مشاہدات و تاثرات

فری لینسنگ: تعارف، اخلاقیات اور احکام

مولانا مشرف بيگ اشرف

باسم ربي الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان ما لم يعلم، وصلى الله على نبيه الأكرم! أما بعد! فری لینسر کی اصطلاح والٹر سکاٹ (1771–1832) کی طبع زاد ہے انہوں نے ایک کہانی " ايفانہو" لکھی (اس کہانی کےسورما کے نام سے اسے موسوم کیا)۔ انہوں نے یہ اصطلاح قرون میانہ کے ایسے جنگجوکے لیے استعمال کی جس نے باقاعدہ فوج کا حصہ بن کر حلف نہیں لیا ہوتا تھا۔ چناچہ یہ اصطلاح دو الفاظ کا مرکب ہے: ۱: فری (Free) یعنی آزاد (اس لیے فری لینسنگ کا تعلق "مفت" سے نہیں بلکہ "آزادی" سے ہے۔) ۲: لینس (Lance)۔ یہ لفظ دراصل لاتینی زبان کے لفظ Lancea سے بنا ہے جس کا مطلب چھوٹا نیزہ ہے۔ موجودہ...

جناب احمد جاوید سے ایک ملاقات

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

جنوری 2020 کے آخری دنوں کی بات ہے، ایک دن کلاسز سے فارغ ہونے کے بعد محترم رفیق ِ کار میاں انعام الرحمن حسب ِ معمول میرے پاس اسلامک ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے اور معمول کی گپ شپ شروع ہوئی۔باتوں باتوں میں بات ملک کے معروف دانش ور ،صوفی،فلسفی اور ادیب محترم جناب احمد جاوید صاحب کے بارے میں چل پڑی ۔اسی گفتگو کے اختتام پر یہ طے پایا کہ ان سے ملاقات کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔میاں انعام صاحب کا غائبانہ تعارف ان سے الشریعہ میں وقتا فوقتا چھپنے والے مضامین کے توسط سے ہو چکاتھا ۔چنانچہ میاں انعام صاحب کے نہایت نفیس دوست عمران مرزا صاحب سے گزارش کی گئی کہ...

مدرسہ ڈسکورسز : علماء وفضلاء کے تاثرات

ادارہ

پروفیسر ادریس آزاد (استاذ زائر، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد)۔ مجھے جب پہلی بار مدرسہ ڈسکورسز کا پتہ چلا تو میں نے کچھ دھیان نہ دیا۔ایک سال یونہی گزرگیا۔ پھر جب میں نے مدرسہ ڈسکورسز کے نصاب اورمباحث پر نظرڈالی تو مجھے حیرت کا نہایت خوشگوارجھٹکالگا۔ یہ میرے لیے بالکل ہی نئی بات تھی۔میں تو مدرسہ ڈسکورسز کو فقط کوئی جدیدیت زدہ پروگرام سمجھ رہاتھا لیکن یہ تو ایک ایسی تحریک تھی جس میں مدرسہ کی پرانی ساکھ اورقوت واپس بحال کرنے کی پوری پوری صلاحیت موجود تھی۔ چنانچہ میرے دل میں مدرسہ ڈسکورسزکے ساتھ متعلق ہوجانے کی خواہش پیدا ہوئی۔میری...

حریف جدیدیت کا فاؤسٹ اور تنقید کی گریچن

عاصم بخشی

گوئٹے کا المیہ ناٹک فاؤسٹ1 یوں تو بہت سے دل گرفتہ مناظر کی بُنت سے تخلیق کیا گیا ہے، لیکن گریچن کا قصہ یقیناً اس کا سب سے الم ناک منظر ہے۔ گریچن ایک ایسا معصوم، مخلص اور دلچسپ کردار ہےجو ایک چھوٹی سی محفوظ اور بند مذہبی دنیا سے نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہی ننھی سی دنیا ہے جس میں کبھی فاؤسٹ پلا بڑھا تھا لیکن وہ کب کا اسے کھو بیٹھا ہے۔اب وہ اس کا رخ محض ایک ایسے ناظر کی حیثیت سے کرتا ہے جسے اس پر تبصرہ و تنقید مقصود ہے۔ گریچن کی کہانی بنیادی طور پر لاحاصل محبت کے کرب کی کہانی ہے۔اس کا نسوانی حسن دراصل اس روایتی دنیا کا علامتی حسن ہے جس کی...

اے خانہ بر انداز چمن ! کچھ تو ادھر بھی

محمد اظہار الحق

چار دن سے مولوی صاحب نظر نہیں آ رہے تھے۔ ایک اور صاحب نمازیں پڑھا رہے تھے۔ پانچویں دن مؤذن صاحب سے پوچھا کہ خیریت تو ہے؟ مولانا کہاں ہیں؟ کیا چُھٹی پر ہیں؟ مؤذن صاحب نے بتایا کہ اُن کا تبادلہ ایک اور مسجد میں ہو گیا ہے۔ یہاں اُن کی مدت (Tenure) پوری ہو چکی تھی! اُس دن جمعہ تھا۔ نئے مولوی صاحب ہی نے خطبہ دیا۔ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا چودہ سال سے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی سے وابستہ ہیں اور کچھ دیگر مساجد میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں! اس وقت ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی اور بحریہ، دونوں کی رہائشی آبادیوں میں یہی سسٹم کارفرما ہے۔ کسی مسجد میں چندہ لیا جاتا...

ہم نام و ہم لقب علماء

مفتی شاد محمد شاد

علم الرجال اور تراجم پر کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں،جن میں مختلف علاقوں اور زمانوں کی شخصیات اور علماء کا مختصر اور تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں جب کسی شخصیت یا عالم کا تذکرہ کرنا مقصود ہوتا ہے تو مصنف عموما مکمل نام ذکر کرنے کے بجائے صرف کنیت،نسبت یا لقب لکھنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے،لیکن بسااوقات ایک کنیت،نسبت یا لقب سے ایک سے زیادہ علماء وشخصیات مشہور ہوتی ہیں،بلکہ اس سے بڑھ کر ایک نام سے بھی کئی شخصیات مشہور ہیں، تو ایسی صورتحال میں اگر مصنف محض کنیت،یا نسبت یا لقب ذکر کرتا ہے تو قاری کو تشویش ہوجاتی ہے کہ اس سے...

عزیزم محمد عمار خان ناصر کا اعزاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۵ فروری ۲۰۱۹ء میرے لیے ذاتی اور خاندانی طور پر انتہائی خوشی کا دن تھا کہ اس روز میرے بڑے فرزند حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر کے آخری زبانی امتحان (Viva voce) میں سرخروئی حاصل کی، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔عمار خان ناصر نے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کی تعلیم مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے حاصل کی اور اپنے دادا محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے دورۂ حدیث میں بخاری شریف پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ایم اے کیا، اس کے بعد جامعہ نصرۃ...

احمدیوں اور دیگر غیر مسلموں کے مابین فرق پر ایک مکالمہ

محمد عمار خان ناصر

احمدیوں کی مذہبی وشرعی حیثیت کے ضمن میں ایک سوال اہل علم اور خاص طور اہل فقہ وافتاء کی توجہ متقاضی ہے، اور وہ یہ کہ احمدیوں کو ہم نے ایک آئینی فیصلے کے تحت غیر مسلم تو قرار دے دیا ہے، تاہم یہ معلوم ہے کہ ان کی حیثیت مسلمانوں ہی کے (اور ان سے نکلنے یا نکالے جانے والے) ایک مذہبی فرقے کی ہے۔ ہم ایک بنیادی عقیدے میں اختلاف کی بنیاد پر ان پر مسلمانوں کے احکام جاری نہیں کرتے، لیکن مذاہب کی تقسیم کے عام اصول کے تحت، کم سے کم غیر مسلموں کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ شمار ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ گروہ بھی اسلام کے ساتھ اپنی نسبت اور پیغمبر اسلام...

دینی خدمات کا معاوضہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے: ’’کل قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ مسجد میں ماربل، اے سی، بہترین قالین اور عمدہ جھاڑ فانوس وغیرہ لگائے تھے یا نہیں؟ لیکن اگر اتنی کم تنخواہ دی جس سے روزمرہ کی عام ضروریات زندگی بھی پوری نہ ہو سکیں تو یہ ان کی حق تلفی ہے جس کا...

مظلوم کی مدد کیجیے، لیکن کیسے؟

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

روہنگیا مظلوموں پر ظلم کے خلاف سوشل میڈیا پر بہت کچھ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر خوش آئند ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سوشل میڈیا کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ تاہم کئی پہلووں سے تشنگی محسوس ہورہی ہے اور بعض پہلووں سے اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے ہی چند امور یہاں سنجیدہ غور و فکر کے لیے پیش کیے جاتے ہیں: سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روہنگیا کے بارے میں حقائق کا علم بہت کم لوگوں کو ہے۔ بالعموم ایک جذباتی فضا نظر آتی ہے جس کے زیر اثر ایک عمومی اتفاقِ رائے تو پایا جاتا ہے کہ ان پر شدید ترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں لیکن حقائق اور اعداد...

اسلامی ریاست کا خواب: کچھ جدید مباحث

عاصم بخشی

(طلال اسد کے اپنے والد کے ساتھ مکالمے کی روشنی میں)۔ میدانِ صحافت میں روایتی مذہب پسند دوستوں کی رائج تعریفات کے مطابق دایاں بازو مملکت خداداد کو ایک اسلامی فلاحی ریاست دیکھنا چاہتا ہے جبکہ بایاں بازو سیکولرازم کا پرچارک ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر یہاں ایک طرف سے اسلامی فلاحی ریاست کی تعریف پر سوال اٹھتے ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کی تعریف و تعبیر اور اطلاق پر سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں جو حضرات کسی بھی نظریاتی گروہ کو ایک ٹھوس اکائی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہیں درمیان میں ڈولتے رہنے کا نظریہ اپناتے ہوئے کچھ بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کے...

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

1970ء کا آغاز ہوا تو میں میٹرک سے فارغ ہو چکا تھا۔ ابھی کالج میں داخلہ نہیں لیا تھا۔ ہر سو سیاست ہی سیاست ہی تھی۔پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کے ڈنکے بج رہے تھے۔جماعت اسلامی کے لوگ ابھی تک انتخابی شکست کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔مسلم لیگ بھی شکستہ دیوار کی مانند گرچکی تھی۔اخبارات میں صرف شیخ مجیب الرحمان، ذوالفقار علی بھٹو اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خاں میں شکست دینے والے مفتی محمود کے تذکرے اور ان پر تبصرے شائع ہوتے۔ جمعیۃ علماء اسلام والے خوش تھے کہ ناقابل تسخیر بھٹو کو مفتی محمودنے ڈیرہ اسماعیل خاں میں انتخابی شکست سے دوچار کیا ہے۔گوجرانوالہ...

DNA کے بارے میں چشم کشا حقائق

مولانا مفتی منیب الرحمن

گزشتہ سال اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے قرار دیا کہ DNA کی فارنزک لیبارٹری رپورٹ کو حدِّزنا جاری کرنے کے لیے حتمی اور قطعی شہادت (Absolute Evidence)کے طورپر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے عینی شہادت(Eye Witness)کا مطلوبہ شرعی معیار لازمی ہے،ا لبتہ اسے ظنّی شہادت ،قرائن کی شہادت اور تائیدی شہادت کے طورپر لیا جا سکتا ہے اور عینی شہادت کی عدم دستیابی کی صورت میں عدالت مطمئن ہو تو تعزیر۱ًسزا دے سکتی ہے۔ اس پر ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا، لبرل عناصر نے کہرام مچا دیا، ان میں حقوق نسواں اور حقوق انسانی کے نام پر تنظیمیں چلانے والی NGOsاور دیگر فعال عناصرسب...

احمدی اور تصورِ ختم نبوت : ایک احمدی جوڑے سے گفتگو

ڈاکٹر محمد شہباز منج

ایک یونی ورسٹی کی احمدی طالبہ میری نگرانی میں ایم فل کا تھیسز لکھ رہی ہے۔ وہ اپنے کام کے سلسلے میں اپنے خاوند کے ساتھ میرے پاس آتی ہے۔ پہلی دفعہ تو وہ دونوں بہت گْھٹے گْھٹے سے لگے،تاہم میں نے روٹین کے مطابق ان سے بساط بھر عام نرم و مہمان نواز لہجے اور ٹون میں بات کی ، اور کام سے متعلق لڑکی کی رہنمائی بھی کی۔ دی گئی رہنمائی کے مطابق کا م کرنے کے بعد وہ دونوں میاں بیوی گذشتہ روز پھر آئے۔رسمی ملاقات اور مقالے سے متعلق گفتگو کے بعد میں نے کہا: میں ایک تحقیقی ذہن کا آدمی ہوں اور آپ بھی محقق ہیں، میری کسی بات کو مائینڈ نہیں کرنا، نہ میں آپ کی کوئی بات...

فرزند جھنگویؒ اور جمعیۃ علماء اسلام

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا مسرور نواز جھنگوی کی الیکشن میں بھاری اکثریت سے کامیابی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان دونوں اچھی اور حوصلہ افزا خبریں ہیں جن پر دینی حلقوں میں خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جھنگ کی صورتحال میں اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاجا رہا ہے۔ ہمارے جذبات بھی اس حوالہ سے یہی ہیں اور ہم اپنے عزیز محترم مولانا مسرور نواز کو مبارک باد دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ موصوف کے ساتھ کوئی ملاقات تو یاد نہیں ہے مگر ان کے والد محترم حضرت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے ساتھ ایک عرصہ تک ملاقاتیں اور دینی جدوجہد میں رفاقت رہی ہے۔ ہم دونوں...

مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے متوقع مثبت اثرات

محمد عمار خان ناصر

(جھنگ کی صوبائی نشست پر مولانا مسرور نواز کی کامیابی کے حوالے سے سوشل میڈیا کے لیے لکھی گئی مختصر تحریر)۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ یہ کامیابی ایک بہت بڑے حلقے کو، جو صحیح یا غلط وجوہ سے گزشتہ تین دہائیوں سے حکومتی وسیاسی پالیسیوں سے نالاں تھا اور بڑی حد تک مین اسٹریم کی مذہبی جدوجہد سے کٹ چکا تھا، دوبارہ اس میں واپس لانے اور جمہوری طرز جدوجہد پر اس کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی حکومت نے بھی یقیناًایسے عناصر کو اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے جو ہر لحاظ سے درست اور دانش مندانہ ہے۔ ناراض عناصر...

جمعیۃ طلباء اسلام اور جمعیۃ علماء اسلام سے میرا تعلق

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے سابق راہ نما رانا شمشاد علی خان کے سوال نامہ کے جواب میں لکھا گیا۔)۔ سوال نمبر ۱۔ کیا آپ کبھی JTI کے ساتھ منسلک رہے؟ آپ کا JTI سے کیا تعلق تھا؟ سوال نمبر ۲۔ JTI سے آپ کی وابستگی کے خدوخال کیا تھے؟ سوال نمبر ۳۔ JTI کا تحریک نظام مصطفیؐ، تحریک جمہوریت، تحریک ختم نبوت میں کیا کردار رہا؟ سوال نمبر ۴۔ کیا JTI کی قیادت نے کالجز اور مدارس کے طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے ملاں اور مسٹر کے فرق کو ختم کیا، اور کہاں تک کامیاب رہی؟ سوال نمبر ۵۔ JTI اور JUI کا آپس میں کیا تعلق تھا؟ سوال نمبر ۶۔ JTI غیر سیاسی طلبہ تنظیم تھی اور اپنے فیصلے...

مولانا گلزار احمد آزاد کے سفر جاپان کے مشاہدات

حافظ محمد رشید

۱۴ اگست کو الشریعہ اکادمی میں گوجرانوالہ کی معروف دینی شخصیت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ حافظ صاحب حال ہی میں جاپان کا دورہ کر کے واپس تشریف لائے ہیں۔ ان کا یہ سفر جاپان کے درد دل رکھنے والے حضرات کی درخواست پر ہوا جو وہاں قادیانی حضرات کی سرگرمیوں کی وجہ سے فکر مند تھے ۔ حافظ صاحب نے اس نشست میں جاپانی قوم کی چند نمایاں خصوصیات اور وہاں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا ۔ ان کے خیالات کا خلاصہ حسب ذیل ہے: آج پاکستان میں سارے لوگ جشن آزادی منا رہے ہیں۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ۔ پاکستان...

مولانا عمار خان ناصر کے سفر امریکا کے تاثرات

ادارہ

۱۴ اگست کو ہی بعد از نماز عصر اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر مولانا عمار خان ناصر نے اپنے حالیہ سفر امریکہ کے تاثرات بیان کیے۔ مولانا عمار خان ناصر نے ڈریو یونیورسٹی (نیو جرسی، امریکہ) میں قائم سنٹر فار ریلیجن، کلچر اور کانفلکٹ ریزولوشن (CRCC) کی دعوت پر ۱۰ تا ۲۸ جولائی، تین ہفتے کے ایک سمر انسٹی ٹیوٹ میں شرکت کی جس کا عنوان ’’مذہب اور حل تنازعات‘ ‘ تھا۔ مولانا عمار خان ناصر کے تاثرات کا خلاصہ حسب ذیل ہے: آج کی دنیا میں مذہب کے مطالعہ کا ایک بڑا نمایاں زاویہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی ایک سے زیادہ مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں اور ان کے درمیان تنازعات...

روزنامہ ’’دنیا‘‘ کے لیے مولانا زاہد الراشدی کا انٹرویو

رانا محمد آصف

(روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والا انٹرویو ضروری اصلاح و ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جس کی نظر ثانی مولانا راشدی نے کی ہے۔)۔ اب سے ربع صدی قبل کے زمانے کے ایک سرگرم سیاسی کارکن علامہ زاہد الراشدی نے عملی سیاسی سرگرمیوں سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کر لی ہے لیکن فکری اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اب بھی کئی تنظیمات اور فورموں سے وابستہ ہیں۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کیا۔ اسی طرح لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر عالمی...

دیوبند کا ایک علمی سفر

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

دارالعلوم دیوبند ہندوستان کے مسلمانوں کا دھڑکتاہوا دل ہے۔ وہ ازہر ہند کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ راقم السطور نے اس سے قبل بھی تین مرتبہ دیوبند کا سفر کیاہے۔سب سے پہلا سفر زمانہ طالب علمی میں آج سے کوئی 20سال پہلے کیاتھا جس کی کوئی خاص بات یاد نہیں۔ بس اتنایادہے کہ بعض دوستوں کے ساتھ مولانا سعیداحمد پالن پوری کے درس ترمذی میں شرکت کی تھی جس کا ان دنوں شہرہ تھا۔ ایک سفرکسی استفتاء کی خاطر، اور ایک بعض کتابوں کی خریداری کے لیے ہواتھا کیونکہ دیوبند ہند و ستان میں اردو وعربی میں علمی کتابوں کی سب سے بڑی اورسستی مارکیٹ بھی ہے۔ بہر حال میرے...

لاہور کے سیاست کدے

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

لاہور کے بادامی باغ سے اگر آپ ریلوے اسٹیشن کی طرف جائیں تو دائیں جانب پہلے مستی گیٹ اور اس سے آگے شیرانوالہ گیٹ نظر آئے گا۔ اب تو ہجوم آبادی کے سبب لاہور کے سب تاریخی دروازوں کی طرح اس کا بھی حسن گہنا گیا ہے ۔ دروازے کے اندر داخل ہوں تو دائیں جانب وہ تاریخی مسجد شیرانوالہ گیٹ ہے جہاں پاکستان کی سیاست کے کئی اسرار ورموز دفن ہیں۔ یہ مسجد ایوب خاں اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کا مرکز رہی ہے۔ تحریک ریشمی رومال کے بانی مولانا عبید اللہ سندھی کے جانشین مولانا احمد علی لاہوری نے ایک عرصہ تک یہاں اللہ اور اللہ کے رسول...

میخانے کا محروم بھی محروم نہیں ہے

مولانا عتیق الرحمن سنبھلی

(یہ عمرہ کے سفر کی کچھ روداد ہے۔اس کا اگر کوئی فائدہ ہو تو اس کا ثواب برادرِ عزیز حسان نعمانی کے حساب میں کہ یہ تحریر محض ان کی فرمائش پر ہے۔)۔ بسم اللہ حمداً وَّسلاماً۔ چالیس برس ہوتے ہیں جب شمالی برطانیہ کے شہر ڈیوز بری میں سکونت پذیر محترم مولانا یعقوب قاسمی زید مجدہم نے راقم کی صحت کے حوالہ سے اپنے یہاں کچھ وقت گزارنے کی دعوت دیتے ہوئے آمد و رفت کاایسا ٹکٹ ارسال فرمایا کہ واپسی براہِ جدہ تھی، یعنی اسی سفر میں حج کی سعادت بھی حاصل کی جا سکتی تھی۔اللہ مولانا کو ہردوعالم میں جزائے خیر سے نوازے،یہ سعادت حاصل ہوئی۔یہ دسمبر۱۹۷۵ء تھا۔ ۱۹۷۶ء سے...

علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور موچی دروازہ میں اصغر خاں نے ایک جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا ۔یہ 1976 کا آغاز تھا۔ جلسے سے پہلے تحریک استقلال کی اعلیٰ سطح کی قیادت کا اجلاس میاں محمود علی قصوری کی رہائش گاہ 4 فین روڈ پر ہوا۔ ابھی تک اصغر خاں کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو کے پورے دور حکومت میں کسی دیگر راہنما نے عوامی جلسوں سے خطاب کرنے وہ طرح نہیں ڈالی تھی جو ہزاروں لاکھوں لوگوں کو جمع کر سکے۔ البتہ چوہدری ظہور الٰہی مرحوم نے مسلم لیگ میں قدرے جان ڈالے رکھی۔ جماعت اسلامی بھی پیپلز پارٹی کے خلاف صف آرا رہی ، مگر بڑے جلسوں کی بجائے ان کا ہدف تعلیمی ادارے تھے...

رفیق احمد باجوہ ۔ ایک بھولا بسرا کردار

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاہور کے رہائشی علاقے شاد باغ میں رفیق احمد باجوہ ایڈووکیٹ (مرحوم) کے گھر پر ملک بھر کے سیاسی راہنماؤں کا ایک اجلاس ہوا ۔ یہ 10 جنوری 1977کی اک سہ پہر تھی۔ میں LLB کے امتحان سے فارغ ہو کر ہمہ وقت تحریک استقلال کے لیے کام کرتا تھا ۔ نہ دن کا پتہ نہ رات کا، بس سیاست کا سودا ہی ذہن میں سمایا رہتا۔ ہم کچھ لوگ رفیق باجوہ صاحب کے دروازے پر کھڑے ہو کر آنے والوں کا استقبال کرتے ۔ جمعیت علما ء پاکستان کے سربراہ شاہ احمد نورانی اور مولانا عبد الستار نیازی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے ۔ پھر ایئر مارشل (ر) اصغر خاں، بیگم نسیم ولی خان، خاکسار لیڈر...

پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش چوہانؒ

ابو محمد سلیم اللہ چوہان سندھی

میرے مربی، میرے محسن اور میرے والد گرامی پروانہ جمعیت صوفی خدا بخش بن اللہ بخش بن خدا بخش چوہان (بانی مدرسہ دارالتعلیم حمادیہ) ان شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنے اعمال صالحہ، کریمانہ اخلاق اور بے شمار خوبیوں کی وجہ سے اپنا نیک نام چھوڑا ہے۔ ان کی ولادت 1944 میں گوٹھ راجو چوہان، تحصیل لکھی غلام شاہ، ضلع شکارپورمیں ہوئی۔ دنیوی تعلیم پانچ جماعتوں تک اپنے گاؤں راجو گوٹھ میں حاصل کی۔ قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم بھی اپنے اسی گاؤں میں حاصل کی۔ والد محترم باضابطہ عالم نہ تھے، البتہ علماء صلحاء کے صحبت یافتہ ضرورتھے۔ فقط ناظرہ قرآن اور اسکول کی پانچ جماعتیں...

میری صحافتی زندگی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اخبارات و جرائد میں کسی نہ کسی بہانے مراسلے، بیانات، اجلاسوں کی رپورٹیں اور ہلکے پھلکے مضامین لکھنے کا ’’چسکہ‘‘ تو 1964ء میں ہی شروع ہوگیا تھا جب میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اپنی طالب علمی کے تیسرے سال میں تھا۔ حافظ سید جمیل الحسن مظلوم مرحوم ’’نوائے گوجرانوالہ‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالتے تھے۔ گھنٹہ گھر کے قریب چوک غریب نواز میں دفتر تھا جو ہمارے مدرسہ سے چند قدم کے فاصلے پر ہے۔ مولانا عزیز الرحمن خورشید اور مولانا سعید الرحمن علویؒ بھیرہ کے حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ کے فرزند تھے اور نصرۃ العلوم میں زیر تعلیم تھے۔...

بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی اور اس کا سدباب

محمد فیصل شہزاد

(یہ ایک حساس، سلگتا ہوا مگر انتہائی ضروری موضوع ہے جو شاید کسی طبع نازک کو ناگوار گزرے مگر بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں اور یاد رکھیں کہ ہم سب کے ہی بچے ہر وقت جنسی کتوں کی نظر میں ہیں۔ اگر آج ہم ضروری اقدامات نہیں کریں گے تو خدانخواستہ ہمارے بچے بھی غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے پڑھیے، سمجھیے، عمل کیجیے اور شیئر کیجیے تا کہ ہمارا اور ملک کا مستقبل، ہمارے معصوم بچے، ان گلی کوچوں میں آزاد گھومتے جنسی درندوں کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ سب بچوں کی ہر طرح حفاظت فرمائے آمین! اعداد وشمار اور معلومات کے لیے ادارہ ’’روزن‘‘...

شعبہ مساجد ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کا نظم و نسق ۔ دیگر نظام ہائے مساجد کے لیے راہنما اصول

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

DHA لاہور، پاکستان آرمی کا ماتحت بااختیار ادارہ ہے، جس کا مقصد اپنے رہائشیوں کو عالمی سطح کے معیار کے مطابق رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ بنیادی طور پر آرمی آفیسرز کے لیے بننے والے اس رہائشی منصوبہ کو بعد ازاں عوام الناس کے لیے وسعت دے دی گئی۔ اسی نام سے کراچی اور اسلام آباد میں بھی ادارے موجود ہیں۔ DHA لاہور، نہ صرف رہائشی سہولیات کے لحاظ سے ایک ممتاز حیثیت کاحامل ہے بلکہ دینی امور اور مساجد کا مستحکم ومنظم شعبہ، 25 سال سے یہاں آباد لوگوں کی مذہبی و روحانی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔ اس وقت کل 35 مساجد موجود ہیں جو ’’مسجد ۔ تمام مسلمانوں کے لیے‘‘...

تمغۂ امتیاز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ ۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا اور وہ میں نے شادی کے دوسرے دن چھوٹے بھائی مولانا عبد القدوس قارن کو دے دی۔ اپنے اپنے مزاج کی بات...

فرضیت جہاد کے نصوص کا صحیح محل / اختلاف اور نفسانیت

محمد عمار خان ناصر

فرضیت جہاد کے نصوص کا صحیح محل۔ قرآن مجید کے متعدد نصوص میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے گروہ پر کفار ومشرکین کے خلاف قتال کو فرض قرار دیتے ہوئے انھیں اس ذمہ داری کی ادائیگی کا حکم دیا گیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کو قربان کرنے کی مسلسل اور پرزور تاکید کی گئی ہے۔ قرآن وسنت کے نصوص سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیرو اہل ایمان کو عہد نبوی کے معروضی حالات کے تناظر میں جہاد وقتال کا حکم دو طرح کے مقاصد کے تحت دیا گیا تھا: ایک اہل کفر کے فتنہ وفساد اور اہل ایمان پر ان کے ظلم وعدوان کا مقابلہ کرنے کے لیے...

