امت کا فکری بحران ۔ تاریخی بیانیے کا ایک تنقیدی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

امتِ مسلمہ پچھلی کئی صدیوں سے زوال کا شکار ہے۔ زوال و انحطاط کی مدہوشی میں اس کے ہوش و حواس پر ایک ہی منظر چھایا ہوا ہے۔ اس منظر کا نام ’شان دار ماضی‘ ہے۔ شان دار ماضی میں اسلاف ہیں اور اسلاف کے عظیم کارنامے ہیں۔ یہ منظر اپنی مجموعی کلی حیثیت میں پورے کا پورا چھایا ہوا نہیں ہے۔ شان دار ماضی کے حصے بخرے ہو گئے ہیں۔ سیاست، معیشت، فلسفہ، قانون، تصوف، سائنس، عمرانیات، اخلاقیات، الہیات اور زندگی کے دیگر پہلوؤں میں حاصل کی گئیں کامیابیاں اور کامرانیاں الگ الگ خانوں میں بٹ چکی ہیں۔ اگر ان خانوں کو جدا جدا کرنے کا مقصد، انکشافِ حقیقت کی غرض سے یہ واضح کرنا ہو کہ ان کے مجموعے سے ایک کُل کی صورت گری ہوئی ہے جس کا نام ’’شان دار ماضی‘‘ ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جیسے لمبائی، چوڑائی اور گہرائی بتانے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ مکان (space) کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جا سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ الگ الگ خانے یکساں طور پر توازن کے ساتھ شان دار ماضی کی تشکیل نہیں کر سکے ہیں۔ اس لیے شان دار ماضی کی مختلف جہات بغیر کسی معقول مناسبت کے، امت کے اجتماعی ضمیر کا حصہ بن چکی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج کی صورتِ حال میں جب بھی شان دار ماضی، اسلاف اور اسلاف کے کارناموں کی بات ہوتی ہے تو کسی یک رخی مظہر کو مرکب کی صورت میں لے لیا جاتا ہے۔ یعنی زندگی کے گوناں گوں پہلوؤں اور اسلاف کے متنوع کارناموں میں سے چند ایک کو شان دار ماضی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ طور طریقہ تاریخ و تحقیق سے اغماض تو ہے ہی، بد دیانتی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

آج ہمارے عہد کے مصلحین، امت کا خون گرمانے کے لیے شان دار ماضی کا تذکرہ چھیڑتے ہیں تو معاشیات، عمرانیات، عسکریات،نفسیات، طبیعات، مابعدالطبیعات، فلکیات، ریاضیات،حیاتیات اور لسانیات،ادبیات، ارضیات،وغیرہ کا ذکر ہی نہیں کرتے، اگر کرتے ہیں تو اتنا سرسری کرتے ہیں کہ ایک جیتے جاگتے سماج میں ان علوم کی قدر و قیمت نہ صرف واضح نہیں ہوتی بلکہ یہ علوم سرے سے غیر ضروری معلوم ہوتے ہیں۔ اس لیے فی زمانہ، شان دار ماضی کی تشکیل میں ان ’غیر ضروری علوم‘ کا کسی قسم کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ امت کے خطبا اور مقررین، فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہوئے گھوڑوں کی ٹاپوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں جنھوں نے ساتوں برِ اعظموں کو روند ڈالا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی شعلہ بیانی، عسکریات (war studies) کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔

(۲)

امت کے حالیہ بحران کی جڑیں تلاش کی جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ شان دار ماضی کی حکایت (narrative of past glory) کا علمی دیانت پر مبنی نہ ہونا ہے۔ شان دار ماضی کے بیانیے (narrative) میں بادشاہوں کے کارنامے شامل ہیں اور اصولیین و فقہا کی وکیلانہ طراریاں۔ ہمارے شان دار ماضی کا بس یہی کچا چٹھا ہے۔ بادشاہوں کے کارنامے (adventures) انتہائی سطحی اور جذباتی طور پر تاریخی داستانوں کا حصہ بنے ہیں، البتہ اصولیین کی فقہی موشگافیاں علم و استدلال کی رَو میں تاریخی بیانیے میں شامل ہوئی ہیں۔ 

لہٰذا عملی طور پر امتِ مسلمہ کے شان دار ماضی کے فقط دو حقیقی مظاہر ہیں اور شان دار ماضی کے نام پر یہی مظاہر امت کے ہوش و حواس پر بری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ اس لیے شان دار ماضی سے جذباتی وابستگی ( مثال کے طور پر) یہ تو بتا دیتی ہے کہ اندلس پر مسلمانوں نے کئی سو سال حکومت کی، مسجدِ قرطبہ اور الحمرا جیسی پر شکوہ عمارتیں تعمیر کیں وغیرہ وغیرہ، لیکن یہ نہیں بتاتی کہ ان عظیم الشان عمارتوں کے لیے ترجیحی بنیادوں پر خطیر رقم کیسے اور کیوں فراہم کی گئی، فنِ تعمیر کے ماہرین کی تربیت گاہیں کہاں کہاں اور کس معیار کی تھیں، پھر یہ کہ اندلس کا معاشی نظام کیسا تھا، کاری گروں اور مزدوروں کی معاشی حالت کیسی تھی، تاجروں کے طور طریقے کیسے تھے، معاشی امور میں حکومتی مداخلت کس نوعیت کی تھی، دوسری اقوام و ملل سے لین دین و تجارتی معاہدات میں کون کون سے پہلوؤں کو اور کیوں کلیدی اہمیت دی گئی تھی، معاشرت اگر طبقاتی تھی تو اس طبقاتی اونچ نیچ کو مہمیز عطا کرنے والے عناصر کون کون سے تھے، عسکری شعبے میں کیسے کیونکر ایجادات ہوئیں، وغیرہ وغیرہ۔ آج ان موضوعات پر شاید ہی کوئی سنجیدہ علمی کتاب مل سکے۔ لیکن اندلسی حکم رانوں کی ظاہری فتوحات ان کی بہادری کی داستانیں بغیر کسی تجزیے کے، طومار کی صورت میں ملیں گی۔ اسی طرح حیاتیات، طبیعات، فلکیات، موسمیات، اور بشریات، ادبیات لسانیات وغیرہ کے متعلق ضمنی بیانات ’فرض کفایہ‘ ادا کرتے دکھائی دیں گے، لیکن اندلسی اصولیین و فقہا کے جواہر پارے تفصیلی استناد کے ساتھ رسائی میں ہوں گے۔ .......... سوال پیدا ہوتا ہے کہ شان دار ماضی کا ایسا بیانیہ کیا ماضی کو واقعی شان دار رہنے دیتا ہے؟ کیا ایسے یک رخے بیانیے سے (without contexture) امت کے ’حال‘ کی مثبت تعمیر کی جا سکتی ہے؟ 

(۳)

واقعہ یہ ہے کہ راہ سے بھٹکانے والی، شان دار ماضی کی اس ادھوری اور نا مکمل تصویر کے پیچھے اصولِ تاریخ سے انحراف کے علاوہ تلبیسِ تقدیس کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اصولِ تاریخ سے انحراف کی گواہی، قرآنی تصورِ تاریخ کے ساتھ شان دار ماضی کی حکایت کے تقابلی جائزے میں مل جاتی ہے۔ جس کے مطابق: 

۱۔ قرآن کے تصورِ تاریخ کی بنیادی اکائیوں میں سے ایک، حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے تذکرے میں کسی بادشاہ یا سردار کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر دو بھائیوں کا قصہ ہے۔ 

۲۔ پھر جہاں کہیں قرآنی بیانیے میں بادشاہوں کے قصے چھڑے ہیں وہاں اقوام کے مجموعی احوال کے علاوہ مختلف رشتوں ناتوں اور انسان کی نفسیاتی پے چیدگیوں کا بھی بھر پور تذکرہ کیا گیا ہے۔

