آراء و افکار

ایک فراموش شدہ گواہ: قبۃ الصخرة

سید ظفر احمد

عظیم اور قدیم تعمیراتی شاہکارقبۃ الصخرة کے لیے "فراموش شدہ گواہ" کی ترکیب راقم نے نیویارک کی مشہورِ زمانہ کولمبیا یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر ایسٹیل وھیلن (Estelle Whelan) (م:13 ؍ اکتوبر 1997ء) سےمستعار لی ہے [1]۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ بیسویں صدی کے آغاز میں مستشرق الفانسو منگانا (Alphonso Mingana) 1 نے اسلامی تاریخ کے پورے فریم ورک کو چیلنج کرتے ہوئے وھیلن کے الفاظ میں" واضح تعصب "کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ قرآن کی جمع و تدوین پانچویں اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔ پھر 1970ء میں جان وانسبَرو (John Wansbrough) نے آگے بڑھ کر "انکشاف" کیا...

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیر

محمد عمار خان ناصر

مذاہب کی روایت میں مختلف قسم کے اعتقادی وعملی اختلافات کا پیدا ہونا تاریخ کا ایک معمول کا عمل ہے جس سے کوئی مذہبی روایت مستثنی ٰ نہیں۔ ان اختلافات میں مستند اور غیر مستند عقیدہ وعمل کی تعیین کی بحثیں بھی فطری ہیں اور ہر مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔ تاہم گروہی شناخت کے نقطہ نظر سے یہ اختلافات دو میں سے ایک شکل اختیار کر سکتے ہیں اور اس کی مثالیں بھی کم وبیش ہر مذہبی روایت میں موجود ہیں۔ کسی ایک شکل کی تعیین کا عمل اصلا اختلاف کی نوعیت اور مختلف تاریخی عوامل کے تحت ہوتا ہے، جبکہ اعتقادی اور مذہبی بحثوں کا کردار اس میں ضمنی اور ثانوی ہوتا...

شیعہ سُنّی بقائے باہمی کا راستہ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘کے اکتوبر ۲۰۲۰ کے شمارے میں جناب مولانا زاہد الراشدی کا شیعہ سنی کشیدگی کے تناظر میں یہ فرمانا بہت ہی گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے: ’’ہمارا اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو شام، عراق اور یمن بننے سے بھی بچانا ہے اور قومی وحدت کو بھی ہر صورت میں برقرار رکھنا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہم صحابہ کرامؒ و اہلبیت عظام کے حوالہ سے اپنے ایمان و عقیدہ و جذبات کا تحفظ کریں، اسی طرح ہماری یہ بھی ملی اور قومی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے ہر قیمت پر بچائیں۔‘‘ ان کی یہ تشویش بھی بجا ہے کہ ایسا...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار (۲)

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

3.4۔توحید کا چوتھا درجہ: توحید وجودی۔ اب توحید کے چوتھے درجے کی بات کرتے ہیں جس پر سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے اور جسے غامدی صاحب نے کفار و مشرکین جیسا عقیدہ قرار دے کر عظیم ضلالت قرار دیا ہے۔ علم کلام کے مباحث میں اس درجہ توحید کی گفتگو کو "توحید وجودی" (Existential Unity) کا عنوان بھی دیا جاتا ہے جس کی متعدد تشریحات پائی جاتی ہیں جن میں دو اہم تر ہیں: ایک کو "مشاہداتی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے اعتبارات سے قائم ہونے والی وحدت ہے۔ دوسری کو "وجودی وحدت" کہتے ہیں، یہ ناظر و مشاہد کے تناظرات سے ماوراء برقرار رہنے والی وحدت کا دعوی ہے۔ یہ تمام تفصیلات...

امام غزالی، درجات توحید اور غامدی صاحب کی تکفیری تلوار

ڈاکٹر محمد زاہد صدیق مغل

1۔ تعارف: جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنی کتاب "برہان" میں تصوف کے موضوع کو تختہ مشق بناتے ہوئے اکابر صوفیاء کرام بشمول امام غزالی پر ضلالت اور کفریہ و شرکیہ نظریات فروغ دینے کے فتوے جاری فرمائے ہیں۔ نیز ان کے مطابق حضرات صوفیاء کرام نے خدا کے دین کے مقابلے میں ایک متوازی دین قائم کیا۔ اپنے مضمون کا آغاز وہ یہاں سے کرتے ہیں: "ہمارے خانقاہی نظام کی بنیاد جس دین پر رکھی گئی ہے، اُس کے لیے ہمارے ہاں ’تصوف‘ کی اصطلاح رائج ہے۔ یہ اُس دین کے اصول و مبادی سے بالکل مختلف ایک متوازی دین ہے جس کی دعوت قرآن مجید نے بنی آدم کو دی ہے" (برہان:...

’’خلطِ مبحث‘‘ کی مصنوعی افزائش

ڈاکٹر اختر حسین عزمی

علم و دانش کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افراد و اقوام کے مسائل اور تنازعات باہمی مشاورت سے طے کیے جائیں۔ لیکن اگر کسی قوم کے طے شدہ معاملات کو ہی متنازع بنانے پر زور صرف ہونے لگے تو وہ قوم ایک دائرے کے اندر ہی سفر کرتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ المیہ ہے کہ ایک طبقہ قومی رہنمائوں کی مشاورت سے طے کردہ معاملات پر بھی مسلسل چاند ماری کرتا رہتا ہے۔ ایسی ہی ایک کوشش ماہنامہ الشریعہ کے مارچ 2020ء کے شمارے میں ڈاکٹر عرفان شہزاد کے مضمون ’’قومی اور مذہبی اظہاریوں کا خلطِ مبحث‘‘ کی صورت میں نظرآتی ہے جس میں انہوں نے پاکستانی قوم کے ایک طے شدہ ریاستی اظہار یئے...

صحابہ کرام کے بارے مولانا مودودی کا اصولی موقف

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

مولانا مودودی کی کتاب خلافت و ملوکیت اور تجدید و احیائے دین کی بعض عبارتیں ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنی ہوئی ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر خاص ان عبارتوں کی بجائے اس پر بات کی جاتی کہ اصولی طور پر مولانا مودودی کس جگہ غلطی پر ہیں ۔ اصولی چیزوں کے علاوہ تاریخی چیزوں میں بعض جگہ ان کی غلطی یا بددیانتی بھی اگر ثابت ہوجاتی ہے تو دیگر بہت سی جگہوں میں اسی قسم کی چیزیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ مولانا مودودی صحابہ کرام کو محترم اور مکرم مانتے ہیں۔ اپنی تفسیر میں بہت سی جگہوں پر شیعی نظریات کا رد کرتے ہیں ۔ صحابہ کرام کے حوالے سے جس قدر فضائل و مناقب ہیں،...

صنعاء پالمپسسٹ پر جدید تحقیقات کا جائزہ

سید ظفر احمد

خلاصہ: یہ ایک ریویو پیپر ہے جس میں صنعاء پالمپسسٹ رقم DAM 01-27.1 پر حالیہ یعنی گزشتہ دس سالوں میں ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے قبل جو اشیاء تحریر کیلیے استعمال کی جاتی تھیں، ان میں پارچہ (parchment)ا یک اہم میڈیم تھا جو ہرن ، بکری، دنبہ وغیرہ کے چمڑے کو ایک عمل سے گزار کر بنایا جاتا تھا۔ پارچے کافی مہنگے ہوتے تھے، اس لیےان کی ری سائکلنگ ایک معمول تھا۔ پہلی تحریر کی جب ضرورت باقی نہیں رہتی تھی تو اس کو مِٹا کر یا دھوکر پارچہ آئندہ استعمال کیلیے رکھ دیا جاتا تھا۔ پالمپسسٹ (Palimpsest)ایسے پارچہ کو کہتے ہیں جس میں تحریر...

کشمکشِ عقل و نقل: امام رازیؒ اور علامہ ابن تیمیہ ؒ

مولانا محمد بھٹی

علامہ صاحب کی انتقادی سرگرمی کے موردِ اصلی متکلمینِ اہل سنت ہیں اور اس انتقادی پیکار کا منتہائی ہدف صفاتِ متشابہات بابت اپنے مخصوص مذہب کا دفاع ہے،باقی سب زیبِ داستان ہے۔عقل و نقل کی کشمکش ہو یا لغت و بلاغت کے مسائل ہوں،سب اسی غرض کی براری کے لیے خام مال کے طور پر کام میں لائے گئے ہیں۔آپ کی کتاب 'درء تعارضِ العقل و النقل' کا ہدفِ اصلی بھی صفات کے باب میں اپنے 'مائل بہ تجسیم' موقف کا دفاع اور متکلمینِ اہلسنت کی تردید تھا جس کی حیثیت محض ایک خام آرزو کی ہی رہی۔علامہ صاحب کے احترامات فراواں کے باوجود یہ کہنا ناگزیر ہے کہ مذکورہ بالا کتاب میں بھی...

ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم

محمد عرفان ندیم

عرب و ہند کے تعلقات کی تاریخ بہت قدیم ہے، بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل ہندوستان کے مختلف قبائل جاٹ، مید، سیابچہ ، احامرہ، اساورہ اور بیاسرہ وغیرہ تجارت کی غرض سے بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ آیا جایا کرتے تھے۔یہ قبائل براستہ ایران عراق گئے اور وہاں سے جحاز کے مختلف خطوںمیں آ باد ہوگئے۔انہی تجارتی تعلقات اور میل جول کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کے ابتدائی نقوش پہلی صدی ہجری میں ہی نظرآنے لگے تھے۔سن دس ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ نے ان کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ:...

عقل و نقل کا تعارض اور تاویل کے لیے امام غزالی کا قانون کلی

محمد زاہد صدیق مغل

امام ابن تیمیہ (رحمہ اللہ علیہ) اپنی کتاب "درء تعارض" میں امام غزالی (رحمہ اللہ علیہ) اور امام رازی (رحمہ اللہ علیہ) پر اپنے روایتی جارحانہ انداز میں تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہوتے ہیں کہ یہ حضرات آیات قرآنی کی تاویل کے باب میں ایک ایسا عمومی قانون بیان کرگئے ہیں جو زندقہ کا پیش خیمہ اور اہل کتاب کے گمراہ لوگوں جیسا کام ہے۔ اس تحریر کا مقصد امام غزالی کی متعلقہ تحریر اور امام غزالی کے تصور عقل کی روشنی میں یہ دکھانے کی کوشش کرنا ہے کہ یوں لگتا ہے اس معاملے میں علامہ ابن تیمیہ سے دو امور میں سہو نظر ہوگیا ہے: پہلا امام صاحب کی بات کو اس کے خصوصی...

مولانا وحید الدین خان کا اسلوب تنقید اور خورشید احمد ندیم صاحب کے اعتراضات

صدیق احمد شاہ

خورشید احمد ندیم ایک معتدل مزاج اور فکری گہرائی رکھنے والے کالم نگار ہیں ۔اُن کی تحریر میں ایک مخصوص ٹھہراؤ اور رکھ رکھاؤ ہوتا ہے جسے میں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں۔ ادبی خیال آفرینی سے اپنی تحریر کو مزین کرنے کا فن بھی خوب جانتے ہیں۔ اس وقت اُن کی کتاب "جنوبی ایشیا کے تناظر میں بیسویں صدی کا فہم اسلام" میرے سامنے ہے جس میں اُنہوں نے جنوبی ایشیا کے تناظر میں مختلف فکری شخصیتوں کے احوال اور واقعات کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ اسی کتاب میں ان کا ایک مضمون "مولانا وحید الدین کا اسلوب تنقید" شامل ہے اور میرے اس آرٹیکل کا مقصد اسی مضمون کا ایک تجزیاتی...

قومیت بطور مذہب

ڈاکٹر عرفان شہزاد

زیر نظر مضمون کارلٹن جے ایچ ہیز (Carlton J H Hayes, 1882-1964) کے آرٹیکل، Nationalism as a Religion کے ماڈل کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے۔ کارلٹن ایک امریکی مورخ تھا۔ ایک وقت میں وہ تصورقومیت کا حامی رہا،پھر اس کے خیالات اس بارے میں مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔ اپنے دور میں قومیت کے نام پر برپا ہونے والی دو عظیم جنگوں کی تباہ کاریاں بھی اس کے سامنے تھیں۔ اس نے قومیت کے تصور میں موجود منفیت اور مقامیت کا ادراک کیا اور اس کے نہایت شان دار تجزیے پیش کیے۔ اس نے قومیت کو تاریخِ انسانی کی بدترین برائیوں میں سے ایک شمار کیا۔ قومیت کا تعارف: اپنے خاندان اور قبیلے کے ساتھ تعلق...

مقدس شخصیات کی توہین اور جدید قانونی تصورات

محمد عمار خان ناصر

یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں آسٹریا کی عدالتوں میں ۲٠۱٠ء سے ۲٠۱۴ء تک چلنے والے ایک مقدمے کے متعلق یہ قرار دیا ہے کہ آسٹروی عدالتوں نے ملزم کو پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت انگیز القاب استعمال کرنے پر جو سزا دی ہے، وہ قانون کے مطابق ہے اور آزادی اظہار کے حق کے منافی نہیں ہے۔ ۲٠٠۹ء میں ایک خاتون نے آسٹریا میں ایک عمومی اجتماع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں طفل پرست قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ محمد اخلاقی طور پر کوئی رول ماڈل نہیں ہیں،...

توہینِ رسالت کی سزا اور مولانا مودودی کا موقف

مراد علوی

عصرِ رواں میں مولانا مودودی کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جن کے ساتھ تحقیق کے نام پر اکثر لوگوں نے بے حد ناانصافی کی ہے۔ مولانا کے منتسبین اسلامی قانون اور روایت سے وہ شغف نھیں رکھتے جتنی دلچسپی دیگر امور میں رکھتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بعض طے شدہ امور میں مولانا کے چاہنے والے تردد کا شکار ہیں۔ اس کے بنیادی وجوہ میں خود مولانا کے تحریکی لٹریچر کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جس کی وجہ سے ابھی تک ان پر بہت سارے مسائل واضح نہ ہوسکے۔ مولانا کی جانب نسبت رکھنے کا اخلاقی تقاضا ہے کہ اسلامی قانون سے زیادہ نہ سہی، واجبی واقفیت حاصل کی جائے۔تاہم دلچسپی...

قربانی سے پہلے بال اور ناخن نہ کاٹنا ۔ جناب جاوید احمد غامدی کے موقف پر بعض اشکالات کا جائزہ

محمد حسن الیاس

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہاسے مروی ایک روایت میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا ارادہ رکھنے والے غیر حاجیوں کو ذی الحجہ کی ابتدا سے بال اور ناخن نہ کاٹنے کی تلقین فرمائی ہے ۔روایت کے الفاظ ہیں: اِذَا رَایتُم ہِلالَ ذِی الحِجَّةِ وَاَرَادَ اَحَدُکُم اَن یُضَحِّیَ فَلیُمسِک عَن شَعرِہِ وَاَظفَارِہِ (مسلم ،رقم ۱۹۷۷)۔ “جب تم لوگ ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتاہو تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ کاٹے۔” استاذ مکرم جناب جاوید احمد غامدی نے اِس روایت کو اپنی کتاب “میزان” میں قبول کیا ہے اور قربانی...

قادیانی مسئلے میں مختلف بیانیے

محمد زاہد صدیق مغل

حکومت کی طرف سے عاطف میاں قادیانی کے بطور مشیر تقرر کولے کر قادیانی مسئلے پر ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے بحث ہوئی جس میں مختلف فکری رجحانات کے احباب نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس مختصر تحریر میں ان متعدد آراء کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں چار مواقف سامنے آئے ہیں اور چاروں سے الگ قسم کے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ (۱) سیکولر بیانیہ: مسلم و قادیانیت کی مساوات۔ لبرل سیکولر فکر چونکہ فرد کی آزادی کے عقیدے پر ایمان کی دعوت دیتی ہےجس کے مطابق حقوق کا ماخذ انسان خود ہے، لہذا اس فکر کے مطابق ریاست کو حق نہیں کہ وہ آزادی کے سواء کسی دوسرے عقیدے کی بنیاد پر یا...

دہشت گرد تنظیموں کی فکری بنیادیں: نقائص و نتائج

مولانا ضیاء الرحمٰن علیمی

جتنے بھی مسلم فرقے ہیں سب اپنا رشتہ قرآن و سنت سے جوڑتے ہیں اور سب کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا عقیدہ و منہج قرآن وسنت سے ثابت ہے۔ لیکن احقاق حق او ر ابطال باطل کی غرض سے اسلاف کے فراہم کردہ اصول و معیارپرایسے تمام فرقوں کے افکار و مفاہیم کا تجزیہ کرنا ایک دینی ذمے داری ہے اور علمی امانت داری بھی۔ جامعہ ازہر عالم اسلام کی وہ عظیم دانش گاہ ہے جس نے دین و ملت کی خدمت میں اپنی زندگی کے پورے ایک ہزار سال گزارے ہیں۔اس نے ہر زمانے میں باطل افکار وخیالات کو اسلاف کے عطا کردہ اصولوں پر پرکھ کر گمراہ فرقوں کو آئینہ دکھایاہے اور قرآن وسنت سے ان کے گہرے رشتوں...

قرب قیامت میں غلبہ اسلام کی پیشین گوئی ۔ علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر

محمد عمار خان ناصر

کتب حدیث میں سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول ثانی سے متعلق بعض روایا ت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب نزول عیسی بن مریم علیہما السلام، رقم ۳۲۹۰) وہ لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے اور ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ اسلام کے علاوہ ساری ملتوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ (سنن ابی داود، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، رقم ۳۸۲۶) شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول...

انسانی خدا ۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ

سید راشد رشاد بخاری

آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ) اپنی پہلی اشاعت کے بعد سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی ہے اور اس کی وجہ اس کتاب میں پیش کیے گئے انسانوں کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں غیر روایتی اور غیرمعمولی تصورات ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خیالات کو پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ یہ تو بالکل سامنے کی بات تھی، اس طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں گیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے2011 میں وہ ایک...

چند جدید عائلی مسائل ۔ فقہی تراث کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا محمد رفیق شنواری

ہم نے مدرسہ ڈسکورسز کی کلاس میں “جرم زنا” کی ماہیت اور تعریف نیز بنیاد فراہم کرنے والے مفروضوں کا تجزیہ کرنا تھا جس کے لیے ڈاکٹر سعدیہ یعقوب صاحبہ نے امام سرخسی کی کتاب المبسوط کے کچھ صفحات (جلد نہم ص ۵۴-۵۵) کا انتخاب کیا تھا۔ پہلے ہم نے اس بنیادی سوال کا تعین کیا جس کا امام سرخسی ان صفحات میں جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیوں کہ تراث جس مقصد کے لیے پڑھائی جا رہی ہے ، اگر وہ مقصدی سوال سامنے نہ ہو تو سمجھنے کے جتن کا کیا معنی؟ اس کے بعد اس منتخب حصے کو کئی مناسب حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ حصہ محض کئی مسائل کی تصویر اور تکییف پر مشتمل تھا ، جس...

توہین رسالت حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے؟

مولانا مفتی محمد اصغر

توہین رسالت کا جرم حدود سے متعلق ہے یا تعزیرات سے ؟ اس سوال کا جواب دینے سے قبل حدود اور تعزیرات کی تعریف معلوم ہونی چاہیے کہ حدود سے کیا مراد ہے اور تعزیرات سے کیا مراد ہے ؟ فقہاء کرام جب لفظ حد کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مصداق کیا ہوتاہے ؟ اسی طرح جب تعزیر کا لفظ بولا جاتا ہے تواس کا مصداق کیا ہوتاہے،۔ ان سب سوالوں کا جواب حد اور تعزیرکی تعریف معلوم ہونے سے بخوبی سمجھ آسکتاہے۔ ملک العلماء علامہ کاسانی ؒحد کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں عقوبة مقدرة واجبة حقا الله تعالي۔ ایسی مقررہ سزا جس کا نفاذ اللہ تعالی کے حق کے طور پر واجب...

سیکولرزم یا نظریاتی ریاست: بحث کو بند گلی سے نکالنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

مذہبی ریاست یا سیکولرزم کی بحث ہمارے ہاں کی بہت بنیادی اور اہم نظریاتی بحثوں میں سے ہے جس پر سنجیدہ گفتگو اور تجزیے کی ضرورت ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ ابھی تک اس موضوع پر بامعنی اور نتیجہ خیز ”مکالمہ“ شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقی مکالمے کے آغاز کی شرط اولین اس نکتے کو تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنی بات کی قابل اعتنا فکری بنیادیں موجود ہیں جو مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھائی جا سکتی ہیں۔ اس بحث میں بھی دونوں فریقوں کے موقف کے کچھ پہلو اپنے داخلی میرٹ پر ایسے ہیں جن کا ابلاغ دوسرے فریق تک ہونا چاہیے اور جو مخالف موقف پر اثر انداز ہونے...

نئی زمینوں کی تلاش

عاصم بخشی

(فلسفہ سائنس، سماجیات اور چارلس پرس کے منتخب مقالات کے اردو ترجمہ ’’نئی زمینوں کی تلاش’’ کا پیش لفظ)۔ مترجم کے تناظر سےترجمہ چاہے ادبی ہو یا تکنیکی دونوں صورتوں میں لازماًقرأتِ متن، تفہیمِ متن اور شرحِ متن کی ایک سہ جہتی سرگرمی ہوتا ہے۔ پہلی جہت ایک زبان کے طرزِ کلام کی دوسری زبان میں منتقلی، دوسری جہت متن کی مخصوص معنوی صورتوں کی مترجم کے پردۂ ذہن پر منتقلی اور تیسری جہت مترجم کی ان صورتوں میں ترجیح و انتخاب سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن یہ تینوں جہتیں ترجمے کے دوران نہ صرف گڈ مڈ ہو جاتی ہیں بلکہ پس منظر میں اتنی مبہم ہو جاتی ہیں کہ عام...

مذہبی انتہا پسندی کے محرکات

مولانا غازی عبد الرحمن قاسمی

امت مسلمہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ایک اہم مسئلہ مذہبی انتہا پسندی سے متعلق ہے جس کی وجہ سے امن عامہ کا بری طرح متاثر ہونا، عدم برداشت، رواداری کافقدان اور دیگر خوفناک مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں جو وسعت اوراعتدال پسندی کا تناسب ہے، اس کو نظر انداز کرتے ہوئے مذہبی تعلیمات اور معاملات کوایسی انتہا کی بھینٹ چڑھادینا جو روح شریعت سے متصادم ہو، مذہبی انتہا پسندی ہے۔ مثلاً ایسے مذہبی احکامات یا معاملات جو مباح یا مستحب ہیں، ان کو فرض یا واجب کے بالمقابل لے آنا اور اسی طرح مکروہ تنزیہی اور اس کے قریب ترین کاموں کو حرام اور مکروہ...

غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رجب کے دوران ملک بھر میں بیسیوں مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا اور دینی مدارس کے مختلف النوع اجتماعات میں شرکت کے علاوہ متعدد ارباب علم و دانش کے ساتھ بعض علمی و فکری مسائل پر تبادلہ خیالات کا موقع ملا، ان میں سے ایک اہم اور نازک مسئلہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں بعض اہل علم کے فتویٰ کی بات بھی تھی جس کے بارے میں احباب نے میرا موقف معلوم کرنا چاہا۔ متعدد دوستوں کے ساتھ کی گئی متفرق گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتیں نازل فرمائے حضرت مولانا مفتی حمید اللہ جانؒ کی روح اور قبر پر جن سے طویل...

درک ’’درِ ادراک‘‘

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

مسیحیت ، ہندو مت ، بدھ مت، اور دیگر مذاہب کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ انہوں نے ترک دنیا اور رہبانیت کے تیشے سے انسانی جسم کو صرف اس لیے گھائل کر دیا تاکہ انسانی روح کو بیدار کیا جا سکے، لیکن اس غیر طبعی تعلیم اور جان سوزی کے نتیجے میں روح کی شمع بھی گل ہو کر رہ گئی۔ اہل کلیسا نے خانقاہوں میں بسیرا کر لیا، ہندؤوں او ر بدھوں نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ مسیحیت کی غیر فطری تعلیمات کے ردِ عمل میں پروان چڑھنے والے مغربی فکرو فلسفہ میں یورپ کے ارباب فکر ودانش نے مادہ پرستی کی رو میں بہتے ہوئے نہ صرف روح کے ہر تقاضے کو نظر انداز کر دیا بلکہ روح ہی کا انکار کر...

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(۲۴ جنوری ۲۰۱۸ء کو مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی میں علماء کرام کی ایک نشست سے خطاب کا خلاصہ۔) بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی...

تکفیر کی اتھارٹی، علماء یا حکومت؟

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک سوال ان دنوں کم و بیش ہر جگہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے ذریعے کفر کے فتوے کی اتھارٹی اب حکومت و عدالت کو منتقل ہوگئی ہے؟ اور اگر ایسا ہوگیا ہے تو مفتیان کرام کا اس میں کیا کردار باقی رہ گیا ہے؟ اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نقطہ نظر پیش کر رہا ہوں جسے من و عن قبول کرنا ضروری نہیں ہے البتہ اس کے بارے میں اہل علم و دانش سے سنجیدہ توجہ اور غور و خوض کی درخواست ضرور کروں گا۔ یہ سوال اس سے قبل ہمارے سامنے اس وقت بھی آیا تھا جب بنگلہ دیش کی قومی اسمبلی میں یہ تحریک پیش کی گئی تھی کہ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔...

فقہاء اور مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالۃ کا فرق

عدنان اعجاز

محترم زاہد صدیق مغل صاحب کی مذکورہ بالا عنوان کی حامل تحریر نظر سے گزری (الشریعہ، اکتوبر ۲۰۱۶ء)۔ مکتب فراہی کے تصورِ قطعی الدلالہ کے فقہا کے تصور سے تقابل کے ذریعے زاہد صاحب نے اس میں یہ باور کرانے کی سعی فرمائی ہے کہ ’’فراہی و اصلاحی صاحبان کا نظریہ قطعی الدلالہ نہ صرف مبہم ہے بلکہ ظنی کی ایک قسم ہونے کے ساتھ ساتھ سبجیکٹو (subjective) بھی ہے۔‘‘ میری نظر میں ایسی تحاریر موضوع سے متعلق الجھنوں کو رفع کرنے کے لیے اچھی بنیاد فراہم کرتی ہیں، اس لیے ایسے مواقع ضائع نہیں ہونے دینے چاہئیں۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے دیے گئے اہم دلائل ان الفاظ میں بیان...

تعبیر قانون کے چند اہم مباحث

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(16 نومبر 2017ء کو اس موضوع پر فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے طلبہ کے ساتھ کی گئی گفتگو مناسب حذف و اضافے کے ساتھ پیش خدمت ہے۔) پہلا سوال: عبیر قانون کی ضرورت کیوں؟ ایک عام آدمی یہ سوچتا ہے کہ مقننہ نے قانون میں سب کچھ واضح طور پر پیش کردیا ہے تو اس کے بعد "تعبیر قانون" یا قانون کا مفہوم متعین کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ وہ سوچتا ہے کہ جج کا کام صرف یہ ہے کہ مقننہ کے وضع کردہ قانون کی مقدمے میں موجود حقائق پر تطبیق کردے۔ کاش یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ ہوتا! جہاں قانون بظاہر خاموش ہو۔ پہلی بات یہ ہے کہ اگرچہ مقننہ اپنے طور پر پوری کوشش کرتی ہے کہ موجودہ...

نصوص کی تحدید و تخصیص اور قرآن کی آفاقیت

محمد عمار خان ناصر

سوالات۔ نظم قرآن کا تصور اور تفسیر میں مخاطب کے تعین کا مسئلہ (اور اس کے ساتھ اتمام حجت کا قانون بھی) سامنے آنے کے بعد احکام کی تحدید وتعیین اور تعمیم کے مسئلے پر ذہن کافی الجھا ہوا ہے۔ رہ نمائی فرمائیں۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس کون سے ایسے قطعی اصول ہیں جن کی رو سے ہم بعض احکام کو عہد رسالت کے ساتھ خاص اور بعض کو عمومی مانیں گے؟مولانا اصلاحی کے ہاں "تدبر قرآن" میں تخصیص کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو غامدی صاحب کے ہاں اور آپ کی کتاب "جہاد ایک مطالعہ" میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی جہاد کی کتاب میں "خیر امت" کے خطاب کی بھی مجھے بظاہر ایسے لگتا ہے کہ صرف عہدِ...

فطرت بطور معیار کی بحث

ڈاکٹر عرفان شہزاد

فطرت سے مراد انسانوں میں پائے جانے والے وہ عمومی پیدایشی رجحانات ہیں، جو انسانی شعور کو حق و باطل، خیر و شر، اور طیبات و خبائث میں تمیز کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ وحی کی عمارت انہیں بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔ فطرتِ انسانی ان اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، اس بحث کو ہم تین سطح پر دیکھتے ہیں: عقیدہ، اخلاق اور قانون۔ یہ واضح رہے کہ قانون کی بنیاد بھی پر اخلاق ہی پر ہوتی ہےِ، اس لیے اصلاً یہ بحث کہ فطرتِ انسانی اقدار کے لیے معیار ہے یا نہیں، عقیدہ اور اخلاق سے ہی متعلق ہے۔ فطرت میں پائی جانے والی یہ وہ بنیادی رہنمائی ہے جس کا تجربہ و مشاہدہ ہر انسان...

امام ابو حنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصول

محمد عمار خان ناصر

(۱۹ جنوری ۲۰۱۷ء کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ فکر اسلامی کے زیر اہتمام ’’خطبات اسلام آباد‘‘ کے زیر عنوان لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو کے بنیادی نکات۔) ۱۔ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو قرآن وسنت کے مقرر کردہ حدود میں اور ان کی منشا کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شارع کے منشا کو عملی حالات پر منطبق کرنے اور بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کا وظیفہ بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے اور ایک طرف قرآن وسنت کی منشا اور دوسری طرف پیش آمدہ مخصوص صورت...

مباحث فطرت و اخلاق: بحث کیا ہے؟

محمد زاہد صدیق مغل

"فطرت بطور ماخذ" کی بحث میں فطرت کے ماخذ ہونے کا انکار کرنے والے گروہ پر نقد کرتے ہوئے مختلف احباب غیر متعلق و غلط فہمیوں پر مبنی استدلال پیش کرتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت کردی جائے تاکہ نفس موضوع و بحث واضح ہوسکے اور کم از کم گفتگو تو اصل مدعے پر ہوا کرے۔ پہلی غلطی: اس ضمن میں پہلی غلطی یہ سوال ہوتا ہے: تو کیا آپ اسلام کو دین فطرت نہیں مانتے، یہ بات تو نصوص کے خلاف ہے؟ پھر چند نصوص پیش کرکے یہ ثابت کرنا شروع کردیا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کی ایک فطرت بنائی ہے وغیرہ۔ تبصرہ: یہ سوال اور...

اقلیتوں کے حقوق کے لیے علماء و فقہاء کا عملی کردار

محمد عمار خان ناصر

مذاہب عالم کی تعلیمات میں آزادئ مذہب کا اصول اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی تعلیم جس قدر وضاحت اور تاکید کے ساتھ اسلام میں ملتی ہے، کسی دوسری جگہ شاید نہیں ملتی۔ مسلم فقہاء نے اسی تعلیم کی روشنی میں غیر مسلم اقلیتوں کے شہری ومذہبی حقوق کے تحفظ سے متعلق نہایت واضح قانونی اور اخلاقی ضابطے مرتب کیے ہیں اور اسلامی تاریخ میں ایسی روشن مثالیں بکثرت ملتی ہیں جب علماء وفقہاء نے اللہ کے پیغمبر کی وراثت اور نیابت کا حق ادا کرتے ہوئے اقلیتی گروہوں پر کی جانے والی کسی بھی قسم کی زیادتی کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور زیادتی کی تلافی کے لیے حتی الوسع...

اختلاف رائے اور رواداری ۔ اکابرین امت کے اسوہ کی روشنی میں

مولانا محمود خارانی

علم و تحقیق کے سفر میں اختلاف رائے ایک ناگزیر امر ہے جو تحقیق و جستجو کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مسائل و مباحث کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، تحقیق طلب امور کے نئے گوشے وا ہوتے ہیں، فکر و نظر کے نئے زاویے کھل جاتے ہیں۔ مگر اس اختلاف رائے میں ان سلف صالحین اور اکابرین امت کا درخشاں طرز واسلوب اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے جن کے منہج و طرز فکر سے وابستگی دینی طبقے میں ایک لازمی امر کے طور پر متعارف ہے۔ یہ بجا طور پر آج کے پرفتن دور میں ایک محتاط اور قابل تحسین حکمت عملی ہے۔ دینی طبقہ کے "اکابر سے وابستگی" کے اس رجحان کے...

اسلامی دنیا میں عقلی علوم کا زوال ۔ عہد زریں اور عہد تاریک کا افسانہ

پروفیسر اسد احمد

(پروفیسر اسد کیو احمد یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے سے منسلک ہیں۔ پیش جدیدی مسلم معاشروں کی سماجی اور فکری تاریخ ان کی تحقیق کے خاص میدان ہیں۔ یہ تحریر اکتوبر 2013ء کی ہے۔ مترجم)۔ کوئی دو ماہ قبل مجھے امیریکن اسلامک کانگریس نامی ایک این جی او کی طرف اسلام اور سائنس کے موضوع پر ایک مباحثے میں شمولیت کی دعوت ملی۔ مجھے بتایا گیا کہ اس میں میرے ساتھ ایک پاکستانی عوامی اسپیکر بھی شرکت کریں گے (یہ اسپیکر پروفیسر ہودبھائی تھے۔ مترجم) جو اسلامی فکر کی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مسلم دنیا میں سائنس اور دوسرے عقلی علوم کی اشاعت و ترویج کے لیے کوشاں...

