مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق

ڈاکٹر محفوظ احمد

امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفرا زخان صفدرؒ ان علماے دین میں سے ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی تعلیم وتعلم اور تصنیف وتالیف میں بسرکی۔ آپ نے ۹۵ سال کی عمر پائی اور تقریباً چوالیس کتب تصنیف فرمائیں۔ ان تصانیف میں آپ ایک محقق کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔ تحقیق کوبطور طرز زندگی اپنانا، سچی لگن، مختلف علوم سے واقفیت، اہم اور بنیادی مصادرومراجع تک رسائی، حصول مواد کے ذرائع سے واقفیت، حقائق کی تلاش اور چھان پھٹک، مواد کی ترتیب وتنظیم اور کتاب کی بہتر تسوید اور پیش کش کو تحقیق کے بنیادی لوازم اور حق گوئی، غیر متعصبانہ وغیر جانبدارانہ تحقیق کو دنیاوی مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ بنانا، دلچسپی اور محنت، وسعت مطالعہ، نقد کی صلاحیت کوایک محقق کے بنیادی اوصاف شمار کیا جاتا ہے۔ اصول تحقیق کے ان اصولوں اور قواعد کی روشنی میں جب حضرت شیخ الحدیث ؒ کی تصنیفات کو دیکھا جاتا ہے تو قاری بلاتردد یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آپ کی تمام تالیفات وتصنیفات تحقیق کے اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہیں۔ 

حضرت امام اہل سنت کی اکثر تصانیف ان عقائد ومسائل سے متعلق ہیں جو اہل سنت اور دوسرے مکاتب فکر کے مابین مختلف فیہ ہیں۔ مختلف فیہ موضوعا ت پر لکھنا عام موضوع پر لکھنے سے مشکل ہوتاہے، تاہم آپ کی ہر تحریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے متعلقہ موضوع پرقلم اٹھانے کاحق ادا کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کی کتاب ’’ تسکین الصدور فی تحقیق احوال الموتی فی البرزخ والقبور‘‘ احوال برزخ سے متعلق ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک عالم برزخ میں اعادۂ روح ہوتاہے، سماع موتی کی حقیقت کو تسلیم کیا گیاہے، قبر میں جسم وروح دونوں کو عذاب ہوتا ہے اور دعا میں انبیاے کرام اور صالحین امت کا توسل درست ہے جب کہ بعض مکاتب فکر کے نزدیک یہ تمام عقائد درست نہیں ۔ حضرت شیخ الحدیثؒ نے سب سے پہلے ان عقائد کے بارے میں یہ ثابت کیا ہے قدیم وجدید اکابر علما نے انھیں اپنی اپنی کتب میں تحریر کیا ہے اور انہیں اہل سنت کے عقائد میں شمار کیا ہے۔ اس دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے علامہ طاہر بن احمد الحنفیؒ (م ۵۴۲ھ) کی ’’خلاصۃ الفتاویٰ‘‘ سے لے کر مولانا اشرف علی تھانویؒ (م۱۹۴۳ء) کی تصانیف ’’نشرالطیب‘‘ اور ’’التکشف‘‘ تک عربی، فارسی اور اردو زبان کے درجنوں مآخذ سے حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد ان عقائد کو اسلام کے بنیادی مصادر قرآن وحدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔ مثلاً توسل کے بارے میں علماے اسلام کے نظریات پیش کرنے کے بعد آیت ’’استفتاح‘‘ اور آیت وسیلہ کو توسل کے جواز میں بطور دلیل پیش کیا گیا اور متعدد احادیث اور آثار صحابہ سے اپنے دعویٰ کو مبرہن کیا گیا ہے۔ (تسکین الصدور، ص۴۲۲)

تحقیق میں اقتباس کو بہت اہمیت حاصل ہے، کیونکہ اقتبا س پیش کرنے سے کسی جماعت، گروہ یامصنف کے نقطہ نظر کا تجزیہ کرکے اس کی تردید کرنے، دو متضاد خیالات کا جزوی موازنہ کرنے اور اپنے دعویٰ کی توضیح واثبات کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ کسی بھی کتاب کا حوالہ اصل عبارت نقل کرنے کے علاوہ مفہومی عبارت کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ نے ا س کتاب میں مفہومی اقتباس کی بجائے اصل اقتباسات نقل کرنے کو ترجیح دی ہے۔ جب عقائدونظریات کا موازنہ یاتردید مقصود ہوتو اصل اقتباس ہی تحقیق کی ضرورت ہوتاہے، لہٰذا آپ نے بھی اسی طریقہ کواختیار کیا۔ 

