آراء و افکار

قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟

ڈاکٹر محی الدین غازی

راقم کامضمون”قانون دعوت یا دعوت کی حصار بندی؟“ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ پاکستان کے شمارہ جولائی 2022 میں شائع ہوا۔ اس پر ہمارے دوست ڈاکٹر عرفان شہزاد کا نقد ماہنامہ الشریعہ کے شمارہ ستمبر 2022 میں شائع ہوا۔ یوں تو ہمارا موقف پوری وضاحت کے ساتھ آچکا ہے، اور جو باتیں اس نقد میں کہی گئی ہیں ان کی بھی وضاحت موجود ہے، کیوں کہ ان کے مضمون کا بیشتر حصہ غامدی صاحب کے نکات کا اعادہ ہے۔ تاہم شہزاد صاحب کے اٹھائے گئے کچھ نکات کا جواب دینا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ شہزاد صاحب نے ہمارے نقد کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: ”غازی صاحب کے نقد کا خلاصہ یہ ہے کہ دعوت...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۰)

ڈاکٹر شیر علی ترین

خیر آبادی کی تنقید کا تجزیہ مکمل کرنے کے لیے میں امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) اور امکان نظیر (خدا کا حضرت محمد ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کا امکان) سے متعلق شاہ اسماعیل کے خیالات کی تردید کے لیے ان کے استدلال کے کلیدی پہلوؤں کا نمایاں کرتا ہوں۔ یاد کریں کہ اس سیاق میں شاہ اسماعیل کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ ایسے واقعات کبھی وقوع پذیر نہیں ہوں گے، اور اسی وجہ سے یہ بالواسطہ ناممکن (ممتنع بالغیر) ہیں، تاہم وہ اپنی اصل کے اعتبار سے ناممکن (ممتنع بالذات) نہیں۔ خدا نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، نہ کبھی وہ ایک اور محمد کو پیدا کرے گا، لیکن اگر وہ چاہے تو...

حکم عقلی، غزالی اور علم کلام

مولانا مشرف بيگ اشرف

اشعری علم کلام کا مشہور متن "ام البراہین" کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: اعلم أن الحكم العقلي ينحصر في ثلاثة أقسام: الوجوب والاستحالة والجواز. فالواجب ما لايتصور في العقل عدمه، والمستحيل مالايتصور في العقل وجوده، والجائز ما يتصور في العقل وجوده وعدمه. ترجمہ: "جان لو کہ حکم عقلی تین ہی طرح کا ہے: وجوب، عدم امکان اور جواز۔ پس واجب وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے معدوم فرض کرنا ناممکن ہو، ناممکن وہ ہے کہ عقل کے لیے اسے موجود ماننا ممتنع ہو اور جائز وہ ہے کہ عقل اس کے وجود وعدم دونوں کا تصور کر سکتی ہو۔" یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب علم الکلام ایک شرعی علم...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۹)

ڈاکٹر شیر علی ترین

تقویۃ الایمان کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دلی میں شاہ اسماعیل کی اصلاحی سرگرمیوں نے شہر کے اہل علم اشرافیہ کے درمیان بحث ومباحثہ اور استدلالات کی ایک گرما گرم فضا تشکیل دی تھی۔ خاص طور پر کتاب کی نسبتاً زیادہ متنازعہ عبارات پر بحث ومباحثہ اور تجزیے ہو رہے تھے۔ اس وقت ماحول میں اس قدر انتشار تھا کہ 1826 میں ایک مشہور عوامی مناظرے میں شاہ اسماعیل کا اپنا چچا زاد محمد موسٰی دہلوی (م 1864) ان کے خلاف صف آرا تھا۔ جوں جوں جامع مسجد میں شاہ اسماعیل کے خطبات مزید لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے گئے، اسی رفتار سے ان کے خیالات کو دبانے کے لیے مخالف تحریک بھی زور پکڑتی...

خانگی تنازعات- تمام فریقوں کی تربیت کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

(خانگی تنازع سے متعلق ایک عزیزہ کے استفسار پر یہ معروضات پیش کی گئیں۔ شاید بہت سی دوسری بہنوں کے لیے بھی اس میں کوئی کام کی بات ہو، اس لیے یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔) آپ کے معاملات کے متعلق جان کر دکھ ہوا۔ اللہ تعالی بہتری کی سبیل پیدا فرمائے۔ جہاں تک مشورے کا تعلق ہے تو ناکافی اور یک طرفہ معلومات کی بنیاد پر یہ طے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کہاں کس فریق کی غلطی ہے۔ دیانت دارانہ مشورہ، ظاہر ہے، وہی ہو سکتا ہے جس میں کسی ممکنہ غلطی کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ کیا جائے۔ لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ آپ کی کیا انڈرسٹینڈنگ تھی اور پھر کہاں کس کی طرف سے خرابی...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۸)

ڈاکٹر شیر علی ترین

شفاعت نبوی کے موضوع کو حاکمیت (توحید) کے سوال سے جدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی گناہ گار کو معاف کرنے کی قدرت، جو کہ عمومی قاعدے سے انحراف ہے، استثنا کو قانون کی شکل دینے کی استعداد پر دلالت کرتی ہے۔ حاکمِ اعلیٰ، یاد کریں، کم از کم کارل شمٹ کے تصور کے مطابق وہی ہے جو استثنا کو قانون کی شکل دے سکتا ہو۔ سفارش کرنے والے کا کردار اس عمل میں کسی حد تک خلل انداز ہو سکتا ہے۔ یہ واضح رہنا چاہیے کہ سفارش کرنے والے کی حیثیت محض ایک وکیل کی ہے جو گناہ گار اور حاکم مطلق کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن ایسے سفارش کرنے والا کا کیا جائے جس کی سفارش کبھی رد...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۷)

ڈاکٹر شیر علی ترین

سیاست شرعیہ۔ شعائر دین کے تحفظ کی سیاست۔ شاہ اسماعیل نے منصبِ امامت (فارسی میں) اس وقت لکھی جب وہ سکھوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے جس میں بالآخر ان کی شہادت واقع ہوئی۔ ان کی وفات کتاب کی تکمیل میں حائل ہو گئی، اگر چہ وہ اس کا معتد بہ حصہ تحریر کر چکے تھے۔ منصبِ امامت اگر چہ ایک ایسے زمانے میں تحریر کی گئی جب وہ اور ان کے شیخ سید احمد سرحدی علاقے میں اسلامی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم عمل تھے، تاہم یہ کتاب اس تجربے سے براہ راست متعلق نہیں۔ البتہ اس سیاق کو کتاب کے پس منظر میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب کا مطبوعہ نسخہ تقریباً ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۶)

ڈاکٹر شیر علی ترین

حاکمیت الہیہ اور عقیدہ توحید کا احیا: شاہ محمد اسماعیل کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی تصورات میں خدائی حاکمیتِ اعلیٰ (توحید) کا احیا ہے۔ حاکمیتِ اعلیٰ کے بارے میں ان کی بحث تباہ کن اخلاقی زوال کے ایک بیانے میں ملفوف ہے۔ شاہ اسماعیل کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستانی مسلمانوں نے خدا کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تقریباً بھلا دیا ہے۔ انھوں نے اس اپنے تجزیے کی اساس اس مشاہدے پر رکھی ہے کہ انبیا، اولیا اور دیگر غیر خدائی ہستیاں عوام کی مذہبی زندگی میں رچ بس گئی ہیں۔ "ان لوگوں کا خیال ہے کہ ہم دنیا میں جو چاہے کریں، کوئی...

صغر سنی کی شادی پر عدالتی فیصلے کا جائزہ

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

گزشتہ شمارے میں امریکی ریاستوں میں کم عمری کی شادی کی کم سے کم عمر پر گفتگو مکمل ہو گئی تھی. آج یورپی دنیا کا مختصر جائزہ لینا پیش نظر ہے۔ ممکن ہے، قارئین کو اس طوالت میں اکتاہٹ محسوس ہو، تاہم اس کا مقصد مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنا ہے۔ یوں یہ معلوم ہو سکے گا کہ دنیا بھر میں اس معمولی حیثیت کے اور غیر اہم مسئلے کو پاکستان اور مسلم دنیا میں ”انتہائی اہم“ مسئلہ بنانے کا سبب آخر ہے کیا؟ تمام یورپ میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، سوائے اسکاٹ لینڈ کے، جہاں زوجین کے لیے 16 سال عمر ہے۔ پھر بتا دوں کہ قانونی عمر وہ ہوتی ہے جس پر فرد آزاد ہو جاتا...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۵)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اصلاحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شاہ اسماعیل نے انیسویں صدی کے اوائل کے ہندوستان کی انتہائی اہم کتابیں سپرد قلم کیں۔ انھوں نے فقہ، کلام، منطق، سیاسیات اور تصوف کے متعدد موضوعات اور علوم پر کتابیں لکھیں1۔ مزید برآں انھیں عوام کے لیے سہل ومقبول اور خواص اہل علم کے لیے مشکل اور دقیق کتابیں لکھنے میں غیرمعمولی مہارت حاصل تھی۔ اس کتاب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ شاہ اسماعیل کی کلامی، فقہی اور سیاسی فکر کو زیر بحث لاتے ہوئے ان کی تمام پیچیدگیاں قارئین کے سامنے رکھی جائیں۔ میں ان کی شدید متنازع کتاب "تقویۃ الایمان" کے تفصیلی تجزیے کے ساتھ ساتھ سیاست شرعیہ...

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقف

محمد عمار خان ناصر

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متبعین کے متعلق اپنے نقطہ نظر کے مختلف پہلو میں وقتاً‌ فوقتاً‌ اپنی تحریروں میں بیان کرتا رہا ہوں۔ آج کل یہ سوال پھر زیربحث ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موقف کی ایک جامع اور مختصر وضاحت یکجا پیش کر دی جائے۔ (۱) ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور ایک مستقل امت کے طور پر مسلمانوں کی شناخت کی بنیاد ہے۔ اس عقیدے کی بالکل الگ اور مبتدعانہ تشریح کرتے ہوئے مرزا صاحب کو نبی ماننے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آئینی فیصلہ بالکل درست...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۴)

ڈاکٹر شیر علی ترین

برصغیر کی اسلامی تاریخ میں بہت کم ایسے مفکرین ہوں گے جن کا فکری ورثہ شاہ محمد اسماعیل (جو شاہ اسماعیل شہید کے نام سے بھی معروف ہیں) کی طرح متنازع اور اختلافی ہے۔ شاہ اسماعیل نے 1779 میں دلی کے ایک ایسے ممتاز گھرانے میں آنکھیں کھولیں جسے جدید ہندوستان کے یکتاے روزگار اور بااثر مسلمان اہلِ علم کی جاے پیدائش ہونے پر ناز تھا۔ ان کے دادا شاہ ولی اللہ اٹھارھویں صدی کے نہایت مشہور ومقبول مفکر تھے۔ شاہ اسماعیل کے والد شاہ عبدالغنی، شاہ ولی اللہ کے صاحب زادوں میں سے نسبتاً کم معروف تھے۔ شاہ اسماعیل نے اپنی دینی تعلیم بشمول قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور...

ایمان اور الحاد: چند اہم سوالات کا جائزہ

محمد عمار خان ناصر

انیسویں صدی کے ڈنمارک کے فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے مسیحی علم کلام کی تنقید کرتے ہوئے ایمان کی درست نوعیت کو واضح کرنے کے لیے "یقین کی جست (leap of faith) " کی تعبیر اختیار کی تھی۔ کیرکیگارڈ نے کہا کہ ایمان محض عقلی استدلال کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں انسان کی پوری شخصیت شامل ہوتی ہے اور انسان کے جذبات، فکرمندی اور اضطرابات کے مجموعے سے وہ کیفیت وجود میں آتی ہے جب انسان میسر شواہد کی روشنی میں ایمان کی جست لینے پر تیار ہو جاتا...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۳)

ڈاکٹر شیر علی ترین

انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ایک موقع پر شمالی ہندوستان کے نامور مسلمان مُصلح شاہ محمد اسماعیل دہلی کی مشہور جامع مسجد کے صحن میں بیٹھے درسِ حدیث دے رہے تھے۔ لوگوں کا ایک مجمع تبرکاتِ نبوی کو اٹھائے مسجد میں داخل ہوا اور مسجد کھچا کھچ بھر گئی۔ یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی شان میں بآوازِ بلند درود وسلام پڑھ رہے تھے۔ شاہ اسماعیل اس منظر سے بالکل متاثر نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا درس جاری رکھا۔ ان کی طرف سے کسی قسم کا رد عمل نہ پا کر جلوس میں شریک لوگوں کو بڑی ناگواری ہوئی۔ "مولانا! یہ کس طرح کا رویہ ہے؟" ان میں سے ایک نے اسماعیل کو طنزیہ انداز میں کہا۔...

غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مساجد کا حکم

محمد عمار خان ناصر

گذشتہ دنوں کراچی میں ایک مسجد کے انہدام سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم قومی سطح پر زیربحث رہا اور اس کی موزونیت یا غیر موزونیت پر مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔ اس ضمن میں کسی خاص مقدمے کے اطلاقی پہلووں سے قطع نظر کرتے ہوئے، اصولی طور پر یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی مساجد کا فقہی حکم کیا ہے ۔ چونکہ عموماً‌ اس حوالے سے جو فقہی موقف اور استدلال سامنے آ رہا ہے، وہ ادھورا اور فقہ وشریعت کی درست اور مکمل ترجمانی نہیں کرتا، اس لیے کچھ اہم توضیحات یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔ پہلی بات جو اس بحث میں بہت عام کہی گئی، وہ...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲)

ڈاکٹر شیر علی ترین

آگے بڑھنے سے پہلے اس کاوش کے بنیادی اشکالیے کو واضح کرنے کے لیے، میں ان وسیع تر نظری اور سیاسی اہداف کو واضح کرنا چاہوں جو اس سے مقصود ہیں۔ آئندہ سطور میں، میری خصوصی دلچسپی یہ واضح کرنے سے ہوگی کہ مسلمانوں کے مابین بریلوی دیوبندی جیسے اندرونی اختلافات کو کیسے مذہب سے متعلق نئی عالمی سیاسی حکمت عملی کا جزو بنایا جاتا اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اچھے مسلمانوں اور برے مسلمانوں کی تقسیم کا تنقیدی جائزہ: عہد حاضر میں علمی اور غیر علمی دونوں حلقوں میں بریلوی دیوبندی اختلاف کو عموماً اسلام کی فقہی اور صوفی روایتوں یا...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱)

ڈاکٹر شیر علی ترین

ستمبر 2006 میں عابد علی نے، جس کا تعلق شمالی ہندوستان کے شہر مراد آباد سے تقریبًا بارہ میل کے فاصلے پر واقع گاؤں احرار اللہ سے ہے، کئی دہائیوں سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے باوجود اپنی پچھتر سالہ بیوی اصغری علی کے ساتھ تجدیدِ نکاح کی۔ ۔ چند ہفتے پہلے ان نکاح ٹوٹ گیا تھا، کیوں کہ انھیں ایک مقامی مسلمان مولوی عبد المنان کریمی نے دیگر دو سو افراد سمیت کافر قرار دیا تھا۔ کریمی نے یہ انتہا پسندانہ فتوی اس وقت صادر کیا جب اسے پتا چلا کہ حال ہی میں اس کے گاؤں میں وفات پانے والے ایک بزرگ شخص کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں شرکت کوئی قابل...

مجمع العلوم الاسلامیہ: اصولی موقف اور بنیادی اعتراضات

محمد عرفان ندیم

اپنی محبت اور عقیدت کے مراکز پردیانتدارانہ نقد بڑا جان گسل کام ہوتا ہے ۔یہ کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ آپ مولانا وحید الدین خان کی شہرہ آفاق کتاب" تعبیر کی غلطی" سے لگاسکتے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان نے مولانا مودودی کےفکر پر نقد کیا تو اس کتاب کے صفحہ اول پر لکھا کہ اس کتاب کی اشاعت مجھ پر کتنی سخت ہے اس کا اندازہ آپ اس سے کرسکتے ہیں کہ میرا جی چاہتا ہے کہ اس کی اشاعت کے بعد میں کسی ایسی جگہ چھپ جاؤں کہ کوئی شخص مجھے نہ دیکھے اورمیں اسی حال میں مر جاؤں۔مجمع العلوم الاسلامیہ پر نقد کے حوالے سے میری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔دوسری طرف اذیت کا...

مسائل حسن و قبح پر معتزلہ و تنویری فلاسفہ کے موقف کا فرق

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

تحریر کا مقصد اسلامی تاریخ کے گروہ "معتزلہ" سے متعلق ہماری تحریر و تقریر میں درآنے والی ایک عمومی غلط فہمی کی نشاندہی کرنا ہے۔ معتزلہ کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ شاید اسی قبیل کے افکار کا حامل گروہ تھا جیسے کہ جدید مغربی فلاسفہ یا ان سے متاثر جدید مسلم مفکرین کے افکار ہیں۔ یہ تاثر غلط بھی ہے اور غیرمفید بھی ۔ اس کی غلطی اور غیر افادیت دونوں کو مختصرا چند نکات کی صورت واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ غلطی کی نوعیت: معتزلہ کے بارے میں جس بنا پر درج بالا تاثر قائم کیا جاتا ہے، وہ مسئلہ حسن و قبح (good and bad) پر ان کی خاص رائے ہے ۔ اسلامی تاریخ...

مستشرقین کے مطالعہ ”دکن میں اشاعتِ اسلام“ کا جائزہ

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

موضوع کا تعارف: سن1347ءمیں علاءالدین اسماعیل گنگوبہمن نے دہلی سلطنت سے الگ ہوکرجنوبی ہندمیں بہمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی جودوصدیوں تک قائم رہی ۔بعدمیں یہ سلطنت مختلف چھوٹی ریاستوں میں بنٹ گئی جن میں بیجاپور، احمدنگر، برار، بیدر اورگولکنڈہ کی سلطنتیں مشہورہیں۔مغل سلطنت نے ان میں سے اکثرکا خاتمہ کردیاتھا۔ان کے علاوہ اٹھارویں صدی کی ابتداءمیں عہدمغلیہ کی ایک مدبروفرزانہ شخصیت نظام الملک آصف جاہ نے 1720میں مملکت آصفیہ کی تاسیس کی جس کا پایہ تخت حیدرآبادتھا۔( ۱)اس پورے عہدمیں علما وصوفیاءاورمشائخ نے دکن میں نہ صرف اسلام کی اشاعت کی بلکہ اسلامی...

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضات

محمد عمار خان ناصر

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث کے حوالے سے بعض معروضات میں (مارچ ۲٠۲۱ء) یہ بنیادی نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عقل اور مذہب پر گفتگو کے سلسلے کو تاریخی سیاق میں اور تہذیبی سطح پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انفرادی سطح پر اور مختلف مسائل کے حوالے سے تاثرات اور ججمنٹس کے اظہار کا سلسلہ پہلے سے موجود ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا، لیکن دو تہذیبی مواقف کے مابین مکالمے کی نوعیت، شرائط اور تقاضے کافی مختلف ہوتے ہیں اور دراصل اسی سطح پر ہمارے معاشرتی تناظر میں اس بحث کی علمی تفہیم کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اہل دانش...

مطالعہ جامع ترمذی (۱)

ادارہ

(جامع ترمذی کے اسلوب تصنیف اور مختلف احادیث کے مضمون کے حوالے سے سوالات وجوابات)۔ مطیع سید : صحاح ستہ امت میں بڑی مشہور ہوئیں،ان کو پہلے پڑھا جاتا ہے اور ان پر فوکس بھی کیا جاتا ہے ،حالانکہ ان سے پہلے بھی حدیث کی کتب لکھی گئیں۔ غالبا مسند احمد اور موطا امام محمد ان سے پہلے کی ہیں ۔ کیااہم خصوصیات تھی یا کیا ایسا معیار تھا جس کی وجہ سے ان کو قبول عام حاصل ہوا؟ عمار ناصر: صحاح ستہ کی دو چیزیں اہم ہیں ۔ایک تو یقینی طور پر ان کا معیار ِ صحت ہے ،کیوں کہ ان تک آتے آتے تنقیح کا کام کافی ہو چکا تھا ۔پھر ان مصنفین نے کچھ اپنے بھی معیار ات وضع کیے اور...

عقیدہ، تہذیب اور سیاسی طاقت

سید مطیع الرحمٰن مشہدی

کسی مذہبی پیغام یا عقیدےکے پھیلاؤ میں سیاسی طاقت کا کر دار کس قدر اہم ہوتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں سیاسی طاقت کی کسی اخلاقی یا مذہبی پیغام کے لئے کیا معنویت ہے ؟اسلام کے حوالے سے دیکھیں تو اسلام کی دعوت کے عمومی فروغ میں سیاسی طاقت کا کتنا اثر ہے ؟ مزید یہ کہ کر ہ ارض کے ایک بڑے خطے پر مسلمانوں نے جو تہذیبی اثرات ڈالے ،اس میں ان کی فتوحات او ر سیاسی اثر و رسوخ کا کس قدر حصہ رہا ہے ؟یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اسلامی روایت کی تفہیم میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان کی درست تفہیم نہ ہونے کی وجہ سے ایک طرف مغربی مفکرین کے لئےاسلام کے آغاز و ارتقا...

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث

محمد عمار خان ناصر

عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کی بحث جدید مسلم معاشروں کی اہم ترین تہذیبی بحث ہے جو مختلف سطحوں پر مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ تاہم اس پوری بحث کو ایک تاریخی تناظر میں دیکھنے اور اس کی اہمیت ومضمرات پر غور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے اور اس کے ایک جامع تناظر کا سامنے آنا اہل دانش کے مابین تسلسل کے ساتھ ہونے والی علمی گفتگو کے نتیجے میں ہی ممکن ہے ۔ تاہم اس حوالے سے چند ابتدائی معروضات ان سطور میں پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔ (۱) عقل اور مذہب کے باہمی تعلق یا موافقت ومخالفت کی بحث میں سب سے پہلا نکتہ جس...

شیعہ سُنّی اختلاف اور مشاہیرِ اسلام کا رویّہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان بہت سے اصولی احکام مشترک ہیں اور کچھ بنیادی عقاید و احکام میں شدید اختلاف رائے بھی پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر دو فریق کے ہاں ایک دوسرے کے با رے میں بہت سی بدگمانیاں بھی موجود ہیں، ایک دوسرے کی تکفیر کے اقوال بھی ملتے ہیں اور تکفیر پر خاموشی اور احتیاط کی روش بھی پائی جاتی ہیں، اگر کوئی تکفیر کا قائل نہ بھی ہو تو ایک دوسرے کو گمراہ ضرور سمجھتا ہے اور کہیں اشارے کنائے میں ایک دوسرے کو منافق باور کرایا جاتا ہے۔ جن بنیادی عقاید میں اشتراک پایا جاتا ہے، ان میں توحید، رسالت،ختم نبوت، آخرت،...

علامہ احمد جاوید اور تصوف

میر امتیاز آفریں

تصوف اسلام کی روحانی تعبیراور (dimension) کا نام ہے۔جس نے اسلامی تہذیب و تمدن کے دامن کو نہ صرف وسیع کیا ہے بلکہ علوم و فنون کے اک لا متناہی سلسلے کو جنم دیا ہے۔ صوفیانہ فکر و فن نے صدیوں سے تاریخ اسلام میں بڑے اعلیٰ قلوب و اذہان کو متاثر کیا ہے جن میں رومیؒ، غزالیؒ، ابن عربیؒ، شیخ احمد سرہندیؒ،شاہ ولی اللہ ؒ وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔صدیوں تک صوفیانہ طرز فکر نے نہ صرف علمی و فکری منظرنامے پر بلکہ مسلم ازہان و قلوب پر بھی حکمرانی کی ہے۔مگر جب سے مغربی افکار و نظریات نے ہمیں اپنے تہذیبی ورثے کا تنقیدی جائزہ لینے اور اپنے زوال کا تجزیہ کرنے کی...

عورت کا سماجی کردار اور خاندانی حقوق و فرائض

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

جدیدیت اور قدامت کی کشمکش میں عورت کا معاشرتی کردار دور حاضر کا اہم سوال ہے ۔ عورت کو خانگی امور تک محدود رہ کر گھر اور خاندان میں کردار اداء کرنا چاہیے یا اس کو باہر نکل کر معاشرتی زندگی کے دیگر امور میں بھی کردار ادا کرنا چاہیے ؟ یہ سوال روایت میں زیادہ زیر بحث نہیں رہا بلکہ بنیادی طور پر جدیدیت کی کوکھ سے جنم لینے والا ہے ۔ جدیدیت کے طرفدار بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ روایت میں بہت وسعت تھی۔ عورتوں کے حوالے سے بہت سےاحکام ہم نے جدیدیت کے زیر اثر قبول کیے ہیں ۔ لیکن اسلام ہو یا دیگر مذاہب اور تہذیبیں ، عورت کا کردار ما قبل جدید معاشروں میں...

ایک فراموش شدہ گواہ: قبۃ الصخرة

سید ظفر احمد

عظیم اور قدیم تعمیراتی شاہکارقبۃ الصخرة کے لیے "فراموش شدہ گواہ" کی ترکیب راقم نے نیویارک کی مشہورِ زمانہ کولمبیا یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر ایسٹیل وھیلن (Estelle Whelan) (م:13 ؍ اکتوبر 1997ء) سےمستعار لی ہے [1]۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ بیسویں صدی کے آغاز میں مستشرق الفانسو منگانا (Alphonso Mingana) 1 نے اسلامی تاریخ کے پورے فریم ورک کو چیلنج کرتے ہوئے وھیلن کے الفاظ میں" واضح تعصب "کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ قرآن کی جمع و تدوین پانچویں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ پھر 1970ء میں جان وانسبَرو (John Wansbrough) نے آگے بڑھ کر "انکشاف" کیا...

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیر

محمد عمار خان ناصر

مذاہب کی روایت میں مختلف قسم کے اعتقادی وعملی اختلافات کا پیدا ہونا تاریخ کا ایک معمول کا عمل ہے جس سے کوئی مذہبی روایت مستثنی ٰ نہیں۔ ان اختلافات میں مستند اور غیر مستند عقیدہ وعمل کی تعیین کی بحثیں بھی فطری ہیں اور ہر مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔ تاہم گروہی شناخت کے نقطہ نظر سے یہ اختلافات دو میں سے ایک شکل اختیار کر سکتے ہیں اور اس کی مثالیں بھی کم وبیش ہر مذہبی روایت میں موجود ہیں۔ کسی ایک شکل کی تعیین کا عمل اصلا اختلاف کی نوعیت اور مختلف تاریخی عوامل کے تحت ہوتا ہے، جبکہ اعتقادی اور مذہبی بحثوں کا کردار اس میں ضمنی اور ثانوی ہوتا...

شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے اکتوبر ۲۰۲۰ کے شمارے میں جناب مولانا زاہد الراشدی کا شیعہ سنی کشیدگی کے تناظر میں یہ فرمانا بہت ہی گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے: ’’ہمارا اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرامؒ و اہلبیت عظام کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ و جذبات کا تحفظ کریں، اسی طرح ہماری یہ بھی ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے ہر قیمت پر بچائیں۔‘‘ ان کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ ایسا...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۲)

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

3.4۔توحید کا چوتھا درجہ: توحید وجودی۔ اب توحید کے چوتھے درجے کی بات کرتے ہیں جس پر سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور جسے غامدی صاحب نے کفار و مشرکین جیسا عقیدہ قرار دے کر عظیم ضلالت قرار دیا ہے۔ علم کلام کے مباحث میں اس درجہ توحید کی گفتگو کو "توحید وجودی" (Existential Unity) کا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کی متعدد تشریحات پائی جاتی ہیں جن میں دو اہم تر ہیں: ایک کو "مشاہداتی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے اعتبارات سے قائم ہونے والی وحدت ہے۔ دوسری کو "وجودی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے تناظرات سے ماوراء برقرار رہنے والی وحدت کا دعوی ہے۔ یہ تمام تفصیلات...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

1۔ تعارف: جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: "ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے" (برہان:...

’’خلطِ مبحث‘‘ کی مصنوعی افزائش

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

علم و دانش کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افراد و اقوام کے مسائل اور تنازعات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں۔ لیکن اگر کسی قوم کے طے شدہ معاملات کو ہی متنازع بنانے پر زور صرف ہونے لگے تو وہ قوم ایک دائرے کے اندر ہی سفر کرتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ایک طبقہ قومی رہنمائوں کی مشاورت سے طے کردہ معاملات پر بھی مسلسل چاند ماری کرتا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش ماہنامہ الشریعہ کے مارچ 2020ء کے شمارے میں ڈاکٹر عرفان شہزاد کے مضمون ’’قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلطِ مبحث‘‘ کی صورت میں نظرآتی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی قوم کے ایک طے شدہ ریاستی اظہار یئے...

صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقف

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت اور تجدید و احیائے دین کی بعض عبارتیں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر خاص ان عبارتوں کی بجائے اس پر بات کی جاتی کہ اصولی طور پر مولانا مودودی کس جگہ غلطی پر ہیں ۔ اصولی چیزوں کے علاوہ تاریخی چیزوں میں بعض جگہ ان کی غلطی یا بددیانتی بھی اگر ثابت ہوجاتی ہے تو دیگر بہت سی جگہوں میں اسی قسم کی چیزیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ مولانا مودودی صحابہ کرام کو محترم اور مکرم مانتے ہیں۔ اپنی تفسیر میں بہت سی جگہوں پر شیعی نظریات کا رد کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جس قدر فضائل و مناقب ہیں،...

صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہ

سید ظفر احمد

خلاصہ: یہ ایک ریویو پیپر ہے جس میں صنعاء پالمپسسٹ رقم DAM 01-27.1 پر حالیہ یعنی گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو ہرن ، بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے کو ایک عمل سے گزار کر بنایا جاتا تھا۔ پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے، اس لیےان کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا۔ پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر پارچہ آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا تھا۔ پالمپسسٹ (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں جس میں تحریر...

کشمکشِ عقل و نقل: امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒ

مولانا محمد بھٹی

علامہ صاحب کی انتقادی سرگرمی کے موردِ اصلی متکلمینِ اہل سنت ہیں اور اس انتقادی پیکار کا منتہائی ہدف صفاتِ متشابہات بابت اپنے مخصوص مذہب کا دفاع ہے،باقی سب زیبِ داستان ہے۔عقل و نقل کی کشمکش ہو یا لغت و بلاغت کے مسائل ہوں،سب اسی غرض کی براری کے لیے خام مال کے طور پر کام میں لائے گئے ہیں۔آپ کی کتاب 'درء تعارضِ العقل و النقل' کا ہدفِ اصلی بھی صفات کے باب میں اپنے 'مائل بہ تجسیم' موقف کا دفاع اور متکلمینِ اہلسنت کی تردید تھا جس کی حیثیت محض ایک خام آرزو کی ہی رہی۔علامہ صاحب کے احترامات فراواں کے باوجود یہ کہنا ناگزیر ہے کہ مذکورہ بالا کتاب میں بھی...

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم

محمد عرفان ندیم

عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوںمیں آ باد ہوگئے۔انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظرآنے لگے تھے۔سن دس ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ:...

عقل و نقل کا تعارض اور تاویل کے لیے امام غزالی کا قانون کلی

محمد زاہد صدیق مغل

امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ علیہ) اپنی کتاب "درء تعارض" میں امام غزالی (رحمہ اللہ علیہ) اور امام رازی (رحمہ اللہ علیہ) پر اپنے روایتی جارحانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہوتے ہیں کہ یہ حضرات آیات قرآنی کی تاویل کے باب میں ایک ایسا عمومی قانون بیان کرگئے ہیں جو زندقہ کا پیش خیمہ اور اہل کتاب کے گمراہ لوگوں جیسا کام ہے۔ اس تحریر کا مقصد امام غزالی کی متعلقہ تحریر اور امام غزالی کے تصور عقل کی روشنی میں یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ یوں لگتا ہے اس معاملے میں علامہ ابن تیمیہ سے دو امور میں سہو نظر ہوگیا ہے: پہلا امام صاحب کی بات کو اس کے خصوصی...

مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اعتراضات

صدیق احمد شاہ

خورشید احمد ندیم ایک معتدل مزاج اور فکری گہرائی رکھنے والے کالم نگار ہیں ۔اُن کی تحریر میں ایک مخصوص ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جسے میں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں۔ ادبی خیال آفرینی سے اپنی تحریر کو مزین کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس وقت اُن کی کتاب "جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسویں صدی کا فہم اسلام" میرے سامنے ہے جس میں اُنہوں نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں مختلف فکری شخصیتوں کے احوال اور واقعات کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ اسی کتاب میں ان کا ایک مضمون "مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید" شامل ہے اور میرے اس آرٹیکل کا مقصد اسی مضمون کا ایک تجزیاتی...

قومیت بطور مذہب

ڈاکٹر عرفان شہزاد

زیر نظر مضمون کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے آرٹیکل، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن ایک امریکی مورخ تھا۔ ایک وقت میں وہ تصورقومیت کا حامی رہا،پھر اس کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ قومیت کا تعارف: اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق...

مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات

محمد عمار خان ناصر

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں ۲٠۱٠ء سے ۲٠۱۴ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق یہ قرار دیا ہے کہ آسٹروی عدالتوں نے ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز القاب استعمال کرنے پر جو سزا دی ہے، وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادی اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔ ۲٠٠۹ء میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں طفل پرست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد اخلاقی طور پر کوئی رول ماڈل نہیں ہیں،...

توہینِ رسالت کی سزا اور مولانا مودودی کا موقف

مراد علوی

عصرِ رواں میں مولانا مودودی کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جن کے ساتھ تحقیق کے نام پر اکثر لوگوں نے بے حد ناانصافی کی ہے۔ مولانا کے منتسبین اسلامی قانون اور روایت سے وہ شغف نھیں رکھتے جتنی دلچسپی دیگر امور میں رکھتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بعض طے شدہ امور میں مولانا کے چاہنے والے تردد کا شکار ہیں۔ اس کے بنیادی وجوہ میں خود مولانا کے تحریکی لٹریچر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جس کی وجہ سے ابھی تک ان پر بہت سارے مسائل واضح نہ ہوسکے۔ مولانا کی جانب نسبت رکھنے کا اخلاقی تقاضا ہے کہ اسلامی قانون سے زیادہ نہ سہی، واجبی واقفیت حاصل کی جائے۔تاہم دلچسپی...

قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنا ۔ جناب جاوید احمد غامدی کے موقف پر بعض اشکالات کا جائزہ

محمد حسن الیاس

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے مروی ایک روایت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا ارادہ رکھنے والے غیر حاجیوں کو ذی الحجہ کی ابتدا سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کی تلقین فرمائی ہے ۔روایت کے الفاظ ہیں: اِذَا رَایتُم ہِلالَ ذِی الحِجَّةِ وَاَرَادَ اَحَدُکُم اَن یُضَحِّیَ فَلیُمسِک عَن شَعرِہِ وَاَظفَارِہِ (مسلم ،رقم ۱۹۷۷)۔ “جب تم لوگ ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتاہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔” استاذ مکرم جناب جاوید احمد غامدی نے اِس روایت کو اپنی کتاب “میزان” میں قبول کیا ہے اور قربانی...

قادیانی مسئلے میں مختلف بیانیے

محمد زاہد صدیق مغل

حکومت کی طرف سے عاطف میاں قادیانی کے بطور مشیر تقرر کولے کر قادیانی مسئلے پر ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے بحث ہوئی جس میں مختلف فکری رجحانات کے احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس مختصر تحریر میں ان متعدد آراء کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں چار مواقف سامنے آئے ہیں اور چاروں سے الگ قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ (۱) سیکولر بیانیہ: مسلم و قادیانیت کی مساوات۔ لبرل سیکولر فکر چونکہ فرد کی آزادی کے عقیدے پر ایمان کی دعوت دیتی ہےجس کے مطابق حقوق کا ماخذ انسان خود ہے، لہذا اس فکر کے مطابق ریاست کو حق نہیں کہ وہ آزادی کے سواء کسی دوسرے عقیدے کی بنیاد پر یا...

دہشت گرد تنظیموں کی فکری بنیادیں: نقائص و نتائج

مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی

جتنے بھی مسلم فرقے ہیں سب اپنا رشتہ قرآن و سنت سے جوڑتے ہیں اور سب کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا عقیدہ و منہج قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ لیکن احقاق حق او ر ابطال باطل کی غرض سے اسلاف کے فراہم کردہ اصول و معیارپرایسے تمام فرقوں کے افکار و مفاہیم کا تجزیہ کرنا ایک دینی ذمے داری ہے اور علمی امانت داری بھی۔ جامعہ ازہر عالم اسلام کی وہ عظیم دانش گاہ ہے جس نے دین و ملت کی خدمت میں اپنی زندگی کے پورے ایک ہزار سال گزارے ہیں۔اس نے ہر زمانے میں باطل افکار وخیالات کو اسلاف کے عطا کردہ اصولوں پر پرکھ کر گمراہ فرقوں کو آئینہ دکھایاہے اور قرآن وسنت سے ان کے گہرے رشتوں...

قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر

محمد عمار خان ناصر

کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق بعض روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی بن مریم علیہما السلام، رقم ۳۲۹۰) وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، رقم ۳۸۲۶) شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول...

انسانی خدا ۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ

سید راشد رشاد بخاری

آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے2011 میں وہ ایک...

چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد رفیق شنواری

ہم نے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاس میں “جرم زنا” کی ماہیت اور تعریف نیز بنیاد فراہم کرنے والے مفروضوں کا تجزیہ کرنا تھا جس کے لیے ڈاکٹر سعدیہ یعقوب صاحبہ نے امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے کچھ صفحات (جلد نہم ص ۵۴-۵۵) کا انتخاب کیا تھا۔ پہلے ہم نے اس بنیادی سوال کا تعین کیا جس کا امام سرخسی ان صفحات میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ تراث جس مقصد کے لیے پڑھائی جا رہی ہے ، اگر وہ مقصدی سوال سامنے نہ ہو تو سمجھنے کے جتن کا کیا معنی؟ اس کے بعد اس منتخب حصے کو کئی مناسب حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ حصہ محض کئی مسائل کی تصویر اور تکییف پر مشتمل تھا ، جس...

توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے؟

مولانا مفتی محمد اصغر

توہین رسالت کا جرم حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے ؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل حدود اور تعزیرات کی تعریف معلوم ہونی چاہیے کہ حدود سے کیا مراد ہے اور تعزیرات سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء کرام جب لفظ حد کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مصداق کیا ہوتاہے ؟ اسی طرح جب تعزیر کا لفظ بولا جاتا ہے تواس کا مصداق کیا ہوتاہے،۔ ان سب سوالوں کا جواب حد اور تعزیرکی تعریف معلوم ہونے سے بخوبی سمجھ آسکتاہے۔ ملک العلماء علامہ کاسانی ؒحد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں عقوبة مقدرة واجبة حقا الله تعالي۔ ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ اللہ تعالی کے حق کے طور پر واجب...

سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز ”مکالمہ“ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے...
1-50 (400) >
Flag Counter