آئیے تاریخ پڑھیں!

طلحہ احمد ثاقب

پاکستان کو قائم ہوئے پینسٹھ برس بیت گئے، مگر کیا مجال کہ فضا میں ہلکی سی تبدیلی بھی ہوئی ہو۔ وہی نعرے، وہی انداز استدلال، وہی جذباتیت، وہی مخالفین کے لیے سب وشتم وغیرہ۔ مسلم لیگی کارکنوں نے تو ۱۹۴۷ء میں نعرے بلند کیے، مضمون لکھے اور اپنے جذبوں کو زبان دی۔ پاکستان بن گیا تو وہ لوگ حکومتیں کرنے لگے، مخالف منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی مسلم لیگی پر تنقید کی یا حکومتی غلطیوں کی نشان دہی کی، وہیں اسے غدار، ملک دشمن، ہندو کا ایجنٹ وغیرہ کے خطاب عنایت کر دیے گئے۔ تحریک پاکستان کے کارکن تو اللہ کوپیارے ہو گئے، ان کی یادگار کارکنان تحریک پاکستان ٹرسٹ رہ گیا یا نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن۔ ایک دو بزرگ ابھی زندہ ہیں، مجید نظامی اور ڈاکٹر رفیق۔ اللہ تعالیٰ انھیں زندہ سلامت رکھے۔ ان کے دم سے ہماری تاریخ زندہ ہے۔ 

پاکستان بن گیا۔ اب نعرے بازی ختم کر کے سنجیدہ تجزیہ نگاری کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، مگر ابھی نعرے بازی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ مسلم لیگی تو خیر ملک چلانے میں مصروف ہیں یا سیاست کرنے میں۔ تحریک پاکستان کی نعرے بازی ان دنوں جماعت اسلامی نے سنبھال رکھی ہے۔ ممکن ہے وہ ۱۹۴۷ء میں پاکستان کی مخالفت کا ازالہ کرنا چاہتے ہوں اور پاکستان کی حمایت میں نومسلموں والا جوش دکھا رہے ہوں۔ وجہ کچھ بھی ہو، ان لوگوں کا جوش وخروش دیدنی ہے۔ ان کی نعرہ بازی کے سامنے کارکنان تحریک پاکستان کے نعرے مدھم پڑتے محسوس ہوتے ہیں۔

پاکستان کے قیام کی مخالفت مولانا ابو الکلام آزاد نے کی تھی اور بلند آہنگی سے کی تھی۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے بھی پاکستان کی مخالفت کی تھی اور بساط بھر مخالفت کی تھی، مگر مولانا ابو الکلام نے قیام پاکستان کے بعد اپنے آپ کو ہندوستان میں بچ جانے والے مسلمانوں کی فلاح کے لیے وقف کر لیا تھا۔ انھوں نے تقسیم کے معاملے کو ماضی کا معاملہ قرار دے دیا، مگر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے قیام پاکستان کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کے اداریے میں پاکستان کے قیام اور اس کی قیادت پر بھرپور تنقید کی۔ اب کچھ سالوں سے جماعت اسلامی کے لوگ قیام پاکستان اور بانی پاکستان کی حمایت میں بہت پرجوش ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے جذبوں کو سلامت رکھے اور سلامتی کا راستہ دکھائے، مگر انھیں چاہیے کہ جذبات کے اظہار کے ساتھ ساتھ تاریخ کو نہ بھولیں اور یاد رکھیں کہ قیام پاکستان کو مولانا ابو الکلام آزاد نے نہیں، ان کے اپنے فکری راہنما جناب قبلہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے درندے کی پیدائش سے تعبیر کیا تھا۔

یہ ساری باتیں اس لیے یاد آئیں کہ جماعت اسلامی کے اخبار ’’جسارت‘‘ کے فرائیڈے اسپیشل میں جناب شاہنواز فاروقی کا مضمون بعنوان ’’قیام پاکستان: قائد اعظم کیوں صحیح تھے؟ مولانا ابو الکلام آزاد کیوں غلط تھے؟‘‘ شائع ہوا۔ جماعت اسلامی کے رسالے میں یہ مضمون شائع ہوا ہے، اس لیے ان سے مودبانہ گزارش ہے کہ براہ کرم یہ بھی لکھ دیں کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صحیح تھے یا غلط؟ جناب فاروقی صرف مولانا ابو الکلام آزاد پر سنگ زنی کر رہے ہیں، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا ذکر بہت خوب صورتی سے گول کر گئے ہیں۔ جواباً فاروقی صاحب مولانا ابو الاعلیٰ کی ۱۹۳۸ء سے پہلے کی تحریریں پیش کریں گے۔ ہماری گزارش ہے کہ وہ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۷ء تک کی مولانا ابو الاعلیٰ کی تحریریں دیکھیں اور پھر خوشی سے پیش کریں۔ ہم بسر وچشم قبول کریں گے۔

جناب فاروقی نے مضمون میں جو نقطہ نظر پیش کیا ہے، ہم اس حوالے سے کسی بحث میں الجھنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف چند تاریخی غلطیوں کی نشان دہی کرنا چاہتے ہیں۔

جناب فاروقی نے فرمایا ہے:

’’اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا سب سے بڑا تاریخی جرم یہ تھا کہ انھوں نے ہزاروں سال سے کروڑوں شودروں اور دلتوں کو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہندو دھرم کے دائرے میں تھے۔‘‘

راقم الحروف کو جناب فاروقی کی اس بات سے کامل اتفاق ہے کہ اعلیٰ ذات کے ہندووں نے دلتوں کو حیوانوں سے بدتر زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا تھا، مگر اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ وہ ہندو دھرم کے دائرے میں تھے۔ اچھوت ہمیشہ سے ہندو دھرم کے دائرے سے باہر سمجھے گئے اور وہ دھرم کے بغیر زندگی بسر کرتے رہے۔ ہندوؤں نے انھیں اچھوت سمجھا اور ذات باہر ٹھہرایا۔ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ان پر ظلم کیا اور اچھوت سمجھ کر کیا۔ اب جناب محترم یہ بھی بتا دیں کہ مسلمانوں نے اچھوتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ مسلم معاشرے نے اچھوتوں کو مسلمان ہو جانے کے بعد بھی صرف مسجد میں قبول کیا، معاشرے میں قبول نہیں کیا۔ یہ بے چارے بالمیک کا بت پوجتے تھے یا بغیر مذہب کے جیون گزارتے تھے۔ ہندو انھیں مندر سے دور رکھتے تھے ، مسلمان بھی انھیں مسجد میں لانے کا کم ہی سوچتے تھے۔ اگر سوچا ہوتا تو ہندوستان میں اکثریت مسلمانوں کی ہوتی۔ راقم الحروف جناب فاروقی پر یہ بات واضح کرنا چاہتا ہے کہ شودر ہندو مت کا حصہ ہے، مگر دلت ادیواسی وغیرہ ہندو مت کا حصہ نہیں۔ دلت وہی ہیں جو پاکستان میں بھی چوڑھے چمار کہلاتے ہیں، حالانکہ وہ بیچارے اسلام قبول کر چکے ہیں، مگر اعلیٰ ذات کے مسلمان انھیں پست سطح سے اوپر اٹھنے نہیں دیتے۔ انھیں جناب فاروقی کے بڑے، اجلاف اور چھوٹی امت کے لوگ کہتے تھے۔ یہ الفاظ ظاہر ہے، اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کی اختراع نہیں تھے۔

جناب شاہ نواز فاروقی فرماتے ہیں:

’’برصغیر کی ملت اسلامیہ شعوری سطح پر اس حقیقت سے آگاہ تھی کہ مستقبل کے ہندو حکمران اعلیٰ ذات کے ہندوؤں سے آئیں گے۔‘‘

یہ حقیقت بہرحال ادھوری حقیقت ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ایک ادنیٰ ذات کی اچھوت خاتون وزیر اعلیٰ ہے۔ بہار میں یادیو مسلمانوں کے تعاون سے حکمران ہے۔ بنگال میں کمیونسٹ، مسلمانوں کے تعاون سے حکومت کر رہے ہیں۔ گجرات میں فرقہ پرست نریندر مودی حکمران ہے، وہ بھی اتفاق سے تیلی ہے، اعلیٰ ذات کا ہندو نہیں۔ یہ باتیں صرف ریکارڈ کی درستی کے لیے عرض کی جا رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے ہندو اکثریت میں نہ کبھی تھے، نہ اب ہیں، نہ ہوں گے۔

جنا ب فاروقی نے ایک پیرا گراف میں ایسی باتیں ارشاد کی ہیں جنھیں پڑھ کر کسی بھی معتدل فکر شخص کا احساس زخمی ہو جاتا ہے۔۔ موصوف فرماتے ہیں:

’’سرحد میں سرحدی گاندھی چھائے ہوئے تھے اور ان کا کسی مسلم کافر سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ پنجاب ۱۹۴۶ء تک یونینسٹوں کے نرغے میں تھا اور ان کا بھی اسلام اور مسلمانوں کے کسی مفاد سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بلوچستان پر سرداروں کی حکومت تھی اور انھیں اسلام اور مسلمانوں کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔‘‘

جناب شاہنواز فاروقی نے ایسی دو دھاری تلوار سے وار کیے ہیں کہ سب چھدے پڑے ہیں۔ یہ خالصتاً وہ ذہنیت ہے جو پاکستان میں بسنے والے لوگوں کی تذلیل سے بات شروع کرتی اور اردو بولنے والوں کی برتری ثابت کرتی ہے۔ جناب موصوف یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تین صوبوں پر ان لوگوں کی حکومت تھی اور وہ لوگ یہاں کے عوام کے منتخب لیڈر تھے جن کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ گویا مسلمان اس جغرافیے سے باہر کسی اور صوبے میں آباد تھے۔ انھی سے مسلمان اور اسلام دوستی کا سرٹیفکیٹ لیے بغیر کوئی شخص کیونکر مسلمان بن سکتا ہے؟

جناب موصوف نے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان کی توہین اس ڈھٹائی سے کی ہے کہ شرم آتی ہے۔ وہ قیام پاکستان کے مخالف تھے، وہ تقسیم کو نادرست مانتے تھے، وہ ابو الکلام آزاد کی طرح سمجھتے تھے کہ تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمان دوسرے بلکہ تیسرے درجے کے شہری ہو جائیں گے۔ مزید برآں وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ قیام پاکستان سے پاکستان میں بسنے والے مسلمان بھی سکھی نہ رہ سکیں گے۔ یہ ان کا نقطہ نظر تھا۔ کیا اس نقطہ نظر کے حامل مسلمان کو آپ مسلمانوں سے لاتعلق ثابت کر سکتے ہیں، جبکہ وہ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں بھی مسلم سیٹوں پر مسلمانوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے؟ اس پر آپ کا ارشاد ہے کہ ’’ان کا کسی مسلم کافر سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔‘‘ آپ تاریخ پڑھیں اور پھر الزام لگائیں۔ ان کے سبھی ووٹر مسلم تھے اور ان کی پارٹی مسلم سیٹوں پر کامیاب ہوئی تھی۔

آنجناب نے یہ کہہ کر پنجاب کے مسلمانوں کا معاملہ صاف کر دیا ہے کہ ۱۹۴۶ء تک پنجاب پر یونینسٹوں کی حکومت تھی۔ یہ درست ہے، مگر اس وقت یونینسٹ پنجابی مسلمان اور اسلام کے مفاد کے لیے کام کر رہے تھے۔ اگر آپ تاریخ کا مطالعہ فرمائیں تو آپ کو معلوم ہو سکے گا کہ علامہ اقبال ۱۹۲۶ء میں پنجاب کونسل کے رکن منتخب ہو کر یونینیسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور بہت بعد تک ان لوگوں سے قریب رہے جن کا تعلق یونینسٹ پارٹی سے تھا۔ آپ ۱۹۳۶ء میں مسٹر محمد علی جناح کے ساتھ شامل ہوئے، مگر ۱۹۳۸ء میں سر سکندر حیات مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور یوں یونینسٹ اور مسلم لیگ دونوں پارٹیاں یکجا ہو گئیں۔ ۱۹۴۵ء میں سر خضر حیات کو مسلم لیگ سے نکالا گیا۔ جناب فاروقی کے جملے سے صرف یونینسٹ پارٹی ہی ڈس کریڈٹ نہیں ہوتی، مسلم لیگ بھی ہو جاتی ہے۔ ۴۶۔۱۹۴۵ء کے الیکشن میں جو لوگ پنجاب میں مسلم لیگ کے امیدوار تھے، ان کی اکثریت یونینسٹوں سے آئی تھی۔ سردار شوکت حیات، ممتاز دولتانہ، فیروز خان نون یونینسٹ رہے اور پھر مسلم لیگی ہوئے۔ جناب فاروقی تنقید کرتے ہوئے ذرا تاریخ کے اوراق الٹ لیتے تو بہتر تھا۔

سر سکندر حیات کے دور میں Land Alienation ایکٹ پاس ہوا۔ پنجاب کے زمینداروں کے لیے یہ ایکٹ رحمت تھا۔ پنجاب کے چھوٹے بڑے زمیندار اب بھی سر سکندر حیات کی اس خدمت کو فراموش نہیں کر پائے۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ آپ تاریخ کے اوراق الٹیے، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ سر سکندر حیات نے شاہی مسجد کی مرامت کرائی اور اسے قابل دید بنا کر قابل داد کارنامہ سرانجام دیا۔ اس سے پہلے اس کا فرش اکھڑا ہوا تھا۔ اس کے در ودیوار سکھ عہد کے ظلم کی داستان سنا رہے تھے۔ یہ مسجد رنجیت سنگھ کی مڑھی کے پاس ایک کھنڈر تھا۔ سر سکندر حیات نے اس کی عظمت کو بحال کرنے میں قابل فخر کارنامہ سرانجام دیا۔ اس پر یہ ارشاد کہ اسے اسلام اور مسلمانوں کے مفاد سے کوئی تعلق نہیں تھا! یونینسٹ پارٹی نے مسلمانوں کو ملازمتوں میں حصہ دلوایا اور ان کی تعلیم کے لیے بھی بری بھلی کوششیں ضرور کیں۔

اب رہا بلوچستان کے سرداروں کا معاملہ۔ سرداروں کو اسلام اور مسلمانوں سے کچھ لینا دینا نہیں تھا، یہ ارشاد ہے جناب شاہ نواز فاروقی کا۔ بلوچستان میں سرداروں کے سردار خان آف قلات تھے۔ ان کی ریاست قلات کا اسلام سے یہ لینا دینا تھا کہ وہاں ہمیشہ شریعت اسلامیہ کا قانون نافذ رہا۔ اس ریاست میں گواہ کے لیے بھی یہ شرط تھی کہ وہ مسلمان ہو۔ وہاں وزیر امور شرعیہ حضرت مولانا شمس الحق افغانی تھے۔ اس ریاست میں اس وقت تک شرعی قانون نافذ رہا جب تک کہ وہ خان آف قلات کے ’’زیر تسلط‘‘ رہی جنھیں اسلام اور مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ یہ قوانین اس وقت ختم ہوئے جب یہ ریاست، پاکستان کا حصہ بن گئی۔ مزید برآں قلات کی اسمبلی میں علماء کے لیے بھی نشستیں مختص تھیں۔ مولانا عرض محمد رحمہ اللہ اس اسمبلی کے رکن تھے۔

راقم الحروف نے صرف تاریخ کا ریکارڈ درست رکھنے کے لیے یہ چند گزارشات پیش کی ہیں۔ جناب فاروقی سے گزارش ہے کہ وہ ایسے جاروبی بیان (Sweeping statements) دینے سے گریز کریں تو بہتر ہے اور تاریخ پر بات کرتے ہوئے تاریخ کے اوراق الٹ لیا کریں تو اس سے بہتوں کا بھلا ہوگا۔ جناب فاروقی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ انھوں نے سرحدی گاندھی خان عبد الغفار خان، یونینسٹ پارٹی اور بلوچ سرداروں کو اسلام اور مسلمانوں سے لاتعلق کہہ کر مسلم لیگ کی تاریخ پر خط تنسیخ کھینچ دیا ہے، کیونکہ پاکستان میں باستثنائے چند یہی لوگ تھے جو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے پاکستان پر حکمران رہے ۔ خان عبد الغفار خان کے بھائی ڈاکٹر عبد الجبار خان کو مسلم لیگ نے اعتماد کا ووٹ دیا۔ یونینسٹ پارٹی تو ساری کی ساری مسلم لیگ کا حصہ بن گئی۔ ایک خضر حیات ٹوانہ بچے تھے، ان کی پوتی نے مسلم لیگ میں آ کر یہ استثنا بھی ختم کر دیا۔ تاریخ ہماری خواہشوں کی غلام نہیں ہو سکتی۔ فاروقی صاحب! آئیے تاریخ پڑھیں۔

آراء و افکار

Flag Counter