سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں

پروفیسر عبد الواحد سجاد

اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے بطل جلیل پیدا فرمائے جنہوں نے نہ صرف سنت و بدعت میں امتیاز کو نمایاں کیا بلکہ سنت کے نور کو بدعت کی ظلمت پرغالب کرنے کے لیے نامساعد حالات کے باوجود سرگرم کردار ادا کیا تاکہ دین کا نورانی چہرہ شرک و بدعت کی آلائشوں سے داغ دار نہ ہونے پائے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے خانوادے کا یہ اعزاز ہے کہ اس نے ہندوستان میں سنت کے دائرے سے خرافات کے اخراج میں قائدانہ کردار ادا کیا جسے دارالعلوم دیو بند کے بیٹوں اور اس کے فضلا نے آگے بڑھایا۔ شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بزرگوں مولانا قاسم نانوتوی، ؒ مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ کے کام کو نئے اسلوب سے آگے بڑھانے اور بدعت کے تاروپود بکھیرنے کا جو کام سونپا، اسے حجت و برہان کی کمک اور محققانہ انداز بیان نے منفرد بنا دیا۔ 

آپ نے ’’راہ سنت‘‘ میں سنت اور بدعت کی تفریق واضح کرنے کے لیے متانت، سلاست اور لطافت سے حجت قائم کی ۔ جذباتیت، اشتعال اور درشت کلامی کا عنصر ڈھونڈے نہیں ملتا۔ قرآنی آیات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات اور اسلاف کی عبارات سے ایسے نکات سامنے لائے جو آپ جیسے محقق کے علاوہ کسی کے لیے ممکن نہ تھا۔ تحریر میں سب سے اب اہم بات یہ ہے کہ محققانہ انداز ہونے کے باوجود جس طرح خواص اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح عوام بھی فیض یاب ہوتے ہیں ۔ 

حضرت شیخ ؒ کی تصنیف لطیف ’’راہ سنت‘‘ اس وقت میرے سامنے ہے۔ ’’عرض حال ‘‘ سے خاتمہ تک جو چیز بھی لکھی گئی، وہ دلائل اور مکمل حوالہ جات کے ساتھ ہے۔ نہ اس میں قطع و برید کی گئی ہے اور نہ دوسروں کی عبارات سے مطلب کے الفاظ لے کر دشنام طرازی کی گئی ہے۔ 

باب اول میں کتاب اللہ کی ہمہ گیر صداقت، سنت کی جمیت، اجماع امت اور تعامل خیرالقرون کے حجت ہونے کا ثبوت دیا اور اس پر ہونے والے ایک ایک اعتراض کو نقل کرنے کے بعد اس کا مسکت جواب دیا ہے۔ 

باب دوم میں بدعت کی لغوی و شرعی اقسام و احکام، احادیث سے بدعت کی تردید اور بدعت حسنہ اور سیۂ کی تحقیق جیسے مباحث پر مشتمل ہے۔

باب سوم میں ’’بدعت کے جواز کے دلائل پر ایک نظر‘‘ کے عنوان کے تحت فریق مخالف کی بنیادی دلیل ’’اصل اشیا میں اباحت‘‘ کے جواب میں دلائل کے انبار لگا کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ کسی مباح کی اباحت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی۔ اگرچہ بعض نے اصل اشیا میں اباحت تسلیم کی ہے، لیکن جمہور کا مسلک اس کے خلاف ہے۔ حضرت علی، ائمہ اربعہ، اہل بیت، کوفہ کے فقہا و محدثین اور خاص طور پر حضرت امام ابوحنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ اصل اشیا میں حرمت کے قائل ہیں اور باقی جمہور اصل اشیا میں توقف کے قائل ہیں بلکہ صاحب در مختار نے صاف لکھا ہے کہ ’’ اہل سنت والجماعت کا صحیح مذہب یہ ہے کہ اصل اشیا میں توقف ہے اور اباحت کا قول معتزلہ کا خیال اور راے ہے‘‘۔ 

باب چہارم میں ’’عبادات میں اپنی طر ف سے اوقات اور کیفیات کا تعین کرنا بدعت ہے‘‘ کے عنوان کے تحت فرمایا کہ ضروری نہیں کہ کوئی چیز اصل ہی میں بری ہو تو وہ بدعت ہوگی بلکہ وہ اہم طاعات اور عبادات بھی جن کو شریعت نے مطلق چھوڑ ا ہے، ان میں اپنی طرف سے قیود لگا دینا یا ان کی کیفیت بدل دینا یا اپنی طرف سے اوقات کے ساتھ متعین کر دینا، یہ بھی شریعت کی اصطلاح میں بدعت ہو گی۔ پھر حضرت ابوہریرہؓ کی اس روایت کو اپنے موقف کے حق میں پیش فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جمعہ کی رات کو دوسری راتوں سے نماز اور قیام کے لیے خاص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو دوسرے دنوں سے روزہ کے لیے خاص نہ کرو، مگر ہاں اگر کوئی شخص روزے رکھتا ہے اورجمعہ کا دن بھی اس میں آجائے توالگ بات ہے۔‘‘ 

