’’کافروں‘‘ کے دفاع میں جہاد

جان کائزر

(یہ مصنف کی کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان‘‘ (شائع کردہ: دار الکتاب، اردو بازار، لاہور) کا ایک باب ہے جو ۱۸۶۰ء میں دمشق میں رونما ہونے والے مسلم مسیحی فسادات کے دوران میں الجزائر کے مشہور مجاہد آزادی امیر عبد القادر کے جرات مندانہ کردار پر روشنی ڈالتا ہے۔ اسے سانحہ بادامی باغ لاہور اور اس جیسے دوسرے شرم ناک واقعات کے تناظر میں یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


ہر طرف بہت بری افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ تفصیلات بہت کم دستیاب تھیں، لیکن جب اڑتی اڑتی کچھ باتیں امیر کے کانوں تک پہنچیں تو وہ لرز کر رہ گیا۔ عیسائیوں کو اپنے کیے کا پھل بہت جلد ملنے والا تھا۔ ۵ مارچ ۱۸۶۰ء کو دمشق کے گورنر احمد پاشا نے اپنے محل میں کئی مقامی رہنماؤں کی میٹنگ طلب کی جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ اس کا مقصد ’’ذمہ‘‘ کا قانون ختم کرنے والی اصلاحات کو بے اثر کرنا تھا۔ جن لیڈروں کو اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا، ان میں دو دروز سرداروں سعید بے جنبلاط اور ولد العطرش کے علاوہ دمشق کے مفتی بھی شامل تھے۔ دروزوں نے لبنان میں پہلا مرحلہ مکمل کرنا تھا جہاں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان ٹیکسوں اور مساوی حقوق کی نئی اصلاحات پر پہلے ہی ہر روز فسادات ہو رہے تھے۔ دمشق کا دھیان رکھنا احمد پاشا نے اپنے ذمے لیا تھا۔ اگر دمشق میں شورش کا آغاز ہوا تو ان کا خیال تھا کہ درستی کا عمل خود بخود حمص، حلب، لاذقیہ اور ایسے دیگر علاقوں تک پھیل جائے گا جہاں عیسائی آبادی رہتی ہے۔

عبدالقادر نے فرانس کے قائم مقام قونصلرلانوزے سے ملاقات کی۔ لانوزے ماہر عربیات تھا اور امیر کے فرانسیسی مداحوں کے غیر سرکاری ’’حلقہ قادریہ‘‘ کا رکن تھا۔ اسے امیر پر اتنا اعتماد تھا کہ اس نے فوراً دیگر ممالک کے سفیروں کو اکٹھا کرکے میٹنگ کی اور سب نے احمد پاشا سے مل کر زیر گردش افواہوں کے بارے میں براہ راست بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ پرسکون تاثرات والے گورنر نے بڑے وقار سے ان کا خیر مقدم کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ساری افواہیں بے بنیاد ہیں۔ اس کی فوج عیسائیوں کی حفاظت کرے گی اور وہ اس پر پورا بھروسہ کر سکتے ہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ سارے سفیر مطمئن ہو کر واپس چلے گئے۔ احمد پاشا نے فوراً دروز سرداروں کو پیغام بھیجا کہ منصوبے پر عمل درآمد فی الحال ملتوی کر دیا جائے۔ 

مئی کے ابتدائی دنوں میں عبدالقادر کو نئی اطلاع ملی کہ عیسائیوں کے خلاف سازش کا بازار ایک پھر گرم ہو گیا ہے۔ اس بار اطلاع دینے والے خود اس کے الجزائری لوگ تھے جن میں سے کچھ لوگوں سے اس سازش میں شامل ہونے کو کہا گیا تھا۔ عبدالقادر نے ان سے کہا کہ وہ منصوبہ بندی کرنے والوں میں شامل ہو جائیں اور اسے حالات سے باخبر رکھیں۔ امیر ایک بار پھر لانوزے کے پاس گیا۔ تھوڑی سی تگ ودو کے بعد لانوزے سفیروں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگیا تاکہ عیسائیوں کے قتل عام کی نئی سازش پر بات کی جائے۔ وہ سب دوسری بار گورنر سے ملنے سے ہچکچا رہے تھے کیونکہ ایسا کرنا گورنر کی نیک نیتی پر شک کرنے کے مترادف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگراس طرح کا کوئی منصوبہ تھا بھی تو وہ یقیناًپہلے ہی رفع دفع ہو چکا ہے، لیکن لانوزے کی دلیل یہ تھی کہ اگر ان سب کی سوچ غلط ہوئی اور واقعی اس طرح کا واقعہ رونما ہوگیا تو پھر؟ گورنر سے دوسری بار ملاقات کے لیے جانے کی شرمندگی ہمیشہ رہنے والے اس پچھتاوے سے کم ہوگی جو اس کے خدشات درست ثابت ہونے کی صورت میں ملے گا۔ فرانسیسی قونصلرکی دلیل کام کر گئی اور گورنر کے ساتھ دوبارہ ملاقات کا اہتمام ہوگیا۔ اپنے شائستہ اور ملنسار رویے سے احمد پاشا نے ایک بار پھر سفیروں کو تسلی وتشفی دے کر مطمئن کرکے رخصت کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی ساز باز میں شریک ساتھیوں کو منصوبے پر عملدرآمد مزید مؤخر کرنے کا پیغام بھی بھیج دیا۔

جب ایسی اطلاعات آئیں کہ دروز گھڑ سوار دمشق کی حدود سے باہر موجود عیسائی بستیوں میں لوٹ مار کر رہے ہیں تو عبدالقادر نے دروز سرداروں کو خط لکھ کر انہیں پرسکون رہنے اور احتیاط سے کام لینے کی ترغیب دی۔ اس نے لکھا تھا: ’’اس طرح کی حرکتیں ایک ایسی کمیونٹی کو زیب نہیں دیتیں جو اپنی خوش خلقی اور دانش کی وجہ سے مشہور ہے۔‘‘ امیر نے دروزوں اور عیسائیوں کے درمیان پرانی دشمنی کی موجودگی کو تسلیم کیا اور لکھا کہ اسے گمان ہے کہ حکومت لبنان میں ہونے والی غلط کاریوں کی ساری ذمہ داری دروزوں پر نہیں ڈالے گی، لیکن جہاں تک دمشق کا تعلق ہے، امیر نے انہیں خبردار کیا کہ ’’اگر آپ ایک ایسے شہر کے باسیوں کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں گے جس کے ساتھ آپ کی کبھی بھی دشمنی نہیں رہی تو مجھے ڈر ہے کہ اس کا نتیجہ ترک حکومت کے ساتھ شدید بگاڑ کی صورت میں نکلے گا۔ ہم آپ کی اور آپ کے ہم وطنوں کی خیر وعافیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ .....دانش مند شخص پہلا قدم اٹھانے سے پہلے ہی اس کے عواقب کا اندازہ لگا لیتا ہے۔‘‘ امیر نے دمشق میں موجود علما اور اہم مسلم شخصیات کو بھی خطوط لکھے اور ان پر زور دیا کہ وہ معصوم لوگوں کو نقصان سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔ امیر نے انہیں یہ بھی یاد دلایا کہ اقلیتوں بالخصوص اہل کتاب کو تحفظ فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

مئی کے آخری دنوں میں ساری معلومات سمیت امیر ایک بار پھر لانوزے کے پاس پہنچ گیا۔ کوئی طوفان ضرور اٹھنے والا تھا۔ اس بار امیر کے پاس بالکل درست تفصیلات تھیں۔ یہ پتہ چلا تھا کہ احمد پاشا پہلے بھی ایک بار دمشق میں عیسائیوں کے خلاف کارروائی کی کوشش کر چکا تھا، لیکن مقامی رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے اسے ارادہ ترک کرنا پڑا۔ منصوبہ یہ بنایا گیا تھا کہ ترک عیسائیوں کی جان ’’بچانے‘‘ کے لیے آئیں گے اور انہیں ’’حفاظت‘‘ کے لیے قلعے میں لے جایا جائے گا جہاں سازش میں شریک دروز انہیں قتل کر دیں گے۔ فرانسیسی قونصلرکے سفارت کار ساتھیوں کے پاس گورنر سے ایک بار ملاقات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لانوزے امیر کی تازہ ترین معلومات کو بہرحال اتنی سنجیدگی سے ضرور لے رہا تھا کہ اس نے اپنا سارا کیرئیر داؤ پر لگا دیا تھا۔ 

اس وقت فرانسیسی سفارت کاروں کو اجازت تھی کہ کوئی سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو وہ جتنا چاہے قرض لے لیں۔ لانوزے نے عبدالقادر کے ساتھ اس پر اتفاق کیا کہ اس کے ایک ہزار الجزائری ساتھیوں کو مسلح کر دیا جائے۔ اس کے لیے اس نے استنبول میں اپنے سفیر سے منظوری بھی نہیں لی جس کے مشیر ان افراد کو مسلح کرنے کے معاملے میں متذبذب تھے کیونکہ ان کے خیال میں یہ آدمی جتنی شدت کے ساتھ امیر سے محبت کرتے تھے، اتنی ہی شدت کے ساتھ فرانسیسیوں سے نفرت بھی کرتے تھے۔ 

دمشق سے باہر مقیم سات سو مسلح الجزائری افراد چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں شہر کے اندر آکر ان تین سو لوگوں کے ساتھ شامل ہو گئے جو پہلے ہی شہر کے اندر رہ رہے تھے۔ امیر پر اعتبار کرتے ہوئے لانوزے نے انہیں انتہائی خفیہ طور ہر وہ ہتھیار رکھنے کی اجازت دے دی جسے رکھنا ممکن تھا۔

فرانسیسی قونصل نے ایک بار پھر گورنر سے ملاقات کی اور اس مرتبہ وہ اکیلا ہی اس سے ملنے گیا۔ لانوزے نے گورنر پر یہ واضح کیا کہ اسے سب پتہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور یہ کہ یورپی قوتیں اس ساری کارروائی کا ذمہ دار احمد پاشا کو ٹھہرائیں گی۔ اس گفتگو کے ترک گورنر پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے اور اس نے ولد العطرش اور سعید بے جنبلاط کو ایک اور پیغام بھیجا جس میں سارے منصوبے کو ختم کرنے کا حکم دیا، لیکن اب بہت دیر ہو گئی تھی۔ دونوں سردار پہلے ہی سازش پر عملدرآمد کا آغاز کر چکے تھے۔

احمد پاشا نے اپنے حصے کا کردار تین ہفتے کی تاخیر سے ۸جولائی کو ادا کیا۔ چند مسلمان لڑکوں نے دمشق کی عیسائی بستیوں کے قریب سڑک پر صلیب اور مذہبی پیشوا کے عمامے کی تصویریں بنا کر پہلے ان پر تھوکا اور پھر کوڑا کرکٹ پھینکا۔ عیسائیت کی سر عام توہین کرنے پر احمد پاشا نے ان کے لیے ایسی سزا تجویز کی جس سے صورتحال پر کڑی نظر رکھنے والی یورپی طاقتوں کو یہ ثبوت ملتا کہ اصلاحات کے مطابق مسلمانوں سے اپنے عیسائی بھائیوں کا جس طرح احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اس پر عمل ہو رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اسے یہ بھی یقین تھا کہ اس فیصلے سے مسلمانوں میں شدید غم وغصے کی لہر پیدا ہوگی جو پہلے ہی اپنے داخلی معاملات میں مداخلت کی بنا پر یوریی ممالک سے نفرت کرتے تھے۔

نو جولائی کو مجرموں کی، جن کی حیثیت احمد پاشا کی ساری منصوبہ بندی میں چھوٹے مہروں سے زیادہ نہیں تھی، سرعام پٹائی کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ہاتھوں اور پیروں کے بل چلتے ہوئے ان سڑکوں کو اچھی طرح دھوئیں جن پر انہوں نے غلاظت پھینکی تھی۔ باقی سارا کام اشتعال انگیز عناصر نے خود کر دیا۔


امریکی نائب قونصل اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ عینی شاہدین نے ساٹھ سالہ گول مٹول مائیکل مشاگا کو دیکھا کہ جب اس کا تعاقب کرنے والے بہت نزدیک پہنچ جاتے تو وہ ان کی توجہ بٹانے کے لیے زمین پر سکے اچھال دیتا۔ اس صورتحال میں وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ سارے یورپی سفارت کاروں کی رہائش گاہیں اور سفارتخانے ہجوم کے غیظ وغضب کا پہلا ہدف تھے۔

لیکن مشاگا حقیقت میں امریکی نہیں تھا۔ وہ لبنانی پادری تھا جو شام میں پروٹسٹنٹ امریکی مشنریوں کا حامی بن گیا تھا۔ اس کی پیدائش یونانی کیتھولک چرچ میں ہوئی تھی، لیکن وہ اس کی تنگ نظری اور کرپشن سے نالاں تھا۔ اڑتالیس سال کی عمر میں مشاگا نے پروٹسٹنٹ مسلک اپنا لیا اور لاطینی چرچ کے لیے اپنی ناپسندیدگی کی وجہ سے ’’مشرق کا لوتھر‘‘ کے نام سے معروف ہوگیا۔ سفارت کار اور سیاستدان اس کی زبان دانی اور مختلف گروہوں مثلاً دروز، علاوی، یہودی، آرمینیائی، شیعہ، زرتشتی، قطبی، یہاں تک بعض یونانی اور لاطینی عیسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی بنا پر مشاگا کی بہت قدر کرتے تھے۔ اپنی اچھی ساکھ اور وسیع علم کی وجہ سے امریکہ نے اسے وہاں اپنا قونصل مقرر کیا تھا، لیکن یہ قدر ومنزلت تو اب اس کی جان کے درپے ہوگئی تھی۔

مشاگا نے اس وقت راہ فرار اختیار کی جب مشتعل ہجوم نے اس کے گھر پر حملہ کر دیا۔ عبدالقادر سے راہ ورسم رکھنے والے بہت سے دیگر سفارت کاروں کی طرح مشاگا نے بھی عیسائی علاقوں سے ملحق امیر کی رہائش گاہ کا رخ کیا۔ پچھلے پانچ سال کے دوران امیر اور مشاگا اچھے دوست بن گئے تھے۔ دونوں میں بہت سی دلچسپیوں کے اشتراک کے علاوہ عقیدے، استدلال اور خدا کو ماننے کے طریقوں میں تنوع کے معاملات میں بھی انداز فکر ایک ہی جیسا تھا۔ امیر کی طرح مشاگا کا علم بھی بہت وسیع تھا۔ وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر بھی تھا، مذہبی اسکالر، ریاضی دان، موسیقار اور شوقیہ ماہر فلکیات بھی۔

مشاگا امیر کی رہائش گاہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا اور ہتھیار لہراتا ہوا ہجوم اس کے تعاقب میں تھا۔ مشاگا نے وہاں پہنچ کر زور زور سے دروازہ دھڑ دھڑایا، لیکن جتنی دیر میں امیر کے ایک ملازم نے دروازہ کھول کر اسے اندر کھینچا، ایک درانتی اس کا کان چیرتی ہوئی نکل گئی۔ 

اندر پہنچ کر مشاگا نے دیکھا کہ امیر کی بیوی خیرا شدید خوفزدہ لوگوں کے ایک چھوٹے سے ہجوم کی بڑے پرسکون انداز میں تواضع کر رہی ہے جیسے وہ چائے کی دعوت پر آئے ہوں۔ البتہ انہیں وہاں کھانے کے لیے کھیرے اور روٹی پیش کی جا رہی تھی۔

لیکن نو جولائی کی صبح عبدالقادر کہاں تھا؟ ایک روز پہلے وہ گھوڑے پر سوار ہو کر شہر سے باہر اپنی جاگیر پر گیا تھا اور اس نے فوراً دمشق واپس پہنچنے کے پیغامات کا بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ جب شہر میں کشیدگی بڑھ رہی تھی اور اس کا وہاں موجود ہونا اشد ضروری تھا تو پھر وہ شہر سے کیوں گیا؟

کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا پھر فرانسیسی قونصل کے ساتھ کی گئی کوئی ساز باز جس کا مقصد چند معصوم جانوں کی قربانی دینا تھا، جیسا کہ بعد میں کچھ لوگوں نے خیال ظاہر کیا؟ دونوں باتیں قرین قیاس نہیں لگتیں۔ چرچل نے اس کی غیر موجودگی کی بڑی قابل تعریف وضاحت پیش کی تھی۔ عبدالقادر کو پتہ چل گیا تھا کہ عیسائیوں کو حفاظت کے بہانے قلعے میں لے جا کر قتل کرنے کے منصوبے کی افواہیں درحقیقت درست تھیں۔ جب اسے یہ اطلاع ملی کہ دروز کیولری دمشق کی جانب بڑھ رہی ہے تو امیر نے اپنے بیٹوں محمد اور ہاشم کو ساتھ لیا اور دروزوں کا راستہ روکنے کے لیے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ صحنایا کے نزدیک واقع اپنی حوش بلاس کی جاگیر سے عبدالقادر دروزوں کو بہتر طور پر روک سکتا تھا۔ اشرفیہ کے نزدیک امیر نے دیکھا کہ دروز سردار، احمد پاشا کی طرف سے شہر میں داخل ہونے کا اشارہ ملنے کے منتظر کھڑے تھے۔ وہاں امیر کی ان کے ساتھ دیر تک گفت وشنید ہوتی رہی جس کے بعد دروز اپنا گھناؤنا منصوبہ ترک کر کے واپس لوٹ گئے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ امیر نے دروزوں کو کس ہتھیار سے زیر کیا ہوگا۔ جلد ہی یہ ہتھیار اسے اپنے ساتھیوں پر بھی آزمانا تھا۔ یہ ہتھیار تھا اس کا الوہی قانون اور جنت کا حقدار بننے کی شرائط کے بارے میں اس کا وسیع علم!


دس تاریخ کی سہ پہر کو دمشق واپسی کے بعد عبدالقادر سب سے پہلے عیسائیوں کے علاقے میں قائم فرانسیسی سفارتخانے گیا جہاں امیر کا آغا قارہ محمد اور چالیس سے زائد مسلح الجزائری لانوزے ارو اس کے عملے کی حفاظت کر رہے تھے۔ یہ انتظام امیر نے کسی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پہلے ہی کر دیا تھا۔ اپنے فرانسیسی سرپرستوں کی سلامتی کے بارے میں مطمئن ہونے کے بعد امیر دمشق کے مفتی کے پاس گیا تاکہ اسے اپنے اور اس کے مذہب اسلام کا واسطہ دے کر عیسائیوں کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے پر قائل کرے، لیکن جب وہ وہاں پہنچا تو ملازمین نے بتایا کہ مفتی موصوف سو رہے ہیں اور انہیں بے آرام نہیں کیا جا سکتا۔

تب ہی عبدالقادر کو یہ بھی پتہ چل گیا کہ جن ترک دستوں کو عوام کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، انہیں فصیل کے اندر ہی رہنے کا حکم دیا گیا تھا اور فسادات کے دوران جب گھروں کو جلایا اورعیسائیوں کو قتل کیا جا رہا تھا تو وہ خاموش بیٹھے تماشا دیکھ رہے تھے۔ عبدالقادر جب واپس فرانس کے سفارتخانے پہنچا تو دیکھا کہ اس کا گھیراؤ کرنے والا ہجوم مزید بڑا اور خطرناک ہو گیا ہے۔ اس پر عبدالقادر نے لانوزے کی حفاظت کا ذمہ اپنے اوپر لیتے ہوئے کہا:

’’آپ ہمیشہ کہتے تھے: ’’جہاں فرانس کا پرچم ہے، وہیں فرانس ہے‘‘۔ آپ اپنا جھنڈا ساتھ لیں اور اسے میرے گھر پر نصب کردیں۔ میرا گھر فرانس بن جائے گا۔ آپ اور آپ کا عملہ میرے مہمان ہوں گے اور پھر میں اپنے سپاہیوں کو، جو اس وقت یہاں آپ کی حفاظت کر رہے ہیں، دیگر عیسائیوں کے تحفظ کے لیے بہتر طریقے سے استعمال کر سکوں گا۔‘‘ 

جب لانوزے وہاں پہنچا تو اسے وہاں روسی، امریکی، ڈچ اور یونانی سفارت کار بھی ملے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اس وقت لانوزے کا بہت مذاق اڑایا تھا جب وہ عام لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے میں عبدالقادر کی صلاحیت پر یقین رکھتے ہوئے بار بار گورنر سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا۔

دس جولائی کی ساری سہ پہر عبدالقادر نے عیسائی بستیوں میں مچی بھگدڑ میں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ یہ چلاتے ہوئے گزاری کہ: ’’عیسائیو! میرے ساتھ آؤ۔ میں عبدالقادر ہوں، محی الدین کا بیٹا، الجزائری! میرا اعتبار کرو۔ میں تمہاری حفاظت کروں گا۔‘‘ کئی گھنٹے تک امیر کے الجزائری باشندے متذبذب عیسائیوں کو لے جا کر حارۃ النقیب میں اس کے قلعہ نما گھر چھوڑ کر آتے رہے۔ یہ دو منزلہ عمارت اور اس کے کشادہ صحن پریشان حال عیسائیوں کی پناہ گاہ بن گئے تھے۔

چرچل نے لکھا ہے: 

’’رات کے وقت لوٹ مار کرنے والوں کے نئے جتھے جن میں کرد، عرب اور دروز سبھی شامل تھے، عیسائی علاقوں میں داخل ہوئے اور وہاں پہلے سے موجود غضبناک فسادیوں کے ہجوم کو مزید بڑا کر دیا جو نفرت کی آگ میں اندھا ہو کر خون کی پیاس سے مزید دیوانہ ہو رہا تھا۔ ہر عمر کے مرد اور لڑکوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور پھر وہیں ان کا ختنہ کر دیا گیا۔ ..... عورتوں کی عزت لوٹی گئی یا انہیں اٹھا کر دور دراز علاقوں میں پہنچا دیا گیا جہاں ان کا مسلمانوں کے ساتھ نکاح کر دیا گیا یا پھر حرم کی زینت بنا دیا گیا۔ اگر کوئی کہے کہ اس سارے قتل عام میں ترکوں نے کوئی حصہ نہیں لیا تو یہ مبالغہ آرائی ہوگی۔ انہوں نے سازش تیار کی، انہوں نے اسے چنگاری دکھائی اوراس میں حصہ لیا۔ اس وقت عبدالقادر واحد آدمی تھا جو زندگی اور موت کے درمیان کھڑا تھا۔‘‘

تھامس گیٹ کے نزدیک واقع فرانسسکن خانقاہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر عبدالقادر نے اپنا سارا زور بیان استعمال کیا، لیکن وہ ان نو راہبوں کو الجزائریوں پر اعتبار کرنے پر آمادہ نہیں کر سکا جنھوں نے خود کو خانقاہ کے اندر مقید کر لیا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ یہ انہیں دھوکہ دے رہے ہیں۔ عبدالقادر نے مایوس ہو کر انہیں ان کے حال پر چھوڑا اور ایک اور عیسائی کمیونٹی کو بچانے کی طرف متوجہ ہوا جو بچوں کے لیے کام کرنے کی وجہ سے اسے خاص طور پر بہت پیاری تھی۔

قتل وغارت شروع ہونے کے بعد ابتدا میں اس کمیونٹی کی طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھا جس کی وجہ شاید یہ تھی کہ یہ لوگ عیسائی علاقے سے باہر رہتے تھے جہاں امیر کے دوست فادر لیروئے نے چار سو یتیم بچوں کے لیے اسکول قائم کر رکھا تھا۔ امیر کی قیادت اور اس کے الجزائری مجاہدین کی حفاظت میں سارے بچے، چھ پادری اور سسٹرز آف چیریٹی کی گیارہ راہبائیں خون سے رنگین اور جانوروں کی لاشوں سے اٹی ٹیڑھی میڑھی گلیوں سے گزر کر نقیب ایلی پہنچ گئیں۔ فرانسسکن راہبوں کو مشتعل ہجوم نے عمارت کے اندر ہی زندہ جلا دیا۔ 

یہ خبر فسادیوں میں بھی پھیل گئی تھی کہ عبدالقادر عیسائیوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اگلے روز ہی جنونیوں کا ایک گروہ احتجاج کے لیے امیر کے دروازے پر اکٹھا ہوگیا۔ وہ سفارت کاروں کو پناہ دینے کی حد تک تو امیر کو برداشت کرنے کے لیے تیار تھے، لیکن ان کا مطالبہ تھا کہ عبدالقادر اپنے گھر میں چھپائے ہوئے مقامی عیسائیوں کو ان کے حوالے کرے۔ جب ہجوم زیادہ بڑا ہو گیا اور زیادہ بد تمیزی پر اتر آیا تو امیر دروازے پر آیا۔

’’عیسائیوں کو ہمارے حوالے کرو!‘‘، ہجوم نے چلانا شروع کردیا، لیکن جب وہ خاموشی سے کھڑا انہیں دیکھتا رہا تو لوگ خاموش ہوگئے۔

پھر وہ بولا: ’’میرے بھائیو، آپ کا رویہ خدا کے قانون کے منافی ہے۔ آپ کس بنا پر یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس معصوم لوگوں کو اندھا دھند قتل کرنے کا حق ہے؟ کیا آپ اتنے گر گئے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو ذبح کرنے پر اتر آئے؟ کیا آپ نے سنا نہیں کہ خدا نے ہماری مقدس کتاب میں کیا ارشاد فرمایا ہے، کہ جو کوئی بھی کسی ایسے انسان کو قتل کرے گا جس نے کوئی جرم نہ کیا ہو یا زمین پر فساد نہ پھیلایا ہو تو یہ پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے؟‘‘

’’ہمیں عیسائی چاہئیں! عیسائیوں کو ہمارے حوالے کرو!‘‘
’’کیا خدا نے یہ نہیں کہا کہ مذہب میں کوئی جبر نہیں ہے؟‘‘، امیر نے اپنی بات جاری رکھی۔

ہجوم میں سے ایک شخص نے چیخ کر کہا: ’’او مجاہد! ہمیں تمہاری نصیحتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ تم ہمارے کام میں ٹانگ کیوں اڑا رہے ہو؟‘‘

ایک اور شخص نے بلند آواز سے کہا: 

’’تم نے خود بھی عیسائیوں کو مارا ہے۔ اب تم ہمیں اپنی توہین کا بدلہ لینے سے کیسے روک سکتے ہو؟ تم خود بھی ان کافروں کی طرح ہوگئے ہو۔ چپ چاپ ان سب کو ہمارے سپرد کردو جنھیں تم نے اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے، ورنہ ہم تمہارے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو ان سب کے ساتھ ہوگا۔‘‘
’’تم سب بے وقوف ہو! جن عیسائیوں کو میں نے مارا تھا، وہ سب حملہ آور اور غاصب تھے جو ہمارے ملک کو تاخت وتاراج کر رہے تھے۔ اگر تمہیں خدا کے قانون کی خلاف ورزی سے ڈر نہیں لگتا تو پھر اس سزا کے بارے میں سوچو جو تمہیں انسانوں کے ہاتھ سے ملے گی۔ میں تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ سزا بہت ہولناک ہوگی۔ اگر تم نے میری بات نہ سنی تو اس کا مطلب ہے کہ خدا نے تمہیں عقل نہیں دی۔ تم ایسے حیوان کی مانند ہو جو گھاس اور پانی دیکھ کر اچھلنے لگتا ہے۔‘‘

’’تم سفارت کاروں کو اپنے پاس رکھ لو۔ عیسائی ہمیں دے دو!‘‘ ہجوم نے پھر چلانا شروع کردیا۔ 

’’جب تک میرا ایک سپاہی بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہے، تم انہیں ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے۔ وہ سب میرے مہمان ہیں۔ عورتوں اور بچوں کے قاتلو! گناہ کی اولاد! ان میں سے کسی کو ذرا چھونے کی کوشش تو کرکے دیکھو، پھر تمہیں اندازہ ہوگا کہ میرے سپاہی کتنا اچھا لڑتے ہیں۔‘‘ امیر نے غضبناک لہجے میں کہا اور مڑ کر قارہ محمد سے مخاطب ہوا: ’’میرے ہتھیار اور میرا گھوڑا لے کر آؤ۔ ہم سب ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کریں گے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے پہلے ایک نیک مقصد کے لیے جنگ کی تھی۔‘‘

ہجوم نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور اپنی بندوقیں اور تلواریں لہرانا شروع کردیں، لیکن جونہی امیر کے لاتعداد جنگوں کی بھٹی میں تپ کر فولاد بنے ہوئے سپاہی نظر آئے تو سارا مجمع گالیاں بکتا ہوا تتر بتر ہوگیا۔


مقامی آبادی میں شمالی افریقہ کے باشندوں کے نام سے پکارے جانے والے الجزائریوں نے گلیوں اور سڑکوں پرگھوم پھر کر عیسائیوں کی تلاش جاری رکھی اور امیر کی رہائش گاہ پر ایک ہزار سے زائد عیسائی اکٹھے کر لیے۔ وہ جگہ اتنی بھر گئی کہ اب وہاں کسی کے بیٹھنے یا لیٹنے کی گنجائش بھی نہیں رہی تھی۔ پانی کی کمی تھی اور صفائی کے ناکافی انتظام کی وجہ سے پیچش یا طاعون پھیلنے کا بھی خطرہ تھا۔ سفارت کاروں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے بعد عبدالقادر نے پناہ گزینوں کو قلعے کے اندر بھجوانے کے لیے احمد پاشا کے پاس وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ 

گورنر نے اعتراف کیا کہ اس کے دستوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں بہت سے تو ایسے مجرم تھے جنھیں حال ہی میں جیل سے رہائی ملی تھی۔ آخر اس نے یہ مان لیا کہ عیسائیوں کو الجزائریوں کی حفاظت میں فصیل کے اندر پہنچا دیا جائے، لیکن نقیب ایلی میں ٹھنسے ہوئے ہجوم کے کانوں میں جب اس فیصلے کی بھنک پڑی تو انہوں نے خوش ہونے کی بجائے واویلا مچانا شروع کردیا: ’’ہمیں یہیں اپنے ہاتھوں مار ڈالو! ہم پر رحم کرو! ہمیں یوں زندہ ان جلادوں کے حوالے مت کرو!‘‘

سو افراد پر مشتمل پہلا گروپ اڑ گیا کہ وہ نہیں جائے گا، لیکن جب روس کے سفیر نے ضمانت کے طور پر ساتھ جانے کی حامی بھری تو لوگ مان گئے۔ جب ان کے بخیر وعافیت وہاں پہنچنے کی اطلاع ملی تو باقی سب بھی تعاون کرنے لگے۔ حالات معمول پر آنے کے بعد ایک روز امیر نے افسردگی کے ساتھ ایک فرانسیسی افسر سے کہا: ’’ان کے لیے اتنا کچھ کرنے کے باوجود انہیں اب بھی یقین ہے کہ میں انہیں ان قصائیوں کے حوالے کر سکتا ہوں۔‘‘

سب لوگوں کو قلعے میں منتقل کرنے کے بعد جب امیر کی رہائش گاہ خالی ہوگئی اور اس کی صفائی بھی کر دی گئی تو اس نے اعلان کرایا کہ جو کوئی بھی عیسائیوں کو اس کی رہائش گاہ پر پہنچائے گا، اسے ہر عیسائی کے بدلے پچاس پیاستر انعام دیا جائے گا۔ پانچ دن تک امیر کو سونے کا موقع بھی بہت کم ملا۔ جب تھوڑا سا وقت ملتا تو وہ گھاس پھونس سے بنی اسی چٹائی پر لیٹ کر آنکھ لگا لیتا جہاں بیٹھ کر وہ سارا دن پاس رکھی بوری میں سے رقم نکال کر تقسیم کرتا رہتا تھا۔ جونہی ایک سو عیسائی اکٹھے ہو جاتے، الجزائری سپاہی انہیں لے جا کر قلعے میں چھوڑ آتے۔

بعض سربر آوردہ عیسائی افراد مناسب جگہ کا انتخاب ہونے تک کئی ہفتے امیر کی رہائش گاہ پر ہی رکے رہے۔ آخر کار امیر اور اس کے ساتھی تین ہزار عیسائیوں کا ایک قافلہ لے کر بیروت گئے۔ ان میں بلڈ خاندان کے لوگ بھی تھے جو اس سارے قتل عام کے دوران امیر کی پناہ میں رہے تھے۔

جارج بلڈ ان میں نہیں تھا۔ ۱۸۵۷ء میں جب جارج نے محسوس کیا کہ اس نے عبدالقادر کا اعتماد کھو دیا ہے تو اس نے وزارت سے درخواست کی کہ اسے واپس بلا لیا جائے۔ ان کے باہمی تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا، لیکن ہو سکتا ہے کہ امیر بلڈ کے اشاروں پر چلتے چلتے تنگ آگیا ہو اور قونصل خانے میں فرانسیسی سفارت کاروں سے براہ راست رابطے میں آنا چاہتا ہو۔ بلڈ، دوما یا بواسونے جیسا بھی تو نہیں تھا جو خود بھی افریقہ میں بارود کی بو سے اچھی طرح آشنا تھے۔ بلڈ اگرچہ یہ سمجھتا تھا کہ عبدالقادر کے گرد تقدس کی فضا بہت گہری ہوگئی ہے اور جب دولت خود چل کر اس کے پاس آئی تو اس نے بے پروائی سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، لیکن بہرحال بلڈ کی رائے امیر کے بارے میں بہت اچھی تھی۔ 

تشدد کا جو طوفان عیسائی بستیوں میں خون کے چھینٹے اڑاتا گزرا، وہ پانچ دن کے بعد اپنے پیچھے ہزاروں لاشیں چھوڑ گیا۔ خونریزی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی تعداد کے بارے میں آرا مختلف تھیں۔ کچھ کا کہنا تھا پانچ سو اور کچھ دس ہزار کہتے تھے۔ 

لانوزے نے وزارت کو رپورٹ بھیجی کہ جب غدر مچا تو اس وقت دمشق کی عیسائی بستیوں میں انیس ہزار لوگ رہتے تھے جن میں وہ پناہ گزین بھی شامل ہیں جو موسم بہار میں فرار ہوکر لبنان چلے گئے۔ ان میں سے بیشتر لوگ قدیم شہر کی فصیل سے باہر بسے دیہات میں رہتے تھے۔ شہر کے اندر کی عیسائی بستی میں گنجائش کم اور کرایے بہت زیادہ تھے اور یہ جگہ آٹھ سے دس ہزار عیسائیوں کا مسکن تھی جن میں زیادہ تر یونانی عیسائی تھے۔ امیر نے کتنے لوگوں کی جان بچائی؟ اس کی گنتی کسی نے نہیں کی۔ اس کو دیکھ کر اور کتنے لوگوں کو ایسا کرنے کی ترغیب ملی؟ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ عبدالقادر کے دوست لانوزے کے مطابق کم وبیش گیارہ ہزار لوگوں کی جان بچانے کا سہرا امیر کے سر جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ قدیم شہر کے اندر موجود ہر عیسائی کی جان امیر کی وجہ سے بچی تھی۔


دل دہلا دینے والی یہ خبر فرانسیسی عوام تک اٹھارہ جولائی کو پہنچی۔ بلاد الشام (Levant) میں تعینات فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر کے ارسال کردہ خط کے حوالے سے ’’لے مانٹئیر‘‘ نے رپورٹ شائع کی کہ ’’دمشق میں عیسائیوں پر حملوں کا آغاز نو تاریخ کی سہ پہر کو ہوا اور شام تک مردوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتارا اور عورتوں کو حرم کی زینت بنایا جا چکا تھا۔ ....ترک حکام نے خطرے کا واضح خدشہ ہونے کے باوجود ناقابل توجیہ طور پر کاہلی کا مظاہرہ کیا جبکہ امیر نے علما اور اہم شخصیات کو عیسائیوں کو درپیش خطرے کے بارے میں فعال طریقے سے خبردار کرنے کی کوشش کی۔ .....سارے بحران کے دوران امیر کا رویہ قابل تحسین تھا۔ اس نے عام لوگوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا جو انسانیت کے لیے اس کی جاں نثاری اور قربانی کے جذبے کا ثبوت ہے۔‘‘

اگست میں اخبارات وجرائد نے مزید مضامین شائع کیے جو سبھی امیر کی مدح میں تھے۔ لاگزٹ دے فرانس (Le Gazette de France) نے بڑے جوش سے لکھا تھا کہ ’’امیر نے شام کے عیسائیوں کو حوصلہ مندی سے تحفظ فراہم کرکے خود کو لازوال بنا لیا ہے۔ انیسویں صدی کی تاریخ کے سب سے خوبصورت صفحات میں سے ایک صفحہ امیر سے منسوب ہو گا۔‘‘ لے پے ای جورنال دے لان پائر (Le Pays, Journal de l'Empire) نے لیزرسٹس (مقدس لیزرس سے منسوب ایک مسیحی گروہ کے افراد) کے حوالے سے لکھا تھا: ’’جب خون کی ہولی اپنے عروج پر تھی، تب امیر گلیوں ایسے میں نمودار ہوا جیسے اسے خدا نے بھیجا ہو۔‘‘ فرانس کا سارا پریس اسی طرح کی خبروں اور تحریروں سے بھرا پڑا تھا۔ بیس اکتوبر تک یہ اطلاعات امریکہ بھی پہنچ گئیں اور نیویارک ٹائمز نے اپنے مخصوص رجزیہ انداز میں لکھا: ’’بیس سال پہلے عرب امیر عالم مسیحیت کا دشمن تھا اور اس کے آبائی علاقے کی پہاڑیوں میں اس کا شکار کیا گیا، لیکن اب ساری عیسائی دنیا اسلام کے اس معزول شہزادے کی تکریم میں یک زبان ہے۔ اس انتہائی بے لوث جنگجو سورما نے اپنے قدیم دشمنوں کو، جنھوں نے اسے شکست دی اور اس کی نسل کے لوگوں اور اس کے مذہب کو اپنا مفتوح بنایا، غیظ وغضب اور موت سے بچایا۔ .....عبدالقادر کے لیے یہ یقیناًعظمت کا اور حقیقی شان وشوکت کا باب ہے۔ اس بات کو تاریخ میں رقم کرنا کوئی معمولی بات نہیں کہ مسلمانوں کی آزادی کے لیے لڑنے والا سب سے ثابت قدم سپاہی اپنے سیاسی زوال اور اپنی قوم کے ناگفتہ بہ حالات میں عیسائیوں کی زندگیوں اور حرمت کا سب سے نڈر نگہبان بن کر سامنے آیا۔ جن شکستوں نے الجزائر کو فرانس کے آگے جھکایا تھا، ان کا بدلہ بہت حیرت انگیز طریقے سے اور اعلیٰ ظرفی سے لیا گیا ہے۔‘‘

لیکن عبدالقادر نے ایسا کیوں کیا؟ اس بات پر بہت سے لوگ متعجب تھے۔ بعض لوگوں کو حیرانی تھی کہ مسلح مزاحمت کرنے والے سابق راہنما نے اس صورتحال کو ان تکالیف کا انتقام لینے کے لیے استعمال نہیں کیا جو فرانس نے اسے اور اس کے لوگوں کو دی تھیں۔ کچھ مسلمانوں کا خیال تھا کہ امیر فرانسیسیوں کے رنگ میں رنگا گیا ہے اور اب وہ عربوں کی نسبت فرانسیسیوں کے زیادہ نزدیک ہے۔ امیر کا اپنا موقف کیا تھا، اس کی رپورٹ لان پائر نے اکتوبر میں شائع کی جس میں دو بہت سادہ سی وجوہات بیان کی گئی تھیں۔ پہلی یہ کہ وہ تو محض خدا کی منشا کے مطابق کام کر رہا تھا، اور دوسری یہ کہ اس کی انسانیت کا تقاضا بھی یہی تھا۔ اس نے کہا تھا: ’’یہ ایک مقدس فرض کی ادائیگی کے مترادف تھا۔ میں تو صرف ایک کارندہ تھا۔ تعریف کرنی ہے تو اس خدا کی کرو جس نے مجھے یہ ہدایت دی، اور تمہارے سلطان کو بھی جو میرا سلطان بھی ہے۔‘‘

باقیوں کا یہ خیال تھا کہ امیر کی مداخلت اس کے مذہب کی پکار تھی۔ کیا بلڈ نے اپنی رپورٹ میں نہیں لکھا تھا کہ امیر اکثر کف افسوس ملتا ہے کہ اسلام ’’حقیقی مسلمانوں کی کمی‘‘کی وجہ سے دم توڑ رہا ہے؟ شاید اس مثال سے وہ دوسرے مسلمانوں کو دکھانا چاہتا تھا کہ حقیقی مسلمان ہونے سے کیا مراد ہے۔ الجزائر میں بشپ دوپش کے جانشین بشپ لوئی انتونی پیوی کی طرف سے اظہار ممنونیت کے خط کا جواب دیتے ہوئے بھی امیر نے بین السطور میں اسی قسم کی بات کی تھی۔ امیر کی اصل شخصیت اکثر اس وقت جھلکتی تھی جب وہ دوسرے مذاہب کے پیشواؤں کے نام کچھ تحریر کرتا تھا۔ 

’’ہم نے عیسائیوں کے لیے جو کچھ بھی کیا، محض اسلام کے قانون پر ایمان رکھنے اور انسانی حقوق کا احترام کرنے کی وجہ سے کیا۔ خدا کی ساری مخلوقات اس کا کنبہ ہیں اور خدا ان لوگوں سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے جو اس کے کنبے کی بہتری کے لیے سب سے اچھا کام کرتے ہیں۔ مقدس کتابوں پر ایمان رکھنے والے تمام مذاہب کی بنیاد دو اصولوں پر ہے : خدا کی تعریف کرنا اور اس کی مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ .....محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں درد مندی اور رحم دلی کے علاوہ ہر اس بات کو عظیم اہمیت دی گئی ہے جس سے معاشرے میں اتفاق قائم رہے اور جو ہمیں نفاق سے محفوظ رکھے۔ لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مذہب سے تعلق رکھنے والوں نے اسے آلودہ کر دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب وہ راستے سے بھٹک جانے بھیڑ کی مانند ہوگئے ہیں۔ میرے لیے آپ کی دعاؤں اور خیر سگالی کے جذبات کا شکریہ۔ ‘‘

پریس میں امیر کے بارے میں رپورٹیں شائع ہونے کے بعد تو جیسے اعزازات کا انبار لگ گیا۔ فرانس کی حکومت نے اسے لیجن آف آنر عطا کیا جب کہ روس، اسپین، سارڈینیا، پروشیا، برطانیہ، رومی کیتھولک کلیسا، ترک سلطان اور صدر لنکن کی طرف سے اعزازات سے نوازا گیا۔ صدر لنکن نے، جو خود ایک قومی سانحے کے دہانے پر کھڑے تھے، ایک روز پہلے عبدالقادر کو امریکی انداز میں تحسین کی علامت کے طور پر کولٹ برانڈ کے دو پستول بھیجے جنھیں انتہائی نفاست سے خصوصی طور پر امیر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ انہیں لکڑی کے ایک خوبصورت ڈبے میں بند کیا گیا تھا اور اس پر یہ عبارت کندہ کی گئی تھی: ’’ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کی طرف سے عزت مآب جناب لارڈ عبدالقادر کے لیے، ۱۸۶۰ء۔‘‘

تاہم عبدالقادر کو عزت افزائی کا سب سے قابل قدر نشان اپنے جیسے ایک حریت پسند اور چیچنیا کے مجاہد محمد شامل کی طرف سے موصول ہوا۔ شامل کو بھی روسی سامراجیت کے خلاف کئی سال جدوجہد کے بعد جلا وطن کر کے ماسکو بھیج دیا گیا تھا۔ محمد شامل نے لکھا تھا:

’’تعریف اس خدا کی جس نے اپنے بندے، انصاف پسند عبد القادر کو طاقت اور ایمان عطا کیا۔ ..... بے حد مبارک۔ خدا کرے اس عزت اور امتیاز کے ثمرات ہمیشہ آپ کو ملتے رہیں۔‘‘

شامل نے ان مسلمانوں کی مذمت کی جنھوں نے عیسائیوں کے ساتھ اتنا قابل نفرت رویہ اپنایا اور اپنے مذہب کو بدنام کیا۔ ’’میں ان حکام کی کور چشمی پر بھونچکا رہ گیا جنھوں نے ایسی زیادتیاں کیں اور اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث فراموش کردی کہ: ’’جس کسی نے بھی اپنے زیر امان رہنے والے کے ساتھ ناانصافی کی، جس کسی نے بھی اس کے خلاف کوئی غلط حرکت کی یا اس کی مرضی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی، وہ جان لے کہ روز محشر میں خود اس کے خلاف مدعی بنوں گا۔‘‘آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا عملی نمونہ پیش کیا ہے .....اور خود کو ان لوگوں سے الگ کر لیا ہے جو ان کے اسوے کو رد کرتے ہیں۔ .....خدا آپ کو ان کے شر سے محفوظ رکھے جو اس کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘

امیر کو امام شامل کی صورت میں ایک ایسے ہم مذہب کی تائید بھی ملی جو اپنے خیالات میں بالکل اسی جیسا تھا۔ اس کے جوابی خط میں وہی کچھ دہرایا گیا جو اس نے بشپ پیوی کو لکھا تھا اور جو وہ اکثر جارج بلڈ کے سامنے کہا کرتا تھا۔ امیر نے شامل کو لکھا:

’’میں نے جو کچھ بھی کیا، وہ محض ہمارے مقدس قانون اور انسانیت کے اصولوں کی تعمیل تھی۔ ..... اخلاق سے گری ہوئی حرکت کو تمام مذاہب میں برا کہا گیا ہے، کیونکہ برے اخلاق پر عمل کرنا اپنے ہاتھوں زہر پینے کے مترادف ہے اور یہ سارے بدن کو آلودہ کر دیتا ہے۔ .....اگر ہم یہ سوچتے ہیں کہ سچائی کے حقیقی علمبردار کتنے تھوڑے ہیں اور ایسے جاہلوں کو دیکھتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا مطلب جبر، سختی، زیادتی اور وحشی پن ہے تو پھر وقت آگیا ہے کہ ان الفاظ کو بدل کر یوں ادا کیا جائے: تحمل خدائی صفت اور خدا کی ذات پر ایمان کا نام ہے۔‘‘

عیسائیوں کے قتل عام نے فرانس کو اپنے اس موقف پر زور دینے کا موقع فراہم کیا کہ سلطنت عثمانیہ میں رہنے والے عیسائیوں کو یورپی تحفظ کی ضرورت ہے۔ چھ ہزار کی نفری پر مشتمل فرانسیسی فوج بیروت کی طرف رواں دواں تھی جہاں اس کی آمد اگست کے وسط میں متوقع تھی۔

قتل وغارت گری تھمنے کے ایک ہفتہ بعد ۲۵جولائی کو غصے سے آگ بگولا ہو کریورپی طاقتوں نے فرانس اور یورپ کی مشترکہ فورس کو لبنان بھیجنے کا فیصلہ کیا جو دمشق کے اندر تک گھسنے کی صلاحیت بھی رکھتی تھی۔ الجزائر میں امیر کے ایک اور پرانے حریف جنرل بیوفو اوٹ پول (Beaufort d'Hautpoul) کی کمان میں شروع کی گئی اس مہم کا مقصد ’’انسانیت کے بنیادی فرائض‘‘ کو یقینی بنانا تھا۔ فرانسیسیوں کے پہنچنے سے پہلے سلطنت عثمانیہ کے وزیر خارجہ فواد پاشا کو، جو اصلاحات کا بڑا حامی اور برطانیہ کا منظور نظر تھا، فوراً لبنان سے تین ہزار فوجیوں کے ساتھ دمشق پہنچنے کا حکم ملا تاکہ فسادات کے مرتکب افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سخت سزا دی جائے اور اس طرح فرانس کو اندرونی علاقوں میں مداخلت کے جواز سے محروم کر دیا جائے۔ 

فواد نے اپنے فوجی افسروں، عبدالقادر اور یورپی سفیروں کے ساتھ صلاح مشورہ کرنے کے علاوہ مقامی اکابرین کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پھر ایک غیر معمولی ٹربیونل تشکیل دیا۔ اس ٹربیونل نے زندہ بچ نکلنے والے عیسائیوں کو فسادات کی آگ بھڑکانے والوں کی فہرست تیار کرنے کی ذمہ داری تفویض کی، لیکن عیسائیوں کی اکثریت کو تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ حقیقت میں ان پر حملہ کرنے والے کون لوگ تھے۔ جو زندہ بچ گئے تھے، انہیں صرف ان لوگوں کے چہرے یاد تھے جنھوں نے ان کی جان بچائی تھی۔ اس پر فواد پاشا نے مسلم علاقوں میں تعینات افسروں سے وہاں کے ایسے باشندوں کی فہرست بنانے کو کہا جنھیں قتل وغارت گری کے دوران مسلح دیکھا گیا تھا۔

تین اگست کو دمشق کی گورننگ کونسل نے دیگر مسلمان رہنماؤں سمیت فواد پاشا سے ملاقات کرکے اس فہرست کا جائزہ لیا تاکہ سزا کے مستوجب لوگوں کے ناموں کی تصدیق یا تردید کی جائے۔ اس ساری کارروائی کے دوران شہر کے دروازے بند رکھے گئے اور اشیائے خور ونوش اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے سوا کسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ 

ٹربیونل نے ۴۶۰۰ ناموں کی فہرست میں سے ۳۵۰ ؍افراد کو گرفتار کیا۔ فہرست میں شامل بہت سے لوگ فرار ہوگئے تھے۔ کچھ پر الزامات ثابت نہیں ہوئے یا ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر وہ بری کر دیے گئے۔ گرفتار ہونے والے ساڑھے تین سو افراد میں سے بارہ کے سوا سب ’’قتل وغارت پر اکسانے، قتل کرنے، آگ لگانے یا لوٹ مار کرنے‘‘جیسے جرائم کے مرتکب پائے گئے۔ مجرم قرار دیے جانے والے ۳۳۸ ؍افراد میں سے ۱۸۱ ؍کو گولی مار دی گئی یا پھانسی پر لٹکایا گیا جبکہ ۱۵۷؍کو ملک بدر کر دیا گیا۔ جن لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا، ان میں گورنر احمد پاشا بھی شامل تھا۔ مشاگا کے چھ حملہ آوروں اور اس کے حلقے کے منتظم کو سولی چڑھا دیا گیا۔

بیاسی مجرموں کا تعلق ترکی کے نیم فوجی دستوں سے تھا۔ چونسٹھ افراد کو دمشق میں نووارد کے طور پر شناخت کیا گیا۔ ۱۲۳؍افراد کی شناخت ان کے پیشوں کے اعتبار سے کی گئی جن میں دکاندار، کاریگر، کسان اور اشرافیہ کے ارکان بھی شامل تھے، لیکن اس سارے قضیے کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ اس سوال کے جواب میں انگلیاں مختلف سمتوں میں اٹھ رہی تھیں۔

فرانسیسی قونصل کا اشارہ انگریزوں کی طرف تھا اور اس نے توجہ دلائی کہ تمام یورپی سفارتخانوں میں صرف برطانیہ کا سفارتخانہ ایسا تھا جسے نذر آتش نہیں کیا گیا۔ (بعد میں پتہ چلا کہ اس کی حفاظت بھی عبدالقادر کے الجزائری جنگجو کر رہے تھے)۔ پھر انگریز ریورنڈ گراہم کے قاتل کی کہانی بھی بہت اہم تھی جس کا کہنا تھا کہ اس سے بہت بڑی خطا سرزد ہوئی تھی۔ دوسری طرف باقی ممالک کو اس معاملے میں فرانس کا ہاتھ ہونے کا شبہ تھا۔ فرانس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ شام پر قبضہ کرنے اور ریشم کے مقامی آڑھتیوں کو فارغ کرکے ان کی جگہ اپنے صنعت کاروں کو بٹھانے کے لیے بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔ استنبول میں اپنے سفیر کے ساتھ خط کتابت میں دمشق میں تعینات برطانوی قونصل نے عبدالقادر پر نائب قونصل لانوزے کے ساتھ ملی بھگت کرنے کا الزام عائد کیا اور اس طرح ہر وقت فرانسیسی منصوبوں سے ڈرے رہنے کی اس روایت کو دوبارہ زندہ کر دیا جو ۱۸۴۰ء میں اس وقت کے برطانوی قونصل نے یہ کہہ کر قائم کی تھی کہ فرانس مصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے۔ ’’حریص غیر ملکی ہاتھوں‘‘ کے ملوث ہونے کے بارے میں اسی طرح کی کچھ اور قیاس آرائیاں بھی تھیں۔

لیکن اصلی حقائق چرچل کی اس توضیح کو درست ثابت کرتے ہیں کہ یہ اصل میں اصلاحات کے مخالف مسلمانوں میں مغرور عیسائیوں کا ’’دماغ درست‘‘ کرنے کی خواہش تھی جس نے نفرت اور غصے سے بھرا یہ منصوبہ تیار کرایا۔ مشاگا نے چرچل کی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ساری منصوبہ بندی استنبول میں ہوئی تھی۔ عیسائی باشندے تو اپنے حقارت آمیز گھمنڈ اور قانون کی نافرمانی جیسے رویوں کی بنا پر ناپسندیدہ سمجھے جارہے تھے، لیکن دمشق کے مسلمان بھی ایسے ہی تھے جن کی اکثریت بے چین فطرت عربوں اور کردوں پر مشتمل تھی۔ ان کے بعض پرانے مجرمانہ رویوں مثلاً ٹیکس ادا نہ کرنے اور سامراجی وزیروں کے قتل کی سازش کرنے وغیر ہ پر ان کو بھی مزہ چکھانے کی ضرورت تھی۔ یہ گستاخی ہر جگہ تھی۔ زمانے کے سرد وگرم سے آشنا مشاگا نے لکھا ہے: ’’چنانچہ حکومت مسلمانوں کو عیسائیوں کے خلاف بھڑکا کر ایک تیر سے دو شکار کرتے ہوئے دونوں سے انتقام لینا چاہتی تھی۔‘‘

حالات وواقعات کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ فسادیوں کا ہجوم تھامس گیٹ سے اندر داخل ہوا اور سب سے پہلے روس کے سفارتخانے پر اور پھر خماریہ کے عیسائی علاقے میں قائم یورپ کے باقی سفارتخانوں پر حملہ کیا۔ یہودی بستی کو کسی نے نہیں چھیڑا۔ مشاگا نے بعض ایسے یہودیوں کے بارے میں بھی بتایا جو ترک ملیشیا کے ارکان کو گنے کا رس ملی برف پیش کر رہے تھے اور انہوں نے لٹیروں سے لوٹ کا مال بھی کوڑیوں کے مول خریدا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میدان کا علاقہ بھی، جہاں عیسائی اور مسلمان دونوں رہتے تھے، تشدد کی لہر سے محفوظ رہا۔ دمشق کے اس علاقے میں ریشم کے گنے چنے تاجر ہی رہتے تھے، لیکن یہ بڑی تعداد میں اناج کے تاجروں کی آماجگاہ تھا۔ میدان میں رہنے والی عیسائی اقلیت نے برسوں کی کوشش سے اپنے مسلم ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کر لیے تھے۔ وہ سب نرم خو تھے، مقامی حکام کا احترام کرتے تھے اور اپنے نئے حقوق پر اتراتے نہیں تھے۔

قتل وغارت اور لوٹ مار صرف خماریہ کی عیسائی بستیوں تک محدود رہی جہاں ریشم بننے والے ایسے عیسائی کاریگر رہتے تھے جو مسلمانوں سے زیادہ ہنر مند تھے۔ مسلمان کاریگروں میں، جنھیں جدید کھڈیوں تک رسائی حاصل نہیں تھی، تکنیکی کم تری کے احساس نے بھی دل میں رنج پیدا کیا تھا۔ بہت سے مسلمان یورپیوں کے مقروض تھے اور کارکن طبقہ اس موسم گرما میں اناج کی قلت کی وجہ سے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں اضافے سے بھی پریشان تھا۔ بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے والے اس طرح کے عوامل نے یورپیوں کی شہ پر لاگو ہونے والی اصلاحات کے خلاف نفرت کے ساتھ مل کر لاوے کو مزید دہکا دیا۔ اب ان بے شرم، گستاخ کافروں کو ’’درست‘‘ کرنے کے لیے ذرا سا اجتماعی اشتعال پیدا کرنے کی ضرورت تھی۔

اس طرح کی شورش کے نتائج ہمیشہ گندے ہوتے ہیں، لیکن حیرت ناک طور پر نو جولائی کو غیظ وغضب کا جو طوفان اٹھا تھا، وہ ایک خاص علاقے میں مرکوز رہا یعنی خماریہ میں محض ایک تہائی مربع میل کے اندر موجود عیسائی بستیوں سے باہر نہیں نکلا۔ بعد ازاں بڑی تعداد میں سزا پانے والے ملیشیا کے جوانوں اور باہر سے آنے والے لوگوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس اشتعال انگیزی کے لیے بیرونی مدد خریدی گئی تھی اور ایسا کرنے والوں کو مارے جانے والوں کے ساتھ کسی طرح کی کوئی ہمدردی یا تعلق نہیں تھا۔ مقامی لوگوں کی طرف سے ان کو ہلہ شیری ملی ، پھر تھوڑی سی لوٹ مار شروع ہوئی جس نے بالآخر قتل عام کی شکل اختیار کر لی۔ اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ سازش کرنے والوں نے اس جگہ کا انتخاب اس لیے کیا تھا کہ یہاں عیسائیوں کو آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا اور حملہ آوروں کو مقامی عیسائیوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے میں دقت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

تحقیقات کرنے والوں نے میدان اور شغار کے محلوں میں رہنے والے مسلمانوں کی خاص طور پر تعریف کی جنھوں نے تشدد کی راہ اختیار کرنے کی بجائے اپنے عیسائی ہمسایوں کی حفاظت کی۔ عبدالقادر نے جو کچھ کیا، وہ بلا شبہ مثالی نوعیت کا تھا لیکن اس کی اتنی تعریف ہوئی کہ بہت سے دوسرے مسلمان جنھوں نے امیر ہی کی طرح عیسائیوں کو پناہ دے کر مشتعل ہجوم کے غضب کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیا تھا، منظر سے ہٹ گئے۔ مشاگا نے اپنی یادداشتوں ’’قتل، بھگدڑ، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار‘‘ میں بہت سے ایسے مسلمانوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے اپنے مذہبی قانون پر عمل کرتے ہوئے عیسائیوں کی جان بچائی۔ ان میں ایک معتبر عالم شخ سلیم عطار جبکہ میدان کے محلے میں صالح آغا المہایینی، سعید آغا النوری، عمر آغا العابد اور بہت سے دیگر لوگوں کے نام شامل ہیں۔ امیر عیسائیوں کا سب سے نڈر اور سب سے متحرک نجات دہندہ ضرور ہوگا، لیکن وہ تنہا نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اور لوگ بھی عیسائیوں کی جان بچانے میں مصروف تھے۔

جب تحقیقاتی کمیشن نے امیر سے ان سارے واقعات کی بابت سوال کیا تو اس نے کیا رائے دی ہوگی؟ اس کا جواب ہمیشہ کی طرح دوسروں سے منفرد تھا۔ اس نے کہا کہ عیسائیوں کے محلے کو بچایا جا سکتا تھا ’’اگر گورنر کی نیت ہوتی۔‘‘ اس نے مزید وضاحت کرنے سے انکار کر دیا۔ ایک سال بعد آثار قدیمہ کے مشہور فرانسیسی ماہر اور مستشرق کومتے دے ووگ نے امیر سے ملاقات کی۔ امیر کے گھر کا ایک بار چکر لگانا تو جیسے یورپ سے آنے والے ہر مسافر پر فرض تھا۔ ملاقات کے دوران فرانسیسی مہمان نے دمشق کے لوگوں کے رویے کے بارے میں امیر کی رائے جاننے کی کوشش کی۔ اس پر جو جواب ملا، اس نے سارے ملاقاتیوں کو حیران کر دیا۔ ’’انہوں نے جس طرح اپنے حق کا استعمال کیا، وہ غلط تھا، لیکن ان کا عیسائیوں کو سزا دینے کا حق ناقابل تردید ہے۔ عیسائیوں نے استثنائی ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھا۔‘‘ امیر شاید مزید کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن اس نے کہا نہیں کہ ایک جنگ زدہ عرب فیڈریشن کے سابق سربراہ کی حیثیت سے وہ ٹیکسوں کی اہمیت اور انہیں بہر صورت اکٹھا کرنے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھا۔ 

عبدالقادر کی نظر میں قانون بالکل واضح تھا۔ عیسائی باشندے حفظ وامان میں لیے گئے لوگ تھے لیکن وہ بہر حال قانون کا احترام کرنے کے پابند تھے۔ قانون کی نافرمانی کے معاملے میں وہ غلطی پر تھے۔ وہ سرکشی اور بغاوت پر اتر آئے تھے اور انہیں سزا ملنا ضروری تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے بھی اندھا دھند اور سفاکانہ طریقے سے انہیں ’’ٹھیک‘‘ کر کے غلط کیا۔ 

امیر یقیناً ایک باخبر شخص تھا۔ یورپی ممالک نے سلطنت عثمانیہ پر دباؤ ڈال کر جو اصلاحات نافذ کرائی تھیں، ان میں سرکاری طور پر عیسائیوں کے ’’ذمی‘‘ ہونے کی حیثیت ختم ہوگئی تھی اور جزیہ کا ٹیکس بھی ہٹا لیا گیا تھا۔ اس کی بجائے سب کے لیے ایک عالمگیر استثنائی ٹیکس متعارف کرایا گیا جو عسکری خدمات انجام نہ دینے کے خواہشمند عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کو ادا کرنا تھا۔ اب عیسائی اور ترک برابر ہوگئے تھے اور عیسائی بھی فوج میں خدمات انجام دینے کے پابند تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ عیسائی سلطنت عثمانیہ کے لیے کام کرنے سے نفرت کرتے ہیں۔ ترک بھی عیسائیوں کو فوج میں نہیں لینا چاہتے تھے۔ لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو تو فوج کی نوکری نہ کرنے کے عوض فی کس ایک سو لیرا ٹیکس دینا تھا جب کہ عیسائیوں پر صرف پچاس لیرا ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود عیسائیوں نے وہ ٹیکس ادا کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کہیں گے کہ ہم فوج میں نوکری کرنے کو تیار ہیں تو ترک انہیں مسترد کر دیں گے اور اس طرح ان کی ٹیکس ادا کرنے سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ 

فرانسیسی ملاقاتی امیر کے منہ سے اس طرح کی سخت گیر باتیں سن کر بہت حیران ہوئے اور گمان غالب ہے کہ وہ ان نئی پیچیدگیوں سے آگاہ نہیں تھے جو ان اصلاحات سے پیدا ہوئی تھیں۔ فرانس میں عبدالقادر کی شخصیت کو اس کے پرستاروں نے ’’لبرل‘‘ کا جامہ اوڑھا دیا تھا، لیکن کومتے دے ووگ اگر امیر کے پروٹسٹنٹ دوست مائیکل مشاگا سے بھی بات کر لیتا تو اسے اسی طرح کے خیالات سننے کو ملتے۔ 

مشاگا کو اگر مقامی سطح پر ’’مشرق کا لوتھر‘‘کہا جاتا تھا تو یہ بالکل درست تھا۔ لوتھر کے ’’ہر صاحب ایمان کے لیے پادری بننے کا حق‘‘ کے انقلابی تصور نے مقدس رومن سلطنت کے جرمنی کے علاقے میں انتشار پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا : ہر شخص کو، خواہ وہ کتنا ہی غیر تربیت یافتہ ہو، اپنا پادری خود بننے دو؛ خدا اور بندے کے درمیان کسی وسیلے کی ضرورت نہیں۔ جب لوتھر نے دیکھا کہ اس کے نظریات کو کتنا غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے تو وہ دہل گیا اور سیکولر اتھارٹی کا پکا حامی بن گیا۔ پھر اس نے جو نتیجہ اخذ کیا، وہ یہ تھا کہ کوئی حکمران نہ ہونے سے برا حکمران بہتر ہے اور اس کی تائید اسے سینٹ پال کی تحریروں سے بھی ملی۔

جیسے تین سو سال پہلے لوتھر نے دیکھا تھا، اسی طرح مشاگا نے بھی سرکش روحوں یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کے بپا کردہ کشت وخون کا عینی شاہد بننے کی اذیت جھیلی۔ اپنی طویل یادداشتوں میں اس نے ان لوگوں کو خبردار کیا ہے جو مقررہ حکام کا فرمانبردار رہنے کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں۔ ’’میری نیت اپنے حکمرانوں کے احکامات سے سرتابی کے نتائج سے روشناس کرانے اور اس کی وجوہات کی وضاحت کرنے کی تھی۔ .....کیونکہ ہم نے ابھی تک کوئی ایسی ریاست نہیں دیکھی جو احکامات کی تعمیل کرنے والی رعایا کے خلاف انتقامی کارروائی کرے۔‘‘ لوتھر کی طرح مشاگا بھی اکثر رومن کیتھولک حوالے دیتا تھا : ’’ہر انسان مقتدر حاکم کی رعیت ہے۔ حاکمیت صرف خدا کی ہے۔ .....حکمران اچھے کاموں کے خلاف نہیں بلکہ بدی کے خلاف خوف پیدا کرتے ہیں۔ ...... چنانچہ تمہیں ٹیکس ضرور ادا کرنے چاہئیں کیونکہ حکمران خدا کے نائب ہیں جو یہ کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ان کے سارے واجبات ادا کردو۔ .....کسی کا حق اپنے پاس نہ رکھو، سوائے اس کے کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔‘‘

آراء و افکار