نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں

ام ریان ظہیر

محترم ناناجان کے بارے میں جملہ اقارب خاصی تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ میں صرف اپنے حوالے سے بعض یادداشتیں تحریر کرنا چاہوں گی۔ 

جب میری نسبت برطانیہ میں طے ہوئی تو میں یہ سوچ کر بہت آزردہ تھی کہ ملک چھوڑ کر اپنوں سے دور جانا پڑے گا۔ ناناجان کو معلوم ہوا تو انھوں نے فرمایا کہ تم تو بہت خوش قسمت ہو کہ اللہ نے تمھیں اپنے دین کی خدمت کے لیے چن لیا ہے اور تم کفار کے ملک میں جا کر دین کی خدمت کرو گی۔ جب برطانیہ روانگی کا وقت قریب آیا تو میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئی۔ نانا جان فرمانے لگے کہ وہاں مدرسہ میں جو بھی اسباق پڑھاؤ گی، خلوص دل سے پڑھانا اور دنیا کا لالچ مت رکھنا۔ دنیا خود تمہارے پاس آئے گی۔ پھر دین ودنیا میں کامیابی کے لیے دعا فرمائی۔ برطانیہ جا کر نانا جان کی اس بات کا عملی مشاہدہ بھی کیا۔ جب بھی کوئی مشکل پیش آئی، اللہ تعالیٰ نے غیبی مدد فرمائی۔

جب برطانیہ میں مسلمان خواتین کے نقاب پہننے کے خلاف مہم چلی تو پاکستان کے اخبارات میں بھی اس کا چرچا ہوا۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان آئی تو نانا جان سے ملاقات ہونے پر ان کا پہلا سوال یہ تھا کہ ’’کڑیے! توں تے پردہ نئیں چھڈ دتا؟‘‘ (بیٹی، کہیں تم نے تو پردہ کرنا نہیں چھوڑ دیا؟) میں نے انھیں اطمینان دلایا کہ الحمد للہ پردہ اسی طرح قائم ہے اور رہے گا۔ یہ انھی بزرگوں کی دین سے محبت اور ہمارے دادا جان حضرت مولانا قاضی عبداللطیف نور اللہ مرقدہ کی پردے سے متعلق ہماری ذہن سازی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسانیاں پیدا فرمائیں اور ناچیز نے پردے کا اہتمام کرتے ہوئے برطانیہ کی یونی ورسٹیوں میں تعلیم بھی حاصل کی اور سرکاری اداروں میں مختلف کورسز بھی کیے۔ 

جب بھی پاکستان آنا ہوتا اور میں نانا جان کو ان کورسز کے متعلق تفصیل بتاتی تو بہت خوش ہوتے اور باقاعدہ ہاتھ اٹھا کر دعا فرماتے۔ ایک سوال ہمیشہ پوچھتے کہ تمہاری تنخواہ کتنی ہے؟ میں بتاتی تو فرماتے کہ پاؤنڈوں میں نہیں، پاکستانی روپوں میں بتاؤ۔ پھر پوچھتے کہ وہاں کے اخراجات کیسے ہوتے ہیں؟ مہنگائی زیادہ ہے یا کم؟ پھر برکت کی دعا فرماتے۔ 

برطانیہ میں زیر تعلیم طالبات اردو زبان سے ناآشنا لیکن نانا جان کے مقام اور ان کی دینی خدمات سے بخوبی واقف ہوتی تھیں اور اکثر اس خواہش کا اظہار کرتی تھیں کہ ان کی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔ گزشتہ سال حج سے واپسی پر میں نے نانا جان سے عرض کیا کہ اگر مجھے موقع ملا تو میں آپ کی اجازت سے آپ کی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کرنا چاہوں گی۔ آپ نے فرمایا کہ ضرور کرو۔ پھر پوچھا کہ سب سے پہلے کون سی کتاب کا ترجمہ کرو گی؟ میں نے عرض کیا کہ آپ جس کے بارے میں حکم فرمائیں، ویسے میرا ارادہ کسی مختصر رسالے سے ابتدا کرنے کا ہے۔ فرمایا کہ ڈاڑھی کے مسئلے پر میرے رسالے سے شروع کرو اور اسے وہاں برطانیہ میں بھی تقسیم کرنا، کیونکہ وہاں ڈاڑھی کے حکم پر عمل ناپید ہے۔ پھر بڑے آزردہ انداز میں فرمایا کہ اب تو اسلامی ممالک میں بھی یہی حال ہے۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو ہدایت نصیب فرمائیں۔

نانا جان ٹی وی کے سخت خلاف تھے۔ ہمارا ماموں زاد محمد اکرم (جو کم عمری میں ہی انتقال کر گیا) ٹی وی کا بہت شوقین تھا۔ ایک مرتبہ وہ ٹی وی دیکھنے کے لیے ہمسایوں کے گھر چلا گیا۔ اس کی والدہ کو پتہ چلا تو انھوں نے اس کی پٹائی کرنا شروع کر دی۔ ہماری چھوٹی نانی جان بہت نرم دل اور سادہ مزاج تھیں۔ وہ انھیں منع کرنے لگیں کہ اسے مت مارو۔ خاص طور پر انھیں یہ ڈر تھا کہ کہیں نانا جان کو پتہ نہ چل جائے۔ اتنے میں نانا جان مغرب کی نماز پڑھا کر گھر آ گئے۔ انھوں نے ممانی جان کو محمد اکرم کی پٹائی کرتے دیکھا تو پوچھا کہ کیوں مار رہی ہو؟ ممانی جان کے بولنے سے پہلے ہی نانی جان نے بچے کا دفاع کرنا چاہا اور بڑی سادگی سے کہنے لگیں کہ ہاں، میں بھی اسے کہہ رہی ہوں کہ اسے مت مارو۔ بچہ ہے، کیا ہوا جو ٹی وی دیکھنے چلا گیا۔ اس پر اس طرح پٹائی تو نہ کرو۔ نانا جان ٹی وی کا نام سنتے ہی فوراً چوکنا ہو گئے اور فرمایا کہ اچھا، یہ ٹی وی دیکھنے گیا تھا؟ اسے اور مارو۔

میں طالبات کو ایک بات بڑے فخر سے بتایا کرتی ہوں کہ میں نے نورانی قاعدہ سے لے کر دورۂ حدیث تک تمام اسباق اپنی والدہ محترمہ سے پڑھے ہیں۔ وہ حیرت سے پوچھتی ہیں کہ انھوں نے کن سے پڑھا ہے تو میں بتاتی ہوں کہ اپنے والد شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، اپنے چچا اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی ؒ اور اپنے سسر حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے پاس۔ 

میں فقہ سے خصوصی شغف کی بنا پر ہمیشہ فقہ کی کوئی نہ کوئی کتاب ضرور پڑھاتی ہوں۔ ایک موقع پر میں کتاب الاختیار پڑھا رہی تھی تو نانا جان سے مجھ سے کہا کہ اس کے مصنف کا نام اور حالات زندگی بتاؤ۔ پہلی مرتبہ تو میرے ذہن میں یہ چیزیں نہیں تھیں، لیکن اگلی مرتبہ آئی تو یہ چیزیں خوب رٹ کر آئی کہ نانا جان پوچھیں گے اور جواب نہ آنے پر ڈانٹ پڑے گی۔

ایک مرتبہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ انگریزی میں گرینڈ فادر (Grandfather) کسے کہتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ دادا یا نانا کو۔ فرمانے لگے کہ شکر ہے۔ میں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا تو انھوں نے بتایا کہ (نانا جان کے نواسہ اور ہمارے پھوپھی زاد) رضوان کی بیٹی آئی تھی تو وہ مجھے گرینڈ فادر کہہ رہی تھی۔ میں سمجھا کہ یہ انگریزی میں کوئی گالی دے رہی ہے۔

گزشتہ سال اللہ کے فضل وکرم سے مجھے حج کی سعادت حاصل ہوئی اور میں سفر پر جانے سے پہلے ملاقات کے لیے نانا جان کے پاس حاضر ہوئی تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ بڑا عمرہ (جعرانہ سے احرام باندھ کر) ضرور کرنا اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کرنا۔ حج سے واپسی پر نانا جان سے جو ملاقات ہوئی، وہ زندگی کا ایک یادگار سرمایہ رہے گی کیونکہ اس موقع پر میں نے آخری مرتبہ والد محترم اور نانا جان کو اکٹھے دیکھا۔ ان دونوں کی بھی یہ آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ والد صاحب داغ مفارقت دے گئے اور اس کے بعد دو ماہ سے بھی کم عرصے میں نانا جان کی جدائی کا صدمہ بھی ہمیں سہنا پڑا۔ 

یادیں اور باتیں تو بہت سی ہیں، لیکن میں انھی پر اکتفا کرتی ہوں۔ تمام پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ جب بھی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں، ہمارے سب بزرگوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعا فرمائیں اور مجھے اور میرے بچوں کو بھی اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب ہستیوں کے درجات بلند فرمائیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بچوں کو بھی راہ راست پر قائم رکھیں اور انھیں عالم باعمل بن کر دین کی خدمت کرنے اور اپنے باپ دادا کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق سے نوازیں۔ آمین

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

Since 1st December 2020

Flag Counter