پھر علامہ ابو اسحاق شاطبی کی الاعتصام، حافظ ابن دقیق العید کی احکام الاحکام، حضرت شاہ ولی اللہ ؒ کی حجۃ اللہ البالغہ، علامہ زین العابدین کی البحرالرائق اور حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے مکتوبات سے اپنے دعوے کا اثبات فرماتے ہوئے حضرات صحابہ کرامؓ کا ایسی کیفیات اور ہیئات کی تعیین کے متعلق جو فیصلہ ہے، اس کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ پھر بدعت کی تردید کے عقلی دلائل دے کر سنت اور بدعت کے مقام کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ سنت کو اگر اصلی شکل میں محفوظ رکھا جائے تووہ قیمتی موتی ہے اور اس کی قیمت دنیا و ما فیا کے خزانے بھی ادا نہیں کر سکتے۔

باب پنجم میں ’’کیا بدعات میں بھی کوئی خوبی بھی ہوتی ہے اور ان پر دلائل بھی پیش کیے جا سکتے ہیں؟‘‘ کے عنوان کے تحت واضح کیا کہ بدعات کی ایجاد میں محاسن اور خوبیوں کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور اس کی ترویج کے لیے دلائل بھی تراشے گئے، جیسے مشرکین مکہ نے شرک جیسے قبیح فعل کو مستحسن ثابت کرنے کے لیے تقرب الٰہی کے خوش کن الفاظ کا سہارا لیا اور مرد وزن کے برہن ہو کر طواف کعبہ کرنے کی یہ دلیل دی کہ ہم کپڑوں میں گناہ کرتے ہیں تو ان میں اللہ کے پاک گھر کا طواف کیسے کریں؟ لیکن فتح مکہ کے بعد صدیوں کی اس بدعت کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاتمہ کر دیا۔ اسی طرح ہر مبتدع اپنی بدعت پر کسی شرعی دلیل سے استشہاد کرتا ہے اور اس طریقے سے وہ اسے اپنی عقل اور خواہش کے مطابق بنا لیتا ہے۔ اس غلط استشہاد کی بنا پر کسی بدعت کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ قرآن وحدیث کا صحیح مفہوم وہی ہوگا جو حضرات صحابہ کرامؓ اور تابعین ؒ نے سمجھا۔

باب ششم میں ’’سنت اور بدعت میں اشتباہ ہو تو کیا کرنا چاہیے‘‘ کی بحث میں آپ نے براہین قاطعہ سے ثابت کیا کہ جس کا م کے بدعت اور سنت ہونے میں شبہ ہو، اس کو چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ 

باب ہفتم میں فرداً فرداً تمام بدعات پر بحث کرتے ہوئے محفل میلاد کی تاریخ، میلاد میں قیام، ایصال ثواب کے لیے ربیع الاول کی تعیین، عرس، ذکر بالجہر، مزارات کی پختگی اور ان پر گنبد کی تعمیر، قبروں پر چراغاں کرنا، چادریں ڈالنا اور پھول چڑھانا، قبروں کی مجاوری، نماز جنازہ کے بعد دعا، قبر پر اذان دینا، انگوٹھے چومنا، کفنی یا الفی لکھنے، تلاوت قرآن پر اجرت، ایصال ثواب کے لیے دنوں کی تعیین، میت کے گھر اجتماع اور کھانا پکانا، تیجہ دسواں اور چالیسواں، کھانے پر ختم، چٹائی اور پھوڑی بچھانا، حیلہ اسقاط، دوران قرآن، عبدالنبی اور عبدالرسول نام رکھنا وغیرہ پر بحث کی گئی ہے۔ یہ باب ۱۳۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ ایک ایک چیز کو کھول کر بیان کیا گیا اور فریق مخالف کے اعتراضات نقل کرکے ان کا جواب دیا گیا ہے۔ آخری چودہ صفحات کے خاتمے میں فریق مخالف کے گیارہ الزامی جوابات و اعتراضات اور ان کا جواب دے کر سنت اور بدعت کے حوالہ سے کی جانے والی بحث کو مکمل فرمایا۔ 

امام اہل سنت نے اپنی پوری زندگی سنت کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ہر چھوٹے بڑے فتنے کے خلاف قلم اٹھایا اور جس موضوع پر بحث کی، اس کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا۔ دلائل و براہین قاطعہ کے ہتھیار کو استعمال کیا۔ دشنام یا جذباتیت سے کام لینے کے بجائے اپنے اکابر کی اعلیٰ اقدار و روایات کے مطابق اعتدال و استدلال کا ایسا رنگ اپنایا کہ مخالف کو بھی قائل کر لیا ۔ حضرت شیخ نے اسلوب تحریر میں اپنے عہد کی نزاکتوں کو بھی ملحوظ رکھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے مصداق کہ لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق بات کرو، اپنا فرض بخوبی نبھایا۔ 


تعارف و تبصرہ

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر