حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ترتیب: مولانا حافظ محمد یوسف

(بمقام مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ)


نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اہلہا۔

جن عزیزوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حدیث شریف کے دورے میں کامیابی حاصل کی ہے اور تجوید میں کامیابی حاصل کی ہے اور جن برخورداروں نے قرآن کریم یاد کیا ہے، سب کو مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے یعنی دین، اس کا علم حاصل کرنے کی آپ کو توفیق عطا فرمائی ہے۔ دین کی بنیاد ہے قرآن کریم اور اس کی تشریح اور تفصیل احادیث، فقہ اسلامی اور دیگر علوم میں ہے۔ قرآن پاک کا صحیح الفاظ کے ساتھ پڑھنا بھی اس کی توفیق ہے اور بہت بڑا انعام ہے۔ اس انعام کے مقابلے میں دنیا ومافیہا کی کوئی شے حقیقت نہیں رکھتی، لیکن اس سلسلے میں آ پ پر بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ جو حضرات دورۂ حدیث شریف سے فارغ ہوئے ہیں، وہ اچھی طرح سنیں کہ آج تک آپ کی ذمہ داری آپ پر نہ تھی، مدرسے پر تھی۔ اب آئندہ آپ نے اس ذمہ داری کو خود نبھانا ہے اور جو امانت اساتذہ نے آپ کے سپرد کی ہے، اس کو کماحقہ آگے پہنچانے کی کوشش کرنی ہے۔

یہ خیال نہ کریں کہ آپ کو بنا بنایا مدرسہ مل جائے گا۔ ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ انھیں کسی مدرسے میں مدرس کی حیثیت سے کام کرنا ہوگا۔ ایسے بھی ہوں گے جن کو خود دینی مدرسہ قائم کرنا پڑے گا اور اس کے لیے بڑی محنت مشقت کی ضرورت ہے۔ بغیر محنت مشقت کے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ نے جو پڑھا ہے، اس کے بارے میں یہ ہرگز خیال نہ کریں کہ جاتے ہی ہمارے سامنے بڑی بڑی جماعتیں بیٹھی ہوں۔ آپ کو پڑھانے کے لیے تھوڑے سے افرا دبھی مل جائیں تو اس کو غنیمت سمجھیں۔ ہمارے اکابر کا جو طریقہ تھا، آپ نے پڑھا اور سنا ہوگا۔ سب سے پہلے جو دیوبند میں مدرسہ قائم ہوا چھتے والی مسجد میں، انار کے درخت کے نیچے، پڑھانے والے استاذ کا نام بھی محمود تھا اور پڑھنے والے شاگرد کا نام بھی محمود حسن تھا جو بعد میں شیخ الہندؒ قرار پائے۔ ایک استاذ ہے، ایک ہی شاگرد ہے۔ اگر وہ استاذ یہ خیال کرتے کہ میرے سامنے اچھی خاصی جماعت ہو، پھر میں کام کروں گا تو پھر تو کام کا آغاز ہی نہ ہوتا۔ اس لیے آپ تلامذہ کی قلت وکثرت کے چکر میں نہ پڑیں کہ زیادہ ہوں تو پڑھائے اور کم ہوں تو نہ پڑھائے۔ آپ یہ سمجھیں کہ ہمارا کام پڑھانا ہے۔

ہمارے استاذ محترم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی مراد آباد جیل میں قید ہو گئے تو قاری محمد طیب صاحب، جو اس وقت دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے، ان سے ملاقات کے لیے گئے۔ انھوں نے پوچھا کہ حضرت! آپ کا کیا مشغلہ ہے تو فرمایا کہ میں تعلیم الاسلام پڑھاتا ہوں۔ قاری محمد طیب صاحب نے دل لگی کے طور پر، ظرافت کے طور پر کہا کہ حضرت، خوب ترقی کی ہے کہ بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھانے کے بعد اب تعلیم الاسلام پڑھاتے ہیں۔ حضرت مدنی کا جواب یہ تھا کہ وہاں بخاری شریف اور ترمذی شریف پڑھنے والے تھے، یہاں تو قیدی ہیں، ان کو تعلیم الاسلام پڑھاتا ہوں۔ کام جو پڑھانا ہوا۔ تو پڑھانا آپ کا کام ہے۔ جس معیار پر جس درجے کا طالب علم ملے، اس کو پڑھائیں۔ ابتدا میں یہ کوشش نہ کریں کہ ہمیں بڑی کتابیں ملیں۔ چھوٹی کتابیں بھی پڑھانے کا موقع ملے تو اس سے ہی آغاز کریں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پڑھنے پڑھانے کو نہ چھوڑیں اور اس کو اپنا مقصود بنائے رکھیں۔ یہ آپ کے سروں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ اس کوبھولنا نہیں۔ پڑھنا پڑھانا آپ کا شغل ہو۔ چھوٹی کتابیں ہوں، تھوڑے طالب علم ہوں، پس ماندہ علاقہ ہو، غریب علاقہ ہو، آپ ان چیزوں کو خاطر میں نہ لائیں۔ بس یہ سمجھیں کہ ہم نے پڑھانا ہے، خواہ تکلیفیں ہوں۔ ہر ایک کو ہر قسم کی سہولت ہر جگہ میسر نہیں ہوتی۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ اپنے اکابر علماے دیوبند کثر اللہ تعالیٰ جماعتہم کا دامن نہ چھوڑنا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دین کو ان حضرات نے سمجھا اور سمجھایا اور عمل کیا اور عملی زندگی کا نمونہ بن گئے، یقین جانیے اس وقت پوری دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ بے شک مصر میں جامعۃ الازہر آپ کو زبان سکھلائے، اسی طرح مدینہ یونی ورسٹی میں زبان اور جدید عربی آ پ کو آ جائے اور دیگر مدارس میں یہی قصہ ہے، لیکن دین کا یہ عمق اور گہرائی آپ کو ان شاء اللہ العزیز کہیں بھی نہیں ملے گی۔ ملے گی تو ان حضرات کے فیض یافتہ لوگوں سے جو حضرت شاہ ولی اللہؒ ، ان کے تلامذہ، ان کے تلامذہ اور آگے ان کے شاگردوں کے ذریعے پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، افغانستان وغیرہ وغیرہ ملکوں میں ہیں۔ علم کی گہرائی آپ کو انھی کے پاس ملے گی۔ کبھی اپنی ذاتی رائے کو ذہن میں نہ جگہ دیں۔ اسی طرح کبھی اپنے اکابر سے ہٹ کر، کٹ کر جو شخص بظاہر کتنی ہی معقول باتیں کرے، معقول نہیں، دھوکہ ہے، فریب ہے۔ اپنے اکابر کے دامن کو ہر مسئلہ میں ان کی طرف رجوع کرنا، ان کی زندگی دیکھنا۔

تیسری بات یہ کہ بے شک مالی طور پر آپ کو پریشانیاں پیش آئیں گی، لیکن آپ نے یہ نہیں دیکھنا کہ فلاں مدرسے میں مجھے زیادہ تنخواہ ملتی ہے، فلاں میں کم ملتی ہے۔ زیادہ تنخواہ کی وجہ سے آپ ادھر مائل ہو جائیں، اس بات کو ذہن میں بھی نہ آنے دیں۔ یہ سوچنا ہے کہ جہاں کے لوگوں کو علم کی زیادہ ضرورت ہو، گو آپ تکلیف میں ہوں، اس جگہ کو ترجیح دینا۔ اگر آپ آسودگی کے درپے ہوں گے تو بہت سی مشکلات پیش آئیں گی۔ اسی طرح حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے فتاویٰ رشیدیہ میں لکھا ہے کہ یہ جو دینی مدارس ہیں، ان میں جو قواعد وضوابط ہوتے ہیں، چونکہ علما نے مرتب کیے ہوتے ہیں تو مدرسے کے ان قواعد وضوابط کی پابندی مدرس پر واجب ہے۔ جس وقت حاضری ہے، اس وقت حاضر ہوں۔ جو چھٹی کا وقت ہے، چھٹی ہو۔ اگر کہیں جانا ہو تو درخواست کے بغیر نہ جائیں۔ آزاد خیالی نہ کریں کہ جب چاہے اٹھے کھڑے ہوئے، جب چاہے بیٹھ گئے۔ 

حضرت مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ کا یہ معمول تھا کہ اگر سبق کے درمیان میں کوئی شخص آجاتا اور اس کا تعلق سبق سے نہ ہوتا اور وہ کوئی بات پوچھتا تو حضرت گھڑی پر وقت دیکھتے اور اتنا وقت نوٹ کر لیتے۔ جب مہینہ گزرتا تو اتنے وقت کی تنخواہ کٹوا دیتے تھے کہ یہ وقت تعلیم کے دور میں خرچ نہیں ہوا۔ میں خود ذاتی طور پر کئی سال پریشان رہا، اس لحاظ سے کہ تعویذ اور دم والے بھی دور دراز سے آ جاتے ہیں، مرد بھی اور بیبیاں بھی۔ اگر دور سے آئے ہوں تو ان سے یہ کہنا کہ اس وقت ٹائم نہیں، چلے جاؤ تو اس کا برا اثر ہوگا۔ تو میں ان کو سبق کے درمیان تعویذ بنا دیتا اور دم کر دیتا۔ میں نے سوچا کہ اس سلسلے میں کیا کروں؟ تو ہمیں مدرسے کی طرف سے سالانہ پچیس چھٹیوں کی اجازت تھی۔ الحمد للہ میں نے حتی الوسع وہ پچیس چھٹیاں نہیں کیں۔ ایسے سال بھی گزرے ہیں کہ دو دو تین تین چار چار سال تک پورے سال میں ایک بھی چھٹی نہیں کی۔ وہ جو پچیس چھٹیاں ہماری مدرسے کی طرف سے تھیں، جو لوگ درمیان میں آ جاتے تھے، ان کے وقت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے میں سالانہ پچیس چھٹیاں نہیں کرتا تھا اور الحمد اللہ میرا پلہ پھر بھی بھاری ہے۔ سبق کے دوران کسی سے گپ مارنا، غیر ضروری بات کرنا درست نہیں۔ ان چیزوں کو ملحوظ رکھیں۔

حق تعالیٰ نے ہر طرح کی مخلوق پیدا کی ہے۔ ہر ایک کا ذہن ایک طرف ہے بلکہ ممکن ہے دوسرے اساتذہ کے ذہن کچھ اور ہوں۔ ہوں صحیح العقیدہ، لیکن ذہن میں تفاوت ہو۔ مہتمم صاحب سے ذہن نہ ملتا ہو، وہاں کے جو اراکین اور معاونین ہیں، ان سے ذہن نہ ملتا ہو۔ ان سلسلوں کو ملحوظ رکھنا۔ بد مزگی پیدا نہ ہو۔ سوچ سمجھ کر اگر کوئی معقول وجہ ہے تو ان کو بتائے کہ یہ بات ہے۔ میرے خیا ل میں معقول قسم کے اراکین ومعاونین کبھی اس میں قیل قال نہیں کریں گے، لیکن اپنی رائے کو دخل نہ دیں کہ میں یوں کروں گا، وہ کروں گا۔ ایسا سبق لے کر یہاں سے نہ جائیں۔

ادب کے ساتھ احترام کے ساتھ ایک دوسرے کی قدر کریں اور اپنے دیگر اساتذہ کی بھی۔ تلامذہ کے ساتھ نہایت نرمی سے پیش آئیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ یہ ہماری نسبی اولاد ہے۔ جیسے ان کی بعض غلطیوں پر درگزر کرتے ہیں، ان کی غلطیوں سے بھی درگزر کریں۔ ہاں جو قابل گرفت ہے، اس میں اصلاح آپ کا فریضہ ہے۔ بعض دفعہ نرمی سے، بعض دفعہ گرمی سے اس کی اصلاح کریں لیکن ان کو اپنے بیٹے سمجھیں، اپنی اولاد سمجھیں۔ اس دور میں دین حاصل کرنے کے لیے دور دراز سے آئے ہیں تو اپنے ادارے کے ساتھ جہاں بھی ہوں اراکین جہاں بھی ہوں، ان کے ساتھ نہایت ہی سلوک سے رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ یہ کہیں کہ آپ یہ پڑھ کر آئے ہیں؟ یہ سبق ہمارا نہیں اور نہ یہ سبق مولوی کی شان کے لائق ہے۔ کوئی چیز مزاج کے خلاف ہوگی، طبیعت کے خلاف ہوگی، اس لیے سب چیزوں کو برداشت کرنا۔ آپس میں الفت محبت کے ساتھ رہنا۔

جو سبق پڑھانا ہو، بغیر مطالعہ کے ہرگز نہ پڑھائیں۔ میرے خیال میں چالیس سے زیادہ مرتبہ میں نے بخاری شریف پڑھائی ہے، لیکن آخری سبق تک میں نے بغیر مطالعہ کے نہیں پڑھائی۔ سبق بغیر مطالعہ کے نہ پڑھائیں۔ اس کے حواشی دیکھیں، شروح دیکھیں، طالب علموں کو اچھی طرح مطمئن کریں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نماز کی پابندی کریں۔ جماعت کی پابندی کریں۔ آپ خود اگر نماز باجماعت کی پابندی نہیں کریں گے تو یقین جانیے آپ کے شاگردوں پر آپ کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

باقی جو قرا حضرات ہیں، وہ بھی سن لیں۔ بچے قراء ت پڑھتے ہیں۔ کمزوری ہوتی ہے تو انھیں بے تحاشا پیٹتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے۔ اگر آپ نے سزا دینی ہے تو ایسا کریں کہ ان کو تھوڑی دیر کے لیے کھڑا کر دیں۔ ایسا نہ کہ بے چارے کو مار مار کر لہولہان کر دیں۔ ماں بھی دوڑتی ہوئی آئے، باپ بھی دوڑتا ہوا آئے کہ میں نے آپ کو بکرا ذبح کرنے کے لیے تو نہیں دیا تھا، پڑھنے کے لیے دیا تھا۔ میری باتیں نوٹ کرنا۔ زیادہ سختی کرنی ہو تو ان کو کھڑا کر دینا۔

جن بچوں نے قرآن کریم حفظ کیا ہے، ان سے گزارش ہے کہ بیٹو، قرآن پاک کا یاد کرنا بھی مشکل ہے۔ اگر آسان ہوتا تو ہر مسلمان مرد وعورت قرآن کے حافظ ہوتے، لیکن اس کو آخر دم تک محفوظ رکھنا بہت مشکل ہے۔ بیٹو! قرآن کریم کو بھول نہ جانا۔ ابوداؤد شریف کی روایت ہے اور مسند احمد میں اور حدیث کی دوسری کتابوں میں بھی ہے کہ جس نے قرآن کریم کو یاد کیا اور پھر بھول گیا تو قیامت کے دون اس کو کوڑھی کر کے اٹھایا جائے گا، ہاتھ پاؤں گرے ہوئے ہوں گے۔ بیٹو! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن آپ کوڑھی اٹھیں۔ اللہ کے فضل وکرم سے اچھی شکلیں صورتیں اور اعضا نصیب فرمائے ہیں۔ 

اور بیٹو! قرآن کریم کے بارے میں آتا ہے کہ حجۃ لک او علیک۔ یا تو تیرے حق میں گواہی دے گا یا تیرے خلاف گواہی دے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قرآن پاک کی زبان بھی ہوگی۔ جیسے اس وقت میں بولتا ہوں، آپ سمجھتے ہیں، اسی طرح قرآن بولے گا۔ اگر کسی نے قران پاک کو عمل میں لایا ہے تو قرآن کریم کہے گا کہ پروردگار، اگر اس سے غلطی ہوئی ہے تو درگزر فرما۔ میں سفارش کرتا ہوں۔ روزہ بھی سفارش کرے گا، اور قرآن کریم بھی او رحق تعالیٰ اس کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ اور اگر کسی نے قرآن کے خلاف زندگی بسر کی تو حجۃ علیک، یہ اس کے خلاف گواہی دے گا کہ اے پروردگار، یہ پڑھتا یوں تھا اور کرتا یوں تھا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں حضرت انس رضی اللہ کا موقوف اثر نقل کیا ہے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رب تال للقرآن والقرآن یلعنہ۔ بہت سے ایسے ہیں کہ قرآن پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے۔ مثلاً پڑھنے والا پڑھتا ہے: اقیموا الصلوۃ اور نماز کی پابندی نہیں کرتا۔ یہ آیت بزبان حال کہے گی کہ ملعون! پڑھتا کیا ہے اور کرتا کیا ہے؟ جب پڑھے گا، آتوا الزکوۃ اور اس پر زکوٰۃ آتی ہے لیکن نہیں دیتا تو یہ آیت بزبان حال اس پر لعنت بھیجے گی کہ آتوا الزکوۃ پڑھتے ہو لیکن زکوٰۃ دیتے نہیں۔ جب یہ پڑھے گا کہ لعنت اللہ علی الکاذبین اور خود جھوٹ بولتا ہے تو یہ آیت لعنت بھیجے گی کہ اے ملعون، پڑھتا ہے لعنت اللہ علی الکاذبین اور خود جھوٹ میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسے ہی پڑھتا ہے لاتقربوا الزنی، زنا کے قریب نہ جاؤ اور خود اس میں آلودہ ہے تو یہی آیت بزبان حال اس پر لعنت کرے گی۔ اسی طرح جب پڑھے گا لا تقربوا مال الیتیم، یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ اور خود یتیم کا مال کھا جاتا ہے تو بھی لعنت کا مستحق ہوگا۔

ایک بات اچھی طرح سمجھنا اور بھولنا نہیں۔ عام لوگوں میں جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو اس کا تیجا بھی ہوتا ہے، ساتواں بھی ہوتا ہے، دسواں بھی ہوتا ہے اور چالیسواں بھی ہوتا ہے۔ ایسے بھی مرنے والے ہوتے ہیں جن کی اولاد میں نابالغ بچے ہوتے ہیں۔ اب لوگ یہ کرتے ہیں کہ ابھی شرعی طور پر مال تقسیم نہیں کیا ہوتا اور مرنے والے کے متروکہ مال سے تیجا بھی کر دیتے ہیں، ساتواں بھی، دسواں بھی اور چالیسواں بھی کر دیتے ہیں اور حفاظ اور قرا کو بلا کر ان سے قرآن کریم پڑھواتے ہیں۔ ان دنوں کی تعیین کے ساتھ ایسے موقع پر قرآن پڑھ کر کچھ لینا اور کھانا حرام ہے اور پھر اس طرح مشترکہ کھاتے سے صدقہ خیرات کرنا بالاتفاق حرام ہے، اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں۔ کوئی شخص مال تقسیم ہونے کے بعد اپنے مال سے، جس کا وہ مالک ہے، صدقہ خیرات کرے بغیر ایام کی تعیین کے تو وہ جائز ہے۔ مشترکہ کھاتے سے صدقہ خیرات سے بچو۔

اگر کسی نے مکان بنایا ہے اور وہ مکان کی خوشی میں حفاظ اور قرا کو لے جائے تو کھائیں اور اتنا کھائیں کہ ہفتہ بھر کے لیے پیٹ بھر جائے۔ اگر کوئی بیمار ہے، اس کی صحت کے لیے پڑھنا ہے تو پھر کھا سکتے ہیں کہ یہ خوشی کا مقام ہے۔ لیکن ایصال ثواب کے لیے کوئی قرآن پڑھائے تو اس پر کوئی شے کھانا حرام ہے اور خاص طور پر مشترکہ کھاتے سے ہوگا تو حرام ہوگا۔ نابالغ کی اجازت شرعاً معتبر نہیں۔ اسی طرح غیر حاضر وارث ہو تو اس کی غیر موجودگی میں مشترکہ کھاتے سے صدقہ کرنا حرام ہے۔ عام لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مولوی صاحب، آپ بڑے سخت مسئلے بیان کرتے ہیں۔ وہ باہر سے لوگ آئے ہیں، وہ کہاں سے کھائیں؟ دور دراز سے بھی رشتہ دار آتے ہیں۔ اس کی صورت عموماً یہ ہوتی ہے کہ ایک دن د و دن تین دن میت کے گھر میں کھانا نہیں پکتا۔ اس کے عزیز رشتے دار، پڑوسی کھانا بھیج دیتے ہیں۔ یہ کھانا جائز ہے۔ حضرت جعفرؓ موتہ کے مقام پر شہید ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا کہ اصنعوا لآل جعفر طعاما فانہم اتاہم ما یشغلہم (ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ) تم ایسا کرو کہ چونکہ ان کو بڑا صدمہ ہے اور وہ پکا نہیں سکیں گے تو ان کو کھانا پکا دو۔ اگر وہ کھانا ہو تو کھا سکتے ہیں، لیکن اگر میت کے گھر میں مشترکہ کھاتے سے پکا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جانا۔ نہ مولوی کھائیں نہ پیر کھائیں۔ پھر عجیب لوگوں کا دھندا ہے کہ کہتے ہیں کہ یہ ایصال ثواب ہے۔ بھئی ایصال ثواب کا تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ کسی غریب کو کھلائے۔ آپ تجربہ کر کے دیکھیں کہ ایسے موقع پر اگر کوئی غریب آ جائے تو لوگ دھکے دیتے ہیں۔ کھاتا کون ہے؟ دادا، ماموں، سسر، داماد، بہنوئی، یہ کھا جاتے ہیں۔ اگر اس کا نام ایصال ثواب ہے تو یہ روزانہ گھروں میں کھاتے ہیں، بھئی ان کا تو حق نہیں ہے۔ فتاویٰ رشیدیہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ جو نفلی صدقہ ہوتا ہے، اس کا کھانا امیر کے لیے مکروہ ہے۔ 

اس لیے بیٹو! ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم آپ کے خلاف ہو اور لعنت بھیجے۔ یہ میں نے مثال کے طور پر دو تین باتیں بیان کی ہیں، ورنہ سارا قرآن کریم اسی مد میں ہے کہ رب تال للقرآن والقرآن یلعنہ۔ بہت سے ایسے قرآن کو پڑھنے والے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا ہے۔ تو علما اور قرا حضرات اور حفاظ بھی میری باتوں کو ملحوظ رکھیں۔ اللہ پاک سب کو توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین

قرآن / علوم قرآن

جولائی تا ستمبر ۲۰۰۹ء

جلد ۲۰ ۔ شمارہ ۷ تا ۱۰

گر قبول افتد زہے عز و شرف
محمد عمار خان ناصر

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت شیخ الحدیثؒ کے اساتذہ کا اجمالی تعارف
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنتؒ کے چند اساتذہ کا تذکرہ
مولانا قاضی نثار احمد

گکھڑ میں امام اہل سنت کے معمولات و مصروفیات
قاری حماد الزہراوی

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ کا تدریسی ذوق اور خدمات
مولانا عبد القدوس خان قارن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی قرآنی خدمات اور تفسیری ذوق
مولانا محمد یوسف

امام اہل سنت رحمہ اللہ کی تصانیف: ایک اجمالی تعارف
مولانا عبد الحق خان بشیر

امام اہل سنتؒ کی تصانیف اکابر علما کی نظر میں
حافظ عبد الرشید

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ اور دفاعِ حدیث
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

منکرینِ حدیث کے شبہات کے جواب میں مولانا صفدر رحمہ اللہ کا اسلوبِ استدلال
ڈاکٹر محمد عبد اللہ صالح

’’مقام ابی حنیفہ‘‘ ۔ ایک علمی و تاریخی دستاویز
ڈاکٹر انوار احمد اعجاز

’’عیسائیت کا پس منظر‘‘ ۔ ایک مطالعہ
ڈاکٹر خواجہ حامد بن جمیل

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تصانیف میں تصوف و سلوک کے بعض مباحث
حافظ محمد سلیمان

سنت اور بدعت ’’راہ سنت‘‘ کی روشنی میں
پروفیسر عبد الواحد سجاد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا انداز تحقیق
ڈاکٹر محفوظ احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا اسلوب تحریر
نوید الحسن

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا شعری ذوق
مولانا مومن خان عثمانی

حضرت والد محترمؒ سے وابستہ چند یادیں
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے
قاضی محمد رویس خان ایوبی

والد محترم کے ساتھ ایک ماہ جیل میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

پیکر علم و تقویٰ
مولانا شیخ رشید الحق خان عابد

دو مثالی بھائی
مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی

حضرت والد محترمؒ کے آخری ایام
مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد

میرے بابا جان
ام عمران شہید

ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ
اہلیہ قاری خبیب

اب جن کے دیکھنے کو اکھیاں ترستیاں ہیں
ام عمار راشدی

ابا جیؒ اور صوفی صاحبؒ ۔ شخصیت اور فکر و مزاج کے چند نمایاں نقوش
محمد عمار خان ناصر

قبولیت کا مقام
مولانا محمد عرباض خان سواتی

جامع الصفات شخصیت
مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق

ایک استاد کے دو شاگرد
حافظ ممتاز الحسن خدامی

داداجان رحمہ اللہ ۔ چند یادیں، چند باتیں
حافظ سرفراز حسن خان حمزہ

کچھ یادیں، کچھ باتیں
حافظ محمد علم الدین خان ابوہریرہ

اٹھا سائبان شفقت
حافظ شمس الدین خان طلحہ

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ام عفان خان

نانا جان علیہ الرحمہ کی چند یادیں
ام ریان ظہیر

میرے دادا جی رحمۃ اللہ علیہ
ام حذیفہ خان سواتی

میرے شفیق نانا جان
ام عدی خان سواتی

وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی
بنت قاری خبیب احمد عمر

بھولے گا نہیں ہم کو کبھی ان کا بچھڑنا
بنت حافظ محمد شفیق (۱)

دل سے نزدیک آنکھوں سے اوجھل
اخت داؤد نوید

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
بنت حافظ محمد شفیق (۲)

شیخ الکل حضرت مولانا سرفراز صاحب صفدرؒ
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی

نہ حسنش غایتے دارد نہ سعدی را سخن پایاں
مولانا مفتی محمد عیسی گورمانی

امام اہل سنت کی رحلت
مولانا محمد عیسٰی منصوری

امام اہلِ سنتؒ کے غیر معمولی اوصاف و کمالات
مولانا سعید احمد جلالپوری

حضرت مولانا محمد سرفراز خاں صفدرؒ کا سانحۂ ارتحال
مولانا مفتی محمد زاہد

علم و عمل کے سرفراز
مولانا سید عطاء المہیمن بخاری

اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
مولانا محمد جمال فیض آبادی

چند منتشر یادیں
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

اک چراغ اور بجھا اور بڑھی تاریکی
پروفیسر غلام رسول عدیم

چند یادگار ملاقاتیں
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

امام اہل سنتؒ: چند یادیں، چند تأثرات
حافظ نثار احمد الحسینی

ایک عہد ساز شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

پروانے جل رہے ہیں اور شمع بجھ گئی ہے
مولانا ظفر احمد قاسم

وما کان قیس ہلکہ ہلک واحد
حضرت مولانا عبد القیوم حقانی

ہم یتیم ہوگئے ہیں
مولانا محمد احمد لدھیانوی

میرے مہربان مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

مثالی انسان
مولانا ملک عبد الواحد

وہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے
مولانا داؤد احمد میواتی

دو مثالی بھائی
مولانا گلزار احمد آزاد

امام اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ چند یادیں
مولانا محمد نواز بلوچ

میرے مشفق اور مہربان مرشد
حاجی لقمان اللہ میر

مت سہل ہمیں جانو
ڈاکٹر فضل الرحمٰن

حضرت مولانا سرفراز صفدرؒ اور مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی خالد محمود

شیخ کاملؒ
مولانا محمد ایوب صفدر

اولئک آبائی فجئنی بمثلھم
مولانا عبد القیوم طاہر

چند یادیں اور تاثرات
مولانا مشتاق احمد

باتیں ان کی یاد رہیں گی
صوفی محمد عالم

یادوں کے گہرے نقوش
مولانا شمس الحق مشتاق

علمائے حق کے ترجمان
مولانا سید کفایت بخاری

دینی تعلق کی ابتدا تو ہے مگر انتہا نہیں
قاری محمد اظہر عثمان

امام اہل سنت مولانا سرفراز خان صفدر
مولانا الطاف الرحمٰن

امام اہل سنتؒ اور ان کا پیغام
حافظ محمد عامر جاوید

ایک شخص جو لاکھوں کو یتیم کر گیا
مولانا عبد اللطیف قاسم چلاسی

تفسیر میں امام اہل سنتؒ کی بصیرت : ایک دلچسپ خواب
ڈاکٹر محمد حبیب اللہ قاضی

امام اہل سنتؒ ۔ چند ملاقاتیں
حافظ تنویر احمد شریفی

مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِؔ سخن داں کا
ادارہ

سماحۃ الشیخ سرفراز خان صفدر علیہ الرّحمۃ ۔ حیاتہ و جہودہ الدینیۃ العلمیّۃ
ڈاکٹر عبد الماجد ندیم

امام اہل السنۃ المحدث الکبیر ۔ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر

العلامۃ المحدث الفقیہ الشیخ محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ
ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

محدث العصر، الداعیۃ الکبیر الشیخ محمد سرفراز صفدر رحمہ اللہ
مولانا طارق جمیل

امام اہل سنتؒ کے عقائد و نظریات ۔ تحقیق اور اصول تحقیق کے آئینہ میں
مولانا عبد الحق خان بشیر

حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کا منہج فکر اور اس سے وابستگی کے معیارات اور حدود
محمد عمار خان ناصر

درس تفسیر حضرت مولانا سرفراز خان صفدر ۔ سورۂ بنی اسرائیل (آیات ۱ تا ۲۲)
محمد عمار خان ناصر

حضرات شیخین کی چند مجالس کا تذکرہ
سید مشتاق علی شاہ

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کے دلچسپ واقعات
مولانا محمد فاروق جالندھری

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

ہمارے پیر و مرشد
محمد جمیل خان

امام اہل سنت کے چند واقعات
سید انصار اللہ شیرازی

تعزیتی پیغامات اور تاثرات ۔ بسلسلہ وفات حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ
ادارہ

حضرت شیخ الحدیثؒ کی وفات پر اظہار تعزیت کرنے والے مذہبی و سیاسی راہ نماؤں کے اسمائے گرامی
ادارہ

مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور متوازن رویہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنتؒ کے علمی مقام اور خدمات کے بارے میں حضرت مولانا محمد حسین نیلویؒ کی رائے گرامی
ادارہ

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات
مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ ۔ شجرۂ نسب سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ
ادارہ

سلسلہ نقشبندیہ میں حضرت شیخ الحدیثؒ کے خلفاء
ادارہ

آہ! اب رخصت ہوا وہ اہل سنت کا امام
محمد عمار خان ناصر

اے سرفراز صفدر!
مولوی اسامہ سرسری

ان کو ڈھونڈے گا اب تو کہاں راشدی
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

امام اہل سنت قدس سرہ
مولانا غلام مصطفٰی قاسمی

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی یاد میں
مولانا منظور احمد نعمانی

مضی البحران صوفی و صفدر
حافظ فضل الہادی

علم کی دنیا میں تو ہے سربلند و سرفراز
ادارہ

قصیدۃ الترحیب
ادارہ

خطیب حق بیان و راست بازے
محمد رمضان راتھر

Flag Counter