چند یادیں اور تاثرات

مولانا مشتاق احمد

احقر نے ۱۹۸۶ء یا ۱۹۸۷ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورہ تفسیر کے لیے داخلہ لیا۔ اس وقت حضرت مولانا عبدالقدوس قارن ناظم مدرسہ تھے۔ امام مسجد بھی وہی تھے۔ سب سے پہلے دارالاقامہ کی مشرقی جانب دوسری منزل پر ایک کمرہ کلاس روم کے طور پر تجویز ہوا۔ تعداد زیا دہ ہونے پر مسجد کے برآمد ہ میں کلاس ہونے لگی۔ طلبہ کی بکثرت آمدکی وجہ سے کلاس مسجد کی دوسری منزل پر منتقل ہوگئی اور دورہ تفسیر کے اختتام تک وہیں تعلیمی سلسلہ جاری رہا۔ ایک دن دارالاقامہ کی دوسری منزل پر واقع درسگاہ میں جاری تھا کہ کوئی خاتون بچے کو اٹھائے ہوئے وہاں پہنچ گئی کہ بچہ کو دم کرانا ہے۔ حضرت نے معذرت کی، لیکن اس نے ٹلنے کا نام نہ لیا تو اسے اندر بلاکر بچے کو دم کر دیا۔ فرمایا کہ حرف علت کو اندر بلاؤ۔ بعد ازاں فرمانے لگے جس نے سبق میں خلل ڈال دیا ہے، میں اسے حرف علت نہ کہوں تو کیا کہوں! 

ہم طلبہ سے حضرت شیخ کبھی کبھی دل لگی فرما لیتے تھے۔ مسجد کے برآمد ہ میں جب کلاس لگتی تھی تو احقر آپ کے بالکل سامنے پہلی صف میں بیٹھتا تھا۔ ایک دن آپ جنات کا تذکر ہ فرما رہے تھے کہ وہ انسانی شکل میں آکر پڑھتے بھی ہیں۔ پھر اچانک میر ی طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے فرمانے لگے، مولانا آپ کہیں جنات میں سے تو نہیں ہیں؟ اس پر طلبہ نے ایک قہقہہ لگایا اور سبق کی تھکاوٹ دور ہوگئی۔ بعض ساتھی کئی دن تک احقر کو جن کہہ کر پکارتے رہے۔ ڈیڑھ پو نے دوماہ کے اس عرصے میں مجھے متعدد بار حضرت کے جوتے اٹھانے اور بدن دبانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

ایک بار کوئی صاحب حضرت شیخ سے تاریخ لینے کے لیے آئے اور سفارش کے طور پر مولانا زاہد الراشدی صاحب کو ساتھ لائے۔ سبق ختم ہوا تو انہوں نے مدعا عرض کیا۔ حضرت نے فرمایا: سوچ بھی نہیں سکتا۔ شعبان رمضان میں اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ کھانسی بھی آئے تو روک لیتا ہوں کہ شوال میں کھانسوں گا۔

احقر سمیت متعدد طلبہ ایسے تھے جنھوں نے حضرت شیخ الحد یث ؒ اور حضرت صوفی عبدالحمید خان سواتی کی پہلی مرتبہ زیارت کی تھی۔ دونوں حضرات جب اکٹھے کھڑے محو گفتگو ہوتے تھے تو وہ عجب پر بہا ر نظارہ ہوتا تھا۔ ہمارے لیے دور سے تمیز کرنا مشکل ہوتا تھا کہ شیخ صاحب کون سے ہیں اور صوفی صاحب کون سے! 

کم از کم چار بار گکھڑمنڈی حضرت کی زیارت کے لیے حاضری کا موقع ملا۔ ایک بار آپ کے پیچھے نماز جمعہ بھی ادا کی۔ آپ پٹھان ہونے کے باوجود پنجابی زبان میں تقریر کرتے ہوئے بہت بھلے لگتے تھے۔ اس تقریر میں آپ نے ایک واقعہ سنایا کہ میرے پاس ایک صاحب آئے اور علیحدگی میں بات کر نا چاہی، لیکن خاموش ہو کر رہ گئے۔ میں نے کہا کہ میر ی مصروفیت کا خیال کرو اور اپنی بات کہو تو اس نے کہا کہ میری کنواری لڑکی امید سے ہے۔ میں نے کہا کہ کتے کا جھوٹا کتاہی کھاتا ہے۔ جس کا حمل ہے، اسی کے ساتھ بیاہ کر دو۔ وہ زار وقطار رونے لگا کہ بیاہ کیسے کردوں، اس کے سگے بھائی نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

ایک بار اپنے ایک ہم سبق کے ساتھ حاضر خدمت ہوا تو نماز عصر کا وقت قریب تھا۔ ہم نے اجازت چاہی۔ خیال تھا کہ نماز گوجرانوالہ جاکر پڑھ لیں گے۔ حضرت نے نماز باجماعت پڑھے بغیر جانے کی اجازت نہ دی۔ نماز کے بعد مسجد ہی میں الوداعی مصافحہ کی کوشش کی تو فرمایا کہ مسجد سے باہر نکل کر ملیں گے۔ باہر نکل کر دوتین منٹ بات چیت کی، پھر معا نقہ کیا اور جانے کی اجازت دی۔ احقر کو یاد پڑتا ہے کہ فاتحہ خلف الاما م کے موضوع پر ایک ضخیم قلمی مسودہ بھی میں نے حضرت کو ہدیہ کیا تھا۔ اس کے مصنف کا نام یاد نہیں رہا۔ آپ خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ اب طبع ہوچکاہے اور اس بزرگ کے پوتے پرسوں آکر مجھے ایک نسخہ دے گئے ہیں۔

آپ نے دورہ تفسیر کے اختتام پر کئی نصیحتیں فرمائی تھیں جن میں سے ایک نصیحت یاد ہے۔ فرمایا کہ یہ مت سمجھنا کہ باہر نکلوگے تو تمہیں بنا بنایا ماحول مل جائے گا۔ ہرگز نہیں، تمہیں اپنا ماحول خود بنانا پڑے گا۔ ایک بار گکھڑمنڈی حاضری کے موقعہ پر نصیحت کی درخوا ست کی تو فرمایا کہ جو پڑھو، مطالعہ کر کے پڑھو اور جو پڑھاؤ، مطالعہ کر کے پڑھاؤ۔ 

ایک بار رمحترم قاری حمادالزہراوی کی وساطت سے حضرت امام اہل سنت کی زیارت کا موقع ملا۔ قاری صاحب نے دورہ تفسیر کی کلاس سے گفتگو کے لیے حاضر ی کا حکم دیا تھا۔ حضرت شیخ کی معذوری کا عالم دیکھ کر دل کو شدید دھچکا لگا۔ رنجیدہ دلی کے ساتھ واپس لوٹا۔ 

اس میں شک نہیں کہ حضرت شیخ الحدیث ؒ ایک ہمہ جہت اور نا بغہ عصر شخصیت تھے۔ آپ نے مختلف علمی ودعوتی کاموں کو اپنا یا اور ہر شعبہ میں اپنے ان مٹ نقوش چھوڑے ۔کئی لوگ آکاس بیل کی مانند ہوتے ہیں کہ ان کے زیر سایہ کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔ حضرت شیخ الحدیث کے متعلق بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک شجر سایہ دار تھے۔ آپ کے زیر سایہ ہزاروں علما وطلبہ نے دینی تعلیمات سیکھیں، اپنائیں اور لوگوں تک مو ثر طریقہ سے پہنچائیں۔ آپ نے عقائد باطلہ کی تر دید میں بڑی حکمت عملی سے کام کیا۔ تحر یر وتقریر اور بحث مباحثہ کے ذریعہ لوگوں کے شکوک وشبہات دور کیے اور دین اسلام اور مسلک دیوبند کی حقانیت آشکاراکی۔ حضرت شیخ الحدیث کی شخصیت کے موثر اور مقبول عام ہونے کی وجوہ احقر کے خیال کے مطابق یہ ہیں :

(۱) آپ نے ساٹھ سال سے زائد عرصہ قرآن وحدیث کی بے لوث خدمت کی۔ آپ نے علماے سو کی طرح دین کی آڑ میں دنیا اکٹھی نہیں کی۔ بقول حفیظ جالندھری :

یہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں

(۲) آپ نے مسلک حق کی تعبیر وتشریح موثر انداز میں کی۔ آپ کو اپنے دور کا سب سے بڑا مسلکی ترجمان کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔

(۳) آپ علم وعمل کی جامیعت رکھتے تھے۔ علم وعمل کی جامعیت ایک ایسا سدا بہار پھول ہے جو لوگوں کو بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگرچہ جہالت عام ہے، لیکن اس کے باوجود علم وعمل کی جامعیت لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ایسے حضرات کے اردگرد لوگ اس طرح جمع ہوتے ہیں جیسے شمع کے گردپروانے ۔

(۴) آپ نے کبھی دوسرے مسلک کے رہنماؤں کی طرف غلط باتیں منسوب نہیں کیں اور ان پر کیچڑ نہیں اچھالا۔ تحر یر وتقریر میں مکمل ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مخالفین بھی حضرت کی شخصیت کا احترام کرتے تھے۔ 

حضرت امام اہل سنت کے نام لیواؤں، عقیدت مندوں اور شاگردوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف اس پر نازاں نہ رہیں کہ حضرت شیخ الحدیث نے کافی کا م کر دیا ہے اور یہ سمجھیں کہ اب ہمیں بدعات ورسومات کے خلاف کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرخدا نخواستہ یہ سمجھاگیا تو محض پدرم سلطان بودوالی بات ہوگی۔ خطابت ومباحثات اور تحریروں میں ذمہ دارانہ اور عالمانہ طرز عمل اختیار کیا جائے۔ بد قسمتی سے سر یلی اور جوشیلی تقریر وں کا ایسا رواج پڑگیا ہے کہ خطبا بھی عوام کا صرف چسکا پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عوام بھی سریلے پن یا جوشیلے پن کے معیار پر ہی علما کو پر کھتے ہیں۔ حضرت امام اہل سنت کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہونی چاہیے اور ہماری خطابت کا مرکز ومحور قرآن وسنت، سیرت طیبہ، سیرت صحابہ، سیر ت اولیا اور شرک وبدعت کا رد ہونا چاہیے۔ حضرت شیخ کی تعلیمات سے یہ سبق ملتاہے کہ ہم عقائد واعمال میں ماانا علیہ واصحابی کا طرز اختیار کر یں، جمہور کی پیروی کریں اور تفردات کے پیچھے نہ دوڑیں۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے دروس کے حلقے زیادہ سے زیادہ قائم کرنے کی ضرروت ہے جہاں ادع الیٰ سبیل بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن کے مطابق عمل کرتے ہوئے اصلاح عقائد اور اصلاح اعمال کی مسلسل کوشش کی جائے۔ حضرت شیخ الحدیث کی عقیدت مندی کا تقاضا یہی ہے۔

حضرت شیخ الحدیث اس فانی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ باری باری سب نے چلے جانا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو آفتاب وماہتاب بن کر چلتے ہیں، دین اسلام کی سر بلندی کا جھنڈا لے کر نکلتے ہیں، قرآن وحد یث کی تعلیمات کو عام کرتے ہیں، تمام دنیا میں اپنا فیض پہنچاتے ہیں۔ حضرت شیخ الحدیث ؒ بھی اسی گروہ باصفا کے اہم رکن تھے۔ ان کی یادوں کے چراغ جلتے رہے ہیں اور جلتے رہیں گے۔ آپ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت تھے کہ بے شمار روحانی اولاد (تلامذہ) کے علاوہ آپ کی حقیقی اولاد بھی دین اسلام کی خدمت میں مصروف ہے۔ خصوصاً مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبدا لقدوس خان قارن اور مولانا عبدالحق خان بشیر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ مولانا عمار خان ناصر بھی اپنی الگ علمی پہچان رکھتے ہیں۔ یہ سب حضرات الباقیات الصالحات کا بہترین مصداق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب حضرات کی خدمات کو قبول فرمائیں اور ہم سب کو حضرت شیخ الحدیث قدس سرہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین۔

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر