’’کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ (۲)

مولانا محمد بدر عالم

(افتراق و تفریق کا فکری، نفسیاتی اور سماجی تجزیہ۔)


۱۱۔ دیگر مذاہب کے اثرات

خارجی اثرات نے بھی بہتوں کو گمراہ کیا۔ اسلام جزیرہ عرب سے باہر نکلاتو بجلی کی سی رفتار سے بڑھنے لگا۔ غیر اقوام ومذاہب کے لوگ جو غلط عقائد پر اپنی عمریں گذار چکے تھے۔ ترک مذہب کرکے داخل اسلام ہوئے تولاشعوری طور پر سابقہ اثرات بھی ہمراہ لائے کئی مسائل جو ان کے دماغی سانچے میں ماقبل اثرات کی وجہ سے درست نہ بیٹھے تو انہوں نے ان کی نئی تعبیر پیش کردی۔ انہی لوگوں سے مسلمانوں کااختلاط ہواتو ان کے عقائد ورسوم کا بہت کچھ اثر ان مسلمانوں نے بھی قبول کیا جو لاعلم یاکم علم تھے۔ ایسے ہی اثرات اس وقت بھی مرتب ہوئے جب غیر اقوام کی کتابیں مسلمانوں کے مطالعے میں آئیں۔جن لوگوں کو علم میں رسوخ حاصل تھا انہوں نے صحیح کو غلط سے تمیز کرلیاجو رسوخ فی العلم سے بے بہرہ تھے غیر محسوس طور پر ان کے دماغ ان کی سمیت سے متاثر ہوتے گئے۔ یہی زہر منہ کے راستے باہر کو اْبلااور جہاں جہاں اس کے چھینٹے پڑے وہاں وہاں کی فضا مسموم ہوتی گئی۔متحدہ ہندوستان میں غالب ہونے کے باوجود مسلمانوں نے ہندوؤں کے بہت کچھ اثرات قبول کیے۔ اس عہد میں کئی فتنے اٹھے جو اسلام اور ہندومت کے ملغوبہ تھے۔ برطانوی راج کے دوران نیچریت اور دہریت کے اثرات نے مسلمانوں میں راہ پائی اورفتنہ وفرقہ کا بازار گرم کیے رکھا۔ہندوانہ عقائد ونظریات کی چھاپ توتقریباً تمام ہی معاشرے پر ہے۔ مگر انگریزی تعلیم یافتہ کے عقائد پر مستشرقوں کا بھی بہت بڑا اثر ہے۔ ان کاجائزہ لے کر اس حقیقت کا بخوبی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ 

۱۲۔ سیاسی اختلاف 

سیاسی وانتظامی امور میں اختلاف بھی فرقہ بندی کا سبب بنا۔ ابتداء میں وجہ اختلاف سیاست تھی۔زور پیدا کرنے کیلئے ان پر مذہبی رنگ چڑھایاگیااورآخر کار یہ اختلاف فرقہ بندی میں ڈھل گیا۔

۱۳۔ دقت پسندی

بعض طبائع فطرتاً دقت پسند ہوتی ہیں۔ بال کی کھال اتارنے والی۔دقت پسندی حدِ اعتدال میں رہے تو خوبی ہے۔ اس سے مسئلے کا ہر پہلو نکھر جاتاہے۔ معمولی جزئیات تک بھی روشن ہوجاتی ہیں۔ فقہی قانون سارے کا سارا اور فقہ حنفی خاص طور پر دقت نظر کی بہترین مثال ہے۔ جب ایک قدم آگے بڑھا کر یہ حد ودِ عقائد میں پہنچتی ہے تو سارا کھیل بگڑ جاتاہے۔ عقائد پر اس طرح ایمان لانا ہی سلامتی ہے جس طرح وہ قرآن وسنت میں وارد ہوئے۔ یہی ایمان بالغیب کا لطف ہے۔دقت پسندطبیعت جزئیات سمیت انہیں حلقۂ عقل میں لانے کی کوشش کرتی ہے جو کہ ممکن نہیں اس لیے جو دام عقل میں آئے وہ عقیدہ بن جاتاہے جو باہر رہے اسے رد کردیاجاتاہے۔ پھر چونکہ فہم اور قوتِ ادراک ہر ایک کی یکساں نہیں اس لیے نتائج میں لازماً اختلاف پیداہوتاہے۔

۱۴۔ ذوقِ اختلاف

ذوق میں افراد باہم دگر مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی ایک کا ذوق ایک چیز کو پسند کرتاہے اور ایک کی طبیعت دوسری چیز کو۔ان کے معتقدین تک یہ ذوق اس طرح پہنچتاہے کہ وہ اس کو دین کی ایسی اصل قرار دے دیتے ہیں جس سے انحراف گناہ ہو۔ یوں نوبت اختلاف سے تفریق تک پہنچتی ہے۔

۱۵۔ غلو

اس کا مطلب ہے احکام کی درجہ بندی میں طبعی شدت کی وجہ سے ردو بدل کرنا۔ مندوب کو فرض اور مکروہ کو حرام بنادینا۔ غلو کے زیادہ تر مظاہر زہد وتقشف کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ بر بنائے احتیاط ،سداً للذرائع یا کسی دوسری وجہ سے لوگ مستحب کے ساتھ واجب کا مکروہ کے ساتھ حرام کا معاملہ کرتے ہیں۔ مگراس کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ بعد کے لوگ سب سے قطع نظر کرتے ہوئے اس عادت کو عقیدہ بنالیتے ہیں۔غلو جس طرح فرقہ بندی کا سبب ہے، اسی طرح فرقہ واریت کا بھی اہم عنصر ہے۔ غلو کو شدت پسندی سے تعبیر کیاجاسکتاہے اگرچہ دونوں میں قدرے فرق ہے۔ غلو پسند آدمی وہ ہوتاہے جو مستحب کے ساتھ فرض اور مکروہ کے ساتھ حرام کااعتقاد رکھے،غیرلازم کو لازم بنادے اورشدت پسند جو ہرمعاملہ انتہائی نظر سے دیکھے۔ غالی آدمی جس سے اختلاف کرے وہ اختلاف بڑھ تو سکتاہے کم ہونا بہت مشکل ہے۔ فرقہ واریت مٹانے کے لیے نرمی اور اعتدال بہت ضروری ہے جن کا غالی آدمی میں قحط اور فقدان ہے۔غلو کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جاہل لوگ پیشوا بن جاتے ہیں جو کہ احکام کے شرعی مقام سے ناآشنا ہوتے ہیں اوربمطابق حدیث خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اوردوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ان غالی اورمتشددلوگوں کا عمل دیکھ کرعوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمل اسی طرح ہی شارع کی مرضی اورحکم شرعی ہے۔ 

غلو اجتہاد ی وانتظامی امور میں اختلاف آراء کوتفریق تک پہنچادیتاہے۔ یہی تفریق پھراس وقت نفرت وعداوت میں بدل جاتی ہے جب کوئی فریق اپنی رائے اورسوچ کوحرف آخر اوردوسرے فریق کی رائے کو بہرحال غلط سمجھتے ہوئے اس پرجدال ومخاصمت کا راستہ اختیار کرتاا ور دوسرے فریق کے خلاف پیالی میں طوفان کھڑاکردیتاہیاس کی مثال میں سپاہ صحابہ اورجے یوآئی کا اختلاف پیش کیاجاسکتاہے۔

۱۶۔ شدت پسندی

شدت پسندی فرقہ واریت کا جزو اعظم اور رکنِ رکین ہے۔ شدت پسندی کیاہے؟ یہی کہ جو مقام نرمی کا مقنضی ہے وہاں سختی کی جائے۔جہاں جتنے سخت ردِ عمل کی ضرورت ہے اس سے بڑھ کر سختی کی جائے۔ ہر معاملہ انتہائی نظر سے دیکھاجائے۔ شدت قول وعمل سے جھلکتی ہے اورقلب ونظرسے ٹپکتی ہے۔ زبان سے سخت الفاظ استعمال کرنااور حکم عائد کرنے میں سختی کرناشدت پسندی کی وجہ سے ہوتاہے۔نماز روزہ حج زکوآ کی طرح کفر ،فسق ،الحاد زندقہ ،ارتداداوربدعت بھی اسلام کے احکام ہیں جن کے مخصوص ومتعین معنی ہیں۔ان کے استعما ل کے مخصوص مواقع ہیں جنہیں استعمال کرنے میں حدود کا خیال کرنا بہت ضروری ہے۔ اکثرلوگ ان حدود کا خیال نہیں کرتے۔ان میں تساہل برتنا بھی اگرچہ درست نہیں مگر تشدد اختیار کرنا اس سے بڑافتنہ ہے۔مولانا گنگوہی ؒ نے کسی موقع پرفرمایا تھا اوربالکل بجافرمایاتھاکہ تشدد سے اصلاح نہیں ہوتی۔بدعت کو بدعت نہ کہنا اگرغلطی ہے توغیربدعت کو بدعت بنادینا بھی بہت غلط ہے۔عام طور پر ہوتایہ ہے کہ فاسق کے ساتھ کافر کا اورمبتدع کے ساتھ مرتدکا سلوک کیا جاتاہے مثلاً جن باتوں سے کفر لازم نہیں آتا ان پر بھی پکا ٹھکا کافر بنادینا یا مثلاً جو لوگ امام کے پیچھے قراء ت فاتحہ کے قائل نہیں یارفع یدین نہیں کرتے، ان کی نمازیں فاسد ہونے کاحکم لگادینا یا مثلاً جو گیارہوں بارھویں کرتے اور محفل میلاد مناتے ہیں، انہیں مشرک کہنااور جو اس کے قائل نہیں، انہیں گستاخ رسول اور منکراولیاء کہنا شدت پسندی کی مثالیں ہیں۔اعتدال بہترین راستہ ہے مگرافسوس کہ معدودے چندلوگوں کے سوا کوئی بھی اس پر کاربندنہیں رہتا۔بالخصوص وہ دوگروہ جن کی باہمی چپقلش جاری ہو، وہ فتویٰ بازی میں حد سے گزرجاتے ہیں۔ مثلاً مسئلہ سماع موتی اورتوسل بالذوات الصالحہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی ہے اس کے کیا ہی کہنے۔یہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ غایت شدت پر مبنی درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کریں۔

’’ایسے ہی وہابی، قادیانی، دیوبندی، نیچری، چکڑالوی جملہ مرتدین ہیں کہ ان کے مرد یاعورت کاتمام جہان میں جس سے نکاح ہوگا مسلم ہو یا کافر اصلی یا مرتد(اور)انسان ہو یا حیوان محض باطل اور زنا خالص ہوگااور اولاد ولدالزنا۔‘‘ (ملفوظات ص۵۰۱،ج۲)

سختی و شدت کاوفور اور کلام کا لہجہ دیکھئے۔ یوں کہنے سے بھی مطلب حاصل ہوجاتا کہ نیچری چکڑالوی وغیرہ مرتد ہیں، ان کا کسی کے ساتھ اور کسی کا ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ لیکن افسوس کہ شدت وغضب میں مفتی صاحب حد سے گذر کر یوں فرمانے لگے کہ جانوروں کے ساتھ بھی ان کا نکاح جائز نہیں۔ ایسی شدت سے اللہ بچائے۔ غور کرنے کی بات ہے، کیا انسان کاجانور سے نکاح اسلام یا کسی بھی آسمانی شریعت میں جائز ہے ؟بہرحال ہمیں شدت پسندی کاایک نمونہ دکھانا مقصود تھا۔ ایسے ہی رخصت کے پہلو کو ساقط کردینا مخالف کی وضاحت کو یااس کی مراد اور تاویلِ کو اگرچہ صحیح بھی ہو قبول نہ کرنا، حتی الوسع مسلمانوں کوکافر بنانے کی کوشش کرنا شدت پسند طبیعتوں کو بہت مرغوب ہے۔ شدت کااظہار زبان اور تحریر کے علاوہ عمل سے بھی ہوتاہے۔ شدت پسند لوگ اختلافی مسائل حل کرنے کے لیے بھی مخالف سے مل بیٹھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ دلائل کے بجائے تحکم اور ماردھاڑ کارویہ اختیار کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کو ابھارتے ہیں کہ وہ مخالفین سے مقاطعہ بلکہ ان کو قتل کردیں۔ انہیں اگر طاقت مل جائے تو گناہ گار اور بے گناہ پر یکساں استعمال کرتے ہیں۔ اختلاف رائے کوبرداشت نہیں کرتے۔ شدت پسندی مزاج، غیض وغضب یا کسی سازش کا نتیجہ ہوسکتی ہے وجہ جو بھی ہو فرقہ واریت پھیلانے میں اس کا اہم ترین کردار ہے۔

۱۷۔ تعصب

تعصب ایک بری عادت ہیجو افتراق وتفریق کا سبب بنتی ہے۔اس کا مطلب ہے غلط ہونے کے باوجود اپنی بات کی پچ کرنایا ناحق اپنی قوم ومسلک کا دفاع کرنا جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ مخالف کے حق پر ہونے کے باوجود اس کی تردید کی جاتی ہے اور قبول حق سے اباکیاجاتاہے۔ یہ جاہلی عصبیت آج بھی فرقوں میں زور وشور سے پائی جاتی ہے۔ دوسروں کو اگرچہ وہ صحیح ہوں گھٹانے کی اور خود کو اگرچہ کسی مسئلے میں غلط ہوں بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور خدانخواستہ مخالف سے کوئی غلطی ہوجائے تو پھر تو بہ ہی بھلی ،آسمان سر پر اٹھالیاجاتاہے یوں باور کرایاجاتاہے گویا اس کے سوا کبھی کسی نے غلطی نہیں کی اور یہ غلطی تو اتنی بڑی ہے کہ اس کی تلافی کی کوئی صورت ہی نہیں۔غیروں کے یہ خوردہ گراپنی غلطیوں کو مٹانے چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس پر بات بڑھتی ہے اور فرقہ واریت جنم لینا شروع کردیتی ہے۔

۱۸۔ حسد

حسد بھی فرقہ واریت کا مخفی سبب بن جاتاہے۔ خصوصاً اس شخص کے لیے جو کسی مسلک کا پیشوا ومقتدا ہوکہ وہ اندرونی زہر فرقہ واریت کے راستے باہر نکالتاہے۔

۱۹۔ ذرائع ابلاغ تک رسائی

یہ ذرائع فرقہ واریت پیدا نہیں کرتے ہاں اس تندورکو گرم کرنے میں استعمال ضرور ہوتے ہیں۔ کب؟جب متشدد، متعصب ،غالی، بدخلق، حاسد، بدفہم اور سازشی عناصر ان تک رسائی حاصل کرلیں۔ اصل کتاب میں انسانی ذہن پر میڈیا کی کارفرمائی اور تسخیری قوت کی کرشمہ سازیاں قدرے بیان ہوچکی ہیں۔ یہ ایک طاقت ہے جو مذکورہ کردار کے حامل لوگوں کے ہاتھ میں ہوتو صاعقہ آسمانی سے زیادہ خطرناک اور ایٹم بم سے زیادہ دھماکہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے مذموم مقاصد کا حصول ممکن بنایا جاتاہے۔یادرہے کہ ذرائع رسل ورسائل اور محراب ومنبر بھی میڈیا کا حصہ ہیں۔

۲۰۔ حساسیت

فرقہ واریت میں اس کا بھی ایک کردار ہے۔ ہوتایہ ہے کہ جب دوآدمی باہم اختلاف کرتے ہیں توقطع نظر اس سے کہ کون صحیح اور کون غلط ہے ،دونوں کی الگ شکل اور ایک نیا تشخص پیداہوجاتاہے۔ دونوں میں سے ہر ایک اضطراری طور پر چاہتاہے کہ کہیں کسی موقع پر اس کا یہ تشخص مجروح نہ ہونے پائے کیونکہ یہ تشخص مجروح ہونے کی صورت میں اس کے اندر یہ احساس پیدا ہوتاہے کہ میرے مخالف کی پوزیشن اپ ہوگئی ہے اوریہ ’’غلط‘‘ آدمی یاگروہ بالادست ہوکر سامنے آرہاہے۔میںیا میراگروہ دب گیاہے، ہوسکتاہے لوگ اس طرف نہ جھک پڑیں۔خاص طور پر اس وقت جب دونوں میں سے کسی ایک کی طرف سے یہ اختلاف عوام تک پہنچ جائے تواس وقت یہ احساس شدید تر ہو جاتا ہے۔ ہر فریق احقاق اور لوگوں کو گمراہی سے بچانے کے گرداب میں غوطے کھانے لگتاہے۔ چنانچہ اس وقت کبھی اختیاری اور کبھی اضطراری طور پر اس تشخص کو برقرار اور نمایاں کرنے کی کوشش کرتاہے۔ مثلاً جا و بیجا اس کو بیان کرنا، اس پر کتب ورسائل تالیف کرناوکروانا اس پر شدت اختیار کرنا۔ مخالف کی تقریر، جلسہ واجتماع کو برداشت نہ کرنا، جواب اور جواب الجواب ضروری سمجھنا، پمفلٹ اور ہینڈبل شائع کرنا، مخالف اوراس کے حلقے سے ہر تعلق منقطع کرلینا، اس کی ہر بات کو اسی اختلاف کی طرف مشیر سمجھنا۔ اس حساسیت میں یہاں تک اضافہ ہوتاہے کہ پھر اس اختلاف کے حوالے سے کوئی چیز برداشت نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ وہ اسی تشخص سے معروف ہوجاتاہے۔ یہی صورت تفریق میں بھی پیش آتی ہے اوراس وقت بھی جب کوئی شخص کسی ایسے مسئلے کے خلاف آواز بلند کرتاہے جو مروج ہو مگر ثابت نہ ہو۔ اس کے ذہن میں ہروقت یہی بات گردش کرتی رہتی ہے کہ ہر شخص کے دل میں اتنی حقیقت کیسے اتاردی جائے کہ وہ اس سے روگردانی نہ کرسکے۔حساسیت کا مطلب کسی چیز کی قدر جواز کوبھی ممنوع قراردینا بل کہ اس کے اسباب بعیدہ کو بھی حکم میں اس کے ساتھ نتھی کرنا ہے۔

حساسیت زدہ افراد اس ضرب المثل پر عمل کرتے ہیں :

نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

یا اس شعر پر عمل پیرا ہوتے ہیں 

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

یاد رہے کہ بطورسد ذرائع کے کسی چیز پر پابندی عائد کرنا امردیگر اور خارج از بحث ہے۔سد ذرائع کا مطلب کسی امر ممنوع تک پہنچنے کے جو ذرائع ہیں انہیں مسدود کردینا۔مثلااصل حرمت شراب استعمال کرنے کی ہے۔یہ ممنوع ہے جس تک پہنچانے کے دیگر کئی ذرائع کو بھی حکم میں اسی کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے حرام قرار دے دیاگیا۔مثلاً شراب بنانا بھی حرام ،شراب بیچنا بھی حرام ،شراب لاد کر لیجانا بھی حرام ،یہ تما م کام کرنے والے بھی گنہ گار اورمرتکب حرام۔مگر ایسا نہیں کہ اس سے بچنے کے لیے انگور ،کھجور ،گندم یا جو کی کاشت کو ناجائز کہا گیا ہو،یا سرکہ اور نبیذ بنانا بھی حرام قرار دیاگیاہو۔سلسلہ شراب میں جو امور ممنوع ہیں ان تمام میں شراب بالفعل موجو د ہے۔

۲۱۔ مضبوط مرکز یا خلافت کا نہ ہونا

یہ تفریق کی اہم وجہ ہے جب خلافت باقی تھی اورمضبوط مرکز مسلمانوں کو حاصل تھا اس وقت یہ تفریق نہیں تھی جو آج کل دکھائی دیتی ہے اورجو تھی وہ بھی اندر ہی اندر تھی اس پر مرکزیت کا پردہ پڑاہواتھا۔کیوں کہ خلافت کا حکم اوررعب ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتاتھا۔دین کی اشاعت اورحفاظت کے تمام انتظامات خلافت کی ذمہ داری تھی۔خلفاء کے حکم پر قتال ہوتا،تبلیغ ہوتی ،تعلیم وتدریس ہوتی اورانہی کی طرف سے فتوی دینے نہ دینے کااختیارملتا۔قانون اسلامی تھا،فیصلے اس کے مطابق ہوتے۔جو گروہ تفریق کے ذریعے ملت کومتفرق کرنے کی کوشش کرتااس کی مناسب سرکوبی کی جاتی۔ علماء ،خانقاہوں اورمدارس کے انتظام کی اکثرخلافت ہی کفیل ہوتی۔دشمنوں پر حملہ کرکے زمین فتح کی جاتی سیاسی طورپر وہاں تسلط حاصل کیا جاتااس کے بعد علماء وصوفیاء آگے آتے جو وہاں کے لوگوں میں اسلام کا بیج بوتے اگرکوئی عالم یا صوفی کسی ایسے علاقے میں چلاجاتاجہاں اسلامی حکومت نہ ہوتی تب بھی زیادہ خطرہ اس لیے محسوس نہ ہوتاکہ پیچھے ایک مضبوط حکومت کی پشت پناہی ہوتی۔یہ بات صرف خلافت سے مختص نہ تھی بلکہ جو سلاطین اسلام خلافت کے ماتحت ہوتے وہ بھی اس سب کا خیال کرتے۔ان کے اٹھتے ہی مسلمان تسبیح کے دانوں کی طرح بکھری اورکئی جماعتوں میں منقسم ہوگئے۔

کچھ وہ تھے جنہوں نے اس سب کو گویاتقدیر کا لکھا سمجھ کرقبول کرلیااورہاتھ پرہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے، کچھ وہ تھے جنہوں نے ان حالات کا مطالعہ کیا اورزوال وادبار سے نکلنے کی سوچی ہر ایک کا مطالعہ اورفہم اسے ایک سبب کی طرف لے گیا۔ایسے لوگ بھی تھے اوراب تک بھی ہیں جنہوں نے سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے کوئی کام نہیں کیا بلکہ حالات کے دھارے پر بہتے رہے اورحالات کاجو تقاضا سامنے دکھائی دیا، اس کے مطابق کام کرگزرے۔مثلاً بعض لوگوں نے اشاعت اسلام سے حفاظت اسلام کو مقدم سمجھا اورکوشش کی کہ مسلمانوں کی تہذیب وتمدن محفوظ رہے۔ اس کی خاطر انہوں نے دینی تعلیم وتعلم کو اہمیت دی ،کچھ نے عصری تعلیم اورمغربی تمدن کو ضروری قراردیا اوراس کے حصول کی کوششوں میں لگ گئے۔ یہ دونوں الگ الگ گروپ بن گئے۔کسی نے تزکیہ نفس کی کمی کو سبب جانا اوراس میں لگ گئے اور یوں خانقاہی لوگوں اورگدی نشینوں کا ایک الگ گروہ وجود میںآگیا۔بعض نے معاشرے پر نظر دوڑائی اورمعاشرتی دینی تنز ل کودیکھتے ہوئے اصلاحی جماعتوں کی نیواٹھائی۔یہ اصلاحی کوششیں کرنے والے ایک علیحدہ جماعت میں بٹ گئے۔ ان جماعتوں میں سے بعض نے اصلاح عقائدکواہمیت دی بعض نے اصلاح اعمال کو اوران میں سے ہرایک الگ الگ جاعتوں میں بٹتاچلاگیا۔پھر یہ مصلحین بھی دوطرح کے تھے، متشدداورمتساہل۔ اس لحاظ سے بھی گروپ بندی ہوئی۔فرقہ بندی کے جواسباب میں پہلے بیان کرچکا ہوں خلافت کی کمزوری اورخاتمے سے وہ نمایاں ہوگئے۔برساتی مینڈکوں کی طرح نت نئے نظریات جنم لینے لگے۔بعض نے ان کا ازالہ مقدم سمجھا اوروہ ان کے ابطا ل میں لگ کرایک جماعت بن گئے۔بعض نے سیاسی زیردستی کومسائل کی جڑ سمجھا اوروہ سیاسی بالادستی حاصل کرنے کے لیے متوجہ ہوئے۔یہ بھی تین طرح کے تھے۔ ایک، فاتح قوم کی عادات وتہذیب اپنانے والے جن کا اوپر ذکر ہوچکاہے۔ دوم، سیاسی اورقانونی جدجہد کرنے والے۔ سوم، جہاد وقتال کو ذریعہ بنانے والے۔ہرایک مستقل گروہ بن کر سامنے آیا۔

ہرگروہ نے اپنی پوری طاقت اس کام میں لگادی جو وہ کررہاتھا۔کہیں کہیں انہوں نے تھوڑابہت ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا یا اپنے شعبے کے ساتھ دوسرے شعبے کا کام بھی کیا مگر وہ وقتی اورثانوی تھا۔چوں کہ تمام شعبے ہی دین کے تھے اس لیے ہرشعبے سے متعلق تاکیدات وفضائل بھی قرآن وسنت میں موجود تھے۔اسلاف میں ان کے مطابق عمل کرنے والے بزرگوں کی زندگیاں بھی سامنے تھیں اورلوگوں کو اس کی ترغیب دینے کے لیے ان کی اشاعت بھی ضروری تھی۔اس لیے نتیجہ یہ نکلاکہ ہر ایک اپنے شعبے ہی کو مداردین جاننے لگا۔مگریہ رفتہ رفتہ ہوا۔ابتدامیں چوں کہ مخصوص جماعتی سانچہ مضبوط نہیں تھااسلئے دوسرے شعبوں کی تحقیرومذمت بھی نہیں تھی۔آہستہ آہستہ کام آگے بڑھا۔ ایک ہی رخ پر مسلسل کوشش کرنے سے دماغ پر دین کا ایک خاص سانچہ مسلط ہوگیاجس سے اپنے شعبے کے تفوق اوردوسرے شعبے کی حقارت نے جنم لیا۔اسی طرح جب انہوں نے اپنے کام کے فوائدکو دیکھا تو ان کی نظر انہی پرگڑگئی اوران جزوی فوائد ہی کو وہ کل دین کا فائدہ سمجھنے لگ گئے۔اوراس کے بالمقابل جو نقصان تھا وہ انہیں نظر نہ آیا یا قابل التفات نہ ٹہرا۔ پھرچوں کہ ہرایک کی کوشش یہ تھی کہ اسے زیادہ سے زیادہ کام کرنے والے ملیں مگر ہر شخص کی ذہنی اپچ ایک جیسی نہیں بل کہ جداجداہوتی ہے، اس لیے مثلاً دس جماعتیں اگر کام کررہی ہیں ایک یا دوتین افراد اپنی اپچ کے اعتبار سے ایک کی طرف آئیں گے اور 7،8،یا 9افراد دوسری جماعتوں کی طرف جائیں گے۔یہ ایک نقصان تھا اوراس ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے بھی ضروری تھاکہ دوسرے شعبے کی حقارت اوراپنے تفوق کا مسئلہ اٹھایاجائے۔

دین کے مخصوص سانچے نے جماعتوں کی دوسری نسل پر زیادہ اورتیسری نسل پر بہت زیادہ غلبہ پالیا۔ایک انتہاپر جانے کا جو عمل پہلی نسل سے شروع ہوا تھا وہ تیسری پر جاکرمکمل ہوگیااورجماعتیں بالکل ایک دوسرے سے دور ہو گئیں۔ مثلاً دیکھیے جمعیت علماء ہند کی پہلی نسل حضرت شیخ الہند ،حکیم اجمل اورڈاکٹرانصاری اوردوسری نسل حضرت مدنی، حضرت مفتی کفایت اللہ، حضرت شبیراحمد عثمانی اورمولاناظفراحمد صاحب وغیر ہ اورتیسری نسل مولانا مفتی محمود ،مولانا غلام غوث ہزاروی اورمولاناعبدالحق اورمولانااحتشام الحق تھانوی وغیرہ۔تبلیغی جماعت کی پہلے نسل حضرت مولانا الیاس کاندھلوی کا اپنا زمانہ دوسری نسل حضرت جی کا دور اوراس کے بعدسے تیسری نسل مولاناانعام الحسن، مولانا محمد عمر پالن پوری اور موجودہ تبلیغی علماء۔ سپاہ صحابہ کی پہلی نسل مولانا حق نواز جھنگوی، مولاناایثارالقاسمی، دوسری نسل مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانااعظم طارق اورتیسری نسل اب موجودہ قیادت۔اگر آ پ غوروفکر سے کام لیں تو جماعتوں کی مخصوص نفسیات اورسانچے پر کام ایک مستقل موضوع ہوسکتا ہے۔ 

افتراق وتفریق کے یہ اسباب تھے جو میرے ناقص مطالعے میں آئے اورمیں نے انہیں صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیا۔ یادرہے کہ تفرقہ ہمیشہ عداوت کے ساتھ ہوتاہے اور اختلاف دیانت کے ساتھ معرض وجود میں آتاہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف رونما ہوتارہتا تھامگر تفرقہ اورتفریق نہیں پیداہوتی تھی۔ خلاف ہوتاتھا، مخالفت نہیں ہوتی تھی۔ افتراق وتفریق کے کئی دیگرعلمی اسباب بھی ہوتے ہیں جن سے میں نے تعرض نہیں کیا۔مثلاً اختلاف تاویل وتفسیر یا ضعیف روایات، شاذو مرجوح اقوال کو مداربنانا۔ جزئی کو کلی اوراصول فکر بنالینا ،منشائے کلام کونہ سمجھنااور ناسخ ومنسو خ کی معرفت نہ رکھنا وغیرہ۔

افتراق وتفریق کے نتائج:افتراق وتفریق دراصل اپنے بھیانک نتائج کی وجہ سے ہی زیادہ خطرناک ہیں۔ غورکرنے سے ان کے تین بڑے خطر ناک نتائج سامنے آتے ہیں :

۱۔  دوسروں کی تحقیر و مذمت

افتراق وتفریق سے صرف دوسری جماعتوں اورگروہوں کی حقارت اورمذمت ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ کبھی بات اس سے آگے بڑھ کر دین کے دوسرے شعبوں تک پہنچ جاتی ہے اورجو شخص جس شعبے میں کام کر رہا ہے، وہ اپنے جماعتی تفوق کی نفسیات میں باقی شعبوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے اورظاہر ہے کہ یہ کتنی خطرناک سوچ ہے۔ دوسری جماعت یا گروہ کی حقارت ومذمت کرنا بدخلقی کے زمرہ میں آتاہے۔ فرقہ بندی میں تو چلو کسی درجے میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے کہ جب ایک فرقہ کسی کے نزدیک دین کا مخالف ہے تو اسے فوقیت کیسے دی جائے اوراس کی تعریف کیسے کی جائے مگر تفریق میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ فرقہ بندی ،فرقہ واریت اورتفریق کے تمام اسباب کو اگر سمیٹاجائے تو انہیں دو لفظوں میں بیان کیا جاسکتاہے: اخلاقی کمزوری اور سازشیں۔ تہذیب وشائستگی سے عاری افراد فرقہ واریت پھیلانے اور تفریق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گوکہ اس اخلاقی نقص کا شکار عوام اور علماء دونوں ہی ہوتے ہیں مگر عوام کے ذہنوں میں یہ ناشائستگی اور بدتہذیبی ان لوگوں کی طرف سے اترتی ہے ،جو پیشوائی کا شرف رکھتے اور محراب ومنبر کی زینت ہوتے ہیں۔ ہرفرقے اورگروہ میں ایسے علما وزعما موجود ہوتے ہیں جو احقاقِ حق کے نام پر مسلمہ تہذیب وشائستگی کا جنازہ نکال دیتے ہیں، فرقہ واریت کی آگ بھڑکاتے ہیں اورقوم کو تفریق در تفریق کے پاٹوں میں پھنسا دیتے ہیں۔

افسوس کہ جن حضرات کو علم کی شرافت اور بزرگی حاصل ہے وہ اپنے عمل سے اس شرافت کو بٹہ لگاتے ہیں۔ ٹھیک ہے کوئی فرقہ کسی کی نظر میں تارک قرآن وسنت ہوتوہومگر خود کو تو وہ عامل بالکتاب والسنۃ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق صادق ہی سمجھتا ہے اور تعجب ہے کہ خود ہی اس بھرم کو توڑ دیتاہے۔ قرآن وسنت کا علم رکھنے والے انہی کے نام پر کیسے ان کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ قرآن کہتاہے:

لایجرمنکم شنآن قوم علی ان لاتعدلوا اعدلوا
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل نہ کرو(خبردار) عدل سے کام لینا۔‘‘

اور فرمایا:

لاتنابزوا بالالقاب بئس لاسم الفسوق بعد الایمان۔
’’ایک دوسرے کو برے نا موں سے نہ پکارو،ایمان کے بعد فسق کا نام ہی براہے۔‘‘

یہاں تک ارشاد ہوتاہے:

لاتسبواالذین یدعون من دون اللہ فیسبو اللہ عدواً بغیر علم
’’(کفار ومشرک) اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں۔انہیں گالی نہ دو(کیونکہ) پھر دشمنی کرتے ہوئے لاعلمی سے وہ (حقیقی معبود)اللہ کو گالی دیں گے۔‘‘

اورفرمایا:

ادع الی سبیل ربک بالحکم والموغط الحسنہ وجادلم بالتی ھی احسن 
’’اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلااور(اگر ان سے بحث ومناظرہ کی نوبت آجائے تو) اچھے طریقے سے ان سے بحث کر۔‘‘

اور کہتا ہے :

لاتستوی الحسنہ ولا السیءۃ ادفع بالتی ھی احسن
’’نیکی اوربرائی برابر نہیں برائی کو اچھے طریقے سے دورکرو۔‘‘
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ
’’یقیناًتمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔‘‘

رسول خدا نے پتھروں کے جواب میں کیا طرزِ اختیار کیا۔آپ کو برے ناموں سے پکارا گیاآپ نے جواب میں کیسا ردِ عمل دیا؟تعجب کی بات ہے کچھ حضرات دوسروں کے بزرگوں کو یہ کہہ کر برابھلا کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو پہلے انہوں نے برا کہا ہم ردِ عمل میں ایسا کررہے ہیں۔ گویا مخالف اگر بھونکا ہے تو جواب میں ہم بھی بھونکیں گے۔ پھر دونوں میں فرق کیارہا ؟ادب مانع نہ ہوتا تو میں کھل کر اس پر کلام کرتا۔ فرقہ واریت کا نتیجہ کیاہوتاہے؟مولانا طارق جمیل صاحب بیان فرمارہے تھے کہ میں ایک سلسلے میں کسی کے گھر گیا۔ وہاں دیگر لوگ بھی موجود تھے۔ ایک بوڑھے بزرگ سے مصافحہ کرنا چاہا تو اس نے ہاتھ پیچھے کرلیے کہ تم وہابی ہو۔ فرقہ واریت کا اثر یہ ہے کہ تبلیغی جماعت بریلویوں کی مسجد میں چلی جائے تو وہ انہیں نکالتے ہی نہیں، مسجد بھی دھوتے ہیں۔

فرقہ واریت اورتفریق کے نتیجے میں مطلع ابرآلود اور فضا مکدرہوجاتی ہے۔ فرقوں اورجماعتوں میں باہم سر پھٹول رہتی ہے۔ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھارتقریریں ہوتی ہیں۔ بیانات داغے جاتے ہیں ،رسالے لکھے جاتے ہیں، کتابیں تالیف ہوتی ہیں۔ اس کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصور کیاجاتاہے۔ یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ اگر کوئی مقرر مخالف فرقے کے لیے نرمی سے کام لے یا تہذیب کے دائرے میں رہ کر تقریر کرے تو کہاجاتاہے کہ اس نے اچھی تقریر نہیں کی، دوبارہ اسے بلانے سے توبہ کرلی جاتی ہے۔ قدروقیمت اسی خطیب کی ہوتی ہے جو مخالف کو خوب للکارے، اس کا کچا چٹھا کھولے اور بہت سی ناگفتنی کام میں لائے۔ معلوم نہیں یہ کون سا اسلام ہے جس کی بنیاد مسلمانوں کو مخالف سمجھنے اوران کی تحقیر ومذمت کرنے پر ہے۔ فرقہ پرست لوگ دلوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کااور کافروں کو مسلمان کرنے کی بجائے مسلمانوں کو کافر بنانے کاکام کرتے ہیں۔ میں نے چند ایسے حالات میں اپنے بعض شدت پسند حضرات سے کہا کہ خیر سے آپ نے احقاقِ حق کر لیا مخالف کو مع شئی زائد جواب دے دیا۔ وہ وہاں، آپ یہاں خوش مگرآپ کی اس روش سے ضد وعناد اور نفرت توپید اہوتی ہے اصلاح نہیں ہوتی۔ اگر وہ غلط ہیں تو ان کی اصلاح آپ کی ذمہ داری ہے اس کیلئے آپ نے کیا سوچا؟مجھے کوئی خوش کن جواب نہیں ملا۔

اس شدت پسندی کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگ ان سے کٹنے لگتے ہیں۔ وہی چند لوگ ان کے ساتھ رہ جاتے ہیں جو پوری طرح ان کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں۔ ان کا مقصد بھی یہ نہیں ہوتا کہ دوسروں کی اصلاح ہو۔ بس اتنا کافی ہوتا ہے کہ ’’اپنوں‘‘میں سے کوئی کٹ کر ادھر نہ چلاجائے ،اس لیے خوب خوب دوسرے کی مذمت کرتے ہیں اوراتنی زیادہ گویا کہ اس مخالف سے بڑادشمن اسلام کوئی ہے ہی نہیں ۔ملک کی عمومی دینی فضا دیکھیں بے دینی کی لہر بڑھتی جارہی ہے۔ گناہوں کا سیلاب امڈا چلا آرہاہے۔ کل تک جو برائیاں بڑے شہروں کاخاصہ سمجھی جاتی تھیں۔ آج چھوٹے چھوٹے دیہات تک پہنچ چکی ہیں۔ ہر آنے والا دن اس میں اضافہ کررہاہے۔ ایک آدمی سنورتا ہے تو دس بگڑتے ہیں اور یہ اس ملک میں ہورہاہے جہاں مدارس کاجال بچھا ہواہے۔ علماء کی کثرت ہے۔ لاکھوں طلباء دینی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ ہر محلے میں مسجد موجود ہے۔ اس سب کے باوجود ایساہورہاہے آخر کیوں؟اگر گذشتہ معروضات آپ کے ذہن میں ہیں تو جواب کچھ مشکل نہیں۔ میں سمجھتاہوں گنتی کے چند اہل حق علماء کی مساعی نہ ہوتیں تو یہ دینی فضا بھی نظر نہ آتی۔ افتراق وتفریق کے زہرسے مسموم ایسے زعماء کے جلسوں کاآپ جائز لیں تو معلوم ہوگا کہ 98 فیصد وہی لوگ ہیں جو مسلکاً ،ذہناً اور مزاجاً ان سے ہم آہنگی رکھتے ہیں۔2فیصد وہ ہیں جو ہم مسلک ہیں ہم آہنگ نہیں یا غیر جانبدار ہیں۔ مخالف تو شاید ہزار میں سے ایک ہو۔98فیصد میں سے بھی 85,80فیصد وہ جومدارس سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی طلباء ومدرسین۔ اس پر بھی طرہّ یہ کہ ہم سے بڑا خدمت گارِ اسلام شاید کوئی نہیں۔

فرقہ واریت اورتفریق ہر لحاظ سے نقصان دہ ہے۔ فرقہ پرستی کرنے والیاورتفریق کی خلیج پیداکرنے والے دنیا آخرت میں مستحق سزا ہیں۔ آخرت کا جو نقصان ہے وہ تو ہے ہی دنیا کا نقصان یہ کہ کفر کو کھل کھیلنے کاموقع ملتاہے۔ ان کی جو صلاحیتیں کفر کو مٹانے اوراسلام کی اشاعت وحفاظت میں صرف ہونی چاہئیں، وہ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف لگ جاتی ہیں۔باہمی چپقلش سے ان کی قوت کمزور ہوتی ہے اور یہ کمزوری بالواسطہ یا بلاواسطہ کفر کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اصل کتاب میں یہ واضح کیاجاچکاتھا کہ مسلمانوں میں دین سے تعلق رکھنے والا طبقہ ہی عالمی کفر اور مسلمان نما منافقوں کااصل حریف ہے۔ یہ کفار ومنافقین ان کااتفاق کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔

یہاں یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ فرقہ بندی ہو یا فرقہ واریت وتفریق، اس کا الزام کسی صورت اس گروہ یا شخص کو نہیں دیاجاسکتا جو حق پر ہونے کے ساتھ ساتھ اعتدال سے باہر قدم نہیں رکھتااور جن اسباب افتراق وفرقہ واریت کا پہلے ذکر کیاجاچکاہے ان میں مبتلا نہیں ہوتا۔ کیونکہ حق کے ساتھ وابستگی اصل ہے اوراصل پر قائم رہنے والا محمود ہی ہے، مجرم وہ ہے جو حق سے گریزاں ہے۔ گرچہ اپنے زعم میں وہ یہ سمجھتا ہوکہ میں حق پرہوں۔مطلب یہ ہوا کہ حق سے کٹنے والا فرقہ واریت میں مبتلا نہ ہوتب بھی ترک حق کی وجہ سے بلحاظ اصل مذموم اور حق پر ڈٹنے والے میں اگر فرقہ واریت باتفریق میں سے کوئی سبب پایاجائے تب بھی بلحاظ اصل وہ محمود ہے اس کاجرم اگر ہے تو فرعی ہے۔

۲۔ عصبیت یاتعصب

تفریق کا دوسرا بڑانقصان جاہلی بدبودارعصبیت کا پیداہوجاناہے۔جیساکہ میں نے کہا کہ ابتدامیں تو ایسی بات نہیں ہوتی مگر جیسے جیسے جماعتی سانچہ مضبوط ہوتاجاتاہے ویسے ویسے اپنی برتری اوردوسرے کی کمتری کے جراثیم بھی پیداہونا شروع ہوجاتے ہیں اوربرتری کمتری کے اسی احسا س سے عصبیت جنم لیتی ہے۔تفریق کا مارا ہوا ذہن اپنے گروہ کی شان میں قصیدے پڑھتا اوردوسروں کی ہجو کرتاہے۔خود کو آگے بڑھاتا اوردوسروں کو گراتا ہے۔ اپنے گروہ کی خامیوں غلطیوں کو چھپاتااوران کا دفاع کرتاہے جب کہ دوسروں پرکیچڑ اچھالتاہے۔اپنی غلطیوں کی پچ کی جاتی ہے اوردوسروں کی خامیوں کواچھالاجاتاہے۔اسی کی مانی جاتی ہے جو اپنے شعبے ،گروہ اورجماعت سے تعلق رکھتاہے دوسرے کی بات اگر حق ودرست بھی ہو تو اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔اگر دوجماعتوں میں کسی موقع پرتعاون ہوجائیتو ان میں سے ہرایک خود کونمایاں کرنے کی کوشش کرتی ہے۔جھنڈوں کے ذریعے ،بینروں کے ذریعے، نعروں کے ذریعے ،وقت کی تقدیم وتاخیر کے ذریعے۔کسی دوسری جماعت کے صحیح اوردرست کام میں شرکت سے محض اس لیے گریز کیا جاتاہے کہ جماعتی طور پر اس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا۔حق کو یاکم از کم افضلیت کو اپنی تحریک اورجماعت میں منحصر سمجھ لیا جاتاہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتاہے کہ دوسروں کی حقارت دل میں پیداہوجاتی ہے یا کم سے کم اس کام کی واقعی وقعت دل میں نہیں رہتی۔کبھی اس عصبیت میں اتنی شدت پیداہوجاتی ہے کہ محض اپنے جماعتی تعصب میں دوسروں کے صحیح کام کی مخالفت کی جاتی ہے۔

اس میں کسی گروہ ،مسلک اورجماعت کا استثنا ء نہیں۔خود دیوبندی حلقوں میں بیسیوں جماعتیں ہیں جو کہ آپس میں ایک دوسرے سے لگانہیں رکھتیں۔ جے یوآئی ف اورجے یوآئی س کی دھڑے بندی ،خدام اہل سنت کا ہر کام میں الگ تشخص کوئی پردے کی بات نہیں ،مرکزی جے یوآئی تھانوی گروپ گو کہ صرف رسالوں کتابوں میں رہ گیا مگر تھانوی حضرات کی طرف سے ابھی تک اس مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔تحفظ ختم نبوت کا سٹیج جو باہمی اتفاق کا ایک فورم تھا، اول تو وہ بھی تین چار حصوں میں تقسیم ہوگئی، پھر اس میں بھی جزوی اختلافات نے راہ پالی۔ جے یوآئی اورسپاہ صحابہ کی عصبیت ڈھکی چھپی نہیں ،تبلیغیوں اورمجاہدوں کی باہمی مخالفت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ مجاہدین کی تنظیمیں بے شمار اورہرایک دوسرے کی مخالف۔بعض بزرگوں کی کوششوں سے ان کو متحد کیا گیا حرکۃ الانصار کے نام سے مگر چند ہی سال بعد وہ کارتوس سے نکلے ہوئے چھروں کی طرح پھٹے اوروہ گند اڑایاکہ الامان والحفیظ۔ اب تو خیرسارے ہی کیموفلاج ہوچکے ہیں ۔اشاعۃ التوحید والسنۃ کی اپنی ہی ایک الگ مسجد ہے، نہ ہم کسی کے نہ ہماراکوئی۔ جے یوآئی اوریہ ہمہ وقت ایک دوسرے سے روٹھے ہی رہتے ہیں۔پہلے اس کے قائدین تحفظ ختم نبوت کے فورم پر نظر آتے تھے۔ اب نہیں معلوم نہیں یہ ختم نبوت والوں کی تنگ نظری ہے یا اشاعت والوں کی سختی کہ دونوں کے درمیان فاصلے پیداہوگئے۔حیاتیوں مماتیوں کی چپقلش ،مخاصمت ،مخالفت اورعصبیت بھی ظاہر وباہر ہے۔ اب تو یہ حال ہوگیا کہ علماء کو حیاتی مماتی میں تولنا شروع کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں یہ دیوبندی نہیں، یہ کہتے ہیں وہ دیوبندی نہیں۔ بقیہ جماعتوں کاحال بھی یہی ہے۔دین سے متعلق لوگوں اوراہل حق ہونے کا دعواکرنے والوں کا یہ حال ہے تو قیاس کیا جاسکتاہے کہ ان لوگوں اورجماعتوں کا حال کیا ہوگاجو دین سے بے بہرہ ہیں۔جولوگ اپنے بھائیوں کے ساتھ بھی مل بیٹھنے کوتیار نہیں ان کی بات سننے سمجھنے کے لیے آمادہ نہیں بلکہ ان کے صحیح کو بھی غلط بناکر دکھانے والے ہیں وہ کوئی بڑاکام کرسکیں گے ؟کیا انقلاب کا ہراول بن سکیں گے؟ کیا امت کی ناؤ کنارے پر لگاسکیں گے؟

ہرعلاقے یامسجد کے مولوی صاحب اس عصبیت کو بڑھاتے اوراس کی بنیاد پر دوسروں کی مخالفت کا بازارگرم کیے رکھتے ہیں۔سیاسی میدان میں مولوی صاحب امت کے اجتماعی یا قومی اورعالمی مفادکو سامنے رکھنے کے بجائے مقامی جماعتی مفادکوسامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اوراس بنیاد پر علاقے کے بے دین جاگیر داراورملک کی سپورٹ کریں گے مگر جے یوآئی کا کوئی امید وار ہوا تو اسے ووٹ نہیں دیں گے۔کسی علاقے میں ف گروپ کا امیدوارکھڑاہوتوس گروپ بھی اپناامید وار کھڑا کرے گا اگر چہ اس کی شکست یقینی ہو۔اسی طرح اس کے برعکس بھی ہوجاتا ہے۔

