وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی

بنت قاری خبیب احمد عمر

یوں تو دنیا فانی ہے۔ اس میں رہنے والا ہر آدمی چاہے وہ غریب ہو یا امیر، نیک ہو یا بد، طویل العمر ہو یا جوان، ہر کسی نے مقررہ وقت پر اپنے خالق کے پاس چلے جانا ہے۔ دوام وبقا صرف اس ذات کریمی کے ہی لائق ہے جو سب کو زندگی بخشتا ہے، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو خود توا س فانی دنیا سے چلے جاتے ہیں مگر ایسی باقیات صالحات چھوڑ جاتے ہیں جو انھیں ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں اوران کو ان کی دینی خدمات کی وجہ سے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ 

۵؍مئی ۲۰۰۹ ء کو ہمار ے مشفق ومحترم نانا ابا امام اہل سنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کا وصال بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ بچپن میں ہمیں ان کے علمی مقام ومرتبہ اور عظمت کا اتنا شعور نہیں تھا اور وہ ہمارے لیے صر ف ایک محبت کرنے اور ہمارا خیال رکھنے والے نانا ابو تھے۔ ایک مرتبہ بہت چھوٹی عمر میں ناچیز کا بازو ٹوٹ گیا تو انھوں نے بہت فکر مندی سے والدہ محترمہ کو خط لکھ کر میراحال دریافت کیا۔ وہ خط آج بھی یادگار کے طور پر سنبھالا ہوا ہے۔ اس طرح بچپن میں ان کی شفقتوں اور محبتوں کے سایے میں بہت اچھا وقت گزرا۔ نانی امی تو ہوش سنبھالتے ہی اس دارفانی سے کوچ کر گئی تھیں، مگر نانا ابو کی محبت ہمار ے لیے بہت قیمتی یادوں کا سرمایہ ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کاعلم حاصل کرنے کے لیے ہمیں بھی منتخب کیا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ساتھ ساتھ علما وصلحا کی محبت اور عقیدت سے بھی دل منور ہوئے تو صحیح معنوں میں اللہ پاک کی اس عظیم الشان نعمت کی قدر دل میں آئی کہ علم کے جس سمندر کو دیکھنے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے نہیں تھکتے، اللہ پاک نے ہماری اس کے ساتھ اتنی قریبی رشتہ داری رکھی ہے۔ ہمیشہ ننھیال جاکر لوگوں کا مجمع دیکھتے رہے کہ اب خواتین نانا ابو کے پاس سے اٹھ کر اندر چلی جائیں، کیونکہ ملاقات اور زیارت کے لیے حضرات آئے ہیں۔ ہر وقت آنے جانے والوں کاتانتا بندھا رہتا۔ اس کے بعد جب دورۂ حدیث کرتے ہوئے ترمذی شریف کے فقہی مباحث سمجھنے کے لیے میں نے والدہ محترمہ کے کہنے پر ’’خزائن السنن‘‘ مطالعہ میں رکھی۔ اس وقت بھی دل میں عجیب سی خوشی اور فخر کا احساس جاگا کہ میں اپنے نانا ابو کی لکھی ہوئی کتاب پڑھ رہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا جتنا بھی شکر ادا کیاجائے، کم ہے کہ اس نے ہماری نسبت علم کے اس سمندر کے ساتھ قائم کی جس سے ایک دنیا فیض یا ب ہورہی ہے۔ 

ان سے ملاقات کے ہر موقع پر علمی گفتگو ضروری ہوتی تھی۔ خصوصاً جب میں نے تدریس شروع کی تو وہ تفصیل سے پوچھتے تھے کہ کون سی کتاب پڑھاتی ہو؟ کس کلاس کو پڑھاتی ہو؟ کتنے بجے مدرسے جاتی ہو اور کب واپسی ہوتی ہے؟ طالبات کی تعداد، کلاس میں کتنی طالبات ہیں اور کتنی معلمات، جب تک ساری تفصیلات معلوم نہ کر لیتے، تب تک کوئی اور موضوع زیر گفتگو نہ آتا۔ جب ۲۰۰۵ء میں نانا ابو جہلم آئے تو ہماری خوشی کاکوئی ٹھکانا نہیں تھا ، کیوں کہ ہمارے نئے گھرمیں پہلی بار ان کے بابرکت قدم پڑ رہے تھے۔ ابوجی ؒ بھی بہت خوش تھے۔ جامعہ کی معلمات وطالبات نے ان کی زیارت کی خواہش کا اظہار کیا تو ابوجی سے پوچھ کر ہم نے طالبات ومعلمات کو ان سے ملوایا۔ نانا ابو جی نے سب کے لیے خصوصی دعا کی۔ اسی طرح ہر سال جب مدرسہ نصرۃ العلوم کے شعبہ تعلیم نسواں کے سالانہ امتحان کے لیے ہم گوجرانوالہ جاتے تو آتے ہوئے یا جاتے ہوئے ناناابو کے پاس ضرور حاضری دیتے۔ جب بھی میں ملتی، ہمیشہ طالبات کی کامیابی کی دعا کرواتی۔ جب نانا ابو اپنے کانپتے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے تو دل جیسے بالکل مطمئن ہو جاتا۔ آخر دم تک پھر یہی کامل اطمینان دل میں رہتا کہ اللہ تعالیٰ کے ولی کی دعا رائیگاں نہیں جائے گی۔ ان کی دعا کی تاثیر سے ہی الحمدللہ ہر سال جامعہ کی طالبات کا رزلٹ تقریباً ۱۰۰ فی صد آتا تھا۔ ان بزرگوں اور بڑوں کی محنتوں اور دعاؤں کے طفیل ہی اللہ پاک نے ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم دین کے خادم بن سکیں۔ اب وہ پر خلوص دعائیں اور شفقتیں کہاں ملیں گی! 

مجھے وہ دن یا د ہے جب ہم ۲۰۰۲ء میں اپنی ہمشیر ہ سے ملنے گوجرانوالہ اپنے بڑے ماموں مولانا زاہد الراشدی کے گھر گئے تو واپسی پر گکھڑ بھی رکے۔ اسی دن ہم دونوں بہنوں یعنی میرا اور مجھ سے بڑی ہمشیرہ (اہلیہ مولانا عرباض خان سواتی) کا عالمیہ کا رزلٹ آیا تھا اور ہمیں سفر میں ہی اپنے رزلٹ کی اطلاع ملی تھی۔ الحمدللہ بہت اچھا رزلٹ تھا تو نانا ابو یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور انعام کے طور پر دو دو سو روپے دیے جو آج بھی میری ڈائری میں بطورِ یادگار محفوظ ہیں۔ اس سے پہلے جب ہم گئے تھے تو مجھے فرمایا کہ تم کوئی بڑ ی کتاب بھی پڑھاتی ہو یا صرف چھوٹی کتابیں پڑھاتی ہو؟ فرمایا کہ ہدایہ پڑھاتی ہو؟ میں نے کہاکہ جی، پانچ یا چھ مرتبہ پڑھائی ہے۔ فرمانے لگے، اس کے مصنف کا نام بتاؤ۔ میں نے بتایا تو بہت خوش ہوئے اور سر ہلا کر خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ اسی طرح ایک مرتبہ پوچھا کہ آج کل کون کون سی کتابیں پڑھا رہی ہو؟ میں نے کہا کہ آج صحاح ستہ میں سے بھی بعض کتابیں پڑھا رہی ہوں۔ کہنے لگے کون سی؟ میں نے کہا کہ بخاری شریف اول، ترمذی شریف اول اور ابو داؤد شریف۔ فرمایا، ماشاء اللہ۔ جاؤ، بخاری شریف لے کر آؤ۔ میں احادیث شریف سننا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ مجھے زبانی بھی کچھ یاد ہیں، وہ سنا دوں؟ فرمایا کہ نہیں، میں نے پچپن سال تک پڑھائی ہے، اب میں کسی سے سننا چاہتا ہوں جو میری اولاد میں سے ہی ہو۔ میں نے بخاری شریف سے حدیث سنائی تو گھبراہٹ میں درمیان سے ایک راوی کا نام چھوٹ گیا۔ فرمایا، دوبارہ سناؤ۔ میں نے دوبارہ پڑھا اور راوی کا نام لیا تو فرمایا، ہاں اب ٹھیک ہے۔ پھر مجھ سے کافی احادیث سنیں اور آخر میں بہت دعائیں دیں اور کہا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میری اولاد بھی احادیث کے پڑھنے پڑھانے میں مشغول ہے۔ اب اگلی نسل میں بھی یہ علم منتقل ہو رہا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس سال کو عام الحزن بنا دیا۔ ہم پر دوہر ا صدمہ ہے کہ ابھی ہم اپنے والد محترم کی وفات سانچے سے نہ سنبھلے تھے کہ ۵؍مئی کو ہم سے نانا ابو کا مشفق سایہ بھی چھن گیا۔ دوہفتے پہلے ہم ان سے ملنے گئے تو بہت علیل تھے، مگر آہستہ آواز میں امی کی صحت اور مدرسہ کے بارے میں پوچھتے رہے۔ اس مرتبہ والد محترم کی وفات کے بعد ہم پہلی بار گئے تھے۔ ہمیں دیکھ کر ان کی طبیعت اورخراب ہونے لگی، خصوصاً چھوٹے بھائی کو دیکھ کر توا ن پر کپکپی طاری ہو گئی اور آ نکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہاتھ کے اشارے سے اس کو پاس بلا کر گلے لگا کر تھپکتے ہوئے آہستہ آہستہ کہہ رہے تھے، صبر صبر۔ اس وقت ہمارا رونا بھی شدت سے شروع ہو گیا اور ہم کمرے سے صرف اس خیال سے باہر آگئے کہ ان کی طبیعت اور نہ بگڑ جائے۔ جب آخری بار ہم ملے تو فرمایا کہ باری تو میرے جانے کی تھی، خبیب کیوں چلا گیا ؟ 

بجھا چراغ اٹھی بزم کھل کے رو اے دل 

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی 

ان کی یادیں کبھی تو ہمارے لیے مہکتا ہوا پھول ہیں جن کی خوشبو سے ہم اپنے آپ کو معطر کرتے ہیں اور ان کے اقوال اور گفتار کو سوچ کر اپنی اصلاح کرسکتے ہیں، اور کبھی ایسا زخم جو کریدنے سے اور بڑھتا ہے۔ ہمیشہ یہ کسک دل میں رہے گی۔ کاش! ان کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کا موقع ہمیں بھی ملتا۔ ایک مرتبہ میں نے کہا، نانا ابو! بہت جی چاہتا ہے کہ کچھ دن آپ کے پاس رہوں اور آپ کی خدمت کروں، مگر مدرسے کی وجہ سے آنا مشکل ہے اور چھٹیاں بہت کم ہوتی ہیں۔ کہنے لگے تم دین کی خدمت کررہی ہو، یہ بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ 

اللہ پاک سے ہماری یہی دعا ہے کہ ہم علما کے صحیح معنوں میں وارث بنیں۔ دنیاوی وراثت تو فانی اور عارضی ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں اپنے بزرگوں کو اور روحانی استاذوں کو دیکھ کر ہوتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے سایے اور اپنے باپ دادا کی وراثت کے بغیر ساری زندگی گزار دی،مگر جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت تھی، اس کو حاصل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس لیے اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کی دینی وراثت کا صحیح معنوں میں حق دار بنائے اور ہمیں ہمارے اسلاف کے دامن کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ وابستہ رکھیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دیتے ہوئے ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے ۔ آمین ثم آمین 


مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر