہو نہ بارش کا ڈر۔ ہمارے خاندان کے بزرگ ہمیں اچھے برے کا فرق بتاتے ہیں، صحیح اور غلط کی پہچان کرواتے ہیں اور اپنے تجربات کی روشنی میں ہمیں اچھا انسان بنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہم برے کاموں سے بچتے ہیں، کبھی ان کی مار کے ڈر سے تو کبھی ڈانٹ کے خوف ہے۔ جب یہ درخت ہم سے چھن جائیں تو دنیا کی رونقیں بے معنی ہو جاتی ہے۔ جنھوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہو، جب ان کو کندھا دینا پڑ جائے تو زندگی کا کیف ختم ہو جاتا ہے اور ہر چیز کاٹتی ہوئی لگتی ہے۔ ان کے بے جان جسم کو خود سے دور کرنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔ جی چاہتا ہے کہ ایک بار وہ اٹھ کر بیٹا کہہ کر اپنے سینے سے لگا لیں، پھر چاہے دکھوں کی برسات بھی آجائے تو پروا نہیں۔ لیکن قدرت کا قانون اٹل ہے اور انسان مجبور خود اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنے ہاتھوں سے انہیں منوں مٹی کے نیچے دفن کر کے آ جاتا ہے۔
گزشتہ ایک سال میں ہم پر یہ قیامت تین مرتبہ ٹوٹی۔ پہلے نانا ابو کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ رخصت ہوئے، جنہیں ہم بھی چاچا جی ہی کہا کرتے تھے، پھر میرے والد محترم حضرت مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ اور پھر میرے نانا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ۔ ان سب بزرگوں کی وفات نے لاکھوں لوگوں کو تو سوگوار کر ہی دیا، ہمارے لیے یہ ایسے تھا جیسے ہمیں کڑی دھوپ میں ایک سایہ دار درخت کے سائے سے محروم کر دیا گیا ہو۔
جب بھی کوئی پریشانی ہوتی تھی، میں نانا جان کے پاس حاضر ہو جاتا تھا۔ ان کی پریشانی کے ڈر سے ان سے بات کہنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، اس لیے دعا کا ہی عرض کر دیتا اور اللہ کے فضل سے وہ پریشانی دور ہو جاتی۔ میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے ان کو بسترِ علالت پر ہی دیکھا تھا، لیکن ابو اور امی سے ان کی کافی باتیں سنیں۔ وہ ابو اور امی دونوں کے استاد تھے اور دونوں ہی ان کے بارے میں بہت کچھ بتایا کرتے تھے، ان کے طرز تربیت کے بارے میں، ان کی سادگی کے بارے میں، ان کی ذہانت اور ان کی قابلیت کے بارے میں۔ وہ پڑھائی کے بارے میں بہت سختی کیا کرتے تھے۔ جب بھی ان کے پاس جانا ہوتا تو اسباق کے بارے میں اور جامعہ کے بارے میں تفصیلاً ضرور پوچھتے تھے اور اکثر امتحان بھی لیا کرتے تھے۔
ان کی سادہ مزاجی کے بارے میں والدہ بتاتی ہیں کہ اگر کبھی وہ نانا ابو کا سوٹ استری کر دیتیں تو وہ کپڑوں کی استری دوبارہ خراب کر کے پہنتے تھے۔ ہر جمعہ کو باقاعدگی سے سر منڈواتے تھے۔ ایک بار میں نے والدہ سے کہا کہ میں نے کبھی نانا ابو کے سر پر بال نہیں دیکھے، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی ان کے سر پر بال نہیں دیکھے۔
ان کی قوتِ حافظہ کا اندازہ اس سے ہوا کہ ایک بار میرے ایک استاد محترم نے مجھے ایک سوال نانا ابو سے پوچھنے پر مامور کیا۔ میں جب گکھڑ حاضر ہوا تو وہ سوال نانا ابو سے عرض کیا۔ نانا ابو نے کہا کہ میرے دائیں طرف کی جو الماری ہے، اس کی فلاں لائن میں فلاں نمبر پر فلاں کتاب ہے، وہ لاؤ۔ جب میں وہ کتاب لایا تو صفحہ نمبر بھی بتایا۔ میں نے کھولا تو کہا کہ نیچے کی طرف سے پانچویں سطر پڑھو۔ پھر ترجمہ کرنے کا کہا اور پھر جواب دیا۔ ہم سب حیران رہ گئے کہ اس عمر میں بھی حافظے کا یہ عالم ہے۔
ان کی وفات کا صدمہ بہت بڑا ہے لیکن حکمِ الٰہی یہی ہے۔ آج وہ گئے، کل ہم نے جانا ہے۔ بارگاہِ الٰہی میں یہی التجا ہے کہ ہمیں زندگی بھر نانا ابو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے حق میں ان کی تمام دعائیں قبول فرمائے اور ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں برسائے، آمین۔




