۳۔ اقوام کے مجموعی طرزِ عمل کے احوال میں (مثال کے طور پر) قومِ نوحؑ ، قومِ لوطؑ ، قومِ شعیبؑ اور قومِ عاد و ثمود، وغیرہ کے متعلق قرآنی آیات دیکھ لیجیے۔

۴۔ غور کیجیے کہ قرآن مجید نے کئی مقامات پر بادشاہوں اور عسکری کمانڈروں کے بجائے ترجیحی طور پر ’بنی اسرائیل‘ کو خطاب کیا ہے۔ 

۵۔ انسانوں کے باہمی رشتوں ناتوں کی مختلف پے چیدگیوں سے واقفیت کے لیے نوحؑ کے بیٹے اور ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا تذکرہ پڑھیے۔ زوجہ نوح علیہ السلام اور عزیز مصر کی بیوی کا قصہ دیکھئے۔ برادرانِ یوسفؑ پرایک کڑی نظر کیجیے اور موسی ؑ و ہارون ؑ کے بھائی چارے کو بھی دیکھئے۔ 

۶۔ زندگی کے متنوع مظاہر کے ضمن میں طوفانِ نوحؑ ، کشتی نوحؑ اور واقعہ سبت ، اصحابِ کہف اور ان کے کتے (وغیرہ) کو دیکھ لیجیے۔ 

۷۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے میں جہاں ان کے کافر باپ آزر کا ذکر ہے وہاں ان کے دوعظیم بیٹوں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کا بیانیہ بھی رونق افروز ہے۔ حیات بعدالممات کا حق الیقین، خانہ کعبہ کی تعمیر اور ذبح عظیم جیسے واقعات اس قصے کو مزید تاب ناک کرتے ہیں۔ پھر تلاشِ حق کی جستجو اور نمرود سے دل چسپ مکالمے نے اس تاریخی بیانیے کو بہت پر اثر، معنی خیز اور ثمر آور بنا دیا ہے۔

ان سات نقاط میں، قرآنی قصص میں سے چند ایک کا انتہائی مختصراً اجمالی تعارف کروایا گیا ہے۔ لیکن ان تعارفی نقاط میں بھی قرآنی بیانیے کے اسالیب، قرآنی تصورِ تاریخ کی صراحت بہت عمدگی سے کر دیتے ہیں، کہ صرف بادشاہوں کے قصے کہانیاں ہی تاریخ نہیں ہیں۔ اب اسے المیہ قرار نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے کہ بادشاہوں کی فتوحات کے وزن سے بوجھل، ہمارے شان دار ماضی کا یک رخا بیانیہ، قرآنی اصولِ تاریخ کی مطابقت میں نہیں ہے۔ شاید اسی لیے مستشرقین اور دیگر غیر مسلم سکالرز سمیت بعض مسلم سکالرز کو بھی یہ اعتراض کرنے کی پوری پوری گنجائش مل گئی ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور تلواروں کی جھنکاروں سے مزین شان دار ماضی کا بیانیہ(narrative of past glory)، اب امتِ مسلمہ کی عمومی نفسیات کا حصہ بن چکا ہے۔ اس لیے پچھلی کئی صدیوں سے، اس بیانیے سے تربیت پائی نفسیات کے زیرِ اثر تاریخ دہرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں جاری جہادی کاروائیاں اس لیے بے سود رہی ہیں کیونکہ سماجیات، معاشیات، عسکریات اور اخلاقیات وغیرہ کو نظر انداز کر کے ماضی کی فتوحات کے فقط ظواہر کو لینے کا جانب دار جذباتی رویہ، ان عسکری مہم جوئیوں کے پس منظر میں کارفرما ہے۔ 

(۴)

مشرق و مغرب کی سرزمین پر اسلام کا جھنڈا لہرانے والی شاہی عسکری مہمات کے جلو میں، قرآنی اصولِ تاریخ سے انحراف پر مبنی شان دار ماضی کے بیانیے کی تکمیل اصولیین کی نا قابلِ شکست فقہی موشگافیوں کے روپ میں ہوئی ہے۔ یوں شان دار ماضی کے اس نام نہاد مکمل بیانیے سے، امتِ مسلمہ کے اجتماعی ذہن میں اسلام اور مردِ مومن کی جو تصویر نقش ہوئی ہے اس کے مطابق اسلام کی سربلندی کا خواہاں مردِ مومن ہمیشہ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے، جب گھوڑے کی پیٹھ چھوڑتا ہے تو فقہ کی باریکیاں سمجھ سمجھا کر اپنا وقت قیمتی بناتا رہتا ہے۔ 

شان دار ماضی کے اس نام نہاد مکمل بیانیے سے امت کی دلی جذباتی وابستگی اس آئینے میں نظر آتی ہے جس میں ایک طرف کئی صدیوں سے مار کھاتے مجاہدین کی تصویر منقش ہے اور دوسری طرف فروعی مسائل کے بھنور میں پھنسے علمائے دین کی۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پچھلے تقریباً ایک ہزار سال میں اسلام کا سفر گھوڑے کی پیٹھ سے فروعی مسائل کی مسند تک کا سفر رہا ہے۔ اس سفر کا ’’حال‘‘ اب اتنا ترقی یافتہ ہو چکا ہے کہ گھوڑے پر سواری کا فیصلہ بھی، خیر سے فروعی برتری ثابت کرنے کے لیے فروعی تناظر میں کیا جاتا ہے۔ 

(۵)

شان دار ماضی کے بیانیے کی فقہی جہت کو قرآنی اصولوں پر پرکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے فضول کی کرید اور بے سود باریک بینی سے مکمل احتراز برتا ہے۔ قرآن مجید، اپنے تاریخی بیانیے (قصص القرآن وغیرہ) کے خاکے میں لفظ برائے لفظ کے مباحث سے بے رنگی اور بے نوری نہیں بھرتا، بلکہ حرف و لفظ کی توں تکار سے مکمل بچتے ہوئے انسانی زندگی کے زندہ اور سنجیدہ احوال کے بہت قریب رہتا ہے۔ حتیٰ کہ سابقہ آسمانی صحائف اور کتب سماوی کے تذکرے میں بھی قرآنی بیان، قانونی قسم کا روکھا پھیکا اسلوب اختیار نہیں کرتا۔ اس لیے اس امر میں شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اپنی حقیقت میں قرآن پاک کا تاریخی بیانیہ، زندگی کے رنگارنگ جواہر پاروں سے مزین ہے۔ لہٰذا قرآنی بیانیے کے مطابق زندگی کے جواہر پارے، صرف مذہب و قانون کی اقلیم تک محدود نہیں ہیں۔ لیکن امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر نے اس قرآنی بیانیے سے انحراف کی روش اپناتے ہوئے اپنے شان دار ماضی کے بیانیے میں صرف مذہب و قانون کو ہی کُل زندگی قرار دیا ہے۔ اس لیے فقہی ذخیرے کو اگر دیانت داری سے کھنگالا جائے تو اس میں سے صرف اور صرف مذہب (نماز، روزہ، حج وغیرہ کے مسائل) اور قانون (انسانی معاملات وغیرہ کو نظم میں لانے کے اصول) برآمد ہوتے ہیں۔ 

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ماضی کی مسلم تہذیب میں (نام نہاد تاریخی بیانیے کے مطابق) صرف مذہب اور قانون ہی چھائے ہوئے تھے، تو یہ تہذیب زندگی کی کلیت اور تنوع کو دھتکارتے ہوئے بامِ عروج پر کیسے پہنچ گئی؟ بلکہ اس سے بھی بڑا سوال تو یہ ہے کہ مذہب و قانون کے اصول(یعنی فقہی استنباطات) فی نفسہٖ بلا شرکت غیرے (exclusively) کیسے ظہور میں آ گئے؟ حالاں کہ ایسا ہونا محال ہے۔

