ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

(خود نوشت سوانح حیات)


(حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی خود نوشت کے تکملہ کے طور پر ذیل میں وہ متفرق واقعات درج کیے جا رہے ہیں جو حضرت نے دروس، خطبات، مضامین اور مکاتیب میں بیان فرمائے ہیں اور جو ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مفید روشنی ڈالتے ہیں۔ مدیر)


زمانہ طالب علمی کے واقعات

  • الحمد للہ میں نے آج تک سینما نہیں دیکھا اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، کیونکہ ہمار ا یہ ذہن بنایا گیا تھا کہ تھیٹر نہیں دیکھنا، سینما نہیں دیکھنا۔ والد محترم کی ڈاڑھی سنت کے مطابق تھی، پکے نمازی او ربڑے مہمان نواز تھے، بالکل ان پڑھ۔ وہ ہمیں کہتے تھے بیٹے، تھیٹر نہیں دیکھنا، سینما نہیں دیکھنا۔ یہ ان کا دیا ہوا سبق مجھے آج تک یاد ہے، بھلایا نہیں ہے۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۹۴)
  • ہمارے علاقہ میں جہاں میری پیدایش ہوئی ہے، لوگ بڑے جاہل تھے۔ اب الحمدللہ بڑے سمجھدار ہو گئے ہیں، تعلیم آگئی ہے۔ جہالت کے زما نے میں لوگ بزرگوں کی قبروں پر چڑھا وے چڑھاتے، اور پہاڑی علاقہ ہے اور پہاڑوں پر چیڑھ، دیار اور بہار کے بلنددرخت ہیں، ان درختوں پر جھنڈے لٹکاتے جو قبروں کے پاس ہوتے تھے۔میں اس وقت نابالغ تھا اور میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی تقریریں سنتا تھا اور ان سے بڑا متاثر تھا۔ وہ تقریروں میں ان جھنڈوں کی بڑی تردید کرتے تھے اور میں درختوں پر چڑھنے کا بڑا ماہر تھا۔ میں ان مشکل درختوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر جھنڈے اتار کر طالب علموں کو دیتا تھا۔ کوئی ان کو سلوا لیتا تھا اور کوئی قرآن کریم پر غلاف چڑھا دیتا۔ ایک دفعہ میں درخت پر چڑھ کر جھنڈا اتار رہا تھا کہ لوگ آگئے۔ کہنے لگے کہ یہ قبر والا بابا تجھے تکلیف پہنچائے گا۔ چونکہ الحمدللہ ذہن پختہ تھا، میں نے کہاکہ تم مجھے نہ چھیڑو، بابا جانے اور میں جانوں۔ تم نے مجھے کچھ نہیں کہنا۔ وہ انتظار میں تھے کہ یہ اب کرے گااور بابا اس کی ٹانگ توڑ دے گا۔ میں جھنڈے اتار کر نیچے اتر آیا اور وہ دیکھتے رہ گئے کہ اسے کچھ نہیں ہوا۔ (ذخیرۃ الجنان، ۶/۱۷۵)
  • ۱۹۳۲ء یا ۱۹۳۳ء کا واقعہ ہے۔ جہانیاں منڈی میں ہم پڑھتے تھے۔ مسجد کے پاس کمرے تھے۔ ایک کمرے میں ایک پیر صاحب تھے۔ ڈاڑھی منڈوائی ہوئی تھی۔ چیلے ان کے خاصے تھے۔ گرمی کا زمانہ تھا۔ وہ مہتمم صاحب کے کمرے میں تھے۔ ظہر کی اذان ہوئی۔ میں گیا اور جا کر کہا کہ پیر صاحب! اذان ہو گئی ہے، نماز پڑھیں۔ پیر صاحب کہنے لگے کہ نماز دل کی ہوتی ہے۔ خیر میں واپس چلا گیا۔ جا کر وضو کیا اور نماز پڑھی۔ فارغ ہو کر جا رہا تھا کہ پیر صاحب نے مجھے بلایا۔ کہنے لگے کہ ادھر کوئی بیت الخلا ہے؟ میں نے کہا جی، دل میں کر لیں۔ انھوں نے میری شکایت میرے استاد سے کی اور کہا کہ آپ کا ایک شاگرد بڑا گستاخ ہے۔ استادوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ تم نے پیر صاحب کی توہین کی ہے۔ میں نے کہا، حضرت! بات صرف اتنی ہے کہ اذان ہو چکی تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ جا کر نماز پڑھو تو پیر صاحب نے کہا کہ ہم دل میں پڑھتے ہیں۔ میں نماز پڑھ کر اپنے کمرے کی طرف جا نے لگا تو یہ کہنے لگے، ادھر آؤ۔ میں گیا تو کہنے لگے کہ ادھر کوئی بیت الخلا ہے؟ تو میں نے کہا کہ دل میں کر لو۔ اگر آپ نماز دل میں پڑھ سکتے ہو تو یہ کا م بھی دل میں کرو، یہ کیوں ظاہر کرتے ہو؟ (خطبات امام اہل سنت ۳/۱۷۶)
  • استاد محترم مولانا غلام محمد لدھیانویؒ جہانیاں منڈی مسجد کے خطیب او رمدرس تھے۔ ہم ان کے پاس پڑھتے تھے۔ ۱۹۳۰ء کے قریب کا واقعہ ہے کہ ان کی برادری کا ایک آدمی پاگل ہو گیا جس کو انھوں نے لاہور پاگل خانے میں داخل کرا دیا۔ اس وقت ہندوستان میں صرف دو پاگل خانے تھے۔ ایک بریلی میں اور ایک اچھرہ لاہو رمیں۔ کچھ دنوں کے بعد اس کی خبر لینے کے لیے گئے اور کچھ تحفے تحائف بھی اس کے لیے لے گئے۔ وہ جب اپنے آدمی کے پا س پہنچے، ملے اور بیٹھے تو ایک اور آدمی بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور علمی گفتگو شروع کر دی۔ کبھی منطق کی، کبھی فلسفے کی، کبھی ریاضی کی، کبھی تفسیر کی، کبھی حدیث کی باتیں کرتا۔ مولانا بھی بڑے فاضل آدمی تھے او رہر فن میں ماہر تھے۔ کچھ دیر کے بعد اس نے کہا کہ میں ٹھہر کے آتا ہوں۔ طبعی تقاضے کے لیے گیا یا پانی پینے کے لیے گیا۔ مولانا نے دریافت کیا کہ یہ کون آدمی ہے؟ کہنے لگے پاگل ہے۔ مولانا نے کہا یہ کس طرح پاگل ہے، اس نے میرے ساتھ کافی دیر علمی گفتگو کی ہے۔ اس میں تو کوئی پاگل والی بات نہیں ہے۔ حیران ہو گئے کہ یہ کیسا پاگل ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پھر آ گیا اور مختلف مسائل پر گفتگو شروع کر دی۔ وہ جوں جوں باتیں کرتا، مولانا توں توں حیران ہوتے کہ اس کو پاگل کہنے والے تو خود پاگل ہیں۔ مولانا نے ٹائم دیکھا تو فرمایا کہ میں جاتا ہوں۔ اگر تاخیر کی تو گاڑی سے رہ جاؤں گا، کیونکہ اس زمانے میں آمد ورفت کے وسائل بہت کم ہوتے تھے۔ ریل گاڑیاں ہوتی تھیں، جو رہ گیا رہ گیا۔ پھر اگلی گاڑی کا انتظار کرنا ہوتا تھا۔ اس لیے مولانا نے کہا کہ میں اب جاتا ہوں۔ اس نے کہا اچھا، تم جا رہے ہو۔ مولانا نے کہا کہ ہاں میں جا رہا ہوں۔ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس نے ہاتھ پر تھوک دیا۔ مولانا نے فرمایا کہ واقعی پاگل ہے۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۸۴، ۲۸۵)
  • ہم وڈالہ سندھواں میں پڑھتے تھے۔ ہمارا ایک ساتھی تھا بڑا مسخرہ۔ اس نے کوئی شرارت کی جس کی شکایت مہتمم صاحب کے پاس پہنچ گئی۔ اس کو طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ تو نے یہ شرارت کی ہے؟ اس نے کہا، اللہ کی قسم ہے، مجھے تو علم بھی نہیں ہے، اور جان بچا لی۔ مگر جن ساتھیوں کو علم تھا کہ اس نے یہ کام کیا ہے، انھوں نے اس کو گھیر لیا کہ تو نے قسم کس حساب سے کھائی ہے؟ کہنے لگا کہ تم نے سنا نہیں کہ میں نے کیا کہا ہے؟ میں نے تو کہا ہے: الاں کی قسم ہے۔ ایک سبزی ہے کدو کی جنس کی، اس کو الاں کہتے ہیں اور تربوز کی بیل کو الاں کہتے ہیں۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۸۶)
  • [ککہ سے اَنھی] ہم روزانہ سبق پڑھنے کے لیے پیدل سفر کر کے جاتے تھے۔ راستہ میں ایک باباجی جو بزرگ زمیندار تھے، بیل کے ذریعے کنویں سے اپنی کھیتی کو پانی دیا کرتے تھے۔ انہوں نے بیل کی گردن میں ایک گھنٹی باندھی ہوئی تھی جس سے ’’ٹن، ٹن‘‘ کی آواز آتی رہتی تھی۔ ہم نے عرض کیا، بابا جی! بیل کی گردن میں یہ گھنٹی باندھنا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سے ٹن ٹن کی آواز آتی رہتی ہے۔ وہ بزرگ زمیندار کہنے لگے کہ میں بیل کو کنویں پر جوت کر اپنے دیگر کام کاج میں لگ جاتاہوں اور گھنٹی کی ٹن ٹن کی آواز اس بات کا پتہ دیتی رہتی ہے کہ بیل رکا نہیں بلکہ چل رہاہے اور کھیتی سیراب ہورہی ہے اور جب گھنٹی کی آواز نہ آئے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ بیل رک گیا ہے، چنانچہ میں دوبارہ آکر اس کو چلا دیتا ہوں۔ ہم نے عرض کیاکہ باباجی! اگر آپ کا یہ بیل کھڑے کھڑے ہی دائیں بائیں سر ہلاتارہے تو آوا ز تو پھر بھی آتی رہے گی۔اس پر وہ بزرگ مسکرا کر فرمانے لگے کہ ’’میرے بیل نے منطق کا فن نہیں پڑھا، لہٰذا اس کو اس حیلے کی کیا خبر؟‘‘ (روایت: مولانا حافظ محمد یوسف)
  • ۱۹۳۵ھ کی بات ہے۔ میں گوجرانوالہ میں پڑھتا تھا۔ انگریز حکومت کا زمانہ تھا۔ گوجرانوالہ میں ایک ہندو کا سینما تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم حج کی فلم دکھائیں گے۔ تمام مسالک کے علما اکٹھے ہوئے، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث۔ مشاورت کی اور جلسہ عام رکھا اوراس میں احتجاج کیا کہ حج ہماری عبادت ہے، اس کو کھیل تماشے کے طور پر پیش کرنے کی شریعت اجازت نہیں دیتی، لہٰذا اس فلم کو بند کیا جائے۔ جلسے کے بعد احتجاجی جلوس بھی نکالا، میں خود اس جلوس میں شریک تھا۔ انگریز نے احتجاج کو تسلیم کیا اور فلم بند کر ادی اور حج فلم پر پابندی لگا دی۔ اس کے بعد پاکستان بن گیا اور ’’خانہ خدا‘‘ کے نام سے فلم تیار کی گئی اور لوگوں کو دکھائی گئی۔ الحمدللہ! میں نے آج تک سینما نہیں دیکھی۔ لوگ بتاتے رہتے ہیں کہ وہاں یہ کچھ ہوتا ہے۔ انھی دنوں میں شیخوپورہ میں بہت بڑا جلسہ تھا۔ حضرت مولانا محمدعلی جالندھریؒ جو چوٹی کے مقرر تھے، ان کا خصوصی خطاب تھا اور میری صدارت تھی۔ مجھے چونکہ ساتھیوں نے صدربنایا تھا، میرے پاس رقعے آنے شروع ہوگئے۔ ا ن میں سے ایک رقعہ کے اوپر لکھا ہواتھا کہ انگریزی دور میں علما حج فلم پر احتجاج کرتے تھے اور آج فلم دکھائی جارہی ہے، علما خاموش کیوں ہیں؟
    مولانا جالندھریؒ نے تقریر کے دوران ہی وہ رقعہ میرے ہاتھ سے لے لیا۔ مولانا بڑے ذہین اور حاضر جواب تھے۔ فرمایاکہ بھائی! کسی صاحب نے یہ رقعہ لکھاہے کہ انگر یز کے زمانہ میں علما نے حج فلم پر احتجاج کیا تھا اور انگریز نے پابندی لگا دی تھی،اب پاکستان میں ’’خانہ خدا‘‘ فلم چل رہی ہے تو علما احتجاج کیوں نہیں کرتے، خاموش کیوں ہیں؟ مولانا ؒ نے فرمایا کہ ’’علما خاموش نہیں ہیں، اب بھی اس کی تردید کرتے ہیں، لیکن بات یہ ہے کہ مائیں دو قسم کی ہوتی ہیں، حقیقی اور سوتیلی۔ حقیقی ماں اپنے بچے کو بے تحاشا مارتی ہے، اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اور سوتیلی ماں بچے کو مارتے ہوئے گھبراتی اور ڈرتی ہے کہ لوگ کہیں گے کہ سوتیلی ہے، اس لیے مار رہی ہے۔ پہلے ہماری سوتیلی بے بے حکومت برطانیہ تھی، وہ ڈرتی تھی۔ او ر اب ہماری سگی بے بے ہے حکومت پاکستان، یہ جو چاہے کرے، ڈرتی نہیں ہے۔ اب جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، سگی بے بے کا معاملہ ہو رہا ہے۔ سگی بے بے جو کچھ ہمارے ساتھ کر رہی ہے، ایسی خرافات کبھی نہیں ہوئی تھیں۔‘‘ (ذخیرۃ الجنان ، ۵؍۲۰۱)
  • جب دار العلوم میں ہم پڑھتے تھے تو اس سال ہم تین سو تینتیس آدمی تھے۔ دورۂ حدیث میں ہمارے ساتھ ترکی کے ایک جرنیل محبوب ختن تھے۔ ہماری عمر چھوٹی تھی، وہ بالکل بوڑھے تھے۔ ہم کسی وقت ان سے دل لگی بھی کرتے تھے کہ بابا جی، آپ کو کیا خیال آیا اس بڑھاپے میں۔ وہ اردو کچی پکی بولتے تھے۔ ترکوں کے جرنیل رہے تھے۔ پہلے کرنل تھے، پھر بریگیڈیئر بنے، پھر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو اس طرف آئے۔ (خطبات امام اہل سنت ۱/۷۲)
  • آج سے تقریباً ساٹھ سال پہلے حدیث کی پہلی کتاب مشکوٰۃ شریف ہم نے پڑھی۔ جس وقت یہ حدیث ہمارے سامنے آئی: یقاتلونکم الیہود، یہود تمہارے ساتھ لڑیں گے، وتقاتلون الیہود، اور تم یہودیوں کے ساتھ لڑو گے تو ہم بڑے حیران ہوئے کہ یہودیوں کے ساتھ ہماری کیا لڑائی ہوگی اور ان کی ہمارے ساتھ کیا لڑائی ہوگی! ان کی کیا حیثیت ہے کہ اس وقت فلسطین میں چھ سات ہزار یہودی تھے۔ ہم نے استاد محترم حضرت مولانا عبدالقدیر ؒ سے سوال کیا کہ حضرت! ان لوگوں سے لڑنا تو ہماری توہین ہوگی کہ میدان میں ایک پہلوان ہو اور دوسری طرف سے بچہ ہو تو پہلوان کی توہین ہوتی ہے، تو یہود ی تو ہمارے مقابلہ میں بچے ہیں۔ حضرت نے فرمایا: ’’میاں ( یہ حضرت کا تکیہ کلام تھا) اس وقت ان کوقوت حاصل ہو جائے گی۔ جب ان کی تباہی کا وقت آئے گا، ان کو پر لگ جائیں گے۔ چیونٹی کی جب موت آتی ہے تو اس کو پر لگ جاتے ہیں۔‘‘ اس وقت ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ ان کو قوت کس طرح حاصل ہو جائے گی، لیکن دیکھتے دیکھتے ہی اب وہاں اسی لاکھ یہودی ہیں اور ان خبیث حکومتوں نے تجربہ کار افراد جو اکثر فوجی ہیں، وہاں جمع کر دیے ہیں۔ اس وقت دنیا میں اسلحہ کے اعتبارسے یہودی تیسرے نمبر پر ہیں، ایٹم بم تک انہوں نے تیار کر لیا ہے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۷/۳۱۵)
  • ہم بخاری شریف کا سبق پڑھ رہے تھے۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ کو کسی نے اخبار کا تراشہ دیا کہ ظاہر شاہ نے روس کی پیش کش کو قبول کر لیا ہے اور پیشکش یہ تھی کہ میں اپنے خرچے پر تمہارے کالجوں اور اسکولوں میں پروفیسر اور ماسٹر بھیجتا ہوں، یعنی ان کی تنخواہیں اور اخراجات میرے ذمہ ہیں، تم قبول کر لو ۔ پیش کش کا دوسرا حصہ یہ تھا کہ تم اپنے لڑکے ہمارے کالجوں میں بھیجو، ان کے بھی تمام اخراجات ہم برداشت کریں گے۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ سبق پڑھاتے ہوئے رو پڑے اور فرمایا، ظاہر شاہ! تو نے بڑی نادانی کی ہے۔ ظاہر شاہ! تو نے بڑی نادانی کی ہے۔ ظاہر شاہ! تو نے بڑی نادانی کی ہے۔ وہاں سے جو معلم اور اساتذہ آئیں گے، وہ کفر سکھائیں گے اور جو تمہارے بچے روس میں جا کر پڑھیں گے، وہ کافر بن کر وہاں سے نکلیں گے۔ (ذخیرۃ الجنان ۳/۵۵)
  • حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ہمارے گاؤں میں ایک ہندو دوکاندار تھا۔ محلے کی مسجد کا امام روزانہ اس سے تھوڑی سی نسوار مانگ کر لے جاتا اور پیسے نہیں دیتا تھا۔ ایک دن اس ہندو دکاندار نے کہا میاں جی، تم روزانہ مفت نسوار لے جاتے ہو۔ میں بھی کمزور آدمی ہوں اور میرے بال بچے بھی ہیں اور یہ نسوار میں خرید کر لاتا ہوں، مجھے کوئی پیسہ دھیلا دے دیا کرو۔ میاں جی کو یہ بات بڑی ناگوار گزری کہ مجھ سے پیسے مانگتا ہے۔ کہنے لگا کہ میں تیرا علاج کر لیتا ہوں۔ نماز کا وقت ہوا، مسجد میں پہنچے، نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر مقتدی جانے لگے تو میاں جی نے آواز دی کہ ذرا ٹھہر جاؤ، میں نے تمہارے ساتھ ایک بات کرنی ہے۔ مقتدی بیٹھ گئے تو میاں جی نے کہا کہ فلاں ہندو دکاندار وہابی ہو گیا ہے، اس سے سودا نہ لینا۔ کئی دن گزر گئے، اس سے کسی نے سودا نہ خریدا۔ وہ بے چارہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گیا۔ ایک دن مولوی صاحب وہاں سے گزرے تو کہنے لگے، تجھے پتہ چل گیا ہے نا؟ اس کو تو پتہ چل ہی گیا تھا کہ میاں جی نے مجھے وہابی بنا دیا ہے۔ ہندو نے کہا، میاں جی میں توبہ کرتا ہوں۔ مجھے معاف کر دو اور نسوار جتنی چاہتے ہو، لے جایا کرو مگر مجھ سے یہ وہابیت کی دم اتار دو۔ (ذخیرۃ الجنان ۳/۱۱۲، ۱۱۳)
  • ہمارے استاد محترم حضرت مولانا ادریس کاندھلوی ہم جب دیوبند میں پڑھتے تھے تو وہ چھوٹے استادوں میں سے تھے، معین المدرسین۔ اسی طرح حضرت مولانا شفیع صاحب مفتی اعظم پاکستان، یہ بھی ہمارے چھوٹے مدرسین میں سے تھے۔ بڑے جو مدرسین تھے، ان میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا اعزاز علی صاحبؒ ، مولانا ابراہیم بلیاویؒ اور مفتی ریاض الدین صاحبؒ تھے۔ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے ایک موقع پر یہ فرمایا کہ مولوی صاحب، یہ لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد مناتے ہیں بارہویں تاریخ کو تو مولوی صاحب، شریعت میں تو یہ بدعت ہے ہی، میں کہتا ہوں کہ عشق ومحبت کے لحاظ سے بھی بدعت ہے۔ حضرت، وہ کیسے؟ فرمایا کہ کیا یہ بدعت نہیں کہ محبوب کا دن سال میں صرف ایک مرتبہ منایا جائے، آگے پیچھے یاد نہ کرے اور محبوب کا نام سال میں صرف ایک دفعہ منایا جائے۔ محبت یہ ہے کہ محبوب ہر وقت ذہن میں ہو تو یہ شریعت میں تو بدعت ہے ہی، عشق ومحبت کے طور پر بھی بدعت ہے۔ (خطبات امام اہل سنت ۳/۲۴۱، ۲۴۲)
  • دارالعلوم دیوبندمیں ہمارے ایک استاد تھے، مولانا عبدالحق مدنیؒ ۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے ملک میں ہر تیسرا آدمی مفتی ہے اور ہر چوتھا آدمی حکیم ہے۔ کوئی مسئلہ پیش کرو، وہاں موجود آدمیوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور بول پڑے گا، چاہے اسے الف با کا بھی علم نہ ہو۔اسی طرح اگر تم کہوکہ میں بیمار ہوں تو تمہیں ضرور اس کا علاج بتائیں گے، چاہے حکمت کی ابجد سے بھی واقف نہ ہوں۔ یہ لوگوں کی عادت بن گئی ہے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۶/۲۴۷)

گکھڑ میں آمد اور شرک وبدعات کا مقابلہ

  • راقم اثیم نے دار العلوم دیوبند میں ۱۳۶۰ھ/۱۹۴۰ء میں دورۂ حدیث شریف کے لیے مع برادر عزیز صوفی عبدالحمید سلمہ اللہ تعالیٰ داخلہ لیا۔ وہاں سے فراغت کے بعد اپنے قابل قدر او رمہربان استادوں (حضرت مولانا عبد القدیر صاحبؒ اور حضرت مفتی مولانا عبد الواحد صاحبؒ ) کے اصرار اور حکم سے مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں تدریس شروع کی۔ حسامی اور دیوان حماسہ وغیرہ کتابیں میرے پاس تھیں۔ پھر گکھڑ والے مجھے لے آئے اور حضرات اساتذہ کی اجازت سے ۹؍ جولائی ۱۹۴۳ء کو گکھڑ کی اس وقت کی واحد جامع مسجد کا مجھے خطیب مقرر کیا گیا اور ساتھ ہی انجمن اسلامیہ کے تحت درس نظامی کا سلسلہ بھی چلتا تھا اور راقم اکیلا ہی متعدد کتابیں پڑھاتا تھا۔ (مسودہ تحریر کردہ ۱۹؍ ربیع الاول ۱۴۱۹ھ/۱۴؍ جولائی ۱۹۹۸ء)
  • جس زمانے میں مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پربڑے ظلم ڈھائے جا رہے تھے، مسجدیں گرائی جا رہی تھیں، عورتوں کی بے حرمتی ہو رہی تھی، بچوں کو قتل کیا جا ر ہا تھا اور بہت کچھ ہو رہا تھا، اس وقت ایک مولوی صاحب نے بٹ دری فیکٹری ]جی ٹی روڈ گکھڑ[ کے سامنے تقریر کی اور کہا کہ اولیاء اللہ ہماری مدد کرتے ہیں، اور شرک کی خوب آبیاری کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ باطل کی تردید فرض کفایہ ہے۔ اگر کسی جگہ باطل ظاہر ہوا اور اس کی کسی نے تردید نہ کی تو تمام کے تمام لوگ مجرم ہوں گے۔ اور اگر ایک ثقہ آدمی نے اس کی تردید کر دی تو تمام کی گردنیں آزاد ہو جائیں گی، گناہ سے بری الذمہ ہو جائیں گے۔ اس وقت میں گکھڑ میں نیا نیا آیا تھا۔ میں نے سوچا کہ اس نے غلط تقریر کی ہے،اگر تردید نہ ہوئی تو گکھڑ کے سارے لوگ گنہگار ہوں گے، لہٰذا ایک دن کے وقفے کے بعد میں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ مدد کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، مخلوق کا کام نہیں ہے۔ بڑی سے بڑ ی ہستی بھی مافوق الاسباب کسی کی مدد نہیں کر سکتی۔ اور نماز میں ہم پڑھتے ہیں: ایاک نعبد وایاک نستعین، پروردگار! ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور خاص تجھ ہی سے مددطلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ عبادت بھی اللہ تعالیٰ کی اور مدد بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا مافوق الاسباب کوئی کسی کی مدد نہیں کر سکتا۔ تقریر میں، میں نے یہ بھی کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور مدد کر سکتا ہے تو مشرقی پنجاب میں مسلمانوں پر جو ظلم ہو رہا ہے، پیر فقیر ان کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ حالانکہ بڑے بڑے ولی اس دھرتی پر ہیں، مثلاً شیخ احمد سرہندیؒ ، حضرت مجدد الف ثانیؒ ، شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ، شاہ عبدالعزیزؒ ، حضرت اجمیریؒ ، خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ۔ پچاس ساٹھ سال کی عمر کا ایک بابا کھڑا ہوا۔ ڈاڑھی اس کی کتری ہوئی تھی۔ کہنے لگا: اولیاء اللہ مدد کرتے ہیں، مگر آج کل سارے بزرگ حج کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ حالانکہ وہ حج کا موسم بھی نہیں تھا، مگر وہ چپ نہیں رہا، شوشہ چھوڑ کر چلا گیا۔ (ذخیرۃ الجنان، ۶/۳۱۷)
  • میرے خیال میں حاجی فخر الدین صاحب مرحوم گکھڑ میں پہلے شخص تھے کہ جب ان کے پوتے کو دفنانے کے بعد دعا کی گئی تو انھوں نے اعلان کیا کہ ہم نے کوئی تیجا ساتا نہیں کرنا اور نہ ہی کوئی اس ارادے سے ہمارے گھر آئے۔ میں بھی وہاں موجود تھا۔ ان کی برادری کے کچھ آدمیوں نے کہا کہ پھر تو ہمارے سے کٹ گیا ہے نا، علیحدہ ہو گیا ہے! اللہ تعالیٰ حاجی صاحب کی مغفرت فرمائے، بڑے تیز مزاج تھے۔ کہنے لگے، اگر اس بات سے میں الگ ہو گیا ہوں تو مجھے الگ ہی رہنے دو۔ بڑے جہاد کی بات ہے۔ اور لوگ بڑے عجیب ہیں کہ جنازہ تو مجھ سے پڑھواتے ہیں اور گھر جا کر اعلان کرتے ہیں کہ کل قل شریف ہوں گے یا پرسوں ہوں گے۔ بھائی، یا تو مجھ سے جنازہ نہ پڑھاؤ یا قلوں کا اعلان نہ کرو۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۱)
  • حافظ اللہ داد صاحب مرحوم، گجرات میں ایک مقام ہے پٹیالہ، وہاں کے رہنے والے تھے۔ پنجابی میں بہت بہترین وعظ فرماتے تھے۔ کوٹ وارث میں ایک جلسہ تھا۔ جلسہ سے فارغ ہو کر وہ درمیان والے راستے سے گکھڑ آئے۔ وہ ضروری کتابوں کی گٹھڑی بھی ساتھ رکھتے تھے۔ راستے میں کمہار گدھے لے کر گکھڑ آ رہے تھے۔ حافظ صاحب مرحوم نے ان کو کہا کہ اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے گدھے پر یہ کتابوں کی گٹھڑی بھی رکھ دوں؟ انھوں نے کہا کہ رکھ دو۔ انھوں نے حافظ صاحب سے پوچھا کہ تم نے کہاں جانا ہے؟ تو حافظ صاحب نے میرا نام لیا کہ اس کے پاس جانا ہے۔ وہ کمہار کہنے لگے کہ ا س کے پاس نہ جاؤ، وہ تو کلمے کا منکر ہے۔ حافظ صاحب نے کہا کہ نہیں بھئی، وہ تو کلمہ پڑھتا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ وہ معراج کا منکر ہے اور کہتا ہے کہ (معاذ اللہ تعالیٰ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج نہیں ہوئی۔ حافظ صاحب کی کتابوں میں میرا رسالہ تھا ’’ضوء السراج فی تحقیق المعراج‘‘ جو انھیں دنوں میں طبع ہوا تھا۔ حافظ صاحب نے گٹھڑی سے وہ نکال کر ان کو سنانا شروع کر دیا اور خاصا پڑھ کر سنایا اور کہا کہ معراج کو جتنا اس نے دلیلوں کے ساتھ ثابت کیا ہے، اتنا اور کسی نے نہیں کیا۔ جب گکھڑ کے قریب آئے تو کہنے لگے کہ ہمیں کسی شے کا علم نہیں ہے، ہمیں تو ہمارے مولوی صاحب کہتے ہیں کہ وہ معراج کا بھی منکر ہے اور کلمے کا بھی۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۱۷)

تعلیم قرآن کے فروغ کی مساعی

  • آج سے تقریباً پچپن سال پہلے سیٹھی محمد یوسف مرحوم میرے پاس آئے اور کہنے لگے مجھے وقت دیں، ملک کا دورہ کریں۔ میں نے پوچھا، دورہ کس کام کے لیے کرنا ہے؟ تو کہنے لگے کہ جب رمضان شریف کا مہینہ آتا ہے، ہمیں قرآن سنانے کے لیے حافظ نہیں ملتے، کیونکہ حافظوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کیمل پور (موجودہ اٹک) اور میانوالی کے علاقوں سے چند حافظ مل جاتے ہیں، مگر ضرورت زیادہ حفاظ کی ہوتی ہے۔ پھر جو ملتے ہیں، تجوید وقراء ت کے بغیر سادہ قرآن پڑھے ہوتے ہیں، لہٰذا لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ بچوں کو حفظ کے لیے بھیجیں اور یہ بھی بتائیں کہ قرآن کریم صرف غریبوں کے لیے نہیں، امیروں کے لیے بھی ہے تاکہ مال دار لوگ بھی اپنے بچوں کو حفظ کرائیں اور صرف اندھوں کے لیے نہیں، بلکہ آنکھوں والوں کے لیے بھی ہے۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور ملک کے مختلف علاقوں کے دورے کیے۔ ایک جگہ میں نے دامن پھیلا دیا اور کہا، میں تم سے چندہ وصول کرنے آیا ہوں مگر روپے پیسے اور کپڑے وغیرہ کا چندہ نہیں، بلکہ چندہ بچوں کا لینا ہے۔ لوگ بڑے حیرا ن ہوئے کہ یہ مولوی ہمارے بچوں کوجھولی میں ڈال کر کہاں لے جائے گا۔ میں نے کہا: پریشان نہ ہوں، تمہارے بچے یہیں رہیں گے۔ تم پڑھنے کے لیے بچے دو، ہم معلم دیں گے۔ سیٹھی صاحب کافی مخیر آدمی تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے کافی کام کیا۔ اب تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ملک میں مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ صرف ہمارے گکھڑ میں دس مدرسے ہیں اور ہماری انجمن کے تحت جو بچے حفظ کررہے ہیں، تقریباً دو سو ہیں۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۳۵۰)
  • الحمد للہ آج سے کئی سال پہلے میں نے متعدد مقامات پر ترجمہ کلاس کی اپیلیں کی تھیں اور الحمد للہ ان تمام مقامات پر کراچی سے پشاور تک اور سیالکوٹ، شیخوپورہ فیصل آباد وغیرہ تمام علاقوں میں ساتھیوں نے بڑا اچھا کام کیا۔ ترجمہ کلاس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بچے اسکولوں میں ہیں، کالجوں میں ہیں، ان کو زیادہ وقت نہیں ملتا، وہ روزانہ ایک یا دو آیت ترجمے کی پڑھیں۔ الحمد للہ اس کا خاصا اثر ہوا اور بہت سے مقامات پر بچوں نے اور لڑکیوں نے ترجمہ پڑھا۔ قاری عبیداللہ عامر صاحب گوجرانوالہ میں نمبر ایک ہیں۔ انھوں نے الحمد للہ کئی کلاسیں پڑھائیں۔ لڑکے بھی ہیں لڑکیاں بھی ہیں۔ میں نے کہا کہ تشریح کی زیادہ ضرورت نہیں، لفظی ترجمہ بڑی شے ہے۔ لفظی ترجمہ آئے تو ایک آیت بھی ہزار نفل سے بہتر ہے۔ (خطبات امام اہل سنت ۳/۲۲۴)

حکمرانوں کے سامنے احقاق حق

  • کافی پرانی بات ہے۔ پاکستان بنے ابھی تیرہ چودہ سال ہوئے تھے۔ ایک بڑا موٹا ڈی سی ہوتا تھا۔ اس نے ایک اسکول میں معززین شہر کو جمع کیا اور مولویوں کو بھی بلایا۔ مجھے بھی دعوت ملی، میں بھی گیا۔ اس نے تقریر کی اور معاشرے کی خرابی کی ذمہ داری ساری مولویوں پر ڈال دی کہ یہ لوگوں کی اصلاح نہیں کرتے۔ میں نے اٹھ کر کہا کہ ڈی سی صاحب! آپ ہمارے ضلع کے بڑے افسر ہو اور اس وقت ہمارے مہمان ہو، ہم آپ کی قدر کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ یہ سینما گھر مولویوں نے بنوائے ہیں یاحکومت نے؟ یہ مینا بازار اور جمعہ بازار مولوی لگواتے ہیں یا تم؟ یہ مخلوط تعلیم مولویوں نے شروع کی ہے یا تم نے؟ یہ کلب مولویوں نے کھلوائے ہیں یا تم نے؟ مجھے ایک ساتھی نے کہا، ڈی سی ہے۔ میں نے کہا، جب اس نے بات کی ہے تو مجھے بھی کر نے دو۔ سارا نزلہ مولوی پر گرتا ہے۔ مولوی کے پاس زبان کے سو ااور ہے کیا؟ طاقت تمہارے پاس، حکومت تمہارے پاس، ڈنڈاتمہارے پاس، اختیارات تمہارے پاس، یہ سارے بدمعاشی کے اڈے تم نے قائم کیے ہیں۔ اخبارات میں غلط قسم کی خبریں چھپتی ہیں جن کو پڑھ کر نوجوان طبقہ ڈاکو بنتا ہے، وہ اخبارات تمہارے کنٹرول میں ہیں۔ آج اکثریت ڈاکوؤں کی کالجیٹ ہے۔ حکومت ان کو ملازمت نہیں دیتی، ان کی مدد نہیں کرتی، وہ یہی کام کرتے ہیں۔ جاہل اور ان پڑھ ڈاکو بہت کم ہیں۔ تم مولویوں کوکوستے ہو، اس میں مولویوں کا کیا گناہ ہے؟ (ذخیرۃ الجنان، ۵/۴۹)
  • صدر ایوب خان کے زمانے میں عائلی قوانین کے ذریعے کچھ چیزیں خلاف شرع نافذ ہوئیں، جو ابھی تک نافذ ہیں۔ ان میں ایک شق یہ بھی تھی کہ مطلقہ غیر حاملہ کی عدت نوے دن ہے۔ ہم نے ملاقات کی کوشش کی۔ علما کا ایک وفد تیار ہوا کہ اس کو بتائیں کہ یہ جو تمہارا حکم ہے، اس کی ایک شق قرآن کے خلاف ہے اور ایک شق اجماع کے خلاف ہے تو اسلامی ملک میں ایسا کام کرنا جو قرآن اور اجماع امت کے خلاف ہو، صحیح نہیں ہے۔ لیکن اقتدار اقتدار ہوتا ہے، اس کا نشہ بہت برا ہوتا ہے۔ ایوب نے کہا میرے پاس وقت نہیں ہے۔ دو دن کے بعد جاپان سے ناچنے والوں کا ایک طائفہ آیا جس میں کچھ عورتیں اور کچھ مرد تھے۔ ان کو ایوب نے وقت دے دیا۔ مولانا غلام غوث ہزار وی رحمہ اللہ تعالیٰ بڑے جرات مند آدمی تھے۔ انھوں نے ایوب کو کھڑکا دیا کہ علما کے لیے تو تیرے پاس وقت نہیں ہے اور ان ناچنے والوں کے لیے تیرے پاس وقت ہے۔ اس وقت ایوب نے حقارت سے ’’ملا‘‘ کا لفظ استعمال کیا تھا تو مولانا ہزاروی رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسٹر کرنٹا کا لفظ استعمال کیا جو کافی دیر تک چلتا رہا، لیکن وقت نہ ملا۔ پھر ہم نے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے حاجی اللہ دتہ صاحب مرحوم، حاجی ملک اقبال صاحب مرحوم اور صوفی نذیر احمد صاحب مرحوم اور میر محمد شفیع صاحب اور ہم نے ایک وفد تیار کیا۔ اس وقت چودھری صلاح الدین صاحب، حامد ناصر چٹھہ کے والد، یہ قومی اسمبلی کے ممبر تھے۔ ہم وفد کی شکل میں ان کے پاس گئے اور ملاقات کی اور ان کو کہا کہ دیکھو، ہماری براہ راست ایوب خان تک رسائی نہیں ہوئی اور ایک غلط کام ہو اور اس کی تردید کوئی نہ کرے تو ساری قوم گناہ گار ہو تی ہے۔ آپ ہمارے حلقے کے قومی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ یہ ہماری بات وہاں تک پہنچا دیں، تاکہ ہم بھی گنہگار نہ ہوں اور ہماری پبلک بھی گنہگار نہ ہو، کیونکہ غلط چیز کی تردید فرض کفایہ ہے جس طرح تبلیغ فرض کفایہ ہے۔ اگر کچھ لوگ تبلیغ کریں تو باقی لوگ گناہ سے بچ جاتے ہیں اور اگر کوئی بھی نہ کرے تو سارے گنہگار ہوں گے۔ اسی طرح اگر باطل چیز کی تردید نہ کی جائے تو سب گنہگار ہوں گے۔ ہم نے ان کو سمجھایا کہ دیکھو، عائلی قوانین کی ایک شق یہ ہے کہ مطلقہ غیر حاملہ کی عدت نوے دن ہے اور قرآن پاک میں ایسی مطلقہ کا ذکر بھی ہے کہ جس کی عدت سرے سے ہی نہیں۔ مثلاً ایک بچی کا نکاح ہوا اور رخصتی سے پہلے طلاق ہو گئی تو اس پر عدت نہیں ہے۔ پھر ہم نے اس مسئلے سے بھی آگاہ کیا کہ فقہی مسئلہ ہے کہ بعض عورتوں کے حالات مختلف ہوئے تو شرعی طور پر اس عورت کی عدت اٹھارہ ماہ کے بعد مکمل ہوگی، جبکہ تمہارا قانون یہ کہتا ہے کہ اس کی عدت بھی نوے دن ہے۔ پھر میں نے یہ سمجھایا کہ وہ عورتیں جن کو ہر ماہ حیض آتا ہے اور امکان کے درجے میں ان کی عدت نوے دن بن سکتی ہے، یہ بھی ممکن نہیں کیونکہ تین مہینے مسلسل تیس تیس دن کے ہوتے ہی نہیں، لہٰذا یہ قانون قرآن اور فقہ کے بالکل خلاف ہے۔چودھری صلاح الدین مرحوم نے ہماری بات سمجھی۔ سمجھ دار وکیل تھے۔ ہماری گفتگو کو انھوں نے نوٹ کیا۔ پھر معلوم نہیں کہ انھوں نے ہماری بات ایوب تک پہنچائی نہ پہنچائی۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۲۱۳، ۲۱۴)
  • ضیاء الحق مرحوم کے دور میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ایک کیس میں کہا کہ یہ کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا جابرانہ، ظالمانہ اور وحشیانہ فیصلہ ہے اور یہ یہودیوں کی ایجاد ہے، اسلامی احکامات نہیں ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ اس کا یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا۔ اس پر تمام طبقوں کے علما اکٹھے ہوئے اور کہا کہ یہ بکواس اگر کوئی سیاسی لیڈر بکتا تو اس کا جواب ہم جلسوں اور جلوسوں کی صورت میں دیتے، مگر یہ الفاظ تو ایک جج نے عدالت میں بیٹھ کر کہے ہیں اور عدالت کے اندر جج کا بیان قانون ہوتا ہے اور یہ ریمارکس ہائی کورٹ کے جج نے دیے ہیں، لہٰذا اس پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ چنانچہ پچاس علما پر مشتمل ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ اس وفد میں، میں بھی شامل تھا کہ یہ وفد صدر مملکت سے ملاقات کرے اور احتجاج کرے۔ چنانچہ ہم براہ راست ضیاء الحق کو ملے اور اس کو کہا کہ ایک طرف تو آپ اسلام اسلام کہتے تھکتے نہیں اور دوسری طرف حالت یہ ہے کہ آپ کا ایک جج عدالت میں بیٹھ کر شرعی حدود کے متعلق یہ ریمارکس دے رہا ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اخبار مجھے دو۔ ہم نے تین چار اخبار اس کے سامنے رکھ دیے۔ اس نے پڑھنے کے بعد کہا کہ تمہاری شکایت بجا اور صحیح ہے، میں اس کا انصاف کروں گا۔ یہ بھی بڑی بات تھی کہ اس نے مان لیا، ورنہ آج کے حکمران تو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ پھر اس نے شریعت کورٹ بنائی جس کے لیے تین جج مقرر ہوئے۔ ایک مولانا تقی عثمانی صاحب، دوسرے پیر کرم شاہ صاحب، تیسرے کا نام میں بھول گیا ہوں۔ اگر کوئی جج اسلام کے خلاف بات کرے گا تو یہ شریعت کورٹ کے جج اس کا فیصلہ کریں گے۔ پھر ججوں کے دماغ درست ہو گئے کہ ہم نے اگر خلاف شریعت کوئی فیصلہ دیا تو اوپر والی عدالت ہمارے اس فیصلے کو رد کر دے گی۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۴۰)
  • جنرل ضیاء الحق نے بہت سی غلطیاں کی تھیں۔ ان میں سے ایک غلطی یہ بھی تھی کہ اس نے حکومتی سطح پر زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہم نے اس وقت بھی گرفت کی تھی کہ حکومت اس کی مجاز نہیں ہے۔ حکومت صرف جانوروں کی زکوٰۃ اور زمین کی پیداوار سے عشر وصول کرنے کااختیار رکھتی ہے۔ نقد، پیسے اور سامان تجارت کی زکوٰۃ خود مالک اپنی مرضی سے دے گا اور ہم نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومتی سطح پر وصول کی جانے والی زکوٰۃ اپنے مصرف میں خرچ نہیں ہوگی۔ کوئی اس رقم سے گلیاں بنوائے گا، کوئی الیکشن لڑے گا، کوئی کچھ کرے گا، اور کوئی کچھ کرے گا۔ ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور ا ب حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ ضیاء الحق مشیروں کی اندرونی بات کو نہیں سمجھے۔ ان کامقصد یہ تھاکہ زکوٰۃ حکومت وصول کرے گی تویہ دینی مدارس جو زکوٰۃ پر چل رہے ہیں، بند ہو جائیں گے، لیکن الحمدللہ کوئی بھی بند نہیں ہوا، بلکہ مزید بڑھے ہیں۔ ان شریروں کی پالیسی کامیاب نہ ہوئی۔ اس طرح ضیاء سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وفاق المدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کرام کو ایم اے کی ڈگری دیں، لیکن اس کے مشیر نہ مانے۔ علما کو آگے نہیں آنے دیتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ علما کو اپنے تابع کرلیں۔ اس کے لیے بڑی کوشش کرتے اور منصوبے بناتے رہتے تھے۔ نصرۃ العلوم میں الحمدللہ اس وقت اٹھارہ سو طلبہ وطالبات زیر تعلیم ہیں اور ستر افراد پر مشتمل عملہ ہے اور ان کا صدر مدرس اور نگران تعلیم میں ہوں۔ ہمیں حکومت نے پیش کش کی کہ آپ کے مدرسہ میں دورۂ حدیث بھی ہوتا ہے، لہٰذا تمہیں چار لاکھ روپیہ سالانہ ملے گا۔ صوبے سے بھی اور مرکز سے بھی پیغام آیا۔ ہم نے انکار کر دیا کہ ہم حکومتی امداد نہیں لیں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ حکومت تمہیں گرفتار کرے گی۔ ہم نے کہا، کرے گرفتار، یہ کون سی بات ہے! ہم نے پہلے بھی قیدیں بھگتی ہیں۔ یہاں ہمارے صدر چوہدری اعجاز صاحب نے پہلے سال غلطی کی اور میری لاعلمی میں ایک سال کی زکوٰۃ وصول کر لی۔ میں ناراض ہوا کہ تم نے کیوں وصول کی؟ کہنے لگا، مجھے علم نہیں تھا۔ اس کے بعد آج تک حکومت سے ایک پیسہ بھی وصول نہیں کیا۔ ( ذخیرۃ الجنان ۸/۲۴)
  • پاکستان بننے کے بعد امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا۔ دفاعی معاہدے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر دشمن نے تم پر حملہ کیا تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر ہم پر حملہ ہوا تو تم ہمارا ساتھ دو گے۔ ان دنوں میں اخبارات نے بھی بڑے زور وشور سے اس پر سرخیاں لگائیں اور مضمون نگاروں نے مضمون لگے، مگر میں نے جمعہ کے خطبہ میں یہ بات کہی تھی کہ کافروں پر اعتماد کرنا بالکل غلط ہے اور دفاعی معاہدہ کر کے یہ نہ سمجھو کہ وہ ہمارا ساتھ دیں گے۔ یہ اسلام کی روح کے خلاف ہے اور تجربہ اس پر شاہد ہے۔ ہاں، اگر کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہو تو اٹھا لو۔ مجمع میں سے ایک نوجوان اٹھ کھڑا ہوا اور کہا کہ تم مولویوں والا ذہن رکھتے ہو، یہ حکومتوں کے آپس کے معاہدے ہیں، مولویوں کے نہیں ہیں۔ میں نے کہا برخوردار، اللہ کرے تیرا یہ کہنا اور ارادہ پورا ہو جائے، مگر ایمان کی اور قرآن اور حدیث کی رو سے اور تاریخ اسلام کی رو سے ہمارا تجربہ یہ ہے کہ کافر نے مومن کابھی ساتھ نہیں دیا، لیکن وہ نوجوان بڑا جذباتی تھا، اٹھ کر چلا گیا اور جمعہ بھی نہ پڑھا اور کہا کہ میں تمہارے ساتھ نمٹ لوں گا۔ اللہ تعالیٰ رحمت کرے حاجی محمد اقبال صاحب پر، کئی دنوں تک بطور محافظ کے یہاں سے میرے گھر تک ساتھ جاتے اور جب میں نے آنا ہوتا تھا تو مجھے ساتھ لے کر آتے تھے، اس خیال کے پیش نظر کہ نوجوان ہے، دھمکی دے کر گیا ہے۔ کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھے۔ کچھ عرصے کے بعد ۱۹۶۵ء کی جنگ لگ گئی۔ باوجود حلیف ہونے کے امریکہ نے ہماری کوئی مدد نہ کی، قطعاً کوئی مدد نہ کی۔ اس کو مدد کا کہتے رہے مگر اس نے کچھ نہ سنی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس نوجوان نے کئی سالوں کے بعد کہا کہ میں نے غلطی کی۔ مولوی صاحب جو کہتے تھے، ٹھیک کہتے تھے۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۹۱۔ خطبات امام اہل سنت ۱/۷۸، ۷۹)

مختلف اسفار کے مشاہدات اور تجربات

  • ہم بحمد اللہ تعالیٰ ۲۲؍ دسمبر بروز جمعہ المسجد الحرام پہنچ چکے ہیں۔ خلاف معمول سرد ہوائیں چل رہی ہیں۔ لوگوں نے اپنے گرم کپڑے سوئٹر اور کوٹ وغیرہ پہن رکھے ہیں، اوپر کمبل اوڑھ رہے ہیں، لیکن ایک میں ہوں اور ایک دو بنگالی نظر آئے ہیں کہ وہ بھی میری طرح احرام میں ہیں۔ احرام کی وجہ سے ہم سر بھی نہیں ڈھانپ سکتے اور مچھر بھی بے پناہ ہیں۔ کل ہی دس ریال کی ایک مچھر دانی خریدی ہے اور کئی راتوں کے بعد گزشتہ رات کچھ نیند پڑی ہے۔ گھر سے آنے کے بعد آج تک اطمینان سے نیند نہیں آ سکی۔ تین دن کی مسلسل محنت سے اور دوستوں کی بے ]حد[ کوشش سے شعب ابی طالب میں بہت ہی کم قیمت کا مکان ساڑھے چھ سو ریال پر ملا ہے، یعنی پاکستانی تقریباً دو ہزار روپیہ، مگر پانی دیگر کئی مکانوں کی طرح اس میں بھی نہیں ہے۔
    اس سال اشیا کی اتنی گرانی ہے کہ بیان سے باہر ہے اور مکانوں کی اس قدر دقت ہے کہ الحفیظ والامان۔ راقم جب پہلی دفعہ آیا تھا تو ہمیں فی کس ۸۹۲ ریال، ایک من گندم اور دس سیر چاول ملے تھے مگر اب فی کس صرف ۶۳۵ ریال ملے ہیں۔ لوگ اپنے ساتھ خوب راشن لائے ہیں۔ جو راشن نہیں لا سکے تو وہ دیگر سامان اور کم از کم گھی فروخت کے لیے لائے ہیں۔ ہمارے محترم حاجی محمد صادق صاحب تقریباً ایک من گھی لائے ہیں، لیکن راقم صرف دس سیر چاول اور تقریباً ۵ سیر گھی اور تقریباً اڑھائی سیر کھانڈ لایا ہے اور بس۔ مکان کے کرایہ کے علاوہ مدینہ طیبہ کا کرایہ ۱۰۲ ریال ، وہاں مکان کا کرایہ اور دیگر خرچہ، پھر عرفات اور منیٰ کا کرایہ ستر ریال، پھر جدہ کا کرایہ، پھر قربانی، یہی چیزیں اس رقم میں پوری نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے راقم نے ایک وقت کی چائے بالکل چھوڑ دی ہے اور ایک وقت صرف قہوہ ہم پیتے ہیں اور کبھی کھانا بھی صرف ایک ہی وقت کھاتے ہیں۔ یہاں آٹا پاکستانی سکہ کے لحاظ سے ۸۵ روپے من ہے، آلو چار روپے سیر ہیں، پالک پانچ روپے سیر ہے، بھنڈی توری نو روپے سیر ہے۔ وعلیٰ ہذا القیاس یہی سلسلہ دیگر اشیا کا ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ۷؍ فروری کے جہاز سے واپسی ہو جائے۔ دعا کرنا اور اس وقت تک بھی ہمارا خرچہ پورا ہونا مشکل ہے۔ پچانوے فیصدی لوگوں نے ۳۳ سو روپیہ فی کس جمع کرایا تھا، ہمارا صرف ۲۹۸۲ ہے اور باقی وہ لوگ دیگر اشیا بھی ساتھ لائے ہیں۔ فروخت کر کے اپنا گزارا کر رہے ہیں اور ہر ایک کے پاس بڑا راشن ہے۔ آنے کے بعد یہ حقیقت کھلی ہے۔ (مکتوب بنام مولانا زاہد الراشدی، تاریخ ندارد)
  • دوپہر کے وقت ہم مدینہ طیبہ سے چلے اور ذو الحلیفہ پہنچے جس کو آج کل بئر علی کہا جاتا ہے۔ ذو الحلیفہ کے نام سے لوگ آج کل واقف نہیں ہیں۔ مغربی علاقے کے ایک آدمی نے بالکل ننگا ہو کر غسل کرنا شروع کر دیا۔ وہاں کثیر تعداد میں مرد اور عورتیں موجود تھیں۔ غسل کرنے کے بعد جب اس نے احرام کے کپڑے پہن لیے اور اس سے پوچھا گیا کہ تو نے یہ کیا حرکت کی ہے تو کہنے لگا کہ میں نے حدیث پر عمل کیا ہے۔ ترمذی شریف میں حدیث آتی ہے: تجرد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للغسل قبل الاحرام کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے سے پہلے غسل کے لیے کپڑے اترے۔ اس نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ننگے ہو کر غسل کیا، معاذ اللہ تعالیٰ۔ یہ واقعہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس کا جواب کانوں سے سنا ہے۔ (ذخیرۃ الجنان ۳/۱۸۰، ۱۸۱)
  • عرفات کے میدان میں جتنا ہو سکے، رب تعالیٰ کا ذکر کرے اور کھڑے ہو کر ذکر کرنا مستحب ہے۔ الحمد للہ میں نے وہاں دس پارے کھڑے ہو کر پڑھے۔ ہاں، اگر کوئی ضعیف ہے، بوڑھا ہے تو بیٹھ کر بھی ذکر کر سکتا ہے۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۱۴۳)
  • بعض ڈرائیور اس طرح بھی کرتے ہیں کہ عرفات کے آخری کونے میں اتار دیتے ہیں۔ ایک دفعہ میرے ساتھ صوفی نذیر احمد صاحب تھے، اللہ تعالیٰ انھیں غریق رحمت کرے اور حاجی اللہ دتہ مرحوم بھی تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی چند ساتھی تھے۔ رش چونکہ زیادہ تھا تو ڈرائیور نے ہمیں عرفات کے آخری کونے میں عرفات کے اندر ہی اتار دیا۔ ہم نے اس کو کہا کہ ہمیں جبل قزح بتا۔ کہنے لگا، ہنا، یہیں ہے۔ بڑا ضدی تھا۔ ہم نے اس کی خاصی منت کی کہ ہمارے ساتھ اس طرح نہ کر، حج پر زد پڑتی ہے او ریہ تو عرفات ہے، تو ہمیں مزدلفہ جا کر اتار۔ وہ نہ مانا اور چل پڑا کہ اب میں سحری کے وقت آؤں گا۔ تو ہم نے وہاں نعرہ لگایا کہ لیمت سواق ہذہ السیارۃ، اس گاڑی کا ڈرائیور مردہ باد۔ تو وہ گھبرایا اور پھر ہمیں جا کر مزدلفہ اتارا۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۱۴۴، ۱۴۵)
  • تیرہویں تاریخ کو ]جمرات پر رمی کے لیے[ کوئی شاذ ونادر ہی ٹھہرتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے کوشش کی تھی۔ میرے ساتھ کچھ ساتھی بھی تھے۔ بس ہم ہی وہاں تھے، اور کوئی نہیں تھا۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۱۵۱)
  • میں جس وقت عمرے کے لیے جدہ گیا تو ایک بوڑھا، بے چارہ اس کی بڑی ڈاڑھی تھی، وہ سپاہی جو اس جگہ کا شرطی تھا، وہ آ کر اس کی ڈاڑھی کریدتا تھا، ڈاڑھی میں کچھ تلاش کرتا تھا۔ ہم ہنسنے لگے کہ اس بوڑھے کی ڈاڑھی میں کیا تلاش کرتا ہے۔ اس شرطی نے کہا کہ چند دن ہوئے، ایک بوڑھا اپنی ڈاڑھی میں ہیروئن چھپا کر لایا تھا، اس لیے ہم مجبور ہیں۔ لوگ اپنے عزیزوں کو رشتہ داروں کو باتوں کی کیسٹیں بھیجتے ہیں، اس نے کیسٹ میں ہیروئن بھر کر دے دی کہ جی ہمارے فلاں کو دے دینا اور کیسٹ کے اندر ہیروئن تھی۔ اتنے ہم بے ایمان ہو چکے ہیں کہ ڈاڑھیاں بھی ہماری بے ایمانی سے نہیں بچیں۔ اور وہ جو سلام کلام کیسٹوں میں ہم بھیجتے ہیں، وہ بھی بیچیں اور لوگ جوتوں میں بھی بے ایمانی کرتے ہیں۔ وہ بھی بے چارے مجبور ہیں۔ (خطبات امام اہل سنت ۳/۲۷۰)
  • حج بدل خاصا مشکل ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میرا حج بدل تھا او رمجھے مسلسل چالیس دل تک احرام میں رہنا پڑا۔ اور سردی بھی تھی، سر کو ٹھنڈ لگتی تھی۔ وہاں مجھے سوائے مولانا غلام غوث ہزاروی کے کسی واقف نے نہ پہچانا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور حج مکمل ہو گیا۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۴۶)
  • ایک دفعہ میں جہاز پر سوار ہوا اور وہ اس طرح ہوا کہ حج سے واپسی پر مجھے پاکستان کا ٹکٹ نہ مل سکا، مجبوراً شام کا ٹکٹ لینا پڑا اور ہم جدہ سے دمشق چلے گئے۔ راستے میں بادل بہت گہرے تھے تو میں پوچھتا رہا کہ یہ پہاڑ کون سے ہیں؟ کہنے لگے یہ پہاڑ نہیں، یہ تو بادل ہیں اور جہاد جب بادل سے اوپر جاتا تھا تو بادل پہاڑ لگتے تھے۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۵۷)
  • شام اورکنعان بھی ارض مقد س میں ہے، اس لیے کہ بے شمار پیغمبروہاں تشریف لائے اوران کی قبریں بھی وہیں ہیں۔ یہ بڑا زرخیز اور ٹھنڈا علاقہ ہے، ہر طرح کے پھل وہاں ہوتے ہیں۔ صاف ستھرا پانی ہے۔ ہم نے دمشق کی نہر میں دیکھا کہ پانی کی دونالیاں آ رہی ہیں۔ ایک میں صاف شفاف پانی ہے،اس کاپانی لوگ استعمال کرتے ہیں اور تھوڑے سے فاصلے پر دوسری نالی ہے جس میں استعمال شدہ پانی جا رہا ہے۔ ہر جگہ پانی کی فراوانی ہے، گھروں میں بھی اور مسجدوں میں بھی۔ وہاں کے لوگ بھی بڑے منیب الطبع تھے۔ ہم ایک بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک آدمی جس کی چھوٹی سی کریانہ کی دوکان تھی، دوڑتا ہو ا آیا اور میری ڈاڑھی کو اس نے چومنا شروع کر دیا اور مسلسل چومتا رہا۔ میں نے کہا بھائی!کیابا ت ہے۔ میرا تیرا کوئی تعارف نہیں ہے۔ میں تجھے جانتا نہیں ہوں۔ میری ڈاڑھی کو کیوں چوم رہے ہو؟ کہنے لگا: ڈاڑھی نظر آئی ہے، محبت سے چوم رہا ہوں۔ میں نے کہا تجھے بھی رکھنے کاحق ہے ،رکھ لے، کیوں نہیں رکھتا؟ اس نے بڑی گالی دے کر کہا: ہم تو ڈاڑھی رکھنا چاہتے ہیں مگر جب رکھتے ہیں تو یہ جو ہمارے بڑے ہیں، ہمارا مذاق اڑاتے ہیں،اس لیے ہم نہیں رکھتے، یعنی معاشرہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۶/۱۰۸)
  • اس زمانے میں، میں نے حج کا سفر کیا۔ واپسی پر مجھے براہ راست پاکستان کا جہاز نہ ملا، شام کے راستے واپس آنا پڑا۔ ہمیں دو دن دمشق رہنا پڑا۔ وہاں ایک بڑی وسیع مسجد تھی اور بڑے بڑے مینار تھے اور بہت خوب صورت تھی جس طرح شاہی مسجد ہے۔ سلیمان خان قانونی ترکی بادشاہ گزرا ہے، اس نے بنوائی تھی اور اس کے ساتھ کمرے بنے ہوئے تھے۔ پانی کا بڑا انتظام تھا۔ موذن نے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی۔ جماعت کے وقت ایک امام اور دو آدمی مقامی تھے اور میرے علاوہ تین چار اور پاکستانی تھے۔ نماز پڑھنے کے بعد ہم نے امام سے دریافت کیا کہ کیا وجہ ہے، اتنی بڑی مسجد اور نمازی نہیں ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ مسجد شہر سے الگ ہے، آبادی ذرا دور ہے۔ میں نے کہا کہ مسجد کے ساتھ جو کمرے ہیں، ان میں لوگ رہتے ہیں یا نہیں؟ کہنے لگا اس میں فوجی رہتے ہیں۔ میں نے کہا، وہ مسلمان ہیں؟ اس نے کہا، ہاں مسلمان ہیں۔ میں نے کہا، انھوں نے اذان سنی ہے؟ مسجد کے کمروں میں رہتے ہیں اور نماز نہیں پڑھی۔ اس نے بہت بڑی گالی دے کر کہا کہ اگر یہ نمازی ہوتے تو ہمیں یہودیوں سے ذلیل کراتے؟ (ذخیرۃ الجنان ۳/۲۲۶، ۲۲۷)
  •  ایک دفعہ میں لندن سے واپس آ رہا تھا۔ میرے ساتھیوں نے ٹکٹ پر لکھوا دیا کہ جہاز میں کھانا نہیں کھائیں گے اور مجھے بھی بتا دیا کہ ہم نے آپ کے ٹکٹ پریہ لکھوا دیا ہے، کیونکہ یہ جہاز برطانیہ کا ہے۔ اس باورچی خانے میں اگر چہ پکانے والے مسلمانوں کے لیے گائے، بکری اور مرغی کا گوشت پکائیں گے، مگرہانڈی میں چلانے والا چمچہ مشترک ہوتا ہے کہ خنزیر کی ہانڈی میں بھی وہی چلاتے ہیں۔ بارہ تیرہ گھنٹوں کا سفر تھا۔ جب کھانے کاوقت ہوا تو میں نے کہا کہ میں نے نہیں کھانا۔ وہ میری بات نہ سمجھ سکی، چونکہ وہ اردو نہیں جانتی تھی۔ وہ اردو سمجھنے والی کولے آئی۔ اس نے پوچھا، باباجی! آپ کھانا کیوں نہیں کھاتے؟ میں نے کہا، بس میں نے کہا کہ نہیں کھانا۔ کہنے لگی: آپ کے ذہن میں جو خدشہ ہے، وہ ہم نہیں لائیں گی۔ ہم آپ کے لیے مرغی یا بکری کا گوشت لے آتے ہیں۔ میں نے اس کا بھی انکار کر دیا۔ ان کے لیے مصیبت بن گئی۔ ایک جاتی ہے اور دوسری آتی ہے۔ جس طرح گھروں میں بڑوں کو راضی کیا جاتا ہے، مجھے راضی کرنے کے لیے لائن لگ گئی۔ میں نے کہا: بار ہ تیرہ گھنٹے بھوکارہنے سے میں نہیں مرتا، آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ کہنے لگیں: کوئی سبزی لے آئیں؟ تو میں نے کہا ٹھیک ہے، سبزی لے آؤ مگر سور والا چمچہ نہ استعمال کرنا۔ تب جا کر کہیں ان کو سکون آیا۔اس سے ان کے اخلاق کا اندازہ لگائیں۔
    یہ تو انگریز تھے۔ اب مسلمانوں کاحال بھی سن لو۔ جب میں ابوظہبی اتر، ا نماز میں نے پڑھنی تھی اور تھا میں باوضو۔ رومال میں نے کندھے پر رکھا ہوا تھا۔ ایک افسر کو بلا کر میں نے کہا: ا رنی جھۃ القبلۃ ارید الصلوۃ، مجھے قبلہ کا رخ بتادیں، میں نے نماز پڑھنی ہے۔ اس نے کوئی پروا نہ کی۔ دوسرے سے پوچھا، وہ بھی بڑبڑ کرتا ہوا چلاگیا اور بتایا نہیں۔ پھرایک اور افسر آیا۔ اس نے بڑی پیٹی اور کندھے پر پھول لگائے ہوئے تھے۔ میں نے اس کو سلام کیا اور اس کا بازو پکڑا اور کہا کہ میں مسافر ہوں، میں نے نماز پڑھنی ہے، مجھے قبلہ کا رخ بتادو۔ اس نے بڑے ترش لہجہ میں کہا: ’’ھنا‘‘، ادھر ہے۔ میں نے کہا، ان کا اخلاق دیکھوا ور ان کا اخلاق دیکھو، کتنا فرق ہے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۶/۳۱۰)
  •  گزشتہ سال علاج وغیرہ کے سلسلہ میں مجبوری کے تحت برطانیہ جانا ہوا، مگر ناکام ہو کر لوٹ آیا کیونکہ مصارف کی بھاری چٹان اٹھانے کے قابل نہیں تھا۔ بس یوں سمجھیے کہ کرایہ کے تاوان کے نیچے دب کے آ گیا۔ (مکتوب بنام مولانا عبد الدیان کلیم، ۲۶؍ صفر ۱۴۰۸ھ/۲۰؍اکتوبر ۱۹۸۷ء)
  • اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل وکرم سے راقم اثیم خیر وعافیت کے ساتھ افریقہ اور عمرہ کے سفر سے واپس آ گیا ہے۔ ربیع الاول سے قبل عمرہ کی اجازت خاصا مسئلہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد سے اور ظاہری طور پر افریقہ کے ساتھیوں کی کوشش سے کامیابی ہوئی اور عمرہ ہو گیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔ آنے کے بعد طبیعت نزلہ زکام وغیرہ کی وجہ سے خاصی بگڑ گئی تھی۔ اب بفضلہ تعالیٰ قدرے آرام ہے۔ سفر میں میرے ساتھ حضرت مولانا محمد جمیل خان صاحب تھے۔ انھوں نے سارا سفر نامہ لکھا ہے، بلکہ جہاں جہاں بیانات ہوتے رہے، اکثر وہ بھی لکھے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ ’الشریعہ‘ میں شائع کرانا ہے۔ (مکتوب بنام مولانا زاہد الراشدی، تاریخ ندارد)
  • کوئٹہ پہلے بڑا اہم شہر ہوتا تھا۔ ۳۱؍ مئی ۱۹۳۵ء میں جب وہاں زلزلہ آیا تو کوئٹہ تباہ ہو گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تباہ وبرباد ہو گئے۔ مجھے باسٹھ سال کے بعد پھر کوئٹہ جانا پڑا۔ میں نے غرق ہونے سے پہلے کوئٹہ دیکھا تھا۔ اب جب کہ دیکھا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ بارونق تھا۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۳۱۵)
  • اجلاس صد سالہ دار العلوم دیوبند (انڈیا) ۳، ۴، ۵ جمادی الاولیٰ ۱۴۰۰ھ/۲۱، ۲۲، ۲۳ مارچ ۱۹۸۰ء کو منعقد ہوا۔ راقم اثیم کو بھی شرکت کا موقع اور شرف حاصل ہوا۔ راقم اثیم اپنے برادر عزیز صوفی عبد الحمید سلمہ اللہ تعالیٰ کی معیت میں دیوبند میں حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحب دام مجدہم (جو حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں) کے دولت کدہ پر ملاقات کے لیے حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہاں پاک وہند کے مقتدر علماء کرام اور پروفیسر حضرات خاصی تعداد میں جمع ہیں۔ راقم اثیم نے جب اپنا نام بتایا تو حضرت شاہ صاحب دام مجدہم بڑی محبت اور عقیدت سے اٹھ کر ملے اور بھری مجلس میں یہ فرمایا کہ یہ امیر الموحدین ہیں جنھوں نے توحید وسنت پر ٹھوس اور مدلل علمی کتابیں لکھی ہیں اور یہ ’’عمدۃ الاثاث‘‘ کے مصنف ہیں جس کے ذریعے بعض علماء کرام کے شکوک وشبہات دور ہو گئے ہیں۔ کثرت ہجوم کی وجہ سے زیادہ وقت حضرت شاہ صاحب موصوف سے گفتگو کا نہیں مل سکا، لیکن حضرت شاہ صاحب موصوف کے ان جملوں سے یہ بات بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ حضرت نے، جو خود بھی بہترین مدرس اور محقق عالم ہیں، اس کتاب کو بہت پسند فرمایا ہے۔ (عمدۃ الاثاث ص ۷، ۸)
  • [دار العلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر] مجمع لاکھوں کا تھا اور پگڑیاں ہزاروں کو ملنا تھیں۔ اس کارروائی کا افتتاح محترم قاری محمد طیب صاحبؒ اور مولانا محمد منت اللہ صاحب کی دستار بندی سے ہوا اور پھر مولانا عبد الحق صاحبؒ اور بعد میں آپ ] مولانا قاضی شمس الدینؒ [ کا نمبر آیا۔ چونکہ ہزاروں لوگوں کو دستار بندی کرانا بہت ہی مشکل تھا، کچھ حضرات کو اسٹیج پر اور باقی حضرات کو اسٹیج سے نیچے پگڑیاں ہاتھوں میں دی گئیں۔ اور بحمد اللہ تعالیٰ سواتی برادران اسٹیج پر ہی تھے اور براہ راست اسٹیج پر پگڑیاں ملیں۔ ہم سے یہ نہیں کہا گیا کہ جاؤ، دار الاہتمام سے پگڑیاں لے لو۔ (الشہاب المبین، ص ۴۵)

۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں جیل کے واقعات

  • راقم اثیم تحریک ختم نبوت کے دور میں پہلے گوجرانوالہ جیل میں، پھر نیو سنٹرل جیل ملتان میں کمرہ نمبر ۱۴ میں مقید رہا۔ ہماری بارک نمبر ۶ دو منزلہ تھی اور اس میں چار اضلاع کے قیدی تھے اور سبھی علما، طلبا، تاجر اور پڑھے لکھے لوگ تھے جو دین دار تھے۔ اضلاع یہ ہیں: ضلع گوجرانوالہ، ضلع سیالکوٹ، ضلع سرگودھا اور ضلع کیمبل پور (فی الحال ضلع اٹک)۔ بحمد اللہ تعالیٰ جیل میں بھی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری تھا۔ راقم اثیم قرآن کریم کا ترجمہ، موطا امام مالک، شرح نخبۃ الفکر اور حجۃ اللہ البالغہ وغیرہ کتابیں پڑھاتا رہا۔ دیگر حضرات علماے کرام بھی اپنے اپنے ذوق کے اسباق پڑھتے پڑھاتے رہے۔ آخر میں راقم اثیم کمرہ میں اکیلا رہتا تھا، کیونکہ باقی ساتھی رہا ہو چکے تھے اور میں قدرے بڑا مجرم تھا۔ تقریباً دس ماہ جیل میں رہا اور ڈاکٹر غلام جیلانی برق صاحب کی تردید میں بجواب دو اسلام ’’صرف ایک اسلام‘‘ وہاں ملتان جیل ہی میں راقم اثیم نے لکھی تھی۔ (توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام، ص ۱۲، ۱۳)
  • تحریک ختم نبوت میں، میں سنٹرل جیل ملتان میں تھا کیوں کہ وہ کئی ضلعوں کی جیل تھی۔ میرے ساتھ میرے استاد مولانا عبدالقدیر صاحب بھی تھے۔ جیل میں تقریباً دو ہزار اخلاقی قیدی تھے اور دوسو سے زائد ہم تحریکی قیدی تھے جن میں علما، طلبہ، وکلا، تاجر اور عوام تھے۔ جیل کا سپرنٹنڈنٹ اسلم خان چھچھ کے علاقے کا رہنے والا اور ہمارے استاد مولانا عبدالقدیر ؒ کے دیہات کا قریبی تھا۔ایک دوسرے کوجانتے تھے۔ سیٹی بجی، دروازے بند ہوگئے۔ سپاہیوں نے کہا کہ دورہ ہے، اس لیے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ آ رہا ہے، وہ قیدیوں سے حالات پوچھے گا کہ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔ چنانچہ اسلم خان نے آکر سلام کیا اور پوچھاکہ مولانا! کوئی تکلیف تو نہیں ہے؟ مولانا نے فرمایا، الحمد للہ ہم آرام سے ہیں، ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ تمہارے ساتھیوں کی طر ف سے میرے پاس ایک درخواست آئی ہے جس میں لکھا ہے کہ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ختم نبوت کا عقیدہ رکھیں گے، لیکن درس، جمعہ اور تقریر میں بیان نہیں کریں گے لہٰذا ہمیں جیل سے نکال دو۔ یہ بات کر کے اسلم خان مسکرایا اور کہنے لگا: مولانا! یہ لوگ کتنے سادہ ہیں، ان کویہ معلوم نہیں ہے کہ یہ مرکزی حکومت کے قیدی ہیں۔ میں کون ہوتا ہوں ان کو نکالنے والا۔ ان کو تو گورنر بھی نہیں نکال سکتا۔ میں تو قیدیوں کا چوکیدار ہوں کہ کتنے قیدی میرے پاس ہیں اور ان کا حال کیا ہے۔ پھر کہنے لگا: مولانا! میرے پاس دو ہزار سے زیادہ اخلاقی قیدی ہیں، کسی نے اتنی کمزوری نہیں دکھائی جتنی تمہارے مولویوں نے دکھائی ہے۔ ہم نے مولانا عبدالقدیر ؒ سے کہا کہ حضرت! آپ ان سے مولویوں کے نام مہیاکریں تاکہ پتہ چلے کہ کون کون سے مولوی صاحبان ہیں۔ دو چار دن کے بعد مولانا سپرنٹنڈنٹ سے ملے اور کہا کہ وہ جو میرے دوست مولوی حضرات ہیں جنہوں نے درخواست دی ہے، ان کے نام مطلوب ہیں۔ وہ کہنے لگا، میں امین ہوں، بتلا نہیں سکتا۔ مولانا نے فرمایا کہ میں نے ضرور لینے ہیں۔ چونکہ اس سے سابقہ تعارف تھا، اس نے نام بتلا دیے۔ مولانا نام نوٹ کر کے لائے۔ یقین جانیں سارے حلوہ خور ہی تھے، اہل حق میں سے ایک بھی نہیں تھا، حالانکہ ہم بی کلاس میں تھے، کوئی مشقت نہیں تھی۔ دوسروں کی نسبت کھانا بھی اچھا ملتا تھا اور وہاں ہم پڑھتے پڑھاتے بھی تھے۔ چار سبق میں پڑھاتا تھا۔ ترجمہ، موطا امام مالک، حجۃ اللہ البالغہ، نخبۃالفکر، ہدایہ وغیرہ کتابوں کے اسباق ہوتے تھے۔ سوائے اس کے کہ ہم گھر کے افراد سے جدا تھے، اور کوئی تکلیف نہیں تھی، مگر پھر بھی حلوہ خوروں کایہ حال تھاکہ درخواست لکھ ڈالی۔ چونکہ میں بڑے مجرموں میں تھا، اس لیے دس ماہ بعد رہا ہوا ۔ باقی ساتھی کوئی پانچ ماہ بعد، کوئی چھ ماہ بعد اور کوئی سات ماہ بعد رہا ہو گئے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۷/۲۰۱)
  • جیل میں میرے استاد محترم حضرت مولانا عبد القدیر بھی تھے۔ عید کا دن تھا۔ افسر ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ عید کی نماز پڑھائیں۔ ہم نے کہا کہ جی، جیل کے اندر نہ جمعے کی نماز ہے اور نہ عید کی نماز۔ جمعے کے لیے شرط ہے اذن عام، لوگ آ جا سکیں۔ جیل میں ہم بی کلاس میں تھے اور دوسرے سی کلاس میں تھے۔ ہم ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے تھے۔ ادھر اذن عام کا یہ عالم تھاکہ ہم سب کا ایک ہی جرم تھا، وہ بھی ختم نبوت کی تحریک میں آئے تھے، ہم بھی ختم نبوت کی تحریک میں آئے تھے، لیکن ہمیں ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی اور انھیں ہم سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہم نے جمعہ نہیں پڑھا، عید بھی نہیں پڑھی۔ جہاں جمعہ نہیں، وہاں عید نہیں۔ مولانا عبد القدیر اوپر چڑھے تھے اور میں نیچے تھا۔ مولانا نے فرمایا ،میاں! جلدی آؤ۔ یہ ان کا تکیہ کلام تھا۔ بڑی لمبی چوڑی جیل تھی۔ میں دوڑا بھاگا سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر گیا۔ سامنے منظر نظر آتا تھا۔ فرمایا، میاں! دیکھو کیا کر رہے ہیں۔ عید کا دن تھا۔ افسر بھی خاصے تھے۔ سنٹرل جیل تھی۔ کئی علاقوں کے قیدی اور افسر بھی تھے۔ تو ادھر عید کے لیے اذان ہو رہی تھی۔ مولانا صاحب نے کہا کہ میاں دیکھو۔ فرمانے لگے کہ قیدیوں پر ہمارا کوئی شکوہ نہیں۔ کوئی چور ہے، کوئی ڈاکو ہے، کوئی قاتل ہے، کوئی کچھ ہے، کوئی کچھ ہے۔ افسوس ان افسروں پر ہے جو دو سو سے زیادہ ہیں، جیل کے سنٹرل آئی جی بھی موجود تھے۔ افسوس ان پڑھے لکھے افسروں پر ہے جن کو یہ بھی معلوم نہیں کہ عید کی نماز کے لیے اذان نہیں ہوتی۔ (خطبات امام اہل سنت ۲/۲۴۹، ۲۵۰)
  • تحریک ختم نبوت کے زمانے میں تحریک ختم نبوت کی پیروی کرنے والے لاہور ہائی کورٹ میں وکیل محمد انور صاحب ہوتے تھے۔ بعد میں جج بنے۔ اب فوت ہو گئے ہیں۔ ہمیں حکم ہوا تھا کہ ان کو مسائل کی تیاری کراؤ۔ ایک مولانا لال حسین اختر صاحب مرحوم تھے۔ ایک مولانا عبد الرحمن میانوی مرحوم تھے۔ عربی باتیں جتنی تھیں، وہ میرے سپرد تھیں کہ اس کا مطلب آپ نے وکیل کو بتانا ہے۔ اس وقت تین جج تھے۔ محمد خیر صاحب، ایم آر کیانی صاحب اور ایک محمود صاحب۔ اس وقت ہم عدالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ]جج کے کمرۂ عدالت میں آنے پر[ وہ مجھے پکڑ پکڑ کر اٹھاتے تھے، میں اپنی جگہ سے نہ ہلتا۔ ہائی کورٹ میں کیانی بڑے زیرک آدمی تھے، وہ دیکھ کر مسکرائے۔ کارندے آتے اور آکر مجھے کہیں اٹھ۔ میں نہ اٹھتا تھا۔ بہرحال ایسی افراط وتفریط کی بات ہو تو پھر بات ہے۔ افراط وتفریط نہ ہو تو پھر بڑے کے لیے اٹھ کھڑے ہونا کوئی جرم کی بات نہیں۔ (خطبات امام اہل سنت ۲/۲۷۲)

