امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام

حافظ محمد عامر جاوید

کسی بھی بڑی شخصیت کی زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو چند صفات ایسی ملیں گی جن پر اس کی شخصیت کی تعمیر ہوئی ہوتی ہے۔ حضرت امام اہل سنت رحمہ اللہ کی پوری زندگی اور ان کے مختلف اور متنوع پہلووں میں دو چیزیں دو باتیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک رسوخ فی العلم اور دوسرے تقویٰ کا مزاج ۔ 

حضرت اپنی یادداشت اور رسوخ فی العلم کے اعتبار سے علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے مقام پر فائز تھے۔ ا ن کے ہم عصروں میں کوئی عالم یا محدث ایسا نظر نہیں آتا جو حافظہ کے اعتبا ر سے ان کے برابر ہو۔ استاد محترم مولانا زاہدالراشدی نے حضرت کی میت کو قبر میں اتارتے وقت بجا طور پر فرمایا کہ : ’’ ہم ایک عالم،فقیہ یامحدث کو نہیں بلکہ بر صغیر کی ایک عظیم لائبریری کو قبر میں اتار رہے ہیں۔‘‘ 

حضرت امام محمد ؒ ساری رات مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ حضرت آپ رات کو کیوں مطالعہ کرتے ہیں، کیا دن کو وقت کم ہو تا ہے؟ حضرت ؒ نے فرمایا کہ ساری دنیا اس اطمینان پر سوئی رہتی ہے کہ اگر صبح کو کوئی مسئلہ پیش آئے گا تو محمد ؒ سے پوچھ لیں گے۔ اگر میں بھی سو گیا تو ان کے مسائل کو کون حل کرے گا؟ حضرت امام اہل سنت بھی ذوق مطالعہ کے اعتبار سے امام محمد ؒ کے پر تو تھے۔ میں نے استاد محترم مولانا زاہد الراشدی سے حضرت کے ذوق مطالعہ اور اوقات کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ ویسے تو اوقات متعین ہی تھے، لیکن جب کسی مسئلے میں الجھن ہوتی تو پوری پوری رات مطالعہ میں گزار دیتے، حتیٰ کہ سوتے وقت خواب میں یا پھر ویسے ہی کوئی خیال آجاتا تو فوراً اٹھتے ہی تحقیق شروع کر دیتے تھے۔ 

حضرت کی یادداشت آخری وقت تک قائم رہی۔ جہاں سے کوئی کتاب دیکھتے، اس کتاب کا نام، صفحہ اور متعلقہ عربی یا اردو الفاظ یاد رکھتے۔ ایک مجلس میں فرمایا کہ ’’اب تو میرا حافظہ کمزور ہو گیا ہے، لیکن میں نے اس موضوع پر دارالعلوم دیوبند کی لائبریری کے قبلہ رخ شیلف نمبر ۲ میں رکھی ہوئی تیسری کتاب ’’الدر النثیر‘‘ میں فلاں صفحے پر فلاں بحث کے حاشیہ میں یہ شعر پڑھا تھا‘‘۔

طلبہ میں مطالعہ کا ذوق پیدا کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ ’’تحدیث نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ افغانستان، پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں مجھ فقیر سے زیادہ کسی عالم کا مطالعہ نہیں ہوگا‘‘۔ موجودہ دور کے طلبہ کے عدم ذوق کو یوں تعبیر فرماتے تھے کہ طلبہ میں ’’ذوق بھی فوت ہو گیا، شوق بھی فوت ہوگیا اور وہ دونوں شاعر تھے۔‘‘

حضرت کو جہاں علم میں رسوخ حاصل تھا، وہیں حاضر جوابی میں بھی کمال درجہ حاصل تھا۔ پروفیسر اشفاق حسین منیر لکھتے ہیں کہ دوران سبق ایک دفعہ حضرت نے فرمایا: جب میں مدرسہ میں ہدایہ شریف پڑھایا کرتا تھا تو ایک غیر مقلد ساتھی آکر قریب بیٹھ جاتا اور میرا سبق سنتا۔ ایک دفعہ بڑا متاثر ہو کر کہنے لگا کہ مولوی صاحب آپ اتنے بڑے عالم ہو کر بھی مقلد ہیں؟ حضرت نے جواباً فرمایا: مجھے بھی یہی حیرت ہے کہ تم جاہل ہو کر بھی غیر مقلد ہو۔ 

غالباً ۱۹۹۹ ء کی بات ہے۔ الشریعہ اکادمی میں دینی مدارس کے طلبہ کے لیے عصری تعلیم کے سلسلے کے آغاز کے موقع پر استاد محترم مولانا زاہد الراشدی نے حضرات شیخین کو دعوت دی۔ حضرت امام اہل سنت ؒ نے اپنے خطاب میں عصری تعلیم بالخصوص انگریزی زبان سیکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے یوں فرمایا کہ ’’ میں برطانیہ گیا تو ایک انگریز نے اسلام کے متعلق اپنے شبہات کا ذکر کیا۔ میں نے اسے جواب دیا، لیکن چونکہ میں انگلش نہیں جانتا تھا، اس لیے ترجمان مقرر کیا گیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ اگر مجھے انگریزی آتی ہوتی تو میں اسے اپنے الفاظ میں اچھی طرح سمجھا سکتا۔ میرے بیٹے عزیزم محمد زاہد نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا آغاز کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں۔‘‘

حضرت نے طلبہ کو ختم بخاری شریف کے موقع پر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔ جو کام آج کرنا ہے، وہ آج ہی کرو ۔ مزید فرمایا کہ اتنے زیادہ کام اپنے ذمے نہ لو جنھیں نباہ نہ سکو۔ اتنا ہی کام اپنے ذمے لو جسے بآسانی نباہ سکو۔ یہ بھی نصیحت فرمائی کہ کام کرتے وقت آپ کے دل میں یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ جو امانت میں نے اپنے اساتذہ سے حاصل کی ہے، اس امانت کو ان شاء اللہ العزیز اگلی نسلوں تک پہنچاؤں گا۔ 

میترا نوالی ضلع سیالکوٹ کے ہمارے استادمحترم ماسٹر صفدر صاحب، جو کہ برسوں تبلیغ سے وابستہ رہے، فرماتے ہیں کہ ’’میں نائیجیریا میں تبلیغ کے سلسلہ میں گیا اور ایک سال کے بعد واپسی پر رائیونڈ سے سیدھا حضرت شیخ الحدیث ؒ کی مسجد میں پہنچا۔ عشا کا وقت تھا اور حضرت گھر تشریف لے جا چکے تھے، لہٰذا میں مسجد میں ہی ٹھہرا اور صبح نماز سے پہلے حضرت سے ملا۔ حضرت نے بڑی شفقت فرمائی اور بڑی محبت سے معانقہ کیا۔ نماز کے بعد فرمایا کہ آج درس کے بجائے ماسٹر صاحب کا بیان ہو گا۔ ماسٹر صاحب نائیجیریا میں ایک سال تبلیغ کا کام کر کے آئے ہیں۔ میں کچھ ہچکچایا تو فرمایا! بھائی جماعت کی کار گزاری سنا دو۔ چنانچہ اس دن میں نے نائیجیریا کے حالات سنائے‘‘۔ 

اتنی بڑی شخصیت، محدث و مفسر کا ایک غیر عالم آدمی کی گفتگو کے لیے اپنے درس کو ترک کر دینا حضرت کی شفقت، دینی تڑپ اور انتہا درجے کی عاجزی کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ 

حضرت کی ایک خاص صفت تقریباً تمام بڑے بڑے حضرات سے سنی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کی چھوٹی سے چھوٹی ادا کو اپنانے کا نتیجہ تھی۔ وہ ترمذی شریف کی حدیث ’’افشوا السلام‘‘ پر عمل تھا کہ حضرت کے پاس جو بھی ملنے آتا، حضرت دور ہی سے سلام کہہ دیتے۔ کئی حضرات نے ذکر کیا کہ ہم نے چاہا کہ آج تو میں حضرت کو پہلے سلام کروں گا، لیکن حضرت نے موقع ہی نہ دیا اور دور ہی سے السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پاکیزہ صفت پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے۔

حضرت مدرسہ کی گاڑی کو گھر سے مدرسہ اور مدرسہ سے گھر جانے کے علاوہ استعمال نہ کرتے تھے، حتیٰ کہ اگر بازار کی طرف جانا ہوتا تو بھی پیدل جاتے۔ ڈرائیور کہتا کہ میں نے بھی ادھر ہی جانا ہے، تب بھی سوار نہ ہوتے۔ گویا یہ فرماتے کہ یہ گاڑی صرف علم حدیث کے اسباق پڑھانے کے لیے مجھے دی گئی ہے، نہ کہ کسی دوسرے کام کے لیے اور اگر میں کسی دوسرے مصرف میں استعمال کروں گا تو امانت میں خیانت ہو گی۔ مدرسہ میں سبق پڑھانے کے دوران اگر کوئی دوست آجاتا تو اس کے پاس بیٹھنے کا وقت نوٹ کر لیا کرتے اور سال کے آخر میں یا کسی موقع پر کل وقت کو جمع کر کے اس کے مطابق تنخواہ میں سے کٹوتی کرا دیتے۔ جو طالب علم صبح مدرسہ میں اجتماعی حاضری لگاتا، حضرت اس کو اپنی تنخواہ میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیتے۔ استاد محترم مولانا محمد یوسف صاحب فرماتے ہیں کہ جس سال میں حاضری لگاتا ،حضرت مجھے ۱۰۰ روپے دیتے تھے۔ حضرت کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ چونکہ یہ میرا کام ہے اور میں نے نہیں کیا، لہٰذا جو اس کو سرانجام دے رہا ہے، اس کو معاوضہ دینا چاہیے۔

حضرت شیخ صاحبؒ طلبہ کو نماز کی پابندی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے کہ یہ تقریباً ۱۹۴۰ء سے قبل کا زمانہ تھا جب میں مدرسہ انوارالعلوم میں زیر تعلیم تھا۔ ایک رات بہت دیر تک مطالعہ کرتا رہا۔ صبح کچھ دیر ہو گئی اور نماز فجر کی ایک رکعت چھوٹ گئی۔ نماز کے بعد استاد محترم مولانا عبدالقدیر صاحب ؒ نے بلایا اور فرمایا کہ ’’تم طالب علم ہو اور تمہاری تکبیر اولیٰ فوت ہو گئی بلکہ ایک رکعت بھی چھوٹ گئی!‘‘ اس کے بعد اب تک الحمدللہ کبھی عمداً تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ 

حضرت امام اہل سنت کا موقف جہاں بے لچک ہوتا، وہاں زبان میں اتنی ہی نرمی اور لچک تھی۔ حضرت کے مواعظ، خطبات، دروس اور درس حدیث، سب میں یہ خصوصیت ہر شخص محسوس کرتا ہے۔ استاد محترم مولانا زاہد الراشدی بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مولانا عبدالقادر روپڑی صاحب سے کچھ اختلاف ہوا تو میں نے جواب دیتے ہوئے یوں تحریر کیا ’’عبدالقادر روپڑی لکھتا ہے‘‘۔ مضمون مکمل کر کے حضرت والد محترم کے پاس لے گیا تو انھوں نے سخت غصے میں تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اُٹھایا اور ڈانٹ پلاتے ہوئے فرمایا کہ عبدالقادر تمہارا چھوٹا بھائی ہے؟ استاد محترم فرماتے ہیں کہ وہ دن اور آج کا دن، ہزار اختلاف ہونے کے باوجود میں کبھی اعتدال سے باہر نہیں جاتا اور نہ کبھی کسی کی بے ادبی اور تنقیص کا خیال دل میں آتا ہے۔ یہ سب والد محترم ہی کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ 

بعض حضرات، حضرت کے تصنیف وتالیف کے مخصوص ذوق سے نامناسب نتائج اخذکرتے ہیں۔ یہ صرف حضرت کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر بزرگ کے جذباتی اور فہم وفراست سے متبعین ایسا ہی کرتے ہیں۔ ان کا طرز بیان یہ ہوتا ہے کہ حضرت نے ہر فتنے کا مقابلہ کیا، غیر مقلدین کو لاجواب کر دیا، حیات وممات کے مسئلے پر مخالفین کی بولتی بند کر دی، فلاں گروہ کے رد میں دلائل کے انبار لگا دیے، لہذا حضرت کے اس مشن کو جاری رکھتے ہوئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی تقریروں، دروس اور خطبات جمعہ میں ان مسائل کو ڈنکے کی چوٹ پر بیان کریں گے۔ حضرت کی یاد میں منعقد کی جانے والی مجالس اور پروگراموں میں ایسی باتیں کثرت سے سننے کو ملیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حضرات، صحیح استدلال نہیں کر رہے، بلکہ حضرت کے طرز عمل کا صرف ایک پہلو کو لے کر جو ان کو بھاتا ہے، باقی تمام پہلووں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ حضرت نے یقیناًان تمام مسالک کے ردپر کتابیں لکھیں اور شرح وبسط سے لکھیں، لیکن حضرت ؒ کے پیش نظر مخالفین کی اصلاح تھی نہ کہ جنگ و جدال، لہٰذا ہمیں بھی یہ مسائل بیان کرتے وقت اصلاح، ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ دوسرے یہ کہ حضرت کی تمام کتابیں دفاع میں لکھی گئی تھیں۔ غیر مقلدین نے بے جا اعتراضات کیے تو حضرت نے ان کے رد میں لکھا، حیات و ممات کے مسئلے پر تشدد کا رویہ سامنے آیا اور عوام کے عقائد کی خرابی کا اندیشہ ہوا تو حضرت نے کتابیں تصنیف کیں، بریلویوں نے رسوم و رواج کو دین بنانا چاہا تو حضرت نے بدعت و سنت میں فرق کو واضح کیا۔ گویا تردید ومجادلہ کے انداز کو ضرورت کے حد تک محدود رکھا، جبکہ حضرت کی عمومی تقاریر، دروس اور خطبات میں ایسے مسائل شاذ ونادر ہی کہیں زیر بحث آتے تھے۔ 

حضرت شیخ رحمہ اللہ گکھڑ کی مرکزی جامع مسجد میں فجر کی نماز کے بعد جو درس دیا کرتے تھے، اسے پنجابی زبان سے اردو میں مولانا محمد نواز بلوچ منتقل کر رہے ہیں۔ اب تک اس کی آٹھ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان دروس کی فہرست کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ جلدوں کے ۲۹۲۷ صفحات میں ۳۲۷ دروس ہیں جن کے ذیلی عنوانات ۲۰۲۶ ہیں۔ ان عوامی دروس میں زیر بحث آنے والے دو ہزار سے زائد ذیلی نکات اور موضوعات میں سے صرف پچاس عنوانات ایسے ہیں جو اختلافی مسائل سے متعلق ہیں۔ اسی طرح حضرت کے چالیس سے زائد خطبات جمعہ کو جامعہ قاسمیہ گوجرانوالہ کے زیراہتمام ’’خطبات امام اہل سنت‘‘ کے عنوان سے تین جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔ ان تین جلدوں کے مجموعی صفحات ۸۳۹ ہیں اور ان میں کوئی خطبہ بھی باقاعدہ کسی اختلافی عنوان پر نہیں دیا گیا، جبکہ ۴۶۸ ذیلی عنوانات میں سے صرف دس عنوانات اختلافی مسائل کے دائرے میں آتے ہیں۔ 

چنانچہ حضرت کے طرز عمل کی اتباع کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی عوام الناس کی حقیقی دینی ضروریات کو سمجھیں اور اپنے دروس اور خطبات میں انھی کو موضوع بنائیں۔ اگر ہم ارد گرد کے ماحول اور عوام کی ذہنی سطح کو نظر انداز کرتے ہوئے منبر ومحراب کو ہر موقع پر اپنے مخصوص مسلکی ذوق اور رجحان کی تسکین کا ذریعہ بنانا شروع کر دیں تو یہ حضرت کے طرز عمل کی اتباع نہیں، بلکہ اس کی مخالفت کہلائے گا۔ ہمیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے ہر اس بات سے پرہیز کرنا چاہیے جس سے عوام میں بلاضرورت انتشار، بے چینی اور بے اطمینانی پیدا ہو اور ایسا انداز اپنانا چاہیے جو عوام میں حقیقی دینداری کے فروغ اور ان کی رشد و ہدایت کا ذریعہ بنے۔ 

مشاہدات و تاثرات

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر