آراء و افکار

’’پر امن طریق کار‘‘ بمقابلہ ’’پر تشدد طریق کار‘‘

محمد رشید

امن ایک نہایت مطلوب چیز ہے اور تشدد ایک قابل نفرت چیز۔ساری دنیا امن سے محبت کرتی ہے اور تشدد کو برا جانتی ہے، لیکن اگر کوئی مفکر امن سے محبت اور تشدد سے نفرت کے نام پر اقوام اور ریاستوں کی دفاعی قوت یعنی افواج کوختم کرنے...

حکمرانوں کی تکفیر اور خروج کی بحث

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

خروج اور تکفیر کا مسئلہ ایک عرصہ سے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور مختلف حوالوں سے اس پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مسئلہ نیا نہیں ہے، بلکہ خیر القرون میں بھی اس پر بحث ومباحثہ ہو چکا ہے اور مختلف حلقوں کا موقف تاریخ...

پاکستان ایک غیر اسلامی ریاست ہے

الشیخ ایمن الظواہری

(مصنف کی کتاب ’’الصبح والقندیل‘‘ کے اردو ترجمہ سے اقتباسات۔)۔ جب سے میں پاکستان سے متعارف ہوا ہوں، مسلسل کئی پاکستانی بھائیوں اور اسلامی جماعتوں کے داعی اور کارکن حضرات کو ایک بات دہراتے سنا ہے۔ ان سب حضرات کی رائے...

دنیائے اسلام پر استشرقی اثرات ۔ ایک جائزہ (۲)

ڈاکٹر محمد شہباز منج

مفسرین اور ان کے متبعین: عالم اسلام میں تفسیر قرآن کے باب میں بھی استشراقی اثرات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔بہت سے مسلم اہل تفسیر نے اپنی تعبیراتِ قرآنی کو استشراقی نتائج فکر سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ان معروف اہل...

’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۱)

مولانا محمد بدر عالم

امت مسلمہ اس وقت گوناگوں مسائل کا شکار ہے۔ عالمی کفر نے ہر طرف سے اس کو شکنجے میں کس لیاہے۔ ہم معاشی طور پر خدایانِ مغرب کے محتاج اور عسکری طور پر ان کفار کے دست نگر ہیں۔ ہم ان کے سیاسی قیدی اور تہذیبی غلام ہیں۔ جمہوری...

رائے کی اہلیت اور بحث و مباحثہ کی آزادی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی ہمارے فاضل دوست ہیں اور مخدومنا المکرم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاندانی تعلق کے باعث وہ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں۔ ہمارے ایک اور فاضل دوست مولانا حافظ...

علمی و اجتہادی مسائل میں رائے کا اختیار

حافظ زاہد حسین رشیدی

ماہنامہ ’الشریعہ‘ نے جہاں کچھ عرصہ سے دینی جرائد میں مقبولیت حاصل کی ہے، وہیں اس کے علمی واجتہادی مسائل میں مباحثے نے بیسیوں Side Effects اثرات کے خدشات کو جنم دیا ہے جن کا اظہار بعض مقتدر شخصیات کرتی رہتی ہیں اور ’الشریعہ‘...

آزادانہ بحث و مباحثہ اور ’الشریعہ‘ کی پالیسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے...

مشہورات کو مسلمات بنانے سے اجتناب کی ضرورت

مولانا محمد عبد اللہ شارق

میرے خیال میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ میرے ایسے طالبِ علم کو توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ کے ضمن میں کچھ عرض کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے جناب مولانا زاہدالرشدی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے...

کیا معاصر جہاد ’منہاج دین‘ کے خلاف ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ، شمارہ اکتوبر ۲۰۱۱ میں فاضل مصنف جناب اویس پاشا قرنی صاحب کا مضمون ’عصر حاضر میں غلبہ اسلام کے لیے جہاد‘ نظر سے گزرا۔ صاحب مضمون نے اپنے مضمون میں دو مقدمات پر بحث کی ہے۔ اولاً، موجودہ دور میں نصوص...

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعوائے نبوت اور مولانا وحید الدین خان کا تجاہل عارفانہ

مولانا مفتی محمد سعید خان

جناب مولانا وحید الدین خان صاحب ، عصر حاضر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے قارئین کا پوری دنیا میں ایک حلقہ موجود ہے۔لوگوں کوان کی تحریرات کاانتظار رہتا ہے اور ہزاروں افراد نہ صرف یہ کہ ان کے مشن سے وابستہ...

ہم ۔ دنیا بھر کے تنازعات کے امپورٹر!

مولانا مفتی محمد زاہد

عالمِ عرب میں اس وقت جو عوامی تحریکیں چل رہی ہیں، وہ جہاں پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہیں، وہیں پاکستان سمیت عالم اسلام کی ان سے دلچسپی ایک فطری امر ہے۔ تاہم ان تحریکوں نے خلیجی ریاستوں میں پہنچ کر کسی قدر فرقہ وارانہ...

کھنچیں میر تجھ ہی سے یہ خواریاں

محمد اظہار الحق

(۱) یہ ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے شمال کا ایک شہر تھا جہاں اسے ملازمت ملی۔ ہجرت کر کے آنے کے بعد تارکین وطن کے سامنے یوں بھی امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ جہاں بھی روزگار مل جائے، وہیں سے آغاز کرنا پڑتا ہے۔ چند ہفتوں کے اندر...

توہین رسالت کی سزا: ایک اجتہادی و اختلافی مسئلہ

مولانا حافظ صلاح الدین یوسف

جہاں تک اس مسئلے میں مذاہب کے اختلاف کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں عرض ہے کہ جمہور کا مسلک تو وہی ہے جس کا اثبات ابن تیمیہ نے ’’الصارم المسلول‘‘ میں کیا ہے، تاہم اس میں کچھ اختلاف بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔...

قومی ہم دردی اور ہم

مولانا محمد بدر عالم

لکڑی کا بنا ہواخوبصورت دروازہ گھرسے نکلتے وقت آپ کو الوداع کرتاہے اورگھر میں داخل ہوتے وقت آپ کا استقبال کرکے آپ کادل خوش کرتااوراپنی مضبوطی کا احساس دلاتا ہے ۔ایک دن اچانک جیسے ہی آپ دروازے پر ہاتھ رکھتے ہیں کسی ایک...

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تقسیم ہند سے تقریباً نوے برس قبل ۱۸۵۷ میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کا اصل مقصد، اسلام کا نفاذ نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف، اپنے علاقے سے غیر ملکیوں کو کھدیڑنا تھا۔ اس لیے اس جنگ میں متحدہ ہند کی تمام قوموں نے بلا تفریق مذہب...

حافظ صفوان محمد کے جواب میں

طلحہ احمد ثاقب

محب گرامی حافظ محمد صفوان نے ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ کے زیر عنوان مضمون میں تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا فریضہ بہت خوب صورتی سے سرانجام دیا ہے۔ اچانک چلتے چلتے وہ تواصی بالحق اور...

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں

پروفیسر خالد شبیر احمد

جناب محمد عمار خان ناصر صاحب کے بارے میں، میں کچھ نہیں جانتا نہ ہی ان کے علم وفضل کے خد وخال سے پوری طرح آگاہ ہوں کہ ان کا علم وفضل میں کیا مقام ومرتبہ ہے۔ البتہ ان کے والد محترم کی کئی تقریریں سننے کا اعزاز مجھے حاصل...

شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد

مولانا محمد عیسٰی منصوری

علماء کرام کا ایک بنیادی کام عوام کے ذوق و سوچ و فکر کی نگہداشت بھی ہے کہ دین کے کسی شعبہ میں غلو نہ پیدا ہونے پائے، دین کا ہر کام پورے توازن و اعتدال سے جاری و ساری رہے اور ملت اسلامیہ ذہنی و فکری طور پر جادۂ اعتدال سے...

تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۲)

محمد رشید

۷۔ سابقہ سطور میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ مضمون نگار کس بے رحمی سے ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے درویش منش انسان کو قارونی گروہ کا خاموش حمایتی ثابت کرنے کی کوشش کرچکے ہیں۔اور پھر وہ یہ ثابت بھی کرتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ...

سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں

ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

اللہ نے دین کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنایا ہے۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے اور اُن میں بھی ایسے لوگ گنتی کے چند تھے کہ جنھیں دین فہمی میں رسوخ کا وہ درجہ حاصل تھا...

دعوت الی اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے (۲)

مولانا محمد عیسٰی منصوری

دعوت میں کوتاہی کے ناقابل تلافی نقصانات: قرون اولیٰ کے بعد من حیث الامت دعوت میں کوتاہی سے جو نقصانات ہوئے، ان کی تلافی کبھی نہیں ہوسکتی۔ مثلاً برطانیہ کے بادشاہ جان لاک لینڈ، جس نے مشہور میگنا کارٹادیا، جب اس کے پادریوں...

تنقیدی جائزہ یا ہجوگوئی؟ (۱)

محمد رشید

الشریعہ کے خاص شمارہ (جنوری فروی 2011) کے چار سو صفحے پڑھنے کے بعد پروفیسر میاں انعام الرحمن کے مضمون ’’محاضرات معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ‘‘ کا اس ذہن سے مطالعہ شروع کیا کہ ہمیں ایک معیاری،شستہ اور باوقارتنقیدی...

توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی

(توہین رسالت پر قتل کی سزا کی فقہی حیثیت کیا ہے اور کیا مجرم کے لیے کسی درجے میں توبہ کی گنجائش ہے؟ اس کے بارے میں حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی مدظلہ العالی کا موقف ’الشریعہ‘ کے ایک گزشتہ شمارے میں پیش کیا...

’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ ۔ اعتراضات پر ایک نظر

محمد عمار خان ناصر

گزشتہ دنوں اپنی ایک تحریر میں توہین رسالت اور اس کی سزا کے حوالے سے ہم نے جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، بعض اہل قلم نے تحریری اور زبانی طو رپر اس پر مختلف تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان حضرات کے تحفظات کو درج ذیل تین نکات کی صورت...

تاریخ کی درستی: بھٹو سے فیض تک

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

سلمان تاثیر کے قتل کے بعد، توہین رسالت کیس کو تبدیل کرنے کے بارے میں حکومت پر بین الاقوامی دباؤ ختم ہوا، چنانچہ کم و بیش ہر روز زعیمان مملکت قانون میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کرنے کا یقین دلاتے رہے۔ رحمان ملک کی یقین دہانی...

مذہبی فرقہ واریت کا سیاسی ظہور

خورشید احمد ندیم

مذہبی فرقہ واریت،ایک سونامی کی طرح،مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کواپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اس کی لہریں پاکستان اور افغانستان تک پہنچ سکتی ہیں۔مذہب اور سیاست کے باہمی تعلق کو نہ سمجھنے کا ایک اورخطرناک نتیجہ ہمارے سامنے آنے...

شیعہ سنی مفاہمت کی ضرورت و اہمیت

مولانا محمد وارث مظہری

شیعہ سنی اختلاف بنیادی طور پر مسلمانوں کی داخلی سیاسی کش مکش کی پیداوار ہے، لیکن بعد میں اس اختلاف نے جو شکل اختیار کی، اسے اب دونوں فریقوں کی نظر میں محض فروعات دین میں اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا، تاہم اسے کفرو...

تصویر کے بارے میں ہمارا موقف اور پالیسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

’الشریعہ‘ کے مارچ کے شمارے میں شائع شدہ مولانا سختی داد خوستی کے مکتوب اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں خصوصی اشاعت کی ٹائٹل پر ان کی تصویر کے حوالے سے بعض دوستوں نے تصویر کے بارے میں میرا ذاتی موقف دریافت کیا...

’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ ۔ لبرل حلقوں کے لیے لمحہ فکریہ!

نادیہ ججا

اس وقت پاکستان میں انگریزی زبان کے تمام اشاعتی اور نشری ذرائع ابلاغ میں جنگ کے نقارے بجنے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے ایک بار پھر سب کو حالات حاضرہ پر گفتگو میں ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کی...

ایک تلافی نامے کا معذرت خواہانہ جائزہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

واقعہ کچھ یوں ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان، پنجاب شاخ لاہور کے زیرِ اہتمام ۸ مئی ۲۰۱۰ بروز ہفتہ ’’صوفی ازم کی عوامی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر سے ممتاز دانش وروں نے’’...

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

اپنی کلاسیکل علمی روایت کے ساتھ شعوری وابستگی عصرِ حاضر میں جن اصحاب کے حصے میں آئی ہے، ڈاکٹر محموداحمد غازی مرحوم ان میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ مرحوم کے محاضرات خواص و عوام میں پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ اگر مسلم علمی...

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات

ادارہ

’’رد قادیانیت کے زریں اصول‘‘ پر تقریظ۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی، ان مجاہدین اسلام میں سے ہیں جن کی زندگی کا ہر لمحہ دین حق کی سربلندی اور مسلمانان عالم کی ملی وحدت اور یک جہتی کے لیے وقف ہے۔ مولانا چنیوٹی گزشتہ...

کیا اب اسلام جیت نہیں سکتا؟

مولانا مفتی محمد زاہد

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بات کا آغاز دو جلیل القدر علما کے واقعات سے کیا جائے۔ پہلا واقعہ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ کا ہے۔ مفتی الٰہی بخش کاندھلوی ؒ اپنے وقت کے جلیل القدر علما اور باکمال اولیا میں سے ہیں۔ تبلیغی جماعت...

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۲)

محمد زاہد صدیق مغل

اسلامی بینکاری بطور حکمت عملی اور انداز فکر : پھر اسلامی بینکاری کے نام پر جس شے کو ’تبدیلی کی حکمت عملی‘ کے طو پر اختیار کر لیا گیا ہے اس کی نوعیت پر غور کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اس بحث سے یہ اندازہ لگانا بھی ممکن ہوجائے...

مسائل جدیدہ کے بارے میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کا نقطہ نظر

ادارہ

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت! اگر ایک رسالہ ایسا اور لکھا جاتا کہ جس میں ہر پیشہ ور کے معاملات کے احکام کو اس میں شرعی حیثیت سے بصورت مسائل بیان کر دیا جاتا تو بڑی سہولت ہو جاتی، اس لیے کہ لین دین وغیرہ میں آج کل نئی...

مجوزہ نئی دینی تحریک: نوعیت اور حکمت عملی کی بحث

ڈاکٹر محمد امین

جناب محمد یوسف ایڈووکیٹ نے الشریعہ کے جون کے شمارے میں میرے اس مضمون پر تبصرہ کیا ہے جو الشریعہ اپریل ۲۰۱۰ء میں ’ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت‘کے عنوان سے طبع ہوا تھا۔ اپنے اس مضمون میں انہوں نے راقم کے بارے میں جن تاثرات...

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث (۱)

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ جون اور جولائی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ دوئم و سوئم)...

فتاویٰ کے اجرا میں احتیاط کی ضرورت

حکیم ظل الرحمن

۱۱ مئی ۲۰۱۰ء، وقت ساڑھے آٹھ تا ساڑھے نوبجے شب۔ شرکا: (۱) نمائندہ این ڈی ٹی وی (۲) جناب پروفیسر اختر الواسع ۳) قاضی شہر لکھنؤ فرنگی محلی (۴) سعدیہ دہلوی صاحبہ (۵) جناب جاوید اختر۔ یہ پورا پروگرام دار العلوم دیوبند کے اس فتوے...

ایک تحریک بغاوت کی ضرورت

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا مضمون الشریعہ کے اپریل ۲۰۱۰ء کے شمارے میں دیکھا تو بڑی الجھن ہوئی۔ دقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے پرانی یاد اللہ ہے۔ وہ سید مودودی کے فکری حلقے سے متعلق ہیں۔ غامدی صاحب کے ساتھ بھی ان کو...

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۳)

مولانا مفتی محمد زاہد

اسلامی یا غیر اسلامی ہونے میں اصل اہمیت دلیلِ شرعی کی ہے۔ اسلامی بینکاری کے موضوع پر بحث کرنے والے علما ( مجوّزین اور ناقدین ) کا اصل میدان معاشی علوم نہیں ، اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ کسی معاشی پہلو...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۳)

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

کسی سماجی مسئلے کی گتھی سلجھانے کے لیے مصلح کا غیر جانب دار ہونا نہایت ضروری ہے۔ یہ صفت مصلح کوتحریک دیتی ہے کہ زیرِ بحث مسئلے کا معروضی جایزہ لے۔ معروضی تجزیے کی یہ روش، مسئلے کے متعلق درست زاویے سے سوال اٹھانے کی صلاحیت...

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۲)

مولانا مفتی محمد زاہد

مسئلے کا معاشی اور مقاصدِ شریعت کا پہلو: بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ روایتی علما کی واضح اکثریت جس میں غیر سودی بینکاری کے ناقدین اور مجوّزین دونوں ہی شامل ہیں، اگر مسئلے کو محض عقود کی سطح پر خالص فقہی انداز سے دیکھ...

اسلامی بینکاری: زاویہ نگاہ کی بحث

محمد زاہد صدیق مغل

ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۱۰ میں مفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم العالی نے راقم الحروف کے مضمون ’اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب‘ کے تعقب میں اپنے مضمون ’غیر سودی بینکاری کا تنقیدی جائزہ‘ (حصہ اول) میں ’زاویہ...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۲)

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

خالد سیف اللہ صاحب خواہ مخواہ کی قانونی موشگافیوں میں الجھنے کے بجائے اسلامی تعلیمات اور صدرِ اسلام کے واقعات سے استدلال کرکے چھوٹے چھوٹے نتایجِ فکر ، قارئینِ کے سامنے رکھتے جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی نظامِ...

بلا سود بینکاری کا تنقیدی جائزہ ۔ منہجِ بحث اور زاویۂ نگاہ کا مسئلہ (۱)

مولانا مفتی محمد زاہد

غیر سودی بینکاری آج کی معیشت خصوصا فائنانس کی دنیا کا نیا مظہر phenomenon ہے جس کی کل عمر تقریباً تین عشرے ہے۔ اس مدت کا تقابل اگر روایتی بنکاری کی صدیوں پر محیط عمر کے ساتھ کیا جائے تو اسے اب بھی بلا تردد دورِ طفولت کہا جا...

اسلامی اخلاقیات کے سماجی مفاہیم (۱)

پروفیسر میاں انعام الرحمٰن

خالد سیف اللہ رحمانی ، ہندوستان کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ ان کے مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کے مجموعے عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں ۔ اب ان مجموعوں کا مجموعہ ، پاکستان میں زم زم پبلشرز کراچی نے ’راہِ عمل ‘ کے عنوان...

ایک نئی دینی تحریک کی ضرورت

ڈاکٹر محمد امین

یہ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم نے ایک دن شہید ڈاکٹر سرفراز نعیمی صاحب سے کہا کہ ہمارے دینی سیاسی لوگ اکٹھے نہیں ہوتے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہاں ’کرسی‘ کا مسئلہ ہے لیکن دعوت و اصلاح جیسے غیر سیاسی کام میں دینی لوگ...

اسلامی بینکاری: غلط سوال کا غلط جواب (۳)

محمد زاہد صدیق مغل

(۳) اسلامی بینکنگ کے امکانات کا جائزہ۔ بینکنگ کے درست تصور کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس کی اسلامیت کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس بحث کو ہم درج ذیل امور پر تقسیم کرتے ہیں۔ ۱.۳: بینکنگ کی شرعی حیثیت۔ جیسا کہ ابتدائے...
< 201-250 (385) >

تلاش

شماریات