تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

تقسیم ہند سے تقریباً نوے برس قبل ۱۸۵۷ میں لڑی جانے والی جنگ آزادی کا اصل مقصد، اسلام کا نفاذ نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف، اپنے علاقے سے غیر ملکیوں کو کھدیڑنا تھا۔ اس لیے اس جنگ میں متحدہ ہند کی تمام قوموں نے بلا تفریق مذہب و ملت، رنگ و نسل مقدور بھر حصہ لیا تھا۔ شاید اسی لیے اس واقعہ کی بابت یہ بحث تو ہوتی رہی کہ یہ جنگ ہے یا غدر۔ لیکن، یہ جہاد ہے یا نہیں؟ اس زاویے سے کوئی سنجیدہ بحث ہمارے علم کی حد تک کبھی نہیں چھڑی۔ جن لوگوں نے اسے ’جنگِ آزادی‘ قرار دیا اور جنہوں نے اسے ’غدر‘ گردانا، دونوں ہی اپنے اپنے موقف کے تاریخی اثرات سے پوری طرح آگاہ نہ تھے۔جنگِ آزادی کو غدر گرداننے والوں نے مسلمانوں کو انگریز حاکموں کے ظلم و استبداد سے بچانے کی اپنے تئیں کوشش کی۔ لیکن اس کوشش کے دوران میں انہوں نے (شاید نادانستہ طور پر) متحدہ ہند کی دیگر اقوام سے مسلمانوں کے فکری و معاشرتی فاصلے بہت بڑھا دیے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو دلہن کی دو آنکھوں کے مانند سمجھنے والے سر سید احمد خان مرحوم بھی ’بھینگی دلہن‘ پر فریفتہ ہو گئے۔ پھر تاریخ نے عجیب منظر دیکھا کہ متحدہ ہند کی وہ اقوام جو جنگِ آزادی میں ایک دوسرے کی پشتیبان تھیں، حالتِ امن میں دوبدو کھڑی ہو گئیں۔ مسلمان چونکہ سابق حکمران تھے، اس لیے اس عمل کے زیادہ ذمہ دار تھے۔ سرسید مرحوم جیسے بالغ نظر قائد کا متحدہ ہند کے مسلمانوں کے الگ تشخص پر بے جا زور اور اصرار اس امر کا آئینہ دار تھا کہ مسلم قائدین ’پر امن بقائے باہمی‘ جیسے آفاقی اصول کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے، اور اگر تسلیم کرتے ہیں تو ان قائدین میں اتنی صلاحیت موجود نہیں کہ اس اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلم تشخص اور مسلم شناخت کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سرسید احمد خان کی وفات کے بعد جناح مرحوم اور اقبال رحمتہ اللہ علیہ بھی بہت با صلاحیت ثابت نہیں ہو سکے۔ ان دونوں عظیم قائدین کی تان بھی علیحدگی پسندی پر آ کے ٹوٹی۔


مذہب کی بنیاد پر قومی علیحدگی پسندی کا تاریخی واقعہ متحدہ ہند کے بجائے دنیا کے کسی چھوٹے سے علاقے میں رونما ہوتا تو اور بات تھی۔ لیکن متحدہ ہند ایک بر عظیم تھا جس کا اعتراف سرسید مرحوم نے بھی کیا تھا اور اسی اعتراف کی بنیاد پر انہوں نے متحدہ ہند میں ایک قوم کے بجائے زیادہ قوموں کے وجود پر اصرار کیا تھا۔ یوں سمجھئے کہ تقسیم سے قبل کا بر عظیم، ایک مِنی ورلڈ تھا، مِنی گلوب تھا۔ اس عالمِ صغیر (mini world) میں عالم کبیر(all the world over) کے مانند کئی نسلیں، کئی زبانیں، کئی ثقافتیں، کئی مذاہب موجود تھے۔ جس طرح عالمِ کبیر (عام پوری دنیا) میں کوئی ایک قوم، نسل مذہب زبان ثقافت وغیرہ کی بنیاد پر ایسی مہم جوئی کی جرات نہیں کرسکتی، جس کے نتیجے میں اسے یا باقی پوری دنیا کو (مثال کے طور پر) مریخ میں آباد ہونا پڑے، اسی طرح عالمِ صغیر (متحدہ ہند) میں کسی قوم کا اپنے تشخص پر اس انداز اور اس درجے کا اصرار، جس کے نتیجے میں اسے یا باقی مقامی اقوام کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑے، اس قوم میں پر امن بقائے باہمی جیسی زریں اقدار کی بے وقعتی کی، غمازی کرتا ہے۔ پاکستان کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ نے مذہب کے نام پر متحدہ ہند کی دیگر اقوام سے جس سطح کی علیحدگی پسندی کو (تشخص و شناخت کے نارمل درجے سے بہت بڑھ کر) رواج دیا، اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ’اسلام‘ کا ایسا ایڈیشن سامنے آیا جس میں کسی بھی ’دوسرے‘ کو برداشت کرنے کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ خیال رہے اگر اسلام کے بجائے کوئی اور مذہب ہوتا اور اس کے قائدین مسلم لیگی طرزِ عمل جیسا طرزِ عمل اختیار کرتے تو اس مذہب کی بنیادی ساخت بھی تشدد، عدمِ برداشت اور علیحدگی پسندی سے اسی طرح متاثر ہوتی، جس طرح اسلام کی بنیادی ساخت متاثر ہوئی۔ 


