مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں

بنت حافظ محمد شفیق (۲)

میں نانا جان کو ابو جی کہا کرتی تھی، جبکہ باقی سب گھر والے ابا جی کہتے تھے۔ ہم سب گھر والوں کو اپنے اپنے انداز سے ابو جی کی خدمت کا موقع ملا جو اب ہماری زندگیوں کا کل اثاثہ ہے، البتہ میں خاصا عرصہ مسلسل ابو جی کی خدمت میں رہی۔ ہم سب امتحان سے فراغت کے بعد چھٹیاں گزارنے ابو جی کے پاس گئے تو تعطیلات کے اختتام پر انھوں نے مجھے خدمت کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔ امی جان نے بھی اس بات کو باعث سعادت سمجھا۔ میں چھوٹی تھی اور اتنی سمجھ نہیں تھی کہ خدمت کیسے کروں گی، لیکن ابو جی کی شفقتوں، محبتوں اور عنایتوں نے میرے لیے خدمت کے کام کو بہت سہل کر دیا۔ 

ابو جی کا پیار محبت سب کے ساتھ یکساں تھا۔ ہر فرد یہی خیال کرتا تھاکہ حضرت کو میرے ساتھ زیادہ پیار ہے۔ میرے ساتھ خصوصی پیار کی کچھ وجوہات بھی تھیں۔ میں سب سے چھوٹی اور لاڈلی نواسی تھی۔ پھر میری چھوٹی چھوٹی شرارتوں اور حرکتوں نے بھی ابو جی کو مجھ سے مانوس کر دیا تھا۔ ابو جی صاحب فراش تھے اور مجھے ان کے مزاج اور طبیعت کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ انھیں اس وقت کس چیز کی طلب ہے۔ وہ بھی اپنے کام کے لیے مجھے ہی بلاتے تھے۔ میں اکثر انھیں ہنسانے کے لیے کوئی نہ کوئی شرارت کیا کرتی تھی۔ ایک دفعہ میں ابو جی جیسا لباس پہن کر اور نقلی ڈاڑھی مونچھیں لگا کر ہاتھ میں ان کا عصا پکڑے ان کے کمرے میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ داخل ہوئی۔ بڑی بہن کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا کیونکہ ایسے موقع پر وہ فوراً ہنس پڑتی تھی۔ آپی جان نے ابو جی کے قریب ہو کر کہا کہ ایک بابا جی آپ سے ملاقات کے لیے تشریف لائے ہیں۔ ’’بابا جی‘‘ نے قریب جا کر سلام کیا، ہاتھ مبارک پر بوسہ دیا اور چارپائی کے قریب بیٹھ گیا۔ دونوں جانب سے سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ بابا جی نے پوچھا کہ حضرت! آپ کی طبیعت کیسی ہے تو فرمایا کہ طبیعت ٹھیک نہیں رہتی۔ ابو جی نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کیسے آنا ہوا؟ بابا جی نے کہا کہ میں ادھر سے ہی آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ ابو جی نے اسی طرح دو تین اور سوال کیے اور بابا جی نے جواب دیے۔ اسی اثنا میں ابو جی نے آپی کو مشروب لانے کے لیے کہا تو ان کی ہنسی چھوٹ گئی اور سارا راز فاش ہو گیا۔ پھر آپی نے انھیں ساری بات بتائی۔ ابو جی فرمانے لگے کہ مجھے اٹھا کر بٹھاؤ۔ بابا جی نے ہی انھیں بٹھایا اور روہ بیٹھ کر ہر چیز کا معائنہ کرتے رہے اور ہنستے رہے۔ ہر چیز کے بارے میں سوال کرنے لگے کہ یہ کیا چیز ہے، کہاں سے لی ہے؟ میں نے ابو جی کو بتایا کہ یہ سب آپ کو ہنسانے کے لیے کیا ہے۔ آج بھی ابو جی کا ہنستا مسکراتا چہرہ یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، کیونکہ یہ اس حسین وجمیل چہرے کی زیارت کو ترستی ہیں اور اب ترستی ہی رہیں گی۔

ابو جی نے جب اٹھنا بیٹھنا یا لیٹنا ہوتا تو مجھے کہتے کہ پہلوان، ادھر آؤ۔ میرے نام ’’اقرا‘‘ کے بارے میں کہتے کہ یہ بڑا وزنی نام ہے، میں تمہیں اقلیمہ کہا کروں گا۔ اس کے بعد جب مجھے آواز دیتے تو اقلیمہ ہی کہتے۔ اب کان اس مبارک آواز کو سننے کے لیے ترستے ہیں۔ ابو جی کے پاس رہتے ہوئے مجھے کہیں جانے کا موقع نہیں ملتا تھا اور نہ ہی وہ مجھے کہیں جانے دیتے تھے۔ ایک منٹ کے لیے بھی اپنے پاس سے جدا نہیں ہونے دیتے تھے۔ ابو جی ہم دونوں بہنوں کو یہی کہتے کہ ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہا کرو، حتیٰ کہ اگر ہم کسی کام سے باہر جاتے تو گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیتے اور جب تک ہم اندر نہ پہنچ جاتیں، اپنا ہاتھ گھنٹی سے نہ ہٹاتے۔ پوچھتے کہ کہاں گئی تھیں؟ ہم بتاتیں کہ وضو کرنے گئی تھیں تو فرماتے کہ یہاں ڈیوڑھی میں میرے سامنے ہی کیا کرو۔ نماز بھی میرے کمرے میں ادا کیا کرو اور کھانا بھی میرے سامنے ہی کھایا کرو۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ابو جی، پھر تو آپ ہمارے نوالے گنتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ’’نہیں پتر، مینوں اپنے آنگن دیاں چڑیاں ویکھ کے خوشی ہوندی اے‘‘ (مجھے اپنے آنگن کی چڑیوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے)۔ اس طرح ہمارا زیادہ تر وقت ابو جی کے پاس ان کے کمرے میں ہی گزرتا۔ نماز، کھانا اور چھوٹے موٹے کام ہم ابو جی کے پاس ہی کر لیتے تاکہ وہ بھی خوش رہیں اور ہمیں بلاتے ہوئے انھیں کوئی دقت یا تنگی محسوس نہ ہو۔ باہر گلی میں کوئی چیز بیچنے والا گزرتا تو فرماتے کہ دیکھو، کیا چیز بیچ رہا ہے؟ ہم بتاتیں کہ فلاں چیز ہے تو فرماتے کہ میری جیب سے پیسے نکالو اور چیز لا کر میرے سامنے کھاؤ۔ چنانچہ ہم دونوں بہنیں بیٹھ کر کھاتیں اور وہ ہمیں دیکھ کر مسکراتے رہتے۔

چھوٹے نانا جان کی عیادت کے لیے گوجرانوالہ گئے تو ہم دونوں بہنیں بھی ساتھ تھیں۔ اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر ابو جی کی جو کیفیت ہوئی، میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتی۔ جس بھائی کے لیے وہ کسی قسم کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتے تھے، آج وہ بستر پر بے ہوشی کی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔ 

میں ابو جی کو نظم ’’شیخ صفدر کو رب نے جو رتبہ دیا‘‘ سناتی۔ جب سنا چکتی تو ان سے پوچھتی کہ آپ شیخ صفدر کو جانتے ہیں؟ یہ کون ہیں؟ تو ہاتھ سے اشارہ کرتے کہ نہیں۔ پھر مسکراتے ہوئے جواب میں فرماتے کہ پتہ نہیں، یہ کون سے باباجی ہیں، میں ان کو نہیں جانتا۔ میں کہتی کہ وہ تو اتنی عظیم ہستی ہیں کہ لوگ ان کی زیارت کے لیے دور دور سے سفر کر کے آتے ہیں اور اس وقت وہ میری آنکھوں کے سامنے چارپائی پر آرام فرما ہیں۔ فرماتے کہ نہیں، میں تو بابا جی ہوں۔ میں اٹھ کر پیشانی مبارک پر بوسہ دیتی اور کہتی کہ یہی تو وہ عظیم ہستی ہیں جو میرے ابو جی ہیں اور جن کو میں تنگ کرتی رہتی ہوں۔ فرماتے، ’’نہیں پتر، مینوں تیریاں ایہہ شرارتاں تے ایناں نال مینوں ہنساندے رہنا بڑا چنگا لگدا اے‘‘ (بیٹا، مجھے تمہاری یہ شرارتیں اور شرارتوں سے مجھے ہر وقت ہنساتے رہنا بہت اچھا لگتا ہے)۔

عصر کے بعد حاجی لقمان میر صاحب اور ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب ابو جی کی خدمت اور زیارت کے لیے آتے اور کوئی نہ کوئی چیز مثلاً یخنی، مچھلی، جوس، ملک شیک وغیرہ ان کے لیے ضرور لے کر آتے۔ ابو جی خود نوش فرماتے او رباقی بچا کر میز پر رکھوا دیتے کہ یہ میں اپنی بچیوں کو دوں گا۔ وہ خود کوئی چیز کھا کر اتنے خوش نہیں ہوتے تھے جتنا ہمیں کھلا کر۔ جب حاجی صاحب اور ڈاکٹر صاحب چلے جاتے تو ہم بہنوں کو بلوا کر اپنے سامنے بٹھا کر کھانے پینے کو کہتے۔ اگر ہم کہتیں کہ یہ تو آپ کے لیے ہے تو فرماتے کہ اب یہ تمہارا حصہ ہے۔ میں نے جتنا کھانا پینا تھا، کھا پی لیا ہے۔ اگر ہم بہنیں ابو جی کے پاس ہوتیں اور کوئی چیز انھیں کھلا رہی ہوتیں تو ہر ایک کی کوشش یہی ہوتی تھی کہ بچی ہوئی چیز اسے ملے۔ پھر ہم چاروں بہنیں آپس میں تقسیم کر کے کھا لیتیں۔ ایک دن ہی ہم ایسے ہی کر رہی تھیں اور ہمیں پتہ نہیں تھا کہ نانا جان ہمیں دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں۔ جب آپی جان برتن باہر لے جانے لگیں تو نانا جان نے انھیں آواز دی اور اپنے قریب بٹھا کر پوچھا کہ کیا تم لوگ میری ہوئی چیز پھینک دیتے ہو؟ آپی نے کہا کہ جی، پھینک دیتے ہیں۔ نانا جان حیران ہوئے اور پھر پوچھا کہ پھینک دیتی ہو؟ آپی نے کہا کہ جی، پھینک دیتی ہیں لیکن اپنے پیٹ میں۔ اس پر مسکرانے لگے۔ 

بیماری کے دنوں میں انھیں ہفتے میں ایک بار جمعرات یا جمعۃ المبارک کے دن ضرور نہلایا جاتا تھا اور میں اور میری والدہ محترمہ سر اور پاؤں وغیرہ پر تیل کی مالش کیا کرتی تھیں۔ میں ریش مبارک کو کنگھی کرتی، سرمہ لگاتی، عطر لگاتی اور پھر کہتی کہ دولہا تیار ہے۔ اس پر بہت خوش ہوتے اور کافی دیر تک مسکراتے رہتے۔ بستر تبدیل کرنے کا مرحلہ کافی مشکل ہوتا تھا۔ ابو جی کو اٹھا کر کرسی پر بٹھانا ہوتا تھا اور پھر بستر تبدیل کیا جا تا تھا۔ چھوٹے ماموں راشد اور میں دونوں مل کر بستر تبدیل کرتے تھے۔ میں کرسی لاتی اور وہ ابو جی کو اس پر بٹھاتے۔ اگر ماموں گھر پر نہ ہوتے تو بستر تبدیل کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ہوتی اور میں الحمدللہ یہ کام بخوبی سرانجام دے لیتی۔ جب میں ابو جی کو اٹھاتی تو فرماتے، پہلوان واقعی میرا پہلوان ہے۔ ایک مرتبہ ابو جی بستر بدلوانے پر کسی طرح راضی نہیں ہو رہے تھے تو میں نے انھیں کھلا پلا کر فریش کیا اور باتوں باتوں میں ہی بستر تبدیل کر دیا۔ اس پر ابو جی نے ہم بہنوں کو ڈھیروں دعاؤں سے نوازا۔

ہر جمعہ کو نانا جان کے پاس بڑے ماموں مولانا زاہد الراشدی حاضر ہوتے اور ملکی حالات پر ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے۔ ایک دفعہ ماموں آئے تو ابو جی نے مجھ سے کہا کہ ’’پتر، اینوں جاندی ایں؟’’ (بیٹا، اسے جانتی ہو؟) میں نے ابو جی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ اس بابا جی کے بیٹے ہیں۔ اس پر مسکرانے لگے۔

ابو جی کی وفات سے ایک رات پہلے تقریباً دو یا ڈھائی بجے بجلی گئی ہوئی تھی اور بالکل اندھیرا تھا۔ امی جان ابو جی کی چارپائی کے قریب جبکہ میں تھوڑے فاصلے پر لیٹی ہوئی تھی۔ اسی اثنا میں مجھے محسوس ہوا کہ سفید کپڑوں میں ملبوس ایک بزرگ کمرے کے دروازے سے داخل ہوئے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آیا۔ وہ کمرے کی کھڑکیوں کے آگے سے گزر کر ابو کی چارپائی پر پاؤں کی جانب بیٹھ گئے اور پھر غائب ہو گئے۔ مجھے خوف محسوس ہونے لگا تو میں نے امی جان کو آواز دے کر پوچھا کہ ابھی یہاں سے کون گزرا ہے؟ امی جان نے کہا کہ کوئی بھی نہیں گزرا۔ میں نے انھیں ساری بات بتائی تو انھوں نے کہا کہ تمھیں ایسے ہی وہم ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں، وہم نہیں ہوا، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ امی جان نے مجھے اپنے قریب بلا کر لٹا لیا، لیکن ان کے پاس لیٹنے کے باوجود مجھ پر خوف طاری رہا۔ امی جان اپنا ہاتھ میرے سر پر پھیرنے لگیں تاکہ میں سو جاؤں، لیکن میری آنکھ کبھی لگ جاتی اور کبھی کھل جاتی۔ جیسے ہی آنکھ کھلتی، میری آنکھوں کے سامنے وہی سفید کپڑوں والے بزرگ آ جاتے۔ خیر رات تو جیسے تیسے گزر گئی، صبح میں نے ماموں جان شاہد کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ سارا دن ابو جی کی خدمت میں ہی گزرا۔ کیا پتہ تھا کہ وہ آخری دن ہوگا۔

رات کو معمول کے مطابق سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ میں اور امی جان ابو جی کے کمرے میں ہی سوتے تھے۔ امی جان حسب معمول ابو جی کا جسم اور میں سر دبانے لگ گئی۔ تھوڑی دیر بعد ابو جی نے کہا کہ بیٹا، تم لیٹ جاؤ۔ اتنے میں سب بچے کمرے میں داخل ہوئے اور باری باری ابو جی کو سلام کر کے باہر چلے جاتے۔ پھر دوبارہ اندر آتے اور ابو جی سے ہاتھ ملا کر ہاتھ چومتے۔ ابو جی بھی بار بار بچوں سے سلام کرتے اور ان کے ہاتھ چومتے اور انھیں پیار کرتے رہے۔ ابوجی کو تو شاید پتہ چل گیا تھا کہ یہ بچوں سے آخری سلام اور پیار ہے، لیکن معصوم بچوں کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اب وہ اپنے پیارے دادا جان کو ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔ بچوں کے بار بار آنے سے ابو جی کی طبیعت میں ذرا بھی اکتاہٹ نہیں آئی۔ امی جان جو کافی دیر سے یہ منظر اور ابو جی کا چمکتا دمکتا اور مسکراتا چہرہ دیکھ کر خود بھی مسکرا رہی تھیں، آخر انھوں نے بچوں سے کہا کہ اب آپ جا کر سو جاؤ اور دادا جان کو تنگ نہ کرو تاکہ وہ کچھ دیر آرام کر لیں۔ انھیں کیا خبر تھی کہ آج ابو جی ایسی گہری اور پرسکون نیند سونے والے ہیں کہ پھر بیدار نہیں ہوں گے۔ بہرحال بچوں کو باہر بھیجنے کے بعد ہم دوبارہ ابوجی کو دبانے لگ گئے۔ اتنے میں ابو جی کو تھوڑی سے قے آئی اور میں بھاگتی ہوئی باہر گئی کہ مامووں میں سے جو بھی جاگ رہے ہوں، انھیں بتاؤں۔ باہر نکلی تو ماموں جان شاہد سامنے چارپائی پر لیٹے ہوئے اخبارات کا مطالعہ کر رہے تھے۔ میں نے انھیں بتایا کہ ابو جی کی طبیعت پھر خراب ہو گئی ہے اور وہ قے کر رہے ہیں تو وہ بھاگنے کے انداز میں اندر آئے اور ابو جی کے قریب پہنچے۔ امی جان نے نانا جان کو گود میں لیا ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے قے صاف کر رہی تھیں۔ ماموں جان نے آگے بڑھ کر رومال پکڑ کر صاف کیا اور مجھ سے کہا کہ باقی سب کو بھی بلاؤ۔ میں جلدی سے گئی اور ماموں جان عابد کے کمرے پر دستک دی اور کہا کہ ابو جی کی طبیعت پھر خراب ہو گئی ہے۔ 

ماموں جان کے آنے تک گھر کے سبھی افراد پہنچ چکے تھے۔ ابو جی کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔ اسی اثنا میں انھوں نے مجھے آواز دی، حالانکہ میں ان کے قریب ہی کھڑی تھی۔ میں اور آگے ہوئی تو میری طرف عجیب انداز سے دیکھنے لگے۔ نہ جانے ان کے دیکھنے میں کیا تھا کہ ابھی تک دل میں اس نظر کی تاثیر محسوس ہوتی ہے۔ پھر انھوں نے امی جان کو آواز دی تو انھوں نے کہا، جی ابا جان۔ ابو جی کچھ پڑھ رہے تھے لیکن آواز صاف نہ ہونے کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آ رہا تھاکہ کیا پڑھ رہے ہیں۔ پھر سب کی جانب دیکھ کر انھوں نے جان، جاں آفریں کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

اتنا پرنور، روشن، چمک دار اور مسکراتا ہوا چہرہ تھا کہ نگاہیں ہٹانے کو جی ہی نہیں چاہ رہا تھا۔ غسل کے بعد جب میں نے ان کا چہرہ دیکھا تو مجھے وہی ’’دولہا تیار ہے‘‘ والی بات یاد آ گئی ،لیکن کس سے کہتی کہ میرے تیل اور عطر لگائے بغیر ہی آج دولہا تیار ہے۔ فی الواقع وہ دولہے سے بھی زیادہ خوب صورت لگ رہے تھے۔ ابو جی کے نورانی اور مسکراتے ہوئے چہرے کا آخری بوسہ لیتے ہوئے دل میں یہی خواہش ابھرتی رہی کہ اے کاش! ابو جی زندہ ہوتے، مجھ سے باتیں کرتے اور میرے سوالوں کا جواب دیتے۔

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر