تعلیم و تعلم / دینی مدارس

موجودہ تہذیبی صورتحال اور جامعات کی ذمہ داری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قابل صد احترام معززین و سامعین! سب سے پہلے تو شکریہ ادا کروں گا اور خوشی کا اظہار کروں گا کہ ادارہ تعلیم و تحقیق جامعہ پنجاب نے اس سیمینار کا اہتمام کیا۔ پہلی بات تو میں عمومی موضوع کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور ریاست مدینہ جسے موجودہ حکومت کا تصور بیان کیا جاتا ہے، جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اور مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ بھی یہی بات کرتے رہے ہیں، اس لیے پہلی گزارش یہ کروں گا کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ریاست کے جو فکری رہنما ہیں، میں سر سید احمد خان سے شروع کروں گا، جسٹس سید امیر...

نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ

ڈاکٹر اکرام الحق یاسین

13؍ جون 2021ء بروز اتوار، دن 11 بجے تا 2 بجے زوار اکیڈمی کراچی کے زیر اہتمام”عصر حاضر اور ہمارے مدارس“ کے موضوع پرایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں راقم نے ”نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ“ کے عنوان کے تحت درج ذیل گفتگو کی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ مدارس دینیہ جس ماحول میں قائم کیے گئے تھے، اس کا بظاہر بنیادی مقصد دینی علوم کا تحفظ اور دعوتِ دین کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ انگریز کے ملک پر مکمل قبضہ کے بعد مدارس کے لیے وقف جائیدادیں تقریباً ضبط کرلی گئی تھیں اور سرکاری سرپرستی...

جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہ

محمد عمار خان ناصر

دینی مدارس کے نصاب میں اعلی ٰ ثانوی سطح تک عصری تعلیم کے مضامین کی شمولیت کے حوالے سے حکومت اور مدارس کے وفاقوں کے مابین ایک معاہدے کی اطلاعات کچھ عرصے سے گردش میں ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن اور مالی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے بھی کئی اہم امور پر گفت وشنید چل رہی ہے، جبکہ وقف شدہ اداروں سے متعلق انتظامی وقانونی اختیارات سرکاری افسران کو منتقل کرنے کے حوالے سے بھی ایک متنازعہ قانون سازی پچھلے چند ماہ سے حکومت اور دینی قیادت کے مابین کشاکش کا عنوان ہے۔ اس پس منظر میں اور اسی تسلسل میں گذشتہ فروری میں دینی مدارس کے کچھ نئے بورڈز...

دینی مدارس کے وفاقوں کو درپیش نیا مرحلہ

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

مفتی تقی عثمانی صاحب کا ایک کلپ سنا جس میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درس نظامی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یونیورسٹی اور حکومت نے وہ پروگرام واپس لے لیاتھا۔ مفتی صاحب کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ پروگرام بدستور چل رہا ہے، بلکہ حال ہی میں اسے اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ میں نے یونیورسٹی اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ اب تک کا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں تاکہ فقہی تقاضے کے مطابق مفتیان کرام موجود سماجی حالات سے آگاہ ہوں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درس نظامی پروگرام کی تاریخ یہ ہے کہ (میں اب یونیورسٹی میں نہیں ہوں لیکن یونیورسٹی...

دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قیام

ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

گزشتہ دنوں میں دینی مدارس کے حوالے سے کچھ نئے بورڈز (وفاق) قائم کیے گئے ہیں، بعض مدارس کی اسناد کو انفرادی طور پر بھی ایم اے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ یہ دونوں کام ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ اب خاصے وقفے کے بعد یہ عمل زیادہ بڑے پیمانے پر دہرایا گیا ہے، اس لیے یہ امور زیادہ نمایاں ہوگئے ہیں۔ چناں چہ اس وقت مدارس کے حلقے کا گرم ترین موضوع یہی بورڈز کا قیام ہے، اس بحث میں زیادہ گرمی جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کے مشترکہ بورڈ کے قیام سے آئی، جسے دیوبندی حلقے کے بورڈ، وفاق المدارس کے خلاف سازش قرار دیا گیا، خود وفاق کے ترجمان نے بھی اس پر باضابطہ...

دینی مدارس اور محکمہ تعلیم

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ’’سندھ حکومت نے صوبے میں موجود مدارس کو تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئی جی سندھ نے بریفنگ میں بتایا کہ سندھ میں ۸۱۹۵ مدارس اور امام بارگاہیں ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں مدارس تعلیمی اداروں کے طور پر رجسٹرڈ کیے جائیں گے اور انہیں محکمہ تعلیم رجسٹرڈ کرے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلٰی نے کہا کہ مدارس کا مفت تعلیم دینے میں اہم کردار ہے۔‘‘ ہمارے خیال میں دینی مدارس کے حوالہ سے سندھ حکومت کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے اور اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس کے ساتھ تعاون اور دیگر صوبوں میں بھی اسی نوعیت کے...

مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگار

محمد عمار خان ناصر

والد گرامی کی روایت ہے، گوجرانوالہ میں یوسف کمال نام کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب مقرر ہوئے جو کافی رعونت پسند اور طبقہ علماء کے بہت خلاف تھے۔ ایک میٹنگ میں، جس میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سمیت شہر کی بڑی مذہبی شخصیات شریک تھیں، ڈی سی صاحب نے گفتگو شروع فرمائی کہ مجھے علماء کرام پر بہت ترس آتا ہے، میرا دل دکھتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا، ان کا روزگار لوگوں کی جیب سے وابستہ ہوتا ہے، وغیرہ۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب مضطرب ہوئے اور زیر لب کہنے لگے کہ یہ بہت زیادتی ہے۔ والد گرامی نے کہا کہ اگر آپ فرمائیں تو میں ڈی سی صاحب کو جواب دوں؟...

دینی مدارس اور مشترکہ تعلیمی نصاب

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلٰی مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے گزشتہ روز درویش مسجد پشاور میں علماء کرام اور کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جن خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے وہ پورے ملک کے دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ کے دل کی آواز ہیں، بالخصوص ان کا یہ کہنا کہ حکومت کے ساتھ جو معاہدات ہوئے ہیں ان پر اگر ان کی روح کے مطابق عمل نہ ہوا تو ہم ان کی پابندی ضروری نہیں سمجھیں گے۔ دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ تنظیم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کے قائدین کے ساتھ وفاقی وزیر تعلیم کے چند ماہ قبل ہونے والے مبینہ معاہدہ...

مدارس میں تحقیقاتی معیار پر سوالیہ نشان

مولانا نفیس الحسن

بات ہو رہی تھی جدید تحقیقاتی دور میں مدارس کے کردار کے حوالے سے، ایک ساتھی نے اپنے ایک استاد محترم کے کسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضمون میں جدید فقہی ذخیرے میں کتابوں اور مقالات کی اس لمبی فہرست میں مدرسے کے کسی فاضل کی کوئی قابل ذکر کاوش نہیں ۔ سب عرب جامعات کے فضلاء اور ان کے پی ایچ ڈی یا ایم فل مقالات ہیں۔ ہمارے پاس میدان تحقیق میں چند گنے چنے نام ہیں جن کا صر ف ہم تذکرہ ہی کر سکتے ہیں۔ ان کے نہج پر چل کر تحقیق کےتقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی قابل ذکر خدمت انجام دینا اب تک صرف ایک آرزو ہی ہے۔اس بات میں مبالغہ آرائی بھی ہو سکتی ہے لیکن...

’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا، اس پر ایک نظر ڈال لیں، اس کے بعد میری معروضات پر غور فرمائیں۔ ’’دینی...

دینی مدارس کا نظام: بنیادی مخمصہ

محمد عمار خان ناصر

تحریک انصاف کی حکومت نے بعض دوسرے اہم قومی ایشوز کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے حوالے سے یکساں نصاب تعلیم کی ترویج کا سوال بھی اٹھایا ہے۔ مدارس کے نظام کی بہتری اور اصلاح کا مسئلہ ہماری سیاسی حکومتوں کے ہاں یہ بنیادی طور دو حوالوں سے زیر غور آتا ہے: ایک، مذہبی فرقہ واریت، شدت پسندانہ رجحانات اور امن وامان کے تعلق سے ،اور پچھلی دو تین دہائیوں سے ریاستی زاویہ نظر پر اس رجحان کا غلبہ بتدریج بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے ساتھ مکالمہ یا پالیسی سازی کا مرکز وزارت تعلیم کے بجائے عموما وزارت خارجہ ہوتی ہے، حالانکہ بنیادی طور پر مدارس،...

درس نظامی: چند مباحث

محمد دین جوہر

نوٹ: یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ درسِ نظامی پر ہماری اس گفتگو میں تعلیم اپنے نظری اور عملی پہلوؤں سے زیربحث ہے، اور مذہب پر گفتگو اس سے خارج ہے۔ آغاز ہی میں عرض کرنا چاہوں گا کہ درس نظامی کی عمومی حمایت اور اس کی بنیاد ”فرقہ ورانہ وابستگی“ یا کوئی ”سیاسی وفاداری“ ہے، اور اس کا تعلق کسی تعلیمی یا تہذیبی شعور سے نہیں ہے۔ یہ حمایت خاص تاریخی حالات میں ایک ضروری ردِ عمل کے طور پر سامنے آئی تھی۔ لیکن ”رد عمل“ کا مسئلہ یہ ہےکہ معترض فکر سے باخبر ہوتا ہے اور نہ اس سے مخاطب، اور مخالف قوت کے مساوی کوئی عمل سامنے نہیں لانے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔...

دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج

مولانا مفتی محمد زاہد

(۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اقبال انٹر نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (IIRD) کے اشتراک سے ’’دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان پر منعقدہ سیمینار میں گفتگو۔) بعدالحمدوالصلوٰۃ! میں سب سے پہلے تو مخدوم و مکرم حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، جناب مولانا عمارخان ناصر صاحب، الشریعہ اکادمی کے ذمہ داران اور ادارہ اقبال برائے مکالمہ و تحقیق کے ذمہ دارحضرات کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے اس محفل میں حاضری کا اور اپنی گزارشات پیش کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں انتہائی مختصر وقت میں چند موٹی موٹی باتوں...

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۲)

پروفیسر غلام رسول عدیم

مدرسہ نصرۃ العلوم۔ چوک گھنٹہ گھرسے مغرب کی جانب مسجد نور سے ملحق مرسہ نصرۃالعلوم ضلع گوجرانوالہ کی عظیم دینی درس گاہ ہے ۔ ۱۳۷۱ء بمطابق۱۹۵۲ء کومدرسہ کی بنیاد رکھی گئی ۔مدرسہ کی سہ منزلہ عظیم لشان عمارت ۴۷کمروں پرمشتمل ہے ،جن میں ۱۹۰طلباء کی اقامتی گنجائش ہے۔ مدرسہ کے مہتمم حکیم صوفی عبدالحمیدسواتی (فاضل دارالعلوم دیوبند،فاضل دارالمبلغین لکھنؤ، مستندنظامیہ طبیہ کالج حیدرآباددکن )ایک عالم باعمل اور درویش صفت انسان ہیں۔ یوں تومدرسہ انجمنِ نصرۃ العلوم کے تحت چل رہاہے مگرمہتمم کی پرکشش شخصیت مدرسے کے جملہ انصرامی امور کامحورومرکزہے۔ وہ...

جنوبی ایشیا کے دینی مدارس، عالمی تناظر میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(نوٹرے ڈیم یونیورسٹی، انڈیانا، امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر، ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی کتاب ?What is a Madrasa کے اردو ترجمہ ’’دینی مدارس: عصری معنویت اور جدید تقاضے‘‘ (از قلم: ڈاکٹر وارث مظہری) کے لیے لکھا گیا پیش لفظ۔) جنوبی ایشیا کے دینی مدارس اس وقت علمی دنیا میں مختلف سطحوں پر گفتگو ومباحثہ کا اہم موضوع ہیں اور ان کے تعلیمی ومعاشرتی کردار کے مثبت ومنفی پہلوؤں پر بحث وتمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ آج کے تعلیمی وتہذیبی ماحول میں ان دینی مدارس کی ڈیڑھ سو سالہ جدوجہد کے اثرات مثبت اور منفی دونوں حوالوں سے بتدریج واضح ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی افادیت...

ظلماتِ وقت میں علم و آگہی کے چراغ (۱)

پروفیسر غلام رسول عدیم

تعلیم وہ عظیم کام ہے جس پر خداکے سب سے زیادہ برگزیدہ بندے مامور ہوئے۔ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر جناب خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام انبیاء اس منصبِ جلیل پر فائز رہے ہیں اور تعلیم وہ اعلیٰ کام ہے جس کے ذریعے رسولانِ برحق کے سچے فرمانبرداروں نے ہر دور میں نورِ نبوت سے فیضیاب ہو کر اپنی زندگیوں کو منور کیا۔ فضیلت علم کے باب میں سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات میں خاصا وقیع مواد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسانی زندگی مختلف خانوں میں بٹتی گئی تو تعلیم وتعلم کا عمل بھی الگ الگ خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ۔ ایک...

دینی مدارس میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

۱۴ نومبر ۲۰۱۷ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ اور اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ اسلام آباد کے اشتراک سے مغل محل گوجرانوالہ میں ’’مدارس دینیہ میں عصری تعلیم کے تجربات و نتائج‘‘ کے عنوان پر ایک روزہ سیمینار منعقد ہوا جس میں پچاس کے قریب دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور منتظمین نے شرکت کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اور دار العلوم کبیر والا کے استاذ الحدیث مولانا مفتی حامد حسن نے مختلف سیشنز کی صدارت کی۔ نقابت کے فرائض...

دینی مدارس، دہشت گردی اور عالمی پالیسی ساز طاقتیں

ڈاکٹر ابراہیم موسٰی

(مصنف کی کتاب ?What is a Madarasa کی ایک فصل)۔ اکثر پالیسی ساز افراد اور ادارے جو فیصلے کرتے ہیں وہ یا تو ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں پر مبنی ہوتے ہیں یا پھر انٹیلی جنس کی گمراہ کن رپورٹوں پر۔ مسلمانوں کی مذہبی زندگی میں مدارس کا کردار کیا ہے، اگر مجھے اس کی تشریح و وضاحت کا موقع دیا جائے اور مجھے صدر امریکہ، امریکی کانگریس کے ارکان اور دنیا کی کسی بھی حکومت کو مدارس کے تعلق سے مشورہ دینا ہو تو میں اپنی کتاب ’’دینی مدارس:عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ کا ایک نسخہ اس مکتوب کے ساتھ انھیں ارسال کرنا چاہوں گا: محترم صدر امریکہ اور امریکی کانگریس کے معزز ارکان!...

دینی مدارس کو درپیش آزمائش

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی کھالوں کے حوالہ سے دینی مدارس کے ساتھ جو طرزِ عمل اختیار کیا گیا وہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اور کافی عرصہ سے سرکاری پالیسیوں کا رخ اسی طرف نظر آرہا تھا کہ دینی مدارس کی میڈیا پر مسلسل کردار کشی کے ساتھ ساتھ ان کے ذرائع آمدن پر قدغنیں لگا کر ان کی ’’سپلائی لائن‘‘ کاٹ دی جائے تاکہ دینی مدارس کے موجودہ معاشرتی کردار کو محدود کرنے کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکی تھنک ٹینک ’’رینڈ کارپوریشن‘‘ کی رپورٹ کے بعد اس بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ گیا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سو برس سے مسلم معاشرہ میں دینی علوم کے...

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۲)

مولانا محمد رفیق شنواری

تعلیمی ماحول کی تشکیل میں استاد کا کردار۔ تعلیمی عمل کا ایک اساسی بلکہ اہم ترین رکن استاد ہے ۔ لیکن تعلیم کو فروغ دینے کے سلسلے میں استاد کے علاوہ تعلیمی وسائل کا بھی گہرا اثر ہوتا ہے ۔ تعلیم کے وسائل پورے اور بہتر ہوں تو استاد کو عمل تدریس میں لگن پیدا ہوگی ، اس طرح بہتر اور معیاری تدریس اپنے مثبت اور اچھے اثرات کے باعث عملِ تعلیم کو خوش گوار اور پرکشش بنا دیتی ہے۔ اس لیے تعلیمی ماحول کی تشکیل میں اولین ذمہ داری اداروں کے سربراہان یا مدارس کے مہتممین حضرات پر عائد ہوتی ہے کہ وہ مدارس کے بادشاہ یا سلاطین بننے کے بجائے طلبہ اور بالخصوص مدرسین...

دینی مدارس کا نصاب، جہاد افغانستان اور عسکریت پسندی

محمد عرفان ندیم

سر سیداحمد خان کے بیٹے سیدمحمود احمد ہندوستان کے مشہور وکیل تھے۔ ان کی یاد داشت بڑی کمزور تھی۔ ایک دفعہ ایک مقدمے میں پیش ہوئے اور یہ یا دہی نہ رہا کہ وہ استغاثہ کے وکیل ہیں یا وکیل صفائی۔ انہوں نے موقع ملتے ہی وکیل صفائی کے دلائل دینا شروع کر دیے اور بڑی مہارت سے ملزم کی صفائی میں دلائل پیش کیے۔ موکل اور جج دونوں پریشان ہو گئے۔ موکل نے انہیں ایک چٹ پیش کی جس میں انہیں یاد کر وایا کہ آپ وکیل صفائی نہیں بلکہ استغاثہ کے وکیل ہیں۔ محمود احمد نے بڑے اطمینان سے چٹ پر نظر دوڑائی اور ذرہ بھر توقف کیے بغیر اسی جوش و خروش سے دوبارہ بولنا شروع کیا ’’می...

دینی مدرسہ میں استاد کا کردار (۱)

مولانا محمد رفیق شنواری

اپنے اہل خانہ کے بعد طالب علم جس شخصیت سے زیادہ متا ثر ہوتا ہے، وہ اس کا استاد ہے۔ طالب علم اپنے استاد سے تہذیبی اقدار اور اخلاقیات کے وہ اسالیب سیکھتا ہے جو اس کی زندگی کا رُخ بدل دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ استاد کی ’’شخصیت‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آسان لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’شخصیت‘‘ سے مراد اس کا رویہ اور ظاہری تصویر مثلاً لباس، چال ڈھال، لب و لہجہ اور برتاؤ ہے۔ ’’مثالی‘‘ کا سابقہ ساتھ لگا کر استاد یعنی ’’مثالی استادکی شخصیت‘‘ کے مفہوم میں چند دیگر امور بھی شامل ہوتے ہیں۔ استاد کی شخصیت تب کامل ہوگی جب اعلیٰ اخلاق، حسین ظاہر ی تصویر...

دینی مدارس میں عقلی علوم کی تعلیم

محمد عمار خان ناصر

برصغیر میں اکبری عہد میں ملا فتح اللہ شیرازی کے زیراثر معقولات کی تعلیم کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے مقامی تعلیمی روایت پر گہرا اثر ڈالا، چنانچہ اس کے قریبی زمانے میں ملا قطب الدین اور ملا نظام الدین نے ’’درس نظامی‘‘ مرتب کیا تو اس میں یونانی فلسفہ، یونانی منطق اور علم الکلام کے علاوہ ریاضی اور ہیئت کے مضامین بطور خاص نصاب کا حصہ بنائے گئے۔ پورے نصاب پر معقولی رنگ بے حد غالب تھا اور معقولات کے عنوان سے کم وبیش ہر شعبہ علم میں ایسی اعلیٰ سطحی کتابیں شامل کی گئیں جن پر یونانی منطق کی اصطلاحات میں مباحث کی تنقیح کا رنگ کا غالب تھا۔ اس رجحان...

دینی مدارس اور عصری رجحانات

غازی عبد الرحمن قاسمی

بر صغیر پاک وہند میں دینی مدارس کی بے مثال خدمات ہیں ۔اور ایسے مدارس کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں دین متین کی تبلیغ واشاعت میں اہم کردار ادا کیا اور ان اداروں سے ایسی نامور علمی شخصیات تیار ہوئیں جن کی دینی روایات اور اسلامی اقدار کے لیے مساعی جمیلہ قابل ستائش اور وجد آفرین ہیں ۔ دور جدید میں نئے مسائل اور عصری تقاضے ہیں جن کی رعایت رکھتے ہوئے اگر دینی مدارس میں علوم اسلامیہ کی تعلیم وتدریس ہو توا س عظیم الشان کا م کو مزید بہتر انداز میں کیا جاسکتاہے ۔زیر نظر مقالہ میں بالعموم پاکستان کے دینی مدارس اور بالخصوص وفاق...

دینی مدارس میں یوم آزادی کی تقریبات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس سال 14 اگست کی تقریبات میں دینی مدارس کی پیش رفت اور جوش و خروش کا مختلف مضامین اور کالموں میں بطور خاص تذکرہ کیا جا رہا ہے اور یہ واقعہ بھی ہے کہ اس بار دینی مدارس میں یوم آزادی اور قیام پاکستان کے حوالہ سے زیادہ تقریبات منعقد کی گئی ہیں اور جوش و خروش کا پہلے سے زیادہ اظہار ہوا ہے جس کے اسباب پر مختلف پہلوؤں سے گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ میرا ایک عرصہ سے معمول ہے کہ قومی سطح پر منائے جانے والے دنوں کی تقریبات میں کسی نہ کسی حوالے سے ضرور شریک ہوتا ہوں اور عنوان کی مناسبت سے اپنے خیالات و تاثرات بھی پیش کرتا رہتا ہوں۔ لیکن اس سال اس کا تناسب بہت...

فضلائے مدارس کے معاشی مسائل ۔ حالات، ضروریات اور ممکنہ راستے

مولانا مفتی محمد زاہد

الحمد للّٰہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین و بعد۔ میں اپنی بات کا آغاز قرآن کریم کی ایک آیت مبارکہ سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو مبارک حدیثوں سے کروں گا۔ سورہ نوح میں آتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو دعوت دیتے ہوئے، اللہ کی طرف بلاتے ہوئے ان سے کہا کہ اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ مغفرت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان دوزخ سے بچ جائے گا اور جنت میں چلا جائے گا۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے اس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا: اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ...

فضلائے مدارس کا معاشی مستقبل ۔ چند تاثرات اور تجاویز

ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی

(فضلاء مدارس کے معاشی مستقبل کے حوالے سے جناب ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی (ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، ہائی ٹیک یونیورسٹی، ٹیکسلا) نے گزشتہ دنوں فیس بک پر اپنے صفحے پر بعض تبصرے پیش کیے جنھیں موضوع کی مناسبت سے یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔) دینی مدارس کے فضلاء پچھلے کچھ عرصے سے بڑی تعداد میں ایم فل پی ایچ ڈی کرنے آرہے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کی بڑی تعداد بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں آتی ہے جس کے پس منظر میں اس احساس کی تلخی کم و بیش موجود ہوتی ہے کہ دینی نظام تعلیم نے ان کی معاشی ضروریات سے مکمل صرف نظر کیے رکھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یونیورسٹی ایجوکیشن کے بلاشبہ...

فضلائے مدارس کے روزگار کا مسئلہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

عید الفطر کی تعطیلات ختم ہوتے ہی دینی مدارس میں تعلیمی سرگرمیوں کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ چند روز تک داخلوں کا آغاز ہو رہا ہے اور ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات نئے سال کی تعلیمی ترجیحات طے کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ گزشتہ سال فارغ ہونے والے ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے لیے نئی سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی تلاش کر رہے ہیں۔ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے روزگار اور مختلف قومی شعبوں میں دینی خدمات کے حوالہ سے ذہن سازی اور منصوبہ بندی ہماری ترجیحات میں عمومی طور پر شامل نہیں ہوتی بلکہ اسے دینی دائرے سے انحراف کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ مگر...

دینی مدارس کے متعلق پرویز رشید کے خیالات

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

پرویز رشید صاحب کے بارے میں ہم زیادہ معلومات نہیں رکھتے، بس اتنا معلوم ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اہم راہ نما ہیں۔ اسی وجہ سے میاں محمد نواز شریف کے منظور نظر اور وفاقی وزیر اطلاعات ہیں۔ تحریک انصاف کے راہ نماؤں کے ساتھ ان کی نوک جھونک اخبارات میں نظر سے گزرتی رہتی ہے، یاد نہیں کہ کبھی ان سے ملاقات ہوئی ہو، مگر قومی پریس میں کم و بیش روز ہی ہو جاتی ہے۔ ان کے فکری شجرۂ نسب کے بارے میں بھی اب سے پہلے کچھ علم نہیں تھا، گزشتہ دنوں ایک دوست نے ان کے قادیانی ہونے کا تذکرہ کیا تو ہم نے ٹوک دیا کہ بلا تحقیق کسی کے بارے میں ایسی بات کہنا درست نہیں،...

دینی موضوعات پر تعلیمی و تربیتی کورسز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شعبان المعظم اور رمضان المبارک دینی مدارس میں درجہ کتب کے طلبہ کے لیے تعطیلات کے ہوتے ہیں اور شوال المکرم کے وسط میں عام طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس دوران حفاظ اور قرا کا زیادہ وقت قرآن کریم کی منزل یاد کرنے اور رمضان المبارک کے دوران تراویح میں سننے سنانے میں گزرتا ہے۔ جبکہ عام طلبہ کو تعلیمی مصروفیات میں مشغول رکھنے اور ان کے وقت کو مفید بنانے کے لیے مختلف کورسز کے اہتمام کی روایت کافی عرصہ سے چلی آرہی ہے۔ زیادہ تر قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر کے دورے ہوتے ہیں جو شعبان کے آغاز سے شروع ہو کر رمضان المبارک کے وسط تک جاری رہتے ہیں۔...

حصول علم کا جذبہ اور ہمارے اسلاف

مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد! حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم اور حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان صاحب مدظلہ العالی۔ میں یقیناًاس لائق نہیں ہوں جس طرح کے کلمات خیر سے ازراہِ محبت ذکر کیا گیا ہے، لیکن چونکہ یہ بڑے حضرات ہیں، اکابر حضرات ہیں، اس لیے دعا و تمنا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے خیالات کو حقیقت میں بدل دے اور ان کے یہ کلمات ہمارے لیے ایسی دعا ثابت ہوں جو حقیقت ہو جائیں۔ یہ بات میرے لیے بڑی خوش نصیبی اور سعادت کی ہے کہ اس مبارک مدرسہ میں حاضری ہوئی۔ میں جب پڑھتا تھا، اس وقت میں نے حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کی...

پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ

پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر

(گفٹ یونیورسٹی گوجرانوالہ میں ایم فل علوم اسلامیہ کے طلبہ سے گفتگو۔)۔ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ مجھے آپ حضرات سے مخاطب ہونے کا موقع ملا ہے۔ مجھے جو موضوع دیا گیا ہے، وہ ہے ’’پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘۔ یعنی پاکستان کی یونیورسٹیوں کے اندر اس وقت قرآن کریم کے مطالعہ کے حوالے سے جو نصابات موجود ہیں اور جو اس مطالعے کے نتائج ہیں، میں نے ان پر اظہار خیال کرنا ہے۔ لیکن موضوع پر گفتگو سے قبل ایک دو باتیں میں چاہوں گا کہ آپ کے سامنے عرض کر دوں۔ ما شاء اللہ آپ لوگ ایم فل کی سطح پر آ گئے ہیں۔ آپ شعوری طور پر اس چیز کا ادراک کریں اور...

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کے نظام تعلیم اور نصاب میں ضروریات زمانہ کے تناظر میں رد و بدل اور حک و اضافہ کے بارے میں ایک عرصہ سے بحث جاری ہے جو اس لحاظ سے بہت مفید اور ضروری ہے کہ جہاں موجودہ نصاب کی اہمیت و افادیت کے بہت سے نئے پہلو اجاگر ہو رہے ہیں، وہاں عصر حاضر کی ضروریات کی طرف بھی توجہ مبذول ہونے لگی ہے اور صرف توجہ نہیں بلکہ بہت سے اداروں میں عصری تقاضوں کو دینی مدارس کے نصاب و نظام کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کا کام بھی خوش اسلوبی سے جاری ہے جس میں سر فہرست جامعۃ الرشید ہے اور اس کے علاوہ بہت سے دیگر دینی تعلیمی ادارے بھی اس کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مختلف حوالوں...

مذہبی تعلیم سے وابستہ چند فکری پہلو

محمد عمار خان ناصر

پاکستان میں مختلف سطحوں پر مذہبی تعلیم کے موجودہ انتظام کے مثبت اور منفی پہلووں اوراس نظام میں بہتری کے امکانات کے حوالے سے متنوع زاویوں سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ اس تجزیے کا ایک اہم اور بنیادی پہلو ملک وقوم کی علمی وتعلیمی ضروریات اور مطلوبہ معیار کے تناظر میں موجودہ تعلیمی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے، تاہم اس پہلو کو کسی دوسرے موقع کے لیے موخر کرتے ہوئے اس نشست میں ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کی موجودہ لہر کے تناظر میں، جس نے قوم کو درپیش ایک گہرے اور سنجیدہ بحران کو فکر ودانش کی سطح پر نمایاں کر دیا ہے، مذہبی تعلیم کے کردار کے حوالے...

عمل تدریس میں استاد کا کردار

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سب سے پہلے تو آئی پی ایس کا شکریہ ادا کروں گا کہ آج کی اس تقریب میں حاضری کا اور کچھ سننے سنانے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائے، مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق عطا فرمائے، دین اور حق کی جو بات سمجھ میں آئے اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ اس کے بعد آئی پی ایس کو دو باتوں پر مبارک باد پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک تو کام کے تسلسل پر جو ہمارے ہاں عام طور پر نہیں ہوتا، بالخصوص فکری کاموں میں۔ ہمارا جو دائرہ ہے، اس میں فکر سازی اور ذہن سازی کے کام کی حیثیت ثانوی بھی نہیں بلکہ ثالثی درجے میں کہیں ہوتی ہے۔ حالانکہ...

عصری تعلیم کے اسکولوں پر توجہ کی ضرورت

صادق رضا مصباحی

اگر میں یہ کہوں کہ اس وقت مدارس سے زیادہ مکاتب پر توجہ کی ضرورت ہے تو اس میں کسی کو کوئی حیرت نہیں ہو نی چاہیے۔کسی بھی بلندفکراورزمانہ شناس شخص سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے کہ زمانے کی رفتار کے آگے مدارس و مکاتب اپنی کوتاہ رفتاری کا شکوہ کر رہے ہیں۔ ہم نے بالعموم بلند بانگ دعوے تو بہت کیے مگر اس کے مطابق کا م پانچ فی صد بھی نہیں کیا۔ اس ضمن میں سیاسی لیڈران اور مذہبی قائدین دونوں ہی ذمے دار ہیں ۔ یہ بات یوں ہی نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ اس کی پشت پر وہ تاریخی شہادتیں ہیں جن کا انکار سورج کو جھٹلا نے کے مترادف ہو گا۔ سائنس اور ٹکنا لوجی کے معاصررجحانات...

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال

مولانا محمد وارث مظہری

کچھ دنوں قبل ہندوستان کے ایک مایہ ناز عالم وفقیہ اور متعدداہم کتابوں کے مصنف نے راقم الحروف سے گفتگو کے دوران مدارس میں تصنیف وتالیف اور علمی تحقیق کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کے سب سے بڑے اور وسیع اثرات رکھنے والے مدرسے سے متعلق کہا کہ یہاں سے گزشتہ بیس پچیس سال کی مدت میں حقیقی معنوں میں صرف دو کتابیں شائع ہوئی ہیں۔اور انھوں نے ان کتابوں کا نام بتایا۔غور وفکر کا مقام ہے کہ جب نامی گرامی اور عظیم وراثت کے امین مدرسے کی یہ حالت ہے تو دوسرے مدارس سے ہم کس طرح کوئی بڑی امید قائم کر سکتے ہیں؟اگرچہ مدارس کی سطح پر صورت حال...

اتحاد تنظیمات مدارس اور حکومت کا معاہدہ

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان مبینہ طور پر ہونے والے معاہدے اور اس کے تحت ’’وفاقی مدرسہ بورڈ‘‘ کے قیام کے حوالے سے ۶؍ نومبر کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں مختلف دینی مدارس کے اساتذہ اور ذمہ دار حضرات کی ایک مجلس مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ راقم الحروف کے علاوہ مولانا سید عبد المالک شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبدالحق خان بشیر، مولانا حافظ محمد یوسف، حافظ محمد عمار خان ناصر، پروفیسر محمد اکرم ورک، پروفیسر حافظ منیر احمد اور پروفیسر غلام حیدر نے مباحثہ میں حصہ لیا اور مبینہ معاہدہ اور وفاقی مدرسہ بورڈ کے...

دینی مدارس اور حکومت کے مابین معاہدہ

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری

گزشتہ دنوں اتحاد تنظیماتِ مدارس اور حکومت کے مابین دینی مدارس کے حوالے سے کچھ امور پر اصولی اتفاق کیا گیا۔ اس اتفاق کے بارے میں بہت سے حلقوں میں مختلف قسم کا ابہام پایا جاتا ہے بالخصوص مذہبی طبقے اور مدارس کی دنیا میں ان مذاکرات کی تفصیل،پس منظر، متفقہ نکات اور ان کے نتائج کے حوالے سے مکمل اور درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے بعض احباب کی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ تشویش، سوالات اور مدارس کے حوالے سے بیداری اور حساسیت بہت غنیمت ہے۔ زیر نظر مضمون میں ان مذاکرات میں طے پانے والے امور کے حوالے سے حقیقی صورت حال واضح...

اتحادِ تنظیمات مدارس دینیہ اور حکومت کا نیا معاہدہ

مولانا مفتی محمد زاہد

اخباری اطلاعات کے مطابق دینی مدارس کے پانچوں وفاقوں کو تعلیمی بورڈز کا درجہ دینے کا فیصلہ آخری مراحل میں ہے۔ اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے نمائندوں نے بھی اس پر اصولی آمادگی ظاہر کردی ہے ۔ چونکہ اس منصوبے کو ابھی حتمی شکل بھی نہیں ملی بلکہ کئی ایشو ابھی طے ہونا باقی ہیں، اس لیے فی الحال اس منصوبے پر کوئی حتمی تبصرہ کرنا تومشکل ہے تاہم موضوع چونکہ پر انا ہے اس لیے کچھ طالب علمانہ گذارشات پیشِ خدمت ہیں۔ کسی بھی موضوع پر کوئی پالیسی وضع کرتے ہوئے ضروری ہوتاہے کہ اس پالیسی سے متاثر ہونے ہونے والے یا اس سے تعلق رکھنے والے تمام حلقوں اور stake holders...

مساجد و مدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

کراچی کے جناب افتخار احمد کی طرف سے بجھوایا جانے ولا ایک استفتاء ان دنوں ملک کے مختلف مفتیان کرام کے ہاں زیر غور ہے جو مساجد اور دینی مدارس میں کام کرنے والے ملازمین اور ائمہ واساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر حقوق کے معیار ومقدار کے حوالے سے ہے۔ راقم الحروف کو بھی اس کی کاپی موصول ہوئی ہے۔ میں عام طور پر فتویٰ نہیں دیا کرتا، البتہ عمومی تناظر میں کچھ اصولی گزارشات ضرور کرنا چاہوں گا۔ مساجد ومدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت...

’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘

ادارہ

(۱۷ اگست ۲۰۰۹ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ’’دینی مدارس کا نظام بین الاقوامی تناظر میں‘‘ کے زیر عنوان ایک فکری نشست منعقد ہوئی جس میں اقبال انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبہ تاریخ کے استاد ڈاکٹر افتخار اقبال نے گفتگو کی، جبکہ الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عمار خان ناصر نے نقابت کے فرائض انجام دیے۔ اس تقریب کی روداد افادۂ عام کے لیے یہاں شائع کی جا رہی ہے۔) محمد عمار خان ناصر۔ دینی مدارس کا نظام اور ان کا سماجی کردار، یہ اس وقت ہر سطح پر، ملکی سطح پر اور بین الاقوامی...

دین میں حدیث کا مقام اور ہمارا انداز تدریس

محمد عمار خان ناصر

محترم حاضرین! میں سواے اس کے کہ معزز مہمانان اور تشریف لانے والے محترم حاضرین کا شکریہ اداکروں اور مختصراً اس پروگرام اور اس کے پس منظر کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کروں، آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔ اس سے قبل ہم الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام دینی مدارس کے نظام ونصاب اور تدریس کے طریقے اور تعلیم وتربیت کے مناہج کے حوالے سے وقتا فوقتا مختلف نشستیں منعقد کر چکے ہیں۔ آج کا پروگرام بھی اسی کی ایک کڑی ہے اور اس میں خاص طور پر علم حدیث پر، جو مدارس کے تعلیمی نظام اور اس کے نصاب کا ایک بڑا محور ومرکز ہے، گفتگو کو مرکوز کیا گیا ہے تاکہ خاص طورپر علم حدیث...

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ سیمینار جو ’’عصر حاضر میں تدریس حدیث کے اہم تقاضے‘‘ کے زیرعنوان منعقد ہو رہا ہے، اس میں اپنے معززمہمان جناب حضرت مولانا مفتی برکت اللہ صاحب کو، جو ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل اور لندن کے معروف علما اور اہل دانش میں سے ہیں، اور حضرت مولانا مفتی محمد زاہد صاحب زیدمجدہم کو جو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے استاذ الحدیث اورہمارے مخدوم ومحترم حضرت مولانا نذیر احمد قدس سرہ کے فرزند ہیں اور حضرت مولانا محمد رمضان علوی کو جو اسلام آباد کے بڑے علما میں سے ہیں، میں ان سب کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ آپ حضرات کا بھی خیرمقدم کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ...

تدریس حدیث اور عصر حاضر کے تقاضے

مولانا مفتی محمد زاہد

میں جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب اور الشریعہ اکادمی کی پوری ٹیم کو ’’تدریسِ حدیث اور عصرِ حاضر کے تقاضے‘‘ جیسے اہم عنوان پر اس سیمینار کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نہ صرف مجھے اس علمی مجلس میں شرکت کر کے اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا بلکہ اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کرنے کا اعزاز بھی بخشا۔ ہمارا یقین ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ہر دور کے انسانوں کی راہ نمائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ کسی بھی دورمیں اس صلاحیت کی عملی شکلیں دریافت کرنے کے لیے اسلامی احکام کے دوسرے بنیادی اور قرآن سے زیادہ مفصل...

علم حدیث اور جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع

مولانا مفتی برکت اللہ

الحمد للہ آج ہم جس سیمینار کے لیے جمع ہوئے ہیں، اس میں مخلصین اور ماہرین نے آپ کے سامنے کافی تفصیل سے کلام کیا۔ مجھے درس وتدریس کا اتنا طویل تجربہ نہیں جتنا کہ مولانا زاہد الرشدی اور مولانامفتی محمد زاہد صاحب کو ہے۔ لیکن ایک پہلو سے حدیث کے ساتھ ممارست حاصل ہے، اس لیے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ کے سامنے حدیث شریف کے بعض دوسرے پہلووں پر بات کروں گا ۔ اب تک جتنی گفتگو ہوئی ہے، وہ درس نظامی میں تدریس کے نظام پر زیادہ مرکوز رہی ہے، حالانکہ جیساکہ اشارہ بھی کیاگیا، حدیث شریف کا تعلق عام معاشرے کے ساتھ بھی ہے، صرف علما اور متخصصین کے ساتھ ہی...

طلبہ کے سوالات و اشکالات اور ارباب مدارس کا رویہ

قاضی محمد رویس خان ایوبی

میں نے ۱۹۶۳ء میں جامعہ اشرفیہ سے دورۂ حدیث پڑھا۔ بڑی پرانی بات ہے۔ میرے اساتذہ میں وہ لوگ شامل ہیں، صرف شامل ہی نہیں بلکہ وہی ہیں کہ جن کو دیکھ کر محاورتاً نہیں، حقیقتاً خدا یاد آ جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے چہرۂ انور کی برکت ہے کہ آج تک ہمارے اندر ایمان کی رمق موجود ہے۔ یقیناًوہ بہت اونچے لوگ تھے، مولانا رسول خان ؒ صاحب، مولانا کاندھلویؒ ، اورمولانا عبیداللہ صاحب، اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز فرمائے۔ اس کے بعد سے مسلسل چالیس پینتالیس سال سے میں حدیث کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ مفتی برکت اللہ صاحب نے انٹرنیٹ اور تمام سورسز آف نالج کو استعمال...

دینی مدارس کے لیے تدریب المعلمین اور تخصصات دینیہ کا نظام

ادارہ

۱۹ فروری ۲۰۰۹ء کو انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد کے زیر اہتمام تنظیم؍ وفاق ہائے مدارس کے سربراہان کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ نشست کے آغاز میں ڈائریکٹر جنرل ، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز خالد رحمن نے شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے آئی پی ایس کا مختصر تعارف پیش کیا اور بتایا کہ انسٹیٹیوٹ نے قیام کے آغاز ہی سے تعلیم، قومی تعلیمی پالیسی اور تعلیمی نظام کی اسلامائزیشن کو اپنے علمی اور تحقیقی منصوبوں میں شامل کیا ہوا ہے۔ اس کام کے تسلسل میں ۱۹۸۶ء سے دینی مدارس پر تحقیق اور ادارتی سطح پر ان کی نشوو نما کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد...

اسلامی درس گاہوں میں تعلیم قرآن کا طریقہ

مولانا محمد بشیر سیالکوٹی

یہ امر کسی صاحب علم سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک بلکہ برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی اسلامی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآن کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصہ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ ’ترجمہ قرآن کریم‘ کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے اور اس کی تدریس یوں ہوتی ہے کہ درس کے آغاز پر ایک طالبعلم مقررہ آیات تلاوت کرتا ہے، پھر معلم ان آیات کریمہ کا اپنی مقامی زبان اردو، پشتو یا سندھی وغیرہ میں ترجمہ سکھاتا ہے۔ وہ ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ان میں مذکور مشکل...

دینی مدارس میں تخصص اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق

ڈاکٹر محمود احمد غازی

دینی مدارس میں درجات تخصص کا قیام اور اسلامی علوم وفنون کی اعلیٰ تعلیم وتحقیق کا بندوبست وقت کی ایک ایسی اہم اور فوری ضرورت ہے جس کی اہمیت اور فوری نوعیت کے بارے میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس میں درس نظامی کے بعد تخصص اورتکمیل کے شعبے گزشتہ چند عشروں کے دوران کثرت سے قائم ہوئے ہیں۔ تخصص اور تکمیل کے یہ شعبے عموماًتفسیر، فقہ، فتویٰ اور تجوید وقراء ت کے میدانوں سے متعلق ہیں۔ بلاشبہ یہ شعبے مفید کام کر رہے ہیں اور ان کی موجودگی سے اسلامی تخصصات کی اہمیت کا احساس بڑھا ہے، لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی...
1-50 (80) >
Flag Counter