بروز جمعۃ المبارک جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مہمان خانہ میں عم مکرم حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کی معیت و موجودگی میں آیۃ الخیر، شیخ الحدیث حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب ناظم اعلٰی وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے نہایت شفقت، محبت اور خیر خواہی کے جذبات کے ساتھ میرے اور برادر صغیر مولانا حافظ حبیب القدوس معاویہ کے ساتھ ملاقات فرمائی۔
اس بابرکت موقع پر حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کے صاحبزادے مولانا محمد احمد حنیف صاحب، مسئول وفاق شعبہ حفظ گوجرانوالہ مولانا جواد محمود قاسمی صاحب بھی ہمراہ تھے۔ مجلس کا ماحول وقار، سنجیدگی اور دینی اخوت کے جذبات سے لبریز تھا۔ تمام اکابر و معزز حضرات نے حضرت والدِ محترم، شیخ الحدیث مولانا عبد القدوس خان قارن رحمہ اللہ کی وفات پر دلی رنج و غم اور گہرے تعزیتی جذبات کا اظہار کیا۔
گفتگو کے دوران حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب نے بالخصوص حضرت قارن صاحب مرحوم کی علمی، دینی اور تصنیفی خدمات کو تفصیل سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنے دور کے ایک مخلص، باعمل اور صاحبِ بصیرت عالمِ دین تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و حدیث کی تدریس، دینی علوم کی اشاعت اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کا علمی ذوق، تدریسی اسلوب اور تصنیفی خدمات اہلِ علم کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ ہے، اور ان سے فیض یاب ہونے والے تلامذہ آج بھی دنیا بھر مختلف علاقوں میں دینِ اسلام کی خدمت میں مصروف ہیں، جو مرحوم کے لیے صدقۂ جاریہ کا درجہ رکھتا ہے۔
اس موقع پر مرحوم کی سادگی، تقویٰ، اخلاص، استقامت اور امتِ مسلمہ کے لیے بے لوث خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیا اور ان اوصاف کو نئی نسل کے لیے قابلِ تقلید نمونہ قرار دیا گیا۔ بندہ نے حضرت کو اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر تشریف لانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ حضرت نے اس موقع پر کہا کہ آپ کی محبتوں کا بہت بہت شکریہ اللہ تعالٰی آپ کو اس محبت کا بہترین جزا دے اور آپ کے خاندان کے ساتھ تعلقات کو ہماری اولاد اور نسلوں میں بھی قائم رکھے، میرا یہ فرض تھا آج میں اپنے اس فرض کی ادائیگی کے لئے اور آپ حضرات کے حق کی ادائیگی کے لئے حاضر ہوا اللہ تعالٰی قبول فرمائے۔ آمین
مجلس کے اختتام پر تمام حضرات نے حضرت والدِ محترم کے لیے مغفرتِ کاملہ، بلندی درجات، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور جوارِ رحمتِ الٰہی کی خصوصی دعا فرمائی، نیز پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل، استقامتِ قلب اور اجرِ عظیم کی دعا بھی کی گئی۔