(۶)

مذہب و قانون کے اصول بجائے خود وجود میں نہیں آ سکتے، یہ سمجھنے کے لیے یہ مقدمہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسانی زندگی، تکوینی طور پر خود رَو تسلسل سے عبارت ہے۔ زندگی کی یہ خاصیت اسے سفر میں رکھتی ہے۔ سفر کی تکان اتارنے کے لیے یہ کہیں کہیں پڑاؤ بھی ڈال لیتی ہے۔ لیکن صرف سستاتی ہے، سوتی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی اگر کبھی مسافرت میں نہ بھی رہے تو پھر بھی کم از کم بیدار ضرور رہتی ہے۔ زندگی جاگتی رہتی ہے۔ 

انسانی زندگی جتنی مسافت طے کرتی ہے اس کا اظہار اپنی اقدار، اپنے اداروں اور اپنے علوم و فنون (تکوینی اعتبارات و حقائق) میں کرتی ہے۔ ہر آنے والا پڑاؤ، پچھلی مسافت کی ان نافع باقیات کو سنبھال لیتا ہے جو سفر کی دھول میں گم ہونے سے بچ جاتی ہیں۔لیکن ان بچ رہنے والی باقیات میں سے کچھ نہ کچھ کسی اگلی مسافت میں غیر نافع ثابت ہوتی ہیں اور یوں مسافت در مسافت کے عمل میں یہ باقیات آخر کار معدوم ہوتی جاتی ہیں۔غیر نافع باقیات کا مٹتے چلے جانا پتا دیتا رہتا ہے کہ زندگی جاگ رہی ہے۔

امتِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اپنی انسانی (اور تکوینی) حیثیت میں اس نے بھی، زندگی کی مسافرت کے دوران میں (باقیات کی مدد سے) مفید اور نافع علوم و فنون کا اضافہ کیا ہے۔ ان علوم و فنون میں سے اکثر و بیشتر ہزار سالہ مسافت کی نذر ہو گئے ہیں۔ اگرچہ ان کی نافع باقیات اگلی مسافت کو منتقل ہو گئی ہیں۔ جی ہاں! امرِ واقعہ یہ ہے کہ اُمتِ مرحومہ کے علوم و فنون کا جوہر (essence) عرصہ ہوا مغرب کو منتقل ہو چکا ہے۔

(۷)

اس مقدمے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے انسان کی تکوینی زندگی اور اس کے حاصلات کو خدائی نظم میں لانے کے لیے وقتاً فوقتاً انسانوں ہی میں سے کسی ایک کو انسانوں کے لیے ہی شریعت عطا کی ہے۔ نبی خاتم محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عطائے شریعت کا یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ بر سبیلِ تذکرہ! انسان کی تکوینی زندگی اور اس کے حاصلات کے تناظر میں حضرت آدم علیہ السلام کے حوالے سے یہ بحث کہ وہ نبی تو تھے ہی لیکن صاحبِ شریعت رسول تھے کہ نہیں، قابلِ فہم ہو جاتی ہے۔ بادی النظر میں معلوم یہی ہوتا ہے کہ ہبوطِ آدمؑ کے وقت انسانی زندگی تکوینی طور پر ابھی اتنی مسافت طے نہیں کر پائی تھی کہ اسے خدائی نظم میں لانے کے لیے شریعت کی ضرورت محسوس ہوتی۔ شاید اسی لیے آدم علیہ السلام کے بیٹوں کے قصے میں شرعی قانون کا اطلاق کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شریعت کے نفاذ و اطلاق کے لیے انسان کی تکوینی زندگی کا ترقی یافتہ ہونا ضروری ہے۔ سطورِ بالا میں ذکر ہو چکا کہ انسان تکوینی طور پر اپنی ترقی کا اظہار مختلف اقدار، اداروں اور علوم و فنون میں کرتا ہے۔ انسانی ترقی کے یہ اظہاریے، انسانی زندگی سے نامیاتی طور پر جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی، اصل میں یہ انسانی زندگی کے تہ در تہ حقائق کے عکاس ہوتے ہیں۔ یہ حقائق فی نفسہٖ، ایک مطالبہ لیے ہوتے ہیں کہ انسانی زندگی کو افراط و تفریط سے بچانے کا اہتمام کیا جائے اور انھیں ایک (خدائی) نظم میں لایا جائے۔ یعنی اس مرحلے پر انسان کی تکوینی زندگی، کسی صاحبِ شریعت رسول کا تقاضا کرتی ہے۔

اس سرسری بحث سے یہ واضح ہو گیا کہ انسان کی تکوینی زندگی کی ترقی یافتہ شکل کو ہی تشریعی بنایا جاتا ہے اور انسان کی بنائی ہوئی اقدار، اس کے منظم کردہ ادارے اور اس کے وضع کردہ علوم و فنون، (یعنی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق) تشریعی ڈھانچے کا جواز بنتے ہیں۔ ان قدروں، اداروں اور علوم و فنون کی عدم موجودگی میں شریعت کے نفاذ کی کوشش خلا میں محلات تعمیر کرنے کے مترادف ہے، جو محال ہے(شاید اسی لیے ہر پیغمبر، صاحبِ شریعت نہیں تھا)۔ یہاں غور کرنے کا مقام ہے کہ جب شریعت اپنے اظہار اور نفاذ کے لیے، انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کا مطالبہ کرتی ہے تو پھر شریعت سے ماخوذ فقہ ان اعتبارات و حقائق سے بے نیاز رہ کر کیسے اظہار پا سکتی ہے؟ اس لیے اس امر میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ فقہی استنباطات (یعنی، مذہب و قانون کے اصول) فی نفسہٖ بلا شرکت غیرے (exclusively) ظہور میں نہیں آ سکتے۔

(۸)

یہ حقیقت بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ فقہ اپنی مبتدا و منتہٰی میں دیگر علوم و فنون کے مانند خالصاً بشری علم و فن ہے۔ اسے شریعت (قرآن و سنت) جیسی تقدیس سے نہیں نوازا گیا۔ ہوتا یوں ہے کہ زندگی کا تکوینی پہلو جب خود رَو تسلسل سے مختلف اقدار اور علوم و فنون وغیرہ میں منکشف ہوتا ہے تو اسے نظم میں لانے اور اس کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے کے لیے شریعت سے مدد لی جاتی ہے۔ چونکہ شریعت بجنسہٖ اور بعینہٖ اپنی الوہی حیثیت میں نافذ نہیں ہو سکتی، اس لیے اس کے نفاذ کی خاطر انسان کو تردد کرنا پڑتا ہے۔ تردد کا یہ عمل، فقہانبھاتے ہیں۔ ایک اعتبار سے اصولیین اور فقہا، انسانی زندگی کی تکوینی جہت اور شریعتِ الہیہ کے درمیان پُل اور واسطے کا کام دیتے ہیں، ....... اور یوں فقہ کو ظہور میں لاتے ہیں۔

یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اگرچہ شرعی احکام غیر متغیر اور غیر متبدل رہتے ہیں لیکن انسانی زندگی کا تکوینی پہلو خود رَو تسلسل سے کبھی بھی دست بردار نہیں ہوتا۔ انسانی زندگی کی یہ حرکی خاصیت، نئی اقدار، نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی تخلیق کرتی رہتی ہے، ...... کہ زندگی جاگتی رہتی ہے۔ اس تخلیقی سفر کے دوران میں جب بھی زندگی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف بڑھتی ہے تو اس بڑھنے اور پھر مقام پر پہنچنے کے عمل پر فقہا کو بہت گہری اور عمیق نظر رکھنی ہوتی ہے۔ یعنی، ابھرتی ہوئی نئی اقدار نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی ماہیت اور پس منظر کے علاوہ ان کے ممکنہ مثبت و منفی اثرات کو انھیں بصیرت کی آنکھ سے دیکھنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے فقہ کی یہ جہت ایک پتے کی بات بتاتی ہے کہ اگر فقہ کو انسانی زندگی کے زندہ احوال کا حصہ بننا ہے تو اسے لازمی طور پر زندگی کے مذکورہ حرکی و تخلیقی پہلوؤں کے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فقہ بطور علم و فن، دیگر علوم و فنون کے مانند سفر میں رہتا ہے (بلکہ ان علوم کا ہم سفر رہتا ہے)، یہی وجہ ہے کہ کسی دَور کے فقہی مظاہر میں اس دَور کی قدروں، اداروں اور علوم و فنون کا پَرتَو جھلکتا رہتا ہے۔

اس بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ شریعت خلا میں نہیں بلکہ انسانوں پر نافذ ہوتی ہے، پھر یہ کہ شریعت خود کار انداز میں اپنے طور پر خود بخود نافذ نہیں ہو جاتی، اسے نافذ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے انسانی زندگی کا یہ (ایک اعتبار سے جامد) تشریعی پہلو، تکوینی پہلو (کے خود رَو حرکی تسلسل) سے خاصا مختلف ہے۔تشریعی پہلو کی جمودی کیفیت، زندگی کے تکوینی پہلو کی تخلیقیت سے تعلقِ خاطر قائم کیے بغیر انسانی احوال کا حصہ بننے سے قاصرہوتی ہے۔اصولیین اور فقہا یہی تعلق پیدا کرتے ہیں اور فقہ کو ظہور میں لاتے ہیں، جس کے نتیجے میں (غیر متغیر اور جامد) شرعی احکام کے لیے نافذ ہونا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہوا کہ اصولاً، شریعت تو بعینہٖ نافذ ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی ہو سکتی ہے، البتہ اس کے نام پر فقہ کی تنفیذ ضرور ہو جاتی ہے۔ 

(۹)

ہمارے شان دار ماضی کے بیانیے کی تکمیل، فقہی موشگافیوں کے روپ میں کیوں ہوئی ہے؟ اس کا جواب اس لطیف نکتے میں مل جاتا ہے کہ چونکہ شریعت تو نافذ ہی نہیں ہوتی، شریعت کے نام پر فقہ کی تنفیذ ہوتی ہے،اس لیے فقہ کی اس نیابتی حیثیت سے ناوافقیت کی بنا پر اسے ہی اصل(شریعت) سمجھ لیا گیا ہے اور فوراً سے پہلے تقدس کا جامہ پہنا کر شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ (grand narrative of past glory) قرار دیا گیا ہے۔ 

یہ درست ہے کہ فقہ کی اساسی تشکیل میں شرعی احکامات کا بہت بنیادی کردار ہے کہ اپنے جامد اور محکم اعتبار کے ساتھ شریعت ایک ناقابلِ شکست پیمانہ ہے۔ اور یہ پیمانہ زندگی کے غیر محکم اور متغیر پہلو کی ہر دو (سلبی اور ایجابی) اعتبار سے حد بندی اور توسیع کرتے ہوئے فقہ کا قطب نما بھی قرار پاتا ہے۔ لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ شریعتِ محکم، اساس فراہم کرنے اور راہ دکھانے کے باوجود بعینہٖ نافذ نہیں ہو پاتی، بلکہ فقہ کو نیابتی ذمہ داری سونپ کر سبک دوش ہو جاتی ہے۔

شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ کو تقدس کا لبادہ اوڑھانے کے بجائے، چاہیے تو یہ کہ اس سوال پر غور کیا جائے کہ شارع نے شریعت کے بجنسہٖ اور بعینہٖ نفاذ کی کوئی صورت کیوں نہیں نکالی؟ کیا اسی لیے نہیں کہ زندگی کے اعتبارات اور حقائق، کہیں تقدس کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں، جس کے نتیجے میں شریعت آخر کار خود بے اعتبار نہ ٹھہر جائے؟ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسانی زندگی کے تکوینی اعتبارات اور حقائق، لازمی طور پر اتنے اہم اور ناگزیر ہیں کہ ان کے اثبات کو ممکن بنانے کی غرض سے انھیں شریعت کی تقدیس سے آزاد رکھا گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شریعت کی تقدیس ان اعتبارات و حقائق کے آڑے نہیں آئی تو پھر بے چاری فقہ انھیں کیسے لگام دے سکتی ہے؟ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ نے غیر فطری اور مصنوعی طور پر، انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو مفلوج کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

(۱۰)

اب تک کی بحث سے یہ بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے کہ انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کی غیر موجودگی میں شریعت غیر موثر ہو جاتی ہے۔ اس لیے شریعت نے (اصولی طور پر) کبھی بھی انسانی زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق کی نفی نہیں کی، اور فقہ نے بھی شریعت کی نیابتی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ان اعتبارات و حقائق کو مکمل جگہ (space) دی ہے، کیونکہ ان کے اثبات کے بغیر فقہ کی تشکیل ممکن ہی نہیں تھی۔ لیکن ہمارے شان دار ماضی کے کبیر بیانیے نے فقہ کی جو تصویر امتِ مسلمہ کے ذہن میں نقش کر دی ہے اس کے مطابق فقہ کا ظہور زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے بے نیازی (بلکہ ان کی نفی) کی حالت میں ہوا ہے۔ اس لیے اس بیانیے میں سماجیات، معاشیات، ریاضیات، عسکریات، فلکیات، بشریات وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں، البتہ الہیات، روحانیات اور اخلاقیات کو معمولی درجے میں قابلِ اعتنا ضرور سمجھا گیا ہے۔ 

المیہ یہ ہے کہ اسی یک رخے بیانیے کی بنیاد پر امتِ مسلمہ کے حال کی تعمیر ہوئی ہے۔ دینی اداروں میں دینی اعتبار صرف فقہ کو حاصل ہے۔ اس فقہ میں نماز روزہ حج وغیرہ کے مسائل و دلائل ہیں اور ماضی کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق سے وابستہ قوانین ہیں۔ حالاں کہ اب انسان کی جدید زندگی نے خالصاً مذہبی مسائل کی بابت بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، چہ جائے کہ تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق کی نیرنگی اور بو قلمونی ہو۔ 

(۱۱)

اس وقت امتِ مسلمہ کے فکری بحران کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ شان دار ماضی کے تکمیلی بیانیے یعنی فقہ کو بہ تکلف عصری زندگی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانی زندگی کا حرکی و تخلیقی پہلو مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے۔ دین سے گہری وابستگی رکھنے والے لوگ، اصولیین اور فقہا کے ناموں اور کارناموں سے بخوبی واقف ہیں، لیکن جن موجدین اور تخلیق کاروں نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو منکشف کیا، اور پھر ان انکشافات و ایجادات کی بدولت فقہ کو جواز بخشا، جس سے فقہ کی تشکیل ممکن ہو سکی، آج ان کے ناموں اور کارناموں سے کوئی واقف نہیں، کیونکہ وہ لوگ شان دار ماضی کے کبیر بیانیے میں کوئی مقام نہیں پا سکے۔ یہ بہت بڑی اور انتہائی سنگین فرو گزاشت ہے۔ 

اس وقت ہم عصر ماحول میں، انسان کی تکوینی زندگی جن اعتبارات و حقائق کو منکشف کر رہی ہے، شان دار ماضی کا بیانیہ ان کی مطابقت میں نہیں ہے اور اسے اصولاً ہونا بھی نہیں چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ فقہ کو انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کے اکتشافات کے پہلو بہ پہلو آگے بڑھنا چاہیے تھا، کہ فقہ کا محکم اور منجمد پہلو، جو تکوینی زندگی کا پیمانہ بھی بنتا ہے، یعنی قرآن و سنت، وہ تو استقلال کے ساتھ قائم و دائم کھڑا ہے، ...... پھر فقہ زندگی کے متغیر (تکوینی) پہلو سے منحرف ہو کر جمودِ محض کی علامت بن کر رسوا ہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے امتِ مسلمہ کا فکری بحران اس تضاد سے مزید گھمبیر ہوا ہے کہ فقہ (ذہنی اور نفسیاتی طور پر) اس کے شان دار ماضی کا تکمیلی بیانیہ ہے اور یہ بیانیہ عصری صورتِ حال میں (عملی طور پر) بری طرح پِٹ چکا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو فکری بحران کے گرداب سے نکالنے کے لیے فقہ کی بنیادی ساخت کو سمجھنا ہو گا۔ فقہ اپنی ساخت میں، محکم (تشریعی) اور متغیر (تکوینی) پہلوؤں کی حامل ہے۔ محکم پہلو، قرآن و سنت سے عبارت ہے اور متغیر پہلو زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے مزین ہے۔ فقہ کا کام ان دونوں پہلوؤں کو مکمل طور پر سمجھنا ہے اور پھر متغیر پہلو کو محکم کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے اس کی تحدید یا توسیع کو حتی الامکان ممکن بنانا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم عصر ماحول میں فقہ نے ایک پست درجے میں قرآن و سنت کو تو کچھ نہ کچھ سمجھنے کی کوشش ضرور کی ہے لیکن تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق اس کی دست گاہ میں نہیں رہے۔ اس لیے ایک لحاظ سے اس کی قرآن و سنت کو سمجھنے کی کوشش بھی لاحاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اس پیمانے پر جس کو پرکھا جانا ہے وہ ہی سرے سے موجود نہیں۔ 

(۱۲)

اس طرح امتِ مسلمہ کے فکری بحران کی یہ واقعاتی شہادت سامنے آتی ہے کہ فقہ کے نام پر ایک بے جان غیر نافع اور کھوکھلے علم و فن کو سیکھا سکھایا جا رہا ہے۔ عملی طور پر غیر معتبر اور غیر نافع ہونے کے باوجود، یہ علم و فن ایک رجھانے والی نفسیاتی تسکین دے رہا ہے کیونکہ اس کے پیچھے شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ موجود ہے جس میں فقہ، امت کی عظیم کامیابی اور معراج قرار پائی ہے۔

یہاں ایک سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ فقہ کی ساخت کے دو عناصر (تشریعی و تکوینی) میں سے تشریعی (قرآن و سنت) تو ہمارے عصری ماحول میں منتقل ہو چکا ہے، اور خود ان دو عناصر کا مجموعہ و امتزاج(فقہ) بھی، لیکن تکوینی عنصر تا حال بے دخل ہے، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ نقطہ ہے جہاں پر امتِ مسلمہ کے فکری بحران کی واقعاتی جڑ موجود ہے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ عصری ماحول میں اگرچہ کسی نہ کسی درجے میں شریعت اور فقہ کو الگ الگ دیکھا جاتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی فقہ کو جامع العلوم سمجھنے کی غلطی بھی کی جاتی ہے۔ یہ غلطی اس وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ فقہ کا دائرہ کُل انسانی زندگی کو محیط ہے اور تقریباً ہر شعبہ علم و فن سے اسے معاملہ کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فقہ کی اس مخصوص نوعیت اور پھر شریعت کی نیابتی حیثیت نے، اسے نہ صرف مقدس بنایا ہے بلکہ کبیر بیانیے کے مقام سے بھی سرفراز کیا ہے۔ حالاں کہ اپنی حقیقت میں، جامع العلوم ہونا تو دور کی بات ہے، فقہ شاید مکمل علم بھی نہیں ہے۔ اس کے علم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے اس کی اپنی آزاد، خود مختار اور خود کفیل حیثیت نہیں ہے۔ یہ اصلاً فن ہے اور ایسا فن ہے جس کے ذریعے علوم کے دو بڑے متوازی دھاروں (تشریعی اور تکوینی) کو قریب لایا جاتا ہے، اور ان کے باہمی میل ملاپ سے انفرادی اور اجتماعی نظم کا ایک ڈھانچہ تشکیل دیا جاتا ہے۔ عصری ماحول میں فقہ کو مخزن العلوم سمجھنے کے دو خطرناک اور سنگین نتائج برآمد ہوئے ہیں:

۱۔ انسان کی تکوینی زندگی کے عصری اعتبارات و حقائق(نئی قدریں، نئے ادارے، نئے علوم و فنون وغیرہ) انتہائی بے توجہی کا شکار ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر دینی جامعات اس حوالے سے انتہائی غفلت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔

۲۔ اس بے توجہی اور غفلت کے باوجود تکوینی زندگی کا خود رَو تسلسل، عصری اعتبارات و حقائق کو منکشف کر رہاہے، لیکن فقہ کی جامع العلوم حیثیت ان علوم کو اجنبی اور غیر ضروری قرار دیتے ہوئے، انھیں ایک الگ تھلگ دائرے میں محدود کر رہی ہے۔ 

اہم بات یہ ہے کہ یہ دو نتائج ایک بڑا مشترکہ نتیجہ یہ دیتے ہیں کہ واقعاتی سطح پر انسان کی عصری زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق، تشریعی پیمانے کی رسائی میں نہیں رہے، اس لیے زندہ متحرک اور عصریات سے جڑی ہوئی فقہ ظہور میں نہیں آ رہی۔ تکوینی اعتبارات و حقائق اور شریعتِ الہیہ، جو فقہ کے دو بڑے داخلی عناصر ہیں، اب مختلف بلکہ متضاد سمتوں میں رواں دواں ہیں، ان کے دائرہ ہائے کار مکمل طور پر الگ الگ ہو گئے ہیں۔ اس لیے شریعت عملی طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انسان کی تکوینی زندگی سے بے نیازی کی حالت میں، یہ کسی بھی صورت میں اظہار نہیں پا سکتی۔ اب شریعتِ معطلہ کے سر پر ایک ایسی جعلی اور مصنوعی فقہ سوار ہے جو اپنے تےءں جامع و مانع ہے۔ 

(۱۳)

مذکورہ مباحث کے ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شان دار ماضی کے بیانیے میں فقہ ایک بہت برتر مقام پا چکی ہے اور اس کے دو داخلی عناصر میں سے ایک عنصر یعنی تشریعیت کا بھی عصری ماحول میں انتقال ہو چکا ہے، تو پھر دوسرا عنصر یعنی انسان کی زندگی کا تکوینی حوالہ، یکسر غائب کیوں ہے؟ اس کا بادی النظر میں جواب یہ ملتا ہے کہ ایک خاص عرصے تک مسلم تہذیب انسان کی تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق منکشف کرتی رہی ہے، ان انکشافات کی بدولت اصولیین اور فقہا کے لیے یہ ممکن ہو سکا کہ انھیں تشریعی پیمانے پر مانپ کر، قواعد و ضوابط کے روپ میں فقہ کو ظہور میں لے آئیں۔ فقہ کے ظہور کے بعد، یہ بہت ضروری تھا کہ تکوینی اعتبارات و حقائق کے تغیرات کے پہلو بہ پہلوفقہی قواعد وغیرہ کو بھی حرکت میں رکھا جائے اور ان میں مطلوب تبدیلیاں مسلسل کی جاتی رہیں۔ لیکن ہوا یوں کہ فقہی قواعد و ضوابط اپنے زیریں مقام اور زیریں حیثیت سے بہت اوپر اٹھ آئے اور انھوں نے بجائے اپنے اندر تبدیلیاں کرنے کے، تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو پابند کرنا شروع کر دیا۔ اس سے نئی قدروں، نئے اداروں اور نئے علوم و فنون کی ترویج رک گئی، زندگی رک گئی، ...... بلکہ روک دی گئی۔ 

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ فقہ اپنے زیریں مقام سے اتنا اوپر کیسے اُٹھ آئی؟ یہ ایک ذریعے کے درجے سے ترقی پاکر بجائے خود مقصد کیسے بن گئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فقہ چونکہ صرف معاملات یا دیگر دنیاوی قسم کے موضوعات ہی کو نہیں چھیڑتی، بلکہ عبادات مثلاً نماز روزہ حج وغیرہ سے بھی بھر پور تعرض کرتی ہے، اس لیے اس میں تقدیس شامل ہوتی گئی۔ اس پر طرہ یہ کہ اس کے ایک لازمی داخلی عنصر شریعت (قرآن و سنت) نے اس کی تقدیس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی اور آخرکار...... فقہ ہی شریعت قرار پائی۔اس طرح اس سارے منظر کے عفریت نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو بری طرح پچھاڑ کر رکھ دیا اور یہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتے چلے گئے اور ایک اکلوتی فقہ مخزن العلوم کا تاج سر پر رکھے مسلم تہذیب کی گردن پر سوار ہو گئی اور اسے زوال کی پستیوں میں دھکیلتی چلی گئی۔ 

یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ نے زوال آمادہ ہونے کے بعد، زوال کے اسباب پر غور کرنے کے بجائے دین کی محافظت کے نام پر فقہ کی حفاظت شروع کر دی، کیونکہ فقہ کی دینی حیثیت مسلّم ہو چکی تھی۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ درحقیقت فقہ کی اسی مسلّم حیثیت نے اُمہ کے تنقیدی شعور کے بال و پر کاٹ کر زوال کے اسباب پر غور کرنے کی ہر راہ مسدود کر دی جس کے نتیجے میں دین کے نام پر فقہ کی محافظت کی ( معذرت خواہانہ) نفسیات مزید پروان چڑھی اور بالآخر فقہ شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ قرار پائی۔ 

(۱۴)

اس بحث سے اس تاریخی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو جاتا ہے کہ مسلم تہذیب میں نئے علوم و فنون کی کبھی بھی کسی بھی درجے میں مخالفت نہیں کی گئی۔ یہ درست ہے کہ اس مخالفت کی نوعیت، یورپ میں مسیحیت کی طرف سے نئے علوم و فنون کی، کی گئی مخالفت سے بہت مختلف ہے، لیکن بہرحال یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اُمہ کی، تکوینی اعتبارات و حقائق کے انکشافات پر مبنی علمی روایت، فقہ کے بوجھ تلے دم توڑ گئی اور فقہ علوم و فنون کے سنگھاسن پر براجمان ہو گئی۔ اس تاریخی حقیقت کی واقعاتی شہادت کے لیے دینی جامعات کے عصری نصاب کا ناقدانہ جائزہ لینا کافی ہے۔ 

واقعہ یہ ہے کہ نئے علوم و فنون کی مسیحی مخالفت، براہ راست مذہب کی جانب سے کی گئی۔ کلیسا کے کارپردازوں نے تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو بائبل سے متصادم قرار دے دیا، لیکن تکوینی انکشافات نے اپنی واقعیت کے بل بوتے پر پادریوں کو ان کی خرافات سمیت لپیٹ کر رکھ دیا جس کے نتیجے میں مسیحیت سماجی فعالیت سے دست بردار ہو کر کلیسا کی چار دیواری میں مقید ہو کر رہ گئی۔ لیکن مسلم تہذیب میں تکوینی حقائق کی حوصلہ شکنی ایک تو براہ راست مذہب نے نہیں کی۔ دوسرا محرف بائبل کے بر خلاف قرآن مجید تکوینی انکشافات کے کبھی بھی آڑے نہیں آیا۔ تیسرا یہ کہ فقہ نے اپنی مسلّم دینی حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان انکشافات کو رد کرنے کبھی جرات نہیں کی، البتہ اتنا ضرور ہوا کہ فقہ میں تقدس در آنے سے، پہلے مرحلے میں دیگر علوم و فنون کی اہمیت ثانوی ہو گئی اور دوسرے مرحلے میں یہ علوم و فنون غیر ضروری قرار پائے۔

تکوینی زندگی کے اعتبارات و حقائق کو دبانے کی مسیحی اور مسلم تاریخ، اگرچہ مختلف نوعیت کی ہے لیکن ان دونوں نے تقریباً یکساں اور مماثل نتائج دیے ہیں۔ اگر مسیحیت چرچ تک محدود ہو گئی ہے تو اسلام بھی خیر سے مساجد و مدارس تک محدود ہے۔ اگر چرچ میں لوگ کم ہی جاتے ہیں تو مساجد کون سا کھچا کھچ بھری ہوئی ہوتی ہیں؟ اگر پادری اور وکیل اپنے اپنے کام میں مست ہیں تو مولوی اور وکیل بھی تو خیر سے اپنی اپنی اقلیم سنبھالے ہوئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ دنیا بھر کی دینی جامعات سے فارغ التحصیل ’’وکلا‘‘ آخرکار مولوی ہی قرار پاتے ہیں اور تقریباً انھی معنوں میں جن معنوں میں پادری، وکلا سے مختلف سمجھے جاتے ہیں۔ 

البتہ مسیحیت اور اسلام میں یہ بنیادی فرق پایا جاتا ہے کہ مسیحیت نے خجالت سے تکوینی اعتبارات و حقائق کے آگے سر جھکا دیا ہے اور الگ راہ لی ہے، جس کی وجہ سے وہاں تکوینی انکشافات کی واقعیت نے خوب لوہا منوایا ہے۔ مسیحیت کے برعکس اسلام کو تکوینی اعتبارات کے ہاتھوں کوئی شرمندگی نہیں اٹھانی پڑی۔ اگر ایسا ہے اور واقعی ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے یہاں تکوینی انکشافات کی بھر پور لہریں ٹھاٹھیں مارتی نظر آنی چاہییں تھیں جو کہ نظر نہیں آتیں۔ 

واقعہ یہ ہے کہ مسیحی، نظری اور عملی طور پر یک سُو ہیں۔ اگرانھوں نے عملی طور پر کلیسااور ریاست کو الگ الگ کر رکھا ہے تو نظری طور پر بھی وہ اس افتراق کے قائل ہیں۔ انتہائی افسوس اور معذرت کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مسیحیوں کے برعکس، امتِ مسلمہ نظری اور عملی طور پر یک سُو نہیں ہے۔ اُمہ اس وقت انتہائی گھٹیا قسم کی منافقت کا شکار ہے۔ اُمہ، نظری طور پر تو دین و دنیا کی وحدت کی علم بردار ہے، لیکن اس کے ہاں عملی طور پر دین و دنیا الگ الگ ہو چکے ہیں۔ دین، قرآن و سنت کے نام پر فقہ کو قرار دیا گیا ہے اور دنیا، جو ایک لحاظ سے تکوینی زندگی کے انکشافات سے معمور ہے، دینی اقلیم سے عملی طور پر خارج ہو چکی ہے۔ یہ انتہائی منافقانہ طرزِ عمل ہے۔ اس طرزِ عمل نے امت کا بحران سنگین تر کر دیا ہے۔

(۱۵)

امت کے فکری بحران کی عصری صورتِ حال پر، کھسیانی بلی کھمبا نوچے، کا محاوہ صادق آتا ہے۔ اُمت اُمت کی رَٹ لگانے والے تکوینی اعتبارات کو اپنے نصاب وغیرہ میں تو جگہ نہیں دے پائے(کہ فقہ نے ان کے دماغ مفلوج کر دیے ہیں)، لیکن چونکہ تکوینی انکشافات کی واقعیت اپنا آپ منواتی ہے اس لیے یہ لوگ ذرا تردد سے، ہر نئے انکشاف کے سامنے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیتے ہیں کہ صدیوں پہلے قرآن نے فلاں آیت میں اس کے متعلق آگاہ کر دیا تھا۔ ان کے ایسا کہنے سے ان کی اپنی نفسیاتی تشفی ہو جاتی ہے اور دوسروں کے زیرِ لب مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔ 

اُمت کے ان خیر خواہوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت اور ایمان و یقین کا زندگی کے تکوینی اعتبارات سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ مثلاً، حضرت خالد بن ولیدؓ قبولِ اسلام سے پہلے بھی ایک عظیم جرنیل تھے، جس کا ثبوت غزوہ احد میں ان کی جنگی حکمت عملی سے ملتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قبولِ اسلام کے بعد ان کے فنِ حرب کی سند کیا قرآن میں تلاش کی جانی چاہیے تھی؟ صرف یہی ہونا چاہیے تھا ناں کہ ان کی زندگی کا یہ تکوینی پہلو، تشریعی ضابطے میں آ جائے؟ لیکن خیال رہے کہ تشریعی ضابطہ بجائے خود نہ تو ایسے علوم و فنون کی تخلیق کرتا ہے اور نہ ہی ان کی نفی کرتا ہے۔ لیکن تشریعی ضابطہ اپنے انطباق کے لیے، ایسے اعتبارات و حقائق کا اثبات بلکہ تقاضا ضرور کرتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ قرآن و سنت کے علاوہ زندگی کی دیگر تمام سرگرمیاں معطل ہو کر رہ جائیں تو پھر قرآن و سنت آخر کس کو موضوع بنائیں گے؟ اس لیے تکوینی اعتبارات و حقائق کی سند قرآن و سنت میں نہیں تلاشنی چاہیے کہ یہ تو زندگی کے خودرَو تسلسل سے خود بخود برآمد ہوتے ہیں، البتہ برآمدگی کے بعد (اور بعض اوقات برآمدگی کے دوران میں) انھیں قرآن و سنت کے تشریعی ضابطے میں ضرور لایا جاتا ہے ، جیسا کہ پچھلے مباحث میں بیان ہو چکا، اصولیین اور فقہا یہی کام کرتے ہیں۔

امتِ مسلمہ کو اپنے جس علم و فن (فقہ) پر بہت ناز ہے، دیکھنے والی بات ہے کہ یہ علم و فن بغیر تکوینی حقائق سے میل کھائے، کیسے راہ پا سکتا ہے؟ جب تکوینی اعتبارات و حقائق خود اُمہ کے ہاں منکشف نہیں ہو رہے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر فقہ راہ نہیں پاسکتی، اگر فقہ راہ پا رہی ہے تو وہ جعل سازی پر مبنی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت ایک متروک فقہ کو عصریات کا لبادہ اوڑھا کر وسیع پیمانے پر جعل سازی کی جا رہی ہے۔ 

(۱۶)

ہم سمجھتے ہیں کہ قرآن و سنت اور فقہ کے دائرے میں مقید امتِ مسلمہ کو مغرب کا شکر گزار ہو نا چاہیے کہ اس نے اپنی مذہبیات کی قیمت پر تکوینی اعتبارات و حقائق کی ترویج کر کے امتِ مسلمہ کو زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے بچا لیا ہے۔ سماجیات، معاشیات، نفسیات، طبیعات، فلکیات، بشریات،حیاتیات، ریاضیات، عسکریات وغیرہ وغیرہ کتنے ہی تکوینی اعتبارات ہیں، جو مغرب نے تکوینی زندگی کے عصری تناظر میں منکشف کیے ہیں۔ اُمہ کے ہاں فکری سطح پر تکوینی زندگی سے بے توجہی اور اس کی واقعیت کی کمی کا ازالہ (فی الواقعی) انھی مغربی انکشافات سے ہو ا ہے۔ لیکن اُمہ احسان مند اور شکر گزار ہونے کے بجائے نظری طور پر ان مغربی اکتشافاتِ جدیدہ کی ناقد ہے اور منافقت سے کام لیتے ہوئے عملی طور پر ان سے استفادہ بھی کر رہی ہے، ...... کہ تکوینی زندگی کی واقعیت سے فرار ممکن ہی نہیں ہے۔

امتِ مسلمہ کا فکری بحران اس منافقانہ طرزِ عمل سے دو چند ہوا ہے۔ آج ایک طرف مغربی اکتشافات کو (مجبوراً) تشریعی ضابطے میں لانے کی کوشش سے، دین کا انسان اور سماج سے رشتہ بحال ہو رہا ہے، کیونکہ اکتشافاتِ جدیدہ، زندگی کی واقعیت کے عکاس ہونے کے ناتے انسان اور سماج کے ساتھ مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں، اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دین، انسان و سماج کی واقعیت کو مخاطب کیے بغیر اثر و نفوذ نہیں پا سکتا۔ لیکن دوسری طرف اکتشافاتِ جدیدہ کی مستعار واقعیت کو (فکری سطح پر غیر ضروری گردانتے ہوئے) رواج دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جارہی، بلکہ دینی علوم کے نام پر فرسودگی کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

(۱۷)

واقعہ یہ ہے کہ آج کے عالم گیریت (Globalization) کے ماحول میں ، آہستہ روی کے ساتھ اور انتہائی غیر محسوس طور پر ایک بہت بڑا مظہر تشکیل پا رہا ہے۔ اس کا نام ہماری مروج اصطلاح میں ’’فقہ‘‘ ہے۔ اب ایک نئی فقہ کا ظہور ہو رہا ہے۔ اس فقہ کے بھی متروک فقہ کے مانند دو بڑے عناصر ترکیبی ہیں، تشریعی اور تکوینی۔ تشریعی عنصر اُمہ کے پاس ہے اور تکوینی عنصر مغرب کے پاس۔ کیونکہ زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا، اس لیے اُمہ زیریں سطح پر مغربی اکتشافات سے (بالفعل) مستفید ہو رہی ہے اور ایک ایسی نئی فقہ ترتیب دے رہی ہے جو مناسبِ حال بھی ہے اور مقاصدِ شریعہ سے ہم آہنگ بھی۔ کیونکہ رب، رب العالمین ہے اور قرآن، ذکر ہے عالمین کے لیے، اور نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم، رحمت ہیں عالمین کے لیے، اس لیے مغرب بھی اپنے تکوینی اکتشافات کو کسی اعلیٰ اخلاقی دائرے میں لانے کی غرض سے (بالفعل) شریعت اسلامیہ کی طرف رجوع کر رہا ہے، جس سے ایسی فقہ ظہور پا رہی ہے جو اپنے ظاہر میں سیکولر ہے لیکن مقاصدِ شریعہ سے کافی حد تک ہم آہنگ ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہوا کہ امتِ مسلمہ اور اہلِ مغرب ایک دوسرے سے بالفعل مستفید ہو رہے ہیں۔ بلکہ دیکھا جائے تو اُمہ ہی مغرب سے عملی فائدہ اٹھا رہی ہے، کیونکہ زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق انسان کی دست رس میں ہیں، انھیں انسان نے اپنی کاوشوں سے منکشف کرنا ہوتا ہے، اُمہ یہ کام خود کرنے کے بجائے مستعار اکتشافاتِ جدیدہ پر انحصار کر رہی ہے، یعنی مغرب کی محنت و کاوش سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف اگر مغرب کسی اعلیٰ اخلاقی دائرے کا متلاشی ہے اور شریعتِ اسلامیہ اس کی یہ ضرورت پوری کر رہی ہے تو اہلِ مغرب حقیقت میں امتِ مسلمہ سے فائدہ نہیں اٹھا رہے بلکہ قرآن و سنت کی عالم گیر حیثیت سے فیض پا رہے ہیں۔ 

دل چسپ اور لطیف نکتہ تو یہ ہے کہ نئی فقہ کے دونوں عناصر ترکیبی عالم گیر نوعیت کے ہیں۔ اگر قرآن و سنت آفاقی ہیں تو زندگی کی واقعیت کے مظاہر بھی آفاقی اور تمام انسانیت کا مشترکہ ورثہ قرار پائے ہیں۔ ایک دَور میں زندگی کی واقعیت، تکینکی پس ماندگی کی وجہ سے مقامیت کی حامل تھی۔ یعنی، کسی خاص انسانی گروہ یا قوم کی محنت سے حاصل کیے گئے اکتشافات وغیرہ تقریباً اُسی تک محدود رہتے تھے۔ لیکن پچھلے چند عشروں میں تکنیکی ترقی نے مکان (space) کو برق رفتاری سے اضافی بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے اکتشافاتِ جدیدہ کی برکات مغرب تک محدود نہیں رہیں۔ لہذا اب ایک آفاقی شریعت کے متوازی آفاقی اکتشافات موجود ہیں، جنھیں آفاقی اذہان کے مالک اصولیین ہی آفاقی فقہ دے سکتے ہیں۔ 

(۱۸)

اب تک کے مباحث سے یہ واضح ہو گیا کہ اُمت کے فکری بحران کے باوجود، زندگی جاگ رہی ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔ اُمت بحیثیت مجموعی، طوعاً و کرہاً زندگی کے تشریعی اور تکوینی پہلوؤں کی آفاقیت کے پہلو بہ پہلو چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم دردی کے نام پر اُمت کی سست روی کو مزید سست کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ یہ کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو واقعی اُمت کے ہم درد ہیں۔ آج دنیا بھر کی دینی جامعات میں شریعت کے نام پر قرآن ، سنت اور فقہی کلیات کی تعلیم دی جارہی ہے۔ حالاں کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ شریعت کے صرف اور صرف دو عناصر، قرآن اور سنت ہیں۔ شریعت میں ایک تیسرے خارجی عنصر یعنی فقہی کلیات کی شمولیت کے پیچھے شان دار ماضی کا کبیر بیانیہ (grand narrative of past glory) کارفرما ہے۔ دینی جامعات میں اس کبیر بیانیے کی گھن گرج جاری ہے جس کے نتیجے میں عصریات سے مجرمانہ غفلت برتتے ہوئے، فقہی کلیات کے تناظر میں قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اسے اجتہاد کہا جاتا ہے۔ 

آہستہ روی سے ظہور پذیر نئی آفاقی فقہ کے مقابل، متروک فقہ کے حاملین کے بڑے بڑے گروہ دینی جامعات سے نکل رہے ہیں۔ ان گروہوں کی بقا، نئی آفاقی فقہ کی فنا میں پوشیدہ ہے۔ لیکن زمانہ گواہ ہے کہ ٹھہرنے والے ہی بالآخر فنا ہوتے ہیں اور جیسے تیسے قافلے کی ہم سفری اختیار کرنے والے منزلِ مقصود پر جا پہنچتے ہیں۔ اس لیے دینی جامعات کے کار پردازوں کو اس بنیادی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ فقہ اور وہ بھی متروک فقہ، سماجیات سیاسیات معاشیات نفسیات حیاتیات فلکیات وغیرہ کے ماہرین پیدا نہیں کر سکتی۔ البتہ قانون کے ماہرین مہیا کر دیتی ہے۔ تو کیا اُمت کے ان ہم دردوں کے نزدیک قانون کے ماہرین باقی شعبہ ہائے زندگی کی کفایت کر دیتے ہیں؟ المیہ تو یہ ہے کہ یہ قانون بھی الفاظ و مباحث تک محدود ہے کیونکہ عصریات سے کوسوں دور ہے۔ دینی جامعات کے فارغ التحصیل کتنے فی صد ’’وکلا‘‘ ریاستی عدالتوں میں پریکٹس کرتے ہیں؟ اگر دینی جامعات کا حاصل صرف وکلا ہیں اور پھر ایسے وکلا جنھیں پریکٹس کا کبھی موقع ہی نہیں ملتا ، تو پھر دینی جامعات آخر کس قسم کی سماجی خدمات سر انجام دے رہی ہیں؟ بس، مساجد اور جنازہ گاہوں کے امام ہی مہیا کررہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سماجی اور ریاستی حوالے سے دینی جامعات کا دائرہ کار مسلسل محدود ہو رہا ہے۔ البتہ ریاست اپنے سیاسی مقاصد کے لیے انھیں اٹھائے پھرے تو الگ بات ہے ورنہ مستقبل قریب میں ان کی حیثیت میوزیم سے بڑھ کر نہیں رہے گی۔

(۱۹)

اختتامی کلمات کی طرف بڑھتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ امت کے فکری بحران کے پیچھے شان دار ماضی کا ایسا بیانیہ موجود ہے جس نے فقہ کو جامع العلوم کے سنگھاسن پر براجمان کر رکھا ہے، حالاں کہ فقہ اصل میں فن ہے جو مختلف علوم اور شعبوں سے معاملہ کرتا ہے۔ چونکہ یہ فن تقریباً ہر علم اور ہر شعبہ سے معاملہ کرتا ہے، اس لیے اسے غلطی سے علم ہی نہیں بلکہ مخزن العلوم سمجھ لیا گیا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ جب فقہ کا حقیقی منصب مختلف علوم اور شعبوں سے معاملہ کرنا ہے تو اس کا لازمی مطلب یہ ہوا کہ مختلف علوم اور شعبے موجود ہونے چاہییں، تبھی تو فقہ معاملہ کر سکے گا۔ یعنی مواد (material) موجود ہو گا تواسے منضبط (disciplined)کرنا بہت مشکل یا نا ممکن نہیں رہے گا، لیکن خالی خولی انصرام و انضباط (discipline) میں سے مواد (material) نکالنا تو محال ہے۔ 

اس دَورِ زوال میں، اُمت کے ہم دردوں نے شان دار ماضی کے کبیر بیانیے سے شہ پا کر ایک مقبولِ عام جملے کو جنم دیا ہے کہ ’’اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘۔ واقعہ یہ ہے کہ اس جملے کے پیچھے بھی، فقہ کی تمام شعبہ ہائے زندگی سے معاملہ کرنے کی صلاحیت کارفرما ہے، اس لیے اُمت کے ہم دردوں سے ہم دردی کرتے ہوئے ہم یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ حیات (زندگی کے تکوینی اعتبارات و حقائق اور واقعیت) برق رفتاری سے بہت آگے نکل گئی ہے اور ضابطہ کہیں دُور بہت پیچھے گردِ راہ میں گم ہو گیا ہے۔ حیات کی ہم سفری کے لیے ضابطے کو تیزی سے اس کے تعاقب میں جانا ہو گا۔ لیکن خیال رہے کہ شان دار ماضی کے کبیر بیانیے کو revisit کیے بغیر یہ تعاقب بہت بوجھل اور تھکا دینے والا ثابت ہو گا۔

آراء و افکار