متحدہ ہند کی مسلم لیگ کا علیحدگی پسندانہ رویہ، اس لیے قابلِ گرفت ہو جاتا ہے کہ اس عالمِ صغیر میں صرف مسلم قوم کے مفادات ہی غیر محفوظ نہ تھے، بلکہ بہت سی دیگر اقوام بھی اپنے معلق مفادات کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں برسرپیکار تھیں۔ لیکن ان اقوام کی لیڈرشپ نے اپنے قومی مفادات کو اس انداز سے پیش نہیں کیا کہ عالمِ صغیر(متحدہ ہند) کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد سے شدید ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جاتی۔ اندریں صورت نہ صرف مسلم لیگی قائدین کی یہ صلاحیت مشکوک ہو جاتی ہے کہ وہ مسلم شناخت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے مفادات سے ہم آہنگ طرزِ عمل کا مظاہرہ کر سکتے، بلکہ دین اسلام کی بابت بھی قدرتی طور پر سوالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ اس میں ایسی تعلیمات موجود ہیں جو اس کے پیروکاروں کو ’دوسروں‘ کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کرنے سے روکتی ہیں۔ اس نوعیت کے سوالات کا جنم لینا اس لیے لازمی تھا، کیونکہ لیگی قیادت کے ذریعے سے مسلم قوم اپنے مذہب ہی کی بنیاد پر عالمِ صغیر (متحدہ ہند)کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد کو چیلنج کر رہی تھی۔ گردشِ ایام کے ساتھ دین اسلام کی بابت اس نوع کے سوالات بڑھتے گئے اور دیگر اقوام تحفظات کا شکار ہوتی گئیں۔


اقبالؒ کو اپنی ’خودی‘ کی علیحدگی پسندانہ ہیبت کا احساس ہو کہ نہ ہو، لیکن جناح مرحوم کو کسی نہ کسی درجے میں اس امر کا ادراک ضرور تھا کہ عالمِ صغیر (متحدہ ہند) کی وحدت و عظمت پر جس طرح مذہبیت کے تیشے سے وار کیے گئے ہیں، اس کے اثرات وار کرنے والوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ (کہ مریخ پر زندگی، زمینی زندگی کی طرح بہت قدرتی نہیں ہو سکتی)۔ اس مذہبیت کو اعتدال میں لانے کے لیے یا دوسروں لفظوں میں مریخ کی زندگی کو زمینی زندگی سے ممکن حد تک مماثل کرنے کے لیے، محمد علی جناح مرحوم نے اس سیکولر رویے کو رواج دینے کی کوشش کی، جس کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے متحدہ ہند کے اجتماعی نظم اور اجتماعی مفاد کو بری طرح روند ڈالا تھا۔ جناح مرحوم پاکستان کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر عالمِ کبیر (عام پوری دنیا)کے مانند بنانا چاہتے تھے جس میں ہر مذہب ہر نسل ہر زبان ہر ثقافت کے لوگ اپنے اپنے تشخص و شناخت کے اثبات کے ساتھ اجتماعی نظم و مفاد سے آہنگ زندگی بسر کر سکیں، لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ متحدہ ہند کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی جس مذہبیت کو جناح مرحوم نے پروان چڑھایا تھا، وہ درحقیقت مذہبیت سے زیادہ ایک انتہائی منفی رویہ تھا۔ خیال رہے کہ انسانی گروہوں میں یہ رویہ کبھی مذہب کی صورت میں کبھی نسل کی صورت میں کبھی زبان کی صورت میں اور کبھی ثقافت یا علاقائی شناخت کی صورت میں جلوہ گر ہوسکتا ہے۔ متحدہ ہند میں محمد علی جناح مرحوم اس منفی رویے کی مذہبی جہت سے ہائی جیک ہوئے، اور اسی منفی رویے کی لسانی، علاقائی اور ثقافتی جہت نے ۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ( متحدہ پاکستان کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی) وہی عمل دہرایا جو ۱۹۴۷ میں متحدہ ہند کے اجتماعی نظم و مفاد کے منافی خود جناح مرحوم سے سرزد ہوا تھا۔ 


بیسویں صدی کے دوسرے ربع کی متحدہ ہند کی سیاست پر نگاہ دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی اقوام کے درمیان رہتے ہوئے تعاونِ باہمی اختیار کرنا اور اپنے گروہی مفادات ممکن حد تک حاصل کرتے رہنا، آسان کھیل نہ تھا۔ متحدہ ہند کی سیاست، فولادی اعصاب کا تقاضا کر رہی تھی۔ انہی دنوں آل انڈیا مسلم لیگ نے انڈین نیشنل کانگرس کی سیاست سے زِچ ہو کر ردِ عمل میں تحریکِ پاکستان کی داغ بیل ڈالی۔ مسلم لیگ نے علیحدگی کے غیر سیاسی طرزِ عمل سے غالب آنے کی ٹھان لی۔ اس لیے تحریکِ پاکستان اپنی اصل میں، (غیر سیاسی اور) سمجھوتہ نہ کر سکنے والی ذہنیت کی تحریک تھی۔ اس ذہنیت نے عدم برداشت کے ایسے رویے کی آبیاری کی، جس کے نزدیک کسی بھی’دوسرے‘ کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ چونکہ یہ ایک مکمل منفی رویہ تھا جسے قبولیتِ عامہ نہ مل سکتی تھی، اس لیے اس میں ’غلبے‘ کو نمایاں کیا گیا تاکہ مسلم قوم کی معتدبہ اکثریت غلبے کی خواہش سے مجبور ہوکر اس تحریک سے منسلک ہو جائے۔ اس طرح مذہبی جواز پر مبنی دو انتہا پسندانہ رویے ’علیحدگی اور غلبہ‘ متحدہ ہند کے مسلمانوں کی رگ رگ میں سما گئے۔ یہ بہت سامنے کی بات ہے کہ پیچیدہ سیاسی عمل سے جب کچھ حاصل کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو غلبے کی نفسیات سے دمڑی ہتھیانے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔ 


مذکورہ نکات کی مجموعی معنویت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ عالمِ صغیر (متحدہ ہند) میں دین اسلام کے نام پر دیگر اقوام کے ساتھ مل جل کر نہ رہنے کے رویے نے مسلمانوں میں تشدد، علیحدگی اور غلبے کی نفسیات کو جنم دیا۔ المیہ یہ ہے کہ اس نوع کی اقدار، دین اسلام کی بھی پہچان بن گئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد کی نسل نے اسی نوعیت کے نفسیاتی ماحول میں آنکھ کھولی۔ جس نسل کے آباو اجداد اور فکری قائدین نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں، متحدہ ہند کی سیاست کی حد تک، تشدد محاذآرائی علیحدگی اور غلبے سے اجتناب کیا تھا اور عالمِ صغیر میں پرامن بقائے باہمی کے اصول کو نہ صرف نظری طور پر تسلیم کیا تھا بلکہ قومی زندگی کے عملی احوال کا حصہ بھی بنایا ہوا تھا، وہ نسل تخلیقِ پاکستان کے بعد فکری طور پر یرغمال ہو گئی۔ آج پاکستان میں جن لوگوں پر تشدد، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کا الزام لگایا جاتا ہے، ان کے فکری و نسلی رشتے درحقیقت ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے ان حریت پسندوں سے جا ملتے ہیں جنہوں نے (ہند کی داخلی سیاست میں)تشدد کے بجائے صبر اختیار کیا، علیحدگی پسندانہ رجحانات کے بجائے ہجرت کی راہ اپنائی اور غلبے کی خواہش کو حدِ اعتدال میں رکھتے ہوئے نفسیاتی مسئلہ نہ بننے دیا۔ 


بحث کے اس مقام پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا دین اسلام میں علیحدگی پسندی کی کوئی گنجائش موجود ہے؟یا علیحدگی پسندی کی تطہیر کرتے ہوئے صرف ’ہجرت‘ کی گنجائش باقی رکھی گئی ہے؟ کیا عصری تناظر میں ہجرت کا مفہوم اتنا وسیع ہو سکتا ہے کہ اس کی سیاست کاری (politicization) کے ذریعے علیحدگی پسندی کو اس میں سمو دیا جائے؟ بنظرِ غائر معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام، علیحدگی پسندانہ جذبات اور ہجرت کے جواز میں واضح فرق قائم کرتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا کسی قوم کے افراد اپنے آپ کو بہت مصائب کا شکار دیکھیں تو بجائے تشدد اور محاذ آرائی کے، انہیں ہجرت کی راہ اختیار کرنی چاہیے(ہجرتِ حبشہ اور ہجرتِ مدینہ کی مثال لے لیجیے)۔ متحدہ ہند کی مسلم قوم کے جس گروہ نے مصائب کی سنگینی بھانپتے ہوئے علیحدگی پسندی کی راہ اپنائی(خیال رہے کہ بعضوں کے نزدیک مسائل اتنے گھمبیر نہیں تھے)، اگر وہ دین اسلام کے تصورِ ہجرت کا گہرائی سے جائزہ لیتا تو آج مسلمان اور اسلام پوری دنیا میں اس طرح بدنام نہ ہوتے، علیحدگی پسند اور انتہا پسند نہ کہلاتے، بلکہ بیرونِ ہند علاقہ جات (مثلاًآسٹریلیا و کینیڈا و امریکہ) میں (ہجرتِ حبشہ و ہجرتِ مدینہ سے مماثل) اپنے مفاہمتی و تخلیقی طرزِ عمل سے نئی دنیا کی تشکیل میں بھر پور کردار ادا کرتے۔ 


ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ اس وقت دنیا میں جو تحریکیں اسلام کے نام پر جاری ہیں، وہ اپنی اصل میں قومی تحریکیں ہیں۔ جس طرح متحدہ ہند میں قوم پرستوں کے مقابلے کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلم قوم پرستی کو استعمال کیا(اس استعمال کا ثبوت پاکستان کی پوری تاریخ ہے) اور لیگ نے کامیابی بھی حاصل کر لی، اسی طرح مختلف مسلم تحریکیں اسلام کو’آلہ کار‘ کے طور پر استعمال کرر ہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم قوم پرستی، مسلمانوں کے اجتماعی ملی وجود کے ساتھ منسلک ہے جس کا اظہار ماضی میں خلافت کے ذریعے ہوتا تھا۔ اس وقت مسلم ملی وجود کے منظم اظہار کے لیے کوئی ادارہ موجود نہیں، او آئی سی ایامِ طفولیت میں ہے۔ منظم ملی وجود (جو مختلف قومیتوں کو ان کی شناخت کے اثبات کے ساتھ اپنے اندر سمو لیتا ہے)کے بعد ہی غالباً اسلام کے تصورِ جہاد کا عملی مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے جہاد کے بجائے خلافت جیسے ادارے کی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان گنت قوم پرست شناختوں کے علاوہ امت کا ملی وجود بھی دنیا کے سامنے آ سکے۔ کسی قسم کے ملی وجود کے بغیر ’جہاد‘ کرنا درحقیقت قومی مفادات کے لیے اسلام کو استعمال کرنا ہے جس سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔ 


یہاں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کو غدر قرار دینے والے اور متحدہ ہند کی سیاست میں علیحدگی پسندانہ رجحانات لانے والے شناخت بھی کر لیے جائیں تو اس سے آج کے ماحول پر کیا کسی قسم کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ یا یہ محض ذہنی عیاشی اور خلط مبحث ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ اس بحث کی عصری معنویت اس لحاظ سے قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں تشدد اور علیحدگی کی موجودہ لہروں کی جڑیں انہی تاریخی واقعات میں پیوست ہیں۔ آج کا پاکستان ۱۸۵۷ کی جنگِ آزادی کی حالت میں ہے۔ جس طرح ۱۸۵۷ میں نسلی مذہبی لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر غیر ملکیوں کو اپنے علاقے سے کھدیڑنے کے لیے جنگ لڑی گئی تھی، اسی طرح تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آج بھی غیر ملکیوں کو اپنے علاقے سے بھگانے کی اشد ضرورت ہے۔ زحمت میں رحمت کے مصداق، غیر ملکیوں کی مداخلت کی وجہ سے، کم از کم پاکستان کی حدود کے اندر اندر مختلف شناختوں کی حامل قومتیوں کو ’پر امن بقائے باہمی‘ کے اصول کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ پاکستان کے اندر کسی قومیت کو سر سید احمد خان مرحوم کے مانند بھینگی دلہن پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی جناح و اقبال کی طرح کسی کانگرسی رویے (آج کے ماحول میں فوج، بیوروکریسی، عدلیہ، اسٹیبلیشمنٹ یا کسی سیاسی و مذہبی اور علاقائی جماعت وغیرہ)سے زِچ ہو کر ردِ عمل میں (غیر سیاسی ہوتے ہوئے) ایسی علیحدگی پسندی میں پناہ ڈھونڈنی چاہیے جس کے نتیجے میں پاکستان کا اجتماعی نظم و مفاد تتر بتر ہو جائے(جیسا کہ ایک مرتبہ ۱۹۷۱ میں ہو چکا ہے )۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مثبت سمت میں گامزن ہونے کے لیے نام نہاد نظریاتی شناخت کے حامل آج کے پاکستان کی مذہبیت کو سیاسی پالیسیوں کی حد تک ایک مخصوص مفہوم میں سیکولر ازم کے سامنے جھکنا ہو گا کہ اسی سے نہ صرف فرقہ وارانہ کشیدگی اور مذہبی منافرت میں خاطر خواہ حد تک کمی آئے گی بلکہ نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات بھی حدِ اعتدال میں رہ پائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ ہمیں اسلام کی اس جہت پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی جو اپنی اپروچ میں سیکولر ازم سے زیادہ سیکولر ہے، جو مسلم (مذہبی)شناخت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دیگر شناختوں (غیر مسلم یا غیر مذہبی یعنی لسانی نسلی وغیرہ) کی اہمیت کو کھلے بندوں تسلیم کرتی ہے۔ یہ کام بہت مشکل نہیں کہ ہم اس سے قبل ۱۸۵۷ میں اسلام کے اس مفاہمتی و انقلابی پہلو کا عملی مظاہرہ کر چکے ہیں۔ 


خیال رہے کہ قومی زندگی میں اسلام کے مفاہمتی و انقلابی پہلو کے در آنے سے ’جہاد‘ پر بھی نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہو گی۔ اگر ایک طرف نظریہ جہاد کا عملی مظاہرہ کیا جائے اور دوسری طرف اسلام کے سیکولر ازم سے زیادہ سیکولر پہلو کو اپنانے کی بھی کوشش کی جائے تو یہ اجتماع ضدین ہو گا جو محال ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب ہم مسلمان ملی اور قومی زندگی کے دائروں کو کماحقہ نہیں سمجھ پاتے تو نادانستگی میں قومی مفادات کے لیے اسلام کو استعمال کرنے کی غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں بدنامی اسلام کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سوویت یونین کے خلاف کیے جانے والے ’جہاد‘ کو لے لیجیے اور ٹھنڈے دل سے ذرا غور کیجیے کہ کیا یہ صحیح معنوں میں اسلام کے تصورِ جہاد کے عین مطابق تھا؟ کیا ہمارے ملی وجود کو کوئی خطرہ لاحق تھا؟کیا ملی وجود کے ذریعے یہ جہاد کیا گیا؟ اگر یہ جہاد تھا تو اس کے دوران میں اور اس کے خاتمے کے بعد مختلف قوموں نے مسلم ہوتے ہوئے بھی اس جہاد میں قومی مفادات کو ترجیح کیوں دی؟ کیا سوویت یونین کے خلاف کی گئی اس عالمی جنگ میں جہاد کی پوری شرائط موجود تھیں؟ جس طرح مختلف عالمی طاقتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے ہمیں مالی و فوجی امداد بہم پہنچائی اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد انہی طاقتوں نے اسی نام نہاد جہاد کے استحصال کے ذریعے پاکستان اور دین اسلام کے خلاف پوری دنیا میں مہم چلائی، اور پاکستان تو پاکستان، دین اسلام تک کو دہشت گرد مذہب قرار دیا، اس سے ہمیں کم از کم اب تو یہ سبق ضرور سیکھ لینا چاہیے کہ قومی زندگی کے ہنگامی معاملات میں اگر دین اسلام کو اسی طرح استعمال کیا جاتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب غیر مسلم قومیں تو اسلام کے نام سے بدکیں گی ہی، خود ہماری نئی نسل بھی دینی حریت کے معاملے میں دیوالیہ ہو جائے گی۔

آراء و افکار

ستمبر ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۹

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد

مکاتیب
ادارہ