اسلام اور عصر حاضر

قرآن اور سائنسی حقائق

ڈاکٹر عرفان شہزاد

قرآن مجید کو سائنس کی کتاب سمجھنا یا اس سے سائنسی معلومات کشید کرنے کی کوشش کرنا اس کے مقصدِ نزول سے انحراف ہے۔ قرآن دین کی کتاب ہے، جس کا بنیادی ہدف انسان کو اس کے خالق سے روشناس کرانا، بندگی کی دعوت دینا اور آخرت میں...

وجودِ باری تعالیٰ: سائنسی تناظر، الحادی فلسفہ اور قرآنی تعلیمات

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

خدا کے وجود پر یقین انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قرآن کے مطابق اِسی فطرت پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں بھیجے جانے سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا جسے 'میثاق الست' کہا جاتا ہے۔...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۸)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج حضرت خاتم النبیین ﷺ کے گھر کے اندر کے ماحول کے حوالے سے کچھ باتیں نسبت و محبت کے لیے، عقیدت کے لیے، رہنمائی کے لیے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے عرض کروں گا۔ دعا کریں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے...

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۳)

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

علمِ کلام قصۂ پارینہ نہیں، بلکہ عصری الحاد نے اِس کی ضرورت میں مزید اضافہ کیا ہے۔ فلسفۂ یونان تو اب از کارِ رفتہ ہو چکا، لیکن سائنسی تھیوریز اور نئے فلسفوں نے مابعد الطبیعیات (Metaphysics) جیسے خالص مذہبی حدود میں مداخلت...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۲)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

باب 2 میں ہم نے اختصار کے ساتھ ذہین ڈیزائن (Intelligent Design: ID) کی تحریک کا جائزہ لیا تھا اور دیکھا تھا کہ یہ دیگر مسیحی ردِعمل،یعنی ینگ ارتھ کری ایشنزم، اولڈ ارتھ کری ایشنزم، اور تھی اسٹک ایوولیوشن، کے مقابلے میں کہاں کھڑی...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۷)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہماری گفتگو خاندانی نظام کے حوالے سے چل رہی ہے۔ خاندانی نظام میں بھی اور زندگی کے تمام معاملات میں جناب نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہی ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ ہم وہیں سے رہنمائی لیتے ہیں اور وہیں سے ہی رہنمائی لینی چاہیے۔...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۱)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

جیسا کہ پچھلے دو حصوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے، اشعریت اور DAP بنیادی طور پر ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ DAP سے وابستہ مفکرین قدرتی سائنسز کے وقار کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ معجزات سے گریز کرتے ہیں۔ اس منصوبے کو...

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۲)

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

علمِ کلام کی قدیم روایت مسلمانوں کے پاس ایک ایسا بیش بہا سرمایہ ہے، جو حرزِ ایمان ہونے کی بنا پر حرزِ جان سے زیادہ اہم ہے۔ قدیم و جدید فلسفے کے تباہ کن نظریات کی زد میں زیادہ تر وہ لوگ آئے ہیں، جن کا کلامی روایت میں رسوخ...

کیا قدیم علمِ کلام دورِ حاضر میں ایک  غیر متعلق روایت بن چکا ہے؟ (۱)

ڈاکٹر مفتی ذبیح اللہ مجددی

کیا قدیم علم کلام دورِ حاضر کے فکری اور الحادی چیلنجز کا مؤثر جواب فراہم کر سکتا ہے، یا محض ایک قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا ہے؟یہ سوال ایسے وقت میں اَور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جب قدیم کلامی اور فلسفیانہ مباحث کا جدید...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۶)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس پہلو سے گفتگو کی ابتدا کی تھی کہ جاہلیت کے دور کا جو خاندانی نظام تھا، خاتم النبیین ﷺ نے اس میں کیا تبدیلیاں کیں؟ ان تبدیلیوں کا ذکر ہو رہا تھا اور پھر ایک بات درمیان میں ہوئی کہ جاہلیت کے دور میں غلام اور لونڈی کو...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱۰)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

اسلامی فکری تاریخ میں متعدد فکری دھارے موجود رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں دھارا علم کلام کہلاتا ہے، جسے مغربی علمی روایت میں scholastic theology کے قریب سمجھا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ ترجمہ اس کی مکمل معنویت کا احاطہ نہیں کرتا۔...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۵)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہماری گفتگو اسلام کے خاندانی نظام کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ کسی زمانے میں غلام لونڈی موجود تھے، تصور بھی تھا، قرآن پاک اور احادیث میں بھی ان کا ذکر ہے۔ فقہائے کرام نے بھی جزئیات کا ذکر کیا ہے۔ آج کے عالمی فکری و تہذیبی تنازعات...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۹)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

داؤد سلیمان جلاجل (David Solomon Jalajel) وہ واحد مفکر ہیں جنہوں نے اختصاصِ آدم (Adamic exceptionalism) کی اصطلاح پر مبنی موقف پیش کیا ہے۔ ان کی یہ تجویز نہایت باریک بینی کے ساتھ وضاحت کی متقاضی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، مالک (2018؛ 2019) اور...

قرآن سے راہنمائی کا سوال

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

ایک صاحب دانش سے، جو سیکولر انداز فکر رکھتے ہیں، کل تفصیلی گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا ایک بڑا محور یہ سوال تھا کہ آج کے دور میں ہم سماجی اخلاقیات اور قانون وغیرہ کے باب میں قرآن سے کیوں راہنمائی حاصل کریں جب کہ قرآن کی ہدایات...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۸)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

جدول 4.3 میں ہم نے تین مختلف مفکرین کا ذکر کیا ہے جو انسانی امتیاز کے قائل ہیں۔ نوح میم کیلر ، یاسر قاضی اور نذیر خان ۔ بعد کے دونوں مصنفین نے اس موضوع پر ایک مشترکہ مقالہ بھی تحریر کیا ہے، اس لیے یہاں ہم تینوں مصنفین کی...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۳)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرات محترم! یہ نشستیں جن کا اہتمام جامعہ فتحیہ کی طرف سے ہو رہا ہے۔ ان میں اس سال گفتگو کے لیے عمومی موضوع یہ منتخب کیا گیا ہے کہ قرآن پاک کے معاشرتی احکام کیا ہیں؟ سوسائٹی کے لیے، سماج کے لیے، معاشرے کے لیے، قرآن پاک...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۷)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

اسلام اور نظریہ ارتقا کے علمی و تحقیقی مباحث میں جیسے جیسے وسعت اور ترقی آ رہی ہے، متعدد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ اس موضوع پر دنیا کے مختلف خطوں جیسے کہ امریکہ، ہندوستان، پاکستان، ترکی، مشرقِ وسطیٰ، ملیشیا اور ایران کے...

اکیسویں صدی میں تصوف کی معنویت اور امکانات

مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی

تصوف کے متعلق یہ بحث اب فضول ہو چکی ہے کہ کون سا تصوف اسلامی ہے؟ اور کون سا غیر اسلامی؟ اس موضوع پر اتنا لکھا جا چکا اور اس مسئلے کی وضاحت اس کثرت کے ساتھ کی جا چکی کہ اب مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے۔ سچی بات یہ...

خطبہ حجۃ الوداع اغیار کی نظر میں

مولانا حافظ واجد معاویہ

اس وقت دنیا میں سب سے بڑی جنگ "انسانی حقوق" اور اس سے وابستہ ان تمام مسائل کی ہے جن کی تار کہیں نہ کہیں سے انسانی حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کے ذیلی شعبہ جات پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو سوسائٹی خود مختاری، آزادی...

’’خطباتِ فتحیہ: احکام القرآن اور عصرِ حاضر‘‘ (۲)

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور ہمارے خطے کے قدیم ترین دینی اداروں میں سے ایک ہے جو 1875ء سے دینی تعلیم و تدریس اور عوامی اصلاح و ارشاد کی مساعی جمیلہ میں مصروف چلا آ رہا ہے اور مختلف اوقات میں جہاں مشاہیر اہلِ علم و فضل تعلیمی...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۶)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

گذشتہ صفحات میں ہم نے عیسائی سیاق و سباق میں نظریہ ارتقا سے متعلق چار اہم موضوعات کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد باب 3 میں، ہم نے اسلامی صحیفے کا مطالعہ کیا، جہاں ارتقا سے متعلق مختلف قرآنی آیات اور احادیث کو سامنے رکھ کر عیسائی...

اسلامی نظام اور آج کے دور میں اس کی عملداری

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

آج کی ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اسلامی نظام کی اہمیت اور ضرورت‘‘۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی نظام کیا ہے؟ اللہ رب العزت نے جب نسلِ انسانی کو اس زمین پر آباد کرنے کا آغاز کیا اور حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۵)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

اسلامی متون اور نظریہ ارتقا: تعارف: بہت سے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ پہلا مآخذ قرآن مجید ہے، جو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کلام ہے، نہ کہ پیغمبر محمدﷺکا ذاتی اظہار یا الہامی تاثر۔...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۴)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

ارتقا کے نظریے کی تشکیل غالب طور پر عیسائی سیاق و سباق میں ہوئی ہے۔ چنانچہ جب چارلس ڈارون نے پہلی بار 1859 میں اپنی کتاب On the Origin of Species شائع کی، تو اس نظریے پر فوری ردعمل اور طویل مدتی علمی مکالمہ زیادہ تر عیسائی نقطہ نظر...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۳)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

پہلے بیان کیے گئے ارتقا کے سائنسی اصول وہی ہیں جو نیو ڈارونزم(Neo-Darwinism) یا جدید امتزاج (Modern Synthesis) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ تاہم، "Neo" کے معنی کو سمجھنے کے لیے اس نظریے کی تاریخی بنیادوں میں جھانکناضروری ہے، اور یہی اس حصے...

مذہبی شناختیں: تاریخی صورتحال اور درپیش چیلنجز

ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر

برصغیر میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت بنیادی طور پر سنی حنفی صوفی اسلام کی شناخت رہی ہے، تاہم تاریخی عوامل سے یہاں تدریجاً‌ سنی اسلام کے مقابلے میں شیعہ اسلام، حنفی اسلام کے تقابل میں اہل حدیث اسلام، اور صوفی اسلام کے...

مسئلہ رؤیتِ ہلال کے چند توجہ طلب پہلو

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ہماری عبادات کے نظام کا ایک بڑا حصہ چاند کی گردش کے ساتھ متعلق ہے اور چاند کا مہینہ چاند کی رؤیت پر طے پاتا ہے۔ اگر انتیس دن کے بعد چاند نظر آجائے تو اگلا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ورنہ گزشتہ ماہ کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں۔...

مسئلہ رؤیتِ ہلال، فقہ حنفی کی روشنی میں

مولانا مفتی محمد ایوب سعدی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے عوام بہ نسبت دوسرے صوبوں کے صوم و صلوۃ کے زیادہ پابند ہیں وہ عبادات میں فرائض کے علاوہ نوافل کا بھی اہتمام کرتے ہیں اسی طرح رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں عوام اور خواص کے گھروں میں...

مرکزی رؤیتِ ہلال کمیٹی پر اعتراضات کا جواب

اویس حفیظ

سب سے پہلے بات کرتے ہیں رؤیتِ ہلال کمیٹی پر ہونے والے عمومی اعتراضات کی۔ ایک عام اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ پچاس سال پرانی دوربین سے چاند کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ اب یہاں دو صورتیں ہیں: ایک تو یہ کہ کیا جدید اور جدید ترین...

رویتِ ہلال میں اختلاف پر شرمندگی کا حل اور قانون سازی کی ضرورت

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارے ایک محترم دوست نے کہا کہ رویتِ ہلال میں اختلاف کی وجہ سے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو غیر مسلموں کے سامنے اس پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ رویت کے بجاے فلکی حسابات پر رمضان...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۲)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

ڈاکٹر تھیوڈوسیئس ڈوبژانسکی (Theodosius Dobzhansky) نے ایک مشہور جملہ کہا تھا: "حیاتیات میں کوئی بھی چیز اس وقت تک مکمل طور پر سمجھ نہیں آتی جب تک کہ اسے ارتقا کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔" اگرچہ کچھ افراد اور گروہ اس بیان سے اختلاف...

’’اسلام اور ارتقا: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات کا جائزہ‘‘ (۱)

ڈاکٹر شعیب احمد ملک

ہم بڑی مسرت کے ساتھ ڈاکٹر شعیب احمد ملک کی کتاب "اسلام اور ارتقاء: الغزالی اور جدید ارتقائی نظریات" کے تعارفی باب کا اردو ترجمہ قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس کتاب میں مؤلف نے اسلامی تعلیمات اور جدید سائنس کے مابین...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۲)

ڈاکٹر شیر علی ترین

فیصلۂ ہفت مسئلہ میں حاجی صاحب نے تخلیقی انداز میں متعدد مصادر علم سے استفادہ کیا ہے۔ ان مصادر میں فقہ، تصوف اور ذاتی تجربہ شامل ہیں۔ یہ کسی صوفی کی جانب سے مصلح فقیہوں کے غیظ وغضب کے خلاف عوامی عرف اور رسوم کا دفاع نہیں،...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۱)

ڈاکٹر شیر علی ترین

بارھواں باب: اندرونی اختلافات: ایک بار مولانا رشید احمد گنگوہی مکہ مکرمہ میں اپنے شیخ حاجی امداد اللہ مہاجر کی زیارت کرنے گئے۔ حسن اتفاق سے اس وقت حاجی صاحب کے پڑوس میں محفل میلاد جاری تھی۔ حاجی صاحب نے مولانا گنگوہی...

تحفظ مذہب کی سیاست اور اس کی حرکیات

محمد عمار خان ناصر

ایچ ای سی پنجاب نے جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ سوک ایجوکیشن کے موضوع پر 16 اور 17 اگست کو فلیٹیز ہوٹل لاہور میں دو روزہ نشست کا اہتمام کیا۔ اس کے ایک سیشن میں ڈاکٹر راغب نعیمی، علامہ سید جواد نقوی، مولانا صہیب میر محمدی،...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۲۰)

ڈاکٹر شیر علی ترین

امکانِ کذب یا امکانِ نظیر؟ دین کے بنیادی عقائد کے دفاع کے حوالے سے گہری بے چینی نے مولانا احمد رضا خان کو مجبور کیا کہ وہ علماے دیوبند کی تکفیر کریں۔ یہ بے چینی اس وقت مزید وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے، جب امکانِ کذب (خدا...

قادیانی مسئلہ: مذہبی بیانیے کی تنقید وتجزیہ کی ضرورت

محمد عمار خان ناصر

حالیہ عید الاضحیٰ کے موقع پر بعض مذہبی تنظیموں کی طرف سے سوشل میڈیا پر یہ مہم چلائی گئی کہ ’’تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸ سی اور عدالتی نظائر قادیانیوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے اور نہ...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۹)

ڈاکٹر شیر علی ترین

گیارہواں باب: علم غیب: نبی اکرم ﷺ کے علمِ غیب پر بحث میں مولانا احمد رضا خان اور ان کے دیوبندی مخالفین اس بات پر متفق تھے کہ علم اور نبوت باہم لازم وملزوم ہیں۔ وہ اس بنیادی عقیدے پر بھی متفق تھے کہ خدا کی تمام مخلوقات...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۷)

ڈاکٹر شیر علی ترین

شرعی حکم اور عرف وعادت کے درمیان امتیاز: بدعت کی حدود پر دیوبندی اور بریلوی مواقف ایک اور دقیق لیکن نمایاں نکتے پر بھی مختلف تھے، یعنی کسی سماج کی شرعی حدود کی تعیین میں عرف وعادت کا کردار۔ جیسا کہ ہم گزشتہ ابواب میں...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۶)

ڈاکٹر شیر علی ترین

نواں باب: مذہبی اصلاح کے دیوبندی تصور پر بریلوی علماء کی تنقید: جنوری 1906 میں جب مولانا احمد رضا خان اپنے دوسرے حج کے سفر پر تھے، انھوں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تیس نامور فقہا کی خدمت میں اپنا ایک فتوی پیش کیا۔ اس...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۵)

ڈاکٹر شیر علی ترین

توحید کی احیا کے لیے نیکی کی ممانعت: مسئلۂ عید میلاد النبی: انیسویں صدی کے مسلمان اہل علم کے درمیان عید میلاد النبی پر جتنے پرجوش مناظرے ہوئے ہیں، اتنے کسی اور مسئلے پر نہیں ہوئے ہیں۔ استعماری دور میں مسئلۂ میلاد پر...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۴)

ڈاکٹر شیر علی ترین

ایجاد کب بدعت بن جاتی ہے؟ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: شاہ محمد اسماعیل اور دیوبند کے پیش روؤں کے لیے نہ صرف نبی اکرم ﷺ کا عمل اور عہد مقدس ہے، بلکہ اس کے ساتھ سلف صالحین، یعنی تمام صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۳)

ڈاکٹر شیر علی ترین

اب میں بدعت اور اس کی حدود کی تعیین کے لیے چند کلیدی تعبیری پہلوؤں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، لیکن جنوبی ایشیا کی طرف جانے سے پہلےمیں کچھ لمحات کے لیے الشاطبی کے ساتھ رکوں گا۔ بدعت کی تعبیر وتشریح کے اصول: بدعت بطور تقلیدی/جعلی...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۲)

ڈاکٹر شیر علی ترین

مسلم فکر میں بدعت (جس کا لفظی معنی نئی چیز ہے) بیک وقت شدید متنازع، مبہم اور لچک دار اصطلاحات میں سے ہے۔ بدعت بیک وقت دین/روایت کی حدود اور ہمیشہ ان حدود سے تجاوز کے منڈلاتے خطرے اور امکان کا اظہار ہے۔ حدود اور تجاوز،...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۱)

ڈاکٹر شیر علی ترین

1890 میں جمعہ کے روز بیرون ملک سے آئے ہوئے ایک سیاہ فام عالم (اس کے اصل وطن کے بارے میں روایت خاموش ہے) اترپردیش ہندوستان کے قصبے دیوبند میں وارد ہوا۔ مقامی سماج اور ان کے دینی اعمال میں دلچسپی کے باعث اس نے حاجی محمد عابد...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۱۰)

ڈاکٹر شیر علی ترین

خیر آبادی کی تنقید کا تجزیہ مکمل کرنے کے لیے میں امکان کذب (یعنی خدا کے جھوٹ بولنے کے امکان) اور امکان نظیر (خدا کا حضرت محمد ﷺ کی نظیر پیدا کرنے کا امکان) سے متعلق شاہ اسماعیل کے خیالات کی تردید کے لیے ان کے استدلال کے...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۹)

ڈاکٹر شیر علی ترین

تقویۃ الایمان کی اشاعت کے ساتھ ساتھ دلی میں شاہ اسماعیل کی اصلاحی سرگرمیوں نے شہر کے اہل علم اشرافیہ کے درمیان بحث ومباحثہ اور استدلالات کی ایک گرما گرم فضا تشکیل دی تھی۔ خاص طور پر کتاب کی نسبتاً زیادہ متنازعہ عبارات...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۸)

ڈاکٹر شیر علی ترین

شفاعت نبوی کے موضوع کو حاکمیت (توحید) کے سوال سے جدا کرنا ناممکن ہے۔ کسی گناہ گار کو معاف کرنے کی قدرت، جو کہ عمومی قاعدے سے انحراف ہے، استثنا کو قانون کی شکل دینے کی استعداد پر دلالت کرتی ہے۔ حاکمِ اعلیٰ، یاد کریں، کم...

انیسویں صدی میں جنوبی ایشیا میں مذہبی شناختوں کی تشکیل (۷)

ڈاکٹر شیر علی ترین

سیاست شرعیہ۔ شعائر دین کے تحفظ کی سیاست۔ شاہ اسماعیل نے منصبِ امامت (فارسی میں) اس وقت لکھی جب وہ سکھوں کے خلاف برسرِ پیکار تھے جس میں بالآخر ان کی شہادت واقع ہوئی۔ ان کی وفات کتاب کی تکمیل میں حائل ہو گئی، اگر چہ وہ...
1-0 (0)

مطبوعات

شماریات

Flag Counter