جس طرح اقتباسات تحقیق کے معیار کو بلند کرتے ہیں، اسی طرح متعلقہ مآخذ کا حوالہ دینے سے بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری اصل مآخذ تک آسانی سے رسائی حاصل کر لے۔ قدیم علما اقتباس کے لیے کبھی محض کتاب کانام ذکر کرتے اور کبھی مصنف کے نام پر اکتفا کرتے ہیں، جبکہ جدید علما کتاب کانام اور متعلقہ جلد وصفحہ بھی نقل کرتے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیثؒ نے تسکین الصدور میں موخرالذکر طریقہ اختیار کیا ہے۔ آپ ہر اقتباس کے شروع میں مصنف کانام مع سال وفات اور اقتباس کے آخر میں کتاب کانام اور جلد وصفحہ نمبر تحریر کرتے ہیں۔ بعض مقامات پرکتاب کے نام کے ساتھ باب کا نام بھی تحریر کرتے ہیں، جیسے عذاب وراحت قبر کے اثبات کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (م۱۱۷۶ھ) کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کے ’’باب اختلاف احوال الناس فی البرزخ‘‘ کی بابت بھی تحریر کیا ہے۔ (تسکین الصدور، ص ۱۴۵)

جدید محققین اپنی تصنیف کے آخر میں مصادر ومراجع کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ اس کی ضرورت اس لیے محسوس کی جاتی ہے کہ مصادر ومراجع کے دیکھنے سے ہی کتاب کی تحقیقی نوعیت کا اظہار ہو جاتاہے۔ حضرت محدث اعظم ؒ نے اس کتاب میں سینکڑوں کتب کے حوالہ جات دیے ہیں، لیکن مصادر ومراجع کی صورت میں فہرست تیار نہیں کی۔ مصادر ومراجع کاکسی کتاب میں نہ ہونا محقق کے تحقیقی مقام پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالتا، تاہم یہ قارئین کی سہولت کے لیے ہوتا ہے۔ بہرحال جدید طرز تحقیق میں تصنیف وتحقیق کے لیے اسے لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ حضرت ؒ کے علمی ورثا اگر اس کتاب کی طبع جدید کے وقت مصادر ومراجع کی فہرست درج کرنے کا اہتمام کر لیں تو کتاب جدید تحقیق کے ظاہری معیارات کے لحاظ سے بھی مکمل ہو جائے گی۔

جد ید تحقیق میں ایک محقق دوسرے محقق کے نظریات کا رد مثبت انداز میں ہی کرتا ہے اور کوئی ایسا لفظ استعمال کرنا جس میں مخالف کی تضحیک ہو، درست نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ علما کے ہاں ایسے الفاظ کے استعمال کی روایت رہی ہے۔ حضرت شیخ الحدیثؒ بھی اس روایت پر عمل پیرا نظر آتے ہیں، چنانچہ حیات انبیا کے بارے میں فریق مخالف کا نظریہ پیش کرنے کے بعدفرماتے ہیں: ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘۔ (تسکین الصدور، ص۲۸۷) محقق کی طرف سے ایسے جملوں کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب فریق مخالف یا فریق ثانی کے دلائل انتہائی کمزور ہوں اور وہ اپنے کمزور دلائل کے باوجود دعویٰ کو بدستور قائم رکھے ہوئے ہو۔ 

بہرحال حضرت امام اہل سنتؒ کی شخصیت علمی اور تحقیقی میدان میں مسلمہ حیثیت کی حامل ہے۔ مسائل میں آپ کا تحقیقی انداز بے مثل تھا۔ یہ انداز تحقیق صرف اسی کتاب میں نہیں بلکہ آپ کی تمام تصنیفات میں دکھائی دیتا ہے، اس لیے آپ کی تمام تصنیفات نہ صرف علمی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں بلکہ محققین کے لیے تحقیق میں روشنی کا مینار ہیں۔

شخصیات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

Flag Counter