الجزائری کی داستان حیات: چند توضیحات

محمد عمار خان ناصر

کوئی دو سال قبل مجھے امریکی مصنف جان کائزر کی ایک کتاب کے توسط سے انیسویں صدی میں فرانس کی استعماری طاقت کے خلاف الجزائر میں جذبہ حریت بیدا ر کرنے اور کم وبیش دو دہائیوں تک میدان کارزار میں عملاً داد شجاعت دینے والی عظیم شخصیت، امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت سے تفصیلی تعارف کا موقع ملا تو فطری طور پر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کی داستان حیات اور خاص طو رپر ان کے تصور جہاد سے پاکستان کی نئی نسل کو بھی آگاہی پہنچانی چاہیے تاکہ ہمارے ہاں شرعی جہاد کا مسخ شدہ اور شرعی اصولوں کے بجائے ہمارے اخلاقی، تہذیبی اور نفسیاتی زوال کی عکاسی کرنے والا جو تصور پروان چڑھ رہا ہے، اس کا کسی حد تک مداوا ہو سکے اور ماضی قریب کی تاریخ سے ایک ایسا نمونہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جس سے ہم عزم وہمت اور جرات وحوصلہ کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی، معروضیت اور بلند اخلاقی کا سبق بھی سیکھ سکیں۔ اس ضمن میں، مجھے ابتدا ہی سے اس بات کا پورا اندازہ تھا کہ امیر الجزائری کی شخصیت اور طرز جدوجہد سے حکمت وفراست اور اخلاقی اصولوں کی پاس داری کا جو نقشہ سامنے آتا ہے، ہمارے ہاں کا جہادی ذہن یقیناًاس سے بدکے گا اور رد عمل میں لازماً اس انداز کی کوششیں ہوں گی کہ اپنے پسندیدہ جہادی ہیروؤں کے مقابلے میں امیر کی شخصیت کی قدر وقیمت کو گھٹایا اور ان کی ذات کو دینی واخلاقی لحاظ سے مجروح کیا جا سکے۔ میرا یہ اندازہ درست ثابت ہوا ہے اور کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار ’’ضرب مومن‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب نے امیر عبد القادر الجزائری کی شخصیت اور ان کی داستان حیات سے متعلق جان کائزر کی کتاب کے اردو ترجمے کی پاکستان میں اشاعت کے حوالے سے، جس میں راقم الحروف کی سعی وکاوش بھی شامل رہی ہے، اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ مفتی صاحب نے اس حوالے سے بعض ’’خفیہ حقائق‘‘ سے قارئین کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے جو وضاحت کا تقاضا کرتے ہیں، اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ان سے متعلق اپنی مختصر معروضات قارئین کے سامنے پیش کر دوں۔

پہلی بات کتاب کے اردو ترجمے کی اشاعت کے لیے لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ’’دار الکتاب‘‘ کا نام استعمال کرنے سے متعلق ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا ہے کہ راقم الحروف نے جان کائزر کی کتاب ’’امیر عبد القادر الجزائری‘‘ اور اس کے علاوہ اپنے مقالات کا مجموعہ ’’براہین‘‘ دار الکتاب کے مالکان سے اجازت لیے بلکہ انھیں پیشگی اطلاع دیے بغیر ’’جبراً‘‘ ان کے نام سے شائع کی ہیں۔ یہ بات خلاف واقعہ ہونے کے ساتھ ساتھ بدیہی طور پر مضحکہ خیز بھی ہے، کیونکہ اول تو ایک جانے پہچانے اور معروف ادارے کے ساتھ اس طرح کا کوئی ’’ہاتھ‘‘ کرنا ممکن ہی نہیں اور فرض کریں کہ ایسا کیا جائے تو بھی کتاب کی اشاعت کے بعد وہ ادارہ حقیقت حال کی وضاحت کرنے اور قانونی چارہ جوئی کا پورا اختیار رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دار الکتاب کے مالک حافظ محمد ندیم صاحب کے ساتھ کافی عرصے سے راقم کے ذاتی مراسم کے علاوہ اشاعتی کاموں میں باہمی تعاون کا تعلق بھی ہے اور اس سے قبل بھی ہم ۲۰۰۷ء میں دینی مدارس کے نظام تعلیم سے متعلق دو کتابیں الشریعہ اکادمی اور دار الکتاب کے مشترکہ اہتمام میں شائع کر چکے ہیں، جبکہ اسی نوعیت کے دوسرے منصوبوں پر بھی مشورہ اور گفت وشنید کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ’’الجزائری‘‘ اور ’’براہین‘‘، دونوں کی اشاعت کے ضمن میں حافظ محمد ندیم صاحب کو پوری طرح اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کی پیشگی اجازت کے بعد ہی یہ کتابیں دار الکتاب کے نام سے شائع کی گئی تھیں اور اشاعت کے بعد سے اب تک دار الکتاب کے واسطے سے مسلسل قارئین تک پہنچ رہی ہیں۔ البتہ یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ چونکہ مذکورہ کتب اور خاص طور پر ’’براہین‘‘ کی اشاعت اصلاً دار الکتاب کی تجویز نہیں تھی، اس لیے ان کے مندرجات سے ان کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔ دارالکتاب نے ان کتب کو شائع کرنے کی اجازت اتفاق رائے کے اصول پر نہیں، بلکہ دوستانہ مراسم کے تناظر میں رواداری کے اصول پر دی تھی جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ جو حضرات ان معروضات کی تصدیق کرنا چاہیں، وہ حافظ ندیم صاحب سے ان کے فون نمبر 0300-8099774 پر براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

مفتی صاحب نے اس کتاب کی اشاعت کے سلسلے میں میری دلچسپی اور سعی وکاوش کو اس انداز سے آشکارا کرنے کی کوشش کی ہے جیسے انھوں نے کوئی انتہائی خفیہ ’’سازش‘‘ گہری صحافیانہ تحقیق کے بعد دریافت کی ہو، حالانکہ میں اس کتاب کے مصنف جان کائزر کے ساتھ رابطے، کتاب کے انگریزی متن پر نظر ثانی، اردو ترجمے کی ترتیب وتدوین اور پھر اس کی اشاعت کے سلسلے میں اپنی دلچسپی اور کوششوں کی پوری تفصیل خود اپنے قلم سے ماہنامہ الشریعہ کے مارچ ۲۰۱۲ء کے شمارے میں لکھ چکا ہوں۔ مجھے جان کائزر کی کتاب سے امیر عبد القادر کی شخصیت کے متعلق پہلی مرتبہ علم ہوا اور میں نے ان کی داستان حیات سے اردو قارئین کو واقفیت بہم پہنچانے میں دلچسپی محسوس کی اور اس کے لیے بساط بھر جو کچھ کر سکا، کیا۔ یہ ایک بالکل کھلی ہوئی اور علانیہ بات ہے جس میں نہ سازش کا کوئی پہلو ہے اور نہ خفیہ منصوبہ بندی کا۔ 

مفتی صاحب نے لاہور کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی تقریب کا ذکر بھی کیا ہے جس میں امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار شریک ہوئے تھے۔ اس ضمن میں بھی بعض معلومات کی تصحیح ضروری ہے۔ یہ تقریب جان کائزر کی کتاب کے تعارف کے حوالے سے نہیں، بلکہ اس کی اشاعت سے بہت پہلے امیر عبد القادر کی شخصیت کے تعارف کے حوالے سے میزونٹ ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کا اہتمام جناب عبد القدیر خاموش نے کیا تھا جو ’’مسلم کرسچین انٹرفیتھ ڈائیلاگ‘‘ کے زیر عنوان بین المذاہب افہام وتفہیم کے حوالے سے اس طرح کی تقاریب منعقد کرتے رہتے ہیں۔ میں نے اس تقریب میں نظامت کی ذمہ داری انجام نہیں دی تھی، بلکہ محض امیر کی شخصیت کے حوالے سے ایک لیکچر دیا تھا۔ امریکی سفارت خانے کے ایک عہدے دار (جن کا نام اور منصب مجھے بالکل یاد نہیں) اس میں مہمان خصوصی نہیں تھے، بلکہ مختصر دورانیے کے لیے شریک ہوئے تھے۔ جہاں تک اس طرح کی تقاریب میں شرکت کا تعلق ہے تو تحفظاتی ذہن رکھنے والے حضرات یقیناًاس پر معترض ہو سکتے ہیں اور اس کے ڈانڈے یہود وہنود کی خفیہ سازشوں سے بھی جوڑ سکتے ہیں، لیکن ایسی تقاریب جن کا موضوع سخن مختلف مذاہب کی باہمی دلچسپی سے تعلق رکھتا ہو اور خاص طور پر ان کا مقصد اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ہو، ان میں غیر ملکی حکومتوں کے نمائندوں کی شرکت کسی بھی طرح کوئی ناقابل فہم بات نہیں، بلکہ اس نوعیت کی تقریبات میں ہمارے ہاں کا عام معمول ہے۔ اس زاویہ نظر سے کم از کم میں ایسی تقریبات میں شریک ہونے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اور نہ اس پر کسی قسم کی معذرت خواہی یا صفائی پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔

مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کی شخصیت کے بارے میں بھی اپنے منفی تاثرات کو بڑی وضاحت سے پیش کیا ہے اور یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ان کے اس منفی تاثر کی بنیاد امیر عبد القادرکا ’’شکست خوردہ‘‘ جہاد ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ امیر عبد القادر نے کم وبیش سولہ سال تک فرانسیسی استعمار کے خلاف میدان کارزار میں سرگرم رہنے کے بعد جب یہ دیکھا کہ پوری الجزائری قوم رفتہ رفتہ فرانسیسی کیمپ کا حصہ بن چکی ہے اور ان کے ساتھ بس چند سو کی تعداد پر مشتمل جاں نثار ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت رہ گئی ہے تو انھوں نے اپنی جماعت کو اس بے حاصل کشمکش کی نذر کرنے کے بجائے فرانس کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا اور اپنی جماعت کو بحفاظت جلا وطن کر دیے جانے کی شرط پر فرانس کے ساتھ مصالحت کر لی۔ امیر کی اس حکمت عملی سے اختلاف کرنے والے اختلاف کر سکتے ہیں اور ہر قیمت پر لڑتے رہنے کو ’’عزیمت‘‘ کا عنوان دے کر جہاد کی آئیڈیل صورت بھی قرار دے سکتے ہیں، لیکن یہ حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ اسلامی تاریخ میں اس طرز عمل کے نمونے بھی موجود ہیں جو امیر الجزائری نے اختیار کیا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں پے در پے شکست سے دوچار ہونے کے بعد جب اپنے ساتھیوں کو بحفاظت میدان جنگ سے نکال کر واپس مدینہ منورہ لے آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تحسین فرمائی تھی۔ خود ہمارے ہاں ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں شکست کے بعد بعض اکابر نے جلا وطنی اختیار کر لی تھی اور دوسروں نے جنگ سے کنارہ کش ہو کر تعلیم وتدریس کے میدان کا انتخاب کر لیا تھا اور اس کے بعد سے، تحریک ریشمی رومال کے استثنا کے ساتھ، دیوبندی تحریک نے بالعموم انگریزی حکومت کے ساتھ تصادم کے بجائے پرامن سیاسی جدوجہد کا طریقہ ہی اختیار کیے رکھا ہے۔ 

یہ معروضی صورت حال میں مناسب حکمت عملی کے انتخاب کا مسئلہ ہے جس میں وہی فریق بہتر فیصلہ کر سکتا ہے جو اْس صورت حال میں کھڑا ہو۔ یہ کوئی ایسا جرم نہیں کہ اس پر مطعون کرتے ہوئے امیر عبد القادر کو نہ صرف ’’یہود کا گماشتہ‘‘ قرار دے دیا جائے، بلکہ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے بھی بے بنیاد الزامات عائد کرنے کی کوشش کی جائے۔ 

مفتی صاحب کی طرف سے امیر کو ’’یہود کا گماشتہ‘‘ قرار دینے کی بنیاد اس نکتے پر ہے کہ انھوں نے ایک دور میں فری میسن تنظیم کی رکنیت قبول کر لی تھی۔ یہ بات درست ہے اور کوئی ڈھکی چھپی نہیں، بلکہ معلوم ومعروف بات ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ امیر نے یہ رکنیت جس حسن تاثر اور جس اعلیٰ جذبے کے تحت قبول کی تھی، بعد میں اس کے حوالے سے عدم اطمینان ہونے پر انھوں نے اس سے علیحدگی بھی اختیار کر لی تھی۔ افسوس ہے کہ مفتی صاحب نے جان کائزر کی کتاب سے وہ اقتباسات تو نقل کر دیے ہیں جو فری میسن سے وابستگی کی تفصیلات بتاتے ہیں، لیکن انھی صفحات پر موجود یہ اطلاع انھوں نے کمالِ دیانت سے حذف کر دی ہے کہ انھوں نے اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ پھر یہ کہ فری میسن سے وابستگی ان کی زندگی کے آخری دور میں دمشق کے قیام کے دوران کا واقعہ ہے، جبکہ فرانس کے خلاف جہاد اور پھر صلح کے معاملات اس سے کئی دہائیاں پہلے گزر چکے تھے جب امیر کو فری میسن کے بارے میں سرے سے کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ اس لیے جہاد سے دست برداری کے معاملے میں ان کے طرز عمل کو ان کے ’’یہودی گماشتہ‘‘ہونے سے وابستہ کرنا کسی بھی منطق کی رو سے درست نہیں ہو سکتا۔

مفتی صاحب نے امیر عبد القادر کو ’’ماڈرن جہاد‘‘ کا نمائندہ ثابت کرنے کے لیے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ ان کی تعریف وتوصیف میں اہل مغرب رطب اللسان ہیں، ان کے نام پر امریکہ کی ریاست Iowa میں ایک قصبے کو موسوم کیا گیا ہے اور وہاں کے پبلک اسکولوں میں طلبہ کو امیر کی شخصیت سے واقف کرانے کے لیے ایک مستقل تعلیمی پروگرام چل رہا ہے۔ مفتی صاحب کا سوال یہ ہے کہ آخر ایک ’’سچے مجاہد‘‘ کے ساتھ اہل مغرب اس طرح کا تعلق خاطر کیونکر رکھ سکتے ہیں؟

یہ سوال اہل مغرب کے ہاں امیر کی مقبولیت کے اصل پس منظر کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ اہل مغرب کے ہاں امیر کی تکریم وتعظیم کا سبب ان کا ’’مجاہد‘‘ ہونا نہیں، بلکہ ایک تو ان کا وہ اخلاقی طرز عمل ہے جو انھوں نے فرانسیسی قیدیوں کی دیکھ بھال اور ان کے جسمانی ومذہبی حقوق کے احترام کے حوالے سے اختیار کیا اور دوسرا بلکہ اصلی سبب ان کا اور ان کے ساتھیوں کا وہ جرات مندانہ کردار ہے جو انھوں نے ۱۸۶۰ء میں دمشق میں مسلم مسیحی فسادات کے موقع پر بے گناہ مسیحیوں کو مسلمانوں کے مشتعل ہجوم سے، جو ان سب کو تہہ تیغ کر دینا چاہتا تھا، بچانے کے لیے ادا کیا تھا۔ درحقیقت امیر کا یہی وہ کردار ہے جس نے اس وقت کے نمایاں ترین مغربی قائدین اور اخبارات وجرائد کو ان کی تعریف میں یک زبان کر دیا اور انھیں مغرب میں اعلیٰ مذہبی اخلاقیات کے ایک مجسم نمونے کے طور پر جانا جانے لگا۔ امریکہ کی ریاست Iowa میں ایک قصبے کو ان کے نام پر موسوم کرنے اور طلبہ کو ان کی شخصیت سے متعارف کرانے کا پس منظر یہی ہے۔ میرے نزدیک اس پہلو سے امیر کی شخصیت نہ صرف آج کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے، بلکہ اہل مغرب کے سامنے اسلام کے تصور جہاد کے درست تعارف کے لیے بھی ایک گراں قدر اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ افسوس ہے کہ ہم دعوتی ذہن کے تحت ان جیسی شخصیت کی قدر وقیمت محسوس کرنے کے بجائے نفسیاتی شدت احساس کے زیر اثر انھیں مجروح کرنے اور ان کے مقابلے میں فکری واخلاقی بونوں کا امیج بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب نے امیر الجزائری پر ’’حد سے بڑھی ہوئی شہوت پرستی‘‘ کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ یہاں بھی ، افسوس ہے کہ انھوں نے سخت غیر اخلاقی طرز عمل اختیار کیا ہے۔ انھوں نے جان کائزر کی کتاب سے امیر سے میل ملاقات رکھنے والی ایک مغربی خاتون جین ڈگبی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ امیر کے حرم میں پانچ بیویاں تھیں، لیکن حاشیے میں مصنف کا یہ نوٹ نظر انداز کر دیا ہے کہ جین ڈگبی کی اس اطلاع کی کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق نہیں ہوتی اور یہ کہ جین کا یہ بیان محض قیاس آرائی بھی ہو سکتا ہے۔ مفتی صاحب نے مزید ستم یہ کیا ہے کہ خود جین ڈگبی کو، جو امیر کی مجلسوں میں شریک ہونے اور ان سے قریبی سماجی تعلقات رکھنے والے بہت سے مغربی افراد میں سے ایک تھی، امیر کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث دکھانے کی کوشش کی ہے۔ میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ استنتاج ایک منفی زاویہ نظر سے بعض معلومات کو پڑھنے کا نتیجہ ہے یا اس میں بالقصد اتہام طرازی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ حقیقت حال جو بھی ہو، بہرحال یہ ایک نہایت افسوس ناک طرز تحریر ہے جسے میں کسی تردد کے بغیر سطحی اور پراپیگنڈا صحافت کا ایک نمونہ قرار دوں گا۔ قارئین، کتاب کے متعلقہ حصوں کے مطالعے سے خود معلوم کر سکتے ہیں کہ نہ تو مصنف کے پیش نظر امیر اور جین ڈگبی کے مابین ناجائز تعلقات کی نشان دہی ہے اور نہ درج کردہ معلومات سے استدلال کے کسی بھی اصول کے تحت یہ نتیجہ یا اس کی طرف کوئی اشارہ ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔ فرض کریں، امیر کی زندگی میں اس قسم کا کوئی پہلو پایا جاتا ہو تو بھی ایسی کسی بات کا زیر نظر کتاب میں درج ہونا خود مفتی صاحب کے مفروضے کی رو سے بھی ناقابل فہم ہے، کیونکہ اگر یہ کتاب کسی سازش کے تحت مسلمانوں میں ’’جعلی‘‘ مجاہد کو ’’حقیقی‘‘ اسلام کے نمائندے کے طور پر متعارف کروانے کے لیے لکھی گئی ہے تو اس کا مصنف اتنا بے وقوف تو نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں اخلاقیات کے تصور سے بالکل ناواقف ہو اور امیر کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو کتاب میں بیان کر دے جس سے کتاب کا سارا مقصد ہی سرے سے فوت ہو جاتا ہو۔ انسان بعض دفعہ سازشی مفروضوں کے گھوڑے پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ کامن سینس کو بھی پس پشت ڈال دیتا اور بالکل سامنے کی چیزوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اس اتہام طرازی کے لیے روز قیامت کو اللہ تعالیٰ اور امیر عبد القادر کے سامنے جواب دہی نہ کرنی پڑے۔ 

آخری گزارش کے طور پر یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ کسی بھی شخص کے آرا وافکار یا حکمت عملی سے اختلاف کوئی ناپسندیدہ بات نہیں، لیکن اختلاف کا حسن یہی ہے کہ آپ اخلاقی اصولوں اور آداب اختلاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے تنقید کریں۔ تحریر میں سطحی اور گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر تے ہوئے سنسنی کی فضا پیدا کر کے وقتی طور پر تو قارئین میں مقبولیت حاصل کی جا سکتی ہے، لیکن اس طرز تحریر سے وجود میں آنے والے لٹریچر کی عمر اس دنیا میں بھی زیادہ نہیں ہوتی اور آخرت تو ہے ہی اسی لیے کہ وہ دنیا میں لوگوں کی نظروں میں ’مزین‘ کر دیے جانے والے اعمال کی قلعی کھول کر رکھ دے!! اللہم احسن عاقبتنا فی الامور کلہا واجرنا من خزی الدنیا وعذاب الآخرۃ۔

آراء و افکار

(مئی ۲۰۱۳ء)

Flag Counter