محمد عمار خان ناصر

کل مضامین: 190

سیاست شرعیہ کا مفہوم، نوعیت اور اہمیت

مسلم تہذیب کی تشکیل وتعمیر میں دینی نقطہ نظر سے تین چیزوں کا کردار رہا ہے اور ان تینوں کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ ان میں سے کسی بھی چیز کو دوسری کا متبادل نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تین چیزیں یہ ہیں: ۱۔ شریعت ۲۔ سیاست شرعیہ ۳۔ فقہ۔ ہماری بحثوں میں سارا ارتکاز شریعت اور فقہ پر رہتا ہے، سیاست شرعیہ ایک مستقل موضوع کے طور پر زیرغور نہیں آتی۔ اس کو فقہ کا حصہ سمجھنا یا اس کے اندر ضم کر دینا غلط ہے، اس لیے کہ یہ اپنے اصول اور حدود اور دائرہ کار کے لحاظ سے فقہ سے بہت مختلف ہے۔ فقہ بنیادی طور پر جزئی سوالات میں شرعی حکم اجتہاداً‌ طے کرنے کا عمل ہے جو فقیہ کا وظیفہ...

معاشرتی آداب واحکام کا جبری نفاذ

سعودی عرب، ایران اور افغانستان میں قائم مذہبی حکومتوں میں معاشرے کی اسلامی تشکیل کا جو تصور اور حکمت عملی اختیار کی گئی ہے، وہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے محل نظر ہے۔ دینی اعتبار سے اس میں دو بڑی خرابیاں ہیں: ایک یہ کہ جن دینی اقدار اور آداب کی پابندی کو رواج دینے کا اصل طریقہ وعظ ونصیحت اور اخلاقی تربیت ہے (جبکہ قانونی اقدام کو کسی انتہائی سنگین اور واضح تجاوز تک محدود ہونا چاہیے) ان کو ریاستی طاقت کے زور پر نافذ کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ دوسری یہ کہ جن مسائل میں ایک سے زیادہ دینی تعبیرات موجود یا ممکن ہیں، ان میں کسی ایک خاص تعبیر کو...

تجارتی اخلاقیات اور ہماری سماجی صورت حال

مالکی فقیہ قاضی ابوبکر ابن العربی ؒنے ’’بیع البرنامج“ (یعنی سامان کا معائنہ کیے بغیر صرف فہرست دیکھ کر سامان خرید لینے) کی بحث میں مالکی فقہاء کا موقف واضح کرتے ہوئے لکھا کہ یہ رفع حرج کے قاعدے کی رو سے جائز ہے، کیونکہ تاجروں کو سامان کھولنے اور پھر دوبارہ باندھنے میں بے حد مشقت ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ مغرب کے آخری کنارے سے ایک تاجر آتا ہے اور مشرق کے آخری کنارے سے آئے ہوئے ایک تاجر سے بازار میں ملتا ہے اور دونوں صرف فہرست دیکھ کر ایک دوسرے سے بندھا ہوا سامان خرید لیتے...

خانگی تنازعات- تمام فریقوں کی تربیت کی ضرورت

(خانگی تنازع سے متعلق ایک عزیزہ کے استفسار پر یہ معروضات پیش کی گئیں۔ شاید بہت سی دوسری بہنوں کے لیے بھی اس میں کوئی کام کی بات ہو، اس لیے یہاں نقل کی جا رہی ہیں۔) آپ کے معاملات کے متعلق جان کر دکھ ہوا۔ اللہ تعالی بہتری کی سبیل پیدا فرمائے۔ جہاں تک مشورے کا تعلق ہے تو ناکافی اور یک طرفہ معلومات کی بنیاد پر یہ طے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ کہاں کس فریق کی غلطی ہے۔ دیانت دارانہ مشورہ، ظاہر ہے، وہی ہو سکتا ہے جس میں کسی ممکنہ غلطی کی اصلاح کی طرف بھی متوجہ کیا جائے۔ لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ آپ کی کیا انڈرسٹینڈنگ تھی اور پھر کہاں کس کی طرف سے خرابی...

مذہبی معاشرہ اور لبرل ازم

لبرل ازم کی اصطلاح ہمارے ہاں عموماً‌ سماجی آزادیوں کے تناظر میں استعمال ہوتی ہے اور اس سے مراد انفرادی آزادیوں پر ایسی قدغنوں کو رد کرنا لیا جاتا ہے جو سماج، مذہب یا ریاست کی طرف سے عائد کی جائیں۔ اس مفہوم میں مذہبی معاشرے اور لبرل ازم میں بنیادی تضاد ہے۔ مذہبی معاشرہ سماجی حدود وقیود مذہبی احکام اور ان پر مبنی تہذیبی روایات سے اخذ کرتا ہے۔ لبرل ازم کا فکری منبع اور عملی آئیڈیل جدید مغربی معاشرے ہیں جو عقلیت اور روشن خیالی کو راہ نمامانتے ہیں۔ اس سیاق میں پاکستان جیسے مذہبی معاشرے میں لبرل ازم کی بحث کے حوالے سے کچھ فکری اور کچھ...

تحریک انصاف کا بیانیہ: بنیادی سوال

سماجی نفسیات اور منطق واستدلال کے اصولوں سے تھوڑی بہت دلچسپی کی وجہ سے میں اس سوال پر غور کرتا رہتا ہوں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر سیاسی تنقید جن بنیادوں پر کی جا رہی ہے، وہ کیوں خان صاحب اور ان کے ہمدردوں اور سپورٹرز کو اپیل نہیں کرتی۔ اس تنقید کا غالباً‌ سب سے نمایاں پہلو خان صاحب کے قول وفعل کا تضاد یا دوہرے اخلاقی یا سیاسی معیارات ہیں۔ یعنی وہ جن بنیادوں پر مخالفین پر تنقید کرتے ہیں، خود انھی کاموں کو اپنے لیے درست سمجھتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ کئی ایسی چیزوں کا خود اعتراف بھی کرتے ہیں، جیسے مثلاً‌ ارکان پارلیمنٹ کی وفاداریاں خریدنا...

عورت کی تکریم اور اہم سماجی وقانونی مسائل

ہمارے سماجی تناظر میں عورت کا وجود، شناخت اور حیثیت تسلیم کیے جانے یا نہ کیے جانے کی کشمکش کی تین تکونیں ہیں، یعنی گھر، گھر سے باہر عمومی معاشرہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی منڈی۔ گھر اور منڈی دو متوازی قوتیں ہیں جو معاشرے کو اپنی اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی ہیں اور ان دونوں کے درمیان معاشرہ اپنے رویے، اخلاقیات اور حدود وضوابط متعین کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ گھر روایتی سماجی اخلاقیات کے دائرے میں عورت کو تحفظ وتکریم اور کفالت فراہم کرنے کا بندوبست ہے جس کے ساتھ پابندیوں اور قدغنوں کا ایک ایسا مجموعہ وابستہ ہے جو عورت کو بڑی حد تک ایک ملکیتی...

مرزا غلام احمد قادیانی کے متبعین سے متعلق ہمارا موقف

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متبعین کے متعلق اپنے نقطہ نظر کے مختلف پہلو میں وقتاً‌ فوقتاً‌ اپنی تحریروں میں بیان کرتا رہا ہوں۔ آج کل یہ سوال پھر زیربحث ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنے موقف کی ایک جامع اور مختصر وضاحت یکجا پیش کر دی جائے۔ (۱) ختم نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ہے اور ایک مستقل امت کے طور پر مسلمانوں کی شناخت کی بنیاد ہے۔ اس عقیدے کی بالکل الگ اور مبتدعانہ تشریح کرتے ہوئے مرزا صاحب کو نبی ماننے کی بنیاد پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا آئینی فیصلہ بالکل درست...

ایمان اور الحاد: چند اہم سوالات کا جائزہ

انیسویں صدی کے ڈنمارک کے فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے مسیحی علم کلام کی تنقید کرتے ہوئے ایمان کی درست نوعیت کو واضح کرنے کے لیے "یقین کی جست (leap of faith) " کی تعبیر اختیار کی تھی۔ کیرکیگارڈ نے کہا کہ ایمان محض عقلی استدلال کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ اس میں انسان کی پوری شخصیت شامل ہوتی ہے اور انسان کے جذبات، فکرمندی اور اضطرابات کے مجموعے سے وہ کیفیت وجود میں آتی ہے جب انسان میسر شواہد کی روشنی میں ایمان کی جست لینے پر تیار ہو جاتا...

غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مساجد کا حکم

گذشتہ دنوں کراچی میں ایک مسجد کے انہدام سے متعلق سپریم کورٹ کا حکم قومی سطح پر زیربحث رہا اور اس کی موزونیت یا غیر موزونیت پر مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آئے۔ اس ضمن میں کسی خاص مقدمے کے اطلاقی پہلووں سے قطع نظر کرتے ہوئے، اصولی طور پر یہ بات واضح ہونا ضروری ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی مساجد کا فقہی حکم کیا ہے ۔ چونکہ عموماً‌ اس حوالے سے جو فقہی موقف اور استدلال سامنے آ رہا ہے، وہ ادھورا اور فقہ وشریعت کی درست اور مکمل ترجمانی نہیں کرتا، اس لیے کچھ اہم توضیحات یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔ پہلی بات جو اس بحث میں بہت عام کہی گئی، وہ...

حضرت مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلیؒ کی وفات

حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلیؒ سے پہلا تعارف غالباً‌ نوے کی دہائی میں ان کی تصنیف ’’واقعہ کربلا“ کے حوالے سے ہوا تھا۔ رسمی طالب علمی کا دور تھا۔ کتاب انڈیا سے چھپی تھی، لیکن متنازعہ موضوع کی وجہ سے اس کا غیر قانونی ایڈیشن پاکستان سے بھی چھپا اور بڑے پیمانے پر فروخت ہوا۔ عم مکرم مولانا عبد الحق خان بشیر نے اس پر ایک تفصیلی تنقید ماہنامہ ’’حق چاریار’’ میں شائع کی جس میں بنیادی طور پر کتاب کے قابل نقد اقتباسات اور اکابر دیوبند کی آرا سے ان کا اختلاف نمایاں کیا گیا تھا۔ والد گرامی ان دنوں برطانیہ میں تھے اور اس حوالے سے انھوں نے عم مکرم...

پرتشدد مذہبی بیانیے: خود احتسابی کا وقت

توہین مذہب کے الزام پر کسی کو مار دینے کے واقعات میں وقفہ جتنا کم ہوا ہے، اس پر معاشرتی ردعمل اور اخلاقی مذمت کی قوت میں بجائے اضافے کے کمی ہوئی ہے۔ ایک معمول کا اظہار افسوس ہر واقعے پر دکھائی دیتا ہے، اور پھر اگلے کسی واقعے کا لاشعوری انتظار ہونے لگتا ہے۔ اگر یہ مشاہدہ درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے نے نفسیاتی طور پر اس عمل کو نارملائز کر لیا ہے۔ نارملائزیشن میں کسی نئے مظہر کے بار بار اعادے اور تکرار کی وجہ سے انسانی نفسیات اسے ایک طرح سے قبول کر لیتی اور اس پر کوئی غیر معمولی ردعمل دینے کا داعیہ کھو دیتی ہے۔ نارملائزیشن، ہمیشہ معاشرتی...

خاندانی نظام اور دور جدید کے رجحانات

قیامت کے قریب رونما ہونے والے مظاہر کا ذکر متعدد احادیث میں کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک حدیث میں، جسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے، ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ أمورکم الی نساءکم، یعنی تمھارے معاملات تمھاری خواتین کے سپرد ہو جائیں گے۔ مولانا وحید الدین خانؒ نے اس پیشین گوئی کو فیمنزم یا صنفی مساوات کے اس ظاہرے پر منطبق کیا ہے جو دور جدید میں نمایاں ہوا ہے۔ اس حوالے سے سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ فیمنزم کے ظاہرے کا ذکر اس حدیث میں کس پہلو سے ہوا ہے؟ کیونکہ احادیث میں قرب قیامت کی علامات کا ذکر عموما منفی رنگ میں ہوا ہے، یعنی ان کو معاشرت اور...

مسلح تحریکات اور مولانا مودودی کا فکری منہج

اس گفتگو میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ عصر حاضر کے ایک معروف اور بلند پایہ مسلمان مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے جو مذہبی سیاسی فکر پیش کی اور ریاست و سیاست ، سیاسی طاقت اور مذہب کے اجتماعی مقاصد کے باہمی تعلق کے حوالے سے جو افکار پیش کیے ہیں، اس پورے نظامِ فکر کا آج کے دور میں ایک نمایاں اور بہت معروف رجحان ، جس کو ہم مذہبی عسکریت پسندی کا عنوان دیتے ہیں، اس کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، موجودہ دور میں پوری دنیا میں اور عالم اسلام میں جو تشدد اور عسکریت پر مبنی فکر دکھائی دیتی ہے اور غلبۂ دین...

عدت کے شرعی احکام : چند ضروری توضیحات

احکام شریعت عموماً‌ دو طرح کے پہلووں کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ ایک پہلو ’’معلل” یعنی کسی قانونی علت پر مبنی ہوتا ہے جس کے وجود یا عدم وجود پر حکم کا مدار رکھا جاتا ہے اور مجتہدین اس کی روشنی میں حکم کے قابل اطلاق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو ’’تعبدی” ہوتا ہے، یعنی جس کی کوئی ظاہری قانونی علت نہیں ہوتی اور اس کی پابندی محض شارع کے امتثال امر کے طور پر کی جاتی...

مدرسہ ڈسکورسز : ایک مرحلے کی تکمیل

مدرسہ ڈسکورسز کے سمر انٹنسو کا یہ اختتامی سیشن ہے۔ یہ پانچ سال کا پروگرام تھا جس کا پہلا مرحلہ آج مکمل ہو رہا ہے ۔ میں اپنے شرکاء کی یاد دہانی اور اپنے مہمان علماء کی معلومات کے لیے اس پراجیکٹ کی ابتدا ، مختلف مراحل اور اس کے مقاصد کے بارے میں اختصار سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس پروگرام کی ابتدا 2016 کے آخر اور 2017 کے اوائل میں ڈاکٹر ابراہیم موسی نے کی جو بنیادی طور پر جنوبی افریقہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی دینی تعلیم ہندوستان کے بعض بڑے مدارس جیسے دار العلوم دیوبند اور ندوۃ العلماء میں ہوئی ۔ اب وہ تقریبا ربع صدی سے امریکی جامعات میں...

عالمی تہذیبی دباؤ اور مسلمان معاشرے

مختلف تہذیبی افکار اور معاشرتی تصورات وروایات کے اختلاط کے ماحول میں باہمی تاثیر وتاثر کی صورت حال کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس تاثیر وتاثر کی سطح اور حد کا تعین تاریخی حالات سے ہوتا ہے جس میں سیاسی طاقت اور تہذیبی استحکام کا عامل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر دو تہذیبی روایتوں کا تعامل ایسے حالات میں ہو کہ دونوں کے پیچھے سیاسی طاقت اور تہذیبی روایت مستحکم طور پر کھڑی ہو تو تاثیر وتاثر کی صورت مختلف ہوتی ہے، لیکن اگر ایک تہذیبی روایت اضمحلال وزوال اور سیاسی ادبار کے مرحلے پر جبکہ دوسری عروج واقبال کی طرف گامزن ہو تو تاثیر وتاثر کے سوال سے نبرد...

مسلم معاشرہ اور جنسی انحراف کے پرانے اور نئے رجحانات

مذہبی راہ نماوں کے جنسی بداخلاقی میں ملوث ہونے کے واقعات گذشتہ کچھ عرصے سے ایک تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایسے ہی ایک واقعے نے غیر معمولی توجہ حاصل کی اور اس کی سنگینی کے باعث معاشرے کے کم وبیش تمام طبقات اس کی مذمت میں یک زبان ہو گئے۔ ملزم کے متعلقین میں سے بعض حضرات نے اس بنیاد پر دفاع کرنے کی کوشش کی کہ اس مسئلے میں علماء کی مثال کو خاص طور پر ہدف تنقید بنانا درست نہیں، کیونکہ اس بیماری میں سارا معاشرہ مبتلا ہے، بلکہ بعض غیر محتاط حضرات نے تو اس کے لیے صحابہ کرام سے گناہوں کے سرزد ہونے کا حوالہ دینا بھی گوارا کر لیا۔...

جنوبی ایشیا میں دینی مدرسہ

دینی مدارس کے نصاب میں اعلی ٰ ثانوی سطح تک عصری تعلیم کے مضامین کی شمولیت کے حوالے سے حکومت اور مدارس کے وفاقوں کے مابین ایک معاہدے کی اطلاعات کچھ عرصے سے گردش میں ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن اور مالی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے بھی کئی اہم امور پر گفت وشنید چل رہی ہے، جبکہ وقف شدہ اداروں سے متعلق انتظامی وقانونی اختیارات سرکاری افسران کو منتقل کرنے کے حوالے سے بھی ایک متنازعہ قانون سازی پچھلے چند ماہ سے حکومت اور دینی قیادت کے مابین کشاکش کا عنوان ہے۔ اس پس منظر میں اور اسی تسلسل میں گذشتہ فروری میں دینی مدارس کے کچھ نئے بورڈز...

عقل اور مذہب کی بحث: چند مزید معروضات

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث کے حوالے سے بعض معروضات میں (مارچ ۲٠۲۱ء) یہ بنیادی نکتہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عقل اور مذہب پر گفتگو کے سلسلے کو تاریخی سیاق میں اور تہذیبی سطح پر منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انفرادی سطح پر اور مختلف مسائل کے حوالے سے تاثرات اور ججمنٹس کے اظہار کا سلسلہ پہلے سے موجود ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا، لیکن دو تہذیبی مواقف کے مابین مکالمے کی نوعیت، شرائط اور تقاضے کافی مختلف ہوتے ہیں اور دراصل اسی سطح پر ہمارے معاشرتی تناظر میں اس بحث کی علمی تفہیم کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس میں اہل دانش...

خواتین کے حقوق و مسائل اور معاشرتی اصلاح کا مذہبی ایجنڈا

انبیاء کی دعوت کی جو تاریخ آسمانی صحائف میں بیان ہوئی ہے، اس کے مطابق انسانوں کو دعوت ایمان اور اصلاح عقیدہ کے بعد انبیاء کا اہم ترین کام اپنے ماحول کے اخلاقی بگاڑ اور فساد معاشرت کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تمام انبیاء کی دعوت میں ایمان باللہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی فساد کا کوئی نہ کوئی پہلو نمایاں موضوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی جدوجہد بھی اس سے مستثنی نہیں اور خاص طور پر قرآن میں شرعی احکام کا ایک بہت بڑاحصہ خاندانی رشتوں کے حوالے سے جاہلی معاشرت میں پائی جانے والی افراط...

مسلم معاشروں میں عقل اور مذہب کی بحث

عقل اور مذہب کے باہمی تعلق کی بحث جدید مسلم معاشروں کی اہم ترین تہذیبی بحث ہے جو مختلف سطحوں پر مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ تاہم اس پوری بحث کو ایک تاریخی تناظر میں دیکھنے اور اس کی اہمیت ومضمرات پر غور کرنے کی کوشش کم ہی کی جاتی ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے اور اس کے ایک جامع تناظر کا سامنے آنا اہل دانش کے مابین تسلسل کے ساتھ ہونے والی علمی گفتگو کے نتیجے میں ہی ممکن ہے ۔ تاہم اس حوالے سے چند ابتدائی معروضات ان سطور میں پیش کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔ (۱) عقل اور مذہب کے باہمی تعلق یا موافقت ومخالفت کی بحث میں سب سے پہلا نکتہ جس...

’’سائنسی دور اور مذہبی بیانیے‘‘

مصنف: مولانا محمد تہامی بشر علوی۔ ناشر: اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد۔ صفحات : ۱٠٠۔ عالمِ شہود کے ساتھ ایک عالمِ غیب کا وجود اور ان کے باہمی تعلق کی نوعیت کا سوال انسانی شعور کے لیے ایک غیر فانی سوال کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسانی شعور کو جن گہرے اور پیچیدہ سوالات کا سامنا ہے، عالم شہود ان کا جواب فراہم کرنے کے لیے ناکافی ہے، اور خود عالم شہود اور اس کے مختلف مظاہر کی تفہیم وتوجیہ کے لیے انسانی شعور کو مابعد الطبیعیاتی تصورات اور ان پر مبنی ایک نظام وجود کا سہارا...

پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

حریفانہ کشاکش سیاست واقتدار کا جزو لاینفک ہے اور تضادات کے باہمی تعامل سے ہی سیاسی عمل آگے بڑھتا ہے۔ برطانوی استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت برصغیر میں جہاں پبلک انفراسٹرکچر، تعلیم عامہ، ابلاغ عامہ، بیوروکریسی اور منظم فوج جیسی تبدیلیاں متعارف کروائیں، وہیں نمائندگی کا سیاسی اصول بھی متعارف کروایا۔ یہ پورا مجموعہ کچھ داخلی تضادات پر مشتمل تھا جس نے نئی سیاسی حرکیات کو جنم دیا۔ چنانچہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور نمائندگی کے باہمی اشتراک سے استعمار کے خلاف مزاحمت کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر استعمار کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔ تقسیم کے بعد پاکستانی...

عقل حاکم اور عقل خادم کا امتیاز

زنا یعنی جنسی تسکین کو معاشرتی حدود وقیود سے مقید کیے بغیر جائز قرار دینے کے حوالے سے بعض مسلمان متکلمین نے یہ دلچسپ بحث اٹھائی ہے کہ شرعی ممانعت سے قطع نظر کرتے ہوئے، کیا یہ عمل عقلا بھی قبیح اور قابل ممانعت ہے یا نہیں؟ اس ضمن میں حنفی فقیہ امام جصاص اور شافعی فقیہ امام الکیا الہراسی کے ہاں دو مخالف زاویہ ہائے نگاہ کی ترجمانی ملتی ہے۔ جصاص کا کہنا ہے کہ زنا عقلا قبیح ہے، کیونکہ اس کی زد بچے کے نسب اور کفالت وغیرہ کے معاملات پر پڑنا ناگزیر ہے، اس لیے ان سوالات سے مجرد کر کے مرد وعورت کے باہمی جنسی استمتاع کو درست قرار دینا انسانی معاشرے کے...

ناموس رسالت اور امت مسلمہ کا موقف

توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے دینی موقف کا مسئلہ گزشتہ دنوں میں حکومت فرانس کے ایک اقدام کے تناظر میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر زیر بحث رہا۔ فرانس کے حالیہ اقدام میں بیک وقت تین عوامل کارفرما تھے۔ ایک، سیکولر قومی شناخت کا مخصوص فرانسیسی تصور۔ دوسرا، اسلامو فوبیا کی لہر جو نسل پرستی کے رجحانات کی وجہ سے یورپی ملکوں میں پھیل رہی ہے۔ اور تیسرا، پاپولسٹ سیاست کا کھیل جو دنیا میں تقریبا ہر خطے میں اس وقت اقتدار کے کھلاڑیوں کو مرغوب ہو رہا ہے۔ فرانس کے حالیہ اقدام میں ان عوامل کی اثر اندازی کی ترتیب معکوس ہے، یعنی سب سے اہم عامل پاپولسٹ...

شیعہ سنی اختلاف اور مسئلہ تکفیر

مذاہب کی روایت میں مختلف قسم کے اعتقادی وعملی اختلافات کا پیدا ہونا تاریخ کا ایک معمول کا عمل ہے جس سے کوئی مذہبی روایت مستثنی ٰ نہیں۔ ان اختلافات میں مستند اور غیر مستند عقیدہ وعمل کی تعیین کی بحثیں بھی فطری ہیں اور ہر مذہبی روایت کا حصہ ہیں۔ تاہم گروہی شناخت کے نقطہ نظر سے یہ اختلافات دو میں سے ایک شکل اختیار کر سکتے ہیں اور اس کی مثالیں بھی کم وبیش ہر مذہبی روایت میں موجود ہیں۔ کسی ایک شکل کی تعیین کا عمل اصلا اختلاف کی نوعیت اور مختلف تاریخی عوامل کے تحت ہوتا ہے، جبکہ اعتقادی اور مذہبی بحثوں کا کردار اس میں ضمنی اور ثانوی ہوتا...

جنسی درندگی کا بڑھتا ہوا رجحان

لاہور موٹروے پر رونما ہونے والے حالیہ واقعے کے تناظر میں تحریک انصاف کی حکومت نے آبرو ریزی کے مجرموں کو سرجری کے ذریعے سے نمونہ عبرت بنانے کے لیے قانون سازی کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ اس طرح کے اعلانات ایسے واقعات کے تناظر میں حکومتوں کی سیاسی ضرورت ہوا کرتے ہیں اور اجتماعی غم وغصہ کو نیوٹرلائز کرنے کا ایک فوری اور موثر ذریعہ بنتے ہیں، اس لیے ان سے زیادہ امیدیں باندھنے کے بجائے ایک بڑے تناظر میں اس انتہائی سنگین مسئلے کا جائزہ لینے اور ایک اجتماعی معاشرتی سوچ کو تشکیل دینے کی ضرورت...

شناخت کابحران اور پرتشدد مذہبی رویے

پشاور میں بھری عدالت میں ایک مدعی نبوت کے قتل جیسے واقعات پر مذمتی بیانات اور شریعت وقانون کے حدود کی مکرر وضاحت سے بات کچھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ انفرادی واقعات نہیں ہیں اور نہ انھیں، آخری تجزیے میں، بعض ’’افراد “ کے رویے سمجھنا درست ہے، کیونکہ تشخیص ہی ناقص ہو تو تجویز کا ناقص ہونا ناگزیر ہے۔ یہ شناخت کے اس بحران کی علامات ہیں جس سے جنوبی ایشیائی اسلام پچھلے دو سو سال سے دوچار ہے۔ اس پورے عرصے میں مذہبی یا غیر مذہبی سیاسی شناخت کی تشکیل کا عمل ہمارے ہاں بنیادی طور پر مثبت اصولوں پر نہیں، بلکہ منفی اصولوں پر ہوا ہے جس میں بنیادی محنت...

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں اور مسلم تاریخ

آیا صوفیہ سے متعلق ترکی کی عدالت کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے مسلمانوں کے تاریخی طرز عمل کے بارے میں بہت بنیادی نوعیت کے سوال گزشتہ دنوں زیر بحث رہے۔ آیا صوفیہ کا گرجا چونکہ قسطنطنیہ کی فتح کے موقع پر نے مسلمانوں نے بطور مسجد اپنے تصرف میں لے لیا تھا، اس لیے اہم ترین سوال جو اس بحث میں توجہ کا مرکز رہا، وہ یہی ہے کہ ایسا کرنا اسلام کی اصولی تعلیمات کی رو سے کیسا تھا؟ ہمارے نقطہ نظر سے اس پوری بحث کی درست تفہیم کے لیے جو چند بنیادی پہلو پیش نظر رکھے جانے چاہییں، وہ حسب...

آزمائش کا اصول اور دعوت ایمان کی اہمیت

جب یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی انسانوں سے جواب طلبی اور محاسبہ اس اصول پر کریں گے کہ کس پر حجت کتنی تمام ہوئی ہے تو بعض لوگوں کے ذہن میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں غیر مسلموں کو دعوت کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ جب یہ معلوم ہے کہ عموما انسانوں کے لیے اپنے ماحول کے اثرات اور معاشرتی روایت سے اوپر اٹھ کر کسی نئی بات کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے تو کیا مسلمان، لوگوں تک دعوت پہنچا کر انھیں مشکل میں ڈالنے کا موجب نہیں بنیں گے؟ کیونکہ دعوت پہنچے بغیر تو ہو سکتا ہے، لوگ اللہ کے ہاں معذور شمار کیے جائیں، لیکن دعوت پہنچ جانے کی...

مدارس کا موجودہ نظام اور علماء کا روزگار

والد گرامی کی روایت ہے، گوجرانوالہ میں یوسف کمال نام کے ایک ڈپٹی کمشنر صاحب مقرر ہوئے جو کافی رعونت پسند اور طبقہ علماء کے بہت خلاف تھے۔ ایک میٹنگ میں، جس میں صاحبزادہ فیض الحسن صاحب سمیت شہر کی بڑی مذہبی شخصیات شریک تھیں، ڈی سی صاحب نے گفتگو شروع فرمائی کہ مجھے علماء کرام پر بہت ترس آتا ہے، میرا دل دکھتا ہے کہ ان کا اپنا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہوتا، ان کا روزگار لوگوں کی جیب سے وابستہ ہوتا ہے، وغیرہ۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب مضطرب ہوئے اور زیر لب کہنے لگے کہ یہ بہت زیادتی ہے۔ والد گرامی نے کہا کہ اگر آپ فرمائیں تو میں ڈی سی صاحب کو جواب دوں؟...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۷)

غامدی صاحب کے نقطۂ نظر کے مطابق قرآن مجید سے رسولوں کے باب میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص سنت واضح ہوتی ہے جس کی رو سے منصب رسالت پر فائز کسی ہستی کو جب کسی قوم میں مبعوث کیا جاتا ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق اور باطل کے فرق کو بالکل قطعی درجے میں اور علیٰ رؤوس الاشہاد واضح کر دیے جانے کے بعد بھی جو لوگ حق کے انکار پر مصر رہیں، وہ اسی دنیا میں خدا کے عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ غامدی صاحب کے الفاظ میں ’’اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے...

کورونا وائرس کی وبا اور مذہبی سوالات / قومی اقلیتی کمیشن میں احمدیوں کی شمولیت

کورونا وائرس کی حالیہ عالمی وبا کے تناظر میں مذہبی نوعیت کے بعض اہم سوالات بھی قومی سطح پر زیر بحث آئے اور مختلف حلقے ان پر اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ مثلا کیا اس وبا کی نوعیت اللہ کی طرف سے ایک تنبیہ یا سرزنش کی ہے یا یہ محض طبیعی وحیاتیاتی قوانین کے تحت رونما ہونے والا ایک واقعہ ہے؟ کیا وبائے عام کی صورت حال میں مساجد میں باجماعت نماز کا نظام عارضی طور پر معطل یا محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس نوعیت کے فیصلوں میں بنیادی اہمیت ارباب حل وعقد یا طبی ماہرین یا علما وفقہا میں کس کی رائے کو دی جانی چاہیے؟ پاکستان میں بطور ایک طبقے...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۶)

قرآن کی روشنی میں احادیث کی توجیہ وتعبیر۔ قرآن کے ساتھ احادیث کے تعلق کو متعین کرنے کا دوسرا طریقہ جو غامدی صاحب کے علمی منہج میں اختیار کیا گیا ہے، یہ ہے کہ روایات کو ان کے ظاہری مفہوم یا عموم پر محمول کرنے کے بجائے ان کی مراد ان تخصیصات کے ساتھ متعین کی جائے جو انھیں قرآن میں ان کی اصل کے ساتھ متعلق کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔اس اصول کی وضاحت میں وہ لکھتے ہیں: ”دوسری چیز یہ ہے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے۔ دین میں قرآن کا جو مقام ہے، وہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیثیت نبوت ورسالت میں جو کچھ کیا، اس کی...

کورونا وائرس کی آفت اور انسانی تدابیر

گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا وائرس نے ایک بڑی اجتماعی انسانی ابتلا کی صورت اختیار کر لی اور ماہرین کے اندازوں کے مطابق دنیا کو آئندہ کئی ماہ تک اس صورت حال کا سامنا رہے گا۔ یہ ایک ناگہانی آفت ہے جس میں عبرت وموعظت کے پہلو پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی تدابیر اختیار کرنے اور خدانخواستہ قابو سے باہر ہو جانے کے امکان کو سامنے رکھتے ہوئے انسانی رویوں اور جذبات کی ضروری تربیت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تہذیبی زوال اور شناخت کے بحران کی صورت حال میں ہمارے ہاں ہر مسئلہ مختلف شناختیں رکھنے والے گروہوں کے ہاتھوں میں ایک دوسرے کو لتاڑنے کا...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۵)

اسلوب عموم اور تخصیص و زیادت۔ غامدی صاحب، جیسا کہ واضح کیا گیا، امام شافعی کے اس موقف سے متفق ہیں کہ حدیث، قرآن کی صرف تبیین کر سکتی ہے، اس کے حکم میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ البتہ اس اصول کے انطباق اور تفصیل میں ان کا منہج امام شافعی سے مختلف ہے اور یہ اختلاف بظاہر جزوی ہونے کے باوجود نتائج کے اعتبار سے بہت اہم اور بنیادی ہے۔ امام شافعی کے منہج میں قرآن مجید میں اسلوب عموم کو تخصیص پر محمول کرنے کی درج ذیل تین صورتیں جائز مانی جاتی ہیں: پہلی یہ کہ کلام کے سیاق وسباق سے تخصیص واضح ہو رہی ہو۔ دوسری یہ کہ حکم کی علت اور معنوی اشارات سے تخصیص اخذ کی...

مسئلہ جنس اور ہمارا روایتی معاشرتی نظام

جنسی جبلت کے مسئلے کو کسی معاشرتی نظام میں کیسے حل کیا جائے، اس کے متعلق موجودہ دنیا میں دو بنیادی تہذیب موقف پائے جاتے ہیں۔ ایک موقف کی نمائندگی جدید لبرل اخلاقیات میں ہوتی ہے جس کی رو سے جنس کی تسکین فرد کا ایک ذاتی مسئلہ ہے اور اسے اس کی تکمیل کی آخری حد تک آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ دو افراد، صنف اور مذہب وغیرہ کے امتیاز سے بالکل آزاد ہو کر، باہمی رضامندی سے جیسے بھی اس کی تکمیل کرنا چاہیں، یہ ان کا حق ہے۔ جنسی جبلت کی تسکین کے علاوہ، خاندان بنانے اور بچے پیدا کرنے کی کسی بھی اضافی ذمہ داری کو اس کے ساتھ نتھی نہیں کرنا چاہیے اور اس حوالے سے کسی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۴)

جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر۔ شاہ ولی اللہ پر قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے اصول فقہ کی کلاسیکی بحث ایک طرح سے اپنے منتہا کو پہنچ جاتی ہے اور ان کے بعد کلاسیکی تناظر میں اس بحث میں کوئی خاص اضافہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری میں سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کی بحث ایک نئے فکری تناظر میں ازسرنو اہل علم کے غور وخوض اور مباحثہ ومناقشہ کا موضوع بنی ہے۔ اس نئے فکری تناظر کی تشکیل میں جدید سائنس اور جدید تاریخی وسماجی علوم کے پیدا کردہ سوالات نیز ذخیرۂ حدیث کے تاریخی استناد کے حوالے سے مستشرقین...

مدرسہ ڈسکورسز: اہداف ومقاصد اور توقعات

مسلم علمی روایت سے گہری واقفیت کے فقدان کے اثرات ہمارے ہاں دو طرح سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایک اس طبقے کے ہاں جو جدیدیت کے بعض نتائج کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اور ان سے متصادم ہونے کی وجہ سے روایت کی بحیثیت مجموعی تحقیر کا رویہ رکھتا ہے۔ دوسرا وہ طبقہ جو جدیدیت کے بعض نتائج سے نالاں اور نفور ہے اور اس کی بحیثیت مجموعی مذمت اور تردید کے رجحان کا حامل ہے، چنانچہ روایت سے براہ راست اور گہری واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی چیزوں کو محض جدیدیت کا نتیجہ فرض کر لیتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کا اس کے علاوہ کوئی مداوا نہیں کہ مسلم علمی روایت سے گہری اور original واقفیت...

بھارتی شہریت کا متنازعہ قانون اور دو قومی نظریے کی بحث

بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون کے تناظر میں ہمارے ہاں یہ سوال ان دنوں دوبارہ اٹھا یا جا رہا ہے کہ آیا دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند کا عمل درست تھا یا نہیں اور یہ کہ کیا متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی پوزیشن آج کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہ ہوتی؟ یہ سوال وقتا فوقتا موضوع بحث بنتا رہتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک بڑا حلقہ اس بحث کے دائرے سے ابھی تک باہر نہیں آ سکا کہ تقسیم ہند درست تھی یا غلط اور یہ کانگریس کا منفی رویہ تھا یا انگریز کی سازش۔ چنانچہ کچھ حضرات اب تاریخ کے اس دور کا تجزیہ اس نظر سے کر رہے ہیں کہ سب کچھ کا ذمہ دار...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۳)

شاہ ولی اللہ کا زاویۂ نظر۔ سابقہ فصل میں ہم نے امام شاطبی کے نظریے کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کے مطابق تشریع میں مخصوص مقاصد اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے جن کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے۔ شاطبی نے تشریع کے عمل کو ایک منضبط اور مربوط پراسس کے طور پر دیکھتے ہوئے، جس کے واضح مقاصد اور متعین اصول کلیہ اپنی جگہ ثابت ہیں ، قرآن اور سنت، دونوں کا کردار اس طرح واضح کیا ہے کہ یہ دونوں مآخذ ایک ہی طرح کے مقاصد کے لیے اور ایک جیسے اصولوں کے تحت تشریع کے عمل کو مکمل...

مسلم معاشروں سے متعلق فکری مباحث پر استشراقی اثرات

ہمارے ہاں کم وبیش تمام اہم فکری مباحث میں مغربی فکر وتہذیب اور جدیدیت کے پیدا کردہ سوالات، قابل فہم اسباب سے اور ناگزیر طور پر، گفتگو کا بنیادی حوالہ ہیں۔ اس پورے ڈسکورس میں ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کی نوعیت بنیادی طور پر وہی ہے جس کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’’استشراق “ میں کی ہے، تاہم وہ مغربی علمی روایت کے تناظر میں ہے۔ ایڈورڈ سعید نے بتایا ہے کہ کس طرح استشراقی مطالعات میں مغربی تہذیب کو معیار مان کر دنیا کے باقی معاشروں کا مطالعہ کرنے کا زاویہ کارفرما ہے اور کیسے اس سارے علمی عمل کی تشکیل...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۲)

مصالح شرعیہ کی روشنی میں تشریع کی تکمیل۔ شاطبی کہتے ہیں کہ تشریع میں مصالح شرعیہ کے جو تین مراتب، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات ملحوظ ہوتے ہیں، ان تینوں کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے اور سنت میں کوئی حکم اس دائرے سے باہر وارد نہیں ہوا۔ اس لحاظ سے کتاب اللہ کی حیثیت تشریع میں اصل کی ہے اور سنت اپنی تمام تر تفصیلات میں کتاب اللہ کی طرف راجع ہے۔ مثال کے طور پر ضروریات خمسہ میں سے دین کی حفاظت شریعت کا سب سے پہلا مقصد ہے۔ اس ضمن میں اسلام، ایمان...

پاکستانی سیاست، ہیئت مقتدرہ اور تحریک انصاف

سیاست، مثالی تصور کے لحاظ سے، قومی زندگی کا رخ متعین کرنے اور اجتماعی قومی مفاد کو بڑھانے کے عمل میں کردار ادا کرنے کا نام ہے۔ تاہم اس کردار کی ادائیگی سے دلچسپی رکھنے والوں سے یہ توقع کرنا کہ وہ بے غرضی اور للہیت کا مجسم نمونہ ہوں، قطعی طور پر غیر حقیقت پسندانہ سوچ ہے۔ انسانی نفسیات اور معاشرے کی ساخت کے لحاظ سے سیاسی کردار ادا کرنے کے داعیے کو طاقت اور طاقت سے وابستہ مفادات سے الگ کرنا یا الگ رکھتے ہوئے سمجھنا ناممکن ہے۔ یوں کسی بھی فرد یا جماعت یا طبقے کے متعلق یہ فرض کرنا کہ وہ صرف قومی مفاد کے جذبے سے متحرک ہے، احمقانہ بات ہوگی۔ پس سیاسی...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۱)

امام شاطبی کا نظریہ۔ اب تک کی بحث کی روشنی میں ہمارے سامنے سنت کی تشریعی حیثیت اور قرآن وسنت کے باہمی تعلق کے حوالے سے علمائے اصول کے اتفاقات اور اختلافات کی ایک واضح تصویر آ چکی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ سنت کا ایک مستقل ماخذ تشریع ہونا فقہاءواصولیین کے ہاں ایک مسلم اصول ہے اور وہ ماخذ تشریع کو صرف قرآن تک محدود رکھنے کو ایمان بالرسالة کے منافی تصور کرتے ہیں۔ اس ساری بحث میں ایک بہت بنیادی مفروضہ جو جمہور علمائے اصول کے ہاں مسلم ہے، یہ ہے کہ شرعی احکام کا ماخذ بننے والے نصوص کو قطعی اور ظنی میں تقسیم کرنا لازم ہے، کیونکہ ایک مستقل ماخذ تشریع ہونے...

لبرل ازم اور جمہوریت کی ناکامی کی بحث

اسرائیلی مصنف یوول نوآہ حراری کی کتاب Twenty one Lessons for the 21st Century کا بنیادی موضوع فری مارکیٹ اکانومی اور لبرل ڈیموکریسی کو درپیش انتظامی واخلاقی چیلنجز کی وضاحت ہے۔ حراری کے خیال میں یہ نظام جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے قطعا ناکافی ہیں۔ اختتام تاریخ کا مرحلہ مزید موخر ہو گیا ہے اور انسانی تہذیب ایک بارپھر ’’اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو” جیسی صورت حال سے دوچار ہے۔ کتاب کے انٹروڈکشن میں، حراری نے اس کشمکش کا ذکر کیا ہے جس میں وہ اس تنقید کو سپرد قلم کرنے کے حوالے سے مبتلا رہے۔ حراری...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱٠)

نسخ القرآن بالسنة کے حوالے سے جمہور اصولیین کا موقف۔ امام شافعی کے موقف کا محوری نکتہ یہ تھا کہ سنت کا وظیفہ چونکہ قرآن مجید کی تبیین ہے اور اس کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی راہ نمائی میسر تھی، اس لیے مراد الٰہی کے فہم میں سنت میں وارد توضیحات نہ صرف حتمی اور فیصلہ کن ہیں، بلکہ قرآن اور سنت کی دلالت میں کسی ظاہری تفاوت کی صور ت میں انھیں قرآن کی تبیین ہی تصور کرنا ضروری ہے، یعنی انھیں اصل حکم میں تغییر یا اس کا نسخ نہیں مانا جائے گا، بلکہ قرآن کی ظاہری دلالت کو اسی مفہوم پر محمول کرنا ضروری ہوگا جو احادیث میں...

فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج

حدیث وسنت سے متعلق اسلامی فقہی روایت میں جو مباحث پیدا ہوئے، ان کے تناظر میں کسی بھی فقیہ یا فقہی مکتب فکر کے زاویہ نظر کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی سوالات پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے: ایک یہ کہ سنت کی تشریعی حیثیت اور خاص طور پر اخبار آحاد سے متعلق اس کا موقف کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ اس مکتب فکر میں اخبار آحاد کی تحقیق وتنقید کے لیے کون سے اصول اور معیارات برتے گئے ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ حدیث سے احکام کے استنباط اور ان کی تعبیر وتشریح کے ضمن اس کا منہج کیا ہے اور یہ علمی سرگرمی اس کے ہاں کون سے اصولی تصورات اور کن علمی قواعد کی روشنی میں انجام دی جاتی ہے۔...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۹)

نصوص کی ظاہری دلالت کے حوالے سے ابن حزم کا رجحان۔ اس بحث میں قرآن مجید کے ظاہری عموم کی دلالت کے حوالے سے ابن حزم کے رجحان کو سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔ امام طحاوی کے زاویۂ نگاہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم نے ان کا یہ رجحان واضح کیا ہے کہ وہ احادیث کی روشنی میں کتاب اللہ کے ظاہری مفہوم کی تاویل نہیں کرتے اور آیات کو احادیث میں وارد توضیح یا تفصیل پر محمول کرنے کے بجاے کتاب اللہ کے ظاہر کی دلالت کو علیٰ حالہ قائم رکھتے ہیں، جب کہ احادیث کو ایک الگ اور قرآن سے زائد حکم کا بیان قرار دیتے یا اگر ناگزیر ہو تو نسخ پر محمول کرتے ہیں۔ اس نوعیت کا رجحان ابن حزم...
1-50 (190) >