میری علمی و مطالعاتی زندگی (پروفیسر خورشید احمد کے مشاہدات و تاثرات)

عرفان احمد

اللہ تعالیٰ کا میرے اوپر یہ بڑا فضل رہا ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ دینی اور علمی دونوں اعتبار سے ایک اچھا گھرانا تھا۔ میرے والد مرحوم علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں تحریک خلافت مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے لیے جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ والد محترم کے دینی، سیاسی اور ادبی شخصیات سے گہرے روابط تھے اور ایسے سربرآوردہ حضرات کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا، اس لیے بچپن ہی میں دہلی کی ادبی اور ثقافتی زندگی سے استفادے کا موقع ملا۔ بچوں کی ایک انجمن دلی میں تھی جس کا میں سب سے کم عمر صدر منتخب ہوا۔ جامعہ ملیہ میں سپورٹس‘...

فرانس کے ایک مختصر دورے کے تاثرات

محمد عمار خان ناصر

۱۲ سے ۱۴ دسمبر ۲۰۱۴ء، مجھے تین دن کے لیے فرانس کے شہر Lyon میں امیر عبد القادر الجزائریؒ کے حوالے سے منعقد ہونے والے ایک سلسلہ تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ پروگرام مختلف قسم کی سرگرمیوں پر مشتمل تھا اور اس کا اہتمام بنیادی طور پر فرانس میں مقیم الجزائری مسلمانوں کی ایک مقامی تنظیم نے کیا تھا، جبکہ امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور تاریخی کردار سے مختلف حوالوں سے دلچسپی رکھنے والی بعض دوسری تنظیموں نے اس میں معاونت کی تھی۔ الجزائر میں، جو امیر عبد القادر کا اصل وطن ہے، کئی فورمز پر اور کئی حوالوں سے مختلف سطحوں پر امیر عبد القادر کی...

ترجمہ قرآنی ۔اور۔ میری کہانی

مولانا سید سلمان الحسینی الندوی

ستمبر ۱۹۵۴ء میں میری پیدائش ہوئی۔ والد صاحب مظاہر علوم سے فارغ ہوکر حضرت مولانا علی میاںؒ کی خدمت میں ۱۹۵۰ء میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ وہ حضرت مولاناؒ کے ۱۹۵۰ء کے سفرِحجاز میں دیگر چند حضرات کے ساتھ شریک تھے۔ سفر تبلیغی ودعوتی تھا۔ والد صاحب دوسال کے لیے حجاز میں رہ گئے۔اس دوران عراق ،شام وفلسطین کے تبلیغی اسفار کا موقع ملا۔ حجاز کے دورانِ قیام امامِ حرمِ مکی شیخ عبد المہیمن مصری سے قراء ت کی مشق کی۔ قرآن پاک کا حفظ بھی شروع کیا۔ وہ ان کے لہجہ سے متاثر ہوئے۔ حفظ مکمل تو نہیں ہوسکا تھا لیکن...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر اسلم فرخی)

عرفان احمد

اگرمیں بیان کرناشروع کروں گا تو آج کا دن کل کے دن میں بدل جائے گا لیکن میرے دل کا حال پھر بھی بیان نہیں ہو سکے گا، چونکہ ہرآدمی جومیری عمرکاہے اور جس نے لمبی زندگی گزاری ہے، اُسے اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچ کرماضی کی بازیافت سے بہت دلچسپی پیداہوجاتی ہے۔ میں تو عملاً کبھی اپنے حالات زندگی کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے بارے میں کچھ کہنا نہایت مشکل بات ہے۔ اگرصحیح بات کہوں تو سننے والے یہ کہتے ہیں کہ صاحب بڑی تعلیٰ سے کام لیا اوربہت غلوسے کام لیا۔ اختصار برتوں توسننے والے کچھ اور سوچیں...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر زاہد منیر عامر)

عرفان احمد

میری مطالعاتی زندگی کی ابتدا ایک ’’چھن‘‘ سے ہوتی ہے۔ متوسط درجے کے گھرانوں کے بچے اُکھڑے ہوئے فرش والے کلاس روم میں ریشہ ریشہ وردیدہ ٹاٹوں پر بیٹھے ہیں، سرکاری اسکول کے استاد میز پر ٹانگیں رکھے سگریٹ پینے میں مشغول ہیں، دھوئیں کے مرغولے اڑ رہے ہیں، ان کا ایک مستقل مہمان میز پر بیٹھا ان سے باتیں کررہا ہے۔ اچانک ’’چھن‘‘کی ایک آواز ابھرتی ہے۔ استاد محترم جو اپنے مہمان کی بات بھی کم ہی سن رہے تھے، چونک کرسگریٹ کے دھوئیں کوفضامیں بکھیرتے ہیں اور غضب ناک ہو کر پوچھتے ہیں ’’ یہ آواز کہاں سے آئی ہے۔۔۔؟‘‘ لڑکوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے، ساری کلاس...

عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’’محترمی ومکرمی ومخدومی وحبی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد! کچھ عرصہ سے اخبارات اور جرائد میں حضرت والا کے فرزند ارجمند کے نظریات ورجحانات پر کچھ علماء واہل قلم اپنے اپنے انداز میں تحفظات بلکہ واضح انداز میں تنقید واعتراضات رقم کر رہے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ ان محررین کی آپ کے صاحبزادے سے ملاقات اور آمنے سامنے گفتگو بھی ہوئی یا نہیں، کیونکہ حق تو یہ ہے کہ صاحب کلام سے اس کے کلام کی توضیح پوچھی جائے، لیکن یہ بات بھی مسلم ہے کہ ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ اور صریح بات میں نیت نہیں پوچھی جاتی۔ ممکن ہے کہ ناقدین وجارحین نے صاحبزادہ کے کلام...

علماء اور جدید طبقوں میں ہم آہنگی

مولانا مفتی محمد زاہد

میں سب سے پہلے تو جناب پروفیسر عبد الماجد صاحب اور ’’سرسٹ‘‘ میں ان کی پوری ٹیم کو اس دور افتادہ جگہ میں ایسی شاندار علمی و فکری محفل جمانے اور اس سطح کے اہل فکر و دانش کو جمع کرنے پر ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار بھی ہوں کہ انہوں نے مجھ جیسے طالب علم کو اس محفل میں شریک ہو کر مستفید ہونے اور اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عطا فرمایا۔ یہ سیمینار انسانیت کے اجتماعی المیے کے حوالے سے چل رہا ہے، مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ انسانیت کو بحیثیت مجموعی موضوع بحث بنایا گیا، تمام انبیاء علیہم السلام بالخصوص خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم...

ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات ۔ پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو

محمد عمار خان ناصر

مشعل سیف: میرا نام مشعل سیف ہے۔ میں ڈیوک یونیورسٹی امریکا سے پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔ آپ ویسے تو ماشاء اللہ بہت مشہور ہیں، لیکن اگر اپنا مختصر تعارف کرا دیں اور اپنی تعلیم کے بارے میں بتا دیں کہ آپ نے کہاں کہاں سے سندیں حاصل کی ہیں تو مناسب ہوگا۔عمار ناصر: ہمارا جو خاندانی پس منظر ہے، وہ ایک مذہبی گھرانے کا ہے۔ میرے دادا اور میرے والد کے حوالے سے ہمارے خاندان کو ایک معروف مذہبی گھرانے کے طور پر جانا جاتاہے۔ اپنی خاندانی روایت کے مطابق، میں نے بچپن میں حفظ قرآن کی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد درس نظامی کا ایک آٹھ سالہ کورس ہوتا ہے جس میں ہمارے روایتی...

محافل سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم

مولانا وقار احمد

ربیع الاول میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور قدسی ہوا ۔ اس مناسبت سے دنیا بھر میں مسلمان ربیع الاول میں میلاد النبی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات سے محافل منعقد کرتے ہیں۔ ان محافل میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور کردار کو واضح کرنے کی اپنی سی سعی کی جاتی ہے۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایسی محافل بہت ہی بابرکت اور بہترین ہیں کہ ان میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک کیا جاتا ہے اور مبارک ہیں وہ قلوب جو نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے لبریز ہیں۔ بلا...

دو ہفتے پاکستان میں

مولانا محمد عیسٰی منصوری

بندہ تقریباً چار پانچ سال سے پاکستان نہیں جا سکا تھا۔ وجہ پاکستان کے دھماکہ خیز حالات، بدامنی، دہشت گردی، علاقائی ولسانی جھگڑے۔ ان چیزوں نے ملک کو کسی علمی، دینی، اصلاحی کام کے لیے ناساز گار بنا دیا ہے۔ دوسرے، بھارت و پاکستان کے درمیان کشیدگی وبے اعتمادی۔ دونوں طرف ایک چھوٹا سا طبقہ ہے جو نہایت طاقتور ہے اور وہ حالات کو بہتر ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور بڑی عالمی طاقتوں کا مفاد بھی دنیا بھر کے ممالک و قوموں کے لڑانے میں ہے۔ بندہ نے ۲۰۱۱ء کے اواخر میں اس خیال سے ویزا لے لیاتھا کہ رائے ونڈ کے سالانہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرسکا تو چلا جاؤں گا۔ بھارت...

میری علمی و مطالعاتی زندگی (حکیم محمود احمد برکاتی سے انٹرویو)

عرفان احمد

میری ولادت ریاست ٹونک میں 1926 میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وطن میں پھر درس نظامی کی تکمیل اجمیر میں، پھر طب کی تحصیل طبیہ کالج دہلی میں، فراغت کے بعد مطب اور تدریس، 1952میں پاکستان کی طرف ہجرت، یہاں 1957 سے مطب کا سلسلہ اور برکاتی دواخانے کی بنا۔ 1964میں برکات اکیڈمی کا قیام، اب اجل مسمی کا بے تابی سے انتظار۔ تالیفات: سیرت فریدیہ از سرسید کی تدوین 1964، فضلِ حق خیر آبادی اور سن ستاون 1975، شاہ ولی اللہ اور ان کا خاندان (تخلیق مرکز لاہور، مکتبہ جامعہ دہلی)، مولانا معین الدین اجمیری: افکار و کردار، مولانا معین الدین اجمیر: تلامذہ کا خراج عقیدت، ترجمہ اتفاق...

مولانا زاہد الراشدی کی مجلس میں

حافظ زاہد حسین رشیدی

مخدوم و محترم حضرت علامہ زاہد الراشدی زید مجدہم کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق تو ہے ہی، علاوہ ازیں باہم رشتہ داری کی ایک ڈوری بھی بندھی ہے جو میرے لیے استفادہ کے مواقع پیدا کرتی رہتی ہے۔ حضرت المخدوم مدظلہ کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا حافظ عبد الحق خان بشیر نقشبندی مدظلہ میرے ہم زلف ہیں۔ چنانچہ بعض مواقع پر اس واسطہ سے حضرت علامہ مدظلہ تک بے تکلف رسائی ممکن ہو جاتی ہے اور یہ طالب علم اظہار ما فی الضمیر کی جسارت کے ساتھ ساتھ آں محترم کی شفقتیں اور محبتیں بھی سمیٹتا ہے۔ ’’عشاقِ زلف زندہ جاوید کیوں نہ ہوں، ہاتھ آگیا ہے سلسلہ عمرِ دراز کا‘‘۔ ۲۲...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹرصفدر محمود سے انٹرویو)

عرفان احمد

گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے ڈنگہ سے میراتعلق ہے، جو کھاریاں رسول روڈ پر صدیوں سے واقع ہے، سندر داس ایک بہت بڑابزنس مین تھا اُس نے ڈنگہ میں بہت ہی شاندار بلڈنگ ہائی سکول کے لیے بنوائی تھی، اب یہ ہائر سکینڈری سکول ہے آٹھویں تک میری تعلیم وہاں ہوئی جس تعمیر ملت سکول رحیم یار خان سے میں نے میٹرک کیا وہ سکول بنیادی طورپر جماعت اسلامی کے اراکین کی زیر نگرانی چلتا تھا، اس سکول میں فکری نشوونما اور کردار سازی پربڑی توجہ دی جاتی تھی۔ امتحان سے زیادہ کردار سازی پرتوجہ ہوتی تھی فکری نشوونما پرزیادہ زورتھا اُس کے بعدگورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور بی...

’’عافیہ‘‘ ۔ ایک تنقیدی جائزہ

مولانا حافظ محمد رشید

عالم اسلام کی بیٹی۔۔۔عافیہ صدیقی کی مظلومیت، بے بسی،لاچاری اور اذیت ناک قید پر جتنا بھی دکھ اور افسوس کیاجائے، کم ہے۔ عافیہ کے ساتھ انسانیت سوز سلوک انسانی سماج اورتہذیب کے منہ پر ابلیس کا ایک زوردار تھپڑ ہے۔ یہ اکیسویں صدی کے بھیانک ترین انسانی المیوں میں سے ایک ہے۔ پاکستانی قوم کی ایک نہایت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حافظ قرآن بیٹی کے ساتھ امریکہ کے وحشیانہ اور حیوانی سلوک کا اصل محرک کون سی بات بنی؟ عافیہ صدیقی کی زندگی، نظریات اورموومنٹ کی تفصیلات کیا رہی ہیں؟ یہ اور اس قسم کے دوسرے سوالات ہر اس پڑھے لکھے انسان کے ذہن میں اٹھتے ہیں...

’’میری علمی و مطالعاتی زندگی‘‘ (ڈاکٹر طاہر مسعود سے انٹرویو)

عرفان احمد

میں 1957ء میں سابق مشرقی پاکستان کے شہرراج شاہی میں پیداہوا۔ میرے والد صاحب کتابوں کے تاجر تھے۔ راج شاہی میں اُن کی کتابوں کی تقریباً تین دکانیں تھیں۔ میں نے جب سکول جانا شروع کیاتو میرے راستے میں ہی ہماری کتابوں کی دکان تھی۔ اُس کانام اُردو لابئریری تھا تو میں سکول کی واپسی پراُس دکان میں ٹھہرتا تھا۔ اُس کے پچھلے حصے میں ایک میز پر کتابیں رکھی ہوتی تھیں۔ اُس پربیٹھ جاتا تھا اورکتابیں نکال کے اُن کامطالعہ کرتارہتا تھا۔ تواُس زمانے میں وہاں رسائل بھی آتے تھے،اخبارات بھی آتے تھے۔ اردو ڈائجسٹ کی بڑی شہرت تھی۔ اُس کامطالعہ کرتا تھا۔ پھروہ ادبی...

میری علمی و مطالعاتی زندگی (پروفیسر عبد القدیر سلیم سے انٹرویو)

عرفان احمد

اﷲ کے فضل وکرم سے میری پیدائش ایک دین دار،علمی گھرانے میں ہوئی۔والد محمد سلیم عبداﷲؒ روایتی دین دار یا مولوی نہیں تھے۔ ان کاتعلق غازی پورسے تھا اوروہ میرے دادامرحوم کے ساتھ وہاں سے ہجرت کرکے غیر منقسم ہندوستان کے صوبے سی پی (Central province) کے شہرامراؤتی میں بس گئے تھے۔ یہاں اکثریت ہندؤوں کی تھی، مسلمانوں کی آبادی ۴فی صد کے لگ بھگ تھی۔ہندوستان کی زبان مراٹھی تھی،لیکن مسلمان جنوبی ہند/حیدرآباد دکن جیسی اُردو بولتے تھے۔تاہم ہمارے گھرانے پریوپی کی اُردو ہی کے اثرات رہے اور ہماری مقامی اُردو سے کچھ مختلف رہی۔ میرے ننھیال کے بزرگ قاضی تھے اوردہلی...

میری علمی و مطالعاتی زندگی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۔ کچھ ذاتی حالات زندگی کے بارے میں آگاہ فرمائیں۔ * ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میںآباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آبا و اجداد کسی زمانے میں سوات سے نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہوگئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کی نو عمری میں ان کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ والدہ کا بھی انتقال ہو چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات دینی تعلیم کی طرف آگئے۔ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ...

دینی حلقوں میں عدم برداشت ۔ مضمرات و نتائج

محمد اورنگ زیب اعوان

دینی حلقوں میں عدم برداشت کی موجودہ کیفیت نئی نسل کے لیے انتہائی اضطراب کا باعث بن رہی ہے۔بات بات پہ فتوے، تنقیدات ، الزامات اور تہمتوں کی اس روش نے ذہنی ارتداد کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ ہمارے سنجیدہ اہل علم کواس معاملہ میں باہم سوچ وبچار کے بعد ایسی مشترکہ پالیسی طے کرنی چاہیے جس کے باعث ایسے معاملات کی راہ روکی جاسکے ۔کوئی رائے دینے،کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے اس کے تمام مثبت ومنفی پہلوؤں پر نظر رکھنی چاہیے۔فوائد اور نقصانات اگر مدنظر ہوں تو امید ہے کہ اختلافات کی صورتیں کم ہی پیدا ہوں گی ۔محض شخصی اور ذاتی مقاصد ومفادات کے حصول کی خاطر کسی...

فکری و سیاسی اختلافات میں الزام تراشی کا رویہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کر دیں گے۔ حامد میر صاحب سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کی دنیا کے آدمی ہیں، البتہ مطالعہ وتحقیق کو کسی بھی موقع پر اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں، اسی لیے جب وہ کوئی بات خود سے کہنا چاہتے ہیں تو انھیں کوئی نہ کوئی حوالہ مل جاتا ہے اور وہ یہ تحقیق کیے بغیر...
1-50 (137) >
Flag Counter