ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ

اہلیہ قاری خبیب

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ (جن کے دامن میں جینے کا لطف تھا، وہ اب رخصت ہوئے)


انسان کی زندگی میں یہ کیسا عجیب امتزاج ہے کہ کبھی اس کا دل خوشیوں سے معمور ومسرور ہوتا ہے تو کبھی غموں کی آماج گاہ اور صدمات سے چور۔ تمام عمر انسان انہی کیفیات میں بسر کردیتا ہے، کبھی خوش تو کبھی رنجیدہ۔ دیکھا جائے تو انسان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ماں اور باپ کی محبت اور شفقت اور سب سے بڑا غم ان شفیق ہستیوں کی جدائی ہے۔ میں اور میرے بچے ان دنوں زندگی کے سب سے بڑے غم اور عظیم صدمہ کی حالت میں ہیں کہ یکم مارچ ۲۰۰۹ء کومیرے بچوں کے والد محترم اور د اس کے وماہ بعد میرے والد مکرم اس فانی دنیا کو چھوڑ کر عازم راہ جنت ہوئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ اس سے قبل بھی زندگی میں بڑے بڑے صدمات سے دو چار ہونا پڑا، مثلاً ایک سال کے وقفے سے دونوں امی جان کی ابدی جدائی، نوجوان بھانجے حافظ عدیل عمران کی شہادت، چچا زاد بھائی محمدعیاض کی حادثاتی موت، ماموں اور خالہ کی یکے بعد دیگرے وفات، جواں سال بھائی قاری ماجدکا انتقال، انھی کے دو نوجوان بیٹوں محمد اکرم اور محمداکمل کی حادثاتی موت، میرے سسر حضرت مولانا قاضی عبداللطیف جہلمیؒ کی اچانک وفات جو جید وعالم دین اور میرے مہربان استادومربی تھے، پھر گزشتہ سال میرے بہت ہی پیارے چاچا جی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کی جدائی جومیرے مشفق استاد تھے، پھر بھانجی کے نو عمر بیٹے عکرمہ کی حادثاتی موت، گزشتہ دو عشروں کے دوران یہ وہ المناک صدمات ہیں جو د ل کا ایسا ناسور بن چکے ہیں جس کی ٹیسیں کسی پل قرار نہیں لینے دیتییں۔ یوں تو ان کے علاوہ بھی بہت سے صدمات کے زخم دل پر ہیں، لیکن خونی رشتوں کے حوالے سے ان عزیزترین ہستیوں کی جدائی ایسازخم ہے جوہر وقت ڈستا رہتا ہے۔ اب جوگزشتہ تین چار ماہ کے عرصے میں اتنے بڑے دو صدمات سہنا پڑے ہیں، لگتا ہے غم کا کوہ گراں ہے جس کے بوجھ تلے ہم پس رہے ہیں اور لگتا ہے کہ ہم یکے بعد دیگر ے دو مرتبہ قیامت صغریٰ سے گزرے ہیں، ایسی قیامت جو دل کو ہر لمحہ خون کے آنسو رلاتی رہتی ہے۔ 

بہرحال بحیثیت مسلمان اللہ رب العزت کے حکم اور اس کی رضا کے آگے سر تسلیم خم ہے۔ ہم لاکھ صدموں سے چور سہی، ہمارادل بے شک غموں سے رنجور سہی، پر اپنے خالق ومالک کے فیصلوں پر راضی ہیں اور اپنے آقا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت طیبہ پرعمل کرتے ہوئے آپ کی اتباع میں حدیث پاک کے وہ مبارک الفاظ دہراتے ہیں جو آپ نے اپنے پیارے صاحب زادہ حضرت ابراہیم کی وفات پر فرمائے تھے، تدمع العین ویحزن القلب ولانقول الا ما یر ضی ربنا۔ واللہ یا ابراہیم! انا بک لمحزونون۔ (مسلم شریف ) ہم ان قابل قدر عزیز ترین ہستیوں کی یادوں سے دل وجان کو آباد رکھے ہوئے ہیں، اور مرتے دم تک آباد رکھیں گے، ان شاء اللہ۔ 

یہ یادیں بھی انسان کے لیے کتنا قیمتی سرمایہ ہیں! سوچتی ہوں اگر ہمارے پاس یادوں کا گراں مایہ سرمایہ نہ ہوتا تو ہماری زندگی کتنی بے کیف اور ہمارے دل کتنے ویر ان ہوتے۔ یہ تومیرے رب کریم کا احسا ن عظیم ہے کہ اس خالق کائنات نے ہمارے خانہ ذہن میں یادیں محفوظ کرنے کا سامان کر دیاکہ ہم جب چاہیں، اس خانہ ذہن میں محفوظ خوشگوار یادوں سے دل کوبہلا لیتے ہیں، خوش ہولیتے ہیں، اور غم زدہ یادوں سے آنسو بہا کر دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ آج جب میں اباجی اور چاچا جی کی یادوں کو صفحہ قرطاس پر بکھیرنے بیٹھی ہوں تو دل کی یہ کیفیت ہے کہ 

یادوں کے اوراق پلٹتی ہوں جب میں ماضی میں 

کیسے خوش کن دل کش روشن منظر سامنے آتے ہیں

اور انہی کی اوٹ سے جھانکتے کچھ دل سوز مناظر بھی

اپنی جھلک دکھلا کر دل میں سوئے درد جگاتے ہیں

والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اور عم محترم شیخ التفسیرحضرت مولانا صوفی عبدالحمیدخان اختر ہماری قابل احترام و لائق تحسین دوایسی عزیز ترین ہستیاں ہیں جو ہماری پوری زندگی کا محور ہیں۔ ہم سب بہن بھائیوں اور ہمارے عم زاد بہن بھائیوں کی ساری زندگی انہی دو شفیق ہستیوں کی محبتوں اور شفقتوں کے زیر سایہ گزری ہے۔ دادا دادی کی محبت ہماری قسمت میں نہ تھی۔ نانا نانی ہمارے بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ چھوٹی امی جان کی طرف سے نانی جان حیات تو تھیں لیکن مانسہرہ سے بھی آگے کافی دور سکونت پذیر ہونے کی وجہ سے ان کی شفقت ہمیں سالوں بعد ہی کبھی حاصل ہوتی۔ سوخا ندانی بزرگ کی حیثیت سے، استاد کی حیثیت سے، مشفق ومربی کی حیثیت سے شعور کی آنکھ کھولنے سے آخر دم تک یہی دو ہستیاں ہمیں اپنی زندگی میں ہر طرف چھائی محسوس ہوتی ہیں۔

آج فراغت پاتے ہی ماضی کا دفتر کھولا ہے، تنہائی میں بیٹھ کر اپنا ایک ایک زخم ٹٹولا ہے، آج جب میں ماضی کے مناظر میں جھانکنے بیٹھی ہوں تو تقریباً نصف صدی پہلے کے کچھ مناظر بہت واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے، اتنے چھوٹے کہ کھانے پینے اور سونے جاگنے کے علاوہ ہمیں کسی بات کا شعور نہیں تھا، تب ہمارے شفیق اباجی تھے جنہوں نے ہماری تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اٹھائی اور خود ہمیں کلمہ طیبہ ، نماز، دعاے قنوت، آیت الکرسی، ایمان کی صفات اور چھوٹی چھوٹی دعائیں یاد کروائیں۔ میری برستی آنکھوں کے سامنے آج بھی وہ منظر آ رہا ہے کہ اباجی مغرب کی نماز پڑھا کر واپس آتے، گرمی کے موسم میں باہر صحن میں چار پائی بچھی ہوتی، اباجی کھانا کھا کر لیٹ جاتے اور ہم بہن بھائی، جو چھو ٹی عمر کے ہیں، اباجی کے اردگرد بیٹھے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اباجی کی ٹانگیں دبا رہے ہیں اور اباجی ہمیں ایک ایک لفظ کرکے یہ سب کچھ یاد کروا رہے ہیں۔ سردی کے موسم میں یہ منظر ابا جی کی بیٹھک میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ا باجی کے جسم کا لمس آج بھی اپنے ہاتھوں میں محسوس ہوتاہے اور اباجی کی آواز آج بھی اپنے کانوں میں گونجتی سنائی دے رہی ہے۔ کبھی کلمہ یاد کرواتے ہوئے توکبھی نماز اور دعائیں اور ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی ہوتی کہ جو سب سے اچھا یاد کرے گا اورسنائے گا،اسے ایک آنہ ملے گا۔ اس زمانہ میں ایک آنہ کی قدر آج کے دس روپے سے بھی زیادہ تھی۔ 

پھر ہم باشعور ہوئے توہماری باقاعدہ تعلیمی زندگی کا آغاز ہوا اور مجھے یادہے کہ ہم میں سے ہر بہن بھائی کی تعلیم پر اباجی کی خاص توجہ ہوتی تھی۔ تعلیمی مدار ج میں ترقی وکامیابی پر بے پایاں خوشی اور غفلت وبے پروائی پر مرحلہ وار نصیحت، ڈانٹ ڈپٹ بلکہ پٹائی تک بھی ہو جاتی جو یقیناًہمارے مفاد میں تھی اورمیں سمجھتی ہوں کہ ابھی تک اس کا فائدہ اور اثر ہماری زندگیوں پرہے۔ ہم اسکو ل جاتے تو اباجی وقتاً فوقتاً ہماری تختیاں چیک کرتے، لکھائی میں کوشش کی تلقین فرماتے بلکہ ہمارے لیے قلم تک اپنے ہاتھوں سے تراشتے ۔ اس وقت کلک کا قلم ہوتا تھا۔ اباجی ڈھیر سارے کلک منگو ا کر اپنے پاس رکھ لیتے۔ جس بہن بھائی کو قلم کی ضرورت ہوتی یا جس کا قلم ٹوٹ جاتا، وہ اباجی کے پاس پہنچ جاتا۔ اباجی جیب سے چھوٹا سا چاقو نکالتے جس کا ہاتھی دانت سے بنا ہو اتھا۔ اتنی خوبصورتی سے قلم تراشتے کہ پوری کلاس میں کسی کے پاس ایسا قلم نہ ہوتا۔ اباجی کی اپنی لکھائی اتنی خوبصورت تھی کہ لگتا تھا ورق پر موتی بکھرے ہوئے ہیں۔ افسوس! ہم میں سے کسی بہن بھائی کی لکھائی اباجی جیسی نہیں ہے۔ لکھائی کے معاملے میں سب سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ مجھے ہوتی تھی، کیوں کہ بچپن میں سب سے زیادہ گندی لکھائی میری ہی تھی۔ لکھائی کی طرف میری توجہ ہی نہیں تھی اور نہ ہی شوق تھا۔ بس پڑھائی اور مطالعہ میرا جنون تھا۔ اسکول کی ہیڈ مسٹر س صاحبہ نے، جو بہت نیک خاتون ہیں اور ابا جی کی بہت معتقد بھی ہیں، میری لکھائی پر انفرادی توجہ دی تو کچھ گزارے لائق ہوگئی، لیکن اباجی کے معیار کی پھر بھی نہ تھی۔ 

ایک مرتبہ اباجی نے گکھڑ کے ایک مدرسہ میں بچیوں کے حفظ وناظرہ کا امتحان لینے بھیجا۔ پہلے امتحان کے بارے میں ہدایات دیں کہ امتحان سختی سے نہ لینا اور خواہ مخواہ بچیوں پر رعب مت ڈالنا اور نمبر بھی کم نہ دینا، وغیرہ۔ آخر میں فرمایا کہ امتحان ختم ہونے کے بعد اپنی رائے ضرور لکھنا اور صاف صاف لکھنا، کیڑے مکوڑے مت ڈال آنا۔ اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کا سلسلہ گھر میں بھی جاری تھا۔ بھائی لوگ تو مسجد جاتے تھے، کیونکہ وہ قرآن پاک حفظ کر رہے تھے اورہم بہنیں امی کے پاس ہی پڑھتی تھیں۔ اور بھی بہت سی بچیاں بلکہ بڑی عمر کی خواتین امی کے پاس قرآن پاک، بہشتی زیور اور ترجمہ قرآن پاک پڑھنے آیا کرتی تھیں۔ پڑھائی کی ذمہ داری بڑی امی کے سپر دتھی، لیکن ان کی عدم موجودگی میں چھوٹی امی پڑھا یا کرتی تھیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہماری عملی تربیت پر بھی اباجی کی گہری نظر تھی، مثلاً نماز، روزہ کی بہت چھوٹی عمر میں عادت ڈال دی گئی بلکہ جب وہ مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جانے لگتے تو جانے سے پہلے صحن میں اونچی آواز میں کہاکرتے، ’’نماز، نماز، نماز‘‘۔ ایسا پانچوں وقت کی نمازوں سے پہلے ہوتا۔ نیز ہم سے روزانہ پوچھتے کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں۔ اگر کسی وقت ہم نے نہ پڑھی ہوتی تو فرماتے کہ چلو ابھی پڑھو۔ ایک دن غالباً یوم آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں مجھے اسکول سے گھر آنے میں دیر ہوگئی توجیسے ہی گھر واپس آئی، فوراً اباجی نے پوچھا کہ نماز پڑھی ہے یا نہیں؟ ڈرتے ڈرتے بتایا کہ نہیں پڑھی۔ گھڑی پر ٹائم دیکھا تو غصہ سے فرمایا،آج تم نے نماز قضا کردی۔ جاؤ وضوکرو اور نماز قضا ادا کرو اور ساتھ ہی قضا نماز کا طریقہ اور نیت بھی بتلائی۔ اس دن مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ قضا نماز میں سنتیں اور نوافل نہیں پڑھے جاتے۔ 

میں امی کے پاس ناظرہ قرآن پڑھ رہی تھی۔ تقریباً سوا پارہ پڑھ چکی تھی کہ بھائیوں کی دیکھا دیکھی میرے دل میں بھی یہ خواہش جڑ پکڑ گئی کہ میں نے بھی قرآن پاک حفظ کرناہے۔ امی اس کے حق میں نہیں تھیں کہ لڑکیوں کو حفظ کرایاجائے، بلکہ اس وقت معاشرہ میں لڑکیوں کے قرآن پاک حفظ کرنے کا کوئی خاص تصور نہ تھا۔ ایک دن امی نے مجھے سبق پڑھنے کو کہا تو میں نے رونا شروع کردیا کہ مسجد میں پڑھنے جاؤں گی اور قرآن پاک حفظ کروں گی۔ عمر کوئی سات سال ہوگی ۔ اس پر امی سے پٹائی بھی ہوئی۔ خیر اباجی ظہر کی نماز پڑھاکر واپس آئے تو میرا رونا دھو نا اور امی کی ڈانٹ ڈپٹ جاری تھی۔ اباجی نے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے۔ امی نے بتایا کہ یہ سبق نہیں سنا رہی اور کہتی ہے کہ بھائیوں کے ساتھ مسجدمیں جاؤ ں گی اور قرآن پاک حفظ کروں گی۔ اباجی فرمانے لگے، اس میں کیا حرج ہے ۔اگر یہ اپنی خوشی کے ساتھ حفظ کرنا چاہتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ امی کو توقع تھی کہ اباجی مجھے سمجھا بجھاکر اس ضد سے روک دیں گے۔ اباجی کی بات سن کر بولیں کہ بھلا لڑکیاں بھی حفظ کرتی ہیں! تو اباجی نے ازواج مطہراتؓ، صحابیات کی مثال دے کر امی کو سمجھایا کہ یہ انوکھی بات نہیں ہے۔ امت مسلمہ میں بے شمار خواتین حافظہ قرآن گزری ہیں۔ یوں میری تحفیظ القرآن کی تعلیم شروع ہوئی۔ اباجی نے مجھے بھائی زاہد کے ہمراہ مسجد بھیجا اور قاری محمد انور صاحب کی شاگردی میں بٹھا دیا گیا جو حفظ کے کامیاب مدرس ہیں اور الحمدللہ حضر ت قاری صاحب کی بے بہا شفقت، خصوصی توجہ اور ’’ڈنڈے پیر‘‘ کی برکت سے ناچیز کی یہ دلی خواہش میرے مولانے پایہ تکمیل تک پہنچائی۔ 

دوران حفظ کے ایسے بہت سے مناظر میری آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں جو اباجی کی شفقتوں اور خصوصی توجہ کا مظہر ہیں۔ ان میں سے مغرب کے بعد کا وقت تو بہت قابل قدر اور مثالی ہے، جب اباجی مغرب کی نماز پڑھا کر واپس تشریف لاتے اور کھانے سے فارغ ہو کر اپنی بیٹھک میں چارپائی پر بیٹھ کر آئندہ روز کے اسباق کا مطالعہ فرماتے۔ اس وقت ہم بہن بھائی آپ کے اردگرد، کوئی کرسیوں پر توکوئی چار پائی پر بیٹھ کر صبح کے اسباق یا د کر رہے ہوتے۔ اباجی ساتھ ساتھ اپنا مطالعہ بھی جاری رکھتے اور ہم پر بھی گہری نظر رکھتے کہ توجہ سے پڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ یوں ہم روزانہ رات کو اباجی کی زیرنگرانی سبق یاد کیاکرتے، بلکہ خوب پکا کرتے۔ اس کی وجہ سے صبح کو ڈنڈے پیر سے بچ جاتے۔ جس دن اباجی گھر پر نہ ہوتے اور کسی جلسے وغیرہ پر مدعو ہوتے تو ہماری نگرانی دونوں امی جان میں سے کسی ایک کے ذمے ہوتی اور جس دن مہمان داری کی وجہ سے ہماری نگرانی میں کسی وجہ سے کوئی کمی رہ جاتی توصبح ڈنڈا پیر ہم پر ایسے برستا کہ الامان والحفیظ۔ جب ہم رات کو اباجی کی نگرانی میں پڑھ رہے ہوتے تو عمر کے تقاضے سے کبھی کبھی کوئی شرارت بھی ہوجاتی۔ ہم بہن بھائیوں میں سے بھائی جان زاہد شروع سے ہی سنجیدہ مزاج رہے ہیں، البتہ بھائی جان قارن کے مزاج میں بچپن سے ہی ظرافت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی جس کا نشانہ اکثر ہم چھوٹے بہن بھائی ہی بنتے۔ کبھی کبھار گلی محلہ میں سے بھی کوئی اس کی زد میں آجاتا۔ بھائی جان قارن آج الحمدللہ مسند حدیث پر رونق افروز ہیں اور مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے استاد ہیں۔ دونوں بھائی زاہد وقارن اور عم زاد حاجی محمد فیاض تینوں، اباجی اورچاچا جی کی نیابت کا خوب حق ادا کر رہے ہیں، اللہم زد فزد۔ جب ہم سبق یادکر رہے ہوتے تو بھائی قارن صاحب اپنی ظرافت طبع سے کوئی نہ کوئی چٹکلہ چھوڑ دیا کرتے۔ ایک مرتبہ جب بھائی جان سورۃ نور کی آیت ’’لُجِّیٍّ یَّغْشَاہُ‘‘ یاد کرتے ہوئے باربار اس آیت کو پڑھتے اور لُجِّیٍّ پڑھتے ہوئے ہمارا منہ چڑا دیتے۔ ہم بہن بھائی جو ان سے چھوٹے تھے، ابا جان سے شکایت کرتے کہ بھائی قارن ہمارا منہ چڑاتے ہیں۔ اباجی جب سر اٹھاکر دیکھتے تو بھائی پڑھ رہے ہوتے اور ہمیں ڈانٹ پڑ جاتی کہ وہ تو پڑھ رہا ہے، تم خواہ مخواہ شور کررہے ہو۔ دھیان سے سبق یاد کر و۔ جب تین چار دن تک مسلسل ایسا ہوتا رہا، نہ بھائی جان منہ چڑانے سے باز آئے اورنہ ہی ہم شکایت کرنے سے تو اباجی کو کچھ شک ہوا۔ اب اباجی چہرہ جھکائے مطالعہ میں مصروف تھے اور ساتھ چپکے چپکے کن انکھیوں سے بھائی جان کو بھی دیکھتے رہے، اور بھائی جان کو معلوم نہ ہوا۔ حسب معمول بھائی نے آیت پڑھی اور ہمارا منہ چڑایا تو اباجی نے فوراً چوری پکڑلی اور پھر ڈانٹ ڈپٹ کا رخ بھائی جان کی طرف ہو گیا اور خوب ہوا۔

ہماری تعلیم کی طر ف ہر لحاظ سے اباجی کی پوری توجہ ہوتی حتیٰ کہ جب امتحانات کا نتیجہ اباجی کے سامنے پیش ہوتا تو ہرایک کے نمبر ملاحظہ فرماتے۔ نتیجہ اچھا ہونے پر اباجی کی خوشی دیدنی ہوتی، کامیابی پر شاباش بھی ملتی اور جیب سے کچھ نہ کچھ انعام بھی ملتا اور ناکامی کی صورت میں ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوتی اور کان کھنچائی بھی۔ گاہے بگاہے اباجی خود بھی مسجد میں درجہ حفظ کے بچوں کا امتحان لیتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اباجی نے امتحان لیا۔ میرے اس وقت ڈیڑھ یا دو پارے حفظ ہوئے تھے۔ جب میری باری آئی اور میں امتحان دینے گئی تو اباجی نے پوچھا کہاں سے سنوں؟ میں خاموش رہی تو مجھ سے تیسویں پارے کی تین یا چار بڑی سورتیں سنیں اورسن کر بہت خوش ہوئے اور بولے کتنے نمبر لوگی؟ میرے تصور کی انتہا اس وقت دس کا عدد ہی تھا، سو کہہ دیا کہ دس نمبر۔ سن کر مسکرائے اور فرمایا چلو ٹھیک ہے، تمہیں دس ہی نمبر ملیں گے ایک اضافی زیر وکے ساتھ اور یوں مجھے پور ے سو نمبر ملے۔ 

صرف تعلیم وتربیت نہیں، ہم سب بہن بھائیوں کی صحت اور دیگر ضروریات کی طرف بھی اباجی کی پوری توجہ ہوتی ۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو اپنی نگرانی میں علاج معالجہ کراتے، دوائی خود کھلاتے، پرہیز پر نظرہوتی بلکہ بخار تک خود چیک کرتے۔ اس مقصد کے لیے اباجی کی الماری میں تھرمامیٹر ہر وقت موجو د ہوتا۔ میری شادی کے کچھ عرصہ بعد میر ی صحت کافی خراب ہوگئی۔ تقریباً ایک سال تک مسلسل مجھے بخار ہوتا رہا۔ جہلم میں کافی علاج معالجہ کرایا، لیکن کوئی خاص افاقہ نہ ہوا۔ اباجی کو علم ہوا تو باقاعدہ خط لکھ کر صحت کاحال دریافت فرماتے اور اپنی پریشانی اور تشویش کا اظہار فرماتے۔ ۵؍اکتوبر ۱۹۷۵ء کا لکھا ہوا اباجی کاخط آج بھی میرے پاس بحفاظت موجود ہے جس میں اباجی نے تحریر فرمایا، ’’عزیزہ کی بیماری کی طوالت کی وجہ سے ہم سب بہت پریشان اورنہایت غمگین ہیں اور رو رو کر اس کی صحت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔‘‘ جب بخار نہیں اترا تو مجھے گکھڑ بلوا لیا اور گوجرانوالہ کے مشہورومعروف ڈاکٹر معراج الدین مرحوم سے میرا علاج کروایا۔ روزانہ صبح شام پابندی سے خود بخار چیک کرتے، علاج کے ساتھ پرہیز او ر خوراک کابھی خیال رکھتے اورجب اللہ پاک کے فضل وکرم اور اباجی کی خصوصی دعاؤں سے میرا بخار اترا تو اباجی کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ پوری طرح بخار اترنے کے بعد ہی مجھے جہلم جانے دیا۔ ان دنوں جب میں گکھڑ تھی تو کچھ خواتین میری عیادت کے لیے آئیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ مولوی صاحب تمہاری بیماری کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ جمعہ کی نماز کے بعد تمہارے لیے دعا کرواتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اباجی کی یہ شفقت ومحبت صرف میرے لیے نہیں تھی، بلکہ بہن بھائیوں میں سے ہرایک کے لیے یوں ہی محبتوں اور شفقتوں کا سائبان تھے۔

دوران حفظ ہم بہن بھائی صبح صبح پڑھنے کے لیے مسجد جایاکرتے تھے ۔گھر اور مسجد کے درمیان جرنیلی سٹرک ہے اور ساتھ ہی بس کا اڈہ۔ ہم اس اڈہ سے سڑک پار کیا کرتے تھے۔ اباجی کامعمول تھاکہ صبح نماز تہجد سے فارغ ہو کر ناشتہ تناول فرماتے، پھر مسجد میں جا کر نماز کی جماعت کرواتے۔ اس کے بعد مسجد میں روزانہ پابندی سے درس دیاکرتے اور درس سے فارغ ہوتے ہی بس کے اڈہ پر پہنچ جاتے جہاں چندمنٹ کے انتظار کے بعد بس آجاتی تو بس میں سوا ر ہو کر گوجرانوالہ چلے جاتے جہاں مدرسہ نصرۃ العلوم میں دورۂ حدیث کے طلبہ کو پڑھاتے۔ ادھر ہم گھر سے نکلتے اور ادھر اباجی بس کے اڈہ پر کھڑے ہوتے۔ دور سے ہمیں آتا دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ آجاتی۔ اگر سردی کا موسم ہوتا تو ہمیں اپنے پاس کھڑا کر لیتے اور باری باری ہم سب کے سویٹر جرابیں وغیرہ چیک کرتے، بلکہ قمیص اٹھاکر چیک کرتے کہ نیچے بھی سویٹر پہناہے یا نہیں۔ اس وقت ہم بچے تھے، احساس وشعور سے محروم۔ بسااوقات یہ اچھا نہ لگتا تو گھر آکر امی سے شکایت بھی کرتے کہ اباجی سٹرک پر کھڑ اکرکے سویٹر چیک کرتے ہیں۔ جب بڑے ہوئے اور احساس وشعورجاگا تو اندازہ ہوا کہ یہ اباجی کی ہم سے شفقت اور محبت کی انتہا تھی۔آج جب ان کی جدائی کا گھاؤدل کے مستقل درد کی صورت اختیار کر گیاہے تو سوچتی ہوں دنیا میں کون سا ایسا باپ ہوگا جو اولاد کی محبت میں اس گہرائی میں جا کر سوچے! 

ان کی فرقت میں ہماری گریہ زاری کیوں نہ ہو

ضرب ہے دل پر لگی توضرب کاری کیوں نہ ہو

ان کے جانے سے ہوا غارت اگر دل کاسکوں

دل کی اس ویرانی سے اب بے قراری کیوں نہ ہو

اجڑا اجڑا سا چمن ہے ہر کلی کملائی ہے

غنچہ وگل مرجھا گئے ہیں اشک باری کیوں نہ ہو

الحمدللہ ہم بارہ بہن بھائی تھے جن کی پرورش وتربیت اباجی نے کی اور ہم تھے بھی دوماؤں کی اولاد، اس کے باوجود اباجی کی توجہ، اباجی کی محبت، ہماری ضروریات کا احساس سب کے ساتھ یکساں تھا۔ کثیر العیال ہونے اور مالی طور پر مستحکم نہ ہونے کے باوجود کبھی ہمیں احساس محرومی نہیں ہو نے دیا۔ جب بھی فروٹ لاتے، سب سے پہلے ہمسایوں کے بچوں کا حصہ ان کے گھر بھیج دیتے جن کے والد کم سنی میں انھیں یتیمی کا دکھ دے گئے تھے۔ اباجی ان کا بہت خیال کرتے تھے بلکہ دونوں امی جان کو بھی اور ہم بہن بھائیوں کو بھی تلقین کرتے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ ان کا حصہ بھیجنے کے بعد باقی فروٹ سب میں برابر تقسیم کرتے۔ دونوں امی جان کا حصہ الگ نکالتے اور کوئی بھی چیز چاہے تھوڑی سی ہوتی، سب میں تقسیم کرتے۔ ہمارے گھرمیں یہ تصور ہی نہ تھا کہ کوئی چیز گھرمیں آئے اور کسی ایک یا دو فرد کے ہتھے چڑھ جائے۔ تھوڑی تھوڑی کر کے سب میں تقسیم ہوتی۔ اس معاملہ میں دونوں امی جان کا طریق کار بھی یہی تھا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ شادی والے گھر سے کچھ مٹھائی آئی تو چھوٹی امی جان ابا جی کے پا س لے گئیں کہ سب میں پوری تو ہوگی نہیں، اس لیے آپ کھا لیں۔ اباجی نے مٹھائی کی پلیٹ پکڑکر اپنے پاس رکھ لی اور آوازیں د ے کر سب بچوں کو اپنے پا س اکٹھا کر لیا اور پھر اپنے ہاتھوں سے وہ مٹھائی تھوڑی تھوڑی کر کے سب میں تقسیم کی۔ دونوں امی جان کودی اور جوتھوڑی سی باقی بچی، خود کومخاطب کر کے فرمایا ’’لے بھئی سرفراز، ایہہ تیرا حصہ اے، چل تو کھالے۔‘‘ ہم بہن بھائی اباجی کی بات سن کر کھل کھلا کر ہنس دیے۔ یقین جانیں آج مٹھائی کے بڑے بڑے ڈبے گھرمیں اکٹھے ہو جاتے ہیں، لیکن اس مٹھائی میں وہ لذت اور چاشنی نہیں ہوتی جو اس وقت ہتھیلی پر اباجی کے ہاتھوں سے رکھی جانے والی ذراسی مٹھائی میں تھی۔ 

عموماً جس گھر میں دو بیویاں ہوں اور دوماؤں کی اولاد ہو، وہاں لڑائی جھگڑا لگا رہتا ہے کہ کسی نہ کسی فرد کوناانصافی یا زیادتی کی شکایت ہو جاتی ہے، لیکن ہمارے اباجی میں یہ خوبی تھی کہ انہوں نے گھرکامکمل انتظام اور کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھا اور گھر کے ہرمعاملے میں اور ہر مسئلے پر اباجی کی گہری نظر ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بہن بھائی ایک جگہ کھاتے پیتے بلکہ مزے کی بات یہ کہ چھوٹی عمر کے بہن بھائی ایک ہی برتن میں کھاتے تھے۔ ایک ہی پرات میں امی چاول اور سالن ڈال دیتے اور ہم مل جل کر خوب مزے سے کھاتے۔ بسااوقات اس میں ہمسایوں کے بچے بھی ہمارے ساتھ شریک ہو جاتے۔ ہم ان کے گھر کھا پی لیتے اور وہ ہمارے گھر کھا پی لیتے۔ کوئی تیرے میرے والی بات نہ ہوتی اورایک ہی پرات میں کھانا کھانے کی روایت ہمارے بچوں تک چلی۔ جب ہم بہن بھائیوں کے اور چاچا جی کے بچے گکھڑ میں جمع ہوتے تو سب مل کر ایک ہی پرات میں کھاتے ۔ اب تو روایات ہی بدل گئی ہیں۔ بچوں میں ہلکا پھلکا لڑائی جھگڑا بھی ہوتا، شکوے شکایات بھی ہوتے، لیکن ویسے ہی جیسے کہ بچوں کا معمول ہوتاہے کہ ادھر لڑائی ادھر صلح صفائی۔ بچوں کی وجہ سے ہمارے گھر میں بڑوں کے درمیان کبھی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا۔ الحمدللہ۔ 

اور بات صرف کھانے پینے تک محدود نہیں،کپڑے جوتے تک ہم سب کے اکٹھے آتے۔ کپڑے گھر آتے اور گھر میں ہی پسند کیے جاتے تھے۔ جوتے بھی گھر لاکر پسند کیے جاتے تھے اور یہ سب اباجی کی نگرانی میں ہوتا۔ اباجی کی پوری کوشش ہوتی کہ کسی کے ساتھ زیادتی یا ناانصافی نہ ہو۔ پھرجب کپڑے سل کرآتے تو سب سے پہلے اباجی کے پاس جاتے۔اباجی پوری طرح کپڑے ملاحظہ فرماتے۔ گلاچیک کرتے کہ کھلا تو نہیں، بازو اور پائنچے چیک کرتے، غرض ہر چیز پر نظر ہوتی۔ زنانہ کپڑے درزن سے سلائے جاتے تھے۔ جوخاتون ہمارے کپڑے سیا کرتی تھی، بہت نیک خاتون تھیں۔ چند دن پہلے ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ ایک مرتبہ درزن نے میری قمیص کے بازو لمبائی میں چھوٹے کردیے۔ بہت چھوٹے بھی نہ تھے، لیکن کلائیوں سے کم تھے جو شرعی لحاظ سے اس لیے ناجائزہے کہ نماز میں عورت کی کلائیاں سترمیں داخل ہیں۔ اباجی نے وہ قمیص مجھے پہننے نہیں دی، بلکہ چھوٹی بہن کو دلوا دی۔ اباجی کی تربیت کا اثرہے کہ کلائیوں سے بھی لمبے بازو پہننا میری ایسی عادت بن چکی ہے کہ بازوتھوڑے سے بھی چھوٹے ہوں تومجھے الجھن ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ بھائیوں میں کسی نے شلوار کے پائنچے ڈوری والے بنوا لیے جوا س وقت کا فیشن تھا۔ اتفاق سے کپڑے عیدکی صبح کو سل کر آئے۔ اباجی نے یہ کپڑے پہننے پر پابندی لگا دی۔ بھائی کی پریشانی دیکھ کر بڑی باجی نے فوراً مشین رکھی اور ٹخنے کاٹ کر نئے پائنچے بنائے، اوپر نیفا ڈالا اوربھائی نے کپڑے پہنے۔ تو اباجی کا معمول تھا کہ لباس میں کوئی بات خلاف شرع دیکھتے یافیشن کے مطابق دیکھتے تو فوراً اصلاح فرماتے اور ایسے کپڑے قطعاً نہ پہننے دیتے۔ 

اس وقت گھرمیں سلوک واتفاق مثالی تھا اور واقعتا گکھڑ کے لوگ ہمارے گھرکی مثال دیا کرتے تھے۔ دونوں امی جان نے مل جل کر گھرکاانتظام بہت اچھے طریقے سے چلا رکھا تھا۔ باہر سے آنے والا کوئی بھی دونوں امی جان کا باہمی رویہ اور سلوک واتفاق دیکھ کر یہ یقین کرنے کوتیار نہ ہوتا کہ دونوں آپس میں سوکنیں ہیں۔ ہرکام باہم مل جل کر کرتیں۔ کہیں جانا ہوتا، کوئی تقریب ہوتی تو عموماً ایک ہی جیسے کپڑے پہن کر اکٹھے شرکت کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ دونوں امی جان کے لیے کپڑے لینے تھے۔ اباجی نے کپڑے پسند کروانے کے لیے گھر منگوائے توان میں ایک کپڑا کافی شوخ تھا، بروکیڈا کپڑا تھا جوان دنوں نیا نیا آیا تھا۔ بڑی امی جان کی عمر بھی چھوٹی امی جان سے کچھ زیادہ تھی اور کچھ مزاجاً بھی سادگی پسند تھیں تو بڑی امی جان کی مرضی تھی کہ سادہ سوٹ لیے جائیں اورچھوٹی امی کی خواہش تھی کہ بروکیڈ کے سوٹ لیے جائیں۔ اباجی کافرمان تھا کہ ایک ہی جیسے کپڑے لے کر دینے ہیں، تم لوگ آپس میں طے کرلو۔ چھوٹی امی جان نے پہلے تو بڑی امی جان کوخود قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہ مانیں تو ہم بہنوں کو آگے کیا کہ تم لوگ امی کو مناؤ۔ غالباً کہیں شادی میں شرکت کامسئلہ تھا۔ خیر دونوں بہنوں نے امی جان کو بڑی مشکل سے قائل کر کے چھوڑا اور جب بھائی جان دونوں کے بروکیڈ کے سوٹ لے کر آئے تو اباجی نے مسکراتے ہوئے فرمایا، ’’شہزادیاں دے سوٹ آئے نیں۔‘‘ 

چھوٹی امی کا دل بہت کمزور تھا۔ جب ۶۵ کی جنگ ہوئی تو گکھڑ بھی فضائی حملے کی زد میں آیا۔ سو جنگ کے ایام میں سٹرک پر ٹرک یا گاڑی گزرتی تواس کی آواز سے خوفزدہ ہو جاتیں جس کی وجہ سے ہم بہن بھائی اکثر انہیں مذاق کا نشا نہ بنایا کرتے۔ جب جنگ ختم ہو گئی تو اس کے بعد کافی عرصہ تک ہم چھوٹی امی کو بہت تنگ کیا کرتے ۔ صبح جب اخبار آتی تو اگر پہلے میرے یا بھائی زاہد کے ہاتھ لگ جاتی تو زور زور سے اخبار کی سرخیاں پڑھا کرتے تھے جن میں سب سے نمایاں سرخی تھوڑے ردوبدل کے ساتھ یہ ہوتی کہ انڈیانے پاکستان پر حملہ کر دیا،اور چھوٹی امی جان دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاتیں اور چہرے کا رنگ زرد ہو جاتا۔ بڑی امی جان سے ہمیں تو ڈانٹ پڑتی ہی تھی، ساتھ چھوٹی امی کو بھی سرزنش کیاکرتیں کہ تمہیں پتہ ہے کہ یہ تمہیں تنگ کرتے ہیں، پھرتم ان کی باتوں میں آجاتی ہو۔ اور چھوٹی امی لرزتے لہجے میں کہتیں، ’’آپاں جی، میرے کولو ں برداشت نہیں ہوندا۔‘‘ اسی طرح چھوٹی امی اگر کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوتیں اور کوئی باہر سے دروازے کی کنڈی لگادیتا توچھوٹی امی کی حالت دیکھنے والی ہوتی ۔ یہ شرارت ہم لوگ اکثر کیا کرتے تھے جس پر اباجی سے بھی ڈانٹ کھاتے اور بڑی امی سے بھی، بلکہ چھوٹے بھائی تو اس مسئلہ میں باقاعدہ چھوٹی امی کو بلیک میل کیا کرتے۔ کوئی بات منوانی ہوتی، زیادہ پیسے لینے ہوتے تویہی حربہ استعمال کرتے اور چھوٹی امی کو مجبوراً ان کی ماننا پڑتی۔ 

ہم بہن بھائی کافی بڑے ہوگئے، لیکن ہمیں یہ پتہ نہ تھا کہ دونوں میں سے ہماری سگی ماں کون سی ہے۔ یقین جانیں، ہمیں یہ بات باہر کے لوگوں سے معلوم ہوئی۔ جب کوئی خاتون ہم سے پوچھتیں کہ بڑی امی سے یا ہو چھوٹی امی سے تو ہم حیرت سے دیکھتے رہ جاتے اور ہمیں اس سوال کی سمجھ ہی نہ آتی۔ ہم گھر میں دونوں کو بڑی امی اور چھوٹی امی کہا کرتے تھے اورحقیقت کاعلم ہمیں بہت بعد میں ہوا۔ یہ اباجی اور دونوں امی جان کی بہترین تربیت اور خصوصی توجہ کا نتیجہ ہے کہ آج کے اس بے حسی اور نفسانفسی کے دور میں جب کہ سگے خونی رشتے بھی ایک دوسرے سے نالاں اور بے زار ہیں اور ایک ماں باپ کی اولاد بھی باہمی محبت، رواداری اور اتفاق سے محروم ہے، ہم بہن بھائی الحمدللہ ایک دوسرے کی محبت سے سرشار ہیں۔ چھوٹے موٹے مسائل اور اختلاف رائے سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کبھی ہم بہن بھائیوں میں قطع تعلقی نہیں ہوئی، اور دلی دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری زندگی میں ایسا وقت کبھی نہ لائیں کہ ہمارے والدین کی تربیت پر حرف آئے یا روز محشر ان کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے، آمین۔

الحمدللہ ہمارے بچپن کاز مانہ بہت خوشگوار رہاہے۔ ان ایام میں جہاں اللہ رب العزت نے ہمارے والدین کے توسط سے ہمیں بے شمار خوشیوں سے نوازا، وہاں ایک بہت بڑی خوشی جو ہمیں حاصل تھی، وہ ہمارے گھر میں ہمارے پیارے چاچا جی کی آمد تھی۔ ہم سے بہت ہی محبت کرنے والے شفیق چاچا جی، جنھیں گھر کے سب بڑے صوفی صاحب کہتے تھے، کبھی کبھار ہی گکھڑ تشریف لاتے تھے، لیکن جب تشریف لاتے تو عجیب سی رونق، خوشی اور چہل پہل ہوا کرتی، بلکہ ہمارے لیے وہ دن عیدسے بھی زیادہ خوشی کے ہوتے۔ گھر کے بڑے تو چاچاجی کی آمد پر خوشی سے سرشار ہوتے ہی تھے، ہم بچے بھی اس خوشی کو پوری طرح محسوس کیا کرتے۔ چاچا جی کا مزاج بہت ہی حلیم وشفیق تھا، بلکہ اگر میںیہ کہوں کہ اباجی کے مزاج میں جلال غالب تھا اور اورچاچاجی کے مزاج میں جمال تو شاید یہ غلط نہ ہو۔ دونوں بھائیوں میں انتہا کی محبت تھی۔ کم ازکم میں نے اپنی زندگی میں ایسی مثالی محبت کسی بہن بھائی میں نہیں دیکھی۔ مجھے بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنے چاچا جی بہت ہی اچھے لگتے تھے، بلکہ بڑے بہن بھائی اکثر مجھے تنگ کرتے کہ تم ہماری بہن نہیں ہو، بلکہ چاچا جی کی بیٹی ہو۔ تمہاری ماں فوت ہو گئی تھی، اس لیے ہم تمہیں اپنے گھر لے آئے تھے۔ اس وقت چاچا جی کی شادی نہیں ہوئی تھی، کیونکہ چاچا جی نے شادی کافی تاخیر سے کی۔ یہی وجہ ہے کہ چاچا جی کے بچے ہم بہن بھائیوں سے بہت چھوٹے ہیں، حالانکہ دونوں بھائیوں کی عمر میں صرف تین سال کافرق ہے۔ خیرا نہی دنوں چاچاجی کی شادی کا سلسلہ شروع ہوا تو ساتھ ہی بھائی لوگوں نے مجھے خوفزدہ کرنا شروع کر دیا کہ اب تمہاری سوتیلی ماں آئے گی تو پتہ چلے گا۔ اتفاقاً چاچا جی کا رشتہ گکھڑ میں ہی طے ہوا۔ اپنی ہونے والی چچی جان سے ہمارے سفارتی تعلقات بہت چھوٹی عمر سے ہی کافی خوشگوار تھے اور الحمد للہ ابھی تک ویسے ہی خوشگوار بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اللہ رب العزت ہمارے تعلقات اور ہماری محبت کوہر قسم کی نظربد سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ 

چاچا جی کے سسرال والے مسجدکے قریب ہی رہایش پذیر تھے۔ ہم لوگ جب مسجد پڑھنے جاتے تو اکثر چھٹی کے بعد وہیں سے چچی جان کے گھر چلے جاتے۔ رشتہ طے ہونے سے پہلے ہی اس خاندان سے ہمارے خاندانی مراسم بہت گہرے تھے جس کا فائدہ ہم بچے خوب اٹھاتے۔ چچی جان کی والد ہ محترمہ جن کو سب چھوٹے بڑے حتیٰ کہ ان کے اپنے بچے بھی ماسی کہاکرتے تھے، بڑی خوش مزاج، زند ہ دل اور محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ ہم بہن بھائیوں سے بہت محبت وشفقت سے پیش آتیں۔ چند سال قبل ان کا انتقال ہوا ہے۔اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائیں اور درجات بلند فرمائیں، آمین۔ اسی طرح چچی جان کے چھوٹے بھائی ماموں ارشد بھی بہت نیک انسا ن تھے۔ ہمارے پورے خاندان سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ہم جب ان کے گھرجاتے تو بہت ہی خوش ہوتے۔ کبھی جھولا ڈال کر دیتے تو کبھی ٹافیاں وغیرہ لاکر دیتے۔ افسوس جوانی میں کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر اس فانی دنیا سے لاولد ہی رخصت ہوئے۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ وارفع درجاتہ، آمین۔ توہم اکثر چچی جان کے گھر چلے جایا کرتے تھے اور رشتہ طے ہوجانے کے بعد تودن میں دو تین بارحاضری لازم ہوگئی کہ چچی جان کوچاچا جی کے نام سے چھیڑنا جو ہوتا تھا۔

بہرحال چاچا جی کی شادی بڑی سادگی سے لیکن دلی خوشیوں کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے ہوئی اور ہمارے گھر کی رونق دوبالا ہو گئی۔ شادی کے بعد چچی جان کچھ عرصہ تک گکھڑ میں ہی رہیں اورچاچا جی ہفتہ عشرہ کے بعد گکھڑ تشریف لاتے تو ہم بچوں کی توموجیں ہی ہو جاتیں۔ باقی دنوں میں تو اباجی اور دونوں امی جان کی طرف سے ہم پر پڑھائی کے معاملہ میں اور تربیت کے مسئلہ کافی سختی ہوتی تھی کہ اباجی ’’کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیرکی آنکھ سے‘‘ والے مقولے پر سختی سے کاربند تھے، لیکن چاچا جی کی آمد کے دنوں میں اس آرڈیننس میں نرمی ہوجاتی اور کافی چھوٹ مل جاتی بلکہ چاچا جی کی شہ پر ہم مسجد سے چھٹی کرنے کی عیاشی بھی کرلیتے تھے۔ ادھر چاچا جی کی شادی کے بعدبھائی لوگوں کی مجھے تنگ کرنے والی تحریک زور پکڑ گئی اور اب چچی جان بھی اس تحریک میں شامل ہوگئیں اور مجھ ناچیز کو خوب دھمکایا جانے لگاکہ اب تمہاری سوتیلی ماںآگئی ہے، سو اب اپنا حشر دیکھنا۔ چچی جان دھمکاتیں کہ ادھر توباقی سب لوگوں کی وجہ سے میں کچھ کہہ نہیں سکتی، جب میرے ساتھ گوجرانوالہ جاؤ گی تو پھر پتہ چلے گا۔ سچ پوچھیں تو مجھے بھی اس بات کا یقین ہوگیا کہ میں واقعی چاچا جی کی بیٹی ہوں اور مجھے حقیقتاً سوتیلی ماں کے ظلم وستم کا شکار ہونا پڑے گا۔ چونکہ مطالعہ کی عادت تو تقریباً چھ سات سال کی عمر سے ہی پڑ گئی تھی، روزانہ گھر آنے والا اخبار اور سنڈے ایڈیشن باقاعدگی سے پڑھا کرتی تھی، بلکہ ایک چھوٹی امی جان کی اور میری اکثر اخبار پڑھنے پر چھینا جھپٹی بھی ہوتی تھی۔ تو مطالعہ کی عادت کی وجہ سے بچوں کی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں بھی کافی پڑھ رکھی تھیں جن میں اکثر سوتیلی ماں کے ظلم وستم کا ذکر ہوتا۔ جب یہ تحریک زیادہ ہی بڑھ گئی اور بھائی لوگوں نے دیکھا کہ اس پر کچھ خاص اثر نہیں ہو رہا توایک دن نیا شوشا چھوڑا کہ تم ہمارے گھر ہمارا کھانا کھاتی ہو، ہمارے کپڑے پہنتی ہو، جاؤ اپنے گھر۔ یہ سن کرناچیز کی پٹھانی غیر ت بھی جوش میں آگئی، کھاناپینا سب چھوڑ چھاڑ کر کمرے میں دروازے کے پیچھے ڈیرا ڈال کر بیٹھ گئی اورخوب رونادھونا مچایا، اتناکہ امی بھی پریشان ہوگئیں۔ ہرچند انہوں نے مجھے یقین دلانے کی بھر پور کوشش کی کہ تم میری اپنی بیٹی ہو اور یہ لوگ خواہ مخواہ تمہیں تنگ کر رہے ہیں،لیکن مجھے بالکل یقین نہ آیا بلکہ میں نے یہ ضد پکڑ لی کہ میرے اپنے اباجی آئیں گے تو ان کا لایا ہوا کھاناکھاؤں گی اور ان کے لائے ہوئے کپڑے پہنوں گی۔ آخربات اباجی تک پہنچی۔ اباجی کمرے میں آئے، پہلے سب کوبلاکر خوب ڈانٹ ڈپٹ کی، پھر میرے سامنے قسم کھا کر مجھے یقین دلایا کہ تم میری اپنی بیٹی ہوں اور میں تمہارا باپ ہوں۔ یہ سب تمہیں تنگ کرنے کے لیے جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس وقت تو اباجی کی بات کا یقین آگیا، لیکن سچی بات ہے کہ اس کے بعد بھی کبھی کبھار یہ شک دل میں سراٹھاتا رہا کہ میں چاچاجی کی بیٹی ہوں،حالانکہ اباجی کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد یہ سلسلہ بالکل ختم ہوگیا کہ اباجی کی بات گھر میں حرف آخر ہوتی تھی۔ 

ہماری چچی جان بہت مشفق اور محبت کرنے والی خاتون ہیں۔ ہم سب بہن بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ بہت اچھا اور بہت پرشفقت رویہ رکھا ۔ جب تک گکھڑ میں رہیں، دونوں امی جان اور چچی جان مل جل کر گھرکا کام نمٹا لیتیں۔ کبھی کاموں کی وجہ سے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوا۔ الحمدللہ، اللہ پاک کا بڑا احسان ہے کہ ہمارا بچپن گھریلومسائل سے آزاد گزرا۔ کھیل کوداور مذاق اور پررونق زندگی ہمیں میسر تھی اور یہ سب ہمارے بڑوں کی باہمی محبت اور سلوک واتفا ق کی برکت سے تھا۔ جب کچھ عرصہ کے بعد چچی جان گوجرانوالہ چلی گئیں تو پھر وقتاًفوقتاً آنا جانا رہتا۔ ہم اسی انتظار میں رہتے کہ کب ہم لوگ گوجرانوالہ جائیں گی یا چچی جان گکھڑ آئیں گی۔ جب چاچاجی گکھڑ تشریف لاتے تو اباجی اور چاچاجی کی محفل خوب جمتی اور نوک جھوک چلتی۔ عموماً بیٹھک میں کھانا یا چائے لے جانے کی سعادت ناچیز کو ہی حاصل ہوتی۔ سو اکثر اس محفل میں اور اس نوک جھوک میں شرکت بھی مجھے نصیب ہوتی۔ بہت یاد گار و قت تھا اور بہت خوبصورت محفلیں!

وہ دن کہاں کہ اب کوئی محفل سجائیے

اک دل ہے سو اسی سے محبت نبھائیے

منظر جو آنکھ میں ہے گنوا دیجیے اسے

پتھرجو دل پہ ہے اسے کیسے گنوائیے 

اب کو ن ہے جو دے ہمیں جینے کا حوصلہ 

اتنے دکھوں میں کس کے لیے مسکرائیے 

ایک مرتبہ دونوں بھائی بیٹھک میں رونق لگائے ہوئے تھے۔ میں کھانالے کر اندر گئی تودونوں بھائیوں میں کچھ بحث ہو رہی تھی اورایک طرف سے ’’نہیں، تم‘‘ اور دوسری طرف سے ’’نہیں، آپ‘‘ کی تکرار جاری تھی۔ میں ابھی معاملے کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ اباجی کہنے لگے کہ چلو یہ آگئی ہے، اس سے فیصلہ کروا لیتے ہیں۔ چاچا جی بولے، پتر سچ سچ بتا، میں زیادہ موٹا ہوں یا تمہارے اباجی؟ میں حقیقتاً پر یشان ہوگئی کہ اب فیصلہ کس کے حق میں کروں۔ ان دنوں ہمارے گھر کے ساتھ متصل ایک لکڑی کاٹال ہوتا تھا اور ٹال والے نے لکڑیاں تولنے کے لیے ایک بڑا ترازو لگارکھا تھا ۔ میرے ذہن میں فوراً وہ آگیا اور میں نے کہا کہ دونوں ٹال والے کے ترازو کے ایک ایک پلڑے میں بیٹھ جائیں، فیصلہ خود بخود ہو جائے گا۔ میرے بچپن کے اس معصومانہ فیصلہ پر دونوں بھائی بہت دیر تک ہنستے رہے۔ 

اسی طرح ایک مرتبہ میں چائے لے کرگئی۔ چائے رکھ کر کچھ اور چیزیں لینے واپس باورچی خانہ کی طر ف گئی۔ دوبارہ بیٹھک میں داخل ہوئی توچاچا جی کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ اباجی فوراً بول پڑے، ’’جا اپنے چاچے لئی چھاننی لے کے آ۔‘‘ میں تیزی سے واپس آگئی اور آٹا چھاننے والی چھلنی اٹھا لائی۔ چھلنی دیکھ کراباجی کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور چاچا جی کے چہرے پر الجھن۔ مجھے کچھ سمجھ نہ آئی کہ کیامعاملہ ہے۔ اباجی مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’چھاننی اپنے چاچے دی پیالی اتے رکھ دے‘‘۔ اور چاچا جی بولے، پتر چھوڑو ان کو، جاؤ چائے والی چھلنی لے کر آؤ۔ جوں ہی معاملہ میری سمجھ میں آیا، میری بھی ہنسی چھوٹ گئی ۔ دراصل چاچاجی شروع سے اردو بولتے تھے اور ہم سب اباجی سمیت پنجابی بولتے۔ پنجابی میں چائے والی چھلنی کو پونی کہا جاتا ہے اور آٹے والی چھلنی کو چھاننی۔ چاچا جی کوچائے والی چھلنی درکار تھی، اباجی نے ازراہ مزاح مجھے چھاننی لانے کوکہا اورمیں آٹے والی چھلنی اٹھا لائی۔ سوچتی ہوں اب ایسی محفلیں،ایسی رونقیں اورایسی پیاری نوک جھوک کہاں !

ویراں ہے مے کدہ خم وساغر اداس ہیں 

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

جب بھی چاچا جی اور چچی جان گکھڑ آتے، ہمارا گھر خوشیوں اور رونقوں کی آماجگاہ بنا رہتا۔ اس طرح جب ہمیں گوجرانوالہ جانے کی اجازت ملتی تو ہم دونوں بہنوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ ہوتی۔ ہم تین بہنیں ہیں۔ بڑی باجی سب بہن بھائیوں سے بڑی ہیں،اس لیے ان کی شادی اس وقت تک ہو چکی تھی اور گھر میں ہم دونوں بہنیں ہی تھیں۔ چھوٹی بہن مجھ سے تقریباً تین سال چھوٹی ہے۔ ہم دونوں کی آپس میں بہت زیادہ محبت تھی اور ہرکام میں ساتھ ہوتی تھیں۔ مجھے یاد نہیں کہ ہم دونوں بہنوں میں لڑائی تو دور کی بات، کبھی اختلاف رائے بھی ہوا ہو۔ الحمدللہ اب بھی یہ محبت قائم دائم ہے۔ ہم دونوں اباجی کے ساتھ گوجرانوالہ جاتیں اور کافی دن چچی جان کے پاس گزار کر آتیں۔ چچی جان ہمارا بہت خیال رکھتی تھیں اورہم بھی وہاں بہت خوش رہتیں، بلکہ جب ہم نے واپس آنا ہوتا تو چچی جان ہمیں محلہ میں ہی کپڑے فروخت کرنے والوں کے گھر بھیجتیں اور ہم دونوں اپنی پسند کے کپڑے خر ید کرلاتیں۔ اس وقت ہم بہت چھوٹی ہوا کرتی تھیں۔ چاچا جی کا گھر مدرسہ نصرۃ العلوم سے متصل ہی ہے۔ چاچا جی ہمیں مسجد میں قاری صاحب کے پاس پڑھنے کے لیے بھیجتے کہ پڑھا ہوا بھول نہ جائیں۔ اس دور میں حفظ کے اساتذہ کرام طا لب علموں کی خوب پٹائی کرتے تھے، بلکہ بغیر مار پٹائی کے حفظ کا تصور ہی نہ تھا۔ نہ تو گھر والے اعتراض کرتے، نہ بچے گلے شکوے کرتے، بلکہ ہونہار شاگرد تو استادوں کی مار کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھا کرتے تھے۔ قاری یاسین صاحب نے بچوں کی پٹائی کے لیے ایک چھوٹا سا چابک رکھا ہوا تھا۔ ایک دن ہم دونوں نے جوایک بچے کو چابک پڑتے دیکھا تو درس گاہ سے اٹھ کر یوں بھاگیں کہ گھر آکر سانس لیا۔ چچی جان نے پوچھا کہ واپس کیوںآگئی ہو تو ہم نے کہا کہ قاری صاحب توچھانٹے سے بچوں کو ایسے مارتے ہیں جیسے گھوڑے کومارا جاتا ہے، لہٰذا ہم نے ان سے نہیں پڑھنا۔ چچی جان نے یہ بات چاچاجی کو بتائی تو چاچا جی بہت زیادہ ہنسے۔ 

ہماری دو پھوپھیاں تھیں۔ چھوٹی پھوپھی صاحبہ تو عالم جوانی میں ہماری پیدایش سے بہت پہلے ایک بچی کو چھوڑ کر دنیاے فانی سے رخصت ہوگئیں۔ اس بچی کی پرورش ہمارے ساتھ ہی ہماری بہن کے طورپر ہوئی اور بعدمیں یہ ہماری ممانی بنیں۔ اباجی اور چاچاجی اکثر اپنی اس چھوٹی بہن کو بہت یادکیا کرتے تھے۔ بڑی پھوپھی صاحبہ جو برادر مرحوم سید عالم شاہ کی والدہ تھیں، بہت نیک دل، صاف دل، سادہ مزاج اور محبت کرنے والی خاتون تھیں۔ دونوں بھائی اپنی اس بڑی بہن کو ’’ددے‘‘ کہتے تھے اور ان کی دیکھا دیکھی ہم سب بھی ددے کہتے تھے۔ دونوں ان سے بہت پیارکرتے تھے۔ پھوپھی صاحبہ مانسہرہ سے آگے پہاڑی علاقے میں رہتی تھیں۔ دونوں بھائی اکثر اصرار کر کے ان کو پنجاب بلاتے اور کافی عرصہ اپنے ساتھ رکھتے۔ ہر طرح سے ان کی خدمت خاطر کرتے۔ دونوں امی جان اور چچی جان کی محبت بھی پھوپھی جان کے ساتھ مثالی تھی۔ ہمیں نہیں یاد کہ کبھی ان کے درمیان نند بھاوج والی روایتی چپقلش کبھی معمولی سی بھی ہوئی ہو۔ پھوپھی صاحبہ تینوں بھاوجوں اور ان کے بچوں سے دلی محبت رکھتی تھیں اور تینو ں بھاوجیں بھی دل سے ان کا احترام اوران کی خدمت کرتیں۔ تقریباً دس سال قبل پھوپھی صاحبہ کا انتقال ہو گیا۔ اللہ رب العز ت ہماری دونوں پھوپھیوں کی مغفرت فرمائے ۔ آمین۔

ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں ہمارے پھوپھی زاد بھائی سید عالم شاہ صاحب مرحوم پڑھا کرتے تھے۔ ہم بہن بھائیوں کے ساتھ بہت محبت و شفقت کا برتاؤ کیا کرتے۔ بہت نیک انسان تھے۔ چند سال قبل لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اوران کے درجات کو بلند فرمائے، آمین۔ ایک مرتبہ ہم گوجرانوالہ گئیں توبھائی عالم شاہ ہم دونوں بہنو ں کو بڑی محبت سے اپنے کمرے میں لے گئے۔ گرمی کاموسم تھا اوراس وقت ریفریجریٹر تو ہوتے نہیں تھے، پانی ٹھنڈا کرنے کے لیے مٹی کے گھڑے استعمال ہوتے تھے۔ مدرسہ میں طلبہ اس مقصد کے لیے مٹی کے لوٹا نما کوزے استعمال کرتے تھے، جب کہ ہمارے خیال کے مطابق لوٹوں کا استعمال صرف بیت الخلا میں ہی ہوتاتھا، اگرچہ اب جدید د ور میں لوٹوں کے استعمال میں بھی کافی جدت اور روشن خیالی آ گئی ہے۔ خیر بھائی صاحب نے ہمارے لیے بطور خاص لوٹے میں شربت بنایا۔ ہم دونوں بہنیں پہلے تو ایک دوسرے کے کانوں میں کھسر پھسر کرتی رہیں کہ لوٹے والے شربت پینا پڑے گا اور پھر جو اٹھ کر دوڑ لگائی تو پیچھے مڑ کر نہ دیکھا او ر سیدھے گھر پہنچ کر دم لیا۔ چچی جان نے پوچھا کہ کیا ہوا تو ہم نے بڑی معصومیت سے بھاگنے کی وجہ بتلائی جسے سن کر چاچا جی اور چچی جی کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا۔ اتنے میں دیکھا تو بھائی صاحب بھی شربت کا لوٹا اٹھائے پہنچ گئے اورچاچا جی نے ہمیں سمجھا یاکہ پتر، یہ بیت الخلا والے لوٹے نہیں ہیں، یہ تو پاک صاف لوٹے ہیں جو طالب علم گھڑے کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ کاش آج کے اس پر آشوب دور میں بھی دوچار ایسے پاک صاف لوٹے پیدا ہو جائیں تو شاید ملک وقوم کی تقدیر سنور جائے۔ 

انھی ایام کاایک اور واقعہ یاد آرہا ہے۔ جب ہم دونوں بہنیں گوجرانوالہ جاتیں تو واپسی پر ہماری خواہش ہوتی کہ ٹرین کاسفر کریں جواکثر اباجی کی شفقت سے پوری ہو جاتی۔ ایک مرتبہ ہم اباجی کے ساتھ واپسی کے سفر کے لیے گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن پہنچیں۔ گاڑی لیٹ تھی، اس لیے اباجی ہم دونوں کو ساتھ لے کر ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ چھوٹی بہن مزاج کی بہت سادہ ہے۔ بنچ پر بیٹھے بیٹھے اسے نیند آگئی۔ جیسے ہی گاڑی آئی، اباجی نے اس کو جگایا اور وہ اٹھ کر آنکھیں ملتے ہوئے بولی، گکھڑ آ گیا ہے؟ اباجی اور میں ہنس پڑے۔ اباجی بولے، بنچ پر بیٹھے بیٹھے تو گکھڑ نہیں آئے گا، گاڑی میں بیٹھو گی تو آئے گا۔ 

اباجی کو قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ گہرا شغف اور روزانہ عصر کی نمازکے بعد قرآن پاک کی تلاوت کامعمول تھا۔ قرآن پاک کا بڑا ذوق رکھتے تھے۔ رمضان المبارک میں مسجد میں نماز تراویح میں پورا قرآن پاک سنتے اور پھر سحری کے وقت نفلوں میں بھائی زاہدالراشدی مدظلہ سے پوراقرآن سنتے۔ مجھے بطور سامعہ ان کے پیچھے کھڑا ہونا ہوتا جو نو دس سال کی عمر میں ایک کار دشوارتھا۔ نیند سے آنکھیں نہ کھلتیں اور اس وقت کڑکے کی سردی میں لحاف سے نکلنے کو جی نہ چاہتا، لیکن بھائی جان کاجگانے کا انداز بڑا عجیب تھا۔ کمرے میں آکر آرام سے لحاف ہٹاتے اور مجھے دونوں بازوؤں میں اٹھا کر غسل خانہ میں لے جا کر کھڑاکردیتے اور طوعاوکرہاً وضو کرنا ہی پڑتا۔ اباجی کی بیٹھک میں جماعت ہوتی۔ اگلی صف میں اباجی اور بھائی جان کھڑے ہوتے تھے اور پچھلی صف میں بڑی امی جان اور میں۔ کبھی کبھار ہمسایوں کی بچی جسے قرآن پاک کی تلاوت اور عبادت سے بفضل خدا بہت لگاؤ تھا، وہ بھی ہمارے ساتھ کھڑ ی ہو جاتی۔ کچھ عرصہ قبل جوانی میں ہی اللہ کوپیاری ہوگئی۔ اللہ مرحومہ کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔ ہرچند کہ اباجی حافظ قرآن نہ تھے، لیکن تلاوت میں اتنی روانی تھی کہ زیر زبر کی غلطی بھی فوراً پکڑ لیتے اور مجھے نیند کے جھونکوں کے باوجود پوری توجہ سے سننا پڑتا، ورنہ سلام پھیرتے ہی ڈانٹ پڑ جاتی۔ بھائی جان کی پڑھنے کی رفتا ر پر بھی اباجی کا مکمل کنٹرول ہوتا۔ رفتار تیز ہوتی تو ’’کی ڈاک گڈی چلائی ہوئی اے‘‘ اور رفتار آہستہ ہوتی تو ’’مال گڈی نہ بن‘‘ جیسے جملے بھائی جان کو رفتار اعتدال پر رکھنے پر مجبور کر دیتے۔ بھائی جان کو ان دنوں عادت پڑی ہوئی تھی کہ شاید ناک بند ہو جانے کی وجہ سے تھوڑی دیر بعد منہ سے ’’کھوں‘‘ کی آواز نکالتے۔ اگر کبھی بھولے سے نماز میں آواز نکال بیٹھتے تو سلام پھیرتے ہی سرزنش ہو جاتی۔ اباجی فرماتے ’’کی کھوں کھوں لائی اے!‘‘ جتنا پارہ بھائی جان نے رات کو سنانا ہوتا، دن کو ہم دونوں بہن بھائی اس کا دور کرتے اور اگر کسی وقت میری منزل یاد نہ ہوتی تومغرب کے بعد بھائی جان مجھ سے دوبار ہ سنتے۔ بھائی جان کو منزل ماشاء اللہ بہت اچھی طرح یاد تھی۔ تقریباً آٹھ نوسال میں نے بھائی جان کے ساتھ دور کیا۔ 

قرآن پاک کی تلاوت کا ذوق دونوں امی جان کا بھی الحمدللہ بہت اچھا تھا۔ دونو ں نے سادہ قرآن پاک پڑھا ہوا تھا۔ جب ہم مسجد سے پڑ ھ کر گھرآتے تو امی جان ہم سے تلفظ ٹھیک کیا کرتیں۔ یہی وجہ تھی کہ الحمدللہ قرآن پاک بہت اچھا پڑھنے لگی تھیں۔ ہم بہن بھائیوں میں سے جس کا بھی قرآن پاک ختم ہوتا، اباجی اور دونوں امی جان کی خوشی دیکھنے کے لائق ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرا قرآن پاک ختم ہوا تو میری عمر دس سال تھی۔ آخری سبق مسجد میں نماز جمعہ کے بعد سنانا ہوتا۔ یہ سب بچوں کے لیے معمول تھا۔ جب میں سبق سنانے کے لیے مسجد کے ہال میں گئی تو اباجی نے اعلان کیا، ’’ایہہ فقیر دی بیٹی اے۔ الحمدللہ اج ایہدا قرآن پاک حفظ مکمل ہوگیا اے۔ ایہہ آخری سبق سنائے گی۔‘‘ جب مجھے مائیک کے آگے کھڑا کیا گیاتو مائیک میرے لحاظ سے اونچا تھا۔ میرے مہربان ومشفق استاد محترم جنا ب قاری محمد انور صاحب نے مجھے اٹھا کر منبر پر کھڑا کر دیا اور اسپیکر لا کر میرے آگے رکھ دیا۔ جب میں نے آخری سبق سنا یا تو سب لوگ میرے استاد محترم کو اور میرے اباجی کو مبارک باد دینے لگے۔ اس وقت دونوں کی خوشی قابل دید تھی۔ حفظ کی تکمیل کے ساتھ ہی اباجی نے مجھے کتب کے اسباق شروع کروا دیے جن میں میزان الصرف، القراء ۃ الراشدہ، روضۃ الادب اور ترجمہ قرآن پاک سرفہرست تھے۔ صبح کاوقت منزل یادکرنے اور سنانے کے لیے مختص تھا او ر ظہر کے بعد اباجی سے مذکورہ اسباق پڑھتی۔ میرے ساتھ ماسٹر منیر شاہ صاحب کی بچی بھی پڑھا کرتی تھی۔ وہ بھی قرآن پاک کی حافظہ تھی۔ اباجی نے سب بہن بھائیوں کی تعلیم پر بہت توجہ اور بہت محنت کی، لیکن میں سمجھتی ہوں کہ میری تعلیم پر اباجی کی سب سے زیادہ اور خاص توجہ تھی۔ 

جب میں نے پرائمری پاس کرلی تو گھروالوں کی خواہش تھی کہ میں اسکول کی تعلیم آگے بھی جاری رکھوں۔ چاچا جی کا مشورہ بھی یہی تھا۔ چونکہ منزل یاد کرکے آخری امتحان سے فارغ ہو چکی تھی، اس لیے صبح کا وقت فارغ ہوتا تھا۔ اباجی نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری کیا مرضی ہے؟ میں خاموش رہی اور سچ پوچھیں تو میرا پنا دل بھی اسکول کی تعلیم کے لیے نہیں مانتا تھا۔ اباجی فرمانے لگے، ’’پترمیر ی مرضی ایہہ اے کہ توں قاری کلاس شروع کرلے‘‘ اور یوں میری تجوید کی تعلیم کا آغاز ہو ا جو میں نے اور ماسٹر منیر شاہ کی بیٹی نے بفضل خدا تین سال کے عرصہ میں مکمل کر لی۔ مدرسہ میں قاری کلاس میں صرف لڑکے ہی پڑھتے تھے،ا س لیے اباجی نے یہ انتظام فرمادیا کہ صبح تقریباً ساڑھے نو بجے استاذالقراء جنا ب قاری عبدالحلیم صاحب گھر تشریف لے آتے اور اباجی کی بیٹھک میں ہم پڑھا کرتیں۔ ہمارے ساتھ بھائی ماجد، جوان دنوں حفظ کر رہے تھے، اباجی نے ان کی ڈیوٹی لگائی۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھا کرتے اور سبقی پارہ یاد کرتے اور قاری صاحب کوسناتے۔ الحمدللہ، ہم نے قاری صاحب سے مشق بھی کی، پورا قرآن پاک حدر میں سنایا اور تجوید کی کتب بھی پڑھیں۔ ہمارا تجویدکا امتحان استاذ القراء جناب قاری حسن شاہ صاحبؒ نے لیا۔ 

میری تعلیم کے دوران اباجی کے پاس جب بھی کوئی بزرگ ہستی تشریف لاتیں تو مجھے بطور خاص ان سے ملواتے، میرے لیے ان سے خصوصی دعا کرواتے اور ان سے میرا امتحان دلواتے۔ ان بزرگوں میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، حضرت مولانا عبداللہ درخواستیؒ ، حضرت مولانا عبیداللہ انور ؒ اور انڈیا سے آئے ہوئے بعض علماے کرام جن کے نام مجھے یاد نہیں، نمایاں ہیں۔ مجھے ان بزرگوں کو ترجمہ قرآن پاک، ریاض الصالحین وغیرہ سنانے اور ان کی دعاؤں سے فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل ہے۔ پھر تیرہ سال سے میرا پردہ کر ایا گیا۔ اللہ تعالیٰ اس پر قائم ودائم رکھے، آمین۔ میرا قاری کلاس کا کورس تو مکمل ہو گیا لیکن اباجی کے پاس کچھ کتب کے اسباق جاری تھے۔ انہی دنوں چاچا جی نے مدرسہ نصرۃالعلوم کے ایک شعبے کے طور پر عصری اور دینی تعلیم کے لیے تعلیم نسواں کے نام سے اسکول شرو ع کیا تو چاچا جی کی خواہش پر اباجی نے مجھے گوجرانوالہ بھیج دیا جہاں میں نے عرصہ دوسال تک تعلیم نسواں اسکول میں پڑھا یا بھی اور چاچا جی کے پاس پڑھا بھی۔ یہ دو سال کاعر صہ میری زندگی کا یادگار زمانہ ہے۔ چاچا جی، چچی جان اور بچوں کے ساتھ الحمدللہ بہت اچھا وقت گزرا۔ ان دنوں حاجی صاحب یعنی برادر عزیز محمد فیاض تقریباً چارسال کے تھے۔ ان سے بڑی بہن جنہیں ہم پیار سے ’’منی‘‘ کہتے تھے، چھ سال کی اور برادر عزیز حافظ محمد ریاض دوسال کے تھے۔ ان سے چھوٹی بہن ان دنوں پیدا ہوئی تھی اور میری وہاں رہایش کے دوران مجھ سے بہت مانوس ہو گئی تھی اور زیادہ تر میرے پاس ہی رہتی تھی۔ بڑے تینوں بہن بھائی بھی میرے ساتھ بہت مانو س تھے، بلکہ ہم مل جل کر شرارتیں کرتے اور چچی جان کو خوب تنگ کیاکرتے۔ کھانے پینے کی چیزیں ہمارے حملے سے کسی صورت میں نہ بچ پاتیں، بلکہ مہمان داری کے لیے رکھے ہوئے بسکٹ وغیرہ بھی ہم نہ چھوڑتے۔ چچی جان جہاں بھی چھپا کر رکھتیں، ہم تینوں ماہر جاسوسوں کی طرح کسی نہ کسی طرح ڈھونڈ نکالتے اور اوپر والے کمرے میں، جسے چوبارہ کہتے تھے اورجو ہمارا مخصوص ٹھکانہ ہوتا تھا، پہنچ جاتے۔ پھر ہم ہوتے اور بسکٹ جو بہت مزے سے اڑائے جاتے۔ 

چچی جان سالن بنا رہی ہوتیں تو ہم بہانے بہانے سے جھانک کر دیکھتے۔ اگر گوشت ہوتا تو پھر تاک میں رہتے۔ جیسے ہی ہنڈیا بھونتے ہوئے چچی جان کسی کام سے ادھر ادھر ہوتیں، ہم فوراً پلیٹ میں بوٹیاں ڈالتے اور چوبارے میں غائب ہو جاتے۔ چچی جان آ کر سالن کی صورت حال دیکھتی تو پکارتیں، ’’اج فیر بلیاں پے گئیاں نیں‘‘، اور چاچا جی اندر بیٹھک میں ہماری شرارتیں سن کر مسکراتے رہتے۔ کبھی چاچاجی نے یا چچی جان نے ڈانٹ ڈپٹ نہ کی، نہ کبھی بے جا روک ٹوک کی اور نہ کبھی ناراض ہوئے یا غصہ کیا۔ ہم کچھ زیادہ ہ تنگ کرتے تو چچی جان ہمیں ڈراتیں کہ ’’میں جا کے بیٹھک وچ تہاڈی شکایت لانی آں‘‘ اور شکایت بھی نہ کرتیں۔ ہم نے بالکل سہیلیوں کی طرح وقت گزارا۔ وہ عمر ایسی تھی کہ مزاج میں لاابالی پن تھا۔ کبھی موڈ ہوا تو کام کرلیااور نہ ہوا تو اللہ اللہ خیر صلا۔ لیکن چچی جان نے مجھے کبھی نہیں جتایا، بلکہ ناشتہ، کھاناہر چیز اپنے بچوں کی طرح سب کو اکٹھے بٹھا کر کھلاتیں۔ دو سال کے عرصہ میں کبھی مجھے یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں چچی جان کے گھر ہوں۔ میں گھر کے باقی کام تو مرضی او ر موڈ سے کرتی تھی، لیکن چاچا جی کے کپڑے بہت شوق اور لگن سے استری کیا کرتی تھی اور چاچا جی کو میرے استری کیے ہوئے کپڑے بہت پسند آتے تھے۔الحمدللہ دو سال تک مجھے ان کے کپڑے استری کرنے کی سعادت حاصل رہی جسے میں اپنے لیے بڑے اعزاز کی بات سمجھتی ہوں۔

دوسال کے اس عرصے میں، میں نے چاچا جی سے مختلف کتابیں بھی پڑھی ہیں جن میں کافیہ، نورالایضاح اور مشکوٰۃ شریف نمایاں ہیں۔ اباجی کی طرح چاچاجی کا پڑھانے کا انداز بھی بڑا دلنشین تھا۔ چاچاجی اپنے بیڈ پر سرہانے کی طرف تشریف فرما ہوتے،میں پائنتی کی طرف ہوتی، درمیان میں تپائی رکھی ہوتی جس پر کتاب کھلی ہوئی رکھی ہوتی۔ میں عبارت پڑھتی، ترجمہ سناتی، جہاں غلطی ہوتی، چاچا جی اصلاح فرماتے اور پھر آنکھیں بندکر کے تشریح فرمانا شروع کر دیتے اور میں چاچا جی کے چہرے کی طرف دیکھتی رہتی اور چاچا جی جوکچھ سمجھا رہے ہوتے، اسے ذہن میں محفوظ کرتی رہتی۔ 

دونوں شفیق ہستیوں، اباجی اور چاچا جی کی نوک جھوک سے بھی محظوظ ہوا کرتی جو یہاں بھی جاری رہتی۔ اباجی کامعمول تھا کہ روزانہ صبح جب نصرۃ العلوم پہنچتے تو پہلے سیدھے چاچا جی کے گھر تشریف لے جاتے، وضو کرتے اور پھر چند منٹ چاچاجی کے ساتھ گزار کر درس گاہ میں تشریف لے جاتے۔ اسی طرح اسباق سے فارغ ہوتے تو بھی پہلے گھر جاتے، معمولات سے فارغ ہونے کے بعد اگر چاچا جی اندرہوتے تو کچھ دیران کے پاس بیٹھتے۔ کچھ باہمی مشورے وغیرہ کرنے ہوتے تووہ کرتے، پھر واپس گکھڑ تشریف لے جاتے ۔ اس اثنا میں ہنسی ،مذاق اور نوک جھوک بھی چلتی رہتی۔ مجھے چاچا جی کی ایک بات بہت مزہ دیتی تھی۔ جب اباجی کوئی بات کرتے تو چاچا جی جواب میں کوئی مزاحیہ سی بات کہہ دیتے، لیکن ساتھ ہی فوراً کتاب بغل میں د باکر مدرسہ کی راہ لیتے اور یقیناایسا ازراہ احترام ہوتا کہ چاچا جی، اباجی کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے۔ چاچا جی کایہ انداز بالکل ایسا ہوتا جیسے بچہ اپنے کسی بڑے کے سامنے بات کرتا ہے۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ ایک طالبہ نے مجھے پلاسٹک کا بناہوا ایک سانپ دیا جو دیکھنے میں بالکل اصلی لگتا تھا۔ برادر عزیز حاجی فیاض اورمنی اکثر اس سے کھیلتے رہتے۔ چاچاجی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گئے تو ان کی عدم موجودگی میں بچوں نے شرارت سے وہ سانپ ان کے بستر پر رکھ دیا ۔ چاچا جی مسجد سے واپس آئے اور جوں ہی بستر پر بیٹھنے لگے، اچانک سانپ پر نظر پڑی۔ اچھل کرکھڑے ہوگئے اور آواز دی ’’منیے! سوٹا لے کے آ، سپ مارنا ایں‘‘۔ ہم تینوں جو صورت حال معلوم کرنے کے لیے باہر ہی کھڑے تھے، ہنسنے لگے توچاچاجی سمجھ گئے کہ یہ ان کی شرارت ہے۔ سو تھوڑی ڈانٹ ڈپٹ ہمیں ہوئی کہ ’’اے شیطانی شے تساں کتھوں لے آندی اے۔‘‘ اگلی صبح جب اباجی گکھڑ سے تشریف لائے اور حسب معمول بیٹھک میں آکر اپنے بوٹ اتارے اور وضو والے چپل پہن کر وضو کے لیے غسل خانہ میں گئے تو چاچا جی نے چپکے سے وہ سانپ اباجی کے بوٹ میں رکھ دیا اور سرجھکا کر کتاب کے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔ جیسے ہی اباجی وضوکرکے واپس آئے اور پاؤں خشک کرکے بوٹ پہننے لگے تو سانپ دیکھتے ہی پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی اورساتھ ہی آواز دی ’’کڑیو، جلدی ڈنڈا پھڑاؤ۔ بڑا موذی سپ اے۔‘‘ چاچا جی جلدی جلدی اپنی چیزیں سمیٹ کر مدرسہ جانے کے لیے تیار ہونے لگے اور ساتھ ہی اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ ادھر باہر سے ہمارے ہنسنے کی دبی دبی آواز یں سنیں تو اباجی فوراً معاملہ کی تہہ تک پہنچ گئے اور بولے، ’’ایہہ صوفی دی شرارت اے‘‘، اور چاچا جی اتنی دیر میں مدرسے کا دروازہ پار کر چکے تھے۔ اباجی او رساتھ ہم لوگ بھی بہت دیر تک ہنستے رہے۔

الغرض وہ وقت جومیں نے چاچا جی اور چچی جان اور بچو ں کے ساتھ گزارا، میرے لیے ہر لحاظ سے قیمتی اور یادگار ہے۔ شادی کے بعد بھی سب سے محبت اور بے تکلفی کارشتہ اس طرح قائم ہے۔ رب کریم تاحیات یوں قائم رکھیں۔ آمین۔ 

دونوں بھائیوں میں انتہا درجہ کی محبت تھی۔ جب دونوں بھائی بیمار ہوئے تو بیماری کے ہاتھوں اس قدر لاچار ہوگئے کہ ایک دوسرے کے لیے ترس جاتے۔ اس عالم میں دونوں کی تڑپ قابل دید تھی۔ گکھڑ سے کوئی بھی آتا تو چاچاجی کے لبوں پر سوال ہوتا، ’’بھائی صاحب دا حال کیہ اے؟‘‘۔ اگر گوجرانوالہ سے کوئی بھی جاتا تو اباجی بے قراری سے دریافت فرماتے، ’’صوفی دا کیہ حال اے؟‘‘۔ وقتاً فوقتاً ایک دوسرے سے فون پر خیریت معلوم کرتے۔ آخری ایام میں مسلسل بیماری اور ضعف کی وجہ سے چاچا جی نے کھانا پینا چھوڑدیا۔ بہت اصرار سے اور تقریباً زبردستی کھلانا پڑتا توچچی جان کہتیں کہ گکھڑ فون کر کے بھائی صاحب کو بتاتے ہیں کہ یہ کچھ کھا پی نہیں رہے، توچاچا جی فوراً بول پڑتے، ’’ناں، ناں، بھائی صاحب نوں فون ناں کریں، اوہ پریشان ہو جان گے۔‘‘ دونوں میں سے جس کی بھی طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو یہی کوشش ہوتی کہ دوسرے بھائی کوعلم نہ ہوکہ انہیں پریشانی ہو گی۔ 

