شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

کل مضامین: 21

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ‘ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد۔ ’’ہمارے مخلص اور مہربان بزرگ جناب خان محمد خواص خان صاحب دام مجدہم اعوان مقام ہیڑاں ڈاکخانہ اہل تحصیل مانسہرہ ضلع ہزارہ نے بار بار بزرگانہ خطوط تحریر فرمائے کہ میں علماے ہزارہ کے بارے کتاب لکھنا چاہتا ہوں، اس لیے تم اپنے اور برادرِ خورد صوفی عبد الحمید کے حالاتِ زندگی اور خصوصیت سے تحصیل علم سے متعلق معلومات ضبط تحریر میں لاکر بھیجو۔ موصوف سے وعدہ بھی تھا مگر ایک ضروری سفر اور بے حد مصروفیت اور اس پر مستزاد گوناگوں بیماریاں اور کچھ ایسے ہی دیگر متعدد عوارض دامن گیر ہوئے...

ہم نے تمام عمر گزاری ہے اس طرح (۲)

زمانہ طالب علمی کے واقعات۔ الحمد للہ میں نے آج تک سینما نہیں دیکھا اور آئندہ بھی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، کیونکہ ہمار ا یہ ذہن بنایا گیا تھا کہ تھیٹر نہیں دیکھنا، سینما نہیں دیکھنا۔ والد محترم کی ڈاڑھی سنت کے مطابق تھی، پکے نمازی او ربڑے مہمان نواز تھے، بالکل ان پڑھ۔ وہ ہمیں کہتے تھے بیٹے، تھیٹر نہیں دیکھنا، سینما نہیں دیکھنا۔ یہ ان کا دیا ہوا سبق مجھے آج تک یاد ہے، بھلایا نہیں ہے۔ (ذخیرۃ الجنان ۴/۲۹۴)۔ ہمارے علاقہ میں جہاں میری پیدایش ہوئی ہے، لوگ بڑے جاہل تھے۔ اب الحمدللہ بڑے سمجھدار ہو گئے ہیں، تعلیم آگئی ہے۔ جہالت کے زما نے میں لوگ بزرگوں...

خطبہ جمعۃ المبارک حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم، الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِیْنَۃُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَالْبٰقِیٰتُ الصَّالِحَاتُ خَیْْرٌ عِندَ رَبِّکَ ثَوَاباً وَخَیْْرٌ أَمَلاً (سورۃ الکہف، آیت ۴۶)۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی کتابوں میں جو درجہ، شان، رتبہ قرآن کریم کا ہے، اور کسی کتاب کا نہیں۔ ہمارا سب کتابوں پر ایمان ہے۔ ہمیں تفصیلاً اور قطعیت کے ساتھ معلوم نہیں کہ کتنی کتابیں نازل ہوئیں۔ ہمارے ایمان کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں،...

حفظ قرآن اور دورۂ حدیث مکمل کرنے والے طلبہ سے امام اہل سنتؒ کا ایک ایمان افروز تربیتی خطاب

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اہلہا۔ جن عزیزوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حدیث شریف کے دورے میں کامیابی حاصل کی ہے اور تجوید میں کامیابی حاصل کی ہے اور جن برخورداروں نے قرآن کریم یاد کیا ہے، سب کو مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کا انعام اور احسان ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے یعنی دین، اس کا علم حاصل کرنے کی آپ کو توفیق عطا فرمائی ہے۔ دین کی بنیاد ہے قرآن کریم اور اس کی تشریح اور تفصیل احادیث، فقہ اسلامی اور دیگر علوم میں ہے۔ قرآن...

تعلیم سے متعلق ایک سوال نامہ کا جواب

(ماہنامہ ’عزم نو‘ لاہور کی طرف ملک کے نظام تعلیم کے حوالے سے ایک سوال نامہ مشاہیر اہل علم کو بھیجا گیا اور ان کی طرف سے موصولہ جواب ماہنامہ ’عزم نو‘ کے تعلیم نمبر میں شائع کیے گئے۔ یہ سوال نامہ اور حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کا تحریر کردہ جواب یہاں درج کیا جا رہا ہے۔)۔ سوال نامہ: ۱۔ آپ کے نزدیک موجودہ تعلیمی پس ماندگی اور روز افزوں اخلاقی ترقی ومعاشرتی انحطاط کے کیا اسباب ہیں؟ ۲۔ آخر کیا وجہ ہے کہ آزادی حاصل کیے تیس برس گزر جانے کے باوجود ہم اپنا قومی وملی تشخص اجاگر کرنے میں ناکام رہے ہیں؟ ۳۔ موجودہ نظام تعلیم بدل کر اسلامی...

امام اہل سنتؒ کی فارسی تحریر کا ایک نمونہ

(مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کی تصنیف ’’اعجاز الصرف‘‘ پر تقریظ)۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد! بندۂ ہیچ مدان محمد سرفراز بعالی خدمت کافہ اہل علم از علماء عظام وطلبہ کرام عرض می کند کہ فہم قرآن مجید وحدیث شریف کہ از افضل قربات است ونیز مہارت پیدا کردن در لغت عرب عرباء بر بعض علوم آلیہ موقوف است وازیں علوم وفنون کہ موقوف علیہا اند یکے علم تصریف است کہ بے حفظ وضبط کردن آں فہمیدن اعجاز نظم تنزیل در مفردات وصیغ واظہار وادغام وحذف واثبات ومعتل ومضاعف ومہموز وصحیح وغیرہ مصداق کوہ کندن وکاہ برآوردن است...

امام اہل سنتؒ کے منتخب مکاتیب

بنام: حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ (کراچی)۔ باسمہ سبحانہ۔ محترم المقام شیخ الحدیث جناب حضرت مولانا محمد یوسف صاحب بنوری دامت برکاتہم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج اقدس؟ غالباً ذو القعدہ کی ابتدامیں حضرت مولانا محمد ادریس صاحب دام مجدہم کا ایک گرامی نامہ موصول ہوا تھا جس میں ماہ شعبان کے بینات کے ایک اہم مضمون کی طرف توجہ دلائی گئی تھی، مگر شومئی قسمت کہ کثرت مشاغل کی وجہ سے پڑھنے کاموقع نہ مل سکا۔ ایام اضحی کی تعطیلات میں پڑھنے کا عزم تھا، مگر پے در پے تکالیف اور علالت کی وجہ سے پھربھی پڑھنے کا وقت نہ نکال سکا۔ آج ہی اس کو پڑھا...

امام اہل سنت رحمہ اللہ کا دینی فکر ۔ چند منتخب افادات

حق وباطل کی پہچان کا طریقہ۔ ’’عوام الناس کو یہ بات پریشان کیے ہوئے کہ جو بھی اسلامی یا منسوب بہ اسلام فرقہ اپنے مسلک کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ قرآن وحدیث ہی کا نام لیتا اور اپنے استدلال میں قرآن وحدیث ہی کو پیش کرتا ہے۔ اب ہم کس کو صحیح اور کس کو غلط اور کس کو حق پر اور کس کو باطل پر کہیں؟ واقعی یہ شبہ اکثر لوگوں کے مغالطہ کے لیے کافی ہے، لیکن اگر انصاف، خدا خوفی اور دیانت کے ساتھ اس بات پر غور کر لیا جائے کہ یہی قرآن وحدیث حضرات صحابہ کرام، تابعین عظام اور ائمہ دین وبزرگان صالحین کے سامنے بھی تھے، ان کا جو مطلب ومعنی اور جو تفسیر ومراد انھوں...

فقہ و اجتہاد کے چند اہم پہلو

اس مقام پر اصولی طور پر یہ بحث بھلی معلوم ہوتی ہے کہ مخالفت حدیث کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ کیا ہر مقام پر مخالفت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی مخالفت مراد ہوتی ہے یا ان الفاظ کے اندر جو معنی اور مدلول پنہاں ہوتا ہے، اس کی مخالفت بھی مراد ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی شخص آپ کے ظاہری الفاظ کی تو مخالفت کرتا ہے لیکن ان کے اندر جو معنی مستنبط ہوتا ہے، ا س کی اطاعت کرتا ہے جو بظاہر لفظوں سے متبادر نہیں ہوتا تو کیا اس شخص کو مخالفت حدیث کاملزم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز سے منع فرمایا ہے تو کیا ہر مقام پر...

قرآن مجید کا موثر اور معجز طرز بیان

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جو فرائض بیان کیے ہیں، ان میں ایک فریضہ تلاوت کتاب اللہ بھی ہے۔ چونکہ آپ کے اولین مخاطب اہل عرب تھے جن کی مادری زبان عربی تھی، جو اپنے وقت میں فصاحت وبلاغت اور نطق وبیان کے امام سمجھے جاتے تھے، اس لیے وہ محض قرآن پاک کی تلاوت ہی سے اس کا مطلب ومفہوم سمجھ لیتے تھے اور اس کی شیرینی اور ٹھوس دلائل سے لطف اندوز اور متاثر ہوتے تھے۔ قرآن کریم کا طرز ادا، اسلوب بیان اور ترغیب وترہیب کا انداز اس قدر سادہ اور موثر ہے کہ اس سے جس طرح ایک بڑے سے بڑا فلسفی محظوظ ہوتا ہے، اسی طرح اس کے دل کش بیان سے اونٹوں اوربکریوں...

کفارہ کا عقیدہ اور عمل کی اہمیت

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم بائیبل، کتاب مقدس اور انجیل مقدس کے حوالے سے یہ ثابت کر دیں کہ ہر ایک کو عمل کرنا پڑے گا اور تب جا کر کہیں نجات نصیب ہو سکتی ہے۔ جب ہر ایک کے لیے عمل ضروری ٹھہرا تو پھر کفارے کا سوال کہاں سے؟ اور اس نامنصفانہ عقیدہ اور نظریہ کو بھلا سنتا بھی کون ہے؟ استثنا باب ۲۷ آیت ۲۶ میں ہے: ’’لعنت اس پر جو شریعت کی باتوں پر عمل کرنے کے لیے ان پر قائم نہ رہے اور سب لوگ کہیں: آمین۔‘‘ اگر شریعت کی باتوں کو ترک کر کے محض کفارہ ہی کا عقیدہ موجب نجات ہے تو پھر یہ لعنت کیسی اور کیوں؟ انجیل لوقا باب ۶ آیت ۴۶ تا ۴۹ میں ہے: ’’جب تم میرے کہنے...

جماعتی زندگی کا مفہوم اور اس کی اہمیت

بلاشک وشبہ مذہب اسلام نے جماعتی زندگی پر بڑا زور دیاہے اور جماعتی زندگی کے ترک کو اسلامی زندگی کے ترک سے تعبیر کیاہے جس کا نتیجہ سوائے خسران اور عذاب جہنم کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ (معاذ اللہ) اور حدیث ’من شذ شذ فی النار‘ (ترمذی، ۲/۲۹ ومشکوۃ ۱/۳۰) کا یہی مطلب ہے اوردوسری حدیث میں واشگاف الفاظ میں رسول برحق حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ: فانہ لیس احد یفارق الجماعۃ شبرا فیموت الا مات میتۃ جاہلیۃ (متفق علیہ) ’’جو شخض بھی جماعت سے ایک بالشت بھر الگ ہوا اوراسی حالت میں اس کی وفات ہوگئی تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔‘‘ اورظاہر...

تین طلاقوں کے بارے میں جمہور علماء کا موقف

ایک مجلس میں یا ایک جملے میں تین طلاقوں کے وقوع کے بارے میں بحث ایک عرصے سے ’الشریعہ‘ کے صفحات میں جاری ہے اور مختلف حضرات کے مضامین اس سلسلے میں شائع ہو چکے ہیں۔ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاے امت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک جملے سے دی جانے والی تین طلاقیں تین ہی واقع ہو تی ہیں، جبکہ مستند اہل علم کا ایک گروہ جس کی نمایاں ترجمانی شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے رفقا کرتے ہیں، اس صورت میں ایک طلاق کے واقع ہونے کا قائل ہے۔ اس مسئلے پر جمہور علما کے موقف کی وضاحت کے لیے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے ’’عمدۃ الاثاث...

بعثتِ نبویؐ کے وقت ہندو معاشرہ کی ایک جھلک

کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کی وہ بابرکت زمین ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوا تھا۔ گویا اس لحاظ سے ہندوستان کی زمین وہ اشرف قطعہ ہے جس کو سب سے پہلے نبیؑ کے مبارک قدموں نے روندا جس پر ہزارہا سال گزر چکے تاآنکہ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا دور نزدیک ہوا۔ اس وقت سرزمینِ ہند میں بدکرداری، اخلاقی پستی اور دنارت کا یہ عالم تھا کہ مندروں کے محافظ اور مصلحینِ قوم بداخلاقی کا سرچشمہ تھے جو ہزاروں اور لاکھوں ناآزمودہ کارلوگوں کو مذہب کے نام اور شعبدہ بازی کے کرشموں سے خوب لوٹتے اور مزے سے عیش اڑاتے تھے۔ (آر سی دت ج...

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ جو کچھ سنتے تھے وہ سب لکھ لیتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غصہ کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں اور تم سب لکھ لیتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مراجعت کی۔ آپؐ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا اس سے جو کچھ نکلتا ہے اور جس حالت میں نکلتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے سو تم لکھ لیا کرو۔ (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۵۸، دارمی ص ۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳ و مستدرک ج...

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین

بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا...

سیرتِ نبویؐ کی جامعیت

دنیا میں جتنے بھی رسول اور نبی تشریف لائے ہیں ہم ان سب کو سچا مانتے ہیں اور ان پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور ایسا کرنا ہمارے فریضہ اور عقیدہ میں داخل ہے ’’لا نفرق بین احد من رسلہ‘‘۔ مگر اس ایمانی اشتراک کے باوجود بھی ان میں سے ہر ایک میں کچھ ایسی نمایاں خصوصیات اور کچھ جداگانہ کمالات و فضائل ہیں جن کو تسلیم کیے بغیر ہرگز کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ مثلاً‌ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء و رسل علیہم السلام تشریف لائے ہیں تو ان سب کی دعوت کسی خاص خاندان اور کسی خاص قوم سے مخصوص...

انکارِ حدیث کا عظیم فتنہ

مذہبی لحاظ سے سطحِ ارض پر اگرچہ بے شمار فتنے رونما ہو چکے ہیں، اب بھی موجود ہیں اور تا قیامت باقی رہیں گے لیکن فتنۂ انکارِ حدیث اپنی نوعیت کا واحد فتنہ ہے۔ باقی فتنوں سے تو شجرِ اسلام کے برگ و بار کو ہی نقصان پہنچتا ہے لیکن اس فتنہ سے شجرِ اسلام کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں اور اسلام کا کوئی بدیہی سے بدیہی مسئلہ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس عظیم فتنہ کے دست برد سے عقائد و اعمال، اخلاق و معاملات، معیشت و معاشرت اور دنیا و آخرت کا کوئی اہم مسئلہ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا حتٰی کہ قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح بھی کچھ کی کچھ ہو کر رہ گئی ہے اور اس فتنہ نے...

اسلام کا فطری نظام

سمندر کا ایک ایک قطرہ، ریت کا ایک ایک ذرہ، درختوں کا ایک ایک پتہ، اور زمین و آسمان کا ایک ایک شوشہ بزبانِ حال ہر باشعور کو پکار پکار کر یہ دعوتِ فکر دیتا ہے کہ تمہارا اپنے آقائے حقیقی کے ساتھ ایک ازلی رشتہ اور ایک ابدی علاقہ ہے جس نے تمہاری جسمانی راحت و آرام کا جو اہتمام فرمایا ہے اس سے کہیں زیادہ اس نے تمہاری کائناتِ روحانی کی آسائش و زیبائش کا معقول اور واضح تر انتظام کیا ہے۔ یہ بہتے ہوئے دریا، یہ ابلتے ہوئے چشمے، یہ لہلہاتے ہوئے سبزے، یہ چہچہاتے ہوئے پرندے، یہ اونچی اونچی پہاڑیاں، یہ گھنی اور گنجان جھوڑیاں، یہ تناور اور پھل دار درخت، یہ...

قرآنِ کریم - ایک فطری اور ابدی دستورِ حیات

گو حسبِ تصریح علماءِ اصول دلائل اور براہین کی چار قسمیں ہیں (۱) کتاب اللہ (۲) سنت رسول اللہ (۳) اجماع (۴) قیاس۔ گو اجماع اور قیاس درحقیقت کتاب اور سنت ہی کی طرف راجع اور اسی کا ثمرہ ہیں۔ لہٰذا کائنات کی رہبری کے لیے اصولی طور پر ہدایت دو حصوں اور درجوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ حصہ جو جمیع اصول تمام پختہ و غیر متغیر اور لازمی احکام اور اعمال پر مشتمل اور انسانی تصریف سے بالاتر اور اپنے الفاظ میں محفوظ و منضبط اور ہمیشہ کے لیے مکلف مخلوق کی ہدایت کا نصاب ہے اور اس ہدایت کے سرچشمہ کا نام وحی متلو اور قرآن مجید ہے۔ مذہب اور قانونِ فطرت اس معیار اور مقیاس...

امت مسلمہ کی کامیابی کا راز

ہم تعداد میں گو کثیر ہیں مگر افسوس کہ ستاروں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں اور من مانی اور انفرادی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہم بظاہر اگرچہ ایک دوسرے سے واقف اور قریب تر ہیں لیکن درحقیقت ایک دوسرے سے بے گانہ اور دور ہیں۔ ہر شخص اپنی اپنی مفاد پرستیوں کے محور کے گرد گھومتا ہے اور حیاتِ ملّی کا نصب العین نگاہوں سے اوجھل ہے، اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ قوموں کی ہستی اور بقا کا مدار ان کی مرکزیت اور اجتماع پر ہوتا ہے، ان کی انفرادی اور جداگانہ حیثیت اور امتیازی خصوصیت اسی نقطۂ ماسکہ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگر ان کی جماعتی اور تنظیمی زندگی اور مرکزیت...
1-21 (21)