جماعتوں کے لیڈر سٹیج پر آکر کبھی بصد ادب واحترام دوسروں کی شکایت کرتے ہیں ،کبھی رمز واشارے سے کام لیتے ہیں ان کے سٹیج پرکیے جانے والے اشارے کنائے اورتعریضات وشکایات کارکنوں تک پہنچ کرکھلم کھلادشمنی اورمخالفت کا روپ دھارلیتے ہیں۔ عصبیت دوچند ہوجاتی ہے،عمل کا میدان محدودہوتاہے اورقوت اپنوں کے خلاف صرف ہوناشروع ہوجاتی ہے۔یہاں مولانافضل الرحمن صاحب کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔میں نے ان کی تقاریرسنیں ،اخباری بیانات پڑھے انٹرویوسنے۔ کبھی کہیں انہوں نے حلقہ دیوبندکے علماء اورجماعتوں کے بارے میں علانیہ کوئی منفی بات نہیں کی، یہاں تک کہ اشارے کنایے میں بھی نہیں۔ان کی تقریراس قسم کی تمام ہزلیات سے پاک ہوتی ہے۔دیگر اورعلماء بھی ہوں گے، اس مزاج اورطبیعت کے میں اس سے انکار نہیں کرتا، مگر میری معلومات میں ابھی تک ان کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔

۳۔ قوت کی تقسیم

یہ تفریق کا تیسرابڑااوراہم نتیجہ ہے جو پہلے دونتائج پر متفرع ہے۔یہی پہلوسب سے زیادہ خطرناک ہے۔کسی کام کے مختلف شعبے اگر کسی نظم کے تحت تقسیم کردیے جائیں تووہ ایک دوسرے کے ممد ومعاون ثابت ہوتے اورباہم دگر شعبوں کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ایک نظم میں پروئے ہوئے ہونے کی وجہ سے قوت بظاہر تقسیم ہونے کے باوجود مجتمع ہوتی ہے۔مگر تفریق میں ایسا نہیں ہوتا۔وہاں کسی مافوق نظم کے بغیر ہر ایک اپنا شعبہ سنبھالتا ہے اور کوشش دوسرے کو مضبوط کرنے کے بجائے یہ ہوتی ہے کہ باقی شعبے ختم ہوجائیں اوریہی جاری رہے۔ یا اس کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔یا یہ سوچ پیداہوجاتی ہے کہ دیگر شعبوں کا کام چوں کہ خاص اہمیت کا حامل نہیں اوران شعبوں میں کام کرنے والے بھی کارآمد نہیں، اس لیے ہم وہ بھی اوریہ بھی کام کریں گے۔ایسے لوگ بجائے اپنے شعبے پرتوجہ دینے کے دوسرے شعبوں کو سدھارنے کا کام سرانجام دینے لگتے ہیں۔ یا یہ ہوتاہے کہ ایک ہی شعبے میں کئی کئی ٹیمیں الگ الگ نظم کے ساتھ گھس آتی ہیں۔ ان کے دو اصول ہوتے ہیں ایک یہ کہ دیگر شعبوں کا کام کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جو ہم کررہے ہیں، وہ سب سے اعلیٰ ہے۔ دوسرایہ کہ اس شعبے میں کام کرنے والے دیگر لوگ صحیح کام نہیں کررہے اورہمارا کام سب سے بہتر ہے۔ اس سے ٹکراؤپیداہوتاہے۔اپنا کام کرنے کے بجائے ایک شعبے میں کام کرنے والے دوسرے افراد ہدف بن جاتے ہیں۔ رفیق وہ ہوتے ہیں جو انہی کے نظم کے تحت کام کریں اوردشمن وہ سمجھے جاتے ہیں جو اس نظم سے ہٹ کرکام کریں۔

یہ بات ایک مثال سے سمجھیے: فوج ایک بڑاادارہ ہے جس کا اصل کام ملکی سرحدوں کی حفاظت ہے۔اس ادارہ میں مزید کئی شعبے اورپھر ان کی بھی ذیلی تقسیم ہے جو اس ادارے کو صحیح طورپرچلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔لوگوں کو فوج کی طرف راغب کرنا۔ان کو بھرتی کرنا۔ان کی تربیت کا بندبست کرنا۔ان کے کھانے پینے رہنے سہنے علاج معالجے اورکپڑے لتے کا بندوبست کرنا۔ہرایک کا اورہرچیز کا مکمل ریکارڈ رکھنا۔اسلحہ خریدنا۔اس کو چالوحالت میں رکھنا اس کے لحاظ سے فوج کو تقسیم کرنا۔ہرایک ان میں فوج کا شعبہ اوراس کے لیے لازمی ہے۔ہرایک کی اپنی حدود اورذمہ داریاں ہیں ۔یہ سب مل کرفوج کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ غنیم کا مقابلہ کرسکے۔اس سارے عمل میں جس طرح ایک ڈاکٹرکا حصہ ہے اسی طرح ایک دھوبی کا بھی۔جس طرح ایک انجینئر کی ضرورت ہے اسی طرح ایک درزی اورنائی کی بھی۔جس طرح ایک کلرک اس میں شریک ہے ویسے ہی ایک خریداری کرنے والابھی۔جس طرح رسد پہنچانے والے ہیں اسی طرح بالفعل لڑنے والے بھی۔ایک شعبے کے لوگ اگر دوسرے میں دخل اندازی شروع کردیں تو تنظیم پارہ پارہ ہوجائے۔ایک حصہ یہ سمجھنا شروع کردے کہ ہم ہی ہم ہیں اورکسی کا کوئی کردار نہیں تو ادارہ زمیں بوس ہوجائے۔

تفریق کے نتیجے میں یہی صورت حال پیداہوتی ہے۔دین کے مختلف شعبے ہیں ہرشخص جو کام کررہاہے وہ اپنی حدود اورذمہ داری کا احسا س کرے۔دوسرے شعبوں کی تنقیص اوران میں دخل اندازی نہ کرے۔بلکہ اس بات کو دوسرے کام کرنے والے مسلمان بھائیوں کا احسان سمجھے کہ یہ کام بھی بحیثیت مسلم میرے کرنے کا تھا مگرایک آدمی ہرطرف پورانہیں ہوسکتا۔ شکر ہے کہ یہ طرف خالی نہ رہی اورانہوں نے اسے سنبھال لیاہے۔اگرایسا ہوگیاتو ہرشعبہ دوسرے کا معاون ومددگاربن کراسلام کی عمارت کوبلند اور مضبوط کردے گا۔

آراء و افکار

(اپریل ۲۰۱۲ء)

Flag Counter