جب چاچا جی کا انتقال ہوا تو اباجی کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی۔ بھتیجوں کو گلے لگا کر اس طرح روئے کہ سب کو رلا دیا۔ میں گوجرانوالہ سے تیسرے دن گکھڑ آگئی اور رات کو اباجی کے پاس بیٹھی چاچا جی کی باتیں کرتی رہی۔ میں نے اباجی سے پوچھا کہ ابا جی! کبھی زندگی میں آپ دونوں بھائیوں کی لڑائی یا کوئی ناراضگی بھی ہوئی؟ فرمانے لگے، نہیں، کبھی نہیں ہوئی۔ پھرکافی دیر روتے رہے۔ پھر فرمانے لگے، صوفی میری بڑی عزت کردا سی۔ میری ہرگل من لیندا سی۔ ساڈے درمیان کدی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہویا۔ بیماری کے عالم میں بھی دونوں بھائیوں کی خوش طبعی عروج پر رہی۔ گکھڑ جاتی تووہاں اباجی کی بیٹھک میں خوب رونق لگی ہوتی۔ محفل آ باد ہوتی۔ کسی سے نعت سن رہے ہیں، کسی سے کتاب اور کسی سے قرآن پاک کی آیات، اور گوجرانوالہ جاتی تو چاچاجی کی بیٹھک کشت زعفران کا منظر پیش کر رہی ہوتی۔ 

ہم نے چونکہ اپنے دادا دادی کو نہیں دیکھا، اس لیے میرے دل میں ہمیشہ یہ حسرت رہی ہے کہ کم ازکم اتنا علم تو ہو جائے کہ وہ ہستیاں کیسی تھیں۔ میں اکثر ا باجی اور چاچا جی سے ان کے بارے میں پوچھتی رہتی تھی۔ اب افسوس ہوتاہے کہ کاش وہ قیمتی گفتگو ریکارڈ کر لیتی تو کتنا اچھاہوتا۔ میں نے ایک دن اباجی سے پوچھاکہ آپ کواپنی حقیقی والدہ کی صورت یاد ہے؟ توچھوٹی بہن کی دوسرے نمبر کی بیٹی کی طرف دیکھ کر فرمانے لگے کہ اس کی مشابہت کسی حد تک ان کے ساتھ ہے۔ وہ اباجی ؒ کے لیے چائے اور بسکٹ لائی اور کھلانے لگی تو اباجی ہنس کر فرمانے لگے، یہ میری اماں ہے، مجھے بچوں کی طرح کھلاتی ہے۔ ہم دونوں بھی ہنسنے لگیں۔ 

گزشتہ سال گکھڑ گئی۔ اباجی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ کچھ لوگ ملاقات کے لیے آگئے۔ سو مجھے اٹھ کر اندر جانا پڑا۔ سب سے چھوٹا بھائی حافظ راشد سلمہ مہمانوں کے ساتھ تھا۔ تھوڑی دیر بعد باہر آیا توہنس رہا تھا۔ میں نے پوچھا، کیا با ت ہے؟ کہنے لگا کہ اندر جو مہمان آئے ہیں، وہ حکومت میں اونچے عہدے پر فائز ہیں۔ اباجی سے کہنے لگے کہ حضرت، میرا ایک ساتھی ہے جو عیسائی ہے۔ وہ کہتاہے کہ شیطان کے بارے میں تقریباً ہر مذہب والے مانتے ہیں کہ وہ انسانوں کو بدی پرمائل کرتا ہے اور گمراہ کرتا ہے، تو ہمارے پاس تو شیطان سے بچاؤ کے لیے خدا کا بیٹا ہے (نعوذ باللہ من ذالک)، تمہارے پاس کیا ہے؟ اباجی نے فوراً جواب دیا: ’’اونہوں آکھو تہاڈے کول پتر اے تے ساڈے کول پیو اے۔‘‘ (اسے کہیں کہ تمہارے پاس بیٹاہے تو ہمارے پاس باپ ہے)۔

یہی حا ل چاچا جی کابھی تھا۔ جب میں گوجرانوالہ جاتی، چاچا جی کے کمرے میں رونق لگی ہوتی۔ بالخصوص رات کو سب ان کے کمرے میں جمع ہو جاتے اور چاچا جی سے باتیں ہوتیں۔ ہنسی مزاح بھی چلتا رہتا۔ خصوصاً چاچا جی اور چچی جان کی نوک جھوک بڑی دلچسپ ہوتی۔ چچی جان کومذاق میں ’’میری بے غم‘‘ کہا کرتے تھے۔ میں چاچا جی کے پا س بیٹھی ہوئی تھی اور میرے ساتھ ہی چچی جان بھی تھیں۔ مجھے کہنے لگے ’’ا یہہ تیرے کول کون بیٹھا اے؟‘‘ میں نے کہا، ’’ایہہ تہاڈی بے غم صاحبہ نیں۔‘‘ تھوڑا سا مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ’’اچھا، ایہہ ساڈی بے غم اے، پر سانوں تے نہیں پچھدے بھالدے۔‘‘ چچی جان کہنے لگیں، ’’میں ناراض ہوگئی آں، میں تہاڈے کمرے وچ نہیں آنا۔‘‘ میں نے کہا، ’’چاچا جی! تہاڈی بے غم تے ناراض ہوگئے نیں۔ ہن کیہ کروگے؟‘‘ پہلے تو کھل کے ہنسے، پھربولے ’’کوئی گل نیں، کچھ خوشامد وشامد کرکے راضی کر لاں گے۔ ‘‘

غرض ہم رات دو بجے تک بیٹھے رہے اور کسی کا بھی اٹھ کر جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ آخر ی ایام میں چاچا جی کچھ عرصہ کے لیے بالکل خاموش ہوگئے تھے۔ نہ کسی کو پہچانتے تھے اورنہ بات کرتے تھے۔ ان دنو ں میں گوجرانوالہ آئی تو چاچا جی کو اس حالت میں دیکھ کر لگا کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ میں چند منٹ بھی ان کے پاس نہ ٹھہر سکی۔ ہرنماز کے بعد، ہر درس میں اباجی اور چاچا جی کے لیے دعاکرتی رہی، لیکن جواللہ کاحکم ہو وہی ہوتاہے۔ علم وحکمت کے یہ دونوں آفتا ب تقریباً نصف صدی سے زیادہ عرصے تک مسند حدیث کورونق بخش کر، ایک عالم میں اپنے علم وفکر کی کرنیں بکھیر کر، اپنی حقیقی اور روحانی اولاد کویتیم کرکے اس جہان فانی سے رخصت ہو کر عازم خلد مکانی ہوگئے، اناللہ واناالیہ راجعون۔ ؂

ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے 

کوئی کہاں سے ہماری مثال لائے گا

اباجی اور چاچاجی اس لحاظ سے بہت خوش قسمت تھے کہ اللہ رب العزت نے ان کو رفیقہ حیات بہت ہی اچھی عطا کیں۔ دونوں امی جان نے اباجی کی خدمت کی خاطر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم چھوٹے تھے تو یہی دیکھتے آئے کہ دونوں کے پیش نظر ہمہ وقت اباجی کی ذات ہی ہوتی۔ ان کے آرام کا خیال، ان کے کھانے پینے کے اوقات کا دھیان، ان کی صحت کی فکر۔ ہم نے بہت کم ایسا دیکھا ہے کہ کسی بیوی نے اپنے شوہر کا کبھی اتنا خیا ل رکھا ہو جتنا ہماری دونوں امی جان رکھا کرتی تھیں۔ اباجی کی نیند کچی تھی۔ ہلکی سی آہٹ پر بھی آنکھ کھل جاتی اور پھر نیند نہ آتی تو دونوں امی جان نہ صرف یہ کہ ہم بہن بھائیوں پر کڑی نظر رکھتیں کہ اباجی جب تک سوئے ہوئے ہیں، اونچی آواز میں بات کرنے کی بھی اجازت نہ ہوتی بلکہ ہمارے گھر کے صحن میں درخت لگے ہوئے تھے اور چڑیاں کوے وغیرہ بہت ہوتے اور شور کرتے، لیکن جس وقت اباجی سو رہے ہوتے تو دونوں امی جان باری باری پرندوں کواڑانے کی ڈیوٹی انجام دیتیں اور مجال ہے کہ کوئی پرندہ پر بھی مار جاتا۔ 

اباجی کی زندگی بڑی منظم تھی۔ ناشتہ، کھانا، چائے، اور سونا جاگنا مقررہ وقت پر ہوتا تھا اور الحمدللہ دونوں امی جان نے اباجی کے ہر معمول اور اس کے وقت کا پورا پورا خیال رکھا۔ مہمان داری اتنی تھی کہ ہر وقت ناشتے اور کھانے میں چار پانچ مہمان تو معمول کی بات تھی اور کبھی یہ تعداد دگنی چگنی بھی ہو جاتی، لیکن انتہائی خندہ پیشانی سے اباجی کے مہمانوں کی خدمت خاطر کرتیں۔ اباجی کے لیے ہمیشہ الگ پرہیزی سالن بنتا۔ چونکہ اباجی دل کے مریض تھے تو اس تکلیف کے لیے خمیرہ گاؤزبان استعمال کیا کرتے تھے اور یہ خمیرہ اباجی کے لیے دونوں امی جان گھر میں تیار کرتی تھیں۔ تانبے کے بڑے سے قلعی شدہ دیگچے میں دوائیاں پکاتیں، پھر ان میں شہد ملا کر ان کو گھوٹا جاتا جو کافی مشقت طلب کام تھا اور ہم بچے بھی اس کارخیرمیں بخوشی حصہ لیتے تھے۔ خمیرہ تیار ہونے کے بعد مرتبان میں ڈالا جاتا اور پھر دیگچہ چاٹنے کا جو مزہ آتا، اس کا ذائقہ زبان آج تک نہیں بھول پائی۔ مغرب کی اذان سے پہلے جب اباجی خمیرہ کھاتے تو ہم بہن بھائیوں میں سے جو بھی پاس ہوتا، تھوڑا سا اسے بھی چکھایا کرتے، اس ڈر سے کہ یہ زیادہ کھانے سے نقصان دیتا ہے۔ 

چچی جان نے بھی چاچا جی کی خدمت میں الحمدللہ کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ ان کے آرام، ان کی خوراک، ان کی صحت، پرہیزی کھانا، غرض ہر بات کا بھرپور خیال رکھا۔ خصوصاً چاچا جی کی زندگی کے آخری چند سال جو شدید بیماری میں گزرے، حقیقتاً چچی جان کے لیے بہت بڑی آزمایش تھی اور الحمدللہ چچی جان نے یہ کڑی آزمایش کا وقت بڑے حوصلے اور صبر سے گزارا۔ بچوں نے بھی ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیااور صحیح معنوں میں چاچا جی کی خدمت میں رات دن ایک کر دیا۔ 

دونوں امی جان کی وفات کے بعد چھوٹے بھائیوں اور بھابھیوں نے وقتاً فوقتاً حسب استطاعت اباجی کی بڑی خدمت کی۔ اسی طرح بھتیجوں نے خصوصاًعزیزان حافظ احسن خدامی، حافظ حمزہ احسانی نے اس خدمت میں خوب دل سے حصہ لیا، لیکن چھوٹی بہن اوراس کی بچیوں نے اور چھوٹے بھائی حافظ راشد اوراس کی بیوی نے توماشاء اللہ خدمت کا حق ادا کر دیا، بلکہ میں اگریہ کہوں کہ ان سب نے ہم سب بہن بھائیوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر دیا تویہ بے جا نہ ہوگا۔ ہم سب ان کے لیے تہہ دل سے دعا گوہیں کہ اللہ رب العزت ان کی شبانہ روز محنت اور خدمت کو قبول فرمائیں اور دو جہاں کی عزت، کامیابی عطا فرمائیں۔ آمین۔ 

اگرچہ باقی سب اپنی تدریسی مصروفیات کی وجہ سے باضابطہ خدمت کاحق تو ادا نہ کرسکے لیکن اباجی اور چاچاجی کے مشن کے لحاظ سے خدمت میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہا۔ جب اباجی شدیدبیماری کی وجہ سے نصرت العلوم میں تدریسی خدمات انجام دینے سے قاصر ہو گئے تو اللہ کے فضل وکرم سے بھائی جان زاہدالراشدی نے آگے بڑھ کر بحیثیت شیخ الحدیث اور بھائی جان قارن نے بحیثیت استاد الحدیث ان خدمات کی ذمہ داری بخوبی اٹھا لی۔ اسی طرح جب اباجی مرکزی جامع مسجد گکھڑ میں بوجہ ضعف اور بیماری خطابت کی ذمہ داری انجام نہ دے سکے تو برادر عزیز قاری حمادالزہراوی نے یہ ذمہ داری سنبھال لی۔ برادر عزیر قاری عزیز الرحمن خان شاہد جب تک پاکستان میں رہے، اباجی کی خدمت کا فریضہ سرانجام د یتے رہے اور تدریسی خدمات بھی الحمدللہ بہت اچھے طریقے سے ادا کرتے رہے۔ پھر جب بحکم خداوندی اہل وعیال سمیت سعودیہ چلے گئے تو وہاں بھی بفضل خدا اباجی کے مشن کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ جدہ میں ایک مسجد میں امامت کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ایک مدرسہ میں حفظ قرآن پاک کی تدریس بھی کرتے ہیں۔ ماشاء اللہ بڑی خوبصورت قراءت کرتے ہیں۔ اللہم زد فزد۔ باقی بھائی اور بہنیں بھی حسب استطاعت واستعداد اباجی کے مشن کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ اسی طرح چاچا جی کی ذمہ داریاں بھی الحمدللہ ان کے بچوں نے ان کی حیات ہی میں بہت احسن طریقے سے سبنھال لیں۔ برادرعزیز حاجی محمد فیاض سواتی بحیثیت مہتمم مدرسہ نصرۃ العلوم کی تمام ذمہ داریاں اور ساتھ تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ا ن کی اہلیہ جو ہماری بھتیجی ہیں، شعبہ طالبات کی صدر معلمہ کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ گزشتہ سال میں نصرۃ العلوم سے متصل ہی طالبات کی دینی تعلیم کے لیے بھی ایک خوب صورت عمار ت تعمیر کی گئی ہے جس میں مختلف شعبوں میں بچیوں کی دینی تعلیم کا سلسلہ جاری ہے اور محدود رہایشی داخلے کا انتظام بھی ہے، فالحمدللہ علیٰ ذلک۔برادر عزیز حافظ محمد ریاض خان سواتی بحیثیت ناظم انتظامی امور میں حاجی صاحب کے معاون کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی اہلیہ جومحترمہ چچی جا ن کی بھانجی ہیں، شعبہ طالبات میں بطور معلمہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ برادر عزیز حافظ محمدعرباض خان سواتی جو ناچیز کے دامادبھی ہیں، تدریس کے ساتھ ساتھ ناظم امتحانات کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی اہلیہ، جو ناچیز کی بیٹی ہے، شعبہ طالبات میں بطور معلمہ خدمت انجام دے رہی ہے۔ 

الحمدللہ جامعہ نصرۃ العلوم اللہ پاک کے خصوصی فضل وکرم سے اور دونوں بھائیوں کے لائق، باصلاحیت اورمحنتی بیٹوں کے باہمی تعاون سے دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہا ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت ترقی وکامرانی کی راہوں پر یوں ہی گامز ن اور رواں دواں رہے گا، کیوں کہ اس کی بنیادوں میں اسلاف واکابر اور بزرگوں کا خون جگر شامل ہے، اس کی کامیابی میں صاحب استعداد اور مخلص اساتذہ کرام کی شبانہ روز محنت شامل ہے اور اس کی ترقی میں لاکھوں صاحب ایمان واخلاص ہمدرد ومہربان ساتھیوں کی دعائیں اور ان کا مخلصانہ تعاون شامل ہے جنہوں نے اس جامعہ سے کسی نہ کسی نسبت سے فیض حاصل کیا اور جو صدق دل سے جامعہ اور منتظمین کے خیر خواہ ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہرلائق شاگر داور مخلص معتقد کافریضہ ہے کہ اپنے مادرعلمی، اپنے اساتذہ کرام اوراپنے مرشدین کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق قائم رکھے، اپنامخلصانہ تعاون جاری رکھے اور اپنی دعاؤں میںیاد رکھے، کہ ہم توبحمداللہ بزرگوں کے جاری کردہ فیض سے تاحیات مستفیض ہوتے رہیں گے، لیکن ہماری طرف سے ان کی شبانہ روز محنتوں کا حق ادا کرنے کاطریقہ یہی ہے کہ ان کے بعد ان کے لگائے ہوئے چمن کی حسب توفیق وحسب استطاعت آبیاری کرتے رہیں۔

اباجی تقریباً آٹھ نو سال بیمار رہے اور میں وقتاً فوقتاً، چاہے گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے لیے سہی، زیارت کے لیے چلی جاتی۔ ۲۰۰۳ ء میں جب رضاے الٰہی سے مختلف بیماریاں مجھ پر حملہ آور ہوئیں جن میں میجر آپریشن اور ہیپاٹائٹس سی سرفہرست ہیں توکچھ عرصہ میرا جانا موقوف رہا۔ میری کوشش تھی کہ اباجی کومیری بیماری کے بارے میں نہ بتایا جائے، لیکن ان کو خبر ہوگئی۔ ان دنوں اباجی کی یادداشت بھی فالج کے حملہ سے کچھ متاثر تھی۔ ایک دن چھوٹے بھائی حافظ راشدکا فون آیا۔ مجھے کہنے لگا کہ باجی، آپ کسی طرح ہمت کر کے تھوڑی دیر کے لیے ہی آجائیں۔ اباجی کو آپ کی بیماری کا علم ہو گیا ہے اور اب وہ عیادت کے لیے ہر شخص سے، چاہے وہ پشاور سے آیا ہو یا پنڈی سے یا کہیں سے بھی، یہی پوچھتے ہیں کہ جہلم گئے تھے؟ بیٹی کا کیا حال ہے؟ میں دوسرے دن ہی بیٹے کے ساتھ گکھڑ چلی گئی۔ اباجی سے ملی تو اباجی نے فوراً پہچان لیا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پہلی بات تو یہ پوچھی کہ اب ٹھیک ہو؟ دوائی کھاتی ہو، کھانا کھا لیتی ہو، ہضم ہو جاتا ہے؟ ایسے ہی سوال میرے چھوٹے بیٹے سے ہوتے تھے جو اپنے اندر محبتوں کاایک جہان لیے ہوئے ہوتے۔ آج ان سوالوں اور ان محبتوں کو سوچتی ہوں تو دل درد کی شدت سے پارہ پارہ ہوتا محسو س ہوتا ہے۔ 

اللہ رب العزت نے مجھے گزشتہ سال حج بیت اللہ کی سعادت بخشی۔ بڑا بیٹا اور دوسرے نمبر والی بیٹی بھی میرے ہمراہ تھی۔ روانگی سے قبل میں اباجی سے ملنے گئی۔ بہت ہی زیادہ خوش ہوئے۔ میں نے ان سے کچھ مسائل پوچھے اور کچھ اباجی نے از خود بتائے۔ پھر حج کا فریضہ انجام دینے کے بعد جب میں واپس آئی تو مہمانوں کی آمد ورفت کی وجہ سے اورکچھ بیٹی کے ہاں بچے کی ولاد ت کی وجہ سے میں جلدی جا نہ سکی تو بار بار دریافت فرماتے کہ کب آئے گی؟ تیسرے نمبر والی بیٹی نے جو بھائی زاہد کی بہو ہے، مجھے فون کر کے کہاکہ امی جان! نانا ابو سے مل جائیں، وہ آپ کوبڑا یاد کر تے ہیں۔ ہم گکھڑ گئے اوررات کافی دیر تک اباجی کے پاس بیٹھے رہے۔ ابا جی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی رہایش اور معمولات کے بارے میں پوچھتے رہے۔ میں نے اباجی سے حالت احرام میں چہرے کے پردے کے بارے میں پوچھا تو فرمانے لگے کہ لازمی ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اباجی! آج کل عورتیں وہاں براے نام پردہ کرتی ہیں اور بڑے بڑے علماے کرام بھی یہی فتویٰ دے رہے ہیں کہ حالت احرام میں پردہ ضروری نہیں ہے۔ فرمانے لگے، ’’نئیں پتر، پردہ حالت احرام وچ وی ضروری اے۔‘‘ پھرحضرت عائشہؓ کے بارہ میں فرمایاکہ پردہ کے ثبوت میں ان کی حدیث ہے اور ازواج مطہرات بھی پردہ کرتی تھیں۔ پھر مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ بڑا عمرہ کیا تھا؟ میں نے عرض کی، جی ہا ں، کیا تھا۔ عمرہ کااحرام عام طورپر مکہ میں رہتے ہوئے تنعیم سے یعنی مسجدعائشہؓ سے باندھا جاتا ہے، لیکن اگراحرام جعرانہ سے باندھ کرعمرہ کیا جائے تو اسے بڑاعمرہ کہتے ہیں اور اس کی بڑی فضیلت ہے۔

دوسرے دن ہماری واپسی تھی۔ میرے شوہر قاری خبیب احمد صاحب ؒ ہمیں لینے کے لیے آئے۔ میں اور میری بیٹی بھی اباجی کے پاس گئیں تو اباجی اپنی چار پائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھے ہوئے تھے، دائیں بائیں اور پیچھے تکیے رکھے ہوئے تھے اورقاری صاحبؒ ان کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی ٹانگیں دبا رہے تھے۔ سردی کاموسم تھا اور قاری صاحب نے گرم چادر خوب اچھی طرح لپیٹی ہوئی تھی۔ بیٹی نے از راہ مذا ق کہا کہ ’’ابوجی، تسیں تے ماسیاں دی تراں بیٹھے ہوئے او‘‘ (آپ توماسیوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہیں)۔ ہنس کر بولے کہ کام بھی تو ماسیوں والا کر رہا ہوں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہم دونوں کوآخری بار اکٹھا بیٹھے دیکھ رہے ہیں۔ مغرب کی نمازکے بعد ہم الوداعی ملاقات کے لیے ابا جی کے پاس گئے تو اباجی لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ’’اباجی اسیں جا ر ہے آں۔‘‘ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور فرمانے لگے کہ ’’فیر کدوں آئیں گی؟‘‘ میں نے کہا اباجی کوشش کروں گی کہ جلدی چکر لگاؤں، بس سبقوں کا مسئلہ ہے۔ حسب معمول آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ میں نے اباجی کے ماتھے پر بوسہ دیا، ہاتھ پر پیار کیا اوردکھے دل کے ساتھ الٹے قدموں بیٹھک سے باہر نکل آئی۔ میرے وہم وگمان میں نہ تھا کہ آج میں اپنے اباجی، بہت پیارے اباجی سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو رہی ہوں۔ اگر حکم ربی نہ ہوتا تو میں موت سے کم از کم اتنا ضرور کہتی کہ:

مجھ سے کیوں میرے پیاروں کو جدا تو نے کیا

ہائے ری موت تجھے موت ہی آئی ہوتی

میری بدنصیبی کی انتہا جو میری زندگی کی شیاید سب سے کڑی آزمایش تھی کہ آخری ایام میں اباجی کو ایک نظر دیکھ بھی نہ سکی کہ عدت کی وجہ سے شرعی مجبور ی تھی۔ فون آتے رہے، میں سنتی رہی۔ اباجی بیمار ہیں۔ اباجی کی طبیعت خراب ہے۔ اباجی کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت دعائیں کی، بہت التجائیں کیں، طالبات سے بھی کروائیں، درس میں آنے والی خواتین سے بھی کروائیں، لیکن ہوا وہی جو میرے مولا کو منظور تھا۔ میرا اضطراب اور میری تڑپ دیکھ کر میرے بڑے بیٹے حافظ محمد ابوبکر سلمہ نے کہا کہ امی، میں آپ کو لے چلتا ہوں۔ ، ہم صرف آدھ گھنٹہ وہاں ٹھہر کر واپس آجائیں گے۔ میں نے کہا، پہلے مفتی صاحب سے پوچھ لو۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ گنجایش نہیں اور میرے ضمیرنے گوارا نہیں کیا کہ میں صرف اپنے دل کی اور اپنے نفس کی خوشی کے لیے اللہ کی مقررکی ہوئی حدود کو توڑ دوں۔ بچے باری باری سارے زیارت کرآئے اور میں آزمایش کی بھٹی سے گزرتی رہی اور پھر جدا ئی کا لمحہ آہی گیا جو ننگی تلوار بن کر سروں پرمعلق تھا۔ 

جس رات اباجی کا انتقال ہوا، مجھے نیند نہیں آرہی تھی اور میں بیٹی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی کہ ساتھ والے کمرے میں فون کی گھنٹی ہوئی۔ میں نے وقت دیکھاتو تقریباً پونے دوبجے تھے۔ چھوٹی بیٹی اٹھ کرآئی اور میرے پاس چپ چاپ کھڑی ہوگئی۔ دل کسی انہونی کے خوف سے لرز رہاتھا، لیکن اتنا حوصلہ بھی نہ تھاکہ اس سے پوچھوں۔ بڑی بیٹی نے ہمت کی اور پوچھا تو رونے لگی اور صرف یہ الفاظ اس کے منہ سے نکلے، ’’امی! نانا ابو۔‘‘ اور اس لمحے مجھے لگا کہ میرے لیے آج سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اب کچھ نہیں بچا۔ صرف دو ماہ گزرے تھے جب سرسے چھت اڑی تھی، اس وقت جب قاری صاحب ہمیں چھوڑ کر اچانک چپ چاپ چل دیے۔ اس وقت اباجی کا فون آیا تھا۔ ان کی بھی چیخیں نکل رہی تھیں اور میری بھی۔ نہ وہ کچھ کہہ سکے نہ میں۔ پھر دو دن کے بعد میں نے فون کیا، تب بھی یہی حالت تھی۔ پھر اس کے بعد مجھے بات کرنے کا حوصلہ ہی نہ ہوا ، لیکن یہ تسلی رہی کہ اباجی کی دعاؤں کاحصار میرے اور بچوں کے ارد گرد ہے۔ جب اباجی بھی رخصت ہوگئے تو محسوس ہوا کہ آج چھت کے ساتھ درودیوار بھی زمیں بوس ہوگئے ہیں۔ یہ کیفیت اور یہ حالت عالم اسباب کے لحاظ سے ہے ،ورنہ اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑا آسرااور سہارا ہے، ان کی ذات پرکامل ایمان بھی ہے، یقین بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ میرے اباجی، میرے چاچاجی اور میرے بچوں کے ابوجی کو اعلیٰ درجات سے نوازیں، ان کی مرقد کواپنی رحمتوں سے اور جنت کی خوشبوؤں سے معمور فرمائیں اورہم سب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔ آمین۔

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر