تعارف و تبصرہ

سائنسی دور اور مذہبی بیانیے

محمد عمار خان ناصر

مصنف: مولانا محمد تہامی بشر علوی۔ ناشر: اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔ صفحات : ۱٠٠۔ عالمِ شہود کے ساتھ ایک عالمِ غیب کا وجود اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کا سوال انسانی شعور کے لیے ایک غیر فانی سوال کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور کو جن گہرے اور پیچیدہ سوالات کا سامنا ہے، عالم شہود ان کا جواب فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہے، اور خود عالم شہود اور اس کے مختلف مظاہر کی تفہیم وتوجیہ کے لیے انسانی شعور کو مابعد الطبیعیاتی تصورات اور ان پر مبنی ایک نظام وجود کا سہارا...

’’الوفاء باسماء النساء‘‘ (محدّثات انسائیکلوپیڈیا) / ” تین طلاق :ایک سماجی المیہ“

ادارہ

علمی حلقوں میں یہ خبر بہت خوشی و مسرّت کے ساتھ سنی جائے گی کہ ڈاکٹر محمد اکرم ندوی(ولادت 1964) کی محدّثات انسائیکلوپیڈیا ، جس کا چرچا تقریباً 15 برس سے تھا ، منظرِ عام پر آگئی ہے۔ اسے دار المنھاج ، جدّہ ، سعودی عرب نے'الوفاء بأسماء النساء' کے نام سے 43 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔ ڈاکٹر اکرم ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے 1981 میں عالمیت اور 1983 میں فضلیت کی ہے ۔ مجھے ان کے ساتھ 5 برس ہم درس رہنے کی سعادت حاصل رہی ہے۔ بعد میں انھوں نے لکھنؤ یونی ورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔ ندوہ سے فراغت کے بعد انھوں نے ندوہ ہی میں چند برس تدریسی خدمت...

’’چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ‘‘

مولانا وقار احمد

گذشتہ دنوں غازی علم دین کے بارے میں مختلف کتب کو پڑھتے ہوئے مجاہد ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب کی بعض کتب بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے ختم نبوت اور رد قادیانیت کے حوالے سے بیسیوں کتب تحریر کی ہیں۔ ہماری معلومات کی حد تک عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماوں میں سے سب سے زیادہ اس موضوع پر انہوں نے ہی لکھا ہے۔ مولانا نے جہاں مسئلہ ختم نبوت کی علمی حیثیت کو واضح کرنے کے لیے متعدد کتب لکھیں ، وہیں انہوں نے برصغیر کی تحریک ختم نبوت کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا فریضہ بھی سر انجام دیا اور اس پر بھی کئی کتب لکھی ہیں۔ انہی میں سے ان...

دعوت ِ دین کا متبادل بیانیہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

اسلام دین ِدعوت ہے اور اس کے مخاطَب دنیا کے تمام انسان ہیں ۔ عصری تناظر میں دیکھا جائے تو ان اصحاب ِ فکرو دانش کی رائے زیادہ وزنی معلوم ہو تی ہے جو دنیا کو دار الاسلام اور دار الحرب کے بجائے دارلاسلام اور دار الدعوة میں تقسیم کرتے ہیں ۔ زرعی دور سے گزرنے کے بعد انسان صنعتی دور میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے اس فیز میں داخل ہوچکا ہے جس نے دنیاکو حقیقی معنوں میں عالمی گاوں(Global village)میں تبدیل کردیا ہے ۔ دنیاقومی ریاستوں کے دور سے گزرنے کے بعدپوسٹ نیشن سٹیٹ(Post Nation State)کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔اس وقت جدید دانش کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عالمگیر نظم(World...

مدرسہ ڈسکورسز: اہداف ومقاصد اور توقعات

محمد عمار خان ناصر

مسلم علمی روایت سے گہری واقفیت کے فقدان کے اثرات ہمارے ہاں دو طرح سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایک اس طبقے کے ہاں جو جدیدیت کے بعض نتائج کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اور ان سے متصادم ہونے کی وجہ سے روایت کی بحیثیت مجموعی تحقیر کا رویہ رکھتا ہے۔ دوسرا وہ طبقہ جو جدیدیت کے بعض نتائج سے نالاں اور نفور ہے اور اس کی بحیثیت مجموعی مذمت اور تردید کے رجحان کا حامل ہے، چنانچہ روایت سے براہ راست اور گہری واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی چیزوں کو محض جدیدیت کا نتیجہ فرض کر لیتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کا اس کے علاوہ کوئی مداوا نہیں کہ مسلم علمی روایت سے گہری اور original واقفیت...

تعارف و تبصرہ

محمد سہیل قاسمی

مطالعہ مذاہب کی اسلامی روایت: ایک تعارف ۔ مصنف : پروفیسر سعود عالم قاسمی (شعبہ سنی دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ)۔ مطالعہ مذاہب اورتقابل ادیان سماجی علوم میں مستقل ایک موضوع ہے ۔ دورحاضرمیں دینی ومذہبی جامعات کے ساتھ عصری تعلیم گاہوں اوریونیورسٹیز میں بھی تقابل ادیان پر توجہ مبذول کی گئی ۔ پچھلے چندصدیوںمیں مغربی ممالک میں دیگر علوم کی طرح اس فن میں بھی اختصاص حاصل کرنے کا رجحان بڑھا، جس میں میکس مولر کو تقابل ادیان کاباباآدم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ آکسفورڈ اورہارورڈ جیسے اداروں نے اس غلط فہمی کی تشہیر میں تعاون کیا۔ مغربی...

مدرسہ ڈسکورسز کا فکری وتہذیبی جائزہ

محمد دین جوہر

آج کل مدرسہ ڈسکورسز کا پھر سے چرچا ہے، اور مختلف رد عمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں اسے سازش بھی قرار دیا گیا ہے جو مضحکہ خیز ہے، اور صورتحال کا سامنا کرنے سے انکار ہے۔ مدرسہ ڈسکورسز کی خطیر فنڈنگ کو موضوع بنا کر بھی کچھ غیرمفید نتائج اخذ کیے گئے۔ فنڈنگ کی بنیاد پر ڈسکورسز کے منتطمین کی نیتوں اور ’خفیہ‘ عزائم پر اشاروں کنایوں سے بات کی گئی۔ چند مذہبی لوگوں نے ’اظہار خیال کی آزادی‘ اور ’فکری مکالمے کی ضرورت‘ کے حوالے سے اپنی کشادہ قلبی اور بے دماغی بھی ارزانی فرمائی۔ ان غیراہم یا کم اہم پہلوؤں پر گفتگو سے مدرسہ ڈسکورسز کے تعلیمی اور علمی...

ترجمان القرآن : چند نمایاں خصوصیات

مولانا وقار احمد

ترجمان القرآن مولانا ابو الکلام آزاد کی تصنیف لطیف ہے۔ مولانا ابو الکلام آزاد ۱۸۸۸ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام محی الدین احمد تھا۔ آپ کے والد ہندوستا ن کے معروف عالم اور پیر مولانا خیر الدین ہیں، جب کہ والدہ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا۔ مولانا کا انتقال ۲۲ فروری ۱۹۵۸ء کو ہوا۔ مولانا ابو الکلام برصغیر کے سب سے بڑے مذہبی اور سیاسی لیڈر تھے۔ مولانا تقسیم ملک کے بعد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بنے، اور ہندوستان کے نظام تعلیم کو منظم کرنے میں ان کا اہم کردار ہے۔آپ ایک بے مثل عالم تھے، ہندوستان کی سیاسیات میں متحرک کردار ادا کیا، اس کے...

مولانا ابو احمد عبد اللہ لدھیانوی کی تصنیف ’’تخلیق عالم‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نحمده تبارك وتعالى ونصلي ونسلم على رسوله الكريم وعلٰی آلـه وأصحـابه وأتباعه أجـمعين۔ حضرت مولانا عبد اللہ لدھیانوی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگوں میں سے تھے جن کی ساری زندگی دینی تعلیم و تدریس میں گزری اور انہوں نے اپنی اگلی نسل کو بھی دینی خدمات کے لیے تیار کیا اور ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ وہ علماء لدھیانہ کے اس عظیم خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو تاریخ میں تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت میں قائدانہ کردار کا ایک مستقل عنوان رکھتا ہے۔ انہوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے تعلیم حاصل کی اور...

ہجرت رسول ﷺ کا بشریاتی مطالعہ

عاصم بخشی

(میاں انعام الرحمٰن کی کتاب ’’سفر ِجمال‘‘ پر ایک تبصرہ) کیا اسلام کا ایک خالص معروضی مطالعہ ممکن ہے1؟ یعنی ویسی ہی معروضیت جو مغربی درس گاہی نظام یعنی ’اکیڈمی‘ میں یہودیت اور عیسائیت کا وہ مطالعہ ممکن بناتی ہے جس کی رو سے ان دونوں کی تعریف ایسے ’مذاہب‘ کے طور پر کی جاتی ہے جن کے ماننے والے خود کو یہودی یا عیسائی کہتے ہیں۔درس گاہی تناظر کی اس تنصیب کے بعد مذہب اور کلچر ایک ہی سکّے کے دو رخ بن جاتے ہیں۔ یہودیت یا عیسائیت کے معنی کم وبیش یہودی اور عیسائی ثقافت واقدار اور عقائد و اعمال کا مجموعہ ٹھہرتے ہیں۔ دوسری طرف روایتی مطالعۂ...

مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم وفکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات وفرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو اور اشیائے صرف کے معیار کو خراب نہ کرو، کیونکہ یہ بات سوسائٹی میں...

مولانا مفتی تقی عثمانی کی “اسلام اینڈ پالیٹکس’’ کی تقریب رونمائی

عظیم الرحمن عثمانی

۱۷۔ اپریل ۲۰۱۸ء کو 'سو ایس یونیورسٹی آف لندن' میں ایک پروقار علمی نشست کا اہتمام ہوا جو اپنی حقیقت میں دو انگریزی کتابوں کی تقریب رونمائی تھی۔ پہلی کتاب اردن کے شہزادے اور پی ایچ ڈی اسکالر پرنس غازی بن محمد کی تصنیف تھی جو تدبر قرآن سے متعلق ہے اور دوسری کتاب "اسلام اینڈ پولیٹکس" (اسلام اور سیاست) محترم مفتی محمد تقی عثمانی کی تحریر کردہ تھی جو اسلام کے سیاسی نظام اور اس کے نفاذ کی بات کرتی ہے۔ یہ تقریب بہترین نظم کے ساتھ ایک خوبصورت یونیورسٹی کے کشادہ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ سامعین میں غیر مسلم طالب علم بھی اچھی تعداد میں موجود تھے۔ کئی مراحل...

’’پیغام پاکستان‘‘ : پس منظر اور پیش منظر

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

دہشت گردی کے خلاف علماء کرام نے ’’ پیغام پاکستان‘‘ کے نام سے کتابی شکل میں ایک متفقہ فتویٰ صادرکیا ہے جس پر 1800 سے زائد علماء کے دستخط ہیں۔اس کتا بچے کو ادارہ تحقیقا ت اسلامی نے شائع کیا ہے۔ اس کا قومی بیانیے کے حوالے سے اجراء صدر پاکستان کی سربراہی میں علماء کرام اور حکومتی نمائندہ شخصیات کی موجود گی میں اسلام آباد میں منعقدہ ایک کانفرنس میں ہوا۔ اس فتویٰ میں دہشت گردی، خونریزی، خود کش حملوں اور ریاست کے خلا ف مسلح جدو جہد کو، خواہ وہ کسی نام یا مقصد سے ہو، حرام قرارد یا گیا ہے اور ان چیزوں سے کیسے نمٹا جائے، اس حوالے سے علماء کرام کی تجاویز...

’’نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل‘‘

ڈاکٹر عرفان شہزاد

ڈاکٹر محی الدین غازی انڈیا سے تعلق رکھنے والے، دینی علوم کے ماہر اور متوازن فکر کی حامل شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر صاحب وحدتِ امت کے ایک متحرک داعی ہیں۔ غازی صاحب کی کتاب "نماز کے اختلافات اور ان کا آسان حل"، ایک نہایت ہی اہم موضوع پر ایک چشم کشا کتاب ہے جس سے دین کے اندر علم کا ایک پورا پیرا ڈائم بدل جاتا ہے۔ پیش لفظ میں غازی صاحب لکھتے ہیں: "راقم کے علم کی حد تک اس موضوع پر ایک مکمل کتاب کی صورت میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔" غازی صاحب نے ایک نہایت اہم علمی حقیقت کی طرف رہنمائی کی ہے جو بوجوہ امت کے ذہن سے اوجھل ہو گئی، تاہم اس کا ادراک کسی نہ کسی درجے میں بڑے...

’’پیغام پاکستان‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرین امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں۔ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے تیار کردہ تمام مکاتب فکر کے متفقہ ’’پیغامِ پاکستان‘‘ میں بنیادی اور اصولی باتیں تو وہی ہیں جن...

مدرسہ ڈسکورسز کیا ہے؟

محمد عرفان ندیم

یہ آئیڈیا ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا تھا اور اسے عملی جامہ ڈاکٹر ماہان مرزا نے پہنچایا ۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ اور ڈاکٹر ماہان مرزا دونوں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور امریکی ریاست انڈیانا کی یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم سے منسلک ہیں۔ ڈاکٹر ابرہیم موسیٰ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے۔ ان کے آبا ؤ اجداد انڈیا کے شہر گجرات سے ہجرت کر کے جنوبی افریقہ چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کا بچپن جنوبی افریقہ ہی میں گزرا ۔یہ ہائی اسکول کے طالب علم تھے جب انہیں اسلامک اسٹڈیز کے مضمون میں دلچسپی پیدا ہوئی ۔ ایک دن کسی کلاس فیلو نے کلاس میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس...

مدرسہ ڈِسکورسز کا وِنٹر اِنٹنسو ۔ میرے تاثرات

سید مطیع الرحمٰن

مدرسہ ڈسکورسز کے پہلے سمسٹر کے بعد نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کی جانب سے حمد بن خلیفہ یونیورسٹی دوحہ (قطر) میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ورکشاپ 25 دسمبر تا 30 دسمبر 2017 تک جاری رہی۔ قطر میں ایک پورا علاقہ ایجو کیشن سٹی کے نام سے موسوم ہے جہاں یونیورسٹیز ، کالجز ،لائبریریز قریب قریب واقع ہیں۔ حمد بن خلیفہ یونیورسٹی بھی اسی علاقے میں ہے۔ یہ یونیورسٹی 2007 ء میں قائم کی گئی۔غالباً یہ وہی یونیورسٹی ہے جس کے نظام و نصاب کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کی خدمات لی گئی تھیں۔ہماری ورکشاپ کے دنوں میں یہاں تعطیلات تھیں۔ نہایت خوبصورت کلاس رومز ، اعلیٰ درجے...

’’تذکار رفتگاں‘‘ ۔ اہل علم کے لیے ایک علمی سوغات

مولانا مفتی محمد اصغر

اس وقت مولانا زاہد الراشدی صاحب کی تازہ تصنیف ’’تذکار رفتگاں‘‘ ہمارے سامنے ہے۔ کتاب کیا ہے، پڑھ کر ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس پایے کی کتاب ہے اور اس میں کتنا قیمتی تاریخی علمی مواد موجود ہے۔ یہ کتاب تقریباً نصف صدی سے زائد کے اکابر علماء، زعماء، مشائخ، قائدین، سربراہان مملکت اور قومی وبین الاقوامی شخصیات کے حالات زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ کتاب میں اس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے والے اکابر اہل علم کی وفات پر ہلکے پھلکے انداز میں مولانا نے اپنے قلبی تاثرات وجذبات کا اظہار پیش کیا ہے۔ مولانا کو اللہ رب العزت نے گوناگوں صفات وکمالات سے نوازا ہے۔...

’’جناب غلام احمد پرویز کی فکر کا علمی جائزہ‘‘

مولانا سید متین احمد شاہ

مسلمانوں کی فکری تاریخ میں جب بھی دیگر تہذیبوں سے تصادم ہوا ہے تو اس کے نتیجے میں فکرونظر کے نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ صدرِ اول کی تاریخ میں یونانی افکار کے نتیجے میں مسلم دنیا کئی سوالات سے دوچار ہوئی۔اسی نوعیت کا ’انتقالی مرحلہ‘فکر مغرب کے عمومی اور ہمہ گیر استیلا کے نتیجے میں درپیش آیا جو فکر یونان کے مقابلے میں کئی درجے ہمہ گیر تھا۔ علامہ محمد اسد کے الفاظ میں ’’انسانیت شاذ ہی ایسے فکری انتشار سے گزری ہے، جیسی ہمارے دور سے گزر رہی ہے۔نہ صرف یہ کہ ہم بے شمار مسائل میں گھرے ہوئے ہیں جن کے لیے نئے اور عدیم النظیر حل کی ضرورت ہے، بلکہ یہ مسائل...

’’سفر جمال: نبی مکرمؐ کی جمالیاتی مزاحمت کی پر عزم داستان‘‘

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

(میاں انعام الرحمن کے مجموعہ مقالات پر ایک نظر) اسلامی ادبیات کے سدا بہار موضوعات میں سے ایک سیرت نگاری ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت نگاروں کی فہرست میں جگہ پانا ایک عظیم سعادت ہے۔ سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا چرچا تو آپ کی ولادت باسعادت سے بھی پہلے کا ہے۔ تاہم علومِ اسلامیہ میں بطور فن ،سیرت نگاری کامنظم آغاز پہلی صدی ہجری میں ہوا۔ تاریخِ علوم میں کسی انسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اس کثرت کے ساتھ نہیں لکھا گیا جتنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر لکھا گیا ہے ،لیکن اس کے باوجود عجائباتِ سیرت لا متناہی...

فقہائے احناف اور فہم حدیث ۔ اصولی مباحث (مصنف: محمد عمار خان ناصر)

ڈاکٹر حافظ مبشر حسین

حدیث کے ردو قبل کے اصول مخصوص نہیں ، بلکہ خیر القرون میں علمائے امت نے اپنے فہم اور علم کی روشنی میں انہیں منضبط کیا ہے۔ چنانچہ انسانی کاوش ہونے کے ناطے بعض اصولوں پر اختلاف رائے بھی پیدا ہوا۔ اس اختلاف رائے کے اولیں مظاہر حجازی و عراقی مکاتب فکر کی شکل میں وقوع پذیر ہوئے جبکہ آگے چل کر اس اختلاف کی خلیج نے محدثین اور فقہا کے دو مستقل اور ایک دوسرے کے حریف گروہوں یا طبقوں کی شکل اختیار کر لی۔ اس اختلاف کے یوں تو کئی علمی ، سیاسی اور معروضی اسباب تھے مگر ایک بڑا علمی سبب، میرے ناقص مطالعہ کے مطابق ، وہ اصول تھے جو حدیث کے ردو قبول اور اس کے معنی...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’توضیحی اشاریہ تفسیر تدبر قرآن‘‘ مرتب: منظور حسین عباسی۔ صفحات: ۷۴۲ ۔ ناشر: فاران فاؤنڈیشن، لاہور (04236303244) مولانا امین احسن اصلاحیؒ کی تصنیف ’’تدبر قرآن‘‘ نہ صرف عہد حاضر کا ایک مایہ ناز علمی شاہکار ہے، بلکہ پورے تفسیری ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ یہ کتاب قرآن مجید پر مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا اصلاحی کے کم وبیش پون صدی کے غور وفکر اور تدبر کا حاصل ہے اور بلاشبہ اسے قرآنی علوم ومعارف کا ایک جامع انسائیکلو پیڈیا قرار دیا جا سکتا ہے۔ قرآنی مفردات کی تحقیق، بلاغت کے اسرار ورموز، کلام الٰہی کے داخلی نظم کی تشریح وتفصیل، قرآن...

’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کے نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘

مولانا سید متین احمد شاہ

2014ء میں مولانا عبیداللہ سندھی اور تنظیم فکر ولی اللہی کے حوالے سے ’’مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار اور تنظیم فکرِ ولی اللہی کا نظریات کا تحقیقی جائزہ‘‘ نامی کتاب شائع ہوئی جس کے مؤلف جناب مفتی محمد رضوان ہیں۔ یہ کتاب اصل میں مولانا سندھی کے بارے میں مختلف اہل علم کی ناقدانہ آرا اور تنظیم فکر ولی اللہی کے نظریات پر علما کے فتووں کا ایک تالیفی مجموعہ ہے۔اس کتاب کا حال ہی میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا ہے جس کے تقریباً تمام مندرجات پہلے ایڈیشن والے ہیں، البتہ اس میں پہلے ایڈیشن پر ہونے والے بعض تبصرے شامل کیے گئے ہیں جن میں سب سے مبسوط تبصرہ...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’میرا مطالعہ‘‘۔ مطالعہ اہل علم کی زندگی کا مرغوب ترین مشغلہ ہوتا ہے اور اس حوالے سے ہر صاحب علم کا اپنا منفرد ذوق اور خاص تجربات ہوتے ہیں۔ قریبی تعلقات رکھنے والے اصحاب علم میں ایک دوسرے کے ذوق مطالعہ سے مستفید ہونا بھی عام مشاہدے کی چیز ہے۔ نامور اہل علم سے ان کے مطالعاتی سفر کی تفصیلات معلوم کرنے اور انھیں عمومی افادہ کے لیے یکجا کرنے کی روایت بھی ہمارے ہاں موجود ہے۔ اس حوالے سے مولانا محمد عمران خان ندوی کا مرتب کردہ مجموعہ ’’مشاہیر اہل علم کی محسن کتابیں‘‘ کے عنوان سے مشہور ومعروف ہے۔ کم وبیش اتنی ہی شہرت ’’میری علمی ومطالعاتی...

کتاب ’’الحجۃ علیٰ اہل المدینہ‘‘ کے اصولی مباحث

مولانا سمیع اللہ سعدی

مکاتب فقہیہ میں سے اولین مکتب کا شرف پانے والا مکتب حنفی متنوع خصوصیات و امتیازات کے باوجود اصول فقہ کے میدان میں ایک خلا کا حامل ہے کہ اس عظیم فقہ کے اصول اس کے بانی ائمہ امام ابوحنیفہ ،امام ابویوسف اور امام محمد سے براہ راست منقول نہیں ہیں۔ اس پر مستزاد یہ ،ائمہ ثلاثہ سے فیض یاب ہونے والے اولین فقہائے حنفیہ جیسے امام عیسیٰ بن ابان(المتوفی ۲۲۰ھ)، امام محمد بن سماعہ (المتوفی ۲۳۳ھ) اور صدر اول کے دیگر فقہائے احناف کی اصول فقہ کی کوئی کتاب محفوظ نہیں رہ سکی ،اگرچہ ان کے تراجم اور فہارس الکتب میں ان حضرات کی اصولی کتب کا تذکرہ ملتا ہے ۔ اس مکتب...

’’فقہائے احناف اور فہم حدیث۔ اصولی مباحث‘‘

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

حال ہی میں جناب پروفیسر عمار خان ناصر کی کتاب "فقہائے احناف اور فہمِ حدیث۔ اصولی مباحث" کتاب محل لاہور سے طبع ہوکر آئی ہے۔ کتاب اس کش مکش کو حل کرنے کی کوشش ہے جو برصغیر میں حنفی مدارس کے درسِ نظامی کے ہر ذہین طالب علم کو پیش آتی ہے کہ اگر صحاحِ ستہ کے اس ذخیرہ احادیث پر جو داخل نصاب ہے اور جن میں سے بعض کتب کو اَصح الکتب قرار دیا جاتا ہے، احکامِ شرعیہ کا مدار ہے تو حنفی فقہ کے حدیث سے مستنبط ہونے پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور اگر حنفی فقہ کی زیرِ تدریس کتب میں مذکور ادلہ مستند ہیں تو کیا عقل و قیاس کی اساس پر صحیح احادیث سے صرفِ نظر کیا...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

مولانا محمد حسن امروہوی ۔ ایک تعارف، ایک تجزیہ۔ مصنف: مولانا محمد اورنگزیب اعوان۔ ناشر: کتاب محل، دربار مارکیٹ لاہور۔ ہندوستان میں ایک عالم تھے، محمد احسن امروہوی جن کا تعلق مسلکِ اہلحدیث سے تھا۔ انہوں نے بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی ایک کتاب ’’ادلہ کاملہ‘‘ کا جواب ’’مصباح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا تھا۔ اِس کا جواب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ’’ایضاح الادلہ‘‘ کے نام سے لکھا۔ یہی محمد احسن امروہوی مرزا غلام احمد قادیانی کے حلقہ بگوش ہو گئے اور قادیانیت کا ہی طوق گلے میں ڈالے آخرت کو سدھارے۔ اِسی زمانہ...

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۲)

غازی عبد الرحمن قاسمی

اس مقام پر ایک وزنی سوال ہے کہ شاہ صاحب جیسے جلیل القدر عالم جن کی پہچان ہی محدث دہلوی کے نام سے ہے، ان سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ صحیح احادیث کے ساتھ ضعیف احادیث بھی نقل کریں اور ان سے استدلال کریں؟ علامہ زاہد الکوثری ؒ کے شاہ صاحب پر اعتراضات: علامہ زاہد الکوثریؒ (م -۱۳۶۸ھ)نے شاہ صاحب پر جواعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہی ہے’’ کہ آپ کی نظر صرف متون حدیث کی طرف ہے ،اسانید کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔‘‘علامہ کوثری ؒ نے شاہ صاحب کی علمی خدمات کو کھلے دل سے سراہا ہے مگر اس کے بعد چند مقامات پر آپ کے بعض افکار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے گرفت...

حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ ولی اللہ کا منہج و اسلوب (۱)

غازی عبد الرحمن قاسمی

تعارف: اس کائنات کی رنگ وبو میں بہت سے افراد واشخاص پید ا ہو ئے اور اپنی مقررہ زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے،ان کی وفات کے بعد ان کا ذکر کچھ عرصہ ہوا اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ ان کے تذکرے ختم ہوگئے ،مگر کچھ ہستیاں اور شخصیات ایسی بھی گزر ی ہیں جن کی علمی کاوشوں ،مجتہدانہ صلاحیتیوں اوربلندپایہ استنبا ط واستدلال سے مزین کتب کی بدولت وہ آج بھی اہل علم کے حلقہ میں زندہ ہیں ۔ان کے بیان کردہ تحقیقی مضامین اسلامیات کے محقق کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان میں نمایاں نام مجد د الملت ،حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کا ہے ۔آپ ۱۷۰۳ء...

’’مقالات ایوبی‘‘ پر ایک نظر

مولانا عبد الغنی مجددی

مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی آزاد کشمیر کے بزرگ علماء میں سے ہیں۔ انھوں نے جامعہ اشرفیہ میں متعددعظیم شخصیات سے علم حاصل کیا جن میں مولانا رسول خان اور مولانا محمد ادریس کاندھلوی جیسی عظیم المرتبت شخصیات شامل ہیں۔ ایک عرصہ تک اسلام آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس کے بعد کئی سال ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کی اور حرم مکہ کی برکات وفیوض سے فیضیاب ہوتے رہے۔ مکہ مکرمہ سے واپسی پر آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے میر پور کے ضلع مفتی مقرر کیے گئے اورریٹائر منٹ تک حکومت اور عوام کی شرعی راہ نمائی کرتے رہے۔ اس وقت موصوف...

پاکستان کے اسلامی تحقیقی ادارے : جائزہ و تجاویز

مولانا مفتی محمد زاہد

(اپریل ۲۱۰۲ء میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد نے اپنے یومِ تاسیس کے حوالے سے یہ ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں اس طالب علم کو کلیدی خطبہ عرض کرنے کے لئے کہا گیا۔ خیال تھا کہ اس خطبے میں اجمالاً آنے والے نکات کو تفصیل سے بیان کرکے ایک مکمل مقالے کی شکل دے دی جائے۔ بوجوہ ایسا نہ ہوسکنے کی وجہ سے تقریباً اسی حالت میں پیشِ خدمت ہے۔ زاہد)۔ سب سے پہلے تو میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے ذمہ داران ، کار پردازان اور جملہ کارکنان کو اس عظیم علمی و تحقیقی سفر کی باون منازل طے کرنے پر دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اسی کے ساتھ ادارے کے ذمہ داران...

’’ذخیرۃ الجنان فی فہم القرآن‘‘

مولانا وقار احمد

مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی بامقصد کام کرنے والوں کے لیے ایک نادر نمونہ ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی قرآن وسنت کی تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ قرآن و سنت کی تعلیم ان کا اوڑھنا بچھونا تھی، قرآن و سنت کی تعلیم عام کرنے کے لیے انہوں نے کئی حوالوں سے خدمات سر انجام دیں جن میں مکاتیب قرآنیہ کاقیام، درس و تدریس، وعظ و تبلیغ اور تصنیف و تالیف شامل ہیں۔ مولانا قرآن و سنت کے ماہر عالم اور یگانہ روزگا ر مدرس تھے۔ انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھانے میں صرف کیا۔ وہ صبح نماز فجر کے بعد سے درس قرآن...

مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا آغاز 1952ء میں ہوا تھا جب چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اس کی بنیاد رکھی۔ تھوڑے عرصہ کے بعد حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ساتھ شامل ہوگئے۔ اہل علم اور اہل خیر میں سے بہت سے سرکردہ حضرات ان کے شریک کار بنے اور یہ قافلہ چلتے چلتے ایک ایسے علمی، مسلکی اور فکری مرکز کی صورت اختیار کر گیا جس کا تعارف اور فیض صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں اس کے تعلیم یافتہ اور خوشہ چین حضرات ہزاروں...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

باقیاتِ فتاویٰ رشیدیہ۔ نادر و نایاب چیزوں کے حصول پربے پناہ خوش ہونا ایک فطری بات ہے،پھراگر وہ نایاب خزانے علم کی دولت سے مالامال ہوں اوراُن کی نسبت ایسے اہل علم کی طرف ہوجن سے وابستگی کو انسان اپنے لیے باعث فخر اور آخرت کاسرمایہ شمار کرتا ہوتو خود اندازہ کیاجاسکتاہے کہ ایسے نایاب خزانے کے حصول پر ہم جیسے اکابر کی نسبتوں کواپنے لیے سرمایہ سمجھنے والے کس قدر خوش ہوئے ہوں گے! ایسی ہی ایک خوشی کی بات خاص اُس وقت حاصل ہوئی جب ابوحنیفۂ عصر، قطب الاقطاب حضرت اقدس مولانارشیداحمد محدث گنگوہی قدس سرہ کے اب تک نادرونایاب اورغیرمطبوعہ، گوشہ گمنامی...

خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(یہ مضمون مولانا سید محمد محسن شہیدؒ کی زندگی پر لکھی جانے والی ایک کتاب کے لیے تحریر کیا گیا۔) پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی خانقاہ یاسین زئی کے بارے میں میرا مبلغ علم اتنا ہی تھا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی زبان سے بارہا اس روحانی مرکز کا تذکرہ سنا ۔ اور اس کی عظمت دل میں بیٹھ جانے کے لیے اتنی بات ہی میرے لیے کافی تھی کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی نیاز مندی اور رفاقت میں میری جماعتی اور سیاسی زندگی کے کئی سال گزرے ہیں اور بحمد اللہ مجھے ان کی شفقت و اعتماد کا بھرپور حصہ میسر آیا ہے۔ میں نے انہیں بے پناہ سیاسی زندگی کے...

تعارف و تبصرہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

’’اظہارِ دین‘‘۔ مصنف: مولانا وحید الدین خاں۔ ناشر: 1 نظام الدین ویسٹ نئی دہلی گڈورڈ بکس 110013۔ صفحات : 719۔ مولانا وحید الدین خان ہمارے دور کے ایک صاحب طرز ادیب ، انشاء پرداز اور صاحب اسلوب مفکر و مصنف اورداعئ دین ہیں۔ مولانا کی سب سے بڑی خصوصیت مغرب کا وسیع مطالعہ ہے جس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔ بدقسمتی سے مولانامسلمانوں کے در میان بعض سیاسی اسباب سے ایک متنازعہ شخص بنے رہے ہیں تاہم ان کے قلم کی تازگی، طبع کی جولانی اور عصری اسلوب میں مضامین تازہ کی آمدمیں کوئی کلام نہیں ۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان کے حلقہ میں یہ احساس بڑھاہے کہ مولانا کی متفرق...

’’کتاب العروج‘‘ ۔ تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

اب سے کوئی سات دہائی پہلے لبنان کے ایک مسلمان ادیب اورمصنف امیرشکیب ارسلان نے ایک مختصرسی کتاب لکھی تھی : لماذاتأخرالمسلمون وتقدم غیرہم (مسلمانوں کے زوال اوردوسروں کے عروج کے اسباب)۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سوال آج تک مسلمانان عالم کے تعاقب میں ہے اوران کے پڑھے لکھے حلقہ کے زیرغور ہے مگراس کے جوابات جو مختلف علماء نے دیے ہیں، ان میں جواب کم اور مزیدسوال زیادہ کھڑے ہوتے ہیں۔ راشد شازنے اس مسئلہ کو بہت گہرائی سے لیاہے اوران کی اکثر تحریروں میں یہ تجزیہ راہ پاجاتاہے۔ راشدشاز ہمارے زمانہ کے ایک عہدساز مفکرومصنف ہیں۔ عربی ،انگریزی اوراردومیں ان کی...

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد اور موجودہ مدارس کا کردار ۔ تاریخی و تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد انس حسان

دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کی دینی فراست اور علمی ذکاوت کا عملی نمونہ تھا۔ انقلاب 1857ء کی نا کامی کے بعد جب مسلمان انتہائی کس مپرسی کے عالم میں تھے مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ نے ایک ایسے دینی مرکز کی نیو اٹھائی جس کا مقصد مسلمانوں کی مذہبی اقدار کی حفاظت اور وقت کی جابر سلطنت یعنی حکومت برطانیہ کے خلاف ایسی جماعت تیار کرنا تھا جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد تازہ کردے۔ سید محبوب رضوی لکھتے ہیں کہ: ’’اس وقت بنیادی نقطۂ نظر یہ قرار پایا کہ مسلمانوں کے دینی شعور کو بیدار رکھنے اور ان کی ملی شیرازہ بندی کے لیے ایک دینی وعلمی...

نواب صدیق حسن خاں بھوپالی اور ان کی علمی خدمات

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

نواب صدیق حسن خان سادات قنوج سے تعلق رکھتے ہیں، وہ حسینی سید ہیں (۱) اور ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیچ 33نفوس کا واسطہ ہے۔(۲) یہ خاندان بلادعرب سے ایران کے راستہ ملتان آیا اور وہاں سے اس کی شاخیں دہلی، حیدرآباد اور اودھ منتقل ہوئیں۔ اس خاندان میں متعدد لوگ ائمہ، صلحاء، اولیاء ہونے کے علاوہ دنیوی ثروت ووجاہت سے مالامال ہوئے ہیں۔ (۳) صدیق حسن خان کے والد ماجد سیداولادحسن تھے، جو شیعیت سے تائب ہوکر سنی ہوئے، اور دہلی آکر شاہ رفیع الدین اور شاہ عبدالعزیز سے اکتساب فیض کیا۔ انہوں نے شاہ عبدالعزیز کے ممتاز خلیفہ اور مجاہد کبیرسیداحمدشہید...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’خامہ بہ جوش‘‘ ’’خامہ بہ جوش‘‘ برادرِ عزیز فصیح الدین اشرف کے کالموں پر مشتمل رشحاتِ قلم کا شاہکار ہے۔ مصنف پولیس سروسز آف پاکستان سے وابستہ ہیں اور علم و ادب کا طالب علمانہ ذوق رکھتے ہیں۔ ان کے مطالعات کا کینوس بڑا وسیع ہے۔ دنیائے علم کے تقریباً ہر موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں۔ اردو بازار میں ملازمت کے دوران ان کے پختہ علمی ذوق کے پیش نظر ان سے شناسائی ہوئی اور یہ تعلق خط و کتابت اور فون کے ذریعے تا دمِ ایں جاری ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے گوشہ ادب کوئٹہ سے شائع ہونے والی اپنی نادرِ روزگار تالیف ’’خامہ بہ جوش‘‘ ارسال فرمائی اور ساتھ...

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے اور اس مہم میں شریک ہوا...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

ناشر: الفرقان بکڈپو، 114/31 نظیرآباد، لکھنؤ، انڈیا۔ صفحات: 692 ۔ اشاعت اول: مارچ 2013۔ بیسویں صدی کے ہندوستان میں (آزادی کے بعدکے دورمیں) دوشخصیتیں ملت اسلامیہ ہندیہ کی تاریخ میں ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ان میں پہلی شخصیت مولاناسیدابوالحسن علی ندوی المعروف علی میاں کی ہے اوردوسری مولانامحمدمنظورنعمانی کی ۔یہ دونوں حضرات زندگی بھربہترین دوست ،ہم مسلک اورہم مشرب بھی رہے اوردعوت اسلامی ،فکراسلامی اورمسلمانوں کی علمی وعملی اصلاح کے سر تاپا جہد و عمل بھی ۔فکری ہم آہنگی اورہم خیالی کے ساتھ دونوں ہی کے اپنے الگ الگ امتیازات وخصائص بھی ہیں۔مثال کے...

’’حیات ابوالمآثر علامہ حبیب الرحمان الاعظمیؒ‘‘

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

مصنف : ڈاکٹر مسعود احمد الاعظمی۔ ناشر: مرکز تحقیقات وخدمات علمیہ (مدرسہ مرقاۃ العلوم) مؤیوپی۔ دوجلد: صفحات قریباً ۱۵۰۰۔ علامہ حبیب الرحمن اعظمیؒ نے مؤ میں آنکھ کھولی، اس کے قدیم اور تاریخی مدرسہ دارالعلوم اور پھر مفتاح العلوم سے تعلیم حاصل کی۔ خدا کی شان یہ کہ دوبار دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے کے لیے داخل کیے گئے مگر دونوں ہی بار کچھ عوارض خاص کر طبیعت کی ناسازی کے ایسے پیش آئے کہ ان کو دارالعلوم سے فراغت کا موقع نہیں ملا۔ غالباً مشیتِ الٰہی تھی کہ ایک چھوٹی سی جگہ سے پڑھ کر مؤ کی خاک سے جو ذرہ اٹھے وہ علوم اسلامیہ اور بطور خاص علم حدیث کا نیر...

’’میری تحریکی یاد داشتیں‘‘ (چوہدری محمد اسلم کی خود نوشت)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

پبلشر: ادارہ معارف اسلامی منصور، لاہور۔ صفحات : ۳۴۴۔ سال اشاعت: ۲۰۱۰ء۔ خود نوشت سوانح انتہائی دلچسپ فن ہے۔ ایسی بے شمار سوانح پڑھ چکا ہوں۔ اسلوبِ بیان ہر سوانح میں مختلف ہو سکتا ہے۔ خود نوشت میں عام طور پر صاحبِ تالیف اپنی زندگی کے واقعات بیان کرتا ہے۔ بیان میں سیاق و سباق اتنا مربوط ہوتا ہے کہ بیان کی درستی کا تاثر ہمیشہ گہراہوتا ہے۔ اس کے باوجود یہ گمان باقی رہے گا کہ واقعات کے بیان میں مولف نے اپنے آپ کو صاف طور پر پیش کرنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس طرح بیان میں ڈنڈی مارنے کی کسی حد تک گنجائش بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض مولفین نے اپنی زندگی کے ایسے...

تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’صاحب قرآن‘‘۔ مصنف: ڈاکٹر محمد شکیل اوج۔ ناشر: شعبہ سیرت، جامعہ کراچی۔ آج کی دنیا میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسنت کے ہمارے لیے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ بھٹکی ہوئی بلکہ مسلسل بھٹکتی ہوئی انسانی سوسائٹی کو آسمانی تعلیمات اور فطرت سلیمہ کی طرف واپس لانے کے لیے قرآن کریم اور سنت نبوی کو عصر حاضر کی زبان واسلوب اور نفسیات وضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے پورے شعور وادراک کے ساتھ پیش کیا جائے اور لادینی تہذیب وتعلیم نے قرآن وسنت کی تعلیمات کے گرد شکوک وشبہات کا جو وسیع جال پھیلا رکھا ہے، انسانی ذہن کو حکمت وتدبر کے ساتھ اس دام ہم رنگ...

شعبہ اسلامیات، جامعہ پنجاب کا علمی کام

پروفیسر خالد ہمایوں

۸ فروری کو میرا ایک کالم ’’دور جدید کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس میں، میں نے شعبہ کے اساتذہ کی تصانیف کی فہرست پیش کی تھی اور ساتھ عرض کیا تھا کہ اس میں سوائے ایک کتاب (یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ) کے کوئی دوسری کتاب ایسی نظر نہیں آتی جس میں ہمارے سماجی اور ریاستی نظام کو زیر بحث لایا گیا ہو۔ ماضی بعید یا قریب کے کسی مفسر، کسی محدث، کسی سیرت نگار اور کسی فقیہ کو تحقیق کا موضوع بنانا بھی بلا شبہ بہت اہم کام ہے۔ آخر ہم اپنے کلاسیکی دینی لٹریچر کو کیسے فراموش کر سکتے ہیں، وہ تو ہماری تہذیبی زندگی کی اساس...

دور حاضر کے تقاضے اور شعبہ اسلامیات پنجاب یونیورسٹی

پروفیسر خالد ہمایوں

کوئی بیس بائیس برس پہلے کی بات ہے، میں نے ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ میں جماعت اسلامی کی فکر اور اُس کی سیاسی جدوجہد پر ایک تنقیدی جائزہ لکھا تو اس میں جماعت کی تمام کتابوں کی فہرست بھی شامل کی تھی۔ دکھانا یہ مقصود تھا کہ ان میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس کا تعلق پاکستانی معاشرے کے عملی مسائل و معاملات سے ہو۔ کسی ایک کتاب میں بھی اُن چیلنجز کا جواب نہیں ملتا جو حصول آزادی کے بعد ہمیں پیش آتے رہے ہیں۔ یہ تمام لٹریچر بڑی حد تک نظری مباحث پر مشتمل ہے جو یہ بتاتا ہے کہ اسلام فی الواقع سچا اور بہترین دین ہے۔ جس وقت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد،...

’’شکست آرزو‘‘

عرفان احمد بھٹی

مصنف: ڈاکٹر سید سجاد حسین۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی، 35ڈی، بلاک 5فیڈرل بی ایریا کراچی، 75950۔ صفحات 352۔ دسمبر سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے‘ ٹھٹھرتی طویل راتیں سال بھر کی خوش گوار اور تلخ یادوں کو تازہ کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان خوش گوار راتوں‘ چمکتے سنہرے دنوں اور ماضی کی خوش گوار یادوں میں 16دسمبر اپنی ناخوشگوار اور تلخ یادوں کی وجہ سے اداس کرنے والا بھی ہوتا ہے، جب ایک نظریہ اور ملت کی بنیاد پر وجود میں آئی، نظریاتی مملکت دولخت ہوئی، اور اغیار نے یہ طعنہ دیا کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ سنہری ریشوں کی سرزمین کا تاحد...

’’مقالاتِ جاوید‘‘ پر ایک نظر

ڈاکٹر محمد شہباز منج

فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال ملک کے معروف دانشور اور علمی وادبی حلقوں میں جانا پہچانا اور نمایاں نام ہیں۔ مختلف موضوعات پر آپ کی متعدد کتب اور مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ آپ کا عشق ہے کہ پاکستان ایسا دکھائی دے جیسا اقبال اور قائد اعظم کا خواب تھا، اسلام کی نشأۃ ثانیہ ہو ،ملتِ اسلامیہ کی عظمتِ رفتہ بحال ہو،فکر اقبال سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اہل اسلام جدید مغرب کے پیش کردہ سیاسی و معاشی افکار سے مرعوب ہونے کی بجائے قرآنی سیاسی و معاشی تصورات کو اپنائیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ قدامت پرستی اور تقلید سے نجات حاصل کریں۔ جدید مغربی تہذیب کی علمی و...

جماعت اسلامی کا داخلی نظم سید وصی مظہر ندویؒ کی نظر میں (۲)

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

کوئی بھی جماعتی نظام حرکت و جمود دونوں کو سمو نہیں سکتا۔ یہ دونوں باہم متضاد ہیں۔ نظام حرکت کو فروغ دینے والا ہو گا تو اس میں جمود کی کوئی جگہ باقی نہیں رہے گی۔ اگر نظام کی بنیادوں میں جمود پیدا کرنے والے محرکات کو شامل کیا گیا تو پھر حرکت کے تمام امکانات ختم اور جمود روز بروز مستحکم ہو گا۔ جناب ندوی صاحب نے بہت سے پہلوؤں سے جماعت کے اندر جمود کے محرکات کا جائزہ لیا ہے مگر ان کی نظر جمود کے زیادہ گہرے اسباب تک نہیں پہنچی۔ انہوں نے جماعت کے اندر قیادت سازی کے نظام کو جماعتی استحکام کا سبب قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہی نظام مکمل جمود تک پہنچا دینے کا...
1-50 (146) >
Flag Counter