خواب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت

  • ۱۳۷۳ھ/۱۹۵۳ء میں ]ملتان جیل میں اسارت کے دوران[ تقریباً سحری کا وقت تھا کہ خواب میں مجھ سے کسی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام آ رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کہاں آ رہے ہیں؟ تو جواب ملا کہ یہاں تمہارے پاس تشریف لائیں گے۔ میں خوش بھی ہوا کہ حضرت کی ملاقات کا شرف حاصل ہوگا اور کچھ پریشانی بھی ہوئی کہ میں تو قیدی ہوں، حضرت کو بٹھاؤں گا کہاں اور کھلاؤں پلاؤں گا کیا؟ پھر خواب ہی میں یہ خیال آیا کہ راقم کے نیچے جو دری، نمدہ اور چادر ہے، یہ پاک ہیں، ان پر بٹھاؤں گا۔ خواب میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اتنے میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کے ساتھ ان کا ایک خادم تشریف لائے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سر مبارک ننگا تھا، چہرہ اقدس سرخ اور ڈاڑھی مبارک سیاہ تھی۔ لمبا سفید عربی طرز کا کرتا زیب تن تھا اور نظر نہیں آتا تھا، مگر محسوس یہ ہوتا تھا کہ نیچے حضرت نے جانگیہ اور نیکر پہنی ہوئی ہے۔ اور آپ کے خادم کا لباس سفید تھا، فٹ کرتا اور قدرے تنگ شلوار اور سر پر سفید اور اوپر کو ابھری ہوئی نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ راقم اثیم نے اپنے بستر پر، جو زمین پر بچا ہوا تھا، دونوں بزرگوں کو بٹھلایا۔ نہایت ہی عقیدت مندانہ طریقہ سے علیک سلیک کے بعد راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مودبانہ طور پر کہا کہ حضرت! میں قیدی ہوں، اور کوئی خدمت نہیں کر سکتا، صرف قہوہ پلا سکتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا، لاؤ۔ میں خواب ہی میں فوراً تنور پر پہنچا جہاں روٹیاں پکتی تھیں۔ میں نے اس تنور پر گھڑا رکھا اور اس میں پانی، چائے کی پتی اور کھانڈ ڈالی۔ اور تنور خوب گرم تھا، جلدی ہی میں قہوہ تیار ہو گیا۔ راقم اثیم خوشی خوشی لے کر کمرہ میں پہنچا اور قہوہ دو پیالیوں میں ڈالا اور یوں محسوس ہوا کہ اس میں دودھ بھی پڑا ہوا ہے۔ بڑی خوشی ہوئی۔ ان دونوں بزرگوں نے چائے پی۔ پھر جلدی سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اٹھ کھڑے ہوئے اور خادم بھی ساتھ اٹھ گیا۔ میں نے التجا کی کہ حضرت، ذرا آرام کریں اور ٹھہریں تو حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:ہمیں جلدی جانا ہے، پھر ان شاء اللہ العزیز جلدی آ جائیں گے۔ یہ فرما کر رخصت ہو گئے۔
    راقم اثیم اس خواب سے بہت ہی خوش ہوا۔ فجر ہوئی اور ہمارے کمرے کھلے تو راقم اثیم استاد محترم حضرت مولانا عبدالقدیر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت بھی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ہمارے ساتھ جیل میں مقید تھے اور ان کے سامنے خواب بیان کیا۔ حضرت نے فرمایا، میاں! تمہیں معلوم ہے کہ حضرات انبیاء کرام اور فرشتوں علیہم الصلوٰۃ والسلام کی (جو تمام معصوم ہیں) شکل وصورت میں شیطان نہیں آ سکتا۔ واقعی تم نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام ہی کو دیکھا ہے اور میاں! ہو سکتا ہے کہ تمہاری زندگی ہی میں تشریف لے آئیں۔
    راقم اثیم نے دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا کہ حضرت شلوار پہنے ہوئے تھے اور گھٹنوں سے ذرا نیچے تک قمیص زیب تن تھی اور سر مبارک پر سادہ سا کلہ، اوپر پگڑی باندھے ہوئے تھے اور کوٹ میں جو گھٹنوں سے نیچے تھا، ملبوس تھے اور بڑی تیزی سے چل رہے تھے۔ راقم اثیم کو پتہ چلا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جا رہے ہیں تو راقم اثیم بھی پیچھے پیچھے چل پڑا اور سلام عرض کیا۔ یوں محسوس ہوا کہ بہت آہستہ سے جواب دیا اور رفتار برقرار رکھی۔ راقم بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ کافی دور جانے کے بعد زور زور کی بارش شروع ہو گئی۔ حضرت اس بارش میں بیٹھ گئے اور اوپر ایک سفید رنگ کی چادر تان لی۔ کافی دیر تک مغموم اور پریشان حالت میں بیٹھے رہے۔ پھر بارش میں ہی اٹھ کر کہیں تشریف لے گئے اور پھر نظر نہ آئے۔
    اس خواب کے چند دنوں بعد مہاجرین فلسطین کے دو کیمپوں صابرہ اور شتیلہ کا واقعہ پیش آیا کہ یہودیوں نے تقریباً بتیس ہزار مظلوم مسلمان مردوں، عورتوں، بوڑھوں، بچوں اور مریضوں کو گولیوں سے بھون ڈالا۔ اس واقعہ کے پیش آنے کے بعد راقم اثیم خواب کی تعبیر سمجھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شدید بارش میں چادر اوڑھ کر بیٹھنا اور پریشان ہونا اس کی طرف اشارہ تھا کہ تقریباً ستر لاکھ ظالم یہودیوں کے ہاتھوں تقریباً تیرہ کروڑ کی، آس پاس کی مسلمان حکومتو ں کی موجودگی میں، جنھوں نے بے غیرتی کا مظاہرہ کیا اور مصلحت کی چادر اوڑھ رکھی ہے، مظلوم مسلمانوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے، مگر یہ بے غیرت خاموش ہیں اور ان کی بے غیرتی اور بے حسی وامریکہ پرستی کی لعنت تاہنوز ان پر چھائی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو شرم وغیرت کی دولت عطا فرمائے۔ آمین
    ان دو خوابوں میں راقم اثیم نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ملاقات کا شرف حاصل کیا۔ اور بحمد اللہ تعالیٰ کارگل کی لڑائی سے چند دن پہلے تیسری مرتبہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خواب میں دیکھا ہے۔ آپ سفید لباس میں ملبوس تھے۔ اوپر واسکٹ تھا۔ سر مبارک ننگا تھا اور عینک لگائے ہوئے تھے۔ ملاقات ہوتے ہوئے آپ فوراً کہیں چلے گئے اور آپ کے ارد گرد کچھ مستعد نوجوان تھے اور خاصی تعداد میں میلے اور ڈھیلے لباس والے طالبان قسم کی مخلوق تھی جو آپ کے حکم کی منتظر تھی۔ (توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام، ص ۱۲ تا ۱۵)

بعض تصانیف کا پس منظر

  • ۲۴؍ جولائی ۱۹۴۴ء کو مقام گکھڑ سے ایک ماہ کی چھٹی لے کر بعض مخلص احبہ (جناب حکیم فضل داد خاں عباسی وجناب مولانا محمد عسکری فاضل دیوبند) کے اصرار پر کوہ مری گیا۔ وہاں میرا پہنچنا ہی تھا کہ بعض مقامی مشہور مسائل میرے سامنے پیش ہوئے جن میں سے بعض تو ایسے لچر پوچ تھے کہ جن کی نسبت کسی ذی علم کی طرف عیب قبیح ہے۔ ..... من جملہ ان مسائل کے ایک مسئلہ یہ بھی تھا .... کہ بنی ہاشم (سادات) کو زکوٰۃ لینی جائز ہے۔ وہاں کے ایک بہت بڑے امام مسجد نے (جو وہاں کے علاقہ میں مانے ہوئے ہیں اور سب ائمہ مساجد کے سردار ہیں) اپنے ایک حواری کو ایک رقعہ دیا کہ جا کر راقم الحروف کو بتلاؤ کہ ہم عباسی ہیں اور ہمارے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہے۔ دیکھو نہر الفائق اور جامع الرموز اور انواع مولوی عبد اللہ وغیرہ میں لکھا ہے۔ احقر نے وہاں جو کتب حدیث وفقہ دست یاب ہو سکیں، ان کی طرف مراجعت کی، چنانچہ مشکوٰۃ شریف اور فتاویٰ قاضی خان اور عالمگیری وغیرہ کا مطالعہ کیا تو ان میں لکھا تھاکہ بنو ہاشم کے لیے زکوٰۃ وصدقات جائز نہیں، البتہ نورالایضاح میں لکھا تھا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ جواز کے قائل ہیں۔ احقر کو کچھ شبہ سا پڑ گیا۔ جب میں واپس اپنی جاے رہایش مقام گکھڑ ضلع گوجرانوالہ آیا تو بعض علما سے پوچھا کہ کیا امام طحاویؒ اس کے قائل ہیں تو انھوں نے بھی کہہ دیا کہ ہاں، امام طحاویؒ اس کے قائل ہیں۔ میں نے جب امام طحاوی کی مشہور تصنیف شرح معانی الآثار دیکھی تو مجھے وہ مطلب جو علماے کرام بیان فرما رہے تھے، سمجھ نہ آیا بلکہ یہی سمجھ آیا کہ امام طحاویؒ بھی عدم جواز کے قائل ہیں۔ چنانچہ میں نے جب اپنے دلائل پیش کیے تو بعض علما نے وہ باب جو امام طحاوی نے صدقات علیٰ بنی ہاشم پر قائم کیا ہے، دوبارہ اور سہ بارہ دیکھا۔ بعض نے تو سکوت اختیار کیا اور بعض نے کہا کہ جیسی یہ عبارت ہے، اس سے تو وہی مطلب سمجھا جاتا ہے جس کو تم (یعنی احقر راقم الحروف) سمجھے ہو، مگر چونکہ ہم نے اپنے اساتذہ سے اور فلاں فلاں عالم سے سنا ہے کہ امام طحاویؒ جوازکے قائل ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ کتاب کا کوئی دوسرا نسخہ صحیح ہو اور اس میں یہ عبارت صحیح لکھی گئی ہو۔ پھر احقر کو شبہ پڑا اور متعدد مطابع کے چھپے ہوئے نسخے جو میسر ہو سکے، دیکھے مگر وہی عبارت ملی۔ مطلب حل نہ ہوا اور اس کے لیے ایک لمبا سفر دار العلوم دیوبند کا احقر نے اختیار کیا۔ وہاں بعض علما نے مراجعت کی اور بعض کتب جو میسر ہو سکیں، ان سے ضروری ضروری اقتباسات .... لکھ کر لایا۔ کچھ کتب گوجرانوالہ حضرت مولانا عبد العزیز صاحبؒ (المتوفی ۱۳۵۹ھ) کے کتب خانہ سے میسر ہوئیں۔ وہ علماء کرام جن سے مجھے اس مسئلہ میں مدد ملی، بعض یہ ہیں:
    ۱۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ، ۲۔ جناب استاذی وسابق مفتی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ ، ۳۔ اور جناب استاذی مولانا الحافظ الحاج محمد ادریس صاحب سابق مدرس دار العلوم دیوبند۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزاے خیر عطا فرمائے۔ آمین (الکلام الحاوی فی تحقیق عبارۃ الطحاوی ص ۱۳ تا ۱۶)
  • عالم اسلام کی دنیا میں سب سے بڑی خالص اسلامی یونیورسٹی اور مرکز علوم دینیہ دار العلوم دیوبند (بھارت) کے حضرت مہتمم صاحب دام مجدہم کے یکے بعد دیگرے تین عدد دعوت نامے راقم اثیم کے نام بذریعہ ڈاک آئے کہ دار العلوم دیوبند کے معزز ارکان شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق ۲۹، ۳۰، ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۸۶ء کو دار العلوم کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر ایک عالمی اجلاس طے ہوا ہے جس میں تمہاری شمولیت بھی ضروری ہے اور ذیل کے عنوانات میں سے کسی ایک پر ایک مقالہ تحریر کر کے ۲۰؍ اکتوبر تک دار العلوم دیوبند بھیج دیں۔ اور مقالہ فل اسکیپ سائز کے سات صفحات پر مشتمل ہونا چاہیے، یا اگر مقالہ مفصل ہو تو چار پانچ صفحات میں اس کی تلخیص فرما دی جائے تاکہ اس کو ۱۲ منٹ میں پیش کیا جا سکے۔ چونکہ راقم اثیم ۳؍ ستمبر ۱۹۸۶ء سے ۲۵ ستمبر تک برطانیہ کے دورے پر تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اسباق کے خلاف معمول کافی ناغے ہو چکے تھے، اس لیے خود دار العلوم دیوبند جانے کے سلسلے میں خاصا متردد تھا، مگر بفضل اللہ تعالیٰ مقالہ ان کے انتخاب کردہ عنوانات کے تحت نمبر ۱۰ ’’ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ پر لکھنا شروع کر دیا۔ اور معلوم ہوا کہ عزیزم زاہد الراشدی اور عزیزم محمد عبد القدوس خاں قارن سلمہما اللہ تعالیٰ اپنے چند دیگر رفقا کے ساتھ اس اجتماع پر دار العلوم جانے کا عزم بالجزم کر چکے ہیں اور ویزے حاصل کرنے کے لیے درخواستیں بھی دے چکے ہیں۔ بے حد مصروفیت کی وجہ سے مقالہ ۲۰؍ اکتوبر تک تیا رنہ ہو سکا تاکہ بذریعہ ڈاک دار العلوم دیوبند ارسال کر دیا جاتا۔ دل مطمئن تھا کہ ان شاء اللہ العزیز تکمیل کے بعد یہ مقالہ دار العلوم دیوبند بھیج دیا جائے گا جو وہاں اجلاس میں پڑھ کر سنا دیا جائے گا، مگر عزیزوں کے طے شدہ پروگرام کے مطابق روانگی سے ایک دن پہلے معلوم ہوا کہ انڈیا نے سرحدوں کی کشیدگی کا بہانہ بنا کر ان کے ویزوں کی درخواستیں مسترد کردی ہیں اور مرکزی حضرات میں سے جن دو چار خوش نصیبوں کو جانے کی اجازت ملی تو وہ چلے گئے اور ہمیں ان کے جانے کا علم نہ ہو سکا۔ (ختم نبوت کتاب وسنت کی روشنی میں، ص ۷، ۸)
  • ہمارے ایک محترم بزرگ او ر مکرم استاد مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ نے، جن کی علمی شہرت اور فقہی کمال پاک وہند کے علاوہ ایک بین الاقوامی حیثیت رکھتا ہے، راقم اثیم کو یہ تلقین فرمائی اور اس امر کی طرف خصوصی توجہ دلائی کہ مولوی احمد رضا خان صاحب بریلی (المتوفی ۱۳۴۰ھ) نے قرآن پاک کا جو ترجمہ لکھا ہے، اس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ بہت سے اہل علم سے سنا ہے کہ انھوں نے ترجمہ میں بعض مقامات پر خالص سینہ زوری اور تحریف کی ہے اور علاوہ ازیں ان کے مایہ ناز شاگرد مولوی نعیم الدین صاحب مراد آبادی (المتوفی ۱۳۶۷ھ) نے اس کا جو مفصل حاشیہ لکھا ہے، .... اس حاشیہ اور تفسیر کا بھی علمی اور تحقیقی طور پر جائزہ لینا چاہیے کہ اگر ان میں کوئی چیز دینی طور پر قابل گرفت ہو جس سے عوام الناس کے عقائد پر اثر پڑتا ہے اور ان کے اعمال وعبادات بگڑنے کا خطرہ ہو تو بروقت یہ فریضہ ادا کیا جائے تاکہ کتمان حق اور نہی عن المنکر کی کوتاہی کے وبال میں ہم نہ آ جائیں۔ باوجود بے حد مصروفیت اور علالت وکاہلی کے اپنی بے بضاعتی اور بے مائیگی کے ساتھ سردست صرف سرسری طور پر ہی طائرانہ نگاہ ڈالی جا سکی ہے۔ ..... اس میں استاد محترم کے حکم کی تعمیل کے علاوہ مقدم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بھی پیش نظر ہے۔ (تنقید متین بر تفسیر نعیم الدین ص ۱۱، ۱۲)