علمِ سماجیات : دعوت نامے کی باز طلبی؟

پیٹر برجر

زندگی کے اس موڑ پر ایک ماہر سماجیات کے طور میرے تشخص میں ایسا کچھ خاص داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ اگر علمی تخصص کی بابت پوچھا جائے تو میں خود کو ماہر سماجیات ہی کہوں گا، لیکن اِس تخصیص کا اِس سے کچھ خاص لینا دینا نہیں جو میں کرتا ہوں یا خود کو سمجھتا ہوں۔ میں اِس علمی دائرے سے منسلک محققین کے کام پر سرسری توجہ ہی دیتا ہوں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ بھی میرے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال کچھ ایسی بری بھی نہیں۔لیکن مجھے کبھی کبھار یاد آتا ہے کہ میں اپنی پرجوش جوانی میں دوسروں کو کافی جذباتی انداز میں اپنی تحریروں (جو خوش قسمتی سے آج بھی...

مختلف نظام ہائے قوانین کے اصولوں میں تلفیق : چند اہم سوالات

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

(کسی ایک فقہی مذہب کی پابندی اور مختلف مذاہب کے مابین تلفیق کے حوالے سے فیس بک پر ہونے والی بحث کے تناظر میں لکھی گئی توضیحات۔)۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ میرے استاد محترم نیازی صاحب اور مجھے تلفیق پر جو اعتراض ہے، وہ اس بات پر نہیں ہے کہ مختلف مذاہب سے آرا کیوں اکٹھی کی جارہی ہیں؟ ہمارا اعتراض یہ ہے کہ آرا اکٹھی کی جارہی ہیں یہ فکر کیے بغیر کہ ان آرا کے پیچھے جو اصول کارفرما ہیں، وہ آپس میں ہم آہنگ ہیں بھی یا نہیں؟ اگر اصولی ہم آہنگی یقینی بنائی جائے اور اصولی تضادات دور کیے جائیں ، تو بے شک آرا اکٹھی کرکے نئی رائے قائم کی جائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں...

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں غیر مسلموں کی معاونت ۔ تکفیری مکتب فکر کے ایک اہم استدلال کا تنقیدی جائزہ

محمد عمار خان ناصر

موجودہ مسلم حکمرانوں کی تکفیر کرنے والے گروہوں کی طرف سے ایک اہم دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان حکمرانوں نے بہت سی ایسی لڑائیوں میں کفار کے حلیف کا کردار ادا کیا ہے جو انھوں نے دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے خلاف شروع کی ہیں اور اسلامی شریعت کی رو سے یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کا مرتکب کافر اور مرتد قرار پاتا ہے۔ یہ نقطہ نظر ہمارے ہاں سب سے پہلے غالباً انگریزی دور اقتدار میں جنگ عظیم اول کے موقع پر اس وقت پیش کیا گیا جب برطانوی فوج میں شامل مسلمانوں کے لیے ترکی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کا سوال سامنے آیا۔ تحریک خلافت کے قائدین نے اس پر ایک سخت...

اقلیتوں سے متعلق مسلمانوں کے فکری تحدیات

ڈاکٹر محمد ریاض محمود

(شعبہ علوم اسلامیہ، گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ۳۰، ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء کو ’’معاصر مسلم معاشروں کو درپیش فکری تحدیات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس کے لیے لکھا گیا۔)۔ اسلام روحانی اورمادی اعتبارسے ایساانسان دوست دین ہے جس میں تمام طبقات کے لئے امن،محبت، ترقی، خوشحالی، رواداری اوراحترام کی ہدایات ملتی ہیں۔(۱) یوں اسلامی فکروفلسفہ سے وابستہ کسی بھی سیاسی،معاشی یاسماجی نظام میں ظلم، تعصب،جانبداری، حق تلفی یاکسی قسم کے امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔اسی اعلیٰ ظرفی اور شانداربصیرت کی کرشمہ سازی تھی کہ مختلف ادوارمیں قائم...

اختلاطِ مرد وزن، پردہ اور سماجی حقوق و فرائض / دینی مدارس کا نصاب ونظام۔ قومی پالیسی وضع کرنے کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

اسلامی شریعت میں خواتین کے لیے پردے سے متعلق کیا احکام دیے گئے ہیں؟ مرد وزن کے میل جول کے ضمن میں وہ کون سے حدود وآداب ہیں جن کی پابندی شرعاً ضروری ہے؟ خواتین اجنبی مردوں کے سامنے اپنا چہرہ ننگا کر سکتی ہیں یا نہیں؟ جب عورت کا چہرہ ہی جسم کا سب سے زیادہ پرکشش حصہ ہوتا ہے تو کیا فتنے سے بچنے کے لیے اس کو چھپانا ضروری نہیں ہونا چاہیے؟ ذیل کی سطور میں ہم ان سوالات کے حوالے سے اپنے فہم کے مطابق اسلامی شریعت کے زاویہ نظر کو واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسلامی شریعت کا مزاج یہ ہے کہ وہ کسی معاملے کے صرف ایک پہلو کو مد نظر رکھ کر احکام طے نہیں کرتی، بلکہ...

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں کے باہمی روابط

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس اور غیر حکومتی تنظیموں (NGOs) کے باہمی روابط کا معاملہ ان دنوں اعلیٰ سطحی دیوبندی قیادت کے ہاں زیر بحث ہے اور ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے گذشتہ شمارے میں صدر وفاق مولانا سلیم اللہ خان نے جبکہ ماہنامہ ’’البلاغ‘‘ کے حالیہ اداریے میں مولانا عزیز الرحمن نے اس ضمن میں اپنے خدشات وتحفظات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ بحث کا فوری تناظر دو واقعات ہیں۔ ایک یہ کہ ایک دینی جامعہ میں کسی غیر ملکی تنظیم کے اشتراک سے ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مبینہ طور پر کچھ ایسی باتیں کہی گئیں جن سے دینی قیادت کے مسلمہ اعتقادی موقف پر زد پڑتی ہے۔ دوسرے یہ...

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد ارشد

۶: عورت کی سربراہی۔ وہ واحد دستوری مسئلہ جس کی بابت اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر (دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی) کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کثرت سے دستیاب ہیں وہ مسئلہ عورت کی حکمرانی کا ہے۔ اس امر پر تینوں مکاتب فکر کے ہاں ایک طرح کا اجماع پایا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اسلامی مملکت ؍حکومت کے سربراہ کا مرد از روئے شریعت مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔ اسلامی مملکت میں سربراہی کے منصب کی ذمہ داریاں کسی خاتوں کو سونپی نہیں جا سکتیں۔ لہٰذا کسی اسلامی حکومت میں...

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں / مغربی تہذیب کے مفید تصورات وتجربات سے استفادہ

محمد عمار خان ناصر

مذہب اور معاشرتی اصلاح ۔ خواتین کے مقام وحقوق کے تناظر میں۔ اللہ کے مستند پیغمبروں کی دعوتی جدوجہد سے مذہب کا جو تصور سامنے آتا ہے، اس کا ایک بہت بنیادی جزو معاشرتی ناہمواریوں اور اخلاقی بگاڑ کی اصلاح ہے۔ مذہب انسان کے عقیدہ وایمان کے ساتھ ساتھ اس کے عمل کا بھی تزکیہ چاہتا ہے، چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ انسانی جبلت کے منفی رجحانات سے پیدا ہونے والے معاشرتی رویوں اور رسوم واعمال کی اصلاح مذہبی تعلیمات کا موضوع بنے۔ اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ نے بھی عرب معاشرے کے تین پسے ہوئے اور مظلوم طبقوں، یعنی غلام لونڈیوں، عورتوں...

اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۱)

ڈاکٹر محمد ارشد

برعظیم پاکستان و وہند میں اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق بعض مسائل، با لخصوص خلیفہ کی اہلیت کے شرائط (قرشیت وغیرہ) ، سے متعلق علماء کے ہاں بحث و مباحثہ کا آغازتحریک خلافت کے دنوں میں (۱۹۱۸۔۱۹۲۲ء) ہوا۔ تحریک خلافت کے مخالف علماء نے ترکانِ عثمانی کی خلافت کی شرعی حیثیت کو چیلنج کیا، کہ ان کی نظر میں عثمانی خلفاء منصب خلافت کی ایک اساسی شرط، شرط قرشیت کو پورا نہ کرتے تھے (۱)۔ جب کہ تحریک خلافت کے حامی و مؤید علماء نے عثمانی خلافت کو شرعی طور پر جائز تسلیم کیا اور شرطِ قرشیت کی ایک مختلف تعبیر پیش کی(۲) ۔تحریک خلافت کے مخالف علماء...

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر / عرب ایران تنازع۔ تاریخی وتہذیبی تناظر اور ہوش مندی کی راہ / مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ؒ کا انتقال

محمد عمار خان ناصر

پاک بھارت تعلقات اور اقبال و جناح کا زاویہ نظر۔ انگریزی دور اقتدار میں برصغیر کی اقوام جمہوریت کے جدید مغربی تصور سے روشناس ہوئیں اور برطانوی حکمرانوں نے اسی تصور کے تحت ہندوستان کے سیاسی نظام کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کا آغاز کیا تو یہاں کی دو بڑی قوموں یعنی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین باہمی بے اعتمادی کی وجہ سے اپنے سیاسی اور اقتصادی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے کشمکش اور تناؤ کی صورت حال پیدا ہو گئی جس نے آگے چل کر ایک باقاعدہ قومی تنازع کی شکل اختیار کر لی۔ اس صورت حال کے تجزیے اور ممکنہ حل کی تجویز میں مسلمان قیادت بھی باہم مختلف الرائے...

اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب

مولانا محمد عیسٰی منصوری

تمام انسانی تہذیبیں اور ثقافتیں زندہ مخلوق (نامیاتی اجسام) کے مانند ہوتی ہیں۔ جس طرح ہر جاندار مخلوق زندگی میں مختلف مراحل سے گزرتی ہے، بچپن، جوانی، بڑھاپا، پھر موت، یہی حال تمام انسانی تہذیبوں کا ہے۔ تہذیبیں پیدا ہوتی ہیں، عروج پاتی ہیں، پھر زوال کا شکار ہو کر مٹ جاتی ہیں۔ دنیا کی جتنی بھی تہذیبیں ہیں، وہ تین چیزوں کا ملغوبہ ہوتی ہیں (۱) وہ گزشتہ تہذیبوں کے کھنڈرات پر قائم ہوتی ہیں یعنی گزشتہ تہذیبوں کے بچے کھچے آثار و باقیات یا تلچھٹ۔ (۲) ہر تہذیب کسی آسمانی وحی یا کچھ مفکرین و دانشوروں کے تصورات و افکار پر مبنی ہوتی ہیں۔ (۳) ہر تہذیب پر خطہ...

کیا خاندانی نظام ظلم ہے؟ مارکیٹ، سوسائٹی، غربت اور خاندان کا تحفظ

محمد زاہد صدیق مغل

کچھ روز قبل فیس بک پر خاندانی نظام کے غیر اسلامی ہونے کے حوالے سے ایک تحریر سامنے آئی جس میں کوئی اسلامی دلیل موجود ہی نہ تھی۔ اس تحریر کے استدلال کی کل بنیاد "بڑے بھائی پر ہونے والے مظالم" کا حوالہ تھی کہ اس پر خاندان کا بار گراں زیادہ ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر تحریر میں خاندانی نظام کو اس کے وسیع تر معاشرتی و سیاسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے اور جدید مارکیٹ سوسائٹی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ مسئلے کے اس پہلو کو عام طور پر نظر انداز کرکے خاندانی نظام پر گفتگو کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں اس کی کچھ تفصیلات دی جاتی ہیں۔ آج دنیا میں جس پیمانے پر...
1-50 (358) >
Flag Counter