مذاہب عالم

وحدت ادیان: مکتب روایت کا موقف

مارٹن لنگز

پس منظر: زیرِنظر اردو ترجمہ کی تقریب یوں ہوئی کہ تقریباً پانچ برس قبل ، ہم نے استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب سے مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ان سوالات کے جواب میں احمد جاوید صاحب نےہمیں مذکورہ مضمون پڑھنے کے لیے تجویز کیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کردی کہ ہو سکے تو آپ حضرات اس کا اردو میں ترجمہ بھی کردیں۔ یہ مضمون پہلی دفعہ 1976ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اکتوبر 2005ء میں اس کی دو سری اشاعت، جناب سہیل عمر صاحب کے زیر ِادارت ، اقبال اکادمی لاہور کے مجلے اقبال ریویو میں ہوئی ۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مکتب...

ہندو مذہبی صحائف میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں

مولانا مشفق سلطان

مسلمانوں میں اس بات کی بڑی شہرت ہو گئی ہے کہ ہندو مذہبی کتابوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے متعلق واضح پیشن گوئیاں موجود ہیں۔ ایک زمانے میں میرا بھی یہی خیال تھا اور اس کو بڑے زور کے ساتھ لوگوں کے سامنے بیان بھی کرتا رہا۔ تاہم بعد میں جب براہ راست ہندو صحائف کے مطالعے کا موقع ملا اور ان پیشن گوئیوں کے بارے میں ہمارے مبلغین کی تاویلات کو دقت نظر کے ساتھ پرکھا تو اپنی سابقہ رائے کو تبدیل کر لیا۔ پچھلے سالوں میں کئی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہندو مذہبی متون کو اپروچ کرنے کا جو نہج بعض مسلم مبلغین نے اختیار کیا ہے وہ انتہائی...

غیر مسلموں کی نئی عبادت گاہوں کی تعمیر

ڈاکٹر عرفان شہزاد

حجاز کو اللہ تعالی نے توحید کا مرکز بنا کر مقدس کیا، کعبہ خدائے واحدت کے گھر اور قبلے کے حیثیت سے تعمیر ہوا۔ وہاں جب شرک نے قبضہ کر لیا تو یہ قبضہ واگزار کرایا گیا اور مشرکانہ عبادت گاہوں اور آثار کو مٹا ڈالا گیا۔ حجاز کی یہ خصوصی حیثیت ہے کہ وہاں کوئی مشرکانہ عبادت گاہ قائم رہ سکتی ہے اور نہ تعمیر کی جا سکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کعبہ کو بیت اللہ ہونے کی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ نہ کعبہ کہیں اور تعمیر ہو سکتا ہے اور نہ حجاز جیسا تقدس کسی اور زمین کو دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے صحابہ نے حجاز سے باہر کسی بت خانہ، کسی آتش کدہ کو نہیں گرایا اور نہ ایسی عبادت...

بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے ایک خوشگوار تبدیلی

محمد یونس قاسمی

ماہ اپریل کے دوسرے عشرے میں امام حرم مکی الشیخ عبداللہ عواد الجہنی نے پاکستان کا دورہ کیا اور صدر ، وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقاتوں کے علاوہ پیغام اسلام کانفرنس سمیت بعض دیگر کانفرنسوں سے خطاب کیا اورملک بھر کے مختلف علماء سے ملاقاتیں بھی کی۔ امام حرم نے۱۲ اپریل کو فیصل مسجد اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت کروائی ۔ نماز جمعہ کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام قائد اعظم آڈیٹوریم میں ’’نوجوانان امت اور عصر حاضر کے چیلنجز‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کیا۔ امام حرم نے کہا کہ’’ نوجوان...

اہل کتاب سے متعلق اسلام کا زاویہ نظر

محمد عمار خان ناصر

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدیہ کو دنیا کی اقوام تک اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت اور اس کا پیغام پہنچانے کا جو منصب اور ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ دراصل اسی ذمہ داری کا ایک تسلسل ہے جو اس سے پہلے یہود یوں اور مسیحیوں کو دی گئی تھی، لیکن یہ دونوں گروہ رفتہ رفتہ راہ راست سے ہٹ گئے اور دین کی اصل اور حقیقی تعلیمات ان کے ہاتھوں بگاڑ کا شکار ہو گئیں۔ مذکورہ دونوں گروہوں سے متعلق قرآن مجید نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، اس کے مختلف پہلو ہیں اور ان کو سامنے رکھا جائے تو مذہبی اختلافات کے حوالے سے توازن اور اعتدال کا ایک حسین نمونہ ہمارے سامنے آتا ہے...

بین المذاہب مکالمہ: چند مشاہدات و تاثرات

محمد حسین

(محمد حسین ، گزشتہ کئی سالوں سے امن و مکالمہ کے ماہر نصابیات اور ٹرینر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور مختلف موضوعات پر ایک درجن سے زائد کتابوں کی تحریر و تدوین کے علاوہ مذہبی ہم آہنگی پر کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین کو تربیت دے چکے ہیں۔)۔ انفرادی و اجتماعی زندگی کے متعدد محرکات کی بنیاد پر انسان اپنی تاریخ کے طول و عرض میں مختلف و متعدد ارتقائی مراحل سے گزرا ہے۔ گزشتہ تین صدیوں کے دوران دنیا کے مختلف ممالک و تہذیبوں میں بٹے انسانی معاشرے نے ترقی ( یا بسا اوقات تنزل) کے کئی سنگ میل کئی انقلابات کی صورت میں تیز رفتاری سے طے کیے ہیں۔ اکیسویں صدی میں...

بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست کے سوال و جواب

محمد عمار خان ناصر

مورخہ ۸ دسمبر ۲۰۱۵ء کو فیصل آباد کے ہوٹل وَن میں کرسچین اسٹڈی سنٹر اسلام آباد کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ کی ایک نشست میں شرکت اور حاضرین کے درجنوں سوالات کے جواب میں اپنے فہم کے مطابق گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ بڑے اچھے ماحول میں سوالات اور ان کے جوابات کا تبادلہ ہوا۔ مجلس کی منتظم محترمہ فہمیدہ سلیم نے آخر میں سب کا شکریہ ادا کیا اور تحمل وبرداشت کے حوالے سے کہا کہ ’’آپ کا ریموٹ کنٹرول آپ ہی کے پاس ہونا چاہیے’’، مطلب یہ کہ مکالمہ ومباحثہ میں کوئی دوسرا شخص اپنی کسی غیر محتاط یا اشتعال انگیز بات سے آپ کو بھڑکانے میں کامیاب نہ ہونے...

مغربی معاشروں میں مذہب کی واپسی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں 7 مئی کو شائع ہونے والی ایک دلچسپ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے سرکاری اجتماعات میں مذہبی دعا مانگنے کو درست تسلیم کیا ہے اور عیسائی طریقے پر دعا مانگنے کے خلاف ماتحت عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیویارک ریاست کے ٹاؤن ’’گویس‘‘ کی ٹاؤن کونسل کے اجلاسوں میں عیسائی طریقے کے مطابق دعا مانگے جانے کے خلاف دو خواتین نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تو وفاقی اپیل کورٹ نے ان کے حق میں یہ لکھ کر فیصلہ صادر کر دیا کہ ٹاؤن کونسل کے اجلاس میں عیسائی عقیدے کے مطابق...

موجودہ عیسائیت کی تشکیل تاریخی حقائق کی روشنی میں

ڈین براؤن

لینگڈن کے پہلو میں دیوان پر بیٹھی سوفی نے چائے کا گھونٹ بھرا اور کیفین کے خوشگوار اثرات محسوس کرنے لگی۔ سرلیہ ٹی بنگ آتش دان کے سامنے ڈگمگاتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔ ان کی ٹانگوں پر چڑھے آہنی شکنجے کی آواز پتھر کے فرش پر گونج رہی تھی۔ مقدس جام ٹی بنگ نے خطیبانہ لہجہ میں کہا: ’’ اکثر لوگ مجھ سے صرف اس کے مقام کے متعلق پوچھتے ہیں اور شاید اس کا جواب میں کبھی نہیں دے پاؤں گا‘‘۔ وہ مڑا اور براہ راست سوفی کی طرف دیکھا۔ ’’تاہم اس سے کہیں زیادہ متعلقہ سوال یہ ہے کہ ’’ مقدس جام ہے کیا؟‘‘ سوفی نے اپنے دونوں مرد ساتھیوں میں علمی تجسس پیدا ہوتے محسوس کیا۔...

جہاد کے بارے میں پوپ بینی ڈکٹ کے ریمارکس

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہ نما پوپ بینی ڈکٹ شانزدہم نے ۱۲؍ ستمبر کو جرمنی کے دورہ کے موقع پر یونیورسٹی آف ریجنز برگ میں کم وبیش ڈیڑھ ہزار طلبہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بار ے میں جو ریمارکس دیے، ان پر دنیاے اسلام میں ایک بار پھر احتجاج واضطراب کی لہر اٹھی ہے اور ان ریمارکس کو توہین آمیز قرار دے کر پاپاے روم سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان گستاخانہ ریمارکس پر معافی مانگیں۔ پاپاے روم کے ا س خطاب کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ مغرب نے مختلف سائنسی اور سماجی علوم کو بنیاد بنا کر خدا کی راہ نمائی...

بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت، ترجیحات اور تقاضے

پروفیسر محمد اکرم ورک

...

بائبل اور گستاخِ رسول کی سزا

محمد اسلم رانا

الشریعہ کے مئی ۹۴ء کے شمارے میں محمد یاسین عابد صاحب کا مضمون بعنوان ’’گستاخِ رسول کے لیے سزائے موت اور بائبل‘‘ شائع ہوا تھا۔ ماہنامہ ’’المذاہب‘‘ لاہور کے ایڈیٹر جناب محمد اسلم رانا نے اس مضمون پر ہمیں زیر نظر تنقید لکھ کر بھیجی ہے جو کہ نذرِ قارئین ہے۔ نیز رانا صاحب کے نقطۂ نظر کی مکمل توضیح کے لیے ان کا المذاہب کے جولائی ۹۴ء کے شمارہ میں شائع ہونے والا مضمون بھی زیر نظر شمارہ میں شاملِ اشاعت ہے۔ جہاں تک ہم غور کر سکے ہیں، دونوں نقطہ ہائے نظر میں، درحقیقت، کوئی اختلاف نہیں۔ محمد یاسین عابد صاحب کے مضمون کا منشا یہ ہے کہ اسلامی شریعت...

بائبل بے خطا اور بے عیب نہیں

کیپٹن اسلم محمود

۳ اپریل ۱۹۹۱ء کو اٹک کے جناب کیپٹن اسلم محمود نے ہمیں زیر نظر خط کی فوٹو کاپی بغرضِ اشاعت ارسال فرمائی اور لکھا کہ ’’انگلستان کی کیمبرج یونیورسٹی کے سڈنی سسکس (Sidney Sussex) کالج کے شعبہ دینیات کے سربراہ پال ہاکنز (Rev. Paul Hawkins) ہمارے کرم فرما ہیں، اور دینی شعبہ میں اگر تحقیق کے درمیان کوئی مشکل مقام آ جائے تو میں ان کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ مورخہ ۳۰ مئی کو انہوں نے میرے خط کے جواب میں ایک خط تحریر فرمایا جس کی فوٹو کاپی آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں۔‘‘ ہم اس خط کی اشاعت میں اس قدر تاخیر پر جناب کیپٹن اسلم محمود صاحب اور اپنے قارئین سے معذرت خواہ...

ایسٹر سنڈے ۔ نظریات اور رسوم کا ایک جائزہ

محمد یاسین عابد

ایسٹر مسیحی دنیا کا خاص تہوار ہے۔ مسیحی عقائد کے مطابق یسوع نے صلیب پر وفات پائی، جمعہ کے روز شام کو دفن ہوئے اور تیسرے روز اتوار کی صبح مردوں میں سے جی اٹھے (دیکھیے بالترتیب متی ۲۷: ۳۵ و ۶۰ اور لوقا ۲۴: ۵، ۶)۔ ایسٹر کا تہوار یسوع مسیح کے دوبارہ جی اٹھنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ پادری ایف ایس خیر اللہ لکھتے ہیں ’’اس کی تاریخ ۲۲ مارچ اور ۲۵ اپریل کے درمیان ہوتی ہے، یعنی موسمِ بہار کے اس دن کے بعد جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں (۲۱ مارچ)، اس کی تاریخ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے، ۲۱ مارچ یا اس کے بعد جس تاریخ کو پورا چاند ہو، اس کے بعد کا پہلا اتوار ایسٹر...

پردہ اور بائبل

محمد عمار خان ناصر

کلامِ الٰہی قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’یا ایھا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذٰلک ادنٰی ان یعرفن فلا یؤذین وکان اللہ غفورًا رحیما‘‘ ترجمہ: اے پیغمبر! اپنی بیبیوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور دوسرے مسلمانوں کی بیبیوں سے بھی کہہ دیجیئے کہ (سر سے) نیچے کر لیا کریں اپنے تھوڑی سی اپنی چادریں اس سے جلدی پہچان ہو جایا کرے گی تو آزار نہ دی جایا کریں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان...

توریت و انجیل وغیرہ کو کیوں پڑھنا چاہیئے؟

سید ناصر الدین محمد ابو المنصورؒ

امام محمد اسماعیلؒ بخاری نے تحریف کی تفسیر یوں کی ہے کہ تحریف کے معنی ہیں بگاڑ دینے کے اور کوئی شخص نہیں ہے جو بگاڑے اللہ کی کتابوں سے لفظ کسی کتاب کا مگر یہودی اور عیسائی خدا کی کتاب کو اس کے اصلی اور سچے معنوں سے پھیر کر تحریف کرتے تھے، انتہٰی۔ یہ قول اخیر صحیح بخاری میں ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحبؒ اپنی کتاب فوز الکبیر میں لکھتے ہیں کہ اہلِ کتاب توریت اور کتبِ مقدسہ کے ترجمہ میں (یعنی تفسیر میں) تحریف کرتے تھے نہ کہ اصل توریت میں اور یہ قول ابن عباس کا ہے، انتہٰی۔ امام فخر الدین رازیؒ اپنی تفسیر کبیر میں سورہ مائدہ آیت ۱۴ کی تفسیر کرتے ہیں کہ تحریف...

عیسائی اور یہودی نظریۂ الہام

محمد اسلم رانا

کہنہ مشق اور پرجوش عیسائی مبلغ پادری برکت اے خان ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر ہیں۔ دورانِ ملازمت سے ہی تبلیغی سرگرمیوں میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کی اکثر و بیشتر تحاریر کے مخاطبین مسلمان ہوتے ہیں۔ چند برس پیشتر انہیں اعزازی طور پر پادری بنا دیا گیا۔ رسمِ تقدیس سیالکوٹ چھاؤنی کے قدیم وسیع اور خوبصورت ہولی ٹرنٹی کیتھیڈرل نامی گرجاگھر میں منعقد ہوئی۔ راقم بھی اس تقریب میں شامل تھا۔ مؤقر جریدہ ’’الشریعۃ‘‘ بابت اپریل ۱۹۹۰ء (صفحہ ۴۰ کالم اول) میں حافظ محمد عمار خان ناصر نے پادری مذکور کی کتاب ’’اصولِ تنزیل الکتاب‘‘ (صفحات ۵، ۶) کے مندرجہ ذیل الفاظ...

نسخ و تحریف پر مولانا کیرانویؒ اور ڈاکٹر فنڈر کا مناظرہ

محمد عمار خان ناصر

یہ مناظرہ امام المناظرین مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ اور نامور عیسائی مناظر پادری ڈاکٹر سی جی فنڈر کے درمیان ۱۲۷۰ھ کے دوران آگرہ میں ہوا۔ مناظرہ اردو زبان میں ہوا تھا جو دستیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے عربی ترجمہ کو سامنے رکھ کر اسے نئے سرے سے مرتب کیا گیا ہے۔ مناظرہ کے لیے پانچ موضوعات طے ہوئے تھے: (۱) نسخ (۲) تحریف (۳) تثلیث (۴) رسالتِ محمدیؐ (۵) حقانیتِ قرآن۔ مگر صرف دو دن پہلے دو موضوعات پر مناظرہ ہوا اور تیسرے دن پادری فنڈر یا ان کے کسی ساتھی کو سامنے آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر وزیرخان مرحوم نے اس مناظرہ میں مولانا کیرانویؒ کی معاونت کی جو انگریزی...

’’وانہ لعلم للساعۃ‘‘ کی تفسیر اور پادری برکت اے خان

محمد عمار خان ناصر

سیالکوٹ کے ایک مسیحی عالم ماسٹر برکت اے خان اپنی کتاب ’’تبصرہ انجیل برناباس‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قرآن مجید میں جناب عیسٰی المسیح کی صلیبی موت کی منفی نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ ’’اور تحقیقی وہ (عیسٰی) البتہ علامت قیامت کی ہیں‘‘ (سورہ زخرف ۶۱) ترجمہ: شاہ فیع الدین محدث دہلوی ۔۔۔۔ قیامت کے معنی ہیں دوبارہ زندہ ہونا۔ چنانچہ جب عیسٰی المسیح مصلوب تیسرے دن مردوں میں سے جی اٹھے تو یہ ان کی قیامت کی علامت اور نشان تھا۔ لہٰذا قیامت کے بارے میں شک کرنے والوں کو جناب عیسٰی المسیح کی زندہ مثال دے کر سمجھایا گیا کہ روزِ قیامت کے بارے میں شک نہ کرو۔ جس طرح...

حفاظتِ قرآن کا عقیدہ اور پادری کے ایل ناصر

محمد عمار خان ناصر

حفاظتِ قرآن کا مسئلہ امتِ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے، کسی زمانے میں بھی کسی مسلمان عالم یا فاضل نے اس پر شک کی گنجائش نہیں دیکھی۔ البتہ روافض میں سے بعض کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم اصلی حالت میں محفوظ نہیں رہا۔ اس مسئلہ کو اگرچہ اس گمراہ فرقہ کے بعض مشاہیر علماء نے دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی تاہم ان کا قول قطعاً بے دلیل و بے حجت ہے۔ دورِ حاضر کے مشہور ایرانی دانشور اور مصنف جناب مرتضٰی مطہری قرآن میں تحریف کے قائلین کو ’’متعصب یہودی اور عیسائی‘‘ قرار دیتے ہیں (دیکھئے ان کی کتاب ’’وحی و نبوت ص ۶۹)۔ عیسائی پادریوں کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی...

مثیلِ موسٰی کون ہے؟

محمد یاسین عابد

کراچی سے مبشر انجیل عبد اللہ مسیح نے سیالکوٹ کے پادری برکت اے خان کا رسالہ بعنوان ’’کون مثیلِ موسٰیؑ ہے‘‘ بھیجا جسے پڑھ کر پادری صاحب کی کج فہمی اور علم و عقل کے دیوالیہ پن سے آگاہی ہوئی۔ چنانچہ ص ۴۹ پر لکھتے ہیں: ’’کتابِ مقدس کےخداوند نے جن چوپایوں میں سے چار جانور حرام قرار دیے بزرگ موسٰی نے ان کی بابت توریت شریف میں لکھا ہے: تم ان کو یعنی اونٹ اور خرگوش اور سافان کو نہ کھانا کیونکہ جگالی کرتے ہیں لیکن ان کے پاؤں چرے ہوئے نہیں سو یہ تمہارے لیے ناپاک ہیں‘‘۔ خان صاحب مزید لکھتے ہیں: ’’مثیلِ موسٰی کے وکلاء کو چاہیئے کہ وہ ثابت کریں کہ مثیلِ...

ایسٹر ۔ قدیم بت پرستی کا ایک جدید نشان

محمد اسلم رانا

عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیحؑ تیسرے دن مُردوں میں سے جی اٹھے تھے۔ عیسائی اس واقعہ کی یاد میں جو تہوار مناتے ہیں اسے ایسٹر کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایسٹر کو عیدِ قیامت مسیحؑ یا عید پاشکا بھی کہتے ہیں۔ عیسائیت کی تاریخ میں یہ سالانہ منایا جانے والا پہلا اور قدیم ترین تہوار ہے۔ رومن کاتھولک جریدہ رقمطراز ہے: قیامت مسیحؑ کی عید کو انگریزی میں ایسٹر کہتے ہیں۔ انگریزوں کے مسیحی ہونے سے پہلے وہ لوگ موسمِ بہار کی دیوی مانتے تھے اور اس دیوی کا نام ایسٹر تھا۔ مسیحیوں نے اس دیوی کو بھلا دینے کے لیے موسمِ بہار میں آنے والی مسیحی عید کا نام ایسٹر رکھ دیا...

عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟

حافظ محمد عمار خان ناصر

عیسائیوں کی کتب مقدسہ کے مجموعہ کو ’’بائیبل‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دو اجزاء میں منقسم ہے۔ ایک کو عہد نامہ قدیم (اولڈ ٹسٹامنٹ) اور دوسرے کو عہد نامہ جدید (نیو ٹسٹامنٹ) کہا جاتا ہے۔ اہلِ اسلام کے ایمان کے مطابق حضرت عیسٰی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ’’انجیل‘‘ نام کی ایک کتاب نازل کی تھی اس نے شریعت موسویٰ ؑ کے احکام میں تبدیلیاں کیں (سورہ آل عمران ۵۰)۔ آج کی اناجیل اربعہ (متی، لوقا، مرقس اور یوحنا) اور دیگر کسی بھی موجودہ انجیل کو ’’اصل انجیل‘‘ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تحریریں حضرت مسیح ؑ کی سوانح عمری پر مشتمل ہیں۔ پادری ولیم میچن لکھتے...

قرآنِ کریم نے موجودہ بائبل کی تصدیق نہیں کی

حافظ محمد عمار خان ناصر

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سراسر سچائی اور حقانیت پر مبنی ہے اور دنیا کے کسی بھی مذہب اور گروہ کے حقیقت پسند افراد کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم سے قبل بھی مختلف انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئی ہیں جن میں بڑی اور مشہور تین ہیں: تورات، زبور اور انجیل۔ یہ کتابیں بھی قرآن کریم کی طرح سچی تھیں لیکن آج اپنی اصل صورت میں نہیں پائی جاتیں کیونکہ ان کے ماننے والوں نے ان میں لفظی و معنوی تحریف کر کے ان کی شکل و صورت کو بگاڑ دیا اور آج ان کے نام پر جعلی اور فرضی کتابیں عیسائیوں...

کیا بائیبل میں تحریف پر قرآن کریم خاموش ہے؟

محمد عمار خان ناصر

دنیا کا ہر مذہب کوئی نہ کوئی مقدس کتاب رکھتا ہے، جیسا کہ اسلام میں قرآنِ کریم مقدس آسمانی کتاب ہے۔ عیسائیوں کی مقدس کتاب کا نام بائیبل ہے، یہ بنیادی طور پر دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک وہ جس کو ’’عہد نامہ عتیق‘‘ کہا جاتا ہے جس میں تورات، زبور اور انبیاء کبار و صغار کے الہامی و تواریخی صحائف ہیں۔ اس کے جس متن پر یہود اور نصارٰی میں سے فرقہ پروٹسٹنٹ کا اتفاق ہے، یہود اسے ۲۴ اور فرقہ پروٹسٹنٹ والے ۳۹ صحائف میں تقسیم کرتے ہیں۔ جبکہ یہی عہدنامہ عتیق کیتھولک پطرسی کلیسا کی بائیبل میں ۷ کتابوں کے اضافے کے ساتھ ۴۶ کتابوں یعنی صحائف کی شکل میں موجود...
1-25 (25)
Flag Counter