بعض دلچسپ مکالمے 

  • ایک مرتبہ سردی کے موسم میں مدرسہ نصرۃالعلوم سے سبق پڑھا کر گکھڑ میں اپنی رہایش گاہ پر واپس پہنچا توکسی نے دروازے پر دستک دی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دروازہ کھٹکھٹانے والے صاحب نے مجھے بتلایا کہ ایک پادری نے مجمع لگایا ہواہے اور لوگوں کوعیسائیت کی دعوت دے رہا ہے اورلوگ اس کے دلائل کے سامنے لاجواب ہیں۔ میں نے بائبل اٹھائی اوراس آدمی کے ساتھ چل پڑا۔ جب میں پہنچا تولوگوں کاایک جم غفیر اس پادری صاحب کے ارد گرد جمع تھا اور وہ بڑی زور دار آواز میں لوگوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت دے رہاتھا۔ میں نے آگے بڑھ کر عرض کی کہ پادر ی صاحب! آپ لوگوں کوکس چیزکی دعوت دے رہے ہیں؟پادر ی بولا: میں لوگوں کو یسوع مسیح کی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ پادر ی صاحب، یہ بائبل جومیرے ہاتھ میں ہے، اس پر آپ کا ایمان ہے؟ پاد ری بولا: کیوں نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کا اس کتاب پر ایمان ہے تو اس کتاب کی تعلیم کے مطابق آپ ان لوگوں کویسوع مسیح کی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت نہیں دے سکتے۔ پادری بولا: کیوں؟ میں نے متعلقہ صفحہ نکال کر کہا کہ جناب! آپ کی کتاب میں حضرت عیسیٰ کایہ فرمان لکھا ہوا ہے کہ ’’میں تو صرف بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘ (متی باب ۱۵:۲۵) آپ دیانت داری سے بتائیں کہ اس پورے مجمع میں قوم بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والاکوئی فرد ہے ؟جب یہ بنی اسرائیل کی قوم ہی نہیں تو آپ ان کو حضرت یسوع مسیح کی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت کیوں دے رہے ہیں؟ میری اس دلیل پر و ہ پادر ی بالکل خاموش ہو گیا اور ا س نے فرار ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اسلا م کی صداقت وحقانیت کو پورے مجمع پر واضح فرما دیا۔ (روایت: مولانا حافظ محمد یوسف)
  • سردیوں کاموسم تھا۔ کسی نے دستک دی۔ میں نے بچے کو کہا کہ معلوم کرو، کون ہے۔ بچے نے آکر بتایا کہ پینٹ کوٹ والے دو آدمی کھڑے ہیں۔ میں چونکہ مصروف تھا، بچے کو کہا کہ ان کو بیٹھک میں بٹھاؤ اور اہلیہ کوکہا کہ چائے تیار کرو۔ چائے تیار ہوگئی تو میں نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تمہارا کیا تعارف ہے؟ کہاں سے تشریف لائے ہو؟ اورکیسے آئے ہو؟ ایک نے اپنا تعارف کرایا کہ میرا نام پطرس گِل ہے اور انار کلی لاہور کے گرجا گھر کاانچارج ہوں۔ دوسرا بھی پادری تھا، مگر میں اس کانام بھول گیا ہوں۔ کہنے لگے کہ ہم نے تمہاری کتاب ’’عیسائیت کاپس منظر‘‘ پڑھی ہے۔ اس میں آپ نے انجیل یوحناکا حوالہ دیا ہے کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ ’’میں جانا چاہتا ہوں کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اورمجھ میں اس کا کچھ نہیں‘‘۔ اس حوالے کامصداق تم نے اپنے پیغمبر کو قرار دیا ہے، حالانکہ پیغمبر اس کامصداق نہیں بنتا۔ میں نے کہا کہ یہ حوالہ ہمارے پیغمبر پر کیوں صادق نہیں آتا؟ کہنے لگے، اس سے مراد شیطان ہے۔ میں نے کہا: پادری صاحب! بڑی عجیب بات ہے جوتم نے کہی ہے۔ اچھا یہ بتاؤ کہ شیطان کس نعمت کا نام ہے کہ حضرت عیسیٰ اپنے ساتھیوں کواس کی خوشخبری دے رہے ہیں؟ اور کیا تم شیطان کو دنیا کا سردار مانتے ہو؟ اورکیا حضرت عیسیٰ سے پہلے شیطان نہیں تھا کہ وہ اب اس کے آنے کی خوشخبری سنا رہے ہیں؟ آدم کے جنت سے نکلنے کا سبب کون بنا تھا؟ پھر انجیل متی میں ہے کہ میں اس کی جوتیاں اٹھانے کے قابل نہیں ہوں۔ توکیا حضرت عیسیٰ شیطان کی جوتیاں اٹھانے کے قابل نہیں ہیں؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ حضرت عیسیٰ تو شیطان کوجوتیاں مارنے والے ہیں۔ پھر وہ چلے گئے۔ (ذخیرۃ الجنان، ۵/۱۷۵) 
  • میں بچیوں کو اسباق پڑھا رہا تھا تو ایک بی بی آ گئی جو پروفیسر تھی۔ مجھ سے کہنے لگی کہ مولانا، میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا کہ بی بی اس وقت یہ بچیاں پڑھ رہی ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے ذرا جلدی ہے، میں پوچھنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا، پوچھو کیا پوچھتی ہو۔ کہنے لگی کہ دیکھیے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں اعضا کے قصاص کے سلسلے میں مساوات نہیں، تو کیا امام صاحب عورتوں کو انسان نہیں سمجھتے؟ میں نے کہا کہ بیٹی، تم نے خود مسئلہ چھیڑا ہے، اب مجھے بھی کچھ بیان کرنا پڑے گا۔ میں نے کہا، دیکھو مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی ڈاڑھی مونڈ ڈالے تو اس کی پوری دیت یعنی سو اونٹ لازم آتی ہے۔ اب اگر ایک عورت کسی مرد کی ڈاڑھی مونڈتی ہے تو مرد اس کی ڈاڑھی کہاں سے مونڈے گا، وہ کہاں ہے؟ میں نے کہا کہ اچھا، تم نے مسئلہ چھیڑا ہے تو بتاؤ کہ ایک عورت مرد کے آلہ تناسل کو خصیتین سمیت کاٹ دیتی ہے تو مرد اس کی کون سی جگہ کاٹے گا؟ مرد اگر عورت کے سر کو مونڈ ڈالے اور ہو میرے جیسا ہو جو سر منڈوائے رکھتا ہو تو تم اس کی کون سی جگہ مونڈو گی؟ میں نے کہا کہ مرد کسی عورت کے پستان کاٹ دیتا ہے تو اب مرد کے پستان کہاں ہیں جو کاٹے جائیں گے؟ تو امام صاحب نے کوئی غلط بات نہیں کہی، بالکل صحیح کہا ہے۔ سب بچیاں جو پڑھتی تھیں، سر نیچے کر کے ہنستی تھیں۔ میں نے کہا کہ مسئلہ بیان کرنا ہے۔ اس نے پوچھا ہے تو اب مجھے بتانا تو پڑے گا۔ (دورۂ تفسیر قرآن، سورۂ بقرہ، آیت نمبر ۲۸۲)
  • بہت عرصہ ہوا کہ جھنگ شہر میں میری تقریر ہوئی جو معجرات اور کرامات کے بارے میں تھی۔ ]اس کے بعد گکھڑ میں میرے گھر پر[ دو گاڑیاں آئیں۔ ان میں ایک عورت تھی اور باقی سب مرد تھے۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے بچوں سے کہا کہ باہر دیکھو کہ کون آیا ہے۔ کہنے لگے، باہر ایک عورت پردے والی ہے اور باقی سب اس کے ساتھ مرد ہیں۔ میں نے کہا کہ ان کو بیٹھک میں بٹھا دو اور ان کو پانی وغیرہ پلاؤ۔ گرمی کا زمانہ تھا۔ ان کو بیٹھک میں بٹھایا اور پانی وغیرہ پلایا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سب کہاں سے آئے ہیں۔ کہنے لگے کہ جھنگ شہر سے۔ وہ عورت اس وقت ہیڈ آفیسر تھی یعنی ہسپتالوں کی انچارج تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں، ایک نے کہا کہ میں وکیل ہوں، ایک نے کہا کہ میں انجینئر ہوں۔ وہ سب بھائی بہن تھے۔ میں بہت حیران ہوا کہ یہ لوگ میرے رشتہ دار نہیں ہیں۔ ان سب کا میرے ساتھ کیاتعلق ہے! وہ عورت کہنے لگی کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ ہمارے ایک بھائی نے خود کشی کی ہے اور ہم نے اس کو زندہ کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو مذاق کرنے کے لیے اور کوئی ضلع نہیں ملا؟ آپ نے ضلع جھنگ طے کیا، پھر ضلع لائل پور طے کیا، پھر آگے شیخوپورہ طے کیا اور گوجرانوالہ آئے ہو مذاق کرنے کے لیے! کہنے لگی کہ خدا کی قسم، ہم مذاق نہیں کر رہے۔ ہم سچ کہہ رہے ہیں کہ آپ ہمارے بھائی کو زندہ کر دیں۔ میں نے کہا کہ میرے والدین میرے سامنے فوت ہو چکے ہیں، اتنے عزیز وفات پا چکے ہیں، اگر میرے پاس کوئی ایسی طاقت ہوتی تو میں ان کو کیوں مرنے دیتا؟ اگر مر بھی گئے تھے تو میں ان کو زندہ کر دیتا۔ عورت بہت تیز تھی۔ کہنے لگی کہ دیکھو، مردوں کو زندہ کرنے کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس معجزہ تھا۔ اور بھی بہت سے ولیوں سے ثابت ہے۔ کہنے لگی کہ آپ نے ایک تقریر کی تھی، اس میں معجزت اور کرامات بیان کیے تھے۔ آپ دعا کریں، ہمارا بھائی زندہ ہو جائے۔ میں نے کہا کہ دیکھو، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے، چاہے تو سارے مردوں کو زندہ کر دے، لیکن میرے پاس ایسا کوئی کام نہیں ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اتنے پڑھے لکھے لوگ ہیں، لیکن عقیدہ نہیں ہے۔ عقیدے کچے ہیں۔ (خطبات امام اہل سنت ۳/۲۴۹، ۲۵۰)
  • ایک دفعہ ایسا ہواکہ مولانا خیر محمد جالندھریؒ جو حضرت تھانویؒ کے بڑے خلفا میں سے تھے اورچوٹی کے علما میں سے تھے، مجھے اپنے جلسہ پر ضرور بلاتے تھے، میں مولانا کے پاس کمرے میں بیٹھا تھا اور ان کے بیٹے مولانا محمد شریف بھی بیٹھے تھے اور ایک چائے پلانے والا خادم تھا۔ ایک مولوی صاحب نے اندر آکر مسئلہ چھیڑ دیا کہ حضرت! آپ نے ’’نماز حنفی‘‘ میں لکھا ہے کہ جب قبر پر دعا کرو، ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ مولانا خیر محمد ؒ نے فرمایا، ہاں ایسا ہی ہے۔ اس مولوی صاحب نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ انہوں نے ’’راہ سنت‘‘ میں لکھاہے کہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر سکتے ہیں۔ اب بتلاؤ، ہم کس بزرگ کی بات مانیں؟ مولانا خیرمحمد صاحب ؒ نے فرمایا، انہوں نے لکھا ہے تو اس کی دلیل ان سے مانگیں۔ میں نے کہا جی، میں نے اپنی دلیلیں بھی نقل کی ہیں۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع کے قبرستان میں تشریف لے گئے، ’رفع یدیہ ودعا ثلاثاً‘، آپ نے ہاتھ اٹھائے اور تین مرتبہ دعا کی: ’’اللہم اغفر لہم اللہم اغفر لہم اللہم اغفر لہم‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر دعا مانگی ہے۔ اورآپ کے صحابی طلحہ بن براءؓ فوت ہوگئے، آپ اس کے جنازے میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ روایات میں موجود ہے کہ آپ اس کی قبر پر تشریف لے گئے، فرفع پس آپ نے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی۔ اس کے بعد مولانا خیر محمد ؒ خاموش ہو گئے، نہ میری تائید کی اور نہ تردید۔ (ذخیرۃ الجنان ۸/۱۹۷) 

چند دلچسپ واقعات

  • اللہ تعالیٰ غریق رحمت فرمائے مولانا عبدالمہیمن صاحب ؒ کو، فوت ہوگئے ہیں۔ جب پاکستان بن رہا تھا، اس زمانے میں انہوں نے میرے پاس مشکوٰۃ شریف پڑھی تھی۔ نصرۃ العلوم سے فارغ ہو کر نصرۃ العلوم میں ہی کئی سال تک تدریس کی خدمت کی، پھر جامعہ اسلامیہ ]راول پنڈی[ میں شیخ الحدیث رہے۔ اب دو سال ہوگئے ہیں، فوت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ مشکوٰۃ شریف میں جب یہ روایت آئی: من تبدی فقد جفا، جس نے دیہاتی زندگی اختیار کی، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ مولوی صاحب مرحوم کہنے لگے، استاد جی! حدیث کامفہوم سمجھ نہیں آ رہا، کیوں کہ دیہات کی آب و ہوا بڑی عمدہ ہوتی ہے، دیہاتی لوگ مخلص ہوتے ہیں، محبت کرتے ہیں، چیزیں مفت دے دیتے ہیں۔ شہری لوگ ہوشیا ر ہوتے ہیں، جی حضور جی حضور کر کے ٹرخا دیتے ہیں۔ پھر حدیث کا کیا معنی ہے؟ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو، شہروں میں دنیا کے واقعات، حالات، حادثات کا علم او ر دیگر علوم حاصل ہونے کے مواقع اور اسباب ہوتے ہیں جو دیہاتوں میں نہیں ہوتے اور انسانی ضروریات شہر میں حاصل ہوتی ہیں۔ دیہات میں بعض چیزیں نہیں ملتیں۔ آدمی تنگ ہوتے ہیں۔ پھر شہر میں اگرکوئی اچانک بیمار ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر حکیم کا انتظام ہو جاتا ہے، دیہات میں فوراً انتظام نہیں ہوتا۔ مرحوم نے کہا، استاد جی! ساری باتیں صحیح ہیں، مگر تسلی نہیں ہوئی۔ میں نے کہا پھر تسلی اور کس طرح ہو؟ جو بڑی عمر کے لوگ ہیں، ان کو معلوم ہوگا کہ جنرل یحییٰ کے زمانہ میں نوٹ تبدیل ہوئے تھے اور انہوں نے دو دن کی مہلت دی تھی نوٹ تبدیل کرانے کی۔ یہ بے چارے دیہات کے قبائلی علاقے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے حج اور مکان بنانے کے لیے اسی نوے ہزار روپیہ جمع کیا ہوا تھا اور یہ جہاں رہتے تھے، وہاں نہ ریڈیو اور نہ اور کوئی ایسا ذریعہ تھاکہ جس سے ان کو پتہ چل جاتا۔ دو دن گزر گئے اور یہ تبدیل نہ کرا سکے۔ پھر وہ نوٹ لے کر پھرتے رہے، کوئی لیتا نہیں تھا۔ کہتے تھے، اب ان سے چائے پکا لو۔ کہنے لگے، استادجی! اب حدیث سمجھ میں آگئی ہے کہ جس نے دیہاتی زندگی اختیار کی، اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اگر میں شہر کے اندر ہوتا تواسی نوے ہزار روپیہ تو برباد نہ ہوتا۔ (ذخیرۃ الجنان ۸/۲۲۳)
  • ۱۹۷۱ء میں جمعیت علماے اسلام نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور دو حلقوں، گکھڑ، وزیر آباد کے حلقے اور شہر گوجرانوالہ کے حلقے میں استاد محترم مفتی عبدالواحد صاحب ؒ کو کھڑا کیا گیا۔ ایک پر صوبائی کے لیے اور ایک پر قومی کے لیے۔ دیہاتی علاقوں میں ہمیں بھی جاناپڑتا تھا کیوں کہ میں اس وقت جمعیت علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کا امیر تھا۔ جمعیت کے ساتھ تعلق تھا۔ ۱۹۹۰ء کے بعد بڑھاپے اور بیماریوں کی وجہ سے اور کچھ پالیسیوں کی وجہ سے جمعیت کے ساتھ نہیں ہوں اور نہ ہی کسی اور جماعت کے ساتھ ہوں۔ حضرت درخواستیؒ زندہ تھے، میں نے ان کو اطلاع دے دی تھی کہ اب میرا کسی جماعت کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ تو خیر، الیکشن کے سلسلے میں علی پورکے قریب ایک قصبہ میں پہنچے۔ سورج طلوع ہوئے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا۔ چودھری صاحب کے بارے میں معلوم کیا۔ نام ان کا ڈائری میں درج ہے، زبانی مجھے یاد نہیں ہے۔ چودھری صاحب آئے اور بڑے خوش ہوئے، کیوں کہ مجھے جانتے تھے، میری تقاریر بھی سنتے تھے اور مفتی عبدالواحد صاحب‘ کو بھی جانتے تھے۔ کہنے لگے، آج میرے لیے عید کا چاند ہے اور دو عیدیں ہیں، دو بزرگ ہمارے قصبے میں تشریف لائے ہیں، بڑی خوشی کی بات ہے۔ ہمارے ساتھ دس بارہ رضا کار بھی تھے کہ ویگن بھری ہوئی تھی۔ چودھری صاحب نے پرتکلف ناشتہ کرانے کے بعد پوچھا کہ تم کس لیے آئے ہو؟ ہم نے بتایا کہ الیکشن لڑ رہے ہیں اور مولانا کو اس حلقہ میں کھڑا کیا ہے۔ آپ لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ ہم ان سے بات کریں۔ چودھری صاحب نے لوگوں کو اکٹھا کیا۔ جب لوگ اکٹھے ہوئے تو ہم نے تقریریں کیں۔ بعد میں چودھری صاحب نے کہا: علماء کرام جی! اگر ناشتے میں کوئی کمی ہوئی ہے تو میں معذرت خواہ ہوں۔ دو پہر کا کھانا تم نے یہیں کھانا ہے۔ ان شاء اللہ کھانے پینے کی کمی کو پورا کریں گے، مگر ووٹ ہم میں سے کوئی ایک بھی تمہیں نہیں دے گا۔ ہم بڑے حیران ہوئے کہ چودھری صاحب تو بڑے خوش تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہمارے لیے عید کا چاند چڑھ گیا ہے اور اب کہتے ہیں کہ ایک ووٹ بھی نہیں دینا۔ بڑا کھرا آدمی تھا۔ کہنے گا سنو! ہماری آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ بنے پر، زمین پر، نالے پر، درخت پر، جانوروں پر، رشتوں پر۔ ہم سچے بھی ہوتے ہیں، جھوٹے بھی ہوتے ہیں، تم سارے کاموں میں ہمارا ساتھ دو گے؟ ہم نے کہا نہیں۔ تو کہنے لگا، پھر ہم نے ووٹ ان کو دینے ہیں کہ اگر ہم جھوٹے بھی ہوں تو ہمارا ساتھ دیں۔ ہم نے قتل بھی کیا ہو تو ہمارے ساتھ جائے اور کہے یہ قاتل نہیں ہیں۔ چوری کی ہو تو یہ کہے کہ یہ تو بڑے پارسا ہیں۔ ڈاکہ ڈالا ہوتو کہے یہ تو ڈاکو نہیں ہیں۔ ہم نے ووٹ ایسے لوگوں کو دینے ہیں، اس لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔ تمہیں مغالطے میں نہیں رکھنا چاہتے۔ اور شہری لوگوں کا حال یہ ہے کہ ایک آیا تو اس کو قسم اٹھا کر تسلی دے دی، دوسرا آیا تو اس کو قسم اٹھا کر تسلی دے دی۔ ایک کے سامنے قرآن اٹھا لیتے ہیں او ردوسرے کے لیے بھی قرآن سر پر رکھ لیتے ہیں۔ اندر کچھ اور ظاہر میں کچھ ہوتے ہیں۔ ( ذخیرۃ الجنان ۸/۲۲۷)
  • کافی عرصے کی بات ہے۔ مجھے ساتھیوں نے کہاکہ علامہ خالد محمود صاحب کی تقریر کرانی ہے۔ علامہ خالد محمود ہماری جماعت کے محقق عالم ہیں۔ بہت کام کر رہے ہیں۔ مجھ سے کافی چھوٹے ہیں۔ اس وقت انگلستان میں ہیں۔ میں نے کہا، بڑے شوق سے تقریر کراؤ مگر لاؤڈ اسپیکر کی اجازت لے لو، کیوں کہ لاؤڈ اسپیکر پر پابندی ہے۔ نوجوان تھے، تجربہ نہیں تھا، درخواست دے دی لیکن منظوری نہ ہوئی۔ ان نادانوں نے سمجھا کہ درخواست دینے سے ہی منظوری ہو جاتی ہے۔ اسی مسجد میں تقر یر ہوئی۔ میں اس مسجد کا تقریباً ساٹھ سال سے خطیب ہوں۔ مجھ پرمقدمہ ہو گیا۔ پہلے وزیر آباد پھر سیشن کورٹ گوجرانوالہ منتقل ہو گیا۔ا برار احمد ہمارا وکیل تھا۔ جج نے پوچھا، مولانا! جب لاؤڈ اسپیکر پر پابندی تھی تو تم نے کیوں چلایا؟ وکیل نے وکیلانہ شوشہ چھوڑا کہ بوڑھے آدمی ہیں، بزرگ ہیں، ان کو معلوم نہیں تھا کہ قانون کیا ہے۔ جج نے بڑی معقول بات کہی کہ وکیل صاحب! ملک میں رہ کر ملکی قانون سے بے خبر رہنا یہ کوئی وجہ جواز نہیں ہے۔ بہرحال اس نے ہمیں رہا کر دیا۔ (ذخیرۃ الجنان ۸/۲۹۵)

اساتذہ واکابر اور معاصرین کے ساتھ تعلق

حضرت مولانا عبد القدیر صاحب کیمل پوریؒ : راقم الحروف کو جو تھوڑی سی علمی شد بد ہے، وہ استاذنا المکرم حضرت مولانا عبد القدیر صاحب دامت برکاتہم اور ان جیسی دیگر گراں قدر وبزرگ شخصیتوں کی برکت سے حاصل ہے، ورنہ ع نغمہ کجا ومن کجا ساز سخن بہانہ ایست۔ (مکتوب بنام حافظ نثار احمد الحسینی، ۶؍ رجب ۱۴۰۸ھ/۲۵؍ فروری ۱۹۸۸ء)

استاد محترم کا راقم اثیم سے بہت گہرا تعلق تھا اور ان کے حکم سے ان کی علمی کتاب ’’تدقیق الکلام‘‘ کی ترتیب میں راقم اثیم نے خاصا کام کیا ہے۔ حضرت کی قبل از وفات اپنی خواہش اور ان کے جملہ لواحقین اور متعلقین کی قلبی آرزو کے مطابق ۱۶؍ جمادی الاولیٰ ۱۴۱۱ھ/۴ ؍ دسمبر ۱۹۹۰ء کو مومن پور علاقہ چھچھ ضلع اٹک میں راقم اثیم نے ان کا جنازہ پڑھایا اور دفن کرنے کے بعد ان کی قبر پر سنت کے موافق دعا مانگی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ (مقدمہ ’’توضیح المرام فی نزول المسیح علیہ السلام‘‘)

مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ : ہمارے استاد محترم مفتی اعظم اور سابق مفتی دار العلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ (المتوفی ۱۳۹۶ھ) دور حاضر کی ان بلند شخصیتوں میں سے ایک تھے جن کی ساری زندگی علم دین اور فقہ اسلامی کی نشر واشاعت میں گزری ہے، جنھوں نے تدریس وتالیف اور تقریر وتزکیہ نفوس کے ذریعہ اس صحیح دین کو عوام الناس کیا، بلکہ خواص تک پہنچایا جو امانت کے طور پر حضرات سلف صالحینؒ نے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کی ان تھک سعی فرمائی اور بحمد اللہ تعالیٰ ان کی نیک سعی بارآور بھی ہوئی۔ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت مفتی صاحب کو نہایت ٹھنڈی، سلجھی ہوئی اور سنجیدہ طبیعت عطا فرمائی تھی کہ اپنے ہم عصروں میں وہ بالکل نمایاں تھے۔ ہم نے ۱۳۶۰ھ میں جب دار العلوم دیوبند میں دورۂ حدیث شریف کے لیے داخلہ لیا تو حضرت مفتی صاحب مرحوم کے پاس ہمارے اسباق میں سے طحاوی شریف تھی۔ علماء کرام بخوبی جانتے ہیں کہ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ (المتوفی ۴۳۲ھ) کی شرح معانی الآثار مختلف احادیث کی جمع وتطبیق کے سلسلے میں کتنی دقیق کتاب ہے اور اس میں ’النظر‘ فرما کر عقلی اور فقہی وقیاسی دلیل سے جس طرح وہ راجح حدیث کو عیاں کرتے ہیں، وہ کتنی ادق ہے۔ حضرت مفتی صاحب مرحوم ٹھہر ٹھہر کر دھیرے دھیرے انداز سے کتاب کو اس انداز سے پڑھاتے کہ بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں آج تک ان کی بعض تقریریں اور پیارے کلمات یاد ہیں۔ 

تقریباً نصف صدی تک حضرت نے پاک وہند اور دیگر اسلامی اور غیر اسلامی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی جس طرح دینی رہنمائی فرمائی ہے اور ہزار ہا ٹھوس باحوالہ اور مدلل فتوے صادر فرما کر اسلام کا صحیح پہلو ان کے سامنے اجاگر کیا ہے، وہ ایک ناقابل فراموش ذخیرہ ہے اور سب سے بڑی خوبی حضرت کی یہ ہے کہ بالکل جدید اور مادی دور کی پیداوار وہ سنگین الجھنیں جن کو حل کرنے کے لیے صریح جزئیات کی شکل میں مدون کتب فقہ وفتاویٰ بالکل عاری ہیں، ایسے ہی صنائع جدیدہ کے سلسلے میں قرآن وسنت اور کتب فقہ کی روشنی میں اپنی دینی بصیرت سے ایسے معلومات افزا اور تسلی بخش بدائع مفیدہ مرتب فرما کر امت مرحومہ پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ اور اسی طرح اسلام وکفر کی جامع تعریف جس سے کوئی مسلمان فرقہ خارج نہ ہو اور باطل فرقہ داخل نہ ہو، ٹھوس حوالوں سے مدون فرما کر علما کے ہاتھ میں ایک ایسا عروۂ وثقیٰ پکڑایا ہے جس کے پڑھنے سے وہ تمام علمی اشکالات بفضل اللہ تعالیٰ بالکل کافور ہو جاتے ہیں جو کسی وسیع النظر اور ذہین سے ذہین آدمی کو اپنی علمی خامی کی وجہ سے پیش آتے اور آ سکتے ہیں۔ اسی طرح بے شمار اختلافی مسائل پر چھوٹی بڑی کتابیں اور ان کے تراجم کر کے اور بعض کو عربی کا جامہ پہنا کر اس انداز سے مرتب کیا ہے کہ عوام الناس بھی بڑی آسانی سے ان سے استفادہ کر سکتے ہیں اور عربی دان ان کی عربی عبارات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

اور تفسیر معارف القرآن تو ان کا ایسا صدقہ جاریہ ہے جس نے دور جدید میں اردو زبان میں تفسیریں لکھنے والوں کے طلسم کو توڑ کر رکھ دیا ہے جن کو اپنی تفاسیر پر بڑا ہی ناز ہے۔ اس تفسیر میں فن تفسیر کی ضروری اور صحیح باحوالہ تشریحات کے علاوہ جس طرح فقہی مسائل بیان کیے گئے ہیں، وہ صرف اردو زبان میں اسی تفسیر کا طرۂ امتیاز ہے جس سے عموماً ہر مکتب فکر کے حضرات اور خصوصاً جدید تعلیم یافتہ حضرات صرف استفادہ ہی نہیں کرتے، بلکہ ان کی ہر طرح سے تسلی بھی ہو جاتی ہے۔ او رہم نے بہت اونچے طبقے کے لوگوں سے اس تفسیر کے بارے میں بڑے ذوق وشوق کے جذبات سنے اور ملاحظہ کیے ہیں۔ اور دار العلوم کا دینی مدرسہ جس سے دور دراز کے لوگ علمی پیاس بجھاتے ہیں، ان کا ایک مستقل صدقہ جاریہ ہے اور حضرت مرحوم کے سب فرزند جو اپنی جگہ جید علماء کرام میں شمار ہوتے ہیں، علی الخصوص حضرت مولانا محمد تقی صاحب عثمانی دام مجدہم ان کی باقیات صالحات میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مرحوم کے جنت الفردوس میں درجے بلند کرے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین۔‘‘ (’’فقیہ دوراں‘‘، ماہنامہ البلاغ کراچی، مفتی اعظم نمبر، ص ۷۰۴، ۷۰۵)

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ : راقم اثیم کی قریباً ۱۹۲۷ء میں حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی جب مانسہرہ میں انجمن اصلاح الرسوم کے نام سے ان کا مدرسہ بڑے عروج پر تھا اور مولانا غلام محمد صاحب بالاکوٹی (عرضی نویس) اس کے مہتمم تھے۔ راقم اثیم بھی اسی مدرسہ کا ابتدائی طالب علم ہے جبکہ راقم اثیم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت مولانا فتح علی شاہ صاحب دام مجدہم ساکن لمبی ڈاک خانہ چنار کوٹ حال ضلع مانسہرہ اور ان کے چھوٹے بھائی محمد عبد اللہ شاہ صاحب مرحوم جو راقم اثیم کے بہنوئی بھی تھے، وہاں پڑھتے تھے۔ راقم اس زمانہ میں دوسری جماعت میں داخل تھا۔ راقم اثیم نے حضرت مولانا ہزارویؒ سے مانسہرہ میں تعلیم الاسلام کے چند اسباق پڑھے ہیں اور بفہ میں جب کہ حضرت مولاناؒ کی حکمت کی دکان تھی، راقم اس میں دکان کا نگران بھی تھا اور ادویہ ساز بھی او رحضرت مولانا سے نحو بھی پڑھتا تھا۔ اس لحاظ سے حضرت مولانا مرحوم راقم اثیم کے استاد اور ابتدائی مربی تھے۔ .......

اس دور میں اس علاقہ میں دو شخصیتیں تقریر کرتی تھیں۔ ایک حضرت مولانا غلام غوث صاحبؒ اور دسرے حضرت مولانا عبد الحنان صاحب جریدی بالاکوٹی، اور دونوں بزرگ فضلاے دیوبند میں تھے۔ اور اس دور میں علما میں یہ مقولہ مشہور تھا کہ کھڑے ہو کر تقریر کرنے کے سلسلے میں ’کل علماء ہزارہ بکم الا غلام غوث وعبد الحنان‘، حالانکہ اس دور میں اس علاقہ میں دیوبند کے بغیر کسی بھی دوسرے مکتب فکر کے علما سے عوام کے کان بالکل ناآشنا تھے اور دیوبند ہی کے مدرسہ کا نام عوام کی زبان پر تھا اور راقم الحروف بھی حضرت مولانا مرحوم کی ایسی ہی تقاریر اور اس قسم کے مجاہدانہ کارناموں سے متاثر ہوا اور دیوبندیت کے پروانوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ ان کا طریق ہی حب توحید وسنت اور بغض شرک وبدعت کا دوسرا نام اور خلاصہ ہے۔

یہ پروانہ ہے جس نے دیدہ بازی کا ہنر جانا

اسی کا کام ہے ذوق نظر میں جل کے مر جانا

جنازہ کے بعد لوگ ایک حلقہ بنا لیتے اور کافی مقدار میں رقم کی گٹھڑی (جو بسا اوقات قرض لے کر بلکہ ہندوؤں سے سودی رقم لے کر حاصل کی جاتی) اور ساتھ گڑ رکھا جاتا اور اوپر قرآن کریم جو اکثر کسی مسجد سے اٹھا کر لایا جاتا اور میت کے وارثوں میں دو تین وہ گٹھڑی اس حلقہ میں گھماتے اور اس طریقہ سے حیلہ اسقاط کرتے اور دوران قرآن کیا جاتا۔ راقم اثیم کے علم میں حضرت مولانا غلام غوث صاحب ہی وہ پہلے بزرگ ہیں جنھوں نے یہ بری رسم ختم کرائی اور کتب فقہ کے حوالے نکال نکال کر علما کو بتائے اور عبارات کے تراجم ان سے کراتے جاتے۔ چنانچہ ۱۹۳۲ء کے لگ بھگ بفہ کی جامع مسجد میں جمعہ کے دن علاقہ کونش میں بائی زیریں کے مولانا صاحب سے عالمگیری کی عبارت پڑھوا کر اس کا ترجمہ کروایا اور راقم اثیم وہاں موجود تھا اور بائی زیریں سے مولانا کے ساتھ ہی آیا تھا۔ چونکہ علماء کرام مسلک دیوبند سے وابستہ تھے، اس لیے وہ مولانا مرحوم کی تائید ہی کرتے اور اس مسئلہ میں بھی اس علاقہ میں اس بدعتی رسم کے ختم کرنے میں مولانا غلام غوث صاحب بڑی حد تک کامیاب ہوئے اور اکثریت نے یہ رسم ترک کر دی۔ .......

مولانا ہزاروی کے ساتھ ان کی آخری عمر میں سیاسی نقطہ نظر سے اختلاف کرنے کی خاصی گنجایش ہے اور ہم بھی ان کی بعض آرا کی تائید اور تصدیق کرتے ہوئے اور ان کی بعض آرا کو مفید سمجھتے ہوئے بھی مجموعی حیثیت سے ان سے متفق نہ ہو سکے، لیکن اس بات میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ حضر ت مولانا نے جمعیت سے علیحدگی کے لیے جو کچھ بھی کیا، محض اپنی صواب دید اور اجتہادی رائے سے کیا۔ اپنی ذات کے لیے مولانا مرحوم نے ایک پیسے کا فائدہ نہیں لیا۔ اگرچہ ان کی علیحدگی کے وقت بعض جذباتی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ ان کا جماعت سے الگ ہونا خلوص پر مبنی نہیں، بلکہ براے فلوس ہے، لیکن ان لوگوں کی یہ رائے بالکل غلط اور بے بنیاد تھی۔ .....

لباس اور کھانے پینے میں اتنی سادگی تھی کہ ناواقف آدمی ان کی سادگی کو دیکھ کر حیران رہ جاتا۔ ایک موقع پر راقم اثیم اور عزیزم صوفی عبد الحمید سلمہ اللہ تعالیٰ مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ چند رفقا کے ساتھ لاہور میں جمعیت کے پرانے دفتر حضرت شاہ محمد غوثؒ کے پاس بوقت شام مولانا مرحوم کی ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ ہم کھانے کے سلسلے سے فارغ تھے۔ مولانا نے ہم سے کھانے کا پوچھا تو ہم نے واضح کر دیا کہ ہم طلب گار نہیں ہیں۔ مولانا نے اپنے لیے خادم کو بھیجا جو ایک روٹی اور آدھ پاؤ دہی کی لسی بنا کر لایا۔ مولانا نے ہمارے سامنے روٹی لسی کے ساتھ کھائی اور آخر میں الحمد للہ کی مسنون دعا پڑھ کر اپنا بستہ کھول کر کام میں مصروف ہو گئے۔.....

مولانا میں بہت سی خوبیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے رفع درجات کا ذریعہ بنائے۔ بالآخر مولانا ہزارویؒ نے ۲۸؍ ربیع الاول ۱۴۰۱ھ کو مانسہرہ میں وفات پائی اور اپنے آبائی گاؤں بفہ کے قبرستان میں مدفون ہوئے اور باوجود سخت سردی اور بارش کے ہزاروں آدمی ان کے جنازہ میں شریک ہوئے جو ان کی مقبولیت کی واضح دلیل ہے۔ ؂

اکیلا کون کہتا ہے لحد میں نعش حاتم کو

ہزاروں حسرتیں لپٹی ہیں اس دریا کے پہلو سے

(ہفت روزہ ’’تبصرہ‘‘ لاہور، مولانا غلام غوث ہزاروی نمبر ۱۹۸۱ء)

حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ : امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے تقریر کا بہت بڑا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ پانچ پانچ، چھ چھ، سات سات، آٹھ آٹھ گھنٹے تقریر فرماتے تھے۔ ہم نے ان کی تقریروں میں ہندووں اور سکھوں کو بھی روتے ہوئے دیکھا ہے۔ گوجرانوالہ میں ان کی تقریر تھی۔ بہت بڑا مجمع تھا۔ کسی نے رقعہ دیا کہ تم لوگوں کو ایمان کی دعوت دیتے ہو، حالانکہ تم خود کافر ہو۔ (ان دنوں بریلویت کا زور تھا اور دیوبندیوں کو کھلے طور پر کافر کہتے تھے۔ اپنی مسجدوں میں داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ اگر کسی مسجد میں دیوبندی داخل ہوتا تو اسے دھو دیتے اور کہتے تھے کہ ایک دیوبندی مسجد میں داخل ہو جائے تو وہ پلید ہو جاتی ہے اور اگر سو خنزیر داخل ہوں تو کچھ نہیں ہوتا۔ اب الحمد للہ ملک میں وہ حالات نہیں ہیں۔ پہلے وہ اپنے جلسوں میں ان مسائل کا یعنی حاظر ناظر وغیرہ کا باقاعدہ عنوان رکھتے تھے، عالم الغیب کا عنوان رکھتے تھے، مختار کل کا عنوان رکھتے تھے۔ اب الحمد للہ وہ قصے نہیں رہے۔ ہماری کتابوں نے خاصا اثر کیا ہے۔ اب یہ عنوا ن نہیں رکھتے۔ ہاں ضمنی طو رپر اپنا عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ ) حضرت نے رقعہ پڑھ کر سنایا اور فرمایا کہ میں کافر ہوں، کافر ہوں اور مجھے اپنے کفر پر فخر ہے۔ ہمارا اس وقت طالب علمی کا زمانہ تھا ۔ ہمیں بہت غصہ آیا کہ رقعے والے بھی کہا ہے کہ تم کافر ہو اور حضرت شاہ صاحب بھی فرماتے ہیں کہ ہاں میں کافر ہوں اور مجھے اپنے کفر پر فخر ہے۔ پھر حضرت نے اعوذ باللہ پڑھا اور بسم اللہ پڑھی اور قرآن شریف پڑھنا شروع کیا۔ قرآن شریف پڑھنے کا حضرت کا انداز نرالا ہوتا تھا۔ جی چاہتا کہ شاہ صاحبؒ پڑھتے رہیں اور آدمی سنتا رہے۔ تو حضرت نے یہ آیت پڑھی: فمن یکفر بالطاغوت ویومن باللہ۔ فرمایا، میں کافر ہوں مگر طاغوت کا کافر ہوں، الٰہ کا کافر نہیں ہوں اور میرے ہاتھ میں مضبوط دستہ ہے۔ پھر انگریز پر چڑھ گئے بے ٹکٹے اور چھ سات گھنٹے تقریر کی۔

حضرت امیر شریعت بڑے ذہین اور حاضر جواب تھے۔ یہاں جین والی کھوہی میں جلسہ تھا۔ بہت بڑا مجمع تھا۔ اس مجمع میں حضرت نے جنت کی خوبیاں بیان فرمائیں کہ جنت میں یہ ملے گا، یہ ملے گا۔ ایک باباجی کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ حضرت شاہ جی! یہ بتائیں کہ جنت میں حقہ بھی ملے گا؟ حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا، ہاں حقہ ملے گا لیکن آگ لینے کے لیے دوزخ میں جانا پڑے گا۔ (ذخیرۃ الجنان ۲/۳۰۶، ۳۰۷)

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ : راقم آثم ۱۹۳۰ء سے ۱۹۴۰ء تک مجلس احرار اسلام کا سرگرم رکن رہا۔ پھر جمعیت علماے ہند میں رہا۔ پاکستان بننے کے بعد جب لاہو رمیں برکت علی ہال میں ۱۹۶۰ء میں جمعیت علماء اسلام کا انتخاب ہوا او رحضر ت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ کو جمعیت کا امیر چنا گیا تو راقم اس میں شریک تھا۔ سال ہا سال تک جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کا رکن رہا۔ حضرت لاہوری کی وفات کے بعد جب حضرت مولانا درخواستی کو امیر منتخب کیا گیا تو اس موقع پر بھی راقم موجود تھا اور کئی سال ضلع گوجرانوالہ کا امیر رہا اور کم وبیش چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک حضرت درخواستی کے ساتھ مختلف اوقات اور متعدد مقامات پر جلسوں اور میٹنگوں میں شریک رہا۔ ۱۹۹۰ء میں پورے ساٹھ سال سیاست میں رہ کر جمعیت سے الگ ہوا۔ اس میں ایک سبب اپنی پیرانہ سالی، دوسرا گوناگوں علالتوں کا ہجوم، تیسرا اپنی بے حد مصروفیت اور چوتھا اور سب سے بڑا سبب جمعیت کی غلط پالیسی ہے جو اکابر کی پالیسی سے ہٹ اور کٹ کر اختیار کی گئی ہے۔ اس میں حضرت درخواستی اپنے بے حد ضعف اور شدید علالت کی وجہ سے یک گونہ بے بس اور معذور رہے اور مہربانوں نے اپنی پسند اور مرضی کی پالیسیاں بنائیں اور اپنائیں۔

حضرت درخواستی کو ہر وقت قوم کی دینی اصلاح کی فکر رہتی تھی۔ ان کی کوئی مجلس ایسی نہ ہوتی تھی جس میں وہ قرآن وحدیث، ورع اور تقویٰ کی دعوت نہ دیتے ہوں۔ حضر میں، سفر میں، بیماری اور تندرستی میں، غرض کہ ہر حال میں وہ اپنی صحت کی پروا کیے بغیر دینی اور روحانی طور پر ہر آدمی کی اصلاح کے فکر مند ہوتے تھے اور کچھ نہ کچھ فرماتے ہی رہتے تھے، خاموش نہیں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بڑا قوی حافظہ عطا فرمایا تھا۔ موقع ومحل کی مناسبت سے فوراً قرآن کریم کی آیات اور الفاظ حدیث یوں فر فر پڑھتے جاتے جیسے سامنے کتاب رکھی ہو اور لمبی لمبی حدیثیں اور غرائب الحدیث اس روانی سے پڑھتے جیسے پختہ کار حافظ قرآن کریم پڑھتا ہے اور بزرگان دین کے مقولے ایسے انداز میں نقل فرماتے کہ سمجھ دار لوگ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتے۔ ان کی تقریر میں عرفی ربط سے بے نیاز رہ کر اخلاص اور للہیت زیادہ ہوتی تھی اور تواضع کا یہ عالم تھا کہ ہر کہ ومہ سے خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آتے تھے اور وضع دار علما کی ان میں بو بھی نہ تھی۔ 

سالہا سال تک وہ بخاری شریف وغیرہ کتابیں پڑھاتے رہے اور رمضان المبارک میں دورۂ تفسیر شریف پڑھاتے تھے۔ قرآن کریم سمجھانے میں ان کا اپنا اور انوکھا رنگ ہوتا تھا۔ ہزار ہا جید علماء کرام نے ان سے قرآن کریم پڑھا اور آگے پڑھنے پڑھانے کا خاص اہتمام کیا اور یہ ان کا صدقہ جاریہ ان شاء اللہ العزیز قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت سلوک اور تصوف میں بڑی اونچی شان کے مالک تھے اور ہزاروں کی تعداد میں علما، خواص وعوام ان کے مرید تھے۔ شرک وبدعت اور رسومات بد سے سخت بے زار تھے اور حقیقت یہ ہے کہ حدیث شریف ’وخیار عباد اللہ الذین اذا راوا ذکر اللہ تعالی‘ کا عملی نمونہ تھے۔ فطرت میں سجاوٹ کوٹ کوٹ کر بھری گئی تھی۔ راقم ا ثیم، عزیزم صوفی عبد الحمید سلمہ اللہ تعالیٰ اور عزیزم زاہد الراشدی سلمہ اللہ تعالیٰ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ حضرت نے بارہا ہماری ختم بخاری شریف کی دعوت پر لبیک کہا اور تشریف لائے۔ (’’حافظ الحدیث حضرت درخواستی‘‘، ماہنامہ انوار القرآن، اگست ۹۷ء، ص ۴۱، ۴۲)

حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ : آپ ]مولانا قاضی شمس الدین ؒ [ عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے۔ مزاج سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ ہم شرارت پسند نہیں ہیں اور بفضلہ تعالیٰ بزرگوں کے ادب واحترام کو بھی بخوبی جانتے ہیں اور آپ کی ہر غمی اور خوشی میں شریک ہوتے رہے ہیں، جیسے آپ نے اپنے فرزند مولانا عبید اللہ صاحب مرحوم کی تجہیز وتکفین اور جنازہ میں ہماری شرکت کا خود ہی ذکر فرمایا ہے۔ اسی طرح آپ کو اپنے عزیز اور عزیزہ کی شادی میں شرکت کا بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ آپ کے دعوت نامہ پر ہم حسب توفیق شامل ہوئے۔ اور نیز آپ کے حکم سے اور محترم جناب قاضی محمد عصمت اللہ صاحب دام مجدہم کے ارشاد سے راقم اثیم نے ان کی والدہ ماجدہ مرحومہ کا قلعہ دیدار سنگھ میں جنازہ پڑھایا تھا، حالانکہ آپ دونوں بزرگ عالم بھی تھے اور ولی بھی تھے، لیکن جنازہ پڑھانے کا اعزاز آپ نے راقم اثیم کو دیا۔ اور آپ کو یاد ہوگا کہ جب میں آگے کھڑا ہوا تو پیچھے سے آوازیں بلند ہوئیں کہ شاہ صاحب گجراتی تشریف لے آئے ہیں، لیکن آپ دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ جنازہ تم ہی پڑھاؤ گے تو جنازہ میں نے ہی پڑھایا تھا۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ ہم اور آپ میں گہرے روابط ہیں۔ (الشہاب المبین ص ۴۶، ۴۷)

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ : غالباً ۱۹۴۵ء میں حضرت مولانا عبد اللطیف صاحبؒ جہلم میں تشریف لائے اور بڑے ہی نامساعد حالات میں وہاں انھوں نے پہلے خطابت کا پھر مدرسہ کا سلسلہ شروع کیا اور الحمد للہ تعالیٰ تھوڑے ہی عرصے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔ ان کے ابتدائی سالانہ جلسوں میں راقم اثیم حاضر ہوتا تھا جبکہ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ اور حکیم الامت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ وغیرہ حضرات بھی وہاں ابتدائی دور میں شرکت فرماتے رہے اور دیگر جید اکابر بھی وقتاً فوقتاً تشریف لاتے رہے۔ حضرت مولانا عبد اللطیف صاحبؒ کے ساتھ ہم پہلے مجلس احرار اسلام میں اور پھر جمعیۃ علماے اسلام کے تحت عرصہ تک اکٹھے کام کرتے رہے۔ پھر ان کے بیٹے الحافظ المولوی خبیب احمد عمر فاضل نصرۃ العلوم سے راقم اثیم کی لڑکی حافظہ مجودہ فاضلہ وفاق المدارس سعیدہ اختر کا نکاح ہو گیا جو اس وقت شعبۃ البنات کے حصہ کی انچارج ہے اور کئی سو لڑکیاں مختلف علاقوں کی وہاں زیر تعلیم ہیں اور اس کی وجہ سے علاقہ پر مزید اچھا اثر پڑا ہے۔ اور مدرسہ تعلیم الاسلام حنفیہ پہلے ہی سے قائم تھا۔ اللہ تعالیٰ قائم رکھے۔

حضرت مولانا عبد اللطیف صاحبؒ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا۔ جرات اور ہمت سے حق بات پر ڈٹ جانا اور بلاخوف اس کی اشاعت کرنا ان کا بہترین کارنامہ تھا۔ بارہا قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر حق کا اور اکابر کا دامن نہیں چھوڑا۔ ضلع جہلم، چکوال بلکہ آزاد کشمیر تک میں انھوں نے دینی مدارس کے جال بچھا دیے جس میں سینکڑوں بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور جو لوگ توحید وسنت سے ناواقف تھے اور مسئلہ ختم نبوت سے بے خبر تھے اور حضرات صحابہ کرام کی شان سے بے بہرہ تھے، حضرت مولانا مرحوم نے ان بنیادی مسائل سے عوام کو اپنی ولولہ انگیز تقریروں کے ذریعہ خوب خوب آگاہ کیا اور بحمد اللہ تعالیٰ ملک کے اندر اور انگلستان میں بھی لوگ حق سے آگاہ ہوئے۔

مولانا مرحوم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب دام مجدہم کے وفادار جرنیل تھے۔ اور حضرت مولانا مرحوم کے مریدوں کی تعداد بھی خاصی ہے جو آگے بھی حق کی نشر واشاعت میں مصروف ہیں اور مولانا مرحوم کا یہ صدقہ جاریہ ان شاء اللہ العزیز دیر تک اور دور تک جاری رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو ان کی ایمانی جرات اور حق گوئی کا پورا پورا صلہ عطا فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر او رحوصلہ کی ہمت بخشے اور جو جو مدارس انھوں نے قائم کیے ہیں، اللہ ان کو تاقیامت جاری رکھے۔ آمین ثم آمین۔ (مسودہ تحریر کردہ ۱۹؍ ربیع الاول ۱۴۱۹ھ/۱۴؍ جولائی ۱۹۹۸ء)

متفرقات

  • پاکستان بننے سے پہلے ایک دفعہ مجھے ٹی بی کی تکلیف ہو گئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک دوا تجویز کی جس کے اندر الکوحل تھا۔ میں نے ا س کو استعمال نہ کیا۔ میری نوعمر ی تھی۔ میں نے مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ دہلویؒ سے پوچھا کہ حضرت! ڈاکٹر صاحب نے میرے لیے ایک دوا تجویز کی ہے اور اس میں بارہ فیصد الکوحل ہے۔ میں نے استعمال نہیں کی، اس کا کیا حکم ہے؟ حضرت نے فتویٰ دیا کہ جائز ہے، اس کے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر شامی اور بہت ساری کتابوں کے حوالے بتائے۔ الکوحل دوائیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جس طرح حکیم لوگ اپنی ادویہ شہد میں محفوظ رکھتے ہیں، اس طرح ڈاکٹر الکوحل استعمال کرتے ہیں جس سے ادویہ کافی دیر تک محفوظ رہتی ہیں۔ ان کے فتوے کے بعد میں نے استعمال کی۔ ( ذخیرۃ الجنان ۸/۲۱۳) 
  • راقم علیل تھا۔ کسی ظالم نے کوئی ..... چیز کھلا دی تھی اور بظاہر کچھ مایوسی تھی۔ ایک ماہ زیر علاج رہا اور تین جمعے نہیں پڑھا سکا، نہ درس دے سکا اور نہ نارمل اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں حاضری دے سکا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل اور پھر آپ جیسے مخلص ساتھیوں اور بزرگوں کی دعا کی برکت سے بالکل آرام ہے اور ہر جگہ کی ڈیوٹی دیتا ہے۔ (مکتوب بنام مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، ۲۲؍ صفر ۱۳۹۰ھ/۲۹؍ اپریل ۱۹۷۰ء)
  • ہمارے خالہ زاد بھائی جو بڑے متشرع بزرگ تھے اور اپنے علاقہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رکن اور خان ہونے کی وجہ سے علاقہ میں ان کا اثر بھی خاصا تھا، اچانک دل کا دورہ پڑا اور وفات پا گئے۔ انا للہ الخ۔ تار موصول ہوا اور راقم وطن روانہ ہو گیا۔ سفر طویل ہونے کی وجہ سے جنازہ پر نہ پہنچ سکا اور جنازہ حضرت مولانا غلام غوث صاحب دام مجدہم نے پڑھایا۔ کافی دنوں کے بعد گزشتہ جمعہ وہاں سے واپس آیا۔ (مکتوب بنام مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، ۲۰؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۹۰ھ/۲۵؍ جولائی ۱۹۷۰ء)
  • عموماً جمعرات کو بعد از ظہر خطوط کا جواب لکھا جاتا ہے۔ ایک جمعرات کو ایک جنازہ میں شرکت کی وجہ سے جوابات نہ لکھے جا سکے اور دوسری جمعرات کو عزیزم صوفی عبد الحمید سلمہ اللہ تعالیٰ کو ہسپتال میں برائے آپریشن غدود داخل کرایا گیا۔ کل آپریشن ہو گیا ہے۔ (مکتوب بنام مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی، ۱۳؍ ذو القعدہ ۱۴۰۴ھ/۱۱؍ اگست ۱۹۸۴ء)
  • سیٹھی محمد یوسف صاحب راہوالی، انہوں نے حفظ قرآن وتجوید کے بارے میں بڑا کام کیا ہے۔ میرے ساتھ ان کی بے تکلفی تھی اور میرے پاس آتے جاتے رہتے تھے۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا، سیٹھی صاحب! یہ جو تمہارا گتے کا کارخانہ ہے، اس میں سے حکومت بھی تم سے کچھ لیتی ہے،؟ تو مسکرا پڑے اور کہنے لگے، سو میں سے ترانوے روپے لیتی ہے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ پھر تمہارے پاس کیا باقی رہا؟ کہنے لگے، باقی جو سات روپے ہیں، ان میں فلاں فلاں ٹیکس علیحدہ ہے۔ ( ذخیرۃ الجنان ۸/۷۳)

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر