خلیفہ مجاز و ابن امام اہلسنتؒ، پیر طریقت الشیخ مولانا رشید الحق خان عابد صاحب مدظلہ والد محترم مولانا عبد القدوس قارن صاحب رحمہ اللہ کی تعزیت کے لیے تشریف لائے۔
چچا محترم والد صاحب کی وفات کے وقت بیرون ملک تبلیغی سفر پر تھے، اطلاع ملنے پر بذریعہ فون بھی اظہارِ غم کیا اور واپسی پر ملاقات کا بھی وعدہ کیا۔ آج ہمارے غم میں شریک ہوئے، حوصلہ اور تسلی دی اور دعاؤں سے نوازا۔
چچا محترم کی مصروفیت کے باعث دادا جی کی وفات کے بعد میرے ساتھ ان کی تقریبا 17 سال بعد ملاقات و زیارت ہوئی۔ زمانہ طالب علمی کا کچھ ذکر کیا، مجھے کہنے لگے کہ کچھ یاد ہے کہ آپ ہمارے کمرے کے ساتھی تھے۔ میں نے کہا جی چاچو جی! اپنی ابتدائی تعلیم کے لیے حضرت دادا جی کے ساتھ گکھڑ سے شروع میں نصرت العلوم آنا ہوا، ایک ہفتہ تقریباً چاچو جی کے ساتھ جامعہ کے صدر دروازے کے اوپر کمرے (اسی کمرے میں چچا محترم مولانا حماد الزہراوی صاحب، مولانا عزیز الرحمٰن خان شاہد صاحب، مولانا منہاج الحق خان راشد صاحب بھی اپنی تعلیم کے دوران رہائش پذیر رہے) میں رہتا اور جمعرات کو داداجی کے ساتھ گکھڑ واپسی ہوتی۔ والد صاحب کی جامعہ و مسجد میں مصروفیت کے باعث رہائش دادا جی کے ہاں گکھڑ میں تھی، یہ سلسلہ کچھ عرصہ چلا، اس کے بعد نصرت العلوم والے مکان میں رہائش پذیر ہوئے۔
حضرت والد محترم صاحبؒ اکثر و پیشتر ذکر کیا کرتے تھے کہ جب انہوں تدریس شروع کی تو پہلی کلاس کو پڑھانے والوں میں چچا محترم مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب بھی اس میں شامل تھے۔ اس سے اگلے سال چچا محترم مولانا قاری حماد الزہراوی صاحب اور مولانا رشید الحق عابد صاحب بھی پڑھنے والوں میں شامل تھے۔