ریاست، معاشرہ اور مذہبی طبقات ۔ پاکستان کے تناظر میں اہم سوالات کے حوالے سے ایک گفتگو (۲)

محمد عمار خان ناصر

انٹرویو: مشعل سیف


مشعل سیف: یہ بتائیے کہ آئین کو اور بہت سے قوانین کو Islamize کر لینے اور نظریاتی کونسل اور شرعی عدالت جیسے ادارے بنا لینے کے بعد پاکستان کو عملی طور پر اسلامی ریاست بنانے کے لیے اب مزید کن چیزوں کی ضرورت ہے اور آگے کس بات کی کوشش کرنی چاہیے؟

عمار ناصر: یہ بھی ایک بڑا اہم سوال ہے کہ عملی طور پر کیا ہو سکتاہے۔ میرے خیال میں جب بھی ہم اسلام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو ہمارا سارا دھیان ریاست اور حکومت کے فیصلوں اور اقدامات پر مرکوز ہو جاتا ہے۔ میرے فہم کے مطابق قرآن وسنت میں جو مسلم معاشرے کا تصور ملتا ہے، اس میں ریاست اور حکومت کے معاملات بہت ثانوی چیز ہیں۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کا پورا معاشرہ عملاً مسلمان ہو۔ ریاست بھی مسلمان ہو، یہ اس کا ایک بہت محدود حصہ ہے۔ ریاست تو معاشرے ہی کا ایک حصہ ہے۔ جتنا معاشرہ مسلمان ہو چکا ہوگا، اتنی ہی ریاست بھی خودبخود ہو جائے گی۔ تو نفاذ اسلام کے تصور کی اصلاح ضروری ہے۔ آپ دیکھیں کہ معاشرے میں افراد کی اخلاقیات بگڑی ہوئی ہے، افرادکی وابستگی مذہب کے ساتھ صرف جذباتی ہے، عمل کا کوئی داعیہ ان کے اندر نہیں ہے۔ افراد بگڑے ہوئے ہیں، معاشرتی رسوم بگڑی ہوئی ہیں اور بری قدروں نے اسلام کی معاشرتی قدروں کو Replace کر دیا ہے۔ معاشرے میں ہم ہر جگہ لوگوں کو مادیت سکھا رہے ہیں اوران میں صرف اپنی دنیا کو بہتر بنانے کے جذبات بیدار کر رہے اور اس کے طریقے سکھا رہے ہیں۔ جو مذہب کے مطالبات ہیں، خدا کے ساتھ تعلق ہے، آخرت کے لیے تیاری ہے، اپنی اخلاقیات کو اللہ کی نظر میں بہتر بنانے کا معاملہ ہے، یہ احساس ہے کہ میرے کسی قول یا فعل سے کسی کی دل آزاری یا حق تلفی نہ ہو، کسی کو دکھ نہ پہنچے، کوئی نا انصافی نہ ہو، اصل میںیہ افراد تیار ہونے چاہییں۔ صحیح اسلامی معاشرہ وہ ہوگا جس میں افراد اور معاشرے میں رہنے والے انسان بحیثیت مجموعی اسلام کی قدروں کو اپنا لیں۔ اس کے بعد ریاست کا کردار تو بہت محدود ہوتا ہے۔ ریاست کیا کرتی ہے؟ وہ کچھ قوانین نافذ کر دے گی۔ چور کو پکڑے گی اور اسے سزا دے دے گی۔ اصل میں دین پر عمل نوے پچانوے فی صد معاشرے نے خود کرنا ہے۔ معاشرہ اگر تیار نہیں ہے، اس کے اندر اتنی جان نہیں ہے کہ وہ شریعت کی پابندیوں کو قبول کر لے تو ریاست وہاں کیا کرے گی؟

اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ ہم نے پہیہ الٹا گھما دیا ہے۔ ہم نے سمجھا کہ اگر ریاست کو کلمہ پڑھا دیں گے اور کچھ قوانین منظور کر لیں گے اور کچھ اسلامی قسم کے ادارے بنا دیں گے تو اس کا اثر معاشرے پر پڑ جائے گا۔ یہ الٹ بات ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی بھی پیغمبر نے پہلے دن حکومت اور اقتدار کی سطح پر بات نہیں کی تھی۔ پہلے دن لوگوں کو مخاطب بنایا تھا، ان کو ایمان سکھایا تھا، لوگوں کو اخلاق بتائے تھے۔ پھر جب لوگوں میں قبولیت کی استعداد پیدا ہو گئی، تب یہ ہوا کہ ایک دن آپ نے اعلان کیا کہ شراب حرام ہے تو لوگوں نے ساری شراب اٹھا کر باہرپھینک دی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اگر پہلے دن آپ لوگوں سے یہ کہتے کہ شراب ممنوع ہے اور زنا حرام ہے تو کوئی بھی نہ مانتا۔ تو یہ الٹ ترتیب ہے جو ہم نے اختیار کی ہے۔ 

میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے جو مذہبی لوگ ہیں، جن کی یہ خواہش ہے کہ معاشرہ تبدیل ہو، انھیں اپنی ترجیحات درست کرنی چاہییں۔ اب تک ہم نے سارا زور ریاست پر لگایا ہے اور وہاں جتنا ہو سکتا تھا، اس میں ہم نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ آئین مسلمان ہو گیا ہے، ضمانتیں دے دی گئی ہیں اور کافی قوانین بھی بن گئے ہیں۔ اس سے زیادہ سردست وہاں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب ہمیں اپنی ترجیحات بدلنی چاہییں۔ ہمیں اپنے اخلاق بہتر بنانے ہیں۔ خود مذہبی لوگوں میں بڑے اخلاقی مسائل ہیں۔ ہم خود اسلام کا جتنا اچھا نمونہ پیش کرتے ہیں، اس کو دیکھیں تو سوسائٹی سے ہم کیا توقع رکھتے ہیں؟ اب ہم لوگوں کو مسلمان بنائیں، ان کے اخلاق کو بدلیں، لوگوں کو اس کے لیے تیار کریں۔ جتنا یہ معاشرہ بہتر ہو جائے گا، اتنا اسلام خود بخود آ جائے گا اور اس کے بعد وہ وقت بھی آئے گا کہ ہم حکومتوں سے توقع کریں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ 

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون اور ریاست کا اور معاشرے کی جو اخلاقی صورت حال ہے، اس کا باہمی Relation کیا ہے۔ ہم ان چیزوں کو الگ الگ کر کے کسی ایک پر ذمہ داری نہیں ڈال سکتے کہ حکومت اور حکمران اگر ٹھیک ہو جائیں تو باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ حکمران اگر تو آسمان سے اتر کر آئے ہیں تو پھر اور بات ہے۔ اگر حکمران ہم میں سے ہی کچھ لوگ ہیں اور وہ بھی انھی معاشرتی اقدار کے سانچے میں ڈھلے ہیں جن کی چھاپ پورے معاشرے پر ہے تو ہم ان سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟

مشعل سیف: آپ bottom-up اپروچ کی بات کر رہے ہیں کہ اگرہم نچلی سطح پر تبدیلیاں لے کر آئیں تو بات eventually ریاست تک پہنچے گی، جبکہ دوسری اپروچ جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں، یہ ہے کہ ہم top سے تبدیلی لے کر آئیں۔ یہ بتائیے کہ نیچے سے تبدیلی لانے کے لیے علماء کو معاشرے کے اندر، عام لوگوں میں اور سوسائٹی کے اندر لوگوں کا رجحان اسلام کی طرف کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا تصانیف سے یا لیکچرز سے ایسا ہوگا یا کسی اور طریقے سے؟

عمار ناصر: یہ تو سب ابلاغ کے طریقے ہیں۔ آپ نے بات پہنچانی ہے، لوگوں کو نصیحت کرنی ہے تو یہ اس کے طریقے ہیں۔ آپ اس طریقے سے بھی کر سکتے ہیں اور جمعے کے خطبے اور لیکچر اور درس سے بھی کر سکتے ہیں۔ سب سے زیادہ موثر جو چیز ہے، جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سارے انبیاء کے طریقے میں ملتی ہے، وہ کردار کا نمونہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ لیکچر نہیں دیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں تو ہر نماز کے بعد کوئی نہ کوئی درس، کوئی نہ کوئی وعظ ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ جمعے کے علاوہ آپ عام طور پر پبلک اجتماع کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔ ہفتے میں ایک دن رکھا ہوتا تھا جس میں لوگوں کو جمع کرتے اور وعظ ونصیحت کا اہتمام فرماتے تھے۔ اکابر صحابہ کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ سے لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کچھ زیادہ وقت دیا کریں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناپسند تھی کہ لوگوں کو باتیں سنا سنا کر اکتاہٹ میں ڈال دیا جائے۔ اصل میں انسان نمونے سے سیکھتا ہے۔ ہماری سوسائٹی کی بدقسمتی یہ ہے کہ اچھی سے اچھی تقریریں کرنے والے آپ کو بے شمار لوگ مل جائیں گے، کوئی اچھا نمونہ دکھانے والا نہیں ملے گا کہ یہ اسلام ہے، یہ اسلامی اخلاقیات ہے۔ آپ کو علماء میں، لیڈر شپ میں، اپنے ارد گرد کے لوگوں میں نمونہ نظر آئے گا تو آپ اس سے سیکھیں گے نا! تقریریں تو ہم سب کر لیتے ہیں۔

تو جو لوگ معاشرے کی اصلاح کے علم بردارہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں، سب سے پہلے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ عالم کی حیثیت سے، مذہب کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ہماری جو اپنی اخلاقیات ہے اور فرد کی حیثیت سے سماج میں ہماری جو اخلاقیات ہے، اس کو بہتر بنائیں۔ ہماری ترجیحات کیا ہیں، ان سے نظر آئے کہ ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاہیے۔ نمونے سے لوگ سیکھتے ہیں۔ پچھلے دور میں ہمارا ایک ادارہ ہوتا تھا تصوف کا، وہ تربیت کا ایک بڑا ا چھا مرکز تھا۔ اب وہ بدقسمتی سے بالکل برباد ہو گیا ہے۔ اب وہ ادارہ بھی ایک کاروباری ادارہ بن گیا ہے۔ اب ہمیں اچھے خدا والے، اچھے خدا پرست لوگ جن کے پاس بیٹھ کر ہم محسوس کریں کہ یہ دنیا کچھ نہیں ہے، وہ نہیں ملتے۔ یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمیں نمونہ نہیں ملتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بتایا تھا کہ امت سے جب اللہ تعالیٰ اپنے دین کو اور اپنے دین کے علم کو اٹھانے کا فیصلہ کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا کہ کتابیں ناپید ہو جائیں یا کتابوں کو پڑھنے والے لوگ ختم ہو جائیں۔ اصل میں وہ لوگ جو اس کا ایک عمدہ نمونہ ہوں گے، ان کو اللہ تعالیٰ اٹھا لیں گے۔ پھر لوگوں کو جیسے بھی لوگ ملیں گے، وہ انھی کے پیچھے چلیں گے۔ تو اصل چیز یہ ہے کہ ایسے نمونے ہمارے سامنے ہوں جو لوگوں کو زندہ اور چلتے پھرتے نظر آئیں۔ اسی سے لوگ سیکھیں گے۔

مشعل سیف: آپ کی بات سمجھ میں آ گئی، لیکن جو دوسری Top-down اپروچ ہے، جس کے متعلق کافی علما نے لکھا ہوا ہے، اس کے بارے میں کچھ اور بات کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے کہا کہ جو حکومت ہوتی ہے، وہ قوانین اور پالیسیاں وغیرہ بناتی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کا ایک بہت اہم حصہ تعلیمی نظام ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے پبلک اسکولوں میں جو تعلیمی نصاب ہے، وہ ایک بہت اہم چیز ہے جس کے ذریعے سے معاشرے میں تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ Top-down اپروچ یہ ہے کہ حکومت سے کہا جائے کہ آپ نظام تعلیم میں تبدیلیاں لے کر آئیں۔ علماء یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں جو تعلیمی اداروں میں اسلام کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے، اس میں تبدیلیاں لانی چاہییں۔ بہت سے علماء نے اس کے متعلق تجاویز دی ہیں۔ تو اس اپروچ کے متعلق کچھ بتائیے کہ اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

عمار ناصر: یہ بات بنیادی طور پر غلط نہیں ہے، لیکن ہم تھوڑی سی جگہ بدل کر بات کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ریاست کے پاس جو اختیار ہوتا ہے اور اس کے لیے کردار ادا کرنے کے جو مواقع ہوتے ہیں، ان کی اہمیت نہیں ہے۔ بہت سے کام ہیں جو وہی کر سکتی ہے۔ مثلاً اس وقت تعلیم کے دائرے میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پوری قوم کے اندر کوئی فکری یکسوئی نہیں ہے۔ درجن بھر تعلیمی نظام کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو قوم میں بنیادی ایشوز کے حوالے سے فکری یکسوئی پیدا کرنی ہے تو آپ کو نظام تعلیم کو اس کا ذریعہ بنانا پڑے گا۔ اب یہ کون کر سکتا ہے؟ ظاہرہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ میں اس وقت اس سے اختلاف نہیں کر رہا کہ ریاست کا معاشرے کی اصلاح میں ایک بنیادی اور غیر معمولی کردار ہے۔ میں جو بات عرض کر رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ اس وقت ریاست میں اقتدار واختیار رکھنے والے وہ طبقات جنھوں نے یہ کردار ادا کرنا ہے، وہ اس کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ آپ ان کو محض suggest کر کے کہ یہ طریقہ ہے اور یہ طریقہ ہے، فلاں اقدام کریں تو یہ ہوگا اور یہ فیصلہ کریں تو وہ ہوگا، کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ بے فائدہ ہے۔ ان کے اندر نہ اس کا داعیہ ہے، نہ جذبہ ہے، نہ کمٹ منٹ ہے اور نہ وژن ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہے، لیکن اس وقت مقتدر طبقات اس کے لیے تیار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت آپ کو کیا کرنا ہے؟ اور اگر ان طبقات کو آپ اس سطح پر لانا چاہتے ہیں اور انھیں اس کردار کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو اس کی حکمت عملی کیا ہے؟ 

ہم حکمران طبقہ کوئی آسمان سے اتار کر تو لا نہیں سکتے۔ اصل میں ہم یہ فرق نہیں سمجھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو اسلامی ریاست قائم ہوئی، اس میں جن لوگوں کو اقتدار واختیار سونپا گیا، ان کے انتخاب کی اصل بنیاد ہمارے ہاں کے جمہوری طریقے کے مطابق لوگوں کی طرف سے اعتماد کاووٹ نہیں تھا۔ وہ تو براہ راست خدا کی نگرانی میں ایک ریاست قائم ہوئی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خاص گروہ کو تربیت دی تھی اور ان کو اس معیار پر لے کر آئے تھے کہ جب وہ اس ریاست میں زمام اقتدار سنبھالیں تو ایک مثالی حکمران کا نمونہ پیش کر سکیں۔ ان کو اللہ نے امتحانوں اور آزمائشوں کی بھٹی سے گزار کر انعام کے طور پر اقتدار دیا تھا۔ وہاں تو یہ بات بالکل سمجھ میں آتی ہے کہ جو حکمران ہیں، ان کا اپنا ذاتی فعل، کردار، ان کا وژن اور ان کی ترجیحات اس جگہ پر ہیں جہاں انھیں ہونا چاہیے اور جب انھیں اقتدار ملا تو انھوں نے اس کو implement کر کے دکھا دیا۔ آج ہم تو اس صورت حال میں کھڑے نہیں ہیں۔

تو بات یہ نہیں کہ ریاست کو اختیار حاصل نہیں ہوتا یا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی یا اس کا کردار غیر اہم ہوتا ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو طبقہ اوپر بیٹھا ہوا ہے، وہ ہم میں سے ہی نکل کر گیا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے جو پورے معاشرے کی ترجیحات ہیں، انھی کا اثر ان پر بھی ہے اور اقتدار واختیار کے حوالے سے وہ اسی نفسیات کا نمونہ پیش کرتے ہیں جو عمومی طور پر ہم سب کی ہے۔ ہمارے مذہبی معلمین اور مبلغین اور مصلحین کو چاہیے کہ اس حکمران طبقے کو Target کریں۔ ان کو مخاطب بنائیں اور کافی عرصے تک ان کو تیار کرنے کی کوشش کریں تاکہ ان کے اندر اسلام کا جذبہ اور اسلام کے نفاذ اور سوسائٹی کی اصلاح کا داعیہ پیدا ہو جائے۔ آپ عام لوگوں کو بھی مخاطب بنائیں تاکہ ان کے اندر ایمانی جذبہ اور قبولیت پیدا ہو اور آپ حکمرا ن طبقات اور مقتدر طبقات کو بھی اپنی دعوت وتبلیغ کا اور اصلاح کا ہدف بنائیں تاکہ وہ لوگ اپنی ذات میں ایک اچھا نمونہ بن سکیں، ان کے اندر یہ داعیہ پیدا ہو کہ ہمیں سوسائٹی میں جو مقام اور جو اثر ورسوخ حاصل ہے، اس کوہم نے اچھے مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو میں عرض کر رہا ہوں۔ریاست کو جو اختیار یا طاقت حاصل ہوتی ہے یا اس کی جو ذمہ داریاں بنتی ہیں، ان کی نفی نہیں کر رہا۔

مشعل سیف: کچھ لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ علماء کو حکمران ہونا چاہیے، کیونکہ وہ اسلام کو بہتر سمجھتے ہیں اور وہی صحیح اسلامی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں علما کو ہی حکمران طبقہ ہونا چاہیے؟ 

عمار ناصر: دیکھیں، جب آپ ’’طبقہ علما‘‘ کہتی ہیں تو اس کا مطلب بالکل اور بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ ہمارے ہاں جو علماء کے عنوان سے ایک خاص Class موجود ہے، اس کو حکمرانی کی ذمہ داریاں دے دی جائیں۔ اگر آپ کی یہ مراد ہے تو میں ہرگز یہ نہیں سمجھتا کہ حکومت اس طبقے کے سپرد کرنی چاہیے۔ ہاں، ایک دوسری بات ہے اور وہ یہ کہ جو حکمران ہے، وہ اسلام کا اتنا علم رکھتا ہو کہ وہ ایک عالم دین کے ہم پلہ ہو تو یہ بات درست ہے۔ Ideally مسلمانوں کے حکمران کو عالم ہونا چاہیے، بلکہ میں تو کہوں گاکہ وہ اتنا گہرا علم رکھتا ہو کہ خود اس کی اپنی ایک رائے ہو۔ یہ تو ہمارا خواب ہے کہ کبھی ایسا ہو جائے۔ لیکن آپ طبقہ علماء کو جو اس وقت ہمارے ہاں موجود ہے، اقتدار دینے کی بات کر رہی ہیں تو میرے خیال میں یہ اس کی بالکل اہلیت نہیں رکھتے۔ ان کے پاس وژن بھی نہیں ہے، ان کو معاشرے کے مسائل کا ادراک نہیں ہے اور عملاً ہم متحدہ مجلس عمل کو صوبہ سرحد میں ایک موقع دے کر دیکھ چکے ہیں کہ وہ اپنے دائرۂ اختیار میں بھی کچھ نہیں کر سکے۔ معاشرہ بہت پیچیدہ ہے۔ اس کے مسائل کو کیسے handle کرنا ہے، ہمارا موجودہ طبقہ علما اس سے بالکل نابلد ہے۔ 

مشعل سیف: یعنی آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ علماء کو حکمرانوں کو نصیحت کرنی چاہیے، انھیں خود حکمران بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟

عمار ناصر: بالکل کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اور نصیحت بھی اس پہلو سے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ حکومت کے معاملات کو کیسے چلائیں۔ یہ وہی بہتر سمجھتے ہیں۔ نصیحت اس پہلو سے کرنی چاہیے کہ ان کے اندر ایمانی جذبہ بیدار ہو جائے، ان کا اپنا اخلاق وکردار بہتر ہو جائے اور ایک مسلمان حکمران کے اندر جو احساس ذمہ داری ہونا چاہیے، وہ پیدا ہو جائے کہ مجھے اپنے اختیار کا غلط استعمال نہیں کرنا، کیونکہ یہ میرے پا س امانت ہے۔ اسی کو تذکیر کہتے ہیں۔علماء کا کام تذکیر ہے،یعنی کسی بھی آدمی کو اس بات کی یاد دہانی کرانا کہ وہ اللہ کے سامنے جواب دہی کے احساس سے اپنے کردار کا، اپنے قول وفعل کا جائزہ لے اور یہ تصور کرے کہ مجھے دنیا میں کچھ دنوں کا اقتدار مل گیا ہے تو میں فرعون نہ بن جاؤں۔ یہ جو ایمان کا جذبہ پیدا کرنا ہے، یہ ایک عام آدمی میں بھی بیدار کرنا ہے اور ایک حکمران میں بھی کرنا ہے تاکہ جس آدمی کو اللہ نے جہاں place کیا ہے، وہاں وہ اللہ کی مرضی اور اس کی منشا کے مطابق عمل کرے۔

یہاں میں یہ بات Stress کے ساتھ کہوں گا کہ علماء سے مراد صرف دین کا علم رکھنے والے لوگ نہیں۔ دین کی باتیں بتانے والے بہت ہیں، آپ کتابوں میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ وہ لوگ مراد ہیں جو اپنے کردار سے اور اپنی سیرت کے حسن سے آپ کو Inspire کر سکیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے دوست وہ ہیں جن کو تم دیکھو تو تمھیں خدا یاد آ جائے۔ ایسی کیفیات پیدا کرنے والے لوگ ہم میں ہونے چاہییں جو ہمیں اپنی اصلاح پر آمادہ کریں۔ تقریریں تو ہم روز سنتے رہتے ہیں، بلکہ میرے خیال میں یہ جو بہت زیادہ تقریریں سننا ہے، یہ بھی ہماری عمل کی حس کو بڑی حد تک دبا دیتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتے میں ایک ہی دن وعظ ونصیحت کرتے تھے۔ جب ہم ہر وقت باتیں سنتے اور کرتے رہتے ہیں تو ہماری حس مردہ ہو جاتی ہے اور ہم بے پروا ہو جاتے ہیں کہ یہ باتیں تو ہر وقت سنتے ہی رہتے ہیں۔ تو دعوت وتبلیغ سے مراد مذہبی تقریریں کرنا یا مذہبی اجتماعات منعقد کرنا نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ انسان میں تبدیلی کیسے آئے اور نفس کے بندے کیسے خدا کے بندے بن جائیں۔ میرے اندر کیسے تبدیلی آئے، مخاطب کے اندر کیسے آئے اور ہم خدا کے صحیح مسلمان بندے بن جائیں، یہ مطلوب ہونا چاہیے۔

مشعل سیف: آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے ہمیں نچلی سطح پر توجہ دینی چاہیے۔ یقیناًریاست ایک قوت اور طاقت ہوتی ہے اور وہ بھی معاشرے میں تبدیلی لا سکتی ہے اور نظام تعلیم بھی اس میں کردار ادا کرتا ہے، مگر آپ کے خیال میں پاکستان کے حالات میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ علماء معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے محنت کریں۔ آپ بتائیں کہ کیا آپ نے یہ کام کیا ہے یا اگر موقع ملے تو آپ کن خطوط پر محنت کریں گے؟

عمار ناصر: دیکھیں، اس وقت جو کوشش ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جن طبقات کا اس وقت ریاست کا نظام چلانے میں بنیادی کردار ہے، اس میں آپ کے سیاست دان ہیں، افواج ہیں، عدلیہ ہے، بیورو کریسی ہے، میڈیا کے لوگ ہیں، سرمایہ دار طبقات ہیں۔ یہی ہیں جو اس وقت الٹا سیدھا جو بھی کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں! سو طبقہ علماء کو یا معاشرے کی اصلاح چاہنے والے لوگوں کو چاہیے کہ ان افراد کو اپنی تعلیمی اور تبلیغی واصلاحی کوششوں کا خاص طور پر ہدف بنائیں۔ مثلاً میڈیا کی بہت بڑی طاقت ہے اور وہ لوگوں کے رجحان بنانے اور بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن وہاں جو افراد بیٹھے ہوئے ہیں، ان کا جو وژن ہے اور وہ میڈیا کو جیسے دیکھ رہے ہیں، ان کے سامنے سوسائٹی کا جو تصور ہے، وہ اسی کے لحاظ سے اپنا کام کریں گے۔ ان کے سامنے اگر کوئی وژن ہی نہیں ہے اور بس آزادی ہی آزادی کا تصور ہے یا سنسنی پھیلا کر ہر وقت لوگوں کو ٹی وی کے سامنے بٹھائے رکھنا ان کا ہدف ہے یا کمرشلائزیشن کا محرک کام کررہا ہے تو وہ اسی کے لحاظ سے اپنی پالیسیاں اور ترجیحات متعین کریں گے، اسی کے لحاظ سے اپنا content تیار کریں گے۔ اگر اس طرح کے لوگوں کو ہدف بنایا جا سکے تو اس کے کافی اثرات ہوں گے۔ تبلیغی جماعت ایک حد تک یہ کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ Other-worldly ہو جاتی ہے اور ہماری سوسائٹی کے جو مسئلے ہیں، وہ اس کی دعوت کا موضوع نہیں۔ لیکن حکمت عملی ان کی درست ہے۔ آپ افراد تک، وہ جہاں بھی معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں، رسائی حاصل کریں۔ ان کے زاویہ نظر کو یا ان کے عمل کو، ان کے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں تاکہ جہاں بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملے، وہ وہاں کام کریں۔ 

یہ اسٹریٹجی بنیادی طور پر ٹھیک ہے۔ اس کو اگر ذرا وسیع کر لیا جائے اور جو طبقے آپ کے مخاطب ہیں، ان کی نفسیات کے لحاظ سے ذرا tailor کرلیا جائے، ان کے مزاج سے ہم آہنگ کر لیا جائے تو میرے خیال میں یہ کام کرنے کا ہے۔ یہ مجدد الف ثانی او ران کے مرشد خواجہ باقی باللہ کا طریقہ ہے۔ انھوں نے عوام میں کوئی شور مچانے کے بجائے اور کوئی موومنٹ شروع کرنے کے بجائے اکبر کے بہت قریبی امرا کے ساتھ شخصی روابط قائم کیے۔ ان کے ہاں جو فکری کجی تھی، اس کو درست کیا اور اس سے ایک نتیجہ انھوں نے حاصل کیا۔ جب اکبر کو دین الٰہی کی تبلیغ کے لیے دست وبازو ہی نہ ملے تو بس وہ دربار تک محدود ہو کر رہ گیا۔ میرے خیال میںآج بھی علماء کو یہی کام کرنا چاہیے، لیکن یہ کام بالکل بے لوث ہو کر کیا جائے، تبھی ثمرات دے گا۔ اس وقت ہمارے مذہبی لوگ اہل اقتدار اور بارسوخ طبقات کے ساتھ تعلقات بناتے ہیں، لیکن وہ دعوت کے جذبے سے نہیں ہوتا۔ وہ زیادہ تر اپنا قد اونچا کرنے یا کچھ مفادات حاصل کرنے کے لیے ہوتا ہے۔

مشعل سیف: آپ بھی تعلقات بناتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ؟

عمار ناصر: میں تو بالکل گوشہ نشین آدمی ہوں۔ اپنے محلے کے بھی سارے افراد کو نہیں جانتا۔

مشعل سیف: آپ نے کہا کہ ہمارے مدارس میں کلاسیکی فقہ تو پڑھائی جا رہی ہے، لیکن جدید مغربی علوم نہیں پڑھائے جا رہے اور اس کی وجہ سے وہاں قدامت پسند سوچ اور مائنڈ سیٹ پیدا ہو رہا ہے۔ آپ کے علم میں ہوگا کہ اتحاد تنظیمات مدارس نے کچھ عرصہ قبل حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، لیکن اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ مدارس میں جدید علوم بھی پڑھائے جائیں گے۔ کیا اس طرح کے کسی معاہدے پر اگر عمل ہو تو آپ کے خیال میں یہ جو قدیم اور جدید فکر کے درمیان دوری کی صورت حال ہے، اس کے حل میں مدد ملے گی؟

عمار ناصر: دیکھیں، اس طرح کے جو معاہدے ہیں، یہ سب Political معاہدے ہیں۔ ان کے پیچھے نہ تو کوئی ایسا جذبہ ہے کہ ہمیں مدارس کے طلبہ کے وژن کو وسیع کرنا ہے اور نہ حقیقی ارادہ (Will) کار فرما ہے۔ یہ سیاسی معاہدے ہیں۔ مدارس پر بہت دباؤ ہے کہ یہ انتہا پسندی کو فر وغ دے رہے ہیں، یہ تنگ نظری پیدا کر رہے ہیں، یہ جدید علوم نہیں پڑھا رہے۔ تو اس دباؤ کو face کرنے کے لیے مدارس کچھ ایسے اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں جو دکھائے جا سکیں کہ دیکھیں، ہم نے یہ باتیں مان لی ہیں تاکہ دباؤ کچھ کم ہو سکے۔ یہ صرف اس حد تک ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقی عزم نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جو جدید علوم آپ کے وژن کو وسیع کر سکتے ہیں، وہ ریاضی اور سائنس تو نہیں ہیں۔ وہ تو سوشل سائنسز ہوتی ہیں۔ سوشل سائنسز ہیں جو آپ کے انداز نظر کو بدلتی اور وسیع کرتی ہیں۔ ان کا تو یہاں کوئی ذکر ہی نہیں۔ آپ مدارس کے طلبہ کو اگر دسویں یا بارھویں جماعت تک انگریزی اور ریاضی پڑھا دیں گے تو اس سے ان کے وژن میں کیا وسعت آ جائے گی؟ 

اصل چیز بنیادی ذہنی رویہ ہے۔ مدارس کی قیادت اپنے ذہنی رویے میں محصور ہے۔ انھیں نہ خود اپنے محدود طبقاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر سوچنا قبول ہے اور نہ اپنے طلبہ میں وہ یہ رجحان پیدا ہونے دینا چاہتے ہیں۔ اسی طرح ہماری جو حکومتیں ہیں، ان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ مدارس کے لوگ اور مذہبی لوگ سوسائٹی میں ایک محدود دائرے میں ہی اپنا کردار ادا کریں۔ آپ اس کا تجزیہ کیجیے گا۔ میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ مدارس کے لوگوں کو تعلیمی لحاظ سے اور اپنے فکری اثرات کے لحاظ سے ایک محدود دائرے میں رکھنا یہ مدارس کی جو قیادت ہے، اس کے بھی مفاد میں ہے، یہ حکومتوں کے مفاد میں بھی ہے اور یہ سیکولر طبقوں کے بھی مفاد میں ہے۔ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ یہ اسی دائرے میں رہیں، اس لیے کہ ان کو اگر جدید علوم بھی حاصل ہوں گے تو لازمی طور پر ان میں سوسائٹی میں Peneteration کی زیادہ استعداد پیدا ہوگی اور اس سے ظاہر ہے کہ سیکولر لوگوں کا مقدمہ خراب ہو جائے گا۔ یہ سارے Stake holder کے اشتراک سے، مل جل کر ایک کام ہو رہا ہے۔ البتہ سوسائٹی کو مطمئن کرنے کے لیے یا باہر سے جو دباؤ آتا ہے، اس کو face کرنے کے لیے کچھ اس طرح کے کام وقتاً فوقتاً کر لیے جاتے ہیں۔ ان سے کسی حقیقی تبدیلی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور سے لے کر اس وقت تک جتنی بھی کوشش ہوئی ہے، اس کا محرک بنیادی طور پر تعلیمی اصلاح نہیں ہے۔ نہ حکومت کا اور نہ مدارس کے کارپردازان کا یہ مقصد ہے کہ ہم اپنے مدارس کے نظام تعلیم کو بہتر بنائیں تاکہ یہاں سے زیادہ باصلاحیت اور زیادہ اونچے calibre کے لوگ پیدا ہوں۔ یہ سارا سلسلہ بیرونی دنیا کے دباؤ کو faceکرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس سے مدارس کو سیاسی طور پر فائدہ ہوا۔ انھوں نے اپنی ایک متحدہ تنظیم بنا لی، دباؤ کا سامنا کرنے میں ان کو مدد مل گئی اور حکومت کو بھی بیرونی دنیا کے سامنے کچھ کہنے کے لیے مل گیا کہ دیکھیں، ہم یہ تبدیلیاں کروا رہے ہیں۔ اس حد تک تو اس کا فائدہ نظر آتا ہے، لیکن آپ یہ سمجھیں کہ اس سے کوئی بنیادی تبدیلی آئے گی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔ اس کے لیے پہلے رویے بنتے ہیں، آپ کے اندر آمادگی پیدا ہوتی ہے کہ واقعی ہم نے اپنے ہاں سے بہتر لوگ پیدا کرنے ہیں۔ یہ آمادگی یا داعیہ ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ شاید آپ اس کو بدگمانی کہیں، لیکن میں پھر یہ کہوں گا کہ مدارس کی قیادت سمیت اس وقت جتنے بھی فریق ہیں، ان سب کا مفاد اسی میں ہے کہ یہ طبقہ ایک خاص سطح پر ہی رہے اور ایک محدود دائرے میں ہی اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ کچھ طبقے شعوری طور پر ایسا چاہتے ہیں اور کچھ غیر شعوری طور پر، لیکن مفاد سب کا اسی میں ہے۔

مشعل سیف: کچھ عرصہ قبل مختلف وفاقوں کے سربراہوں پر مشتمل ایک وفد کو وزیر تعلیم کے ہمراہ مصر اور ترکی میں مذہبی تعلیم کا نظام دیکھنے کے لیے ایک مطالعاتی دورہ کروایا گیا تھا۔ آپ کے خیال میں اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟

عمار ناصر: دیکھیں، اگر تومدارس کی قیادت میں یہ will موجود ہے کہ ہمیں مثبت تبدیلیاں لانی ہیں تو پھر اس طرح کے جتنے بھی تعلیمی ماڈل دیکھے جا سکیں، وہ مفید ہوں گے اور مختلف ممالک میں کیے جانے والے تجربات سے راہنمائی ملے گی، لیکن مجھے معلوم ہے کہ ایسی کوئی will موجود نہیں۔ میں نے اس دورے کے منتظمین سے کہا تھا کہ یہ حضرات دوسرے ملکوں میں جا کر اچھی اچھی باتیں دیکھیں گے اور سنیں گے، لیکن واپس آ کر اگر آپ ان سے یہ کہیں گے کہ آپ بھی اپنے ہاں ا س طرح کی اصلاحات introduce کروائیں تو وہ کہیں گے کہ بھئی، یہ ہم نہیں کر سکتے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان میں یہ will ہی نہیں ہے اور will کے علاوہ یہ مسئلہ بھی ہے کہ پورے مذہبی طبقے کا جو مائنڈ سیٹ ہے، اس میں تبدیلی کی خواہش مستحکم بنیادوں پر اور وسیع پیمانے پر پیدا کیے بغیر کوئی عملی اقدام ممکن ہی نہیں۔ کیا آپ کے خیال میں وفاق المدارس العربیہ یا تنظیم المدارس کے جو سیکرٹری جنرل ہیں، ان کو یہ مینڈیٹ ملا ہوا ہے کہ وہ جیسی اصلاحات مناسب سمجھیں، قبول کر لیں؟ بالکل نہیں۔ یہ حضرات تو اپنے اپنے حلقے کی سوچ کی نمائندگی کرنے کے لیے ان مناصب پر مقرر کیے گئے ہیں۔ جو تبدیلیاں اور اصلاحات ان سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ اگر مان بھی لیں تو نیچے کا طبقہ قبول نہیں کرے گا۔

مشعل سیف: آپ نے مذہبی لوگوں کو ایک دائرے میں محدود رکھنے کی جو بات کی، اس سے مجھے یاد آیا کہ Malika Zeghal ایک اسکالر ہیں جو پی ایچ ڈی ہیں اور مصر کے حالات پر تحقیق کرتی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ مصر کی حکومت کی علماء کے متعلق یہ پالیسی ہے کہ ان کے دائرۂ اثرکو محدود رکھتے ہوئے انھیں ایک حد تک حکومتی معاملات میں شریک رکھا جائے، اس لیے الازہر کے کچھ علماء کو ہمیشہ حکومتی مناصب میں حصہ دیا جاتا ہے۔ انھوں نے ا س کو مذہبی علماء کی domestication کا نام دیا ہے۔ کیا پاکستان میں بھی اسی طرح کی صورت حال نظر نہیں آتی؟ حکومت جانتی ہے کہ پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ ہیں جو اسلام سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے حکومت ان کو مطمئن کرنے کے لیے کچھ علماء کو اسلامی نظریاتی کونسل میں لے لیتی ہے تاکہ یہ بتایا جا سکے کہ ہم نے اسلام کے لیے بھی کچھ کام کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علماء کو ایک دائرے میں محدود بھی رکھا جاتا ہے تاکہ وہ پالیسیوں پر زیادہ حاوی نہ ہونے پائیں؟

عمار ناصر: بالکل ایسے ہی ہے۔ پالیسی یہ ہے کہ علماء کے طبقے کی، جو مذہب کی نمائندگی کرتا ہے، اس پہلو سے تسکین ہوتی رہے کہ ہمارے لیے بھی اس نظام میں جگہ ہے۔ کوئی نظریاتی کونسل بنا دی جائے گی، کوئی رؤیت ہلال کمیٹی بن جائے گی، کوئی قرآن بورڈ تشکیل دے دیا جائے گا، سرکاری اہتمام میں کچھ علماء ومشائخ کانفرنسیں منعقد کر لی جائیں گی تاکہ طبقہ علماء کو مطمئن رکھا جائے کہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کی کوئی قدر نہیں ہے، تاکہ اس کے بعد جو ایک عمومی نظام بنا ہوا ہے، یہ حضرات اس کے لیے کوئی مسئلہ نہ کھڑا کریں۔ اگر علماء کو engage نہیں کریں گے تو اس طبقے میں نظام سے بہت زیادہ alienation پیدا ہو جائے گی۔ مذہب تو موجود ہے سوسائٹی کی نفسیات میں اور اس کی ایک سماجی اور سیاسی طاقت بھی ہے۔ سو اس طبقے کو نظام پر حاوی کیے بغیر اسے ایک حد تک نمائندگی دے دی جائے، اس انڈرسٹینڈنگ کے ساتھ کہ بھئی، جو جگہ آپ کو دی گئی ہے، اس پر خوش رہیں اور اس سے آگے خواہ مخواہ باقی معاملات میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ یہی اس وقت مصر اور پاکستان جیسے معاشروں میں حکومتی پالیسی ہے کہ طبقہ علماء کو اس طرح engage کیا جائے کہ ان کو اس بات کا زیادہ احساس نہ ہو کہ ہمیں sideline کر دیا گیا ہے۔ 

میں اس تجزیے سے ایک سو ایک فی صد اتفاق کرتا ہوں، لیکن میرے نزدیک اس میں دوش ارباب اقتدار کو نہیں، بلکہ خود مذہبی لیڈر شپ کو دینا چاہیے۔ ارباب اقتدار کو تو فطری طور پر ایسے ہی سوچنا چاہیے۔ یہ ان کی سیاست کا بھی تقاضا ہے اور مفاد کا بھی اور ایک لحاظ سے دیکھیں تو حکمت کا بھی۔ اصل میں تو سوال مذہبی لیڈر شپ پراٹھتا ہے کہ وہ کچھ perks and privileges پر راضی ہو کر اپنے طبقاتی مفاد اور وہ بھی زیادہ تر اوپر کی سطح کی قیادت کے مفاد کا تحفظ کرنے پر قناعت کر چکی ہے، جبکہ خدا کے دین کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی جو ذمہ داری بنتی ہے، وہ بالکل پس پشت ڈال دی گئی ہے۔ مذہب تو اپنی اصل روح کے اعتبار سے لوگوں کی زندگیاں بدلنے اور انسان کو اخلاقی خرابیوں سے پاک کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم یہ نہیں کر رہے۔ سماجی کردار کے لحاظ سے دیکھیں تو ظلم وجبر اور استحصال پر مبنی ایک نظام میں مذہبی طبقے کا رویہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک Stake holder کی طرح بس اپنے مخصوص طبقاتی مفادات کے تحفظ کو مطمح نظر بنا لے، جبکہ ہم بعینہ یہی کر رہے ہیں۔

مشعل سیف: آپ کے حوالے سے ایک مسئلہ جو بہت Controversial رہا ہے، وہ ہے توہین رسالت پر سزا کا قانون۔ آپ کے افکار بہت سے علماء سے مختلف ہیں اور آپ پر اس حوالے سے کافی تنقید بھی کی گئی ہے۔

عمار ناصر: نہیں، میرے افکار کوئی اتنے مختلف نہیں ہے۔ جب آپ کسی معاملے کو politicize کر دیں تو پھر ایسا لگتا ہے۔ میرا نقطہ نظر زیادہ مختلف نہیں ہے۔ دیکھیں، مجھے اس سے پورا اتفاق ہے کہ توہین رسالت ایک جرم ہے۔ مجھے اس سے بھی اتفاق ہے کہ مسلمانوں کے ملک میں اس مسئلے کو قانون کا موضوع بننا چاہیے۔ جہاں مسلمانوں کی ریاست دوسرے جرائم کی روک تھام کے لیے قانون بناتی ہے، یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے پیغمبر کی عزت وناموس کی حفاظت کے لیے بھی قانون سازی کرے۔ اس معاملے سے ریاست لا تعلق نہیں رہ سکتی۔ مجھے اس سے بھی اتفاق ہے کہ اس جرم پر مجرم کے لیے موت کی سزا بھی قانون میں شامل کر لی جائے تو وہ بالکل درست ہے۔ اختلاف کس بات پر ہے؟ اختلاف صرف اتنی بات پر ہے کہ جرم کی نوعیت اور سوسائٹی میں مجرم کی حیثیت کیا ہے یا اس نے جو جرم کیا ہے، اس کا کتنا اثر سوسائٹی میں پھیلا ہے، کیا سزا دیتے ہوئے ان چیزوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے یا نہیں رکھنا چاہیے؟ میں نے جتنا بھی اسلامی شریعت کو، فقہ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور صحابہ کے فیصلوں کو پڑھا ہے، یہی واضح ہوتا ہے کہ آپ کو یہ سارے پہلو ملحوظ رکھ کر ہی مجرم کے خلاف اقدام کرنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک آدمی نے، چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، کسی بھی کیفیت میں، کسی بھی سچویشن میں، ارادۃً یا بلا ارادہ اپنے منہ سے کوئی ایسا کلمہ نکال دیا جو توہین کو مستلزم ہے تو بس ہم اس کی گردن اڑانے کے ہی پابند ہیں۔ یہ اسلام نے نہیں کہا۔ آپ کو ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اگر اس نے بلا ارادہ ایسا کیا ہے تو اسے توبہ کا موقع ملنا چاہیے۔ ظاہر ہے کہ مسلمان تو ارادۃً ایسا نہیں کر سکتا۔ غیر مسلم نے اگر ارادۃً کیا ہے تو دیکھا جائے کہ کس سچویشن میں کیا ہے؟ کیا بات ہو رہی تھی؟ کیا گفتگو چل رہی تھی؟ عین ممکن ہے کہ مسلمان اور غیر مسلم آپس میں کوئی بحث کر رہے ہوں اور اس میں مسلمانوں نے کوئی سخت بات غیر مسلموں کے مذہب کے بارے میں کہہ دی ہو اور اس کے رد عمل میں غیر مسلم کے منہ سے بھی ایسی کوئی بات نکل جائے اور پھر وہ اس پر نادم ہو اور معذرت پیش کرنے کے لیے آمادہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان ہر طرح کے حالات میں شریعت ہمیں پابند کرتی ہے کہ ہم ضرور اس کی گردن ہی اڑائیں؟ یہ ہرگز شریعت کا منشا نہیں ہے۔

میرا اختلاف صرف اتنا ہے کہ مجرم کے حالات کے لحاظ سے قانون میں موت سے کم تر سزا کی گنجائش بھی ہونی چاہیے اور خاص طور پر اگر مجرم اپنے جرم پر نادم ہو ، شرمندہ ہو اور معذرت پیش کر رہا ہو تو ا س کو توبہ کا موقع دینا چاہیے۔ یہی شریعت کا منشا ہے۔ اور یہ بات میں نے کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہی۔ ہمیشہ سے فقہا میں یہ دونوں نقطہ نظر رہے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے تلامذہ خاص طور پر اس کے قائل ہیں کہ آپ اس معاملے میں آخری حد تک مجرم کو توبہ ہی کا موقع دیں گے۔ ہاں، جب کوئی مجرم اس سطح پر آ جائے کہ وہ بار بار جرم کا ارتکاب کرتا ہے اور علانیہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا، تب اس کے فساد سے بچنے کے لیے آپ اس کو موت کی سزا دے سکتے ہیں۔ 

ہمارے ہاں یہ مسئلہ دراصل politicize ہو چکا ہے۔ جو سیکولر لابی ہے، اس کی کوشش یہ ہے کہ سرے سے یہ قانون ہی ختم ہو جائے۔ اس کے رد عمل میں جو مذہبی لوگ ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ قانون جیسا ہے اور جیسا بھی بن گیا ہے، ا س کو بالکل نہ چھیڑا جائے۔ یہ ایک سیاسی کشمکش ہے اور میں اس میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ا س جرم پر سزا کا قانون ہونا چاہیے، یہ لازم ہے۔ یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے۔ لیکن قانون میں اتنی لچک ہونی چاہیے جتنی لچک شریعت نے رکھی ہوئی ہے۔ تو یہ نقطہ نظر کا اتنا اختلاف نہیں ہے جتنا اس معاملے کے politicize ہو جانے کی وجہ سے دکھائی دیتا ہے۔

مشعل سیف: لیکن کافی علماء ہیں جو ا س معاملے میں لچک پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ لچک نہیں ہونی چاہیے۔

عمار ناصر: نقطہ نظر کا اختلاف تو موجود ہے۔ وہ اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ لچک کا ہونا یہ شریعت کے منشا کے زیادہ قریب ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نہیں ہے تو ٹھیک ہے۔ میں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے، وہ بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ زبردستی اپنا موقف نہ میں enforce کر رہا ہوں نہ ان کو حق ہے کہ وہ enforce کریں۔

مشعل سیف: آپ کے اور دوسرے علماء کے درمیان ایک اور جو اختلاف ہے، وہ یہ کہ دوسرے علماء کافی حد تک یہ کہتے ہیں کہ جیسے ہی ایک شخص توہین رسالت کرتا ہے، وہ مباح الدم ہو جاتا ہے اور کوئی بھی اس کو قتل کر سکتا ہے، جبکہ آپ اس کے متعلق مختلف بات کہتے ہیں۔

عمار ناصر: بالکل نہیں۔ مباح الدم ہونے کا فیصلہ تبھی ہوگا جب کوئی با اختیار قانونی اتھارٹی یہ قرار دے دے گی کہ اس شخص کے جرم کی نوعیت فی الواقع ایسی ہے کہ اس کے بعد یہ کسی رعایت کا اور توبہ کا موقع دیے جانے کا مستحق نہیں رہا۔ مباح الد م ہونے کا یہ جو تصور ہے کہ جو بھی آدمی چاہے، اس کو اٹھ کر مار دے تو یہ کسی بھی طرح درست نہیں۔ مثلاً آپ دیکھیں کہ ایک آدمی نے کسی کو قتل کر دیا ہے۔اس کی سزا تو definitely یہ ہے کہ اس سے قصاص لیا جائے، لیکن کیا شریعت نے یہ کہا ہے کہ جو چاہے، اٹھ کر قاتل کو قتل کر دے؟ یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ مقدمہ عدالت میں جائے گا، عدالت سارا کیس دیکھے گی اور وہی سزا دے گی۔ تو مباح الدم کا یہ جو تصور ہے کہ اس کے بعد وہ آدمی جس کے ہاتھ لگ جائے، وہ اسے مار دے، یہ بالکل کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔

مشعل سیف: اگر حکومت کچھ نہ کر رہی ہو، مثلاً ایک شخص نے توہین رسالت کردی ، مگر حکومت اس پر مقدمہ نہیں چلا رہی تو پھر کیا کیا جائے؟

عمار ناصر: اس کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہے۔ ایک چیز ہمارے دائرۂ اختیار میں ہی نہیں ہے تو اس میں ہم مسؤل بھی نہیں ہیں۔ بنیادی بات یہ دیکھنے کی ہے کہ ہمیں کوئی اقدام آیا اس لیے کرنا ہے کہ اس سے ہمارے جذبات کی تسکین ہوتی ہے یا اس لیے کرنا ہے کہ اس سے خدا راضی ہوتا ہے اور ہم نے خدا کے سامنے اس کا جواب دینا ہے؟ اس وقت ہم فیصلے پہلی بنیاد پر کر رہے ہیں کہ اگر ہم اس بندے کو نہیں ماریں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہماری دینی غیرت مر گئی ہے۔ آپ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھیں۔ مکہ کی ساری زندگی میں رسول اللہ کو گالیاں ہی دی جاتی رہیں۔ کیا وہاں مسلمانوں کو غصہ نہیں آتا تھا یا ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی تھی؟ لیکن شریعت نے روکا ہوا تھا کہ اس وقت اقدام کی اجازت نہیں ہے۔ اس وقت ان ساری خرافات کو گوارا کرنا اور سن کر اعراض کر لینا ہی دین وایمان کا تقاضا ہے۔ تو ہمیں اپنے جذبات کو بھی دین وشریعت کے تابع بنانا چاہیے۔

مشعل سیف: آپ اس جرم کو Crime against the state تصور کرتے ہیں اور آپ نے اپنی کتاب میں بھی یہ لکھا ہوا ہے، جبکہ دوسرے علماء اس کو ایسا تصور نہیں کرتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس نے ہر ہر مسلمان کے خلاف جرم کیا ہے اور وہ مباح الدم ہو چکا ہے تو اب کوئی بھی اسے مار سکتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ حکومت ہی اقدام کرے۔

عمار ناصر: یہ بات تو ہماری جو کلاسیکی فقہ ہے، اس کے بھی بالکل خلاف ہے۔ فقہ میں کوئی امام بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ جو بھی جرائم اسٹیٹ کے خلاف ہوتے ہیں، وہ اصل میں سوسائٹی کے خلاف ہوتے ہیں جس کی نمائندگی اسٹیٹ کر رہی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ بنے گا کہ اس نوعیت کے ہر جرم میں آپ ہر شخص کو سزا دینے کا اختیار دے رہے ہیں۔ پھر تو قانون ختم ہو جائے گا۔ اسلامی فقہ میں ہرگز توہین رسالت کے مجرم کو سزا دینے کا یہ طریقہ suggest نہیں کیا گیا اور نہ اس کو پسندیدہ کہا گیا ہے۔ فقہ میں صرف اتنی بات کہی گئی ہے کہ اگر کسی شخص نے گستاخی کی ہے اور کسی مسلمان نے مشتعل ہو کر، جذبات میں آ کر اسے قتل کر دیا اور پھر عدالت نے تحقیق کے بعد یہ دیکھاکہ مقتول نے واقعی یہ جرم کیا تھا اور مارنے والے نے واقعتا جذبات میں آ کر ایسا کیا ہے، کوئی اور motive نہیں تھا تو عدالت اس کو extenuating circumstances کی رعایت دے گی۔ صرف یہ بات کہی گئی ہے۔ یہ نہیں کہ positively یہ تجویز کیا گیا ہے کہ جو شخص چاہے، اس کا قصہ پاک کر دے۔

مشعل سیف: آپ نے توہین رسالت کے بارے میں جو کچھ لکھا، وہ ممتاز قادری کے کیس کے پس منظر میں لکھا۔ کیا یہ بات درست ہے؟

عمار ناصر: اصل میں کسی خاص واقعے کے نتیجے میں مسئلہ highlight ہو جاتا ہے، لوگوں کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی اپنی آرا بھی پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں ایک موقع بن جاتا ہے جس میں آپ کو اپنی بات کہنی پڑتی ہے، ورنہ ممتاز قادری کے کیس کی فی نفسہ میری نظر میں اتنی اہمیت نہیں ہے۔ اس نے ایک ایسا موقع بنا دیا کہ توہین رسالت کے قانون کے بارے میں بحث کھڑی ہو گئی اور اس کے حوالے سے مجھے بھی لکھنا پڑا۔

مشعل سیف: اگر آپ کے نقطہ نظر سے اس کیس کو دیکھا جائے تو پھر ممتاز قادری ایک مجرم ہے، کیونکہ اسے سزا دینے کا حق نہیں تھا۔ یہ توحکومت کا کام تھا۔

عمار ناصر: سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص آیا فی الواقع توہین رسالت کا مرتکب ہوا بھی ہے یا نہیں؟ یہ بنیادی سوال ہے۔ اگر کسی شخص کے بیان کی ایک سے زیادہ interpretations ممکن ہوں تو اس کے متعلق یہ مسلمہ اصول ہے کہ آدمی کو اپنی بات کی وضاحت خود کرنے کا حق ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں توہین رسالت کی حمایت نہیں کر رہا، بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ہاں اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اگر ایک شخص اپنی بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ وہ قانون کے غلط استعمال پر تنقید کر رہا ہے تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اس نے توہین رسالت کی ہے؟ 

فر ض کر لیں کہ کسی نے واقعی توہین رسالت کی تھی تو اس پر بھی ایک عام آدمی کو کیسے یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اٹھے اور ازخود اس کے خلاف اقدام کر ڈالے؟ لیکن یہاں شاید عام آدمی کا اتنا قصور نہیں، اس لیے کہ وہ ایک سادہ ذہن کا مسلمان ہوتا ہے۔ اصل میں تو پکڑنا چاہیے ان لوگوں کو، ان شعلہ بیان مقرروں کو جو ازخود کسی کے بیان کی ایک interpretation کر کے لوگوں کو بھڑکاتے ہیں اور انھیں ترغیب دیتے ہیں کہ فلاں شخص کو مار دینا عشق رسالت کا تقاضا ہے۔ سو یہ جو بھی ہوا، اس کو دونوں حوالوں سے دیکھنا چاہیے۔ پہلے تو آدمی کو اپنی بات کی وضاحت کا حق دینا چاہیے اور اگر اس کی نیت واقعی توہین رسالت کی ہو تو سزا عدالت کے ذریعے سے ملنی چاہیے۔

مشعل سیف: اس معاملے میں آپ کی رائے پر خاصی تنقید کی گئی ہے۔ سنا ہے کہ آپ کو اس پر threats بھی ملیں؟

عمار ناصر: جی نہیں، کوئی threat نہیں آئی۔ میں نے بہت سے sensitive issues پر لکھا ہے اور بعض دفعہ یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ کیا میں نے ہی ٹھیکہ لیا ہوا ہے ہر ایسے مسئلے پر لکھنے کا، لیکن بہرحال کوئی ایشو سامنے آتا ہے تو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے لکھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود مجھے اب تک کوئی براہ راست threat کسی بھی ایشو کے حوالے سے نہیں آیا۔

مشعل سیف: آپ ’الشریعہ‘ کے مدیر ہیں۔ اس ماہنامے کے متعلق کچھ بتائیے۔

عمار ناصر: الشریعہ کا اجرا والد گرامی نے ۱۹۸۹ء میں کیا تھا۔ اب اس کی ۲۴ ویں جلد چل رہی ہے۔ ہمارا خاندانی پس منظر اگرچہ وہی ہے جو میں نے آپ کو بتایا، لیکن والد گرامی کے اپنے فکر اور ذہنی ترجیحات میں مسلکی مسائل اور مذہبی اختلافات جگہ نہیں بنا سکے۔ شروع سے ہی ان کی دلچسپی کا اور غور وفکر کا دائرہ یہی رہا ہے کہ امت کا جو اجتماعی مفاد ہے اور جدید معاشرے کی جو فکری ضروریات ہیں، ان کے لحاظ سے آج کے دور میں کون سے مسائل ہماری توجہ کے طلب گارہیں۔ چونکہ ان کے اپنے وژن میں وسعت تھی تو ’الشریعہ‘ بھی شروع سے اسی دائرے کے موضوعات کو زیر بحث لاتا رہا ہے۔ کبھی اس میں روایتی مسلکی بحثیں نہیں چھپیں۔

میں پہلے دن سے اس رسالے کی ترتیب میں معاون کی حیثیت سے ان کے ساتھ شریک رہا ہوں اور تربیت لیتا رہا ہوں، لیکن ۲۰۰۱ء کے بعد اس کی ادارت باقاعدہ میرے سپرد ہو گئی اور اس کے بعد سے میں ہی اس کومرتب کرتا ہوں۔ اس کے لیے موضوعات اور مضامین کا انتخاب میں ہی کرتا ہوں، بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کو ایک خاص trend دینے میں بھی بڑی حد تک میرا ہی کردار ہے۔ اگرچہ والد گرامی کی پوری سرپرستی اور تائید مجھے حاصل ہے، لیکن ظاہر ہے کہ عملاً جو آدمی کام کرتا ہے، اس کی اپنی دلچسپیوں اور ترجیحات کا، کام کی عملی صورت اور نقشے پر خاصا اثر پڑتا ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ چیز بڑی شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ پوری قوم مختلف فکری compartments میں تقسیم ہے، ہر گروہ اپنے ہی خول میں بند کچھ باتیں سوچ کر بیٹھا ہوا ہے او راس سے باہر سوچنے کے لیے تیار نہیں۔ ڈائیلاگ بالکل نہیں، ایک دوسرے سے سیکھنے کا معاملہ بالکل نہیں ہے۔ ایک دوسرا آدمی کیسے کسی مسئلے کو دیکھتا ہے، اس کے پوائنٹ آف ویو کو سمجھنے کی بالکل کوئی کوشش نہیں۔ یہ صورت حال ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ ہے۔ سو ہم نے ’الشریعہ‘ میں پچھلے دس بارہ سال سے اس کی کوشش کی ہے کہ یہ جو مختلف الخیال لوگ ہیں، ان کے مابین مکالمے کے لیے ایک فورم مہیا کیا جائے۔ 

اس کوشش میں ہم نے بے شمار sensitive ایشوز پر اور بڑے اہم مسائل پر کھلے مباحثے کا اہتمام کیا ہے اور اس پر ہمیں بڑی گالیاں بھی کھانی پڑی ہیں۔ والد صاحب کا جو اپنا حلقہ فکر ہے، وہ بالکل typical دیوبندی حلقہ فکر ہے۔ اس کی طرف سے انھیں سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ آپ کیوں ایسی چیزیں اس رسالے میں چھاپتے ہیں جو دیوبندی نقطہ نظر سے مختلف ہیں یا بحیثیت مجموعی مذہبی طبقے کی جو سوچ ہے، اس سے میل نہیں کھاتیں۔ لیکن ہم نے بحمد اللہ اس پالیسی کو بڑی استقامت سے continue رکھا ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ عزم یہی ہے۔ جب تک ہم اس فضا کو نہیں بدلیں گے کہ ہم ایک دوسرے کی بات نہ سن سکتے ہیں، نہ اس پر غور کر سکتے ہیں، جب تک یہ فضا ہے، ہم اسی جمود کی کیفیت میں رہیں گے۔ یہ جو فکری barriers ہیں، ان کو توڑنا سب سے پہلے ضروری ہے۔ اس کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں اور اللہ کی مدد شامل رہی تو کرتے رہیں گے۔

مشعل سیف: آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے تفصیلی گفتگو کے لیے اتنا وقت نکالا۔

عمار ناصر: آپ کا بھی بے حد شکریہ